جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حضور صلی الله علیہ وسلم کا عفو ودرگزر

محمدایوب صدوی، متعلم جامعہ فاروقیہ کراچی

غزوہ احد میں حضور کریم صلی الله علیہ وسلم کے اگلے چار دانت شہید ہو گئے۔ سر مبارک اور چہرہ انور بھی زخمی ہو گیا۔ یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی الله عنہم نے رنج واضطراب کی حالت میں گزارش کی یا رسول الله! کاش آپ ان دشمنان دین پر بددعا کرتے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”میں لعنت اور بددعا کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ بلکہ لوگوں کو راہ حق کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔“

حضور پاک صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکے میں سخت قحط پڑا ۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ قریش چمڑا اور مردار کھانے لگے۔ ابوسفیان کو یہ بات معلوم تھی کہ حضور کی دعا قبول ہوتی ہے، وہ مدینہ پہنچے اور آپ صلی الله علیہ وسلم سے ملتجی ہوئے کہ محمد! آپ کی قوم قحط سے ہلاک ہو رہی ہے، آپ ان کے لیے دعا کیجیے۔ اس کے جواب میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ میں ان لوگوں کے حق میں کیوں دعا کروں جنہوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو تکلیفیں پہنچائیں اور ہمیں اپنے گھروں سے نکالا؟ بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فی الفور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی یہ دعا قبول ہوئی۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو کوئی مجھے پر ظلم کرے میں اس کو قدرت انتقام کے باوجود معاف کردوں۔ جو مجھ سے قطع کرے، میں اس کو ملاؤں ، جو مجھے محروم رکھے میں اس کو عطا کروں، غضب اور خوش نودی دونوں حالت میں حق گوئی کو شیوہ بناؤں“۔

الله کے نبی نے بہت ایذائیں جھیلیں، لیکن سخت ترین دن وہ تھا جب آپ تبلیغ اسلام کے لیے طائف گئے۔ وہاں دعوت اسلام کے جواب میں لوگ سخت بد اخلاقی سے پیش آئے اور بازاری لفنگوں اوباشوں کو آپ کے پیچھے لگایا، یہ بدمعاش آ پ پر ٹوٹ پڑے اور ذات اقدس صلی الله علیہ وسلم پر بے پناہ سنگ باری شروع کر دی۔ آپ جدھر کا رخ کرتے یہ غول آپ کا پیچھا کرتا، لیکن جب چاروں طرف سے پتھر برس رہے ہوں تو کہاں تک آپ محفوظ رہ سکتے تھے؟ اتنی سنگ باری ہوئی کہ جسم مبارک لہولہان ہو گیا اور نعلین مبارک خون آلود ہو گئے۔ آخر آپ نے بڑی مشکل سے ایک باغ میں انگور کی بیلوں میں پناہ لی اور اوباشوں سے پیچھا چھڑایا۔ حضرت زید رضی الله عنہ نے آپ کے جسم کا خون پونچھا۔

حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے لیے سخت ترین دن تھا۔ میں باغ سے نکل کر غم زدہ آرہا تھا کہ اچانک بادل کے ایک ٹکڑے نے میرے اوپر سایہ کر دیا ، میں نے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل علیہ السلام تھے، جبرئیل نے کہا جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا ہے الله تعالیٰ نے اسے دیکھا او راگر آپ کی مرضی ہو تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو ملا کر یہاں کی جملہ آبادی کو تہس نہس کر دیا جائے، میں نے کہا، نہیں! میں ان کی ہلاکت وبربادی نہیں چاہتا، بلکہ مجھے خدا کے فضل سے امید ہے کہ الله تعالیٰ ان میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدا واحد کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ عفو ودرگزر کا یہی نتیجہ نکلا کہ گیارہ سال بعد یہی طائف والے تھے جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی عداوت سے دست بردار ہو کر آپ کے قدموں میں گر پڑے۔

شہر مکہ میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی تھی، اناج یمامہ سے آتا تھا، یمامہ کے حاکم حضرت ثمامہ مسلمان ہو گئے اور انہوں نے مکہ معظمہ کی طرف غلے کی آمد بند کر دی۔ اس بندش سے قریش میں کہرام مچ گیا، انہوں نے سخت اضطراب اور بدحواسی کے عالم میں حضور صلی الله علیہ وسلم سے مدینہ میں رجوع کیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ثمامہ کے نام پیغام بھیجا کہ اناج کی بندش اٹھالو۔ چناں چہ اناج مکہ پہنچنے لگا، حالاں کہ یہ اہل مکہ وہی تھے جنہوں نے مسلسل تین سال تک آپ کے خاندان والوں کا ایسا مقاطعہ کیا تھا کہ اناج کا ایک دانہ تک نہیں پہنچنے دیتے تھے۔ ہاشمی بچے بھوک سے تڑپتے اور بلبلا اٹھتے تھے۔ لیکن ان ظالموں کے پتھردل کسی طرح نہ پسیجتے تھے، بلکہ یہ گریہ وبکاسن کر رحم کرنے کے بجائے ہنستے اور خوش ہوتے تھے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی یہ سب باتیں بھلا کر ان کے لیے اناج کی بندش ختم کر دی۔ یہ عفو ودرگزر کی اعلیٰ مثال ہے ،جو ہمیں دنیا کے کسی بھی شخصیت میں نہیں ملتی۔

حضور کریم صلی الله علیہ وسلم کا یہجذبہ میدان جنگ میں بھی رہتا تھا۔ بدر کے میدان جنگ میں لڑائی شروع ہونے سے پہلے مشرکین کی فوج کے آدمی اس حوض پر پانی پینے آتے، جو اسلامی لشکر کے قبضے میں تھا، مسلمانوں کی فوج نے یہ حوض اپنی ضرورت کے لیے تیار کیا تھا۔ صحابہ کرام نے مشرکین کو پانی پینے سے روکنا چاہا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”پانی پینے سے منع نہ کرو، پینے دو“۔

ان چند واقعات سے ہمیں آپ صلی الله علیہ وسلم کے عفو ودرگزر اور دین کے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک کا پتہ چلتا ہے۔

آج بھی اگر ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے ان اصولوں کو اپنانے کی کوشش کریں تو اس دنیا میں بھی کام یاب ہوں گے اور اخرت میں بھی رب ذوالجلال کے ہاں سرخ رو ہوں گے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.