جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مسلمانوں کی کمزوری اور اس کا علاج

مولانا نثار احمد حصیر القاسمی

ایک زمانہ تھا کہ امت مسلمہ دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ تھی، اس کی تہذیب ساری تہذیبوں پر غالب تھی، ان کے علم وفن کی طوطی بولتی تھی، ساری دنیا کی قومیں امت مسلمہ سے تہذیب وثقافت سیکھتی اور ان سے ترقی وخوش حالی کا درس حاصل کرتی تھیں، امت مسلمہ ہر میدان میں آگے تھی، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی اس دنیا میں نور خدا وندی کی کرنیں پھوٹیں اور ہر چہار جانب پھیلتی چلی گئیں، الله تعالیٰ نے اپنے اس نور کا انتظام اس لیے کیا کہ وہ انسانوں کو ظلمت وتاریکی کے دور سے نکال کر انہیں رشد وہدایت، علم وحکمت، الفت ومحبت، امن وسلامتی اور میل ملاپ کی روشنی میں داخل کر دے، اس نورِہدایت اور ضیائے علم وحکمت کی آمد کے بعد امت مسلمہ ترقی کرتی رہی، ہمیشہ قدم آگے بڑھاتی رہی ،یہاں تک کہ دنیا کی ساری قومیں علم وحکمت، تحقیق وجستجو، ترقی وخوش حالی، تہذیب وتمدن اورمتوازن نظام حکم رانی میں اس کی دست نگر ہو گئیں، مسلمان ہر میدان میں ان سے آگے رہے اور قیادت عالم کا فریضہ انجام دیتے رہے، اس نے اسلام کے ذریعہ انسانیت کی پاس بانی کی اور انسانیت کے قافلے کی حق وصداقت اور امانت ودیانت کے ساتھ رہبری کی، انہوں نے اسلامی تعلیمات، خدائی احکام اورفطری نظام کو بڑی خوش اسلوبی سے روئے زمین پر نافذ کیا اور انسانوں کو چین وسکون، امن وامان، خوش حالی وآزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔

اسلام اور امت مسلمہ کا یہ کارواں اسی نہج پر رواں دواں رہا، مگر چند صدی بعد ہی مسلمانوں میں کمزوریاں گھر کرگئیں، ان کا رشتہ اسلام اور اس کی تعلیمات سے کمزور پڑتا اور ٹوٹتا رہا اور وہ اپنے راستے سے ہٹ گئے، ہمارا قافلہ جس شاہ راہ پر رواں دواں اور سفر کر رہا تھا، وہ اس سے منحرف ہو گئے، یہاں تک کہ انہوں نے بہتر کے بجائے معمولی او رگھٹیا کو پسند کرنا شروع کر دیا، ان کے لیے ترقی وعروج کا جو ذریعہ تھا، اس سے منھ موڑ کر انہوں نے حقیرچھیچھڑوں کو پسند کرنا شروع کر دیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ترقی نہ صرف رک گئی، بلکہ عروج زوال میں تبدیل ہو گیا، 16/ہجری میں مسلمان فوجیں حضرت ابوعبیدہ رضی الله عنہ کی قیادت میں شام کو فتح کرتے ہوئے فلسطین تک پہنچ گئیں، عیسائی بیت المقدس میں قلعہ بند ہو گئے او رمسلم فوجوں نے ان کو اپنے محاصرہ میں لے لیا، اس وقت عیساؤں کی جانب سے صلح کی پیش کش ہوئی، جس میں ایک خاص شرط یہ تھی کہ خلیفہٴ وقت حضرت عمر فاروق  خو دآکر عہد نامہ کی تکمیل کریں، حضرت ابوعبیدہ نے عیسائیوں کی اس پیش کش سے امیر المومنین کو مطلع کیا ، حضرت عمر مشورہ کے بعد فلسطین کی طرف روانہ ہو گئے، آپ جب اسلامی لشکر سے ملے تو اس وقت آپ کی یہ حالت تھی کہ جسم پر ایک تہبند اورکرتے پر متعدد پیوند لگے ہوئے تھے، حضرت ابو عبیدہ نے عرض کیا امیر المومنین آپ کو عیسائیوں کے فوجی افسروں اور بڑے مذہبی پیشواؤں سے ملاقات کرنی ہے یہ لوگ بڑے متمدن ہیں، آپ اس لباس میں ان کے سامنے جائیں گے، تو ہماری اور آپ کی کیا عزت رہ جائے گی، اس پر حضرت عمر فاروق  نے فرمایا اے ابوعبیدہ! کاش! یہ بات تمہارے سوا کوئی او رکہتا؟ تمہیں معلوم نہیں:
”إنا کنا أذل قوم اعزنا الله بالإسلام، فمھما نطلب العز بغیر ما أعزنا الله بہ أذلنا الله․“
”ہم دنیا میں سب سے پست قوم تھے، الله نے ہمیں اسلام کے ذریعہ عزت دی، پس جب بھی ہم اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ عزت چاہیں گے، تو الله ہمیں ذلیل کر دے گا۔“

