جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مطالعہ کی اہمیت اور افادیت

محترم امان الله باجوڑی

مطالعہ کی اہمیت
بغرض واقفیت کسی چیز کو غور سے دیکھنا اس چیز کا مطالعہ کہلاتا ہے۔ لیکن عرف عام میں مطالعہ کا اطلاق کتاب بینی ہی پر ہوتا ہے۔ حضرت شاہ مسیح اللہ خان شروانی رقم طراز ہیں کہ ”ذہن سے چھپی ہوئی چیزوں کو سمجھنے کے لیے غور و فکر کی محنت کرنا ضروری ہے ۔اول لغوی ،صرفی و نحوی تحقیق کرلے اور پھر ماقبل اور مابعد کے اعتبار سے ترجمہ کرکے مطلب سمجھنا مطالعہ ہے۔

علمی بالیدگی کے لیے اگر مطالعہ کی رغبت ،اشتیاق اور میلان سے روح بیدار ہوجائے تو انسان کو ایک متاع ِ بے بہا ہاتھ آجا تی ہے ۔مطالعہ فکر ودانش کی وہ پہلی سیڑھی ہے جہاں انسان اپنی دنیاوی اور اخروی کام یابی کے لیے اپنے افکار میں نمو پیدا کرتا ہے،مثبت مطالعہ میں شبانہ روز مصروف رہنے والوں کی ہرہر ساعت سونے سے قیمتی بن جاتی ہے اور نقوش رفتگان سے کتب بینی کی عظمت،اہمیت اور افادیت کا گوہرِآبدار ہاتھ آجاتا ہے۔مطالعہ انسان کے ہر ہر عضو پر اثر انداز ہوتا ہے،دماغ غلط خیالات سے مامون ہوجاتا ہے،انسان زبان درازی اور بد نظری سے بچتا ہے اور انسان صراط مستقیم پر گام زن رہتا ہے۔

عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ ”زمانے میں بہترین دوست کتاب ہے“۔حضرت عمر بن عبد العزیز  فرماتے ہیں کہ ”میں نے قبر سے زیادہ واعظ،کتاب سے زیادہ مخلص دوست اور تنہائی سے زیادہ بے ضررساتھی نہیں دیکھا“۔امام رازی  فرماتے ہیں کہ ”کتابیں انسان کو حیاتِ فانی میں عزت اور حیاتِ دوامی میں ابدی سکون بخشتی ہیں“۔کتاب کیوں کر مخلص دوست نہ ہو کہ وہ سفر و حضر میں قاری کی رفیق ہوتی ہے،پریشانیوں میں فروزاں چراغ ہے۔زمانے کی بے وفائیوں سے دل برداشتہ ہونے والے کا مطمح نظر کتاب ہی ہوا کرتا ہے۔

عجیب تماشا ہے ،ہمارے پاس کھیل کھود کے لیے وقت بہت ہے، لیکن کتب بینی کے معاملہ میں ہم کوتاہی وقت کا شکار ہیں!انسان کی حیثیت اس جہاں میں ایک جسم معلق کی طرح ہے ،جو ہر سانس قبر کی جانب رواں دواں ہے۔ بالآخر جواہر و یاقوت سے قیمتی وقت کے اس خزانے کو لہو ولعب پر صرف کرنا کونسا کار دانشمندانہ ہے؟!ضروری ہے کہ اس قیمتی سرمایہ کو کتب بینی میں صرف کیا جائے، کیوں کہ علم ہی مسلمانوں کا خاصہ ہے۔

آج مطالعہ کی انتہائی نایابی ہے،امام محمد،ابن جریر، امام باقلی ، ابن جوزی اور ابن حجر عسقلانی  جیسے مایہ ناز مصنفین انگشت بدنداں ہیں کہ مسلمانوں میں مطالعہ پھر کسی تاتاری ذہنیت کے آسرے پر ہے!؟

اقوال سلف
جس طرح کھیتی کے لیے پانی ضروری ہے اسی طرح علم کے لیے مطالعہ ضروری ہے،مطالعہ استعداد و صلاحیتوں میں نمو پیدا کرتا ہے۔علم دریا ہے تو مطالعہ کرنے والا ان میں جواہر تلاش کرتا ہے ،مطالعہ کرنے کے بعد استاد کا سبق خوب ذہن نشین ہوتا ہے،مطالعہ میں ایسی مسرت ہے کہ جس کا پانے والا بادشاہت کو ٹھکرا دے۔

