جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

اہل سنت کے نزدیک تقیہ کی تعریف اور اس کا حکم

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

کافروں کے ضرر سے بچاؤ کی صورت اختیار کرنا
اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ میں کافروں کو دوست بنانے سے منع کرنے کے ساتھ ﴿إلاّ أن تتقوا منھم تقٰة﴾کے ذریعے ان کے شر سے بچاؤ کی صورت اختیار کرنے کی اجازت بھی مرحمت فرمائی ہے، اسے تقیہ اور ”تُقٰہ“ کہتے ہیں۔

اہل سنت و الجماعت کے نزدیک مدارات میں ایک مخصوص شکل ہے ، تقیہ اور مدارات میں بس اس قدر فرق ہے کہ مدارات کے ذریعے رفع ضرر اور جلب منفعت دونوں مقصود ہوتے ہیں اور تقیہ میں بوقت ضرورت دفع ضرر مقصود ہوتا ہے۔ ( الموسوعة الفقہیة:12/187)

اہل سنت کے نزدیک تقیہ کی تعریف اور اس کا حکم
علامہ ابن حجر رحمةاللہ علیہ نے فرمایا :”التقیة الحذر من اظہار ما فی النفس من معتقد وغیرہ للغیر“کسی شخص کا دل میں ایسا عقیدہ وغیرہ کہ اس کا اظہار کسی دوسرے کے سامنے کرتے ہوئے ڈرنا، تقیہ کہلاتا ہے۔ ( فتح الباری، کتاب الاکراہ:12/314، ذیل رقم الحدیث: 6940)

لہٰذا اگر کسی مسلمان کو کسی کافر کی طرف سے دین اور جان و مال میں شدید نقصان پہنچنے کا یقین ہو تو اپنی زبان سے خلاف عقیدہ ایسی بات کہہ دینا جس سے بچاؤ کی صورت نکل آئے اور دل ایمان پر مطمئن رہے تو ایسے شدید عذر میں تقیہ کی اجازت ہے۔ علامہ ابن القیم رحمة اللہ علیہ نے واضح فرمایا تقیہ کرنے کا مطلب کافروں سے دوستی اختیار کرلینا نہیں ہے۔ (بدائع الفوائد لابن القیم:4/69)

تمام اہل علم کا تقیہ کے جواز پر اتفاق ہے، سوائے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور معروف تابعی امام مجاہد کے، یہ دونوں فرماتے ہیں تقیہ کی اجازت اس وقت تک تھی جب تک اسلام اور مسلمان مغلوب تھے، غالب آنے کے بعد اس کا جوازباقی نہ رہا۔(احکام القرآن للقرطبی، آل عمران، ذیل آیت:28)

تقیہ کی اجازت کب ہے؟
اگر ایسے ظالموں اور کافروں سے واسطہ پڑگیا جو حق سننا، دیکھنا برداشت نہیں کرسکتے اور صاحب ایمان کو یقین ہوکہ اگر میں نے دین حق کے متعلق زبان کھولی تو اس کی پاداش میں میری ذات کو قتل و ضرب یا میرے مال کو یقینی طور پر بڑے نقصان سے دوچار کیا جائے گا تو ایسے صاحب ایمان کے لیے پہلا حکم تو یہ ہے کہ ایسی جگہ سے ہجرت کر جائے اور اگر ضعف و کمزوری کی وجہ سے ہجرت کی استطاعت نہیں رکھتا تو پھر اپنی جان اور مال کی حفاظت کے لیے تقیہ کرسکتا ہے۔

علامہ قرطبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”التقیة لا تحل إلاّ مع خوف القتل أو القطع أو الإیذاء العظیم“․ (احکام القرآن للقرطبی، آل عمران، ذیل آیت: 28)
تقیہ صرف اس صورت میں جائز ہے جب کفار کی طرف سے قتل کا خطرہ ہو یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو یا ان کی طرف سے بڑی اذیت پہنچنے کا خطرہ ہو۔

