جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

دنیاوی مال و متاع سے محبت محمود ہے یامذموم؟

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاء وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِکَ مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَاللّہُ عِندَہُ حُسْنُ الْمَآب، قُلْ أَؤُنَبِّئُکُم بِخَیْْرٍ مِّن ذَلِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّہِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّہِ وَاللّہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ، الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ،الصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْمُنفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالأَسْحَارِ﴾․ (آل عمران، آیت:14-17)
ترجمہ :”فریفتہ کیا ہے لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کیے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے اور مویشی اور کھیتی، یہ فائدہ اٹھانا ہے دنیا کی زندگی میں اور اللہ ہی کے پاس ہے اچھا ٹھکانہ،کہہ دے کیا بتاؤں میں تم کو اس سے بہتر؟ پرہیزگاروں کے لیے اپنے رب کے ہاں باغ ہیں جس کے نیچے جاری ہیں نہریں، ہمیشہ رہیں گے ان میں اور عورتیں ہیں ستھری اور رضامندی اللہ کی اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے،وہ جو کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے ہیں، سو بخش دے ہم کو گناہ ہمارے اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے،وہ صبرکرنے والے ہیں اور سچے اور حکم بجالانے والے اور خرچ کرنے والے اور گناہ بخشوانے والے پچھلی رات میں۔“

ربط:گزشتہ آیات میں کفار پر واضح کردیاگیاتھا کہ جن اولاد اور مال کی محبت میں حق کونظر انداز کیا جارہا ہے وہ مال اولاد برے انجام کے موقع پرکسی طرح کام نہ آئیں گے۔ اب یہاں سے اس مال و اولاد کی مزید تشریح کی جارہی ہے ، جس کی محبت میں انسان یاد حق سے غافل ہوکر دنیا و آخرت برباد کربیٹھتاہے۔ اس کے بعد آخرت کی ترغیب دیتے ہوئے ایمان و تقویٰ اور اس کے لوازمات کا بیان کیاگیاہے۔

دنیاوی مال و متاع سے محبت محمود ہے یامذموم؟
تزئین کسی چیز کو خوب صورت کردینے اور اس کی محبت خانہ دل میں اتاردینے کا نام ہے۔ ہر انسان کے نہاں خانہ دل میں دنیاوی مال و متاع کی محبت طبعی طورپرموجود ہے۔ یہ محبت و رغبت کس نے رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے یا شیطان نے؟ قرآن کریم میں اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ثابت ہے اور شیطان کی طرف بھی۔ مثلاً اسی آیت میں زُیّن کا نائب فاعل اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہے۔

اسی طرح سورة حجرات میں ہے:﴿وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمْ الإِیْمَانَ وَزَیَّنَہُ فِیْ قُلُوبِکُم﴾( الحجرات:70) ترجمہ:”پر اللہ نے محبت ڈال دی تمہارے دل میں ایمان کی۔“ اسی طرح سورة انعام میں ہے:﴿کَذَلِکَ زَیَّانَا لِکُلِّ أَمَةٍ عَمَلَھُمْ﴾”اسی طرح ہم نے مزین کردیا ہر ایک فرقہ کی نظر میں ان کے اعمال کو۔“

بعض آیات میں اس کی نسبت شیطان کی طرف بھی کی گئی ہے، جیسے سورة نمل میں ہے:﴿وَزَیَّنَ لَھُمْ الْشَیْطَانُ أَعْمَالَھُم﴾․(النمل:24) ”اور بھلے دکھلارکھے ہیں ان کو شیطان نے ان کے کام۔“

علمائے کرام نے تزیین رحمانی اور تزیین شیطانی میں فرق کیا ہے۔ دنیا کے سازو سامان کی طبعی محبت اللہ تعالیٰ نے ہر انسانی فطرت میں ودیعت کردی ہے۔ اس سے کسی کو مفر نہیں، اس لیے اس طبعی محبت کے خاتمے کی دعا کرنا بھی درست نہیں ہے۔ یہ طبعی محبت مسلمانوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ ہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:﴿إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلیٰ الاَرْضِ زِیَنَةً لَھَا لِنَبْلُوْھُمْ أَیُّھُمْ اَحْسَنَ عَمَلاً﴾․( الکھف:7)”ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اس کی رونق تاکہ جانچیں لوگوں کو کون ان میں اچھا کرتا ہے کام۔“

