جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

غِنٰی کا رازقناعت

ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر

الحمدلله رب العالمین، والصلوٰة والسلام علی افضل الانبیاء والمرسلین، وعلی الہ وصحبہ اجمعین․

جن صفات سے ایک انسان کی زندگی خوش گوار اور پر سکون بنتی ہے ،ان میں ایک قناعت کی صفت ہے اور قناعت کے معنی ہیں کہ جو نعمت انسان کے نصیب اور حصہ میں آئے اس پر وہ راضی ہے۔ یعنی انسانی ضروریات، جائز ذرائع سے، جتنی جس شخص کو مل رہی ہیں ان پر راضی رہے اور اس سے زیادہ حرص اور لالچ نہ کرے۔

جس شخص کو قناعت کی یہ صفت نصیب ہوئی اسے بڑی نعمت نصیب ہو گئی ، جس سے وہ اپنی زندگی میں سکون اور راحت محسوس کرے گا اور ان تمام مشکلات اور پریشانیوں سے بچ جائے گا جو حرص اور لالچ کے نتیجے میں انسان کو لاحق ہوتی ہیں، کیوں کہ وہ زیادہ مال ومتاع کی لالچ میں یا توناجائز ذرائع استعمال کرے گا، جیسے چوری،ڈاکہ او ررشوت وغیرہ یا جائز ذرائع میں طاقت سے زیادہ جتن کرے گا اور جسمانی نقصان اٹھائے گا۔

قناعت ایک ایسی صفت ہے جس سے الله تعالیٰ کی بھی خوش نودی حاصل ہوتی ہے او رانسان بھی ایسے شخص سے محبت کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ مجھے ایسا عمل بتائیں جس سے مجھ سے الله بھی راضی ہو اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”ازھد فی الدنیا یحبک الله، ازھد فیما عند الناس یحبک الناس․“ (ابن ماجہ)

فرمایا تو دنیا سے بے رغبت ہو جا، الله تجھ سے محبت کریں گے اور انسانوں سے بے غرض ہو جا، تو لوگ تجھ سے محبت کریں گے۔

ظاہر ہے کہ جب انسان دنیا کی لالچ میں نہیں پڑے گا تو بہت سے گناہوں سے بچ جائے گا، جو الله کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں او رجب دوسروں سے کوئی غرض اور لالچ نہ ہو گی تو لوگ بھی اس سے محبت کریں گے، جب کہ خود غرض اور لالچی انسان کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔

قناعت والی زندگی کے بارے میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”قد افلح من اسلم، وکان رزقہ کفافاً وقنعہ الله بما آتاہ․“(مسلم)

وہ شخص کام یاب ہے جسے اسلام کی نعمت نصیب ہوئی اور اسے ضرورت کے مطابق روزی مل رہی ہے اور الله تعالیٰ نے اسے اس پر قناعت نصیب کی ہے۔

اور دوسری روایت میں فرمایا:”طوبیٰ لمن ھدی الی الاسلام وکان عیشہ کفافاً وقنع․“

خو ش خبری ہو ایسے شخص کو جسے اسلام کی نعمت نصیب ہوئی او راس کی روزی بقدر ضرورت تھی اور وہ اس پر قناعت کرنے والا تھا۔

حقیقت میں غنا اور مال داری مال کی کثرت کا نام نہیں ، بلکہ مال داری تو دل کے غنا کا نام ہے، حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”لیس الغنی عن کثرة العرض ، ولکن الغنی غنی النفس․“(متفق علیہ)

مال کی کثرت کا نام غنا نہیں، غناتو دل کے غنا کا نام ہے۔

قناعت کی صفت حاصل کرنے کا ایک طریقہ اسلام نے یہ بتایا ہے کہ انسان اپنے سے اوپر والے کو دیکھنے کے بجائے اپنے سے نیچے والے کو دیکھے، جو اس سے مال ومتاع میں کم ہو، اس سے الله کی نعمت کی قدر ہو گی اور بے جا لالچ اور حرص سے بچارہے گا، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”انظروا الی من ھو أسفل منکم، ولا تنظروا إلی من ھو فوقکم فھو اجدر ان لاتزدروا نعمة الله علیکم․“(مسلم)