تقیہ صرف زبان کی حد تک ہوتا ہے
تقیہ، زبان کے ذریعے کافروں کے شر کو دور کرنے کا نام ہے، کافروں کے ساتھ عملی طور پر شریک ہوجانا کسی بھی طرح درست نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے:
”ھو أن یتکلم بلسانہ وقلبہ مطمئن بالإیمان ولا یقتل ولا یأت ماثمأ“․
تقیہ اس کا نام ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے شر سے بچنے کے لیے زبان سے ایسی بات کہہ دے جس سے بچاؤ ممکن ہوجائے، لیکن اس کا دل ایمان پرمطمئن ہو، تقیہ کرتے ہوئے کسی مسلمان کو قتل کرنا اور کسی گناہ کا ارتکاب کرنا جائز نہیں۔ (احکام القرآن للقرطبی، آل عمران، ذیل آیت: 28)

عوف اعرابی حضرت حسن بصری رحمةاللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں:
”تقیہ تاقیامت جائز ہے، لیکن ناحق کسی کو قتل کرنے میں کوئی تقیہ نہیں ہے“۔(فتح الباری:12/314، کتاب الاکراہ، رقم الحدیث:6940) لہٰذا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی مجبوری جتاکر کافروں کا ہم رکاب ہوجائے، مسلمانوں کے خلاف ان کا حلیف بن جائے، ان کے ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ بن جائے ۔ تقیہ کی آڑ میں ایسے مکروہ افعال کو سند جواز نہیں مل سکتی۔

تقیہ رخصت ہے ،نہ کہ عزیمت
دفع ضرر کے لیے تقیہ کرنا جائز ہے، لیکن مستحسن نہیں۔ عزیمت یہ ہے کہ انسان اپنی جان و مال قربان کرکے حق کا بول بالا کرے اور ظاہر و باطن میں اپنے عقیدے پر قائم رہے۔ (دیکھیے، احکام القرآن للقرطبی، روح المعانی، آل عمران ذیل آیت:28، زاد المسیر)

انبیاء علیہم السلام کبھی تقیہ نہیں کرتے
انبیاء علیہم السلام دین حق کی تبلیغ میں کبھی تقیہ نہیں کرتے، اگرچہ کفار کی طرف سے ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، راہ حق کے تن تنہا مسافر بن جائیں، کیوں کہ ان کی بعثت کا مقصد ہی اظہار دین اور پیغام ِ توحید سے انسانوں کو روشناس کرانا ہے۔ اگر وہ تقیہ کرنا شروع کردیں تو ان کا ہر عمل تقیہ کا احتمال رکھنے کی وجہ سے مشکوک ہوکر رہ جائے گا۔ حجیت حدیث کی ساری عمار ت دھڑام سے گر پڑے گی۔ احکام شرعیہ اپنی حقیقی وجاہت کھو بیٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا ذرہ بھر خوف دل میں نہیں رکھتے۔

﴿الِّذِیْنَ یُبَلّغُوْنَ رِسَلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشُوْنَہُ وَلاَ یَخْشَوْنَ اَحداً إلاّ اللّٰہ﴾․ ( الأحزاب:39)

ایک دوسرے مقام پر آپ علیہ السلام کو فرمایاگیا:
﴿یاأیھا الرسول بلغ ما أنزل إلیک من ربک وإن لم تفعل فما بلغت رسٰلتہ واللّٰہ یعصمک من الناس﴾․(المائدة:67)

علامہ قرطبی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:یہ آیت رافضیوں کے اس دعوے کی تردید کررہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے دین کے کچھ معاملات میں تقیہ اختیار کررکھا تھا۔ (احکام القرآن للقرطبی، المائدہ، ذیل آیت 67)

اگر آپ علیہ السلام کے متعلق یہ نظریہ رکھ لیا جائے تو پھر قرآن پر اعتماد ہی باقی نہیں رہے گا۔ ( مختصر التحفہ الاثنی عشریة، ص:195)

علمائے کرام دین محمدی کے پیشوا ومقتداہیں۔ انبیاء کے وارث ہیں۔ عوام انہی کے قدموں کے آثار کو دیکھ کر اپنی منزل متعین کرتے ہیں۔ ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کریں۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:”إذا أجاب العالم تقیة والجاھل بجھل فمتی یتبّین الحق؟“جب عالم دین، بیان حق میں تقیہ کرنے لگے اور جاہل اپنی جہالت سے جواب دینے لگے تو پھر حق کب ظاہر ہوگا؟ ( زادالمسیر، آل عمران، ذیل آیت:28)

