جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

مولانا محمد اسحق سندیلویؒ کا مسلک اور خارجی فتنہ
تالیف: حضرت مولانا قاضی مظہر حسین رحمة الله علیہ
صفحات…جلد اوّل:488، جلددوم…496 سائز:23x36=16
ناشر: ادارہ مظہر التحقیق، متصل جامع مسجد ختم نبوت کھاڑک، ملتان روڈ، لاہور

مشاجرات صحابہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں لوگ بہت زیادہ افراط وتفریط کا شکار ہوئے اور اس سلسلے میں بنیادی طور پر تین گروہ وجود میں آئے، ایک روافض کا گروہ، دوسرا خوراج کا اور تیسرا امت کا سواد اعظم جسے اہل السنت والجماعت کہتے ہیں اور جو”ماأنا علیہ وأصحابی“ کا مصداق ہیں۔ اوّل الذکر دونوں گروہ افراط وتفریط کا اس طرح شکار ہوئے کہ روافض نے اہل بیت کی محبت کی آڑ میں دیگر صحابہ کرام کی اس حد تک بے ادبی وگستاخی کی کہ انہیں دین سے ہی خارج قرار دیا، جب کہ خوراج نے ایسا موقف اختیار کیا کہ جس میں اہل بیت کی بے اکرامی پائی جاتی ہے۔ لیکن ان دونوں کے برخلاف اہل السنت والجماعت نے دلائل وبراہین کے پیش نظر ایک ایسا معتدل موقف اور راستہ اختیار کیا جس میں اہل بیت اور دیگر تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کی توقیر وتعظیم پائی جاتی ہے اور اس سے کسی ایک صحابی کی شان میں بھی تنقیص لازم نہیں آتی۔ نیز اہل السنت والجماعت نے ان دونوں گروہوں کے دلائل وبراہین کی روشنی میں ہر دور میں بھرپور تردید بھی کی ہے۔

خوراج کا فتنہ اگرچہ روافض کی بنسبت کافی کمزور پڑ کر دم توڑ چکا ہے لیکن اس کی بنیادیں اور اثرات اب بھی باقی ہیں، جن کا وقتاً فوقتاً ظہور ہوتا رہتا ہے، زیر نظر کتاب اسی فتنے کے رد میں لکھی گئی ہے۔ اس میں اگرچہ اصلاً مولانا محمد اسحاق سندیلوی سابق مدرس ندوة العلماء لکھنو اور سابق صدرشعبہ دعوت وارشاد جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی کا رد کیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قریب کے دور کے تقریباً سب خارجی کرداروں کا چہرہ بے نقاب کیا گیا ہے۔

یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے، جلد اوّل میں مشاجرات صحابہ اور جلددوم میں فسق یزید کے مسئلے پر مدلل ومبرہن گفتگو کی گئی ہے۔ اس دور کے اہل علم، اکابر اور بزرگوں نے کتاب کے مندرجات سے اتفاق کیا او راسے اہل السنت والجماعت کا صحیح موقف قرار دیا، اگرچہ بعض حضرات نے زبان وبیان کی شدت وسختی کا بھی کسی حد تک اظہار فرمایا، لیکن کتاب کے مندرجات ومشمولات کی بہرحال تائید کی گئی اور اسے اہل السنت والجماعت کے صحیح مسلک وموقف کی ترجمانی قرار دیا گیا ۔

کتاب کا زیرنظر ایڈیشن حافظ عبدالجبار سلفی نے محنت وکوشش کرکے شائع کیا ہے، جس پر وہ تبریک کے مستحق ہیں۔ کتاب کی ابتداء میں انہوں نے کتاب وصاحب کتاب کا تعارف بھی کرایا ہے اور آخر میں انہوں نے لکھا ہے کہ:

”الله تعالیٰ نے ایک مدت کے بعد ہمیں توفیق بخشی کہ ہم خارجی فتنہ ( حصہ اوّل ودوم) شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ آنا ًفاناً طے ہونے کے بعد گھنٹوں میں اس کی کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی گئی اور بھاگتے دوڑتے یہ سطور سپرد قلم کی گئیں، یہ سارے پاپڑ بیلنے والی اکیلی اور ننھی جان تھی، تاہم دیگر مراحل طے کروانے میں احباب کی سرپرستی بھرپور رہی۔“

شاید اسی عجلت وجلد بازی ہی کا نتیجہ ہے کہ خارجی فتنہ جلد اوّل کے صفحہ35 تا37 میں ایک ایسی عبارت آگئی ہے،جس کا تعلق اس مقام سے نہیں اور یہ عبارت صفحہ45 تا47 پر موجود ہے، جب کہ اول الذکر مقام کی اپنی عبارت اس جگہ سے غائب ہے۔ اس کی اصلاح کر لینی چاہیے۔

