جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

فحاشی وعریانی ...ایک معاشرتی ناسور

الیاس احمد متعلم جامعہ فاروقیہ کراچی

اسلام دین فطرت ہے۔ یہ ساری دنیا کے انسانوں کے لیے تاقیامت نظام رحمت ہے۔ دین اسلام میں جن باتوں کے کرنے او رجن سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے اس میں انسان کی اپنی ہی دنیوی اور اخروی بھلائی مقصود ہے۔

لہٰذا انفرادی یا اجتماعی نقصانات ہی کے پیشنظر بعض کاموں کو حرام قرار دیا گیا ہے او ران سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس آج کی بے خدا تہذیب نے آزادی کے نام پر انسان کو فطرت سے بیزار کرکے جانوروں کی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جانور اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ایک دوسرے کی جان لینے سے گریز نہیں کرتے، جانوروں میں جنس اور رشتوں کی تمیز نہیں ہوتی، جانور لباس نہیں پہنتے، اگر انسان بھی مادر پدر آزاد ہو کر یہی روش اختیار کرے تو یہ ترقی ہو گی یا تنزّلی…؟

اس کا فیصلہ ہر وہ شخص با آسانی کر سکتا ہے جس کی فطرت مسخ نہ ہوئی ہو۔ اسلام کے بعض اقدار اوراحکام ایسے ہیں جن کی حفاظت خود مسلم معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے، خواہ وہاں اسلامی نظام قائم نہ بھی ہو۔ مثلاً: باجماعت نماز کا قیام، مخلوط طرز معاشرت سے اجتناب ، بے پردگی، بے حیائی اور عریانی کا سدباب وغیرہ۔

جس طرح اجتماعی سطح پر اسلام کا (Catch Word) ”عدل“ ہے، اس طرح انفرادی سطح پر ایک مسلمان کا نمایاں ترین وصف ”حیا“ ہے۔ اسلام میں حیا کو ایمان کا جز لازم قرار دیا گیا ہے۔ حیا وہ صفت ہے جو انسان کی فطرت کا حصہ ہے ، اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کو کبھی کوئی ہوش مند اور ذی شعور انسان بے لباس گھومتا پھرتا نظر نہیں آئے گا۔ اس دعوے کی سب سے قوی دلیل اور ثبوت یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں، بے حیائی عام ہونے کے باوجود، مرد وزن جسم کے ضروری حصوں کو فطرتاً ڈھانپنا پسند کرتے ہیں۔

شرم وحیا ایک ایسا فطری اور بنیادی وصف ہے جس کو انسان کی سیرت سازی میں بہت زیادہ دخل ہے، یہی وہ وصف اور خلق ہے جو آدمی کو بُرے سے بُرے کاموں اور بُری باتوں سے روکتا ہے اور فواحش ومنکرات سے اس کو بچاتا ہے، اچھے اور شریفانہ کاموں کے لیے آمادہ کرتا ہے۔

انسان اشرف المخلوقات ہے اور شرف انسانیت پر فائز رہنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس کی وجہ سے وہ خود اپنی نظروں میں گر جائے یا اس کام سے اس کی فطرت کراہت محسوس کرے، کیوں کہ انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے شرف انسانیت سے محروم اور ذلیل ورسوا کرنا چاہتا ہے، چناں چہ ارشاد باری تعالی ہے : ﴿الشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَأْمُرُکُم بِالْفَحْشَاء ِ وَاللَّہُ یَعِدُکُم مَّغْفِرَةً مِّنْہُ وَفَضْلًا﴾․(سورة بقرہ، آیت:288)

ترجمہ:” جس میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ ”شیطان تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے اور فحاشی پر اکساتا ہے ( جب کہ ) الله تعالیٰ تم سے بخشش اور رحم کا وعدہ کرتا ہے ۔

سورہ نور میں الله تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کو ان الفاظ سے متنبہ کیا ہے:﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ فَإِنَّہُ یَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء ِ وَالْمُنکَرِ﴾(آیت:21)
ترجمہ:” یعنی اے اہل ایمان! شیطان کی پیروی مت کرنا اور جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا تو وہ اس کو بے حیائی اور بُرے کاموں کا ہی حکم دے گا۔“

الغرض شرم وحیا انسان کی بہت سی خوبیوں کی جڑ وبنیاد اور فواحش ومنکرات سے اس کی محافظ ہے ،اس لیے سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم نے اپنی تعلیم وتربیت میں اس پر بہت زیادہ زور دیا ہے، چناں چہ ارشاد فرماتے ہیں:”ان لکل دین خلقاً، وخلق الاسلام الحیاء“ (رواہ مالک مرسلاً)

یعنی ” ہر دین کا کوئی امتیازی وصف ہوتا ہے اور دین اسلام کا امتیازی وصف حیاء ہے۔ “

اس حدیث مبارک کا مطلب یہ ہے کہ ہر دین اور شریعت میں اخلاق انسانی کے کسی خاص پہلو پر نسبتاً زیادہ زور دیا جاتا ہے اورانسانی زندگی میں اس کونمایاں اور غالب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جیسا کہ حضرت عیسٰی علی نبینا وعلیہ الصلوٰة والسلام کی تعلیم اور شریعت میں رحم دلی اور عفو ودرگزر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، یہاں تک کہ مسیحی تعلیمات کا مطالعہ کرنے والوں کوصاف محسوس ہوتا ہے کہ رحم دلی اور عفو ودرگزر ہی گویا ان کی شریعت کا مرکزی نقطہ نظر او ران کی تعلیم کی روح ہے۔

اسی طرح اسلام یعنی آقائے نام دار رسول عربی علیہ الصلوٰة والسلام کی لائی ہوئی شریعت اور تعلیم میں ”حیا“ پر خاص زور دیا گیا ہے۔

پھر قرآن وحدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حیا کا تعلق صرف اپنے ہم جنسوں سے نہیں ہے، بلکہ حیا کا سب سے زیادہ مستحق وہ خالق ومالک ہے جس نے انسان کو وجود بخشا اور جس کی پروردگاری سے وہ ہر آن او رگھڑی حصہ پار ہا ہے او رجس کی نگاہ سے اس کا کوئی عمل اور کوئی حال پوشیدہ نہیں ہے، اس کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ شرم وحیا کرنے والے انسان کو سب سے زیادہ شرم وحیا اپنے ماں باپ، بڑوں اور محسنوں کی ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ الله تعالیٰ سب بڑوں سے بڑا اور سب محسنوں کا محسن ہے، لہٰذا بندہ کو سب سے زیادہ شرم وحیا اسی کی ہونی چاہیے او راس حیا کا تقاضا یہ ہو گا کہ جو کام اور جو بات الله تبارک وتعالیٰ کی مرضی اور اس کے حکم کے خلاف ہو آدمی کی طبیعت اس سے خود انقباض اور اذیت محسوس کرے، اس سے باز رہے او رجب بندہ کا یہ حال ہو جائے تو اس کی زندگی پاک اور اس کی سیرت کا پسندیدہ اور الله تبارک وتعالیٰ کے رضا کے مطابق ہونا اظہر من الشمس ہو گا۔ مذکورہ آیت سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ بے حیائی کے کام دراصل شیطانی افعال ہیں اور دور حاضر میں الیکٹرانک میڈیا کی ترقی اور آزادی نے شیطان کا یہ کام بہت آسان کر دیا ہے۔

پاکستان میں بھارتی فلموں اور ڈراموں کی یلغار سے متاثرہ معصوم مسلمان پاکستانی بچے آج پھیروں کو شادی کا جزوِلازم سمجھتے ہیں اور مردوں کو جلانے جیسے مکروہ عمل سے مانوسیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکول وکالج لیول پرلڑکے لڑکیوں کا اظہار محبت ، بوائے/گرل فرینڈ کلچر، موبائل پر رات بھر نامحرموں سے گفت گو اور انٹرنیٹ کے ذریعہ سے فیس بک، وٹس اپ، یوٹیوب پر بے حیائی کی ویڈیو کلپس کے عام ہو جانے سے معاشرے میں خوف ناک خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں اس کے نتیجہ میں گھر کے گھر اور خاندان کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔

اب تو بات بھارتی ومغربی فلموں اور ڈراموں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ خود پاکستانی چینلز بھی مغربی ویہودی میڈیا کی تقلید میں اپنی قوم کو شرم وحیا سے عاری کرنے میں بھرپور کردار ادار کر رہے ہیں۔ اس گھناؤنے فعل میں میڈیا کے ذمہ داران کو بعض حکومتی اور سیکولر طبقات کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، اگرچہ پیمرا قوانین میں واضح طور پر درج ہے کہ ٹی وی چینلز، ایف ایم ریڈیوز، کیبل آپریٹرز اور انٹرنیٹ ویب سائٹس فحاشی وعریانی اور گالم گلوچ پر مبنی غیر اسلامی وغیر اخلاقی مواد نشر نہیں کرسکتے، مگر عوامی شکایات کے باوجود پیمرا نے اخبارات میں تنبیہی اشتہارات کی اشاعت کے علاوہ کوئی قابل توجہ ایکشن نہیں لیا۔

پیمرا اور چینل کے مالکان کے ساتھ ساتھ میڈیا سے منسلک بے حیائی وعریانی کو فروغ دینے والے کارکنوں اور ان کے ہم نواؤں کو بھی یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بے حیائی کو فروغ دینے والوں کے لیے قرآن کریم میں سخت وعید آئی ہے۔

چناں ارشاد باری تعالی ہے:﴿إِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِیْ الَّذِیْنَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾․(سورة النور، آیت:19)
یعنی” جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مؤمنوں میں بے حیائی (بدکرداری) پھیلے، ان کے لیے دنیا وآخرت میں (دونوں جگہ) درد ناک عذاب ہو گا اور (جو) الله جانتا ہے وہ تم نہیں جانتے۔“

کہا جاتا ہے کہ جس قوم میں بے حیائی اور موسیقی پھیل جائے، جس قوم میں عورتوں کا پردہ اُٹھ جائے، جس قوم میں مخلوط نظام رائج ہو جائے اس قوم میں زنا ضرور آئے گا۔ وہ قوم زنا سے نہیں بچ سکتی اور جس قوم میں زنا عام ہوتا ہے تو وہ بے حیا ضرور ہو گی، پھر وہ بے حیائی سے نہیں بچ سکتی او رجب وہ بے حیا ہو گی تو الله تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا بے قرار ہو گا، پھر تلوار نیام سے نکلے گی، وہ کوڑا نکلے گا، بجلیاں تڑپیں گی، موسم بدلیں گے، ملککی آنکھ بدلے گی، زمین کے تیور بدلیں گے، کائنات کی گردش بدلے گی، چناں چہ وہ زمین جو مسلمان کے لیے اپنا سینہ بچھاتی تھی وہ زمین زلزلے لائے گی، وہ پانی جو موتیوں کی طرح برستا تھا وہ پانی برف بن کر ان پر آگ برسائے گا، وہ فرشتے جوان کی دعاؤں پر آمین کہتے تھے ان کی مدد کو اُترتے تھے وہی فرشتے ان کے لیے قہر الہٰی بن کر نازل ہوں گے، وہ ہوائیں جو ان کا پیغام لے کر چلتی تھیں انہیں ہواؤں سے الله تعالیٰ طوفان کی شکلیں پیدا کرے گا، وہ پانی جو ان کو راستہ دیتا تھا وہ پانی ان کے ڈبونے کا سامان بنے گا اور وہی کائنات جو ان کے تابع تھی اسی کو الله تعالیٰ ان کی ہلاکت کے لیے ان پر مسلط کر دے گا۔

خلاصہ کلام یہ کہ دنیا وآخرت کے درد ناک عذاب سے بچنے کے لیے فحاشی وعریانی اور بے حیائی کے سیلاب کے آگے بند باندھنا کسی ایک کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں سب سے اہم کردار عوام کا ہے، جنہیں فحاشی اور بے حیائی کے سدّ باب کا آغاز خود اپنی ذات اور گھر سے کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ارباب اقتدار، قانون کے ذمہ داران اور میڈیا کے ذمہ داران پر بھی واضح کردینا چاہیے کہ بس بہت ہو گیا ،اب ہم بے حیائی کے فروغ کو کسی طور پر برداشت نہیں کریں گے او رحکومتی اداروں کا بھی فرض ہے کہ نہ صرف موجودہ قوانین کے ذریعے فحاشی وعریانی اور غیر اسلامی وغیر اخلاقی مواد کی نشر واشاعت کو روکیں بلکہ اس رجحان کی بیخ کنی کرنے کے لیے مزید سخت قوانین وضع کیے جائیں اور ان پر عمل درآمد کروایا جائے، تاکہ ہمارے مستقبل کے معمار اور آئندہ آنے والی نسلیں تباہ ہونے سے بچ سکیں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.