جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

یہود و نصاری کے افکار و نظریا ت کی تردید

شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خانؒ

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ أُوتُوا نَصِیبًا مِّنَ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ إِلَیٰ کِتَابِ اللَّہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلَّیٰ فَرِیقٌ مِّنْہُمْ وَہُم مُّعْرِضُونَ، ذَٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَیَّامًا مَّعْدُودَاتٍ وَغَرَّہُمْ فِی دِینِہِم مَّا کَانُوا یَفْتَرُونَ، فَکَیْفَ إِذَا جَمَعْنَاہُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیہِ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ، قُلِ اللَّہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَن تَشَاء ُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاء ُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاء ُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاء ُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ إِنَّکَ عَلَیٰ کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ، تُولِجُ اللَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَتُولِجُ النَّہَارَ فِی اللَّیْلِ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَاء ُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴾ (سورة آل عمران:27-23)

”کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جن کو ملا کچھ ایک حصہ کتاب کا اُن کو بلاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف، تاکہ وہ کتاب انہیں حکم کرے، پھر منھ پھیرتے ہیں بعضے ان میں سے تغافل کرکےo یہ اس واسطے کو کہتے ہیں وہ ہم کو ہر گز نہ لگے گی آگ دوزخ کی ،مگر چند دن گنتی کے اور بہکے ہیں اپنے دین میں اپنی بنائی ہوئی باتوں پر oپھر کیا ہوگا حال جب ہم ان کو جمع کریں گے ایک دن کہ اس کے آنے میں کچھ شبہ نہیں اور پورا پاوے گا ہر کوئی اپنا کیا اور ان کی حق تلفی نہ ہوگیoتو کہہ یا اللہ مالک سلطنت کے! تو سلطنت دیوے جس کو چاہے اور سلطنت چھین لیوے جس سے چاہے اور عزت دیوے جس کو چاہے اور ذلیل کرے جس کو چاہے، تیرے ہاتھ ہے سب خوبی، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہےo تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرے دن کو رات میں اور تو نکالے زندہ مردہ سے اور نکلے مردہ زندہ سے اور تو رزق دے جس کو چاہے بے شمار“۔

یہود ونصاری کے افکار و نظریا ت کی تردید
﴿﴿أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ﴾
اہل کتاب بالخصوص یہود کی فطرت و سرشت سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ اختلاف ان کا باہمی ہو یا اہل ایمان کے ساتھ، انہیں جب اس عملی اور فکری اختلاف کے تصفیے کے لیے اللہ کی کتاب (خواہ وہ تورات ہو یا قرآن کریم) کی طرف بلایا جائے تو ان کا ایک گروہ کتاب اللہ کو مدار حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ یہ غرور اور گھمنڈ صرف اسرائیلی نسب کی وجہ سے ہے۔ انبیاء کی اولاد ہونے کے ناتے خوف آخرت سے مستغنی ہوگئے اور یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ اگر ہمیں آخرت میں عذاب جہنم سے دوچارکیاگیا تو وہ بھی ان چند دنوں کے لیے ہوگا جس میں ہمارے آباء و اجداد نے بچھڑے کی عبادت کرکے شرک کا ارتکاب کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے﴿ وَ وُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ﴾سے اس خود ساختہ عقیدے کی تردید فرمائی۔

﴿أُوْتُواْ نَصِیْباً مِّنَ الْکِتٰب﴾
اس سے تورات کا آسمانی کتاب ہونا ثابت ہوا، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی تعلیمات کا اصل حصہ کچھ ہی رہ گیا ہے بقیہ تحریف کی نظر ہوگیا۔ اس کی حقیقی تعلیمات وہی کہلائیں گی جو قرآن کریم اور احادیث رسول میں بیان کردہ تعلیمات کے موافق ہوں گی، عقلی نقلی تعارض، شرک و ابہام پر مشتمل تعلیمات کا حقیقی آسمانی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔

نصاری کے عقیدہ کفارہ کے تردید
مسیحی حضرات کا عقیدہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے جنت میں ممنوعہ درخت کھاکر پہلی بار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس نافرمانی اور گناہ کا اثر آپ کی تمام اولاد میں منتقل ہوا اور پوری انسانیت پیدائشی گناہ گار ٹھہری۔ اصطلاح میں اسے ”موروثی گناہ“ کہا جاتا ہے۔

اس گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ پر واجب ہے، اگر وہ عالم انسانیت سے اس گناہ کو معاف فرمادے تو یہ خلاف عمل ہے اور اگر اس کی سزا حضرت انسان کو دے دے تو یہ اس کے رحم کے خلاف ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان سے اس گناہ کے بوجھ کو ختم کرنے کے لیے اپنے بیٹے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا اور انہوں نے پورے عالم انسانیت سے اس گناہ کا کفارہ ”موت“ کی شکل میں صلیب پر دے دیا۔ اب حضرت انسان اس موروثی گناہ سے دھل گئے، اب اپنے حقیقی جائے سکونت جنت میں آسکتے ہیں یہ ہے مسیحیوں کا عقیدہ کفارہ۔

