جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حسد … اسباب وعلاج

مفتی محمد عبدالله قاسمی

حسدایک مذموم اورناپسندیدہ خصلت ہے،اللہ تبارک وتعالی کے غضب وغصہ کاموجب ہے،حسنات اورنیکیوں کے ضائع ہونے کاسبب ہے،حسدوہ سنگین اورمہلک بیماری ہے جوانسان کے دل سے چین وسکون رخصت کردیتی ہے اوراس کے قلب ودماغ کومختلف پریشانیوں کی آماج گاہ بنادیتی ہے،حسدکرنے والاشخص ہمیشہ رنجیدہ اورکبیدہ خاطررہتاہے،قسام ازل کی تقدیراوراس کے اٹل فیصلے سے نالاں رہتاہے،جس کی وجہ سے رب کائنات اوربندگان خداہردوکی نگاہوں میں مبغوض اورناپسندیدہ ہوتاہے۔

حسدکی حقیقت
حسدکی حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کواللہ تعالی نے اپنی نعمتوں سے سرفرازکیاہے، خواہ وہ دنیاکی نعمت ہویادین کی،انسان اس پرکڑھن محسوس کرے اوراس کے پاس سے اس نعمت کے زائل ہوجانے کی تمناکرے،خواہ وہ نعمت اس کوحاصل ہویانہ ہو،یہ حسدکامفہوم ہے،اگرانسان کواپنے بھائی کی نعمت دیکھ کرکڑھن نہ ہو؛بلکہ اس نعمت کے حصول کی تمنااس کے دل میں پیداہوتواسے رشک اورغبطہ کہاجاتاہے،یہ اگرچہ عدم جوازکے دائرہ میں نہیں آتاہے؛تاہم دنیوی امورمیں حدسے زیادہ رشک مذموم اورناپسندیدہ ہے۔

حسدکے نقصانات
حسدوہ باطنی بیماری ہے جس سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی امت کوبچنے اوراس سے کنارہ کش رہنے کی تاکیدکی ہے،آپ صلی الله علیہ وسلم کاارشادگرامی ہے:تم حسدسے بچو؛کیوں کہ حسدنیکیوں کواس طرح کھاجاتاہے جیسے آگ لکڑی کو۔(ابوداؤد،حدیث نمبر:4903)

ایک روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:پچھلی امتوں کی بیماری تمہارے اندر سرایت کرجائے گی:حسداوربغض،یہ مونڈنے والی ہے،میں نہیں کہتاکہ وہ بالوں کو مونڈتی ہے؛لیکن وہ دین کومونڈدیتی ہے۔(ترمذی،حدیث نمبر:2510)

ایک حدیث میں ہے:ایک دوسرے سے بغض مت رکھو، ایک دوسرے سے حسدنہ کرو،ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرواوراے اللہ کے بندو!آپس میں بھائی بھائی بن کررہو۔(بخاری،حدیث نمبر:6066)

حضرت ضمرہ بن ثعلبہفرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے جب تک کہ وہ حسدسے بچتے رہیں گے۔ (کنزالعمال،حدیث نمبر:7449)

ایک روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کاارشادگرامی ہے: دو بھوکے بھیڑیے جوبکریوں کے ریوڑمیں چھوڑدیے جائیں وہ بکریوں کا اتنانقصان نہیں کرتے جتنامال کی حرص اورحسدانسان کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔(کتاب الترغیب والترہیب)

حضرت عبداللہ بن عمرسے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیاگیا:کونسا انسان بہترہے؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:ہروہ انسان جومخموم القلب اورسچاہو،صحابہ نے عرض کیا:سچے آدمی کوتوہم پہچانتے ہیں؛ لیکن یہ مخموم القلب کون ہے؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو پرہیزگار اور پاک باز ہو اس میں نہ گناہ ہونہ ظلم اور نہ ہی کھوٹ ہونہ حسد۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر:4216)

ایک روایت میں ہے:تین خصلتیں تمام برائیوں کی جڑ ہیں:کبر، حرص، حسد۔(جامع الاحادیث والمراسیل)

حسدمتعددگناہوں کاپیش خیمہ
حسدوہ سنگین اورمہلک بیماری ہے جواگرانسان کے دل میں پیدا ہوجائے تواس سے متعددگناہ وجودمیں آتے ہیں،چناں چہ حسدمیں مبتلاشخص کواسی وقت خوشی اورمسرت حاصل ہوتی ہے جب کہ محسودکوکوئی تکلیف اورنقصان پہنچتا ہے اورکسی مسلمان بھائی کی تکلیف اوراس کے رنج والم پر خوشی کااظہارکرناشماتت ہے، جوشریعت میں ممنوع اورحرام ہے،اسی طرح حسدکرنے والاانسان مجلسوں میں محسودکی غیبت کرتاہے اوراس کی برائیاں سنتاہے اوراس کونقصان پہنچانے کے درپے رہتاہے،چوں کہ یہ ایک باطنی بیماری متعددگناہوں کاپیش خیمہ ثابت ہوتی ہے؛اسی لیے شریعت نے مسلمانوں کواس سے مجتنب رہنے کی تاکیدکی ہے۔

حسدکے اسباب
اس موقع سے حسدکے اسباب وعوامل کوجاننابھی بے حدضروری ہے ،تاکہ ایک مسلمان حسدکے اسباب سے کنارہ کشی اختیارکرے تواس کے لیے حسدجیسی مہلک بیماری سے بچناآسان اورسہل ہوجائے،ذیل میں حسد کے چنداسباب ذکرکیے جاتے ہیں:

بغض وعداوت
حسدکاایک سبب بغض وعداوت ہے،اگرایک شخص کوکسی سے بغض وعداوت ہے توقدرتی طورپرانسان کواس شخص سے حسدہوجاتاہے جسے قسام ازل نے اپنی نعمتوں سے سرفرازکیاہے،وہ اس کی نعمتوں پررنجیدہ اورکبیدہ خاطررہتاہے اسی وجہ سے شریعت مطہرہ مسلمانوں کوباہمی بغض وعداوت سے منع کرتی ہے،اوران امورکی حوصلہ افزائی کرتی ہے جن سے باہم محبت والفت پیداہواورآپسی تعلقات خوش گوارہوں۔

حب دنیا
حسدکاایک سبب دنیاکی محبت ہے،اگرکسی انسان کے دل میں دنیاکی محبت بیٹھ جائے،سیم وزرکاحصول ہی اس کی زندگی کامقصوداورمطمح نظرہوجائے،طاؤس ورباب کی لذتیں اس کے دل ودماغ پر چھا جائیں، تواسے ایسے شخص سے حسدہوجاناناگزیرہے جس کواللہ تعالی نے وافر مقدارمیں دنیاکی آسائشیں عطاکی ہوں اورجس کے پاس مال ودولت کے انبارہوں،ایک روایت میں ہے:دنیاکی محبت تمام برائیوں کی جڑہے، (شعب الایمان،حدیث نمبر:9974)ایک حدیث میں ہے:اللہ کی قسم! مجھے تم پرفقروفاقہ کااندیشہ نہیں ہے،لیکن مجھے تم پراس بات کااندیشہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی پچھلی قوموں کی طرح تمہارے لیے دنیاکے خزائن کھول دیں توتم اس کوحاصل کرنے میں ایک دوسرے پرسبقت کرواوردنیاتمہیں ہلاک کردے جیساکہ پچھلی قومیں اس کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہیں۔ (بخاری، حدیث نمبر:3158)

حب جاہ
حسدکاایک سبب جاہ ومنصب کی محبت ہے،جوشخص جاہ ومنصب کی محبت میں گرفتارہوتاہے اورکسی عہدے کوحاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتاہے،ایسے شخص کواس انسان سے حسدہوجاناقدرتی ہے جواس کامدمقابل اورحریف ہواوراسی عہدہ ومنصب کاامیدوارہواوراگرکسی وجہ سے اس کاحریف اورمدمقابل مطلوبہ عہدے کوحاصل کرنے میں کام یاب ہوجائے توپھرحسدکی چنگاری مزیدشعلہ زن ہوجاتی ہے اوراس سے کڑھن اورجلن شدیدترہوجاتی ہے۔

احساس محرومی یااحساس کمتری
حسدکاایک سبب احساس محرومی اوراحساس کمتری بھی ہے،کسی کی نعمتوں کودیکھ کرانسان جب اپنی نعمتوں کاجائزہ لیتاہے تواگروہ اس نعمت سے بالکل ہی محروم ہویااس کے پاس وہ نعمت قلیل مقدارمیں ہوتواس انسان سے حسدہوجاتاہے جس کے پاس یہ نعمتیں وافرمقدارمیں موجودہیں،اس کے علاوہ بہت سے اسباب ہیں جوانسان کوحسدجیسی سنگین بیماری میں مبتلاکرتے ہیں۔

حسدسے بچنے کاعلاج
حسدچوں کہ بہت ہی مہلک مرض ہے اورذہنی تشویش اورفکری پراگندگی کاذریعہ اورسبب ہے؛اسی لیے علما نے اس مرض سے بچنے کے مختلف طریقے بھی ذکرکیے ہیں،ذیل میں ہم ان میں سے چندطریقے بیان کرتے ہیں:

خداکی نعمتوں کااستحضار
حسدسے بچنے کی ایک تدبیریہ ہے کہ انسان ان نعمتوں پرغورکرے جواللہ جل شانہ نے اس کوبغیرکسی طلب کے عطاکی ہیں،صحت وتن درستی اوراعضاء کی سلامتی وہ بیش بہانعمت ہے جس سے ہرکوئی مستفیداورفیض یاب ہورہاہے،اللہ کے انعامات اوراس کی نوازشات کی بارش ہمہ وقت انسان پراس کثرت کے ساتھ ہورہی ہے کہ انسان صحیح معنوں میں ان کاشکریہ ادانہیں کرسکتا،اگرانسان اپنی نعمتوں کاجائزہ لے اوران پراللہ کاشکربجالائے توانسان کوکسی سے حسدکرنے اورکسی کی نعمتوں پرجلنے اورکڑھنے کاموقع ہی نہیں ملے گا،لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے سیکم ترلوگوں کے ساتھ اٹھنابیٹھناشروع کرے اوردنیوی سازوسامان میں غریب اورفاقہ مست لوگوں کی طرف نظرکرے تواس سے اس کاعضوعضوتشکروامتنان کے جذبہ سے لبریزہوگااور اس کی زبان ہمیشہ اللہ کی حمدوثنا سے تروتازہ رہے گی اوراس طرح بآسانی وہ حسدسے بچ سکتاہے۔

اپنے خیالات پرقابورکھیں
انسان کاقلب مختلف قسم کے خیالات کی آماج گاہ ہے،اس کے بزم دل میں تخیلات کی ایک انجمن آبادہوتی ہے،اب یہ انسان پرضروری ہے کہ وہ ان تخیلات پرقابوپائے جواس کوغلط راہ پرلے جاتے ہیں اورخداسے بغاوت وسرکشی پرابھارتے ہیں،چناں چہ جب کسی انسان کے دل میں کسی کے متعلق حسدکے جذبات پیداہوں توحتی الامکان اس کودفع کرے اورمطلق اس کی طرف توجہ نہ دے،اس طرح سے اول مرحلہ ہی میں انسان حسدکی لعنت سے بچ جائے گا،پریشانی تواس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان ان تخیلات کواپنے دل کے نہاں خانہ میں جگہ دیتاہے اورباربارسوچ کران کی آبیاری کرتاہے۔

دعاواستغفار کااہتمام
ایک چیزجوحسد ؛بلکہ تمام گناہوں سے محفوظ رہنے کے لیے بے حدضروری ہے وہ دعا واستغفارکااہتمام ہے،کیوں کہ دعا وہ شاہ کلیدہے جوہرناممکن کوممکن بنادیتی ہے اورانسان کودنیوی واخروی سعادتوں سے بہرہ ورکرتی ہے،لہٰذاجس شخص کے دل میں حسدنے اپنے پنجے گاڑدیے ہوں اور اس سے چھٹکارامشکل نظرآرہاہوتوانسان اللہ تبارک وتعالی سے اس مرض کے ازالہ کی دعا کرے اوراپنی کوتاہیوں پرتوبہ واستغفارکرے۔

محسودکے لیے دعا
حسدسے بچنے کاایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اس شخص کے حق میں دعائیں کرے جس کی نعمتوں پراسے جلن اورکڑھن محسوس ہورہی ہے،ظاہرہے کہ جب وہ محسودکے لیے دعا کی کوشش کرے گاتواس کے دل پرآرے چلیں گے اوراس کانفس کسی قیمت پراس کڑوے گھونٹ کوپینے پرآمادہ نہیں ہوگا،لیکن انسان اپنے نفس پرجبرکرکے کسی طرح محسودکے لیے دعا کرے گاتورفتہ رفتہ اس کے خانہٴ دل میں حسدکی دبی ہوئی چنگاری سردپڑتی جائے گی اورنفرت وعداوت کی آگ آہستہ آہستہ بجھتی جائے گی اورکچھ ہی دنوں کے بعداس کے دل میں محسودکے حوالہ سے محبت والفت کے جذبات انگڑائیاں لیں گے اوراس کے قلب میں اس کے لیے ہمدردی وخیرخواہی کی شمع فروزاں ہوجائے گی۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.