جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

گفتارو کردار

مولانا نور عالم خلیل امینی

بعض مرتبہ آدمی دُور یا نزدِیک سے سننے والوں کو اپنی گفت گو سے متاثر تو کر دیتا ہے، لیکن اپنی تحریر وتصنیف سے متاثر نہیں کرپاتا، کیوں کہ وہ اوّل الذکر میں تو ممتاز ہوتا ہے لیکن موخرالذکر میں ممتاز نہیں ہوتا، جب کہ کبھی اُس کا اُلٹا ہوتا ہے، کہ آدمی اپنی تحریر وتصنیف سے لوگوں کو خیرہ کر دیتا ہے، لیکن حسنِ گفتار سے کسی کے لیے باعث کشش نہیں ہوتا، کیوں کہ حسنِ گفتار کے عناصر سے تہی مایہ ہوتا ہے اور کبھی دونوں فنون میں طاق ہوتا ہے او رکبھی دونوں میں صفر ہوتا ہے۔

بولنے والے کی شخصیت سامنے نہ ہو یا لکھنے والے سے ملاقات نہ ہوئی ہو اور سننے اور پڑھنے والے نے صرف نویسندہ اور گفت گو کنندہ کی تحریر اور تقریر کو غائبانہ پڑھا اور سنا ہو، دونوں میں سے کسی کی ذات کا اس کو کوئی تجربہ نہ ہوا ہو اور متعارفین وغیر متعارفین کے ساتھ، اس نے مقرر او رمحرر کے برتاؤ کو آزمایا نہ ہو، تو تقریر کی سحر خیزی اور تحریر کی جادُو انگیزی اور ان دونوں کی پختگی اور شستگی اور فصاحت وبلاغت، سلیقہ مخاطبت، الفاظ کی خوش نمائی، معنی کی گہرائی، تعبیر کی لذت او رموضوع کی ندرت وافادیت، اس کو مقرر اور محررکا گرویدہ بنا دیتی ہے۔

کسی مقرر کی تقریر او رمحرر کی تحریر کو دور سے سن کر یا پڑھ کر ایک سامع اور قاری، تحریر وتقریر کی خوب صورتی کی روشنی میں اپنے خانہ خیال میں مقرر او راہل قلم کی شان دار اور جاذِب نظر تصویر بنا لیتا ہے، جو اس شان دَار تاثرات کی حامل ہوتی ہے جوسامع اور قاری کے ذہن میں تقریر کی زیبائی اور تحریر کی رعنائی نے، مقرر کے حسین خیالات اور محرر کی غیر معمولی طرزِ نگارش کی وجہ سے پیدا کیا ہوتا ہے، پھر زندگی کے طویل سفر میں کوئی نہ کوئی ایسی تقریب پیدا ہو جاتی ہے، جس میں سامع اور قاری کو مقرر یا تحریر نگار سے ملاقات کا موقع ہاتھ آجاتا ہے، اب وہ مقرر اور محرر کی اصل ذات کا مقابلہ اس شان دار اور پُرکیف تصویر سے کرتا ہے جو اس کی قوتَ متخیلہ نے بنائی ہوتی ہے۔ اس تصویر کے خدوخال اس غیر معمولی تا ثرات نے بنائے ہوتے ہیں جو سامع اور قاری کی مقرر او رمحرر کے ساتھ غیر معمولی، بے ساختہ اور مخلصانہ محبت کا فیضان ہوتے ہیں، بہرصورت ذہن میں تراشی ہوئی تصویر ایک مجاز، افسانہ اور تخیل کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتی۔ اب مقرر اور قلم کار کی اصل شخصیت اپنی خوبیوں اور خرابیوں بھری حرکات وسکنات کے ساتھ سامع اور قاری کے سامنے ہوتی ہے۔

