جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

فطرت پر ماحول کااثر

عبیدالله مروت، متعلم جامعہ فاروقیہ

انسان کی فطرت میں بنیادی طور پر خیر کا غلبہ ہے، اس لیے ہر شخص سچائی، انصاف، دیانت داری، مروت اور شرم وحیا کو قابل تعریف سمجھتاہے اور اس کے مقابلہ میں جھوٹ، ظلم، خیانت، بے مروتی اور بے حیائی کو ناپسند۔ یہاں تک کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص جھوٹ بولتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص اس کو جھوٹا کہہ دے تو اس سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے اور بعض اوقات یہ اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان بعض دفعہ بے حیائی کا کام کرتا ہے، لیکن اپنے عمل پر پردہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ،یہ دراصل فطرت کی آواز ہے۔

لیکن ماحول کی وجہ سے بہت سی دفعہ انسان اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے، اس کا رحجان گناہ کی طرف بڑھنے لگتا ہے، ظلم وناانصافی، بے حیائی وبے شرمی، کبر وغرور اور دوسروں کی تحقیر سے اس کے قلب کو تسکین ملتی ہے، یہ انسان کی اصل فطرت نہیں ہے، بلکہ ماحول سے پیدا ہونے والا انحراف ہے۔

ماحول کے اصل معنی گردوپیش کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے فکرونظر اور عملی زندگی میں ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پانی کی اصل فطرت ٹھنڈا ہونا ہے، وہ نہ صرف خود ٹھنڈا ہوتا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ لیکن جب سخت گرمی اور تپیش کا موقعہ ہوتا ہے اور دھوپ کی تمازت بڑھی ہوئی ہوتی ہے تو پانی بھی گرم ہو جاتا ہے اور پینے والوں کی پیاس بجھائے نہیں بجھتی، اسی طرح انسان پر اس کے ماحول کا اثر پڑتا ہے۔

اگر اس کو نیک، شریف، بااخلاق لوگوں کا ماحول میسر آجاتا ہے تو اس کی فطری صلاحیت پروان چڑھتی ہے اور اس کی خوبیاں دو چند ہو جاتی ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے پانی میں برف ڈال دی جائے کہ اس کی ٹھنڈک اور بڑھ جاتی ہے اور یہ پانی پیاسوں کے لیے اکسیر بن جاتا ہے، اگر اس کو غلط ماحول ملے تو اس کے اندر جوخوبیاں تھیں، وہ بھی بتدریج ختم ہوجاتی ہیں، اس کی مثال اس صاف شفاف پانی کی ہے، جس کے اندر کسی نے گندگی ڈال دی ہو۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: نیک آدمی کی مثال اس شخص کی ہے جو مشک رکھے ہوئے ہو، اگر تم کو اس سے مشک نہ مل سکے تو خوش بو تو مل ہی جائے گی اور خراب آدمی کی دوستی وہم نشینی کی مثال بھٹی دھونکنے والے کی ہے، اگر تمہارا کپڑا نہ جلے تو کم سے کم اس کے دھوئیں سے بچ نہ سکو گے۔

ماحول کی اس اہمیت کی وجہ سے قرآن وحدیث میں اس کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے کہ انسان اچھے ماحول میں رہے اور خراب ماحول سے اپنے آپ کو بچائے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے مختلف طریقوں پر ماحول سازی کا حکم دیاہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے علاوہ دوسری نمازیں گھروں میں پڑھو ،یہ افضل طریقہ ہے۔ حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے آپ صلی الله علیہ وسلم کاارشاد منقول ہے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو ،ان کو قبرستان نہ بناؤ۔

اس طرح آپ صلی ا لله علیہ وسلم نے گھر میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی خاص طور پر تاکید فرمائی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بلکہ اس میں تلاوت کیا کرو، خاص کر سورة بقرہ کہ جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے، شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔

گھر میں تلاوت قرآن ایک ایسا عمل ہے جو ماحول بنانے میں بہت موثر ہوتاہے، گھر کے بچوں کے ذہن میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمیں تلاوت قرآن کرنی چاہیے، اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے گھر میں ذکرکرنے کی فضیلت بیان کی ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس گھر میں الله تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس گھر میں الله تعالیٰ کا ذکر نہیں ہوتا ہے، ان کی مثال زندہ او رمردہ شخص کی سی ہے۔

ماحول کا اثر یوں تو ہر سن وسال کے لوگوں پر پڑتا ہے، لیکن بچوں پر اس کااثر زیادہ ہوتاہے، انسان کے جسم میں سب سے پہلے دما غ کی نشو ونما ہوتی ہے اور دماغ کی ترقی کا مرحلہ تیز رفتاری کے ساتھ طے پاتا ہے، اسی لیے بچوں میں کسی بات کی اخذ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ بولنے والوں سے الفاظ سیکھتا ہے، چلنے والوں سے چلنے کا انداز سیکھتا ہے، اپنے بڑوں سے اٹھنے بیٹھنے او رکھانے پینے کے طریقے سیکھتا ہے ، گانے سن کر گنگناتا ہے، گالیاں سن کر گالیاں ہی اس کی زبان پرچڑھ جاتی ہیں اور اگر اچھی باتیں سنے تو ان کو دُہراتا ہے۔ ماں باپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو رکوع وسجدے کی نقل کرتا ہے۔ مسجد جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو مسجد جانے کی کوشش کرتا ہے۔ لڑکے اپنے والد کے سر پر ٹوپی دیکھ کر ٹوپی پہنتے ہیں۔ اور لڑکیاں اپنی ماں کے سر پردوپٹہ اور جسم پر برقعہ دیکھ کردوپٹہ اور برقعہ پہننا چاہتی ہیں، غرضیکہ بچے کا ذہن تیزی سے ماحول میں پیش آنے والی چیزوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

ان حالات میں والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں دینی ماحول بنائیں ،انہیں ضروری دینی باتیں سکھائیں اور سمجھائیں، گھر کی خواتین شرعی باپردہ لباس پہنیں، گھر کے بڑے مردوعورت آپسی گفت گو میں تہذیب وشائستگی اور باہمی ادب واحترام کا لحاظ رکھیں، زبان کی حفاظت کریں اور کوئی ایسا موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیں جس میں بچوں سے تربیت کی باتیں کہی جاسکتی ہوں۔ ان حالات میں والدین اور سرپرستوں نے بچوں کو مناسب ماحول فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی تو یہ بچوں کے ساتھ یقینا بڑا ظلم ہے اور ان کے والدین وسرپرست عند الله جواب دہ ہوں گے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.