جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

گرمیوں میں سبزیاں زیادہ کھائیے

محترم شکیل صدیقی

گرمیوں میں سبزیاں زیادہ کھانی چاہییں۔یہ صحت پر اچھے اثرات ڈالتی ہیں۔ ذیل میں چند صحت بخش سبزیوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے، جنہیں آپ اپنی روزانہ کی غذاؤں میں ضرور شامل کریں۔

کھیرا: جلد کی تازگی برقرار رکھتا ہے
چہرے کو تازہ اور شاداب رکھنا ہو تو کھیرے کا ماسک لگائیں۔ کھیرا چھیل کر اسے پیس لیں۔ پھر اس میں دودھ ملا کر چہرے پر لگالیں۔ اسے گدی نما رکھیے، تاکہ چہرے پر سے فوراً ہی نہ بہ جائے۔ کھیرے کے دو ٹکڑے کاٹ کر آنکھوں پر رکھ لیں، اس سے آپ کو سکون ملے گا۔ پندرہ منٹ بعد چہرہ دھولیں۔ آپ کی آنکھیں نہ صرف پُرسکون رہیں گی، بلکہ ان کے سیاہ حلقے بھی دور ہو جائیں گے۔

کھیرے کے چھے یا آٹھ ٹکڑوں میں فاسفورس5 ملی گرام، سوڈیم1 ملی گرام، پوٹاشیم 42 ملی گرام اور حرارے(کیلوریز) صرف5 ہوتے ہیں۔

گاجر: بینائی کے لیے مفید
گاجر حیاتین( وٹامنز) سے بھر پور ہوتی ہے، اسے کچا او رپکا کر دونوں طریقوں سے کھایا جاسکتا ہے۔کچا کھانا زیادہ مفید ہے۔ اس کا رس بھی پیا جاتا ہے، جو بینائی کے لیے مفید ہے۔ کچی گاجریں کھانا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ گاجر سے جلد کی خشکی اور حساسیت بھی دور ہو جاتی ہے۔ چناں چہ اس کا ماسک بھی لگایا جاتا ہے۔

درمیانے درجے کی ایک گاجر میں لحمیات (پروٹینز) 1 گرام، پوٹاشیم233 ملی گرام، سوڈیم25 ملی گرام، فاسفورس32 ملی گرام، جب کہ حرارے 30 ہوتے ہیں۔

پالک کھائیے، فولاد حاصل کیجیے
پالک میں یوں تو بہت سے اجزا ہوتے ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ فولاد، فولک ایسڈ او رحیاتین الف ( وٹامن اے) کا خزانہ ہے۔ جن افراد کے گردوں میں پتھری ہواُنہیں پالک نہیں کھانی چاہیے، اس لیے کہ اس میں اوگزیلک ایسڈ(Oxalic Acid) ہوتا ہے۔ معدے میں تیزابیت ہو تو پالک کھانے سے ختم ہو جاتی ہے ۔ اس میں موجود معدنیات ( منرلز) تیزابی اثرات کو دور کرتی ہیں۔

پالک بہ آسانی ہضم ہو جاتی ہے، لہٰذا اسے گوشت اور قیمے کے ساتھ ملا کر بھی پکایا جاتا ہے۔ اس میں گندھک، میگنیزیم اور سیلیکون(Silicon) بھی ہوتی ہے۔ ایک پیالی پالک میں فاسفورس27 ملی گرام، پوٹاشیم3.7 ملی گرام، سوڈیم43 ملی گرام اور10 حرارے ہوتے ہیں۔

کریلا: ذیابیطس کے لیے اکسیر
ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ کریلے کا رسپئیں، اس لیے کہ اس سے شکر قابو میں رہتی ہے اور لبلبے کی اصلاح ہوتی رہتی ہے۔ یہ کڑوا ہوتا ہے، مگر قبض کشا ہے، لہٰذا ہضم کے نظام کو درست رکھتا ہے۔ کریلا جگر کو فائدہ دیتا اور مٹاپا دور کرتا ہے۔

سو گرام کریلے میں نشاستہ(کاربوہائڈریٹ)4.2 فی صد، فولاد18 ملی گرام، لحمیات1.6 فی صد، کیلشیم30 ملی گرام او رحیاتین ج(وٹامن سی)88 ملی گرام ہوتی ہے۔

میتھی صحت مند بنائے
میتھی باقاعدہ کھانے سے جسم صحت مند رہتا ہے۔ طبی لحاظ سے اس کی بہت اہمیت ہے۔ میتھی کے بیجوں سے خون کی کمی دور ہوجاتی ہے، اس لیے کہ ان میں فولاد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حیاتین او رمعدنیات وافر مقدار میں ہوتی ہے۔