تصویر اور حقیقی شخصیت کے درمیان یہ موازنہ اکثر اوقات سامع اور قاری کے لیے مایوسی اور افسوس پر منتج ہوتا ہے، کیوں کہ عموماً متخیلہ تصویر حقیقت سے یکسر مختلف ہوتی ہے، اس لیے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مقرر یا تحریر نگار اپنی تقریروں او رتحریروں میں، اپنی واقعی زندگی کے برعکس نظر آتا ہے۔ آپ ایک مقرر کو سن کر او رایک تحریر نگار کو پڑھ کر، اس کی جادوبیانی وسحر نگاری، اس کی خوش گفتاری او رتحریر کی ظاہری ومعنوی چاشنی کی وجہ سے اس کی خوبی اورکمال کے گرویدہ ہو جاتے ہیں، آپ دل سے اس کا کلمہ پڑھنے لگتے ہیں، زبان سے اس کی ثنا خوانی کا حق ادا نہ کرنے کے احساس سے دبے جاتے ہیں، خلوت وجلوت میں اس پر رشک کرتے ہیں اور خداکی صنعت گری پر دوبارہ ایمان لے آتے ہیں اور ہر مجلس میں اس کا تذکرہ کیے بغیر نہیں رہتے، جیسے آپ کا یہی ایک وظیفہ ہو اور صرف اسی ذمہ داری کی ادائیگی آپ کے سپرد ہو۔ آپ یہ سب کچھ اس لیے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اس کی تقریروں اورتحریروں نے آپ کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ یہ مقرر او رمحرر حسن کلام او رحسن سیرت دونوں کا جامع ہے، کیوں کہ آپ کے گمان کے مطابق اس کی تقریر وتحریر کی تاثیر انگیزی محض ظاہر کے جمال کا نتیجہ نہیں ہو سکتی، بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ باطن کے کمال کا کرشمہ ہے۔ آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ سیرت وکردار کی پختگی اور حسن عمل کی جادو گری کے بغیر اتنی مؤثر تقریر نہیں کی جاسکتی اور نہ ایسی طاقت ور تحریر لکھی جاسکتی ہے۔ آپ کا عقیدہ ہے کہ حسنِ عمل وپاکیزہ سیرت کے بغیر انسان کی گفت گو اس تاثیر اور اس کی تحریر اس اعجازکی حامل نہیں ہوسکتی جس کی فلاں مقرر اور قلم کار کی تقریر او رتحریر حامل نظر آتی ہے۔ آپ سمجھتے ہیں اور صحیح سمجھتے ہیں کہ اند رکی طاقت اور باطن کی پاکیزگی کے بغیر کسی انسان کی تقریروتحریر سے کسی غلطی کی تصحیح، کسی کجی کا ازالہ ، کسی صورت حال کی تبدیلی اور وقت کے کسی دھارے کو موڑنے کا کام انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔

لیکن جب آپ اس مقرر اور محرر کو آزماتے ہیں او رکچھ وقتوں کے لیے سہی اس کے ساتھ رہتے ہیں، تو آپ کو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ظاہر وباطن میں بڑا فرق ہوتا ہے اور یہ کہ زبان اور قلم سے بہت سی مرتبہ ایسی بات کہی اور لکھی جاسکتی ہے، جو زبان اور قلم والے کے دل سے نکلی نہیں ہوتی، بلکہ عقل وخیال اور فکر ونظر کا نتیجہ ہوتی ہے، یعنی زبان اور قلم ہمیشہ دل کے ترجمان اور باطن کی خوبی کے عکاس نہیں ہوتے، جس سے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ محض حسنِ گفتار اور حسنِ نگارش سے کسی متکلم او رمحرر کے عمل و کردار کی خوبی یا خرابی کا فیصلہ کرنا انصاف کی بات نہ ہو گی، کیوں کہ قول اکثرمرتبہ فعل کے موافق نہیں ہوتا اور باطن عموماً ظاہر سے مختلف ہوتا ہے۔

