جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

طلبہ ٴ مدارس کی خدمت میں

مفتی محمد عبدالله قاسمی

مدارس اسلامیہ میں داخلوں کی کاروائی مکمل ہوچکی ہے اوردرس وتدریس کاسلسلہ شروع ہوچکاہے،طلبہ بلندحوصلگی اوربلندہمتی کے ساتھ گھروں سے روانہ ہوئے ہیں اوراپنی علمی صلاحیتوں کوپروان چڑھانے کاپختہ عزم کرکے مدارس میں حاضرہوئے ہیں،یقینامدارس دینیہ سے تعلق اورحصول علم کی خاطردینی اداروں سے وابستگی اللہ جل شانہ کی عظیم نعمت ہے اوراللہ تبارک وتعالی کی طرف سے غیرمعمولی انتخاب ہے،ورنہ کتنے ہی بندگان ِخداہیں جوغفلت اورخدافراموشی کی زندگی بسرکررہے ہیں اورشعوری طورپرنہ انہیں فرائض کاپتہ ہے اورنہ ہی دین سے وابستگی کی فکر،اس پرطلبہ اللہ جل شانہ کاجتناشکراداکریں کم ہے،اس موقع سے مناسب معلوم ہوتاہے کہ طلبہ کرام کی خدمت میں چندمعروضات پیش کی جائیں،تاکہ ان کوپیش نظررکھ کرطلبہ تعلیمی مصروفیت جاری رکھیں اوراپنی علمی وعملی صلاحیتوں کواجاگرکریں:

ہدف کی تعیین
طلبہٴ مدارس کے لیے سب سے پہلے ہدف متعین کرناضروری ہے، کیوں کہ شعبہ ٴ عا لم کانصاب طویل مدتی ہوتاہے اوراس میں مختلف علوم وفنون طلبہ کوپڑھائے جاتے ہیں،فن تفسیر،فن حدیث ،فقہ وافتاء ،اصول فقہ، منطق وفلسفہ وغیرہ اوران تمام فنون میں سے ہرفن مشکل اورپیچیدہ ہے اوراس میں سے کسی فن میں اختصاص اورمہارت پیداکرنے کے لیے مسلسل محنت وجانفشانی اوراس فن سے متعلقہ کتابوں کی ورق گردانی بے حد ضروری ہے، آج کادورمہارت اوراختصاص کادورہے،ہرشعبہ میں ماہرین اورلائق وفائق افرادکوترجیح دی جاتی ہے؛اس لیے جس فن کی طرف طالب علم کاقلبی میلان ہواوراس سے طبعی مناسبت ہوتواس پردیگردرسی کتب کے ساتھ خاص توجہ مبذول کی جائے اوراس فن سے متعلقہ چھوٹی بڑی اردووعربی کتابوں کے مطالعہ کااہتمام کیاجائے اوراس فن کے متون اوربنیادی اصطلاحات کوزبانی یادکرنے کااہتمام کیاجائے،اہم نوٹس اورنکات قیدتحریرمیں لانے کی کوشش کی جائے،اس پہلوپرتوجہ دینے سے ان شاء اللہ مدارس سے ایسی کھیپ تیارہوگی جوایک طرف اپنے فن میں ماہراوراپنے میدان میں تجربہ کاراورصلاحیت مندہوگی تودوسری طرف افرادسازی اور رجال ِکارکوتیارکرنے کی خدمت یہ فضلاء بہترطورپرانجام دے پائیں گے۔