روافض اور اہل سنت کے تقیہ میں فرق
اگر دین اور جان و مال کو یقینی ضرر کا خدشہ لاحق ہوچکا ہو تو اس ضرر سے بچنے کے لیے تقیہ اختیار کرنے کی گنجائش ہے، جس کے تفصیلی احکام بیان کردیے گئے، مگر روافض کے یہاں تقیہ کا مفہوم اس سے مختلف ہے۔ ان کے نزدیک اگر کسی سے ذرہ بھر بھی ضرر کا خدشہ ہو یا اظہار ِ عقیدہ سے کوئی نفع رکنے کا خطرہ ہو تو تقیہ جائز اور واجب ہوجاتا ہے۔ اس لیے ان کے یہاں تقیہ افضل اور عزیمت ہے ۔اس کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں۔

چناں چہ اصول کافی میں ہے:
قال ابو جعفر علیہ السلام؛ التقیة من دینی ودین أبائی لا إیمان لمن لا تقیة لہ․(أصول کافی، کتاب الإیمان والکفر:2/219)

ابو جعفر نے فرمایا:تقیہ میرا اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے، جس میں تقیہ نہیں اس میں ایمان نہیں۔

شامی میں ہے:
ابو عبداللہ نے فرمایا: دین کے نوے حصے تقیہ میں ہیں اور جو شخص تقیہ نہ کرے اس کا کوئی دین نہیں، تقیہ ہر چیز میں ہے، سوائے نبیذ اور موزوں پر مسح کرنے میں (کیوں کہ مخالفین ان چیزوں پر مجبور نہیں کرتے، لہٰذا جوچاہے بلا تقیہ ان کو ترک کردے، از مترجم)۔ (الشافی ترجمہ اصول کافی:4/140، مترجم ظفر حسین نقوی،شمیم بک ڈپو، کراچی)

چوں کہ نبیذ کی حلت وحرمت اور موزوں پر مسح کے متعلق اہل سنت کا اختلاف ہے۔ اس لیے اہل سنت کے باہمی فروعی اختلاف کے پردے میں اپنے مسلک پر عمل کرنے میں تقیہ ضروری نہیں سمجھتے، اس لیے انس بن مالک رحمة اللہ علیہ نے تین چیزوں کو اہل سنت کا شعار اور علامات قراردیا۔ حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرنا، حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہما کو مطعون نہ کرنا اور موزو ں پر مسح کرنا۔ ( شرح العقائد النفیة) روافض سے اہل سنت کا اختلاف اصولی ہے، مگر ان سب میں روافض تقیہ سے کام لیتے ہیں، سوائے مذکورہ چیزوں کے ان میں تقیہنہ کرنا ان کے یہاں درست نہیں، اس لیے کہ انس بن مالک نے انہیں اہل سنت کی علامات قراردیا۔

ان کے بعض آئمہ کا یہ قول بھی معروف ہے جس نے کسی سنی کے پیچھے تقیہ کرکے نماز پڑھ لی گویا اس نے نبی کے پیچھے نماز پڑھی۔(بحوالہ روح المعانی، آل عمران ذیل آیت:28)

روافض کو تقیہ کرنے کی ضرورت کیوں؟
روافض جن اصحاب کو اپنا ائمہ قرار دیتے ہیں مثلاً حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین، اما م جعفر صادق وغیرہ رضی الله عنہم ،ان کی حیات مبارکہ کے تمام عملی مظاہر اہل سنت کے موافق تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شیرخدا، حیدر کرار ہونے کے باوجود خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت کی،ان کے فیصلو ں کو قبول فرمایا، ان کے وزیر و مشیر بنے،ان کے ہدایا قبول کیے، ان کے ساتھ رشتہ داریاں نبھائیں۔ ان ائمہ کے عملی مظاہر روافض کے باطل مذہب پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ روافض نے اپنے باطل دین کو بچانے کی صورت”تقیہ“ کی شکل میں ڈھونڈ لی اور ان تمام ائمہ کرام کے ایسے تمام افعال و اقوال جو اہل سنت کے موافق تھے انہیں تقیہ قرار دے کر اظہار برأت کرلی۔