بتھوے کا ساگ
بتھوے کا ساگ کھانے سے ہم بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ پیٹ کا درد اور کیڑوں کو ختم کرتا اور بھوک بڑھاتا ہے۔ قبض کشا ہے اورمعدے کو تقویت دیتا ہے۔ بخار کو کم کرتا ہے۔ اسے پابندی سے کھانے سے گردے، مثانے اور پیشاب کے امراض ختم ہوجاتے ہیں۔ پیاس کی شدت کو کم اور گردے کی پتھر کی خارج کرتا ہے۔ خون بھی صاف کرتا ہے ۔

بتھوے میں نشاستہ7.3 گرام، لحمیات4 گرام، کیلشیم309 ملی گرام، فولاد1.2 ملی گرام، پوٹاشیم452 ملی گرام او رفاسفورس72 ملی گرام ہوتا ہے۔

بندگوبھی سے اضمحلال وافسردگی ختم
بندگو بھی نہایت فائدہ مند سبزی ہے۔ اس میں حیاتین ج ہوتی ہے۔ جن افراد کی قوتِ مزاحمت میں کمی ہو جائے اور اضمحلال وافسردگی (ڈپریشن) انہیں گھیرے رہتی ہو، انہیں بند گوبھی کھانی چاہیے۔ اسے سلاد کے طور پر کھانے کے علاوہ گوشت کے ساتھ بھی پکایا جاتا ہے۔ بندگوبھی میں ریشہ خوب ہوتا ہے، اس لیے یہ قبض کشا ہے۔ اس کا تازہ رس پینے سے کھانسی دور ہو جاتی ہے ۔ یہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم رکھتی ہے۔اس میں معدنیات، میگنیزیم، کیلشیم اور پوٹاشیم ہوتے ہیں۔ اس میں حیاتین بھی ہوتی ہیں، جو جلد، آنکھوں او ربالوں کو فائدہ دیتی ہیں۔

کدو:ہائی بلڈپریشر کو گھٹاتا ہے
حلوا کدو گول ہوتا ہے اور سائز میں تربوز کے برابر۔ یہ پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ اسے سبزی کے طور پر کھایا جاتا ہے۔ ناشتے میں اسے چپاتی یا پوری کے ساتھ کھایا جاتا ہے ۔ کدو آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔ یہ قبض کشا سبزی ہے۔ حمل ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔ اس کے بیج کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے، کدو میں لحمیات بھی پائی جاتی ہیں۔ اس میں سیر شدہ چکنائی کم ہوتی ہے۔ یہ چکنائی نقصان دہ ہوتی ہے۔

بھنڈی سے عضلات او رہڈیاں مضبوط
بھنڈی سے پیدایش کے دوران کی پیچیدگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس میں فولیٹ ہوتا ہے، جس سے خون کے سرخ ذرات کی کمی دور ہو جاتی ہے۔ بھنڈی کھانے سے زچہ وبچہ کو تعدیہ ( انفیکشن) نہیں ہوتا۔ اس میں ریشہ ہوتا ہے، اس لیے یہ مانع قبض ہے۔ حمل کے بعد جسم پر جو نشانات پڑ جاتے ہیں، بھنڈی انہیں بھی دور کردیتی ہے۔

سو گرام بھنڈی میں یہ صحت بخش اجزا شامل ہوتے ہیں : ریشہ3گرام، شکر3 گرام، سیرشدہ چکنائی0.1 گرام،لحمیات2.1 گرام، کیلشیم96 ملی گرام اور پوٹاشیم234 ملی گرام۔

سبزیوں کے فائدے
سبزیاں، مثلاً گاجر، بھنڈی، کدو، شلجم، پالک، کریلا، کھیرا، ٹماٹر اور شملہ مرچ ذائقے میں منفرد او رغذائیت کے لحاظ سے صحت بخش ہوتی ہیں، انہیں اپنی روزانہ کی غذاؤں میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔

لذت بخش ہونے کے ساتھ ساتھ سبزیاں صحت کے لیے بھی مفید ہوتی ہیں۔ سبزی خور افراد انہیں روزانہ کے کھانوں میں ضرور شامل کرتے ہیں او رصحت مند رہتے ہیں۔ مذکورہ سبزیوں کا شوربا بھی تیار کیا جاسکتا ہے اور گاڑھا پکا کر روٹی پر پھیلا کر کھایا جاسکتا ہے۔ ان سبزیوں کا سوپ بنا کر پیا جاسکتا او رانہیں بھون کر سلاد کے طور پر بھی کھایا جاسکتا ہے۔

نارنجی رنگ کی سبزیاں زیادہ کھانی چاہییں۔ یہ تیز میٹھی نہیں ہوتیں۔ ان میں حرارے ( کیلوریز) کم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں حیاتین الف (وٹامن اے) کی اچھی مقدار کیرویٹنائڈز (Carotenoids) کی شکل میں ہوتی ہے، جو صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.