جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

علم متشابہات کی حقیقت

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

محکم ومتشابہ کی حقیقت
مُحکَمْ:
لغت میں مُحْکَم، اس چیز کو کہتے ہیں جو مُدَلّل ہو، اشتباہ و احتمال سے محفوظ ہو، اس مفہوم کے اعتبار سے پورا قرآن کریم محکم ہے، چناں چہ اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا: ﴿کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیَتُہ﴾ (ہود:1) یعنی فصاحت وبلاغت، اخبار غیب میں یہ پوری کتاب محکم (واضح) ہے۔ (اسباب النزول للواحدی: 90، 91)

لیکن سورة آل عمران میں بعض آیات کو محکم قرار دے کر اس کے خاص مفہوم کی طرف اشارہ کیاہے۔ وہ خاص مفہوم کیا ہے؟ اس میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں، لیکن یہ اختلاف محض تَنوّع کا ہے، نہ کہ تضاد کا۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کے نزدیک ”محکَمٰتٌ“ سے وہ آیات مراد ہیں جو اپنے مدعا اور مراد پر دلالت کرنے میں کسی دوسرے لفظ کی محتاج نہ ہوں اور نہ ہی وہ آیات اپنے معنی مرادی کے علاوہ دوسرے معانی کا احتمال رکھتی ہوں۔ (زادالیسیر، فتح القدیرللشوکانی، اٰل عمٰران ذیل آیت:7)عقیدہ وعمل کے اثبات پر ایسی آیات اصل اور روح کا درجہ رکھتی ہیں۔

متشابہ
لغت میں ”متشابہ “باہم ملتی جلتی اشیاء کو کہتے ہیں ۔ اسی مفہوم لغوی کے اعتبار سے سورت زمر کی آیت کریمہ:﴿اللّٰہ الذی نزل احسن الحدیث کتبا متشابہا﴾(الزمر:93) میں پورے قرآن کریم کو متشابہ کہاگیا ہے، کیوں کہ قرآن کریم کی آیات مضامین اور فصاحت واعجاز میں باہمی طور پر ملتی جلتی ہیں۔ (احکام القرآن للقرطبي، اٰل عمٰران، ذیل آیت:7)

لیکن آل عمران میں قرآن کریم کی بعض آیات کو ”متشابہات “ایک الگ مفہوم میں کہاگیا ہے، اس کی رو سے جو آیات اپنے معنی و مراد پر واضح نہ ہوں، یا اپنے معنی و مراد پر ایک سے زائد احتمال رکھتی ہوں، وہ آیات متشابہات ہیں۔ (احکام القرآن لکیاالہراسی: اٰل عمٰران، ذیل آیت:7)

متشابہات کا دائرہ
بنیادی طور پر متشابہات کی دوقسمیں ہیں:
1..متشابہات بالمعنی…یعنی وہ آیات جن کا معنی ہی عربی لغت میں نہیں پایا جاتا، جیسے حروف مقطعات ۔(کتاب التعریفات للجرجانی: ص:86)
2..متشابہات بالمراد…یعنی آیات کریمہ کے وہ الفاظ جن کا معنی تو عربی میں ہے ،لیکن وہ معنی مراد لینے سے محکمات کی مخالفت لازم آتی ہے۔ ایسی آیات کو متشابہ بالمراد کہتے ہیں۔ (تاج العروس، فصل الشین من باب الہاء: 9/393) مثلاًلفظ”ید“ کا مراد ی معنی ”آلہ جارحہ“ کے ہیں، لیکن ”یداللہ“ میں مرادی معنی لینے سے محکم آیت ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہ شَیٴٌ فِیْ الاَرْضِ وَلاَ فِيْ السَّمَاءِ﴾کی مخالفت لازم آتی ہے۔ اس لیے متشابہہ کو محکم کی روشنی میں سمجھتے ہوئے یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے قرآن کریم میں ”ید“ کا لفظ تو وارد ہوا ہے، مگر اس کی مراد کیا ہے؟ اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کرتے ہیں۔

پھر متشابہ بالمراد کی دو صورتیں ہیں
1..جن متشابہات کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہو۔
2..جن متشابہات کا تعلق اللہ تعالیٰ کے امر سے ہو، جیسے قضا و قدر، جنت وجہنم کی کیفیت۔

صورت اول کی پھر دوصورتیں ہیں:
1..صفات افعال …یعنی اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول فرمانا، عرش پر مستوی ہونا۔
2..صفات ذات … اللہ تعالیٰ کے لیے ید، اعین ، وجہ ،ساق، کا ثابت ہونا۔

یہ سب صورتیں متشابہات کے دائرے میں آتی ہیں۔ گویا قرآن وحدیث میں ماوراء عقل اشیاء ،جن کی حقیقت جاننے سے انسانی عقل قاصر ہے کہ وہ متشابہات کے قبیل سے ہے۔ (تفسیرماجدی، اٰل عمٰران، ذیل آیت:7)