جو تم سے مال واسباب میں کم ہو اس کی طرف دیکھو اور جو تم سے مال واسباب میں زیادہ ہو اس کی طرف مت دیکھو، اس طرح کرنے سے تم اس نعمت کو حقیر نہ جانو گے جو الله نے تم پر کی ہے۔

ایک دوسری روایت میں الفاظ اس طرح آئے ہیں:”اذا نظر احدکم من فضل علیہ فی المال والخلق فلینظر الی من ھو اسفل منہ․“(البخاری)

جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال او رجسم میں اس سے افضل ہو تو اسے چاہیے کہ ایسے شخص کی طرف نگاہ کرے جو ان امور میں اس سے کم ہو۔

ظاہر ہے کہ اس قاعدہ پر عمل کرنے سے الله کی نعمت جو اسے حاصل ہے اس کی قدر ہو گی اور اس پر الله کا شکر ادا کرے گا اور شکر کا نتیجہ نعمت میں اضافہ اور ترقی کی شکل میں ظاہر ہوگا، ارشاد باری ہے:﴿لان شکرتم لأزیدنکم﴾ اگر تم میری نعمتوں پر شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔

اور اس کے برعکس اگر اوپر والے کو دیکھے گا تو وہ نعمت جو اسے حاصل ہے وہ ہیچ معلوم ہو گی اور اسے حقیر سمجھے گا اور ناشکری کا مرتکب ہو گا اور ناشکری کی صورت میں اس کے چھن جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے:﴿ولئن کفرتم ان عذابی لشدید﴾ اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میراعذاب بہت سخت ہے۔

اس کے علاوہ اوپر والے کو دیکھنے سے اس جیسا بننے کا شوق پیدا ہوتا ہے اور اس میں ناکامی کی صورت میں پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔

ایک بزرگ نے فرمایا، جب تک میرا تعلق مال داروں سے رہا میں ہمیشہ پریشان رہتا تھا، کیوں کہ ان کے بڑے وسیع محلات دیکھتا، عمدہ قسم کے گھوڑے اور سواریاں دیکھتا اور اپنے پاس ان کا آنا جانا ۔ پھر جب میں نے مال داروں کے بجائے اپنا تعلق غریبوں سے جوڑا تو مجھے سکون او راطمینان نصیب ہوا۔

نیز قناعت کی صفت حاصل کرنے کے لیے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنی زندگی کی حقیقت کو پہچانے، حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:”کن فی الدنیا کأنک غریب او عابر سبیل․“ (بخاری)

دنیا میں ایسے رہو جیسے تم ایک اجنبی یا مسافر راہ گذر ہو۔

اس کے برعکس جب انسان لمبی لمبی امیدیں باندھتا ہے تو اس میں لالچ اور حرص بڑھ جاتی ہے اور وہ غفلت میں مبتلا ہو کر اپنے مالک کو بھی بھول جاتا ہے اور یہ غفلت کا پردہ تب اٹھتا ہے جب موت آجاتی ہے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ سخت غفلت اور بھول میں تھے ،محض چند روز کی چہل پہل تھی، اسی کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:﴿الھاکم التکاثر حتی زرتم المقابر﴾ غفلت میں رکھا تم کو بہتات کی حرص نے، یہاں تک کہ جادیکھیں قبریں۔

نیز یہ بھی جاننا چاہیے کہ کسب حلال کے لیے جائز اسباب اختیار کرنا اور اپنی وسعت کے مطابق ان میں محنت کرنا قناعت کے خلاف نہیں۔

نیز یہ کہ قناعت کا تعلق نیک اعمال، نیک اخلاق اور علمی کمالات سے نہیں ہے، بلکہ ان اعمال اور کمالات میں زیادہ ہونے کا شوق مطلوب ہے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنا قابل تعریف ہے ارشاد باری ہے:﴿فاستبقوا الخیرات﴾نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو ۔اور اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ان کمالات میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھو، تاکہ تم میں اس کمال کو حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو۔

بہرحال پرسکون اور خوش گوار زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان قناعت کی صفت کو اپنائے، ضروریات زندگی پر اکتفا کرے اور جمالیات اور کمالیات پر زیادہ زور نہ دے اور بے جاحرص اور لالچ سے بچتا رہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.