جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

وقت فجر اور عشرہ ذوالحجہ کی اہمیت وفضیلت

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم بسم الله الرحمٰن الرحیم﴿وَالْفَجْرِ، وَلَیَالٍ عَشْرٍ، وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ، وَاللَّیْْلِ إِذَا یَسْرِ، ہَلْ فِیْ ذَلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ ﴾ صدق الله مولٰنا العظیم

میرے محترم بھائیو بزرگو اور دوستو! قرآن کریم کی سورہ فجر میں الله تعالیٰ نے کئی قسمیں کھائی ہیں اور یہ قسم کھانے کا انداز اور سلسلہ پورے قرآن میں ہے، مختلف مقامات پر، مختلف جگہوں پر، چناں چہ سورہ فجر میں جو الله تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، وہ فجر کی قسم ہے اور دس راتوں کی قسم ہے او رجنت کی قسم ہے اور طاق کی قسم ہے اور اس رات کی قسم ہے جو جانے والی ہے، اس کے بعد پھر الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ہَلْ فِیْ ذَلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْر﴾ کیا کسی عقل والے کے لیے اس کے بعد بھی کسی قسم کی ضرورت ہے؟ جس کے پاس عقل ہو، فہم ہو، دانائی اور دانش ہو کیا اس کو اس کے بعد بھی کسی قسم کی ضرورت ہے؟! میں نے عرض کیا کہ الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر قسمیں کھائی ہیں، الله تعالیٰ کا قسم کھانا وہ اس لیے نہیں ہے کہ الله تعالیٰ کو قسم کھانے کی ضرورت ہے، ہم لوگ دنیا کے معاملات میں قسم کھاتے ہیں، اس لیے قسم کھاتے ہیں، تاکہ سامنے والے کو ہمار ی بات پہ یقین آجائے کہ میں سچ بول رہا ہوں، جھوٹ نہیں بول رہا ، الله تعالیٰ کو اس کی حاجت نہیں ہے، الله تعالیٰ جوان چیزوں کی قسم کھاتے ہیں اس سے ان چیزوں کی عظمت اور اہمیت بیان کرنا مقصود ہوتی ہے اور بات میں قوت پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہے۔

وقت فجر کی اہمیت
چناں چہ فرمایا: ”والفجر“ قسم ہے فجر کی، پتہ نہیں آپ نے کبھی غور کیا یا نہیں کیا کہ یہ جو فجر کا وقت ہے یہ بہت زیادہ اہم ہے ، بہت زیادہ، آپ دیکھیں پوری دنیا میں فجر کا وقت ہوتے ہی ہل چل شروع ہو جاتی ہے، حرکت شروع ہو جاتی ہے، انسان بھی، حیوان بھی، مشین بھی، گاڑیاں بھی، لوگ نوکریوں کے لیے جارہے ہیں، لوگ تجارت کے لیے جارہے ہیں، پرندے جانور سب نکل پڑتے ہیں۔

چناں چہ سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : میری امت کی برکت صبح کے وقت میں ہے۔

حدیث میں یہ بھی ہے کہ میری امت کا رزق صبح کے وقت تقسیم کیا جاتا ہے اور ایک اثر بھی ہے:
عن فاطمة بنت محمد صلی الله علیہ وسلم قالت: مرّبی رسول الله صلی الله علیہ وسلم وأنا مضطجعة متصبحة فحرکنی برجلہ ثم قال:بنتیة، قومی اشھدی رزق ربک، لا تکونی من الغفلین، فان الله یقسم ارزاق الناس مابین طلوع الفجر إلی طلوع الشمس․ اسنادہ ضعیف․( شعب الإیمان للبیہقی، الثالث والثلاثون من شعب الإیمان فی فی النوم الذی ھو نعمة، رقم الحدیث:4735)

حضرت عباس رضی الله عنہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے چچا ہیں انہوں نے اپنے بیٹے حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما کو فجرکے وقت ، فجر کی نماز کے بعد سوتے ہوئے دیکھا، جیسے ہم لوگوں کی بھی عام طور پرعادت ہے کہ فجر کی نماز پڑھتے ہی سو جاتے ہیں ۔

تو حضرت عباس رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے عبدالله بن عباس رضی الله عنہما کو دیکھا کہ سورہے ہیں تو ان کا پاؤں ہلایا اور فرمایا․ کہ یہ تو برکت کی تقسیم کا وقت ہے او رتم سورہے ہو؟ یہ برکت کا وقت ہے، سونے کا وقت نہیں ہے ایسے ہی خوب یادرکھیں کہ اس امت کی نحوست صبح کے وقت سونے میں ہے صبح کا وقت بہت مبارک وقت ہے، الله اس کی قسم کھارہے ہیں اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کیا فرمارہے ہیں کہ میری امت کی برکت صبح میں ہے لیکن عملی طور پر الله تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے کہ ہم اتنے قیمتی وقت کو ضائع کررہے ہیں ، پوری دنیا میں آپ چلے جائیں، امریکا چلے جائیں، یورپ چلے جائیں، برطانیہ چلے جائیں، مسلمان غیر مسلمان، زیادہ تر غیر مسلم ممالک انہوں نے اس نکتے کو پکڑ لیا ہے، یہ نکتہ کہاں لکھا ہوا ہے؟ ہمارے قرآن میں۔ کون فرمارہے ہیں؟ الله تعالیٰ، کون فرمارہے ہیں؟ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم، مسلمانوں نے اسے چھوڑ دیا اور غیروں نے اسے پکڑ لیا ، آپ جاپان چلے جائیں، فلپائن چلے جائیں، امریکاو برطانیہ چلے جائیں، صبح سات بجے پوری طاقت کے ساتھ مشین کا پہیہ چلنا شروع ہو جاتا ہے۔