متشابہات کے علم سے کون واقف ہوسکتا ہے؟
”وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللَّہُ …“ تأویل کاا یک مفہوم ”کسی چیز کی حقیقت جاننا ہے“ اس مفہوم کے اعتبار سے لفظ ”اللہ“ پر وقف ضروری ہے، کیوں کہ ذات باری کے علم کے علاوہ کسی مخلوق کا علم متشابہات کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر ہے۔

تاویل کا دوسرا مفہوم ”کسی چیز کی تفسیر اور وضاحت کرنا ہے“۔ (تفسیر ابن کثیر، اٰل عمٰران ذیل آیت:7)اب سوال یہ پیدا ہوگا کہ متشابہات کی تفسیر وتوضیح پر ذات الہٰی کے علاوہ کوئی فرد مطلع ہوسکتا ہے یا نہیں؟

اس میں اہل علم کا اختلاف ہے، اور اس اختلاف کی بنیاد پر آیت کریمہ میں وقف کا اختلا ف ہے اہل علم کی ایک بڑی جماعت جس میں حضرت عبداللہ بن عباس (روایت طاوس) حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم، عروة، قتادة، عمربن عبدالعزیز، فراء، ابوعبیدہ، ثعلب، ابن الانباری ، جمہورعلمائے کرام شامل ہیں۔ ان کے نزدیک آیت کریمہ کے پہلے حصّے ﴿وَمَا یَعْلَمُ تأویلَہ إلّا اللّٰہ﴾ میں لفظ ”اللہ“ پروقف تام ہورہا ہے۔ اگلے حصے ”والراسخون فی العلم“ سے مستقل جملے کی ابتدا ہورہی ہے، یعنی متشابہات کا علم صر ف اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ علم میں پختگی رکھنے والے علمائے کرام اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے سپرد کرکے اس پر ایمان لاتے ہیں۔ (زادالیسیر، اٰل عمٰران، ذیل آیت:7)یہی موٴقف فقہائے احناف کا ہے۔ ( احکام القرآن للجصاص: اٰل عمٰران، ذیل آیت:7)

اہل علم کی دوسری جماعت، جس میں حضرت ابن عباس (بروایت مجاہد) ابن قتیبہ، ابو سلیمان الدمشقی شامل ہیں۔ ان کے نزدیک آیت کے دوسرے حصے﴿والرَّاسِخُونَ فِي العِلم﴾ کا عطف پہلے حصے کے لفظ ”اللہ“ پر ہورہا ہے۔ اسی صورت آیت کا مفہوم ہوگا۔ متشابہات کا علم اللہ تعالیٰ اور علم میں پختگی رکھنے والے علماء جانتے ہیں۔ ( زادالیسیر، آل عمٰران، ذیل آیت:7) اور﴿یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہ﴾ نحوی ترکیب میں لفظ ”الرَّاسِخُوْنَ“سے حال واقع ہورہاہے۔ ( تفسیر ابن جریر، آل عمٰران، ذیل آیت:۷)

لہٰذا علم میں پختگی رکھنے والے وہ علمائے کرام، جو میدان علم وتحقیق میں الفاظ متشابہات سے دھوکہ کھاکرراہِ حق سے نہیں پھسلتے ،انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ الفاظ متشابہات کی تفسیر و توضیح محکمات کی روشنی میں کریں، لیکن ان کی بیان کردہ تفسیر وتوضیح ”ظن“ کے درجے میں ہوتی ہے ،اسے ”قطعیت“ کا درجہ حاصل نہیں ۔

ابن جریر اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا، علم میں راسخ کون شخص ہے؟ آپ نے فرمایاجو اپنی قسم پوری کرے اور اس کی زبان سچی ہو اور اس کا دل راہ راست پر گام زن ہو، اس کا پیٹ اور شرم گاہ حرا م سے محفوظ ہو۔ (تفسیر ابن جریر،اٰل عمٰران،ذیل آیت:7)

البتہ شیعہ حضرات اس آیت میں شدت کے ساتھ وصل کے قائل ہیں، کیوں کہ ان کے نزدیک ”آئمہ معصومین“ کے علم سے کائنات کی کوئی چیز مخفی نہیں اور متشابہات کے متعلق ان کا علم قطعی ہوتا ہے۔