دوسرے ہمیں مدارس میں ایک طرف ایسے طلبہ نظرآتے ہیں جو صرف تقریراورخطابت ہی کوتوجہ کامیدان بناتے ہیں اوراسی پراپنی پوری محنت وتوانائی صرف کرتے ہیں،درسی کتابوں سے انہیں کوئی واسطہ نہیں ہوتا، عربی کتابیں دوسطرصحیح پڑھ کراردوترجمہ کرنے کی استعدادان میں نہیں ہوتی، اسباق کی پابندی اورگھنٹوں میں حاضری کاوہ صحیح طورپرالتزام نہیں کرتے، تو دوسری طرف مدارس میں کچھ طلباء وہ ہوتے ہیں جوصرف درسی کتابوں ہی کوتوجہ وعنایت کامرکزبناتے ہیں اوردرسی کتابوں کے مذاکرہ وتکرار ہی کواپنی کام یابی کی معراج سمجھتے ہیں،تقریروخطابت سے گویا انہیں بیرہوتاہے،وعظ وخطابت کے میدان سے وہ متوحش ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے وہ عام مجمع کے سامنے اظہار ِخیال سے کتراتے ہیں اورمافی الضمیرکوبہترطورپرانجام دینے کاملکہ ان میں مفقودہوتاہے، ظاہرہے کہ یہ دونوں رجحان غلط ہیں اوراس کی سرحدیں افراط وتفریط سے جاکرملتی ہیں،صحیح اورمتوازن راہ یہ ہے کہ طالب علم ابتدائی تین چارسال جس میں فنی اوربنیادی کتابیں ہوتی ہیں،ان کوکماحقہ زبانی یادکرنااورقواعدکااجراء کرناایک مشکل کام ہوتاہے،جوایک طرف مسلسل محنت وجدوجہدکامتقاضی ہوتاہے تودوسری طرف ان کتابوں کے پیچھے کافی وقت بھی صرف کرنا پڑتا ہے؛اس لیے بہتریہ ہے کہ ان تین چارسالوں میں زیادہ سے زیادہ وقت درسی کتابوں کودیاجائے،لیکن ان تین چارسالوں کے بعدطالب علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ تدریس،تقریراورتحریران تینوں میں محنت اور جدوجہد کرے اوران تینوں شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی کوشش کرے،کیوں کہ مدارس سے فراغت کے بعدہمہ جہتی طورپردین کی خدمت انجام دینے اورزمانے کے چیلنجوں سے نبردآزماہونے کے لیے جہاں ایک بہترین مدرس ہوناضروری ہے، وہیں ایک کام یاب مقرراوربہترین مصنف اورانشاء پردازہونابھی ضروری ہے،تاکہ مدارس سے فارغ التحصیل طالب علم جب مدرسہ کی چہار دیواری میں ہوتومسند ِتدریس پررونق افروزہوکرطلبہ علوم دینیہ کی پیاس بجھائے اوراپنی فنی صلاحیت سے مشکل اورپیچیدہ مضامین کی گرہ کشائی کرے،تودوسرے وقت میں جب یہی طالب علم ناخواندہ اورعامة الناس کے جھرمٹ میں ہوتومنبرومحراب کی زینت بن کرعام لوگوں تک دین کی بات پہنچائے اوران کے جذبہ عمل کی چنگاری کوشعلہ زن کرے،پھریہی طالب علم جب خلوت کدہ میں بیٹھے تواس کے اشہب ِقلم سے ایسے شگفتہ ودل آویزمضامین اورگراں قدرتحقیقی تصانیف منصہ شہودپرآئیں جس میں لوگوں کی ہدایت کاسامان ہواوردین متین کی صحیح تعبیروتشریح کافریضہ انجام دیاگیاہو اوراس کی خدمات کادائرہ صرف مخصوص شہراورخاص قریہ تک ہی محدودنہ ہو؛بلکہ جس طرح شمیم ِگل باغ سے نکل کرعطرفشاں بن جاتی ہے اورآفتاب کی روشنی پھیل کرتیزہوجاتی ہے؛اسی طرح اس کی دینی ،ملی وسماجی خدمات کی تگ وتازمشرق سے لے کرمغرب تک اورشمال سے لے کرجنوب تک پھیلے اوراس کی خدادادصلاحیتوں سے قریب وبعیدہرایک مستفیداورفیض یاب ہو۔