آپ بتائیں کہ سات بجے مشین کا پہیہ پوری رفتار سے چلانے کے لیے کیا سات بجے اٹھیں گے؟

کسی کو پہیہ چلانے کے لیے پچاس کلو میٹر سے آنا ہے ، کسی کو بیس کلو میٹر سے کسی کو بس سے آنا ہے، کسی کو ریل سے آنا ہے، کسی کو اپنی گاڑی سے آنا ہے، سات بجے جب سارا نظام چل پڑے گا تو اس کے لیے کم از کم چار بجے جاگنا پڑے گا، نہائے گا، دھوئے گا، کپڑے بدلے گا، ناشتہ کرے گا، بس اسٹاپ پر جائے گا، ریلوے اسٹیشن جائے گا، تو جاکر وہ وقت پر اپنے دفتر، اپنے کارخانے پہنچے گا، ایسا نہیں کہ سات بجے اٹھے گا، تو سات بجے پہنچ جائے گا، کم از کم دو گھنٹے پہلے اٹھے گا۔

میرے دوستو! اور آج ہمارا کیا حال ہے؟ ہمارا حال یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہیں کہ ایک بجے آپ کسی صاحب کے دفتر جائیں، تو آگے سے جواب ہو گا کہ صاحب ابھی تک آئے نہیں۔

میرے دوستو! ہمارا جو مبارک اور بہت قیمتی وقت ہے، ضائع ہو رہا ہے، پوری دنیا میں ایسا نہیں ہے۔

لوگ کہتے ہیں،فجر کی نماز کے لیے آنکھ نہیں کھلتی، آنکھ کیسے کھلے گی؟ جب ہم رات کے ایک دو بجے تک جاگیں گے اور خالص فضول ایک تو یہ ہے کہ کوئی نوکری کر رہا ہے، دنیا او رمعیشت کے حوالے سے کام کررہا ہے، لیکن ایک یہ کہ بالکل فضول رات کو دیر تک جاگ رہا ہے۔

اور جب سے ہمارے ہاں بعض ایسی چیزیں آگئی ہیں، جس نے ہمارے پورے معاشرے کو تباہ کر دیا ہے، باپ جانتا ہے، ماں جانتی ہے، شوہر جانتا ہے، بیوی جانتی ہے کہ میرے گھر میں کیا ہو رہا ہے ؟

آپ مجھے بتائیں کہ رات کے گیارہ بجے سے لے کر صبح سات بجے تک مختلف کمپنیاں فری منٹ دیتی ہیں، اس کا مقصد کیا ہے؟ ایک نوجوان، خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی ہو، نفس اس کے ساتھ ہے ، شیطان موجود ہے، آپ مجھے بتائیں کہ رات گیارہ بجے سے لے کر سات بجے تک فری منٹ دینے کا مطلب کیا ہے ؟ ہمارے معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے۔ لڑکیاں بھاگ رہی ہیں، ہم ایک زمانے میں کہتے تھے کہ ہمارے دیہات محفوظ ہیں، اب سب ختم ہو گیا۔

میں عرض کر رہا تھا کہ فجرکا مبارک وقت، جس کی قسم الله تعالیٰ کھا رہے ہیں، جس کی برکت کا بیان الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم فرمارہے ہیں، ہم کیا رات کے دو بجے تک جاگ کر، تین بجے تک جاگ کر حاصل کرسکتے ہیں؟ نیند انسان کی فطرت میں داخل ہے، لیکن الله تعالیٰ نے:﴿وجعلنا النھار معاشا وجعلنا اللیل لباسا﴾ دن معیشت کے لیے او ررات آرام کے لیے، ہم صبح کی برکت کو حاصل کرنے کے لیے اپنے سونے جاگنے کے نظام کو مرتب کریں، آپ سونا سیکھ جائیں گے، جاگنا نہیں سیکھنا پڑے گا، سیکھنے کی چیز سونا ہے، سیکھنے کی چیز جاگنا نہیں ہے۔

آپ کام سے آتے ہیں ، غسل کر یں، مغرب کی نماز پڑھیں، اس کے بعد کھانا کھائیں، عشا کی نماز پڑھ کر ساڑھے نو دس بجے تک آپ سو جائیں، تو آپ کے لیے فجر کی نماز کے لیے جاگنا آسان، فجر کی نماز کے بعد تلاوت بھی آسان، کام پر جانا بھی آسان۔

