جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

امیرو کچھ نہ دو مگر طعنہ تو نہ دو اِن فقیروں کو

قاضی مفتی سلیمان رحمانی

محترم قارئین کرام! انفاق عربی کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں مال خرچ کرنا، قرآن مجید میں الله تعالیٰ نے اس لفظ کو کثرت کے ساتھ استعمال فرمایا ہے، نیز قرآن مجید جب انفاق فی سبیل الله کا لفظ استعما ل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنا مال او راپنی دولت الله کے راستہ میں خرچ کرے، کیوں کہ الله نے ہی اس کو مال ودولت عطا فرمائی ہے، اس لیے بندے کا حق ہے کہ وہ اس مال کو الله کی مرضی کے مطابق اس کے راستہ میں خرچ کرے، عموماً یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ جس بندے کو الله مال ودولت عطا کرتے ہیں، وہ عیش وعشرت کی زندگی گزارنے میں مصروف ہو جاتا ہے، اپنی خواہشات کی تکمیل ہی اس کی زندگی کا واحد مقصد بن جاتی ہے اور جس ہستی نے اس کو یہ ساری دولت عطا کی ہے اس کی عبادت اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کا ذرا بھی اس کو خیال نہیں رہتا ہے، عیش وعشرت کی زندگی اس کے دل سے محبتِ خدا نکال دیتی ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مال ودولت کی بنیاد پر وہ دنیاوی معیار کو بلند سے بلند کرتا چلا جاتا ہے، مگر آخرت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر اسی حالت میں وہ اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ”جس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ صلی ا لله علیہ وسلم نے ہمارے لیے نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ کوئی بکری چھوڑی اور نہ ہی کوئی اونٹ چھوڑا“۔ یہی وہ جذبہ انفاق ہے جس کو اُبھارتے ہوئے قرآن کریم میں الله ارشاد فرماتا ہے ”ان لوگوں کی مثال جو الله کے راستہ میں خرچ کرتے ہے، ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں، الله جسے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ اضافہ کرتا ہے، الله وسعت والا اور علم والا ہے“۔ ( سورة البقرہ) دنیا کا عام قاعدہ ہے کہ جوچیز خرچ کرو اس میں کمی واقع ہوتی ہے، لیکن الله کی راہ میں خرچ کرنے کا معاملہ بالکل برخلاف ہے، جب کوئی بندہ الله کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو الله اس بندے کو اس کا نعم البدل عطا فرماتے ہیں، ایک اور جگہ الله نے ارشاد فرمایا کہ ”جو چیز بھی تم الله کی راہ میں خرچ کروگے تو الله تم کو اس کا عوض ضرور بالضرور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ” صدقہ اور خیرات سے کبھی مال میں کمی واقع نہیں ہوتی، بندہ عفو ودرگزر سے کام لے تو الله تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور تواضع اختیار کرے تو اسے سربلندی عطا فرماتا ہے۔“