مسیحیوں کا یہ عقیدہ کفارہ عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں غلط ہے۔

٭…حضرت آدم عليه السلام نے بالقصد نافرمانی نہیں کی، بلکہ بھولے میں یہ خطا اجتہادی ہوئی تھی۔ ﴿فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہُ عَزْمًا﴾ قرآنی آیت نے اس حقیقت سے پردہ اٹھادیا ہے۔ نیز اس کی تفصیل سورہٴ بقرہ میں گزرچکی ہے۔

٭…ان سے جو خطا ء اجتہادی بھولے میں صادر ہوگئی تھی اسے جنت میں معاف کردیا گیا تھا۔ دنیا میں ان کی بعثت ایک تکوینی امر کے پیش نظر تھی ،نہ کہ سز ا کے طور پر ۔ آپ کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی مجلس میں اعلان کیا تھا ﴿إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً﴾یعنی میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔اس لیے دنیا میں بطور امتحان آنا تھا۔ آپ علیہ الصلاة والسلام کا مقصد تخلیقی یہی تھا۔

٭…گناہ کی سزاد ینا اللہ تعالیٰ کا عدل ہے اور معاف کرنا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ گناہ کی سزا دینا اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے۔ وہ قادر مطلق ذات ہے۔ اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا اور نہ ہی یہ مخلوق کو حق ہے۔

٭…نیز یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ گناہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا اور گناہ گار تاقیامت آنے والی انسانیت ٹھہری: ﴿وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ﴾سے اللہ تعالیٰ نے اسی نظریے کی تردید فرمائی ہے۔ ہر شخص کو صرف اپنے عمل کا اچھا برا بدلہ دیا جائے ۔ باپ کے گناہ کی سزا اولاد کو دینا، باپ کے گناہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے معصوم بچے کو گناہ گار قراردینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ عدل الٰہی کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خلاف عدل معاملہ کرکے ظلم نہیں کرتا، بلکہ بائبل میں بھی مذکور ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔

چناں چہ مرقوم ہے:
”جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی ، بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گااور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ، صادق کی صداقت اسی کے لیے ہوگی اور شریر کی شرارت شریر کے لیے“۔(حزقی ایل۔ باب: 18، آیت:20)

٭…بائبل میں ہے:”آدم نے فریب نہیں کھایا، بلکہ عورت فریب کھاکر گناہ میں پڑگئی، لیکن اولاد ہونے سے نجات پائے گی“۔(تیمتھیس، باب:2، 14-15) اس عبارت سے معلوم ہواکہ بچہ جننے اور درد زہ کی تکلیف سہنے کے بعد گناہ صاف ہوگیا، پھر حضرت مسیح علیہ السلام نے کس کا کفارہ دیا؟ اگر یہ کفارہ صرف حضرت آدم کی طرف سے ہوا تو پھر حوا کی بیٹی ابھی تک درد زہ کی تکلیف کیوں اٹھارہی ہے؟ حالاں کہ اول بچے کی پیدائش کے ساتھ یہ سزا معاف ہوگئی ، کفارہ ادا ہوگیا۔

٭…نیز بائبل میں یہ بھی ہے کہ مرد کو پیدائشی گناہ کی سزا یہ ملی کہ”تو اپنے منھ کے پسینے کی روٹی کھائے گا“۔(پیدائش، باب:19-3) اگر حضرت مسیح علیہ السلام اس پیدائشی گناہ کا کفارہ ادا کرچکے ہیں تو ابھی تک حضرت انسان منھ کے پسینے کی مشقتیں جھیل کر روٹی کیوں کھارہاہے؟

٭…اگر منھ کے پسینے کی روٹی اس گناہ کی سزا تھی تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کے کسب معاش سے مل گئی، پھر اس کے کفارے کے لیے حضرت مسیح کی قربانی کیوں دینی پڑی؟

٭…گناہ جنت میں صادر ہوا،اس کی سزا ہزاروں سال بعد دی گئی، بغیر کفارہ گناہ کے مرنے والے انسانوں پر رحمت الٰہی کو جوش کیوں نہیں آیا؟

٭…مسیحیوں سے ایک سوال یہ بھی ہے جب عالم انسانیت کے پیدائشی گناہ کا کفارہ حضرت مسیح نے دے دیا ہے تو اب غیر مسیحی اقوام پاک صاف اور جنت کی مستحق ٹھہریں یا نہیں؟اگر نہیں تو کیوں؟ کیا حضرت مسیح نے بعض انسانوں کی طرف سے یہ سزا جھیلی تھی یا کل انسانوں کے لیے؟