کتاب کی جلد بندی مضبوط اور طباعت واشاعت متوسط درجے کی ہے۔

اکابر اہل سنت کا حقیقی مسلک ومشرب المعروف تحفظ عقائد اہل سنت
مرتب: مولانا عبدالرحیم چاریاری
صفحات:812 سائز:20x30=8
ناشر: جامعہ حنفیہ، شیخوپورہ روڈ، فیصل آباد ، پاکستان

1993-94ء کی بات ہے کہ مکہ مکرمہ میں مقیم محمد بن علوی مالکی کی کتاب ”مفاہیم یجب أن تصحح“ کا اردو ترجمہ پاکستان میں ”اصلاح مفاہیم“ کے نام سے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمة الله علیہ کے بعض خلفاء کی سرپرستی اور تائید سے شائع کیا گیا اور اس میں بریلویوں کے نظریات پر مشتمل کئی متنازعہ امور ومسائل مذکور تھے۔ اسی طرح حضرت شیخ الحدیث رحمة الله علیہ کے بعض خلفاء کی طرف سے ”اکابر کا مسلک ومشرب“ نامی رسالہ بھی شائع کیا گیا تھا، جس میں بدعات پر مشتمل بعض امور کی تائید کی گئی تھی او رحضرت شیخ الحدیث رحمة الله علیہ کی طرف بعض ایسی چیزیں منسوب کی گئی تھیں جو ان کا مسلک ومشرب قطعاً نہیں ہو سکتی تھیں تو اس وقت کے اکابر علماء حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب (خیر المدارس ملتان)، حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب،حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی صاحب، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب، حضرت مولانا مفتی سید عبدالشکور ترمذی صاحب، حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب، حضرت مولانا عاشق الہی صاحب رحمہم الله، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب دامت برکاتہم العالیہ وغیرہ حضرات نے اس بات کا نوٹس لیا اور دلائل وبراہین کی روشنی میں اس کی تردید کرکے اہل علم وعوام اور خود اس کتاب کی اشاعت وترویج کرنے والے حضرات کو بھی اس مسئلہ کی سنگینی اورحقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں بعض معروف دارالافتاؤں کی طرف رجوع کرکے فتاوی بھی حاصل کیے گئے۔” اصلاح مفاہیم“ نامی کتاب پر بعض بزرگوں سے تقاریظ بھی لی گئیں تھیں تو مذکورہ اکابر کی نشاندہی کے بعد اس وقت ان بزرگوں نے اپنی تقاریظ سے رجوع فرمالیا تھا۔

بہرحال ان میں سے حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی رحمة الله علیہ کی اس سلسلے کی تمام تحریرات ” آپ کے مسائل اور ان کا حل“ قدیم ایڈیشن کی جلددہم میں شائع کر دی گئیں تھیں۔ نیزاکابرو بزرگوں کی اس سلسلے کی تمام تحریروں کو 2006ء میں حضرت مولانا مفتی شیر محمد علوی زید مجدہ کے صاحبزادے مولانا ابوبکر علوی نے ”اصلاح مفاہیم پر تحقیقی نظر“ کے نام سے شائع کر دیا تھا۔ اب چوں کہ یہ کتاب مارکیٹ میں نہیں مل رہی تھی اور اس معاملے کے دیگر امور بھی وجود میں آئے، جن میں ایک بنیادی امر ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے تخریج شدہ ایڈیشن2013ء سے اس مسئلہ سے متعلق تحریرات کا نکالنا بھی ہے، جس سے یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اس مسئلہ کی جڑیں اب تک موجود ہیں، لہٰذا زیر نظر کتاب میں مذکورہ فتنے کی موجود جڑوں اور اثرات کی نشاندہی کرنے اور اکابر کے حقیقی مسلک ومشرب، ان کے ذوق اور تحقیقی مواد کو محفوظ کرنے کے لیے اس مسئلہ سے متعلق تمام تحریروں کو حضرت شیخ الحدیث رحمة الله علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد اسماعیل بدات صاحب (مدینہ منورہ) کی سرپرستی میں مفید اضافوں کے ساتھ نئے سرے سے مرتب کیا گیا ہے۔ الله تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرماکر اسے اصلاح کا ذریعہ بنائے۔

کتاب کی جلد بندی مضبوط اور طباعت درمیانے درجے کی ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.