قارئین کرام! الله کے راستہ میں خرچ کرنا یہ ایسا کام ہے، جس کے ذریعہ انسان میں جذبہ قربانی، ایثار وبے نفسی اور استغنا کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ مال ودولت اور یہ دنیا دائمی نہیں بلکہ عارضی شےٴ ہے، مرنے کے بعد یہ دولت کچھ کام نہیں آئے گی، اگر یہ دولت کچھ کام آئے گی تو وہ ہے الله کے راستہ میں خرچ کرنا، کیوں کہ وہ خرچ کی ہوئی دولت الله کے پاس ذخیرہ ہو جائے گی، ارشاد باری ہے ”اے مومنو! نیکی کو تم اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ تم اپنی محبوب چیز کو الله کے راستہ میں خرچ نہ کرو“۔ انسان جب اپنی محبوب ترین چیز راہِ خدا میں خرچ کرے گا تو لامحالہ اس کے اندر جذبہٴ قربانی وایثار پیدا ہو گا، مال ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بہت زیادہ محبوب ہے، اگر اس نے اس مال کو راہِ خدا میں قربان کیا تو موقع آنے پر وہ راہِ خدا میں اپنی جان کی بھی قربانی دے سکتا ہے، آپ صلی الله علیہ و سلم نے اس جذبے ( انفاق فی سبیل الله راہِ خدا میں خرچ کرنا) سے متعلق صحابہ کرام کی خوب تربیت کی تھی، چناں چہ آپ سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں توجگہ جگہ اس کی نمایاں مثالیں آپ کو دیکھنے کو ملیں گی، چناں چہ غزوہ تبوک ہی کا ایک واقعہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم لوگوں کو راہِ خدا میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب دے رہے تھے، حضرت عثمان کھڑے ہو کر فرمانے لگے، اے الله کے رسول! میں راہِ خدا میں سو (100) اونٹ فراہم کروں گا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے دوبارہ ترغیب دی،حضرت عثمان نے فرمایا، اے الله کے رسول! میں دو سو (200) اونٹ راہِ خدا میں دوں گا ، پھر تیسری مرتبہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ترغیب دی، پھر حضرت عثمان نے فرمایا، اے الله کے رسول! میں تین سو (300) اونٹ فی سبیل الله دوں گا، نیز غزوہٴ تبوک کا ایک اور واقعہ جس کے متعلق حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم لوگوں کو راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دے رہے تھے، اس وقت میرے پاس کافی مال موجود تھا، میں نے دل میں سوچا کہ آج تو میں حضرت ابوبکر سے بازی لے ہی جاؤں گا، چناں چہ میں نے اسی غرض سے اپنے مال کا آدھا حصہ لا کر آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا، آپ نے مجھ سے پوچھا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ میں نے کہا اسی کے مثل آدھا چھوڑ کر آیا ہوں، اسی اثنا میں حضرت ابوبکر اپنے تمام مال کے ساتھ تشریف لیآئے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی سوال پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے لیے الله اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں، اس پر میں نے کہا کہ اب میں کبھی حضرت ابوبکر سے سبقت نہیں لے جاسکتا، یہی وہ حضرت عمر ہیں، جوروزانہ اپنی رعایا کی خبر گیری فرمایا کرتے تھے، ایک دن ایک صحابی کی رات کی تنہائی میں آپ سے ملاقات ہوئی پوچھا: اے امیر المومنین! اس وقت رات کے سناٹے میں آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ میری خلافت میں ایک کتا بھی بھوکا پیاسا مر گیا تو مجھ سے اس کے متعلق کل قیامت میں باز پرس ہو گی۔ اور آج کے حکام کو دیکھو! سب اپنی اپنی فکر میں لگے ہوئے ہیں، کئی غریب بھوک سے مر رہے ہیں، کئی پیاس سے مر رہے ہیں، مگر انہیں ان کی کوئی فکر نہیں۔ اگر الله پاک نے آپ کو مال عطا فرمایا ہے تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ غریبوں کا پورا پورا خیال رکھیں، ایک بات یاد رکھیے، جب کوئی بندہ الله کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو الله اس کا بدلہ اس کو دنیا وآخرت دونوں جگہ عطا فرماتے ہیں، قرآن کریم میں الله خود کہہ رہا ہے ”جو چیز تم خرچ کروگے سو الله اس کا عوض تم کو دے گا ۔“( سورہٴ سباء) ایک روایت میں ہے کہ ”جب کوئی کسی مسکین کو روٹی یا کھانا دیتا ہے تو اس کے بدلہ الله تین آدمیوں کو جنت عطا فرماتا ہے جو اس مال کا مالک ہے جس نے وہ مال کمایا ہے کھانا بنانے والی کو وہ خادم جس نے وہ کھانا لے جاکر اس مسکین کو دیا ہو“۔ سبحان الله! کیا کریم ذات ہے پاک پروردگار کی کہ جو مسکین کی مدد پر تین تین لوگوں کو جنت عطا فرماررہی ہے۔ مزید الله کی رحمت دیکھیے، جب بندہ اپنی طاقت کے بقدر الله کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو الله اس بندے کو اپنی شایان شان کے بقدر عطا فرماتے ہیں، نیز مذکورہ بالا واقعات ہماری تاریخ کے سنہرے اوراق پر نقش ہے، ان واقعات کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اہل ایمان میں انفاق فی سبیل الله کی کیا اہمیت تھی، ان کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ کوئی بھی حکم نازل ہوتا، وہ اس کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے تیار رہتے، بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ، کیا آج امتِ مسلمہ کے افراد اس کردار کو ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

قارئین کرام! معاشرہ انسانوں کے مجموعہ سے تیار ہوتا ہے، اس میں طرح طرح کے افراد ہوتے ہیں، صاحبِ ثروت بھی اور غریب بھی، فقراء بھی اور مساکین بھی، صالح ونیک معاشرہ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے صاحب ثروت افراد ان لوگوں کا خیال رکھیں،جو خستہ حالی سے دو چار ہیں، جب امراء غرباء پر خرچ کریں گے او ران کے مالی مسائل کو حل کریں گے تو اس سے غرباء کے اندر بھی تعاون کاجذبہ پیدا ہو گا اور معاشرہ فلاح وبہبود کی طرف گام زن ہو گا، برعکس اس معاشرہ کے جس کے امراء تو پیٹ بھر کر سو جائیں اور غرباء فاقہ کشی میں مبتلا ہو جائیں تو وہ معاشرہ کبھی بھی ترقی کی طرف گام زن نہیں ہو سکتا ہے، انفاق فی سبیل الله حقوق العباد کے ادا کرنے کا بہترین طریقہ ہے، انفاق کرنے سے باہمی محبت والفت پیدا ہوتی ہے، اہل ثروت جب غرباء ومساکین کا مالی تعاون کریں گے تو غرباء کے دلوں میں ان کی محبت گھر کر جائے گی، اس سے ایک طرف غریبی کا خاتمہ ہو گا، وہیں دوسری طرف اُلفت ومحبت ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کر لے گی، جس کو باطل ہواؤں کے تھپیڑے اکھاڑ نہ سکیں گے۔