پھٹے پرانے لباس میں بھی ان کارعب ودبدبہ تھا، مگر ہمارا شان دار ملبوسات میں بھی نہیں ، وہ کھجور کی چپلیں پہنتے تھے، مگر رعب تھا، ہم قیمتی جوتوں میں بھی خوار ہیں، وہ خچروں پر سفر کرتے تھے مگر زمانہ ان کے نام سے کانپتا تھا، ہم بڑی بڑی گاڑیوں اور حشم وخدم میں بھی رسوائے زمانہ ہیں، آج مسلمانوں کی ہوا اکھڑچکی ہے، دنیا میں نہ کہیں ان کی عزت وعظمت ہے نہ رعب ودبدبہ، دنیا کا کوئی ملک اور قوم ان سے نہیں ڈرتا اور وہ ہر کسی سے ڈرتے ہیں ،ساری دنیا میں ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے، ایک زمانہ تھا کہ قیصر وکسریٰ جیسی دنیا کی سپر طاقتیں ان کے نام سے لزرہ براندام تھیں اورآج اس سے اسرائیل جیسا ذلیل وخوار مٹھی بھر تعداد بھی نہیں ڈرتا بلکہ انہیں ڈرا کر رکھتا اور ان پر مظالم ڈھاتا ہے۔

افرادی اعتبار سے آج مسلمانوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ارب ہے، وسائل کے اعتبار سے ان کے پاس دولت وثروت اور پٹرول کی قوت ہے، معدنیات کے ذخائر اور کانیں بھی مسلم ملکوں میں زیادہ ہیں،لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود مسلمان آج ساری قوموں سے زیادہ کمزور ولاغر اور مغلوب ہیں، اس کی واحد بڑی وجہ ایمان کی کمزوری، تعلیم سے دوری او رتحقیق وجستجو سے بے اعتنائی اور الله کے بجائے خلق الله پر اعتماد او رباہمی تفرقہ بازی او رپھوٹ ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری عزت وسربلندی امریکا وروس اور یورپ کی جوتیاں سیدھی کرنے، ان کے تلوے چاٹنے، ان کا حکم بجالانے، ان کی ہدایتوں پر اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہانے او رعیاشی وبد کاری او رقص وسرود کی محفلیں سجانے میں نہیں، بلکہ ہماری عزت وسربلندی، ہمارا عروج وترقی او رہماری قوت اپنے دین پر عمل پیرا رہنے، اپنی کتاب ہدایت (قرآن) اور سنت نبوی کو اپنے لیے مشعل راہ بنانے میں ہے، ہم جس قدر اپنے دین کو تھامنے میں مضبوط ہوں گے اسی قدر ہماری قوم اور ہماری سیاست مضبوط ہو گی۔

یعنی امت مسلمہ کی طاقت وکمزوری کا مدار دین کی مضبوطی وکمزوری پر ہے اور ہم جس قدر دوسروں کے عقیدے پر یقین رکھیں گے ،جس قدر ان پر ہمارا بھروسہ ہو گا اور جس قدر ان کی مدد کے طلب گار ہوں گے ، اسی قدر ہم ان کے سامنے ذلیل وخوار اور بے وقعت ہوں گے ، سچا مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کے امور ومعاملات پر توجہ دیتا ہے، اس کے بول وبالا کے لیے فکر مند رہتا اور اس کے لیے تگ ودو کرتا ہے ،خواہ وہ حاکم ہو یا رعایا، امت مسلمہ جو جسد واحد کی طرح ہے، اس امت کے درود والم سے وہ گھٹتا اور ٹیس محسوس کرتا ہے اور اس کے مداوا کی تدبیریں کرتا ہے، وہ دوسروں کے مصائب وآلام اوردوسرے بھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر شاداں وفرحاں نہیں ہوتا اور نہ انہیں اور بھی عذاب میں مبتلا کرتا ہے او رنہ ہی محض تماشائی کی طرح بے فکر ی کے ساتھ اس کا تماشا دیکھتا ہے، بلکہ وہ حکمت ودانائی کے ساتھ ان مظالم وسفا کی اور یہود ونصاریٰ ودیگر ادیان ومذاہب کی دہشت گردیوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا دین وایمان اور اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ اپنے مشرق ومغرب کے مسلمانوں کو بچائے، ان کی خلاصی ونجات کی صورت نکالے، وہ ان بد ترین حالات سے امت کو باہر نکالنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ وہ مسلمانوں کی شیرازہ بندی کی کوشش کرتا، انہیں توڑنے اورخانوں میں بانٹنے کی تدبیریں نہیں کرتا، وہ امت مسلمہ کو ایک صف میں کھڑا کرنے کی سعی کرتا، فتنوں کو دور کرنے کے وسائل اختیار کرتا اورامت کے غم میں شب وروز کروٹیں بدلتا ہے۔ اپنے محلوں میں بیٹھ کر رقص وسرور کی محفلیں جما کر، عیاشی وبد کاری میں مبتلا رہ کر اور ہر روز حسیناؤں کو بغلوں میں لٹا کر داد عیش دے کر امت کے مصائب دور نہیں ہوتے ،بلکہ اس میں اضافہ ہوتا او ران کی وجہ سے پوری قوم قہر وعذاب الہٰی میں گرفتار ہو جاتی ہے ، آج بھی امت اگر اپنے تفرقے پس پشت ڈال دے، اپنی عیاشیوں اور بد کاریوں کو روک دے اور دین کو مضبوطی سے تھام کر اس کے مطابق عمل کرنے لگے او رکتاب وسنت کی روشنی میں فیصلے کرنے لگے کہ کس سے دوستی کرنی ہے اورکس سے نہیں، کس کی ماننی ہے اور کس کی نہیں ، تو بہت جلداس کا ثمرہ ظاہرہو گا او روہ خیرامت ثابت ہو گی، جیسا کہ الله تعالیٰ نے فرمایا:﴿کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ﴾․ (آل عمران:110)

”تم لوگ ( اے مسلمانو!) سب سے بہتر امت ہو، جسے میدان میں لایا گیا ہے، لوگوں کے بھلے کے لیے، تمہارا کام ہے نیکی کی تعلیم دینا اور برائی سے روکنا اور تم (بمقابلہ دوسروں کے ٹھیک طور پر صحیح معنوں میں) ایمان رکھتے ہو الله( وحدہ لاشریک) پر․“

الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے بالکل واضح اور دو ٹوک الفاظ میں ہمیں بتا دیا ہے کہ امت کی کمزوری ومضبوطی کا مدار کیا ہے، الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”یُوشِکُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَی عَلَیْکُمْ کَمَا تَدَاعَی الْأَکَلَةُ إِلَی قَصْعَتِہَا ، فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ یَوْمَئِذٍ یَا رَسُولَ اللہِ؟ فَقَالَ بَلْ أَنْتُمْ کَثِیرٌ وَلَکِنَّکُمْ غُثَاء ٌ کَغُثَاء ِ السَّیْلِ، وَلَیَنْزَعَنَّ اللَّہُ مِنْ صُدُورِ اعداء کم الْمَہَابَةَ مِنْکُمْ، وَلَیَقْذِفَنَّ اللَّہُ فِی قُلُوبِکُمُ الْوَہْنَ، فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ، وَمَا الْوَہْنُ؟ قَالَ:حُبُّ الدُّنْیَا، وَکَرَاہِیَةُ الْمَوْتِ․“ (مسند احمد)