لہٰذا اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ احکام اور حدود میں رہتے ہوئے دنیاوی مال متاع سے فائدہ اٹھانا اور اس سے لو لگانا، اس کے ذریعے اپنی آخرت سنوارنا نہ صرف محمود ہے، بلکہ مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰہِ الّٰتِیْ أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَیِّبٰتِ مِنَ الرَّزْقِ قُلْ ھِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِیْ الْحَیٰوَةِ الْدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقَیَامَةِ﴾ (الاعراف:32) ترجمہ:”تو کہہ کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جوا س نے پیدا کی اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کی؟تو کہہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں، خالص انہی کے واسطے ہیں قیامت کے دن۔“

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے جب مال پیش کیاگیا تو آپ نے فرمایا:”اللھم إنا لا نستطیع إلّا أن نفرح بما زینت لنا“․ (احکام القرآن للقرطبی، البقرة، ذیل آیت:212)

تزیین شیطانی یہ ہے کہ شیطان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ مال و اولاد کی فطری محبت میں وسوسے ڈال کر اس محبت کو احکام خداوندی کی حدود سے ماوریٰ کردیتا ہے۔ جب یہ محبت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ذریعہ بن جائے تو اس کی نسبت شیطان کی طرف ہوگی ،یہ محبت مذموم ہے۔

اہل ِسنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ انسان کے ہر عمل کاحقیقی خالق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، چوں کہ نافرمانی کے اعمال کا ذریعہ شیطان لعین بنتا ہے ۔ اس لیے اس کی نسبت شیطان کی طرف کردی جاتی ہے۔

دنیا کے تمام سازوسامان کی محبت انسانی قلوب میں رکھی گئی ہے، لیکن آیت کریمہ اس فطری محبت کو چھ چیزوں (عورت، بیٹے، سوناچاندی، گھوڑے ، مویشی اور کھیتی باڑی) میں منحصر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انسان کی معاشی خوش حالی میں بنیادی دخل انہی چھ چیزوں کا ہوتا ہے۔نیز انسان کی دنیاوی تگ و دو کا محور بھی یہی چھ چیزیں ہوتی ہیں اور لوگ ان چیزوں کو ہر صورت میں اچھا سمجھتے ہیں۔ ان کے مضر اثرات پر ان کی توجہ نہیں جاتی۔

پہلی چیز عورت
انسانی دلوں میں جن چیزوں کی رغبت رکھی گئی، ان میں عورت کو سب سے پہلے بیان کیا۔ اسے پہلے ذکر کرنے کی تین وجوہات ہیں:
1..امت مسلمہ کے حق میں سب سے بڑی آزمائش عورت کی رکھی گئی ہے۔ عورت کا فتنہ تمام اشیا سے بڑا فتنہ ہے۔چناں چہ آپ علیہ السلام سے منقول ہے:مَا تَرَکْتُ لِاُمَّتِیِ فِتْنَةً أَشَدَّ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ“میں عورتوں سے بڑھ کر کوئی آزمائش امت کے لیے چھوڑ کرنہیں جارہا۔ (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب شؤم المرأة، رقم الحدیث:5096) عورت کے ذریعے آزمائش کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے تاحال جاری ہے۔
2..دنیا کے سارے سازو سامان میں ایک فتنہ ہوتا ہے (وہ آخرت سے غافل کرنے کا)مگر عورت کی ذات میں دو فتنے پنہاں ہوتے ہیں۔ آخرت سے غافل کرنے کا اور قطع رحمی کا، ان کی محبت میں غلو کرنے والا انسان انہیں کی وجہ سے قطع رحمی شروع کردیتا ہے۔(تفسیرالسمرقندی، اٰل عمٰران، ذیل آیت:14)
3..عورتو ں کی لذت تمام مادی لذتوں کی سردار ہے۔(تفسیر کبیر، اٰل عمران، ذیل آیت:14)

