جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

نمازِ تہجد قرب الہٰی کا وسیلہ

مولانا رضوان الله پشاوری

حضرت ابواُمامہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”تم ضرور قیام ِ لیل کیا کرو (نماز تہجد پڑھا کرو)، کیوں کہ وہ تم سے پہلے صالحین کا شیوہ ، شعار اور طریقہ رہا ہے اور قربِ الہی کا تمہارے لیے خاص وسیلہ ہے اور برائیوں کو مٹانے والی اور معاصی سے محفوظ رکھنے والی چیز ہے“۔ (رواہ الترمذی، مشکوٰة)

خالق کائنات نے اپنی خاص حکمت کے تحت دن کو روشن اور رات کو پُرسکون بنایا، رات کو سناٹے میں جیسا سکون عموماً آرام میں اور خصوصاً عبادت میں ملتا ہے، ویسا کسی دوسرے وقت میں نہیں ملتا ، یہی وجہ ہے کہ رات کی تنہائی میں عوام تو خواب ِ غفلت میں مست ہوتے ہیں، مگر خواص یاد الہٰی میں مشغول ہوتے ہیں اور یہ خواص لوگ عبادت کرنے کے لیے رات کا بہت زیادہ انتظار کرتے ہیں۔ قرآن ِ کریم نے ان ہی کی شان میں فرمایا۔ ترجمہ: ”ان کے پہلو اس وقت (رات میں جو لوگوں کے سونے کا خاص وقت ہے)ان کی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں۔ یعنی میٹھی نیند اور نرم بستروں کو چھوڑ کر الله تعالیٰ کے سامنے قیام کرتے ہیں اور نماز تہجد پڑھتے ہیں“۔ (السجدہ)

حدیث شریف میں بھی ہے کہ حضرت عبدالله بن رواحہ رضی الله عنہ نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے متعلق فرمایا:”آپ صلی الله علیہ وسلم رات اس حال میں گزارتے کہ پہلو بسترسے جدا ہوتا، جب کہ مشرکوں کے بستر ان کے بوجھ سے گراں بار ہوچکے ہوتے“۔ (بخاری شریف) اس سے معلوم ہوا کہ نماز تہجد خواص کی عبادت ہے، جیسا کہ حدیث میں نماز ِ تہجد کی چار خصوصیتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔

پہلی خصوصیت…”داب الصالحین قبلکم“ نماز تہجد کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ دورِ قدیم سے صلحاء کا شعار ، طریقہ اور ان کی عبادت رہی ہے۔ اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے: ایک تو یہ کہ جب امم سابقہ کے اولیاء اور صلحاء نمازِ تہجد کا اہتمام کرتے تھے تو تمہیں بطریق اولیٰ اس کا اہتمام کرنا چاہیے، کیوں کہ تم تو خیر الامم ہو۔ دوسرا… اس طرف اشارہ ہے کہ نمازِ تہجد صالحین کا شیوہ ہے، جو اس کا اہتمام نہیں کرتا وہ صالحین (کاملین) میں سے نہیں۔ حدیث میں ہے:”میری امت کے شرفاء حاملین قرآن(قرآن کو پڑھنے ،سمجھنے او راس پر عمل کرنے والے) اور تہجد گزار لوگ ہیں“۔ (مشکوٰة شریف)

دوسری خصوصیت…:”وھو قربة لکم الیٰ ربکم“ نماز تہجد کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ قرب الہٰی کا وسیلہ ہے،اس سے ربِ کریم کی قربت ومحبت نصیب ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے:”الله تعالیٰ اپنے بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے ، لہٰذا تم بھی اس وقت اس کے یاد کرنے والوں میں ہوسکتے ہو تو ضرور ہو جاؤ“۔ (ترمذی) ملا علی قاری  فرماتے ہیں: اس میں اس حدیث قدسی کی طرف اشارہ ہے جس میں رب العالمین نے فرمایا کہ بندہ برابر نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ (مرقاة المفاتیح)

تیسری خصوصیت… نماز ِ تہجد کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ”مکفرة للسیٰات“ کفارہٴ سیئات کا ذریعہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:”نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اور نماز تہجد بہت بڑی نیکی ہے، اس سے حق تعالیٰ گناہوں کو مٹاتے ہیں، جیسے “ پت جھڑ میں تیز وتند ہوادرخت سے سوکھے پتوں کو گرا دیتی ہے، اسی طرح نمازِ تہجد گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔

چوتھی خصوصیت… اس کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ گناہوں سے بچاتی ہے او رترکِ معاصی سے تہجد کی توفیق نصیب ہوتی ہے او رتہجد سے حفظ معاصی کی توفیق ملتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم سے کسی کے متعلق یہ شکایت کی گئی کہ فلاں آدمی رات کو تہجد تو پڑھتا ہے، مگر دن میں چوری کرتا ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اس کو تہجد کی نماز برائی سے روک دے گی“۔ (رواہ احمد) کیوں کہ نماز کی یہی خاصیت ہے کہ اگر اسے صحیح طریقہ پر قائم کیا جائے تو وہ نمازی کو برائی سے روکتی ہے۔ غرض نماز اور تہجد سے حفظ معاصی کی توفیق ملتی ہے۔

چناں چہ حضرت حسن بصری رحمة الله علیہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہو کر کہنے لگا: حضرت! تہجد کی توفیق نہیں ملتی، کوئی ترتیب بتلائیں تو آپ نے فرمایا: دن میں معاصی سے اجتناب کرو تورات میں تہجد کی توفیق نصیب ہو گی۔ معلوم ہوا کہ ترکِ معاصی اور توفیق تہجد لازم ملزوم ہیں۔

الله تعالیٰ ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں اور ہم سب کو بلاناغہ نماز تہجد ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.