نام ونمود سے بچیے
راِہ خدا میں خرچ کرنا بہت پسندیدہ عمل ہے، لیکن اس عمل کو اتنا ہی محتاط طریقہ سے انجام دینا چاہیے، ذرا سی غفلت آپ کی ساری کمائی کو بے وقعت بناسکتی ہے اور آخرت میں الگ اس کے انجام سے دو چار ہونا پڑے گا، راہِ خدا میں خرچ کرتے وقت ذرا بھی نام ونمود، شہرت، دکھاوا یا کسی بھی طرح کی بلندی کا احساس آپ کے اندر نہ ہو، صرف خدا کی رضا جوئی ہی مقصود ہو تو آپ کا عمل قابل قبول ہو گا، ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، الله خود اپنے کلام میں کہہ رہے ہیں ”اے ایمان والو! تم اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دل آزاری کر کے باطل نہ کرو، اس شخص کے مانند جو اپنا مال دکھانے کے لیے خرچ کرتا، الله اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس شخص کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو، جس پر کچھ مٹی ہو اور اس پر بارش ہو جائے اور اس مٹی کو بہا کر چٹان کو صاف کر دے؛ ایسے لوگوں کو ان کی کمائی سے کچھ بھی نہیں ملے گا اور الله کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا“۔ اس آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو راہِ خدا میں خرچ کرنے کے بعد احسان جتائیں او رنام ونمود کے خواش مند ہوں، ان کے لیے یہ سودا بجائے نفع کے خسارے کا سودا ہو گا۔

لمحہ فکریہ
قرآن کریم میں الله رب ا لعزت ارشاد فرمارہے ہیں کہ:” سائل کو مت جھڑکو۔“ (سورہٴ ضحی) دن بھر میں کئی مرتبہ سائل سوالی بن کر، حاجت مند اپنی حاجت لے کر، ضرورت مند اپنی ضرورت لے کر، پریشان حال اپنی پریشانی لے کر، روزانہ ہمارے دروازے پر آتے ہیں، کبھی یہ بس اسٹاپ پر ملتے ہیں تو کبھی یہ ریلوے اسٹیشن پر، کبھی بس میں ملتے ہیں، تو کبھی ریل کے ڈبہ میں، کبھی سڑکوں پر، تو کبھی سگنلوں پر، کبھی بینک کے باہر ، تو کبھی دواخانوں کے باہر، کبھی یہ فنکشن ہال کے باہر نظر آتے ہیں، تو کبھی ہوٹلوں کے باہر کبھی یہ ہماری دکان پر، تو کبھی شاپنگ مال کے باہر تو کبھی بازاروں میں، کبھی سفر میں، تو کبھی حضر میں، کبھی معصوم بچوں وبچیوں کی شکل میں ، تو کبھی مرد وخواتین کی شکل میں، کبھی جوان کی شکل میں ، تو کبھی بوڑھوں کی شکل میں ، کبھی معذوروں کی شکل میں، تو کبھی مجبوروں کی شکل میں، یہ حضرات ہمیں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی جگہ، روزانہ ضرور بالضرور ملتے ہیں، مگر بہت کم لوگ وہ ہوتے ہیں جو ان کی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں، مگراکثر لوگ وہ ہوتے ہیں جو ان کا تعاون تو کرتے نہیں، بلکہ ان کو جھڑکتے ہیں، ذلیل کرتے ہیں، اس لیے کسی شاعر نے بالکل صحیح کہا ہے #
        امیرو! کچھ نہ دو مگر طعنہ تو نہ دو ان فقیروں کو
        ذرا سوچ! اگر منظر بدل جائے تو کیا ہوگا؟

چلیے! آج سے ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ جس جگہ بھی، جس وقت بھی، جس مقام پر بھی، جو ضرورت مند ہمیں ملے گا ہم اس کی ضرورت کو پورا کریں گے، ان کو ذلیل نہیں کریں گے، جھڑکیں گے نہیں، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں گے، الله سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خدمتِ خلق کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.