شیریں کلامی اور شیریں نگاری،جہاں کسی نیک جذبے او رپاکیزہ داخلی محرکات کا نتیجہ ہوتی ہے، وہیں یہ ایک طرح کا فن اور آرٹ بھی ہوتی ہے، یہ سخن سازی اور گفت گو کاری پر عبور کی دین بھی ہوتی ہے۔ اچھی بات کرنی اور لکھنی اس آدمی کے لیے انتہائی آسان ہے، جس نے بات کی تقریری یا تحریری طور پر زیبائی کا فن سیکھا ہو ، اس فن کو سیکھنے کے لیے صرف ذرا سی لگن، تھوڑی سی محنت، کچھ وقت کے لیے ہمہ تن مصروف رہ کر مشق سخن کی ضرورت ہوتی ہے، اپنی ذات کے حوالے سے ذمہ داری کا احساس اور پابندی کے ساتھ فکر ونظر کی صلاحیت کے استعمال سے آدمی جلد اس فن میں اپنے بال وپرنکال لیتا ہے۔ الغرض مشق وتمرین سے تحریر وتقریر کی خوبی حاصل کرکے، ان دونوں میدانوں میں انسان، اپنی انفرادیت اور یکتائی کا جادو جگا سکتا ہے اور قاری اور سامع کو مسحور کرکے اپنا گرویدہ او راپنی ہنر مندی کا اسیر بے دام بناسکتا ہے۔

انسان کے لیے تقریر وتحریر کے غیر معمولی کمال کا حصول کچھ زیادہ مشکل نہیں، ہاں! اس کے لیے جو چیز بہت مشکل ہے، وہ سیرت وکردار کی درستگی اور اخلاق واعمال کی تصحیح کا کام ہے۔ یہ کام اتنا پیچیدہ ہے کہ نہ صرف بڑے بڑے علماء اور مصلحین ومجددین بہت سے لوگوں کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے مطلوب پیمانے پر اتار نے سے عاجز رہ جاتے ہیں، بلکہ انسانی برادری کی بہت بڑی تعداد انبیاء ورسل کی بعثت کے وقت موجود رہنے، ان کی نبوی سر گرمی اورمنصب نبوت کی ذمہ داری کی بھرپور ادائیگی کے سعادت مندانہ دور انیے کو دیکھنے اور برتنے کے باوجود سیرت وکردار کی پاکیزگی کے کسی شائبہ کے حصول سے یکسر محروم رہ جاتی ہے۔

سیرت وکردار کی خوبی او رخرابی ہی عالم وجاہل کے مابین اصل خط فاصل ہے، سیرت واخلاق کی خوبی ہی یہ بتاتی ہے کہ علم وآگہی سے انسان نے کیا فائدہ اٹھایا ہے، اخلاق وکردار کی خرابی کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ انسان نے انسان بننے کی کوشش نہیں کی، اگر وہ تعلیم یافتہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ علم وہنر بھی انسان کو انسانبننے کی سعادت کے حصول کی منزل تک پہنچنے کی راہ ہم وار نہیں کر سکا، گویا یہ انسان اپنی جاہلانہ وبدویانہ فطرت میں بہت پختہ او راپنی کج روی اور عدم سلامت روی کے حوالے سے بہت ذی مرتبہ ثابت ہوا ہے اور ہوتا رہتا ہے، صرف علم وہنر کی بے پناہی سے انسان بڑا نہیں ہوتا، اس کی بڑائی کا سرچشمہ دراصل اس کے کردار کی پاکیزگی ہے۔ اس کے بغیر بہت سارے علم کے باوجود جاہل، انتہائی بلندی کے باوجود انتہائی پست او رانتہائی گراں مایہ ہونے کے باوصف انتہائی ارزاں او رکم قیمت ہوتا ہے، لہٰذا سیرت کی پاکیزہ کاری بہت مشکل ہے، اسی لیے انسان عموماً گفتار کا تو غازی ہوتا ہے، لیکن کردار کا غاز ی نہیں ہوتا، سیرت وکردار کی اصلاح کے موضوع پر لکھی گئی متعدد جلدوں والی بھاری بھر کم کتاب کا مطالعہ ہی نہیں، بلکہ سیرت وکردار کے حامل بھاری بھر کم مصلحین ومربیین کے پاس عرصے تک رہنے کے باوجود، بعض مرتبہ آدمی اخلاق کے کسی ذرے کا حامل نہیں بن پاتا، دجلہ وفرات کے کنارے سے پیاسا لوٹ آنے والا بھی تو انسان ہی ہوتا ہے اورمکہ او رمدینہ سے ہدایت سے تہی مایہ واپس آجانے والے بھی انسانی برادری ہی کے بہت سے افراد ہوتے ہیں۔