جائز حدود میں رہتے ہوئے ان سے محبت کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا مطلو ب بھی ہے، محمود بھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں میاں بیوی کی باہمی محبت کو اپنی قدرت کی نشانی قراردیا ہے۔

﴿وَمِنْ آیِاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفَُسِکُمْ اَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوْا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مُوَدَّةً وَّرَحْمَةً ﴾(الروم:31) ترجمہ:”اوراس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ بنادیے تمہارے واسطے تمہاری قسم سے جوڑے کہ چین سے رکھوگے پاس اور رکھا تمہارے بیچ میں پیار اور مہربانی۔“

حضرت انس رضی ا للہ عنہ سے منقول ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے متعلق ارشاد فرمایا:”دنیامیں تین چیزوں کی محبت میرے دل میں رکھی گئی ہے۔ عورتیں، خوش بو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ (سنن النسائی، مطبوعہ نورمحمد:2/93)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے“۔ ( صحیح مسلم، مطبوعہ نورمحمد:1/475)

دوسری چیزبیٹے
مرغوبہ اشیاء میں دوسرے نمبر پر بیٹوں کا تذکرہ ہے۔ بیٹے خاندان میں افرادی قوت، جنگ و جدال اور مال کمانے میں بڑے معاون ہوتے ہیں۔ بیٹوں کے زریعے دوسروں پر فخراور رعب جمایا جاتا ہے، اس لیے خصوصی طورپر بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کا تذکرہ فرمایا۔

اولاد کی محبت عموماً انسان کو راہ حق سے ہٹادیتی ہے یا ان کی محبت قبول ِ حق میں رکاوٹ بنتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:﴿إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَةٌ﴾․(التغابن:15)
ترجمہ:”تمہارے مال اور تمہاری اولاد یہی ہے جانچنے کو۔“

ان کی محبت میں افراط پر متنبہ کرنے کے لیے فرمایا:﴿یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلاَ أَوْلاَدُکُمْ عَنْ ذِکْرِا للّٰہِ﴾․ (المنافقون:9) ترجمہ:”اے ایمان والو!غافل نہ کردے تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے۔“

اولاد کے متعلق آپ علیہ السلام نے فرمایا:”الولدُ مبخَلَةٌ مجبنةٌ“ ترجمہ:”بچہ بخل اور بزدلی کا ذریعہ ہے۔“ اس کے لیے بچابچاکر مال رکھا جاتا ہے۔ اس کے ضائع ہوجانے کے ڈرسے جنگ وجدال سے خوف کھاتا ہے۔

اگر اولاد سے محبت دائرہ شریعت میں ہو اور ان سے تعلق کی ساری کیفیتیں رضائے الٰہی کا ذریعہ ہوں تو پھر اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے۔ والدین کے لیے دنیا و آخرت میں رفع درجات کا ذریعہ ہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے مقام مدح پر اپنے انعامات کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان فرمایا:﴿وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً وَجَعَلَ لَکُمْ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَةً﴾․(النحل:72)”اوراللہ نے پیدا کیں تمہارے واسطے تمہاری ہی قسم سے عورتیں اور دیے تم کو تمہاری عورتوں سے بیٹے اورپوتے۔“

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:﴿وَیَمْدَدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ وَیَجْعَلَ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ اَنْھَاراً﴾․ (النوح:12) ترجمہ:”اوربڑھادے گا تم کو مال اور بیٹوں سے اور بنادے گا تمہارے واسطے باغ اور بنادے گا تمہارے لیے نہریں۔“

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے۔ صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے استفادہ کیا جائے۔ یا نیک بیٹا جو والدین کے حق میں دعا کرتا رہے۔ (سنن أبوداود: 2/42)