”دنیا کی قومیں تمہاری تباہی وبربادی کے لیے ایک دوسرے کو بلائیں گی اور اسی طرح دعوت دیں گی جس طرح دعوتوں میں دسترخوان پر کھانے والوں کوبلایا جاتا ہے اور وہ پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، صحابہ میں کسی نے عرض کیا کہ اس کی وجہ کیا یہ ہو گی کہ ہم تعداد میں اس وقت کم ہوں گے ؟ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ بلکہ تم تعداد میں بہت ہو گے، مگر تم سیلاب کے جھاگ کی طرح ہو گے، الله تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا دبدبہ نکال دے گا او رتمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دے گا، صحابہ  نے کہا یہ کمزوری کیا ہے؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت․“

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی حالت کا موازنہ اس حدیث سے کریں، کیا آج امتِ مسلمہ کی حالت اس پیش گوئی کی عکاسی نہیں کر رہی ہے، غور کریں کہ مسلمانوں کو سیلاب کے جھاگ سے تشبیہ دی گئی ہے، جھاگ سے زیادہ کمزور ناتواں کچھ نہیں ہوتا، نہ اس میں ثبات ہے، نہ کوئی قوت، جسے تھپیڑے بہاتے چلے جاتے ہیں ، کیا آج ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دوسری پیشن گوئی کے مصداق نہیں بن گئے ہیں کہ سابقہ اقوام نے جو بھی برائیاں کی ہیں، سب ہم سے رونما ہو رہی ہیں، کیا ہم مغربی اقوام کے پیچھے گوہ کے بِل میں داخل نہیں ہوچکے ہیں، جب کہ یہ بل نہایت تنگ وتاریک اور سخت بدبودار ہے، آج بلاشبہ ہماری کمزوری دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ہے، آج ہماری بزدلی کی یہ حالت ہے کہ غیر الله کے پچاری ہمیں مار رہے ہیں، ذلیل کر رہے ہیں ، قتل کر رہے ہیں، مگر یہ اپنا دفاع کرنے کی سکت نہیں رکھتے، ہماری حالت تاتاریوں کے وقت کی طرح ہو گئی کہ ایک تاتاری عورت کسی مسلمان کو کہتی تھی کہ تم یہیں ٹھہر و،میں تلوار لے کر آتی ہوں، تمہیں قتل کروں گی تو وہ وہیں رکا رہتا اور وہ گھر سے جا کرتلوار لاتی اور اسے قتل کر دیتی تھی، آج مذہب کے نام پر دہشت گردی وغنڈہ گردی کرنے والے ہمیں روکتے ، پھر ہتھیار لاتے او رہمیں قتل کرتے ہیں او رہم قتل ہونے کا انتظار کرتے ہیں، اس کی وجہ یہی دنیا کی محبت ہے ،جس نے ہمیں کھوکھلا کر دیا ہے، ہم نے دین سے دور ہو کر دنیاہی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا ہے، ہم جسم واحد تھے ،مگر آج ہمارے جسم کا ہر عضو الگ اور منتشر ہو چکا ہے، دوسرے عضو کی تکلیف کا احساس ہمارے دلوں سے نکل چکا ہے، ان کے درد والم پر ہمارے کان پر جویں نہیں رینگتی ہیں، جیسے وہ ان کا معاملہ ہو، جب کہ آج اس کی توکل ہماری باری ہے، آج ہمارا شیرازہ منتشر ہے، کسی ایک بات پر ہمارے درمیان اتفاق نہیں، ہم معمولی معمولی باتوں پر جھگڑرہے ہیں اور دنیا ہماری تباہی کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے،آج ہمارا دل ایمان ویقین او رالله کی قدرت پر اعتماد سے خالی ہوچکا ہے، اے کاش کہ اب بھی ہم ہوش کے ناخن لیتے، اپنے اندر ایمانی قوت پیدا کرتے، الله تعالیٰ پر بھروسہ کرتے او رکتاب وسنت کو مضبوطی سے تھام لیتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے، جس دل کی گہرائیوں میں ایمان ویقین ہو گا وہ مضبوط اور تناور درخت کی مانند تیز وتند آندھی وطوفان میں بھی اپنی جگہ کھڑا رہے گا اور مصائب وآلام کے جھونکے اور تیز ہوائیں اُسے متزلزل نہیں کریں گی، اے کاش کہ ہم اس راز کو سمجھتے او راپنا رشتہ دین وایمان سے مضبوط کرنے کی فکر کرتے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.