میرے دوستو! یہ بات ہمارے معاشرے کے بہترین مفاد میں ہے، ہم سب کے مفاد میں ہے کہ ہم اپنے گھروں کے نظام کو قرآن کے مطابق بنائیں، حدیث کے مطابق بنائیں اور میں نے کیا عرض کیا کہ مسلمان نے اسے چھوڑ دیا اور غیروں نے اسے اپنا لیا اور اس کی وجہ سے دنیاوی اعتبار سے، اسباب کے اعتبار سے وہ کام یاب ہیں۔

عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت
اس کے بعد الله تعالیٰ فرمارہے ہیں: ”ولیال عشر“ اور قسم ہے دس راتوں کی۔

چناں چہ احادیث میں صراحت ہے کہ ان دس راتوں سے مراد عشرہ ذوالحجہ ہیں، جو ہمارے سامنے آرہا ہے ، اس کی دس راتیں مراد ہیں۔ ( الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة الفجر،38/20، المستدرک علی الصحیحین، کتاب الأضاحی، رقم الحدیث:7517)

ابھی کچھ عرصہ پہلے رمضان المبارک کا مہینہ گزرا ہے او راس کا آخری عشرہ بھی گزرا ہے اور ہم بار بار سنتے رہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں کوئی رات لیلة القدر کی ہے ، لیکن متعین نہیں ہے، وہ اکیس کو بھی ہو سکتی ہے، وہ تیئس کو بھی ہوسکتی ہے، وہ پچیس، ستائیس اور انتیس کو بھی ہو سکتی ہے، متعین نہیں ہے۔

لیکن عشرہ ذوالحجہ کے بارے میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ذوالحجہ کی دس راتوں میں سے ہر رات لیلة القدر کے برابر ہے: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: ما من أیام الدنیا أیام أحبّ إلی الله سبحانہ لن یتعبد لہ فیھا من أیام العشر، وإن صیام یوم فیھا لیعد صیام سنة، ولیلة فیھا بلیلة القدر․(سنن ابن ماجة، کتاب الصیام، صیام العشر، رقم الحدیث:1718)کتنی لیلة القدر ہیں؟ دس! ہر رات لیلةالقدر کے برابر ہے، اس کا اجر لیلة القدر کے برابر ہے۔ اور ذوالحجہ کے پہلے عشر ے کا ہر دن، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر دن جب کوئی روزہ رکھتا ہے، تو ایک دن کے روزے کی برکت سے اس کے ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے صغیرہ گناہ سب معاف ہو جاتے ہیں:”صیام یوم عرفة أحتسب علی الله أن یکفر السنة التی قبلہ والسنة التی بعدہ․ (الجامع الصحیح للمسلم، کتاب الصیام، استحباب صیام ثلاثة أیام من کل شھر رقم:1162) قال النووی رحمہ الله: قالوا والمراد بھا الصغائر․ (شرح النووی علی الجامع الصحیح للمسلم، کتاب الصیام، باب استحباب ثلاثة أیام من کل شھر:292/8)

پھر یہ دن رات ان میں تسبیح ، تہلیل، الله تعالیٰ کی کبریائی، الله اکبر الله اکبر، لا إلہ إلا الله، والله اکبر الله اکبر، ولله الحمد․ اس کی کثرت ہو، چلتے ہوئے، بیٹھے ہوئے، لیٹے ہوئے، ہر حالت میں۔ اس کے بعد الله تعالیٰ نے قسم کھائی: والشفع، شفع کہتے ہیں جفت کو۔ دو جفت ہے چار، چھ، آٹھ جفت ہیں، ایک طاق ہے، تین، پانچ، سات، نو طاق ہیں اور دس جفت ہے۔

تو الله تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ،الشفع، حضرات مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ذوالحجہ کی دسویں تاریخ، عید الأضحی کا دن ہے۔(المستدرک علی الصحیحین، کتاب الأضاحی، رقم الحدیث:7517۔ الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة الفجر،39/20)

الوتر اس سے مراد حضرات مفسرین فرماتے ہیں کہ نو تاریخ، نو تاریخ کی الله تعالی قسم کھار ہے ہیں، دس تاریخ کی الله تعالیٰ قسم کھا رہے ہیں ،نو تاریخ حج کا دن ہے، عرفہ کا دن ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب الأضاحی، رقم الحدیث:7517۔ الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة الفجر:39/20)

خلاصہ یہ ہے کہ اتنی قسمیں الله تعالیٰ نے کھائی ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت مبارک ایام ہیں، اس میں ہم جتنی زیادہ عبادت کر سکتے ہیں، جتنی زیادہ دعائیں مانگ سکتے ہیں، جتنے زیادہ اذکار کر سکتے ہیں، ہمیں اس کا اہتمام کرناچاہیے۔

الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ، وَتُبْ عَلَیْْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم﴾․



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.