بہرصورت اچھی سیرت او رٹھوس اخلاق والے انسانوں کے پاس عرصے تک وقت گزارا جائے، ان کے شب وروز سے فائدہ اٹھایا جائے اور اخلاقی بیماریوں اور سیرت وکردار کی خرابیوں کے ازالے کی نیت سے سچے جذبے، لگن او راپنے آپ کو مٹا دینے کے ارادے کے ساتھ، ان کے در پر پڑے رہا جائے او راپنے آپ کو مکمل طور پر ان کے سپرد کر دیا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ انسان اپنے اخلاقی امراض سے کسی نہ کسی درجے میں شفا حاصل کر لے گا، کیوں کہ علمائے امت اور داعیان دین کے تجربات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی معائب خاصانِ خدا سے بھی بہت بعد میں زائل ہوتے ہیں، وہ بھی تب جب صلحاء واولیاء کی صحبت میں مذکورہ شرائط کے ساتھ وقت گزارا جائے، ورنہ جذبہ صادق ، قلبی تڑپ اور اندرونی بے تابی کے بغیر یہ صحبت بھی کیمیا اثر ثابت نہیں ہوتی۔

اسی لیے بعض لوگ اخلاق وانسانیت کے موضوع پر بڑی بڑی کتابیں اور عمدہ عمدہ تحقیقات تو رقم کر لیتے ہیں، ان میں وہ اس موضوع سے متعلق ہر قسم کی چھوٹی بڑی باتوں کا اس طرح احاطہ کرتے ہیں کہ قاری محو حیرت رہ جاتا ہے، لیکن یہ حضرات اپنی عملی زندگی میں اخلاق وانسانیت نام کی کسی چیز سے آشنا نہیں ہوتے، کیوں کہ اخلاق کو بحیثیت علم وفن کے جاننا، اس سے متعلق کلیات وجزئیات کی تحقیق وجستجو اور اس کے مصادر مراجع سے بخوبی واقفیت کے حصول کی سچی تڑپ رکھنا، انسان کو اخلاق کے زیور سے آراستہ اور انسانیت کی خوبیوں سے مزین نہیں کرسکتا، محض علم اخلاق میں گیرائی وگہرائی، شرافت ومروت، کشادہ قلبی وسیر چشمی،حلم وکرم اور عفوو درگزر کے اوصاف سے بہرہ ور نہیں کرسکتا اور نہ محض اس علم سے انسان ان کریمانہ صفات اور اعلی خوبیوں کا حامل ہو سکتا ہے جو امارت ارض کے لیے خدا کے نزدیک مطلوب ہیں۔

اسی طرح بے شمار ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو فن خطابت میں امامت کا درجہ رکھتے ہیں ، فصاحت وبلاغت کا دریا بہاتے ہیں، وہ جب بولتے ہیں تو موتی رولتے ہیں، کسی موضوع پر بلوا لیجیے سامعین عش عش کرنے لگتے ہیں اور لوگ عقیدت ومحبت کی وجہ سے ان پر نچھاور ہونے لگتے ہیں او ران کی ثنا خوانی میں اس طرح لگے رہتے ہیں،جیسے یہی ان کا مخصوص فریضہ ہو، بلکہ اسی کے لیے پیدا ہوئے ہوں۔ ان خطیبوں کی گل افشانی گفتار کی جب کمان چڑھتی ہے تو بلاشبہ نہ صرف انسان او رجان دار، بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ درودیوار داد دے رہے ہوں، آسمان وزمین بچھے جارہے ہوں اور وہ اسٹیج فرش راہ ہو رہا ہو، جس پر وہ محو تکلم ہوتے ہیں ،اگر اسلام کے موضوع پر گفت گو کریں توایسا معلوم ہوتا ہے کہ شرح اسلام کا فن صرف انہیں پر ختم ہے، اگر اخلاق کوچھیڑیں تو حاضرین اس طرح گوش برآواز ہوتے ہیں کہ جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، اگر انسانی اوصاف کو موضوع بنائیں تو ایسے اچھوتے خیالات اور نت نئے مضامین ان کی زبان سے ابلتے ہیں کہ جیسے سلف کو ان کی ہوا بھی نہ لگی ہو گی ۔ نتیجتاً سامعین یہ یقین کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ یقینا یہ مقررین انتہائی نیک سیرت او رپاکیزہ کردار کے حامل انسان ہیں ، ورنہ ایسی بلا کی تقریر نہیں کرسکتے تھے، یقینا انہیں حق ہے کہ یہ تبلیغ ودعوت اور اس انسانی معاشرے کی اصلاح کا فریضہ انجام دیں، جو از اوّل تا آخر بگاڑ سے عبارت ہو گیا ہے۔

لیکن ایسے لوگوں کا تجربہ کیا جائے تو بالعموم یہ اسلام اور اس کی تعلیمات سے انتہائی نا آشنا ثابت ہوتے ہیں، ان کی زندگی اسلامی اخلاق وعادات سے بالکلیہ بے بہرہ ہوتی ہے۔ ایسا محسو س ہوتا ہے کہ اسلام کی الف، ب سے واقف نہیں، بلکہ شاید انہوں نے اسلام کے نام کی کوئی چیز کبھی دیکھی،نہ سنی اور نہ انہیں کبھی اس کا سابقہ ہوا، سچ ہے کہ محض باتیں بنانی، خواہ تقریری ہو یا تحریری، انتہائی آسان ہے، اس میں انسان کو سوائے زبان وقلم کو حرکت دینے کے کچھ بھی کرنا نہیں پڑتا، لیکن عمل بہت مشکل شے ہے، بہت سی مرتبہ بہت اچھے بات کرنے اور لکھنے والے ذرّہ برابر بھی اچھے عمل کی تاب نہیں رکھتے، کیوں کہ عمل کی تحسین وزیبائی کے لیے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ انسان نے اپنی روز مرہ کی زندگی میں اس کو بار بار او رمسلسل کیا ہو، اجتماعی اور انفرادی سطح پر اس کو آزمایا ہو، اپنی ساری حرکات، وسکنات میں اس کو برتا ہو او راپنی ساری ترجیجات میں اس نے اس کو انجام دیا ہو اور شب وروز کے کسی لمحے میں اس نے اس سے صرف نظر نہ کیا ہو، یہی نہیں، بلکہ اس عمل کے حوالے سے مسلسل ا پنی غلطیوں کی تصحیح اور درستگیوں کی تاکید کرتا رہا ہو، اس طرح یہ انسان، انسانی اخلاق اور اسلامی تعلیمات کے زیور سے آراستہ ایک ایسا کامل او رمحبوب انسان بن کر نکلتا ہے، جس کو دیکھ کر بے ساختہ لوگ یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ انسانیت کا کوئی خام مال نہیں، بلکہ انسانی سانچے میں صحیح طور پر اور مکمل کاری گری اور فن کاری کے ذریعے ڈھلا ہوا انسان ہے، جس سے خدا اوربندگان خدا دونوں محبت کرتے ہیں، کیوں کہ اس کا عمل اور کردار خدا کے نزدیک پسندیدہ، خلق خدا کے لیے نفع مند اور ساری دُنیا کے لیے کار آمد ہوتا ہے اور اس طرح کے عمل والا انسان زندہ وپائندہ ہوتا ہے اور اس کا عمل ناقابل فراموش ہوتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ مقرر کی تقریر او رمحرر کی تحریرا اگر حسن لفظ ومعنی کی حامل ہو تو اس سے دور بیٹھے ہوئے یا غائب ازنظر سامع اور قاری کے خانہ خیال میں مقرر او رمحرر کی ایک پرکشش اور دل ربا تصویر بن جاتی ہے، اب اگر سامع اور قاری کی اتفاق سے مقرر اور محرر سے ملاقات ہو جائے تو وہ ذہن میں بنی ہوئی تصویر سے اس کی واقعی اور خارجی شخصیت کا موازنہ کرتا ہے، اگر تصویر اورحقیقی شخصیت میں مطابقت نکل آئے تو اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی، لیکن اگر دونوں میں مخالفت ثابت ہو جائے تو اس کوبڑی مایوسی اور ذہنی الجھن ہوتی ہے، مثلاً تصویر تو بڑی جاذب نظر او رشان دار تھی، لیکن شخصیت بد شکل اوربھدی نظر آئی کہ حرکات وسکنات کی کوئی کل صحیح نہیں، یا تصویر تو سنجیدہ اور باوقار تھی، لیکن شخصیت بے وقار او رمسخرہ دکھائی دے رہی ہے، یا تصویر قیمتی اورگراں قدر تھی، لیکن شخصیت بہت معمولی او رارزاں ثابت ہوئی، یا تصویر بہادرانہ، دلیرانہ اور سخاوت پیشہ شخصیت کی عکاس تھی، جب کہ خود شخصیت فی الواقع بزدل اور بخیل ثابت ہوئی یا تصویر عظمت وبڑائی، حوصلہ مندی اور عزیمت کی غماز تھی، لیکن شخصیت میں ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ ظاہر ہے کہ عموماً تقریر کو سننے او رتحریر کو پڑھنے والے کو ہستی کے اس فریب کا اندازہ نہیں ہوتا، اس لیے حقیقت اورمجاز کے اس بہت بڑے فرق کو محسوس کرکے اس کو ذہنی صدمہ ہوتا ہے اور وہ زبانِ حال سے گویا جگر مراد آبادی کا یہ شعر بار بار دہراتا ہے #
        واعظ کا ہر اک ارشاد بجا، تقریر بہت دل چسپ مگر
        آنکھوں میں سرور عشق نہیں، چہرے پہ یقین کا نور نہیں