حالاں کہ نہج البلاغة، جسے روافض کتاب اللہ کے بعد اصح الکتب سمجھتے ہیں اس میں حضرت علی کا ایک قول مذکور ہے جس میں آپ نے فرمایا:
”علامة الإیمان ایثارک الصدق حیث یضرک علی الکذب ینفعک“․(أحکام القرآن للتھانوی، آل عمران، ذیل آیت:28)

”ایمان کی علامت یہ ہے جب تمہیں جھوٹ فائدہ پہنچائے اورصدق سے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس وقت تم سچ کو جھوٹ پر ترجیح دو“۔

علامہ آلوسی رحمة اللہ علیہ نے روح المعانی میں تفصیل کے ساتھ تقیہ کی تردید کی ہے۔ تقیہ بمعنی اکراہ یعنی جانی و مالی دفع ضرر کے لیے بامر مجبوری،خلاف عقیدہ کا اظہار کرنا تو ہمارے نزدیک درست، مگر ہمارے اور رافضیوں کے تقیے میں کئی لحاظ سے فرق ہے۔

اہل سنت کے نزدیک دفع ضرر کے لیے جائز ہے۔ روافض کے نزدیکجلب منفعت کے لیے جائز ہے ۔ مفادات کے حصول کے لیے تقیہ کرنا شیعوں کی روایت ہے۔

اہل سنت کے نزدیک تقیہ رخصت ہے، عزیمت نہیں ،یعنی بوجہ مجبوری گنجائش ہے، لیکن بہتر نہیں۔ جب کہ روافض کے نزدیک تقیہ کرنا عزیمت ہے، دین ہے، اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے اور تقیہ کرنا واجب ہے۔ ( احسن الفوائد فی شرح العقائد، ص: 280، محمد حسین بالغدیر پرنٹنگ پریس، سرگودھا)

اہل سنت کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان کی خلافت کے حق ہونے کی گواہی دی، جب کہ روافض کہتے ہیں بطور تقیہ ان کی خلافت قبول فرمائی۔

اہل سنت کے نزدیک انبیاء علیہم السلام دین و احکام ، تبلیغ ایمان میں تقیہ نہیں کرتے۔(المبسوط للسرخسی:2/5، فتح الباری:12/211، المکتبة السلفیة)مگر روافض کے نزدیک انبیاء علیہم السلام نے بھی تقیہ کیا۔ (دیکھیے، شیعوں کی کتاب روشن حقائق اور اختلاف امت:1/177، طبع مرکزمہدی، بلند شہر، انڈیا)

روافض کے نظریہ تقیہ پر چند سوالات
تقیہ اگر واجب تھا تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں تیرہ سال تک مشرکین کی اذیتوں کو کیوں برداشت کیا؟ اور بالآخر ہجرت پر کیوں مجبور ہوگئے۔ آپ علیہ السلام کی مکی زندگی رافضیوں کے نظریہ تقیہ کو جڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیتی ہے۔

ایک طرف تو روافض کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے ائمہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موت و زندگی پر اختیار ہوتا ہے، غیب کا علم ہوتا ہے، بے انتہا شجاعت اور بہادری ان میں ہوتی ہے ۔ دوسرے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ انہوں نے پوری زندگی تقیہ کے پردے میں گزاری۔ ان دونوں میں ایسا تناقض ہے جسے تھوڑی سے عقل رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے۔ عقلی طور پر ان میں سے ایک دعوی ہی درست ہوسکتا ہے، اگر وہ بہادرتھے اور علم غیب موت و زندگی پر مکمل اختیار رکھتے تھے تو پھر تقیہ باز نہیں ہوسکتے۔ اگر تقیہ باز تھے تو پھر بہادر اور موت وزندگی پر اختیار سے محروم تھے۔

اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلفاء ثلاثہ کے عہد میں تقیہ کیا تو پھر اپنے عہد خلافت میں تقیے کی چادر کیوں نہ اتار پھینکی؟ ہم دیکھتے ہیں وہ اپنے عہد خلافت میں بھی خلفائے ثلاثہ کی مدح کرتے تھے، انہیں خلفائے برحق سمجھتے تھے ۔ روافض کے پاس اس کا بھی کوئی جواب ہے؟

اگر تقیہ واجب ہے تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کربلا کے میدان میں تقیہ نہ کرکے گناہ گار ہوئے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ (جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.