متشابہات کے متعلق چند فوائد
1..متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹانا واجب ہے۔
2..متشابہات کی ایسی تفسیر وتوضیح کرنا جس سے محکمات میں تضاد پیدانہ ہو، جائز ہے، خواہ ان متشابہات کا تعلق ذات الٰہی (صفات) سے ہو یا امر الٰہی (افعال) سے ہو۔
3..اثبات عقائد میں دلیل صرف محکم آیت بن سکتی ہے، کیوں کہ وہی اصل کتاب ہے، محکم کو نظر انداز کرکے متشابہ کو دلیل بنانا یا فلسفیانہ گورکھ دھندے سے محکم کو متشابہ بنانے کی کوشش کرنا، فتنہ وفساد کے متلاشی رہنا زندیقوں کا کام ہے۔
4..متشابہات پر ایمان بالغیب لانے سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور تلاوت پر اجرملتا ہے۔
5..تحقیق و جستجو کا مادہ پیدا ہوتا ہے، اجتہادی صلاحیتوں کو نکھار ملتا ہے۔
6..علماء اور جہلا کے درمیان فرقِ مراتب کا اظہارہوتا ہے۔

﴿رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِن لَّدُنکَ رَحْمَةً إِنَّکَ أَنتَ الْوَہَّاب، رَبَّنَا إِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْْبَ فِیْہِ إِنَّ اللّہَ لاَ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ، إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَن تُغْنِیَ عَنْہُمْ أَمْوَالُہُمْ وَلاَ أَوْلاَدُہُم مِّنَ اللّہِ شَیْْئاً وَأُولَئِکَ ہُمْ وَقُودُ النَّارِ،کَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا فَأَخَذَہُمُ اللّہُ بِذُنُوبِہِمْ وَاللّہُ شَدِیْدُ الْعِقَاب، قُل لِّلَّذِیْنَ کَفَرُواْ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَی جَہَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِہَاد، قَدْ کَانَ لَکُمْ آیَةٌ فِیْ فِئَتَیْْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَأُخْرَی کَافِرَةٌ یَرَوْنَہُم مِّثْلَیْْہِمْ رَأْیَ الْعَیْْنِ وَاللّہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہِ مَن یَشَاء ُ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَعِبْرَةً لَّأُوْلِیْ الأَبْصَارِ﴾․(سورہ آل عمران:13-8)

”اے رب! نہ پھیر ہمارے دلوں کو جب تو ہم کو ہدایت کر چکا اور عنایت کر ہم کو اپنے پاس سے رحمت۔ تو ہی ہے سب کچھ دینے والا، اے رب! تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن جس میں کچھ شبہ نہیں، بے شک الله خلاف نہیں کرتا اپنا وعدہ، بے شک جو لوگ کافر ہیں ہر گز کام نہ آویں گے ان کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد الله کے سامنے کچھ اور وہی ہیں ایندھن دوزخ کے، جیسے دستور فرعون والوں کا اور جوان سے پہلے تھیجھٹلایا انہوں نے ہماری آیتوں کو، پھر پکڑا ان کو الله نے ان کے گناہوں پر اور الله کا عذاب سخت ہے۔کہہ دے کافروں کو کہ اب تم مغلوب ہو گے اور ہانکے جاؤ گے دوزخ کی طرف اور کیا برا ٹھکانہ ہے، ابھی گزر چکا ہے تمہارے سامنے ایک نمونہ دو فوجوں میں، جن میں مقابلہ ہوا، ایک فوج ہے کہ لڑتی ہے الله کی راہ میں اور دوسری فوج کافروں کی ہے، دیکھتے ہیں یہ ان کو اپنے سے دو چند صریح آنکھوں سے اور الله زور دیتا ہے اپنی مدد کا ، جس کو چاہے، اسی میں عبرت ہے دیکھنے والوں کو۔

علمائے راسخین کی مناجات
علمائے راسخین، خواہ متشابہات کی معرفت رکھتے ہوں یا نہیں ، اپنے علم پر نازاں و فرحاں نہیں ہوتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔جادہ حق پر گام زن رہتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں روحانی مدد کے طلب گارہوتے ہیں، تاکہ ان کے قدم راہِ حق پر جمے رہیں۔ باطل خوش نما ناموں اور عنوانوں سے اہل ایمان کے دل میں اپنی جگہ بنانے کا خواہش مند رہتا ہے۔ اپنے لیے دلوں میں نرمی پیدا کرنے کی خاطر کئی پینترے بدلتا ہے، کئی جال بنتا ہے، توفیق الٰہی شامل حال نہ رہے تو دلوں کی کج روی پیدا کرنے کے کئی راستے بناچکا ہوتا ہے، اس لیے علمائے راسخین اس کے طریق ہائے واردات سے خوف کھاتے رہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں ۔ ”رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوْبَنَا“ زیغ صریح گم راہی کو بھی کہتے ہیں اور گم راہی کی طرف میلان رکھنے کو بھی۔ (الوجوہ والنظائر لالفاظ کتاب الله العزیز: باب الزای:253) یہاں گم راہی کی طرف میلان رکھنا مرادہے اور اس سے پناہ مانگی جارہی ہے۔
(جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.