ہاں! یہ واقعہ ہے کہ بہت سے خطبا ومؤلفین اپنی تقریروں اور تحریروں میں تو شیر دل، نیک خو، پاکیزہ نفس، سخی، شریف النفس، صاحب مروّت او رعالی حوصلہ نظر آتے ہیں، لیکن اپنی حقیقی زندگی میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتے، لہٰذا ان کے سامع اور قاری عجیب سی ذہنی پریشانی اور قلبی تکلیف سے دو چار ہوتے ہیں۔

لہٰذا ایسے خطباء ومؤلفین اور واعظین واہل قلم واقعی بڑے سعادت مند ہیں، جو اپنی حقیقی زندگی میں اپنی تقریروں او رتحریروں کا سچ مچ نمونہ ہوتے ہیں، اپنی تقریروں اور تحریروں میں وہی کچھ کہتے ہیں جس پر وہ حرف بہ حرف اپنی زندگی میں عمل کرتے رہتے ہیں، یعنی عمل پہلے کرتے ہیں، پھر اس کو زبانی یا تحریری قول کی شکل دیتے ہیں۔ اس طرح یہ حضرات اپنے خدا کی بھرپور جزا اور اس کے بندوں کی بے انتہا ثنا کے مستحق ہوتے ہیں۔

اے رب کریم! ہمیں حسن عمل کی توفیق دے، پھر حسن قول پر آمادہ کر، ہمیں گفتار سے پہلے کردار کا غازی بنا۔ اے الله! ہمیں توفیق دے کہ ہمارے قول وعمل میں کسی طرح خلیج نہ ہو کہ اس خلیج کے حامل لوگ نہ تو تیرے نزدیک محبوب ہوتے ہیں اور نہ تیرے بندوں کے نزدیک مرغوب۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.