اگر بعض انسانوں کی طرف سے کفارہ دیا تھا تو یہ کفارہ ناقص ہوا اور انسان تاحال محتاج کفارہ ہے اور اگر پوری انسانیت کی طرف سے دیا تھا تو پھر غیر مسیحی اقوام کو بھی اس گناہ سے پاک اور جنت کا مستحق سمجھا جائے۔

ممکن ہے کوئی مسیحی اس کا جواب یہ دے کہ یہ کفارہ انہی لوگوں کے ساتھ مشروط ہے جو بپتسمہ کی رسم پوری کریں گے، لیکن اس جواب پر سوال اٹھتا ہے کہ کفارہ کے لیے بپتسمہ کی رسم کیوں؟ کیا اس کا حکم حضرت مسیح علیہ السلام نے دیا تھا؟ نیز حضرت مسیح کی مفروضہ قربانی سے پہلے ، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک بے شمار لوگ اس رسم کو بپتسمہ کو ادا کیے بغیر مرگئے ان کی مغفرت کیسے ہوگی؟ ان انسانوں کا پیدائشی گناہ کیسے دھلے گا؟

٭…مسیحی عقیدہ کفارہ میں یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ ایک ادنی چیز کے کفارے میں اعلیٰ چیز قربان کر دی جائے کیوں کہ اعلیٰ چیز کے لیے ادنیٰ چیز قربان ہوتی ہے۔ جان کا کفارہ مال بنتا ہے، کیوں کہ انسانی جان ما ل سے ارفع اور محترم ہے۔ چناں چہ بائبل میں ہے ”آدمی کی جان کا کفارہ اس کا مال ہے“۔( امثال، باب: 13، 8) لیکن انسان کے گناہ کا کفارہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو انسانی مجسمہ بناکر صلیب پر چڑھادیا، یعنی ادنیٰ کے لیے اعلیٰ قربان ہوگیا۔ جو عقلاً کسی طرح درست نہیں۔

٭…بائبل کی نئی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام (بزعم نصاریٰ) گناہ گار تھے، چناں چہ پولس ایک جگہ لکھتا ہے“اس لیے کہ جو کام شریعت جسم کے سبب سے کمزور ہوکر نہ کرسکی، وہ خدا نے کیا، یعنی اپنے بیٹے کو گناہ آلودہ جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لیے بھیج کرجسم میں گناہ کی سزا کا حکم دیا“۔(رومیوں، باب: 2، 3)، اسی طرح انجیل مرقس میں ہے کہ یسوع (حضرت مسیح علیہ السلام) نے گناہ سے پاک ہونے کے لیے یوحنا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام)سے بپتسمہ لیا تھا۔ (انجیل مرقس، باب:1،9)

اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام خود گناہ آلودہ تھے، ایک گناہ آلودہ ذات سے دوسروں کے گناہوں کا کفارہ کیسے لیا جاسکتا ہے؟

پروفیسر میاں منظور احمد لکھتے ہیں:
”کفارے کا عقیدہ چوں کہ عقل و فکر اور فطرت انسانی کے خلاف ہے اور نتائج کے لحاظ سے خوف نا ک بھی، لہٰذا عیسائی دنیا کی اکثریت کے اس اصرار کے باوجود، ہمیشہ اس کے خلاف کسی نہ کسی رنگ میں صدائے ردو احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے، لیکن اسے چھوڑنے کا نتیجہ پولس کی تحیر کردہ عیسائیت کی عظیم عمارت کا انہدام تھا، لہٰذا مخالفانہ آوازیں ہمیشہ صدا بصحرا ثابت ہوتی رہیں ہیں ۔ آج بھی عیسائیت کے تمام بڑے فرقے اس عقیدے پر متفق ہیں۔

انسان کے پیدائشی گناہ گار ہونے کا عقیدہ ،جس پر کفارے کا عقیدہ قائم کیاگیا ہے، کسی آسمانی کتاب میں نہیں پایا جاتا۔ اب تو خود کیتھولک علماء بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ بائبل میں اس عقیدے کی کوئی بنیاد نہیں، ایک جرمن عیسائی ہربرٹ باگ نے”کیا پیدائشی گناہ مذہبی کتابوں میں موجود ہے؟“ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، اس میں وہ لکھتا ہے کہ تیسری صدی تک یہ عقیدہ عیسائیوں میں موجود نہ تھا کہ انسان پیدائشی گناہ گار ہے۔ (تقابل ادیان ومذاہب، ص:105، علمی بک ہاوس، لاہور) (جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.