حضور پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ” ایک باب علم کا سیکھنا، چاہے اس پر عمل کیا ہو، یا نہ کیا ہو ہزار رکعت نفل پڑھنے سے افضل ہے۔“(ابن ماجہ ص20)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ ”مطالعہ کی برکت سے استعداد اور فہم پیدا ہوتا ہے ،اس کی مثال ایسی ہے جیسے کپڑا رنگنے کے لیے پہلے اس کو دھو لیا جاتا ہے، پھر رنگ کے مٹکے میں ڈالا جاتا ہے اور اگر پہلے نہ دھویا جائے تو کپڑے پر داغ پڑ جاتے ہیں“۔(دعوات عبدیت ص72،ج14)

مطالعہ مفتاحِ استعداد ہے، اگر مطالعہ کی استعداد پیدا ہوگئی تو سبق کو استاد کے بغیر بھی سمجھ لے گا۔(التبلیغ:ص70،ج14)

امام محمد  رات بھر بے قرار رہتے تھے اور فرماتے تھے ”میں کیسے سوسکتا ہوں جب کہ عام مسلمان ہم پر تکیہ کرکے سو جاتے ہیں اور اپنے مسائل ومعاملات کی گرہ کشائی اور دینی و شرعی راہ نمائی کے لیے ہم پر اعتماد کرتے ہیں؟! ایسی صورت میں اگر میں سوجاوٴں تو دین کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔“

امام غزالی  فرماتے ہیں ”میرے نزدیک صحبت سے تنہائی اچھی ہے، لیکن پریشان ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے“۔

علامہ انور شاہ کشمیری  فرماتے ہیں”میں ہر وقت فکرِ علم میں مستغرق رہتا ہوں، سوائے ان اوقات کے جب نیند کا شدید غلبہ ہو۔“

مولانا آزادمرحوم  رقم طراز ہیں”بارہ سال کی عمر میں میرا یہ حال تھا کہ کتاب لے کر درختوں کے ایک جھنڈ میں بیٹھ جاتا اور کوشش کرتا کہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہوں۔“

رچرڈ اسٹیل کہتا ہے کہ ”دماغ کے لیے مطالعہ اور جسم کے لیے ورزش ضروری ہے“۔

بڑوں کا مطالعہ
داستانِ سلف ذوقِ مطالعہ اور شوق تصنیف سے پُر نظر آتی ہے ۔امام محمد  کو مطالعہمیں ایسا انہماک ہوتا کہ بسا اوقات کوئیسلام کرتا اور آپ بے خبری میں اسے دعائیں دینے لگ جاتے۔

امام مسلم  ایسے استغراق سے مطالعہ کرتے کہ ایک دفعہ مطالعہ کررہے تھے، پاس کھجور کی ٹوکری رکھی ہوئی تھی، مطالعہ میں استغراق کی وجہ سے بے خبری میں ساری کھجوریں کھا لیں ،ادھر مسئلہ مل گیا ،ادھر ٹوکری خالی ہوگئی، جس سے امام مسلم  کی موت بھی واقع ہوگئی۔

امام زہری  اتنا مطالعہ فرماتے کہ ایک دفعہ بیوی نے کہا ”رب کی قسم ہے! یہ کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں۔“

مولانا عبدالحی نے دورانِ مطالعہ پانی مانگا تو والد محترم کو فکر لاحق ہوئی کہ کس طرح مطالعہ میں پانی کا خیال آیا ،چناں چہ امتحان کے لیے والدنے ارنڈ کا تیل بھجوایا ،مولانا نے اسے فورا پی لیااور احساس تک نہ ہوا۔

شیخ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ میں رات کو اتنی دیر تک مطالعہ کرتا کہ والد کو رحم آجاتا اور فرماتے کہ کب تک جاگو گے؟ آرام کرو۔

شیخ الادب مولانا اعزاز علی  سخت بیمار تھے، لیکن سرہانے کے پاس کتابیں رکھی ہوتی تھیں اور فرماتے کہ” میری بیماری کا علاج کتب بینی ہے“۔

آدابِ مطالعہ
مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ کتاب کا انتخاب مشورہ سے کیا جائے،مصنف اور کتاب کے مضامین کو دیکھ کر مطالعہ کرنا چاہیے،جیسے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق  کو تورات کے مطالعہ سے روک دیا تھا،سب سے پہلے سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم ،حیات الصحابہ اور دیگر اسلامی علوم و فنون کا مطالعہ کرنا چاہیے۔مطالعہ کرتے وقت قلم و کاغذ پاس رکھنا چاہیے، تاکہ اہم جگہوں کو ساتھ ساتھ نشان زدہ کیا جاسکے اور پھر بعد میں تلاش کرنے میں آسانی ہو۔ اسی طرح مطالعہ برائے مطالعہ نہ ہو، بلکہ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے،مطالعہ کے تمام آلات مثلا کتاب ،تپائی، قلم وغیرہ سب کا ادب کرنا چاہیے۔کیوں کہ #
        با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.