عورتوں اور بچوں کی محبت انسانی دل میں ودیعت کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ یہ محبت بقائے نسل کا ذریعہ ہے اور بقائے نسل ذریعہ ہے بقائے عالم کا۔ اگر عورتوں بچوں کی رغبت انسانی فطرت میں نہ رکھی جاتی تو توالد وتناسل کا سلسلہ باقی نہ رہتا، دنیا کے کئی جانوروں کی طرح انسانی نسل بھی ناپید ہوجاتی۔

تیسری چیزمال، سونے چاندی کا ڈھیر
مرغوبہ اشیا میں تیسرا تذکرہ مال کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ”اَلْقَنَاطِیْر الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الْذَّھَبِ وَالْفِضَّة“کی تعبیر اختیار فرمائی ہے۔ قناطیر قنطار کی جمع ہے، سونے کا ایک قنطار سترہ کلوگرام کا ہوتا ہے، قناطیر کے وزن کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ راجح یہ ہے کہ اس کی خاص تحدید مراد نہیں ہے، بلکہ مطلقاًڈھیر مراد ہے۔ (لسان العرب)

”مقنطرة“ تاکید کے لیے آیا ہے۔ آیت کریمہ کامطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی فطرت میں سونے چاندی کے جمع کرنے کی محبت رکھ دی گئی ہے۔ اموال میں سونے اور چاندی کا خاص تذکرہ اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ خِلقی طور پر ثمن ہے۔ دنیا کی تمام چیزوں کی قیمت بننے کی صلاحیت اس میں رکھی گئی ہے۔ جو سونے چاندی کا مالک ہوگیاگویا وہ تمام چیزوں کا مالک ہوگیا، اس لیے ان کی محبوبیت ذاتی ہے۔ (تفسیر کبیر للرازی، اٰل عمٰران، ذیل آیت نمبر14)

مال کی محبت انسانی کمزوری ہے، عموماً کثرت مال کا نتیجہ فتنہ وفساد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ خوش حالی عموماً انسان کو سرکشی پرآمادہ کرتی ہے، قرآن کریم میں ہے:﴿إِذَا اَرَدْنَا أَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَةٍ اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا﴾․( اسراء: 14) ترجمہ:”اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو ،حکم بھیج دیا اس کے عیش کرنے والوں کو، پھر انہوں نے نافرمانی کی اس میں۔“

اسی طرح مال کی محبت میں ڈوبے ہوئے انسان کی حالت زار بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلْھَکُمُ التُّکَاثِر،حَتَّی زُرْتُمُ المَقَابِرَ﴾․ (التکاثر: 1،2) ترجمہ:”غفلت میں رکھا تم کو بہتات کی حرص نے، یہاں تک کہ جادیکھیں قبریں۔“

لیکن اگر مال کی اسی فطری محبت کو احکام شریعت کا پابند بنا لیا جائے۔ حلال طریقوں سے حاصل کرکے حلا ل مصارف پر خرچ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کیے جائیں تو یہ مال اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام ہے، بلکہ ایسے مال کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل قراردیا ہے۔”وَاسْئَلُوْا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہ“
ترجمہ:”اور مانگو اللہ سے اس کا فضل۔“

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، آپ علیہ السلام نے فرمایا:”دوآدمی ایسے ہیں جن پر رشک کیا جانا چاہیے، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا، پھر اس شخص کو راہ حق پر مال خرچ کرنے کے لیے مسلط کر دیا ہو۔ دوسر اوہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (دینی علم اور سمجھ بوجھ) عطا فرمائی ہو اور وہ اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہو اور اس کی تعلیم دیتا ہو۔“

چوتھی چیز قیمتی گھوڑے
آیت کریمہ میں چوتھی چیز قیمتی گھوڑوں کا تذکرہ ہے۔ قیمتی گھوڑا وہ ہوتا ہے جو انتہائی تیز رفتار ہو، وفادار ہو، سرکش نہ ہو، جنگ وجدل کے معرکہ میں گھبرانے اور تھکنے والا نہ ہو۔ ایسے گھوڑوں پر مخصوص علامتیں لگادