جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حالات سے مایوس نہ ہوں بلکہ بہتر مستقبل کی امید رکھیں

مولانا نثار احمد حصیر القاسمی

انسان اپنی زندگی میں مختلف نشیب وفراز اور طرح طرح کے حالات سے دو چار ہوتا ہے ، کبھی غم واندوہ کا سایہ ہوتا ہے تو کبھی مسرت وشادمانی کا دور دورہ، حالات ایک جیسے نہیں رہتے، اس میں ہمیشہ اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے، ہر انسان کو رنج بھی ہوتا ہے اور خوشی بھی، اسی طرح سماجی وملکی حالات میں بھی اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے، جو کسی قوم کے لیے یا تو فرحت بخش ہوتا ہے یا کسی کے لیے تکلیف دہ، جب حالات نامساعدو اذیت ناک ہوتے ہیں تو انسان مضطرب بے چین ہو جاتا ہے او رزندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھنا اس کے لیے دشوار ہو جاتا ہے ؛ اسی لیے اس اضطراب وبے چینی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے الله پر ایمان نہ رکھنے والے طرح طرح کے وسائل اختیار کرتے اور محرمات کا سہارا لیتے ہیں، جس سے انہیں راحت ملنے کے بجائے اس تپش میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے، وہ زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں او ربسا اوقات اس یأس وقنوطیت میں اپنی زندگی ہی کا خاتمہ کر بیٹھتے ہیں۔ مگر الله پر ایمان ویقین رکھنے والے مسلمان حالات سے مایوس نہیں ہوتے، وہ اپنے خلاف اٹھنے والے طوفانوں سے پست ہمت اور ٹوٹ نہیں جاتے، بلکہ حالات خواہ کتنے ہی مایوس کن اور جان لیوا کیوں نہ ہوں ان میں امید کی کرن موجود ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کی کسی چیز کے اندر ثبات وپائیداری اور دوام نہیں؛ بلکہ اسے ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہونا ہے، نہ یہاں کی خوشی دائمی ہے نہ غم، نہ یہاں کا اقتدار وحاکمیت دائمی ہے نہ محکومیت؛ بلکہ ایک نہ ایک دن اس میں تبدیلی ضرور آتی ہے، مسلمان حالات سے متاثر ہو کر مایوس نہیں ہوتا؛ کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا ماویٰ وملجا الله ہے، وہ الله ہی سے لو لگاتا ہے کہ وہی حالات کو موافق ومخالف بنانے والے ہیں، اس لیے مومن ہر حال میں الله ہی کی طرف نگاہ کرتا ہے، مایوسی کا شکار تو وہی ہوتا ہے جس کا الله پر اعتماد وبھروسہ نہیں ہوتا اور وہ کفر وشرک میں مبتلا ہوتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” یقینا رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔“ (یوسف:87) ”اپنے رب کی رحمت سے ناامید تو صرف گم راہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔“ (الحجر:56)

مسلمان درد والم او رغم واندوہ سے نڈھال ہیں، انہیں ظلم وبربریت کا شکار بنایا جارہا ہے، مظلوموں کو گرفتار کیا جارہا ہے اور ظالم دہشت گردوں کو آزاد چھوڑا جارہا ہے او ران کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، مسلمان بے بس نظر آرہے ہیں کہ انہوں نے اب تک اپنا مشن او راپنا مقصد مفاد پرستی کو بنائے رکھا اور اپنی دنیا سنوارنے میں جی رہے ہیں، انہیں امت کی اور دین وایمان کی حفاظت کی فکر کم او راپنی تجوریاں بھرنے کی فکر زیادہ ہے، آج مسلمانوں کے لیے ملک میں نجات کے او راپنے دین وایمان اور احکام خدا وندی کی حفاظت وپاس داری اور اس پر عمل پیرا رہنے کے سارے راستے بند نظر آرہے ہیں، انہیں مایوسی کا شکار بنانے، ان کی ہمتیں پست کرنے اوران کے حوصلوں کوتوڑنے اور فنا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جس سیمتاثر ہو کر مسلمان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں اور آنے والا دن انہیں نہایت تاریک وبھیانک نظر آرہا ہے، زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ نظر آرہی ہے، مگر ان سارے حالات کے باوجود اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو ہمیں الله تعالیٰ کی ذات سے امید رکھنی چاہیے، ہمیں پست ہمت نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یقین رکھنا چاہیے کہ حالات بدل سکتے، طوفان تھم سکتا اورہمارے موافق بن سکتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہم حالات سے مایوس نہ ہوں، پست ہمت نہ ہوں ،اپنے اندر حوصلہ جواں رکھیں اور الله کی طرف رجوع ہوں، اسی سے مدد طلب کریں اور حالات سے نبرد آزماہونے کے لیے عملی اقدامات وتدبیریں کریں، ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے نہ رہیں، الله تعالیٰ نے ان حالات، بلکہ اس سے بھی بد تر حالات سے نجات کی خوش خبری دی ہے:” آپ کہہ دیجیے کہ الله ہی تم کو ان سے نجات دے گا ہر غم سے ۔“ (انعام:64) دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:” کیا الله تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ یہ لوگ آپ کو الله کے سوا اوروں سے ڈرارہے ہیں اور جسے الله گم راہ کر دے اس کی راہ نمائی کرنے والا کوئی نہیں۔“ (الزمر:36)

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی اوّلین ذمہ داری ہے کہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ الله کے سامنے گڑ گڑائیں، الله کو راضی کرنے کی کوشش کریں اور یقین رکھیں کہ ہر رنج والم کے بعد خوشی ومسرت اور ہر تنگی کے بعد آسانی وکشادگی ہے، حالات یکساں نہیں رہتے؛ بلکہ یہ محالات میں سے ہے، الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:” بے کس کی پکار کو، جب کہ وہ پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ او رتمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا الله تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو۔“ (النمل:62)

خوب الحاح وزاری کے ساتھ حالات کی تبدیلی کی الله سے دعا کریں، کیوں کہ الله تعالیٰ خوب گڑ گڑانے والے اور الحاح کے ساتھ مانگنے والے بندے کو پسند کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں، ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ سچے مسلمان اور مؤمن کامل کی نگاہ میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ اس کی کوئی قدر وقیمت ہے، اس دنیا سے تو گذر ہی جانا ہے، ہماری نگاہ اس دنیا کے مالک پر ہونی چاہیے، جو بادشاہوں کا بادشاہ اور سلطانوں کا سلطان ہے، وہی سارے انسانوں کا رب اور ہر چیزپر قدرت رکھنے والا قادر مطلق ہے، جو چشم زدن میں کایا پلٹ دیتا ہے؛ کیوں کہ اس کا معاملہ تو بس یہ ہے: ” وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اتنا فرما دینا کافی ہوتا ہے کہ ہو جا تو وہ اسی وقت ہو جاتی ہے۔“ (یٰسین:82) اس لیے مؤمن کے لیے سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ الله سے دعا کرے اور دعا کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اس کی دعا قبول ہو سکے، دعاؤں کی قبولیت کی جو شرطیں ہیں ان کی پابندی کرے، اپنا کھانا پینا، لباس وپوشاک اور رہن سہن حلال وپاک بنائے ، حلال پر اکتفا کرے اور حرام سے توبہ کرلے؛ اگر ہم نے حرام خوری اور دولت مند بننے ہی کے مقصد سے سرگرمی انجام دی ہیں تو اس سے دست کش ہو جائیں، قلیل پر اکتفا کریں، جو کہ حلال ہو،حرام راستے سے لائے ہوئے مال کے ذریعہ عیش وعشرت کی جو زندگی حاصل ہوئی ہے اسے ترک کرکے اپنے زندگی کو صحیح ڈگر پر لائیں۔

”پھر ایسے کیوں نہ ہوا کہ وہ جھک جاتے ( اپنے رب کے حضور عاجزی کرتے) جب کہ آپہنچا تھا ان کے پاس ہمارا عذاب؟ مگر سخت ہو گئے ان کے د ل اور خوش نما بنا دیے شیطان نے ان کے لیے ان کے وہی کام جو وہ کرتے آرہے تھے، پھر جب بھلا( کرپس پشت ڈال) دیا انہوں نے اس نصیحت کو جوان کو کی گئی تھی، تو ہم نے ان پر کھول دیے دروازے ہر چیز کے ، یہاں تک کہ جب وہ خوب مگن ہو گئے ، ان چیزوں میں جوان کو دی گئی تھیں تو ہم نے اچانک ان کو ایسا پکڑا کہ کٹ کر رہ گئیں ان کی سب امیدیں، سو جڑکاٹ کررکھ دی گئی ان لوگوں کی جواڑے ہوئے تھے اپنے ظلم ( وعدوان) پر اور سب تعریفیں الله ہی کے لیے ہیں، جو پروردگار ہے سب جہانوں کا“۔ (انعام:45-43)

حضرت ابودرداء سے روایت ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: کہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:” میں ساری مخلوق کا معبود ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں بادشاہوں (حکم رانوں) کا مالک اور سلطانوں کا سلطان ہوں، حکم رانوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں، جب بندے میری اطاعت کرتے ہیں تو بادشاہوں کے دل رحمت ومہربانی کے ساتھ ان کی طرف پھیر دیتا ہوں اور جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو بادشاہوں کے دلوں کو ناراضگی وغضب اور سختی کی طرف مائل کر دیتا ہوں، جس کی وجہ سے وہ رعایا کو سخت عذاب چکھاتے ہیں تو اے بندو! تم حکم رانوں کے لیے بد دعا کرنے میں اپنے آپ کو مشغول مت کرو؛ بلکہ مجھے یاد کرنے میں لگ جاؤ اور میری طرف رجوع ہو کر، میرے سامنے گڑ گڑاؤ، میں تمہارے لیے کافی ہو جاؤں گا۔“ (رواہ ابو نعیم فی الحلیة)

ہمیں الله ہی کی طرف ان حالات میں رجوع ہونا چاہیے اور یقین کرنا چاہیے کہ جو آگ کو گل گلزار بناسکتا اور تنگ وتاریک کنویں میں یوسف کی حفاظت کرکے اسے بادشاہت کی کرسی تک پہنچاسکتا ہے کیا وہ ہمارے حالات کو بدل نہیں سکتا ہے ؟ ضرور بدل سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اپنے اندر پختہ ایمان پیدا کریں، اسی پر بھروسہ کریں، حرام سے بچیں او رحلال پر اکتفا کریں، نام ونمود اور دنیا داری سے توبہ کریں، دنیا سنوارنے کے بجائے آخرت سنوارنے کی فکر کریں او راپنے اندر اخلاص پیدا کریں او رمایوسی کو اپنے اندر سے نکال دیں اور امید وحوصلہ کے ساتھ جینا سیکھیں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.