مسلسل محنت وجدوجہد
کسی بھی مقصدمیں کام یابی کی راہ طے کرنے کے لیے محنت اور جدوجہدشرط اولین ہے،محض آرزؤں اورتمناؤں سے انسان کوکچھ حاصل نہیں ہوتا،اگرآپ ایک بہترین عالم بنناچاہتے ہیں،کام یاب مقرر بننا پسند کرتے ہیں،انشاء ومضمون نگاری میں امتیازی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تواس کے لیے شب وروزمحنت اورمسلسل جدوجہدبے حد ضروری ہے،لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ طلبہ کی ایک تعدادوہ ہے جومدارس میں داخلہ لے کراپنے مقصدکوفراموش کربیٹھتی ہے،نہ گھنٹوں کی پابندی،نہ مذاکرہ وتکرارمیں شرکت ،نہ اپنی خامیوں اورکوتاہیوں کودورکرنے کی فکر،بعض طلبہ مفت قیام وطعام یاسرپرستوں کی خون پسینے کی کمائی سے جورہائش اوراورتین وقت کھانے کی سہولت حاصل ہوتی ہے اس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں،نہ معاشی ذمہ داری،نہ فکری پیچ واضطراب،ہرقسم کے ہموم وآلام سے آزاد،ذمہ داریوں سے راہ ِ فرار،یہ وہ صورت حال ہے جس کے ہمارے بعض طلبہ شکارہیں، ان طلبہ کرام کی یہ صورت ِحال دیکھ کرماتم کرنے کوجی چاہتاہے،دل خون کے آنسوروتاہے اوربے ساختہ ذہن ودماغ کے نقشے پرعلامہ اقبال کایہ شعرابھرآتاہے:
        وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
        کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

ان طلبہ عزیزسے گزارش ہے کہ وہ خدارااس طرزعمل کوبدلیں، اپنے منصب اور وقار کوپہچانیں،مدارس میں داخلہ لینے کامقصدسمجھیں، بحیثیت دینی طالب علم ان پرکیاذمہ داریاں عائدہوتی ہیں؟ اورقوم وملت نے ان سے کیسی کیسی توقعات وابستہ کررکھی ہیں؟ان باتوں کوہمیشہ پیش نظررکھیں،والدین اورسرپرستوں نے آپ کومدرسہ میں شریک کیاہے،معاشی دوڑدھوپ سے آپ کوآزادرکھاہے،گھریلوذمہ داریوں سے آپ کوفارغ البال کردیاہے اورانہوں نے آپ سے یہ امیدلگارکھی ہے کہ مستقبل میں آپ بہترین عالم بن کرنکلیں گے،خاندان اورمعاشرہ کی اصلاح کریں گے،دام نفس میں گرفتاراورغفلت کے نشہ میں سرشارلوگوں کوآپ بیدارکریں گے۔

خلوص وللہیت
علم دین کے حصول کے لیے نیتوں کی اصلاح اوراس کی درستگی بھی بے حدضروری ہے،جب تک نیت درست نہ ہواورطلب علم دین سے اللہ کی رضاوخوش نودی مقصودنہ ہو،اس وقت تک طالب علم کی محنت وکاوش اوراس کی جہدمسلسل اسے کماحقہ فائدہ نہیں پہنچاسکتی،علم دین کی طلب میں طالب علم کی یہ نیت ہونی چاہیے کہ میں اللہ کی رضاوخوش نودی حاصل کرنے اوراللہ کامحبوب ومقرب بندہ بننے کے لیے علم دین طلب کررہاہوں،دینی تعلیمات سے شعوروآگہی حاصل کرکے میں اللہ کی مرضیات پرچلوں گااوراس کے احکام کی تابع داری کروں گا،گم گشتہ راہ لوگوں کوصراط مستقیم پرچلنے کی دعوت دوں گا،اسلام کے آفاقی پیغام کوحتی المقدوردنیابھرمیں عام کروں گا،لیکن اگرطلب علم دین سے ایک طالب علم کامقصدشہرت ونام وری حاصل کرناہو،لوگوں سے تحسین وآفرین کاخراج وصول کرناپیش نظرہو،اپنے نام کے ساتھ عالم اورمفتی کالیبل لگانامقصودہوتوایساطالب علم علم کے انوار وبرکات سے محروم رہتاہے اوراس کی محنت وقربانی اوراس کی ریاضت ومجاہدے اللہ جل شانہ کی نگاہ میں کوئی قیمت نہیں رکھتے۔

عمل وکردارکی پختگی
مدارس اوردینی ادارے صرف تعلیم گاہ ہی نہیں ؛بلکہ ایک بہترین تربیت گاہ بھی ہیں، مدارس میں طلبہ کی صرف علمی صلاحیتوں کواجاگرکرنے پرہی اکتفانہیں کیاجاتا؛بلکہ اس کے ساتھ ساتھ طالب علم کی عملی تربیت پربھی توجہ دی جاتی ہے،چناں چہ مدارس میں باقاعدہ دارالاقامہ کانظام ہوتاہے،اس شعبہ کے قیام کامقصدہی طلبہ کی عملی واخلاقی تربیت ہوتی ہے،اس نظام کے ذریعہ طلبہ کونمازوں کی پابندی کرائی جاتی ہے،باقاعدہ تلاوت قرآن کریم کااہتمام کرایاجاتاہے،وضع قطع کی درستگی پرتوجہ دی جاتی ہے،قول وعمل کی ہم آہنگی اورخلوت وجلوت کی یکسانیت پر زور دیا جاتاہے، لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہناپڑتاہے کہ ایک طویل عرصے تک اس تربیتی شعبہ سے وابستہ رہنے کے بعدبھی کچھ طلبہ میں صالحیت اورنیک مندی کے آثارکماحقہ پیدانہیں ہوتے، نمازجودین کاایک اہم رکن ہے،کفرواسلام کے مابین خط امتیازہے، طلبہ زمانہ طالب علمی میں بھی اس کے پابندنہیں ہوپاتے،ان کے قول وعمل میں تضاد ہوتاہے،ان کے اخلاق وکردارغیرصالح ہوتے ہیں، مدرسہ کی چہاردیواری میں طلبہ گوپنج وقتہ نمازباجماعت پڑھ لیتے ہیں،وضع قطع اورظاہری حلیہ، خواہی، نہ خواہی علماء اورصلحاء کے جیسااختیارکرلیتے ہیں،کیوں کہ مدرسہ کے اصول کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں نگران کی بازپرس کاخوف ہوتاہے،توکبھی مدرسہ سے اخراج وعلاحدگی کا اندیشہ ہوتاہے،لیکن مدرسہ کی چہاردیواری میں مسلسل دی گئی علمی واخلاقی تربیت کے نقوش ان کے ذہن ودماغ پرمرتسم نہیں ہوتے ہیں،قال اللہ اورقال الرسول کی دل نواز صدائیں ان کے کانوں کے راستے دلوں کافاصلہ طے نہیں کرپاتی ہیں؛بلکہ وہ ان کے لیے صدائے بازگشت ثابت ہوتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ جوں ہی وہ مدرسہ سے باہرقدم رکھتے ہیں،اصول وضابطہ کی گرفت سے آزادہوتے ہیں،توپھروہی نمازوں میں غفلت وسستی،قرآن کی تلاوت سے دوری ومہجوری،ان کے ظاہری حلیہ اورشکل وصورت کودیکھ کربالکل نہیں لگتاکہ وہ کسی زمانے میں دینی ادارے کاحصہ تھے،اورقرآن وسنت کے جام وساغرکے وہ کسی وقت بادہ گساررہے تھے،ان کے قول وعمل میں تضاداوران کی خلوت وجلوت میں نمایاں فرق ہوتاہے ان کی پوری زندگی دورنگی کی شکارہوتی ہے؛اس لیے طلبہ علوم دینیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ مدرسہ کی چہاردیواری میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق وکردارکی درستگی پربھی توجہ دیں،صلاحیت اوراستعدادپیداکرنے کے ساتھ ساتھ صالحیت اورتقوی وپرہیزگاری کے بھی مجسم پیکربنیں اورمدرسہ کے علمی ونورانی ماحول سے متمتع اور فیض یاب ہونے کی کوشش کریں،دارالاقامہ کے تربیتی نظام سے خوب سے خوب استفادہ کرنے کااہتمام کریں۔

خانقاہی نظام سے وابستگی
ایک چیزجوطلبہ کے لیے بے حدضروری ہے وہ یہ ہے کہ زمانہ طالب علمی ہی میں وہ کسی ولی اورصاحب نظربزرگ سے تعلق قائم کریں،ان کی بافیض صحبتوں سے فیض یاب ہونے کی کوشش کریں،بلکہ ان سے بیعت ہونے اوران کے حلقہٴ ارادت سے وابستہ ہونے کااہتمام کریں،کیوں کہ آج کاجودورہے وہ بڑاپرآشوب اورپرفتن دورہے،قدم قدم پرروکشانِ حورکی تجلی ہے،سازونغمے کازیروبم ہے،زلفوں کاپیچ وخم ہے،مادیت پرستی اورالحادوبددینی کاطوفان ہے،ایسے پرفتن دورمیں اعمال صالحہ پرجماؤ،صلاح وتقوی کی مجسم تصویربنناجوہرطالب علم کافریضہ ہے میرے خیال میں بہتر طور پر اسی وقت ممکن ہے جب کہ کسی اللہ والے کادامن تھام لیاجائے، اوران کے فیضان ِنظرسے پتھردل کوموم بنایاجائے،ان کی پاکیزہ صحبتوں سے اپنے باطن کوسنواراجائے،اس لیے طلبہ کرام سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ تعلیمی مصروفیت جاری رکھتے ہوئے کسی صاحب نظربزرگ سے رابطہ رکھیں اوراپنی عملی کوتاہیوں اورباطنی خامیوں کودورکرنے کے لیے ان سے صلاح ومشورہ لیتے رہیں،اگراس پہلوپرطلبہ عزیزتوجہ دیتے ہیں توان شاء اللہ انہیں علم نافع کی گراں مایہ دولت حاصل ہوگی اورعلم دین کے انواروبرکات کے نمایاں اثرات ان کی زندگی پرمحسوس ہوں گے اورفارغ ہوکران شاء اللہ وہ قوم وملت کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے۔

سرپرستوں کی خدمت میں
آخرمیں کچھ باتیں طلباء کے سرپرستوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں،اول یہ کہ طلبہ کے والدین یاان کے تعلیمی سرپرست اپنے بچہ کومدرسہ میں لاتے ہیں اوران کومدرسہ میں شریک کروادیتے ہیں،پھراس کے بعدسمجھتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری ختم ہوگئی،مدرسہ کی چہاردیواری میں بچہ کی سرگرمیاں کیاہیں؟اس کے اوقات کن چیزوں کی نذرہورہے ہیں؟اس کی صحبت ورفاقت کس قسم کے طلبہ سے ہے؟اس کے شب وروزکاکیامعمول ہے؟نگران اوراساتذہ کے اس طالب علم کے متعلق کیاخیالات ہیں؟ان امور کی والدین اورسرپرستوں کواطلاع ہی نہیں ہوتی اورنہ ہی ان سے واقفیت حاصل کرنے کی وہ جستجوکرتے ہیں،ایسامحسوس ہوتاہے کہ بچہ ایک بوجھ تھا،جوان کے سرسے ٹل گیا،طالب علم گویاان کے لیے بلائے جاں تھا،جس سے وہ ایک عرصے کے لیے نجات پاگئے،بچہ کے والدین اوران کے سرپرستوں کایہ رویہ یقیناکافی افسوس ناک اورغم انگیزہے،والدین اورتعلیمی سرپرست کی ذمہ داری صرف طالب علم کومدرسہ میں شریک کردینے اور انہیں ماہانہ اخراجات فراہم کرنے پرہی ختم نہیں ہوجاتی؛بلکہ آپ حضرات کایہ بھی فرض بنتاہے کہ آپ نے جس مقصدکے لیے بچہ کومدرسہ میں داخل کیاہے کیاواقعی بچہ اس مقصدکی تکمیل میں لگاہواہے یانہیں؟اس کی تعلیمی سرگرمی کیسی چل رہی ہے؟اس کی اخلاقی حالت قابل اطمینان ہے یا نہیں؟اس کے احباب ورفقاء نیک اورصالح ہیں یانہیں؟اساتذہ ومنتظمین کااعتماد اس بچہ کوحاصل ہے یانہیں؟ان چیزوں سے واقفیت حاصل کرنا والدین اورسرپرست کی اخلاقی ذمہ داری ہے؛اس لیے طالب علم کے سرپرستوں سے مخلصانہ گزارش ہے کہ وہ ہفتہ دس دن میں اپنے مشاغل سے کچھ وقت نکال کرمدرسہ میں تشریف لائیں،بچہ کی تعلیمی سرگرمی کی جانچ کریں،اس کی اخلاقی حالت کے بارے میں اس کے اساتذہ اوراس کے دوست واحباب سے استفسارکریں،اس کی شب وروزکی مصروفیات کے بارے میں جاں کاری حاصل کریں،چوں کہ بچہ نوعمرہوتاہے،اس لیے اس کومدرسہ کی چہاردیواری میں اپنی ذمہ داریوں کاصحیح اندازہ نہیں ہوتا،بچپن کی بچکانہ حرکتیں اورجوانی کی امنگیں بسااوقات ان توقعات کی تکمیل میں سدراہ ثابت ہوجاتی ہیں جووالدین اپنے بچوں سے وابستہ رکھتے ہیں،اس لیے جب بچہ پراساتذہ محنت کریں گے اوراخلاق وکردارکے لحاظ سے نمایاں بنائیں گے اوردوسری طرف والدین اوران کے سرپرست بھی اس حوالہ سے فکرمندی دکھائیں گے اوربچہ کے ذہن پران امیدوں اورآرزؤوں کے نقوش تازہ کریں گے جوانہوں نے بچہ سے وابستہ کررکھی ہیں توان شاء اللہ یہ ہمہ جہتی محنت رنگ لائے گی اورمس خام کوکندن بنانے میں معین ومددگارثابت ہوگی۔

ایک اورچیزجس کی طرف میں والدین اورسرپرستوں کی خاص توجہ دلاناضروری سمجھتاہوں وہ یہ ہے کہ اکثروالدین بچہ کی غیرضروری نازبرداری کرتے ہیں اوران کی ہرخواہش کوپوری کرنااپنالازمی فریضہ خیال کرتے ہیں،والدین کایہ طرزعمل عام طورپربچوں کے لیے آگے چل کرتباہی اورنقصان کاپیش خیمہ بنتاہے اوران کے اخلاق وکردارکے لیے سم قاتل ثابت ہوتاہے،والدین کی نازبرداری کاایک مظہرملٹی میڈیاموبائل ہے، تقریباسارے ہی والدین اپنے بچوں کوملٹی میڈیاموبائل دلانااوران کے اس شوق بے ہنگم کوپوراکرنافرض عین سمجھتے ہیں،ملٹی میڈیاموبائل وہ دودھاری تلوارہے جس میں خیراورشردونوں پہلوموجودہوتے ہیں؛تاہم مجھے یہ کہنے میں ذرہ برابرتامل نہیں کہ یہ:”واثمہمااکبرمن نفعہما“کامصداق ہے،ملٹی میڈیاموبائل کے اندرمیموری کارڈاورسستے داموں میں حاصل ہونے والے انٹرنیٹ کے امتزاج نے وہ تباہی مچائی ہے کہ الامان والحفیظ،یہ تباہی جسم کی نہیں،جوگوشت اورہڈیوں کامجموعہ ہے؛بلکہ اس روح کی ہے جہاں سے ایمان ویقین کاچشمہ پھوٹتاہے،یہ تباہی شہراوراس کے بلندوبالامکانات کی نہیں ہے؛بلکہ اس روح پرورایمانی فضاکی تباہی ہے جس کی وجہ سے یہ دنیاقائم ہے،یہ تباہی املاک وجائیدادکی نہیں ہے؛بلکہ اس عفت وعصمت کی ہے جوتمام خوبیوں کی بنیادہے،بدنظری،بدنگاہی،صنفی آوارگی،عریانیت وفحاشیت، اختلاط مردوزن ،ضیاع وقت اوراس طرح کے بے شمارگناہ ہیں جواس ملٹی میڈیاموبائل کی دین ہیں۔

سرپرست حضرات سے مودبانہ طورپرعرض ہے کہ آپ نے بے شک بچے کے ہاتھ میں مہنگا،جاذب نظر،متعددسہولیات سے آراستہ موبائل فون دیاہے،اوران کے شوق بے پرواکی تکمیل کی ہے؛لیکن کیاآپ نے کبھی سوچاکہ بچہ اس موبائل فون کااستعمال کیسے کرتاہے؟وہ اپنے دوست واحباب سے کس قسم کی گفتگو کرتا ہے؟ اس کے فون اورمیموری کارڈمیں جمع شدہ موادکیساہے؟ یوٹیوب اورگوگل پروہ کس قسم کے موادتلاش کرتاہے؟مدرسہ میں موبائل فون پرکتناوقت گزارتاہے؟کہیں موبائل فون اس کی تعلیمی سرگرمی میں مخل توثابت نہیں ہو رہا ہے؟ ذراٹھنڈے دل سے آپ تنہائی میں ان سوالات کے جوابات اپنے دماغ میں ٹٹولیں،خداکرے کہ ان سوالوں کاجواب اطمینان بخش اورمثبت پہلوکاحامل ہو؛لیکن خدانخواستہ اگران باتوں کاجواب غیرتسلی بخش اورمنفی پہلوکاحامل ہے توخدارااس تلخ اورکڑوی حقیقت کوقنداورآبِ زلال سمجھ کرحلق میں اتارنے کی زحمت گواراکیجیے کہ آپ درحقیقت بچے کامستقبل تباہ کررہے ہیں!عقل وحکمت کے منھ پرطمانچہ ماررہے ہیں!شوریدہ زمین سے یاسمین وسنبل اگانے کی خوش فہمی میں آپ مبتلاہیں!مدرسہ میں بچہ کوشریک کرکے آپ مطمئن ہوگئے کہ بچہ عالم بن کرنکلے گا،ایک اچھااورکام یاب انسان بن کرتیارہوگا،لیکن یہ بھی سوچیے کہ مدرسہ کی چہاردیواری میں ہروقت نگران سروں پرمسلط نہیں ہوتا،مدرسہ کے اصول وضوابط سے زیادہ سے زیادہ آپ کابچہ پنج وقتہ نمازوں کااہتمام کرلے گا،علماء وصلحاء کی وضع قطع اختیارکرلے گا،تعلیمی اوقات میں حاضری اورکتابوں کے تکرارومطالعہ کاالتزام کرلے گا،لیکن جب وہ تنہائی میں جائے گااوراساتذہ ونگران کی نگاہوں سے اوجھل ہوگاتوکیاشیطان اس کے ساتھ لگا ہوا نہیں ہے؟ کیایہ ازلی دشمن اسے اس آلہٴ تفریح کے غلط استعمال پرآمادہ نہیں کرے گا جوآپ نے بچے کے ہاتھ میں تھمایاہے؟اس لیے والدین اورسرپرستوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ خداکے واسطے بچے کوملٹی میڈیاموبائل نہ دیں،اگررشتہ داروں میں سے کوئی بچے کوموبائل فون دے تواسے بچے سے ضبط کرلیں،اسی طرح بچہ کوبھی اس بات کاپابندبنائیں کہ وہ ازخودبھی ملٹی میڈیاموبائل نہ خریدے،ضرورت ہوتوزیادہ سے زیادہ سادہ اورمعمولی فون بچے کوفراہم کرسکتے ہیں۔

چوں کہ مدرسہ اوراس کی چہاردیواری میری امیدوں کا مرکزہے، اس کی محبت وعظمت میرے دل کی وسعتوں میں سمائی ہوئی ہے،طلبہ کی مجموعی صورت حال اورحضرات سرپرست کی لاپرواہی نے مندرجہ بالاسطور تحریرکرنے پرمجبورکیاہے،ہوسکتاہے کہ قلم کی سیاہی کے کچھ قطرے طلبہ اوران کے سرپرستوں کے لیے شوریدہ ثابت ہوئے ہوں اورکہیں کہیں نوک ِ قلم سے ان کے شیشہٴ خاطرکوچبھن محسوس ہوئی ہو،میں اس کے لیے ان حضرات سے غالب کے اس شعرکے ساتھ معذرت خواہ ہوں :
        معاف رکھنا غالب کو اس تلخ نوائی پر
        کہ آج میرے دل میں درد سوا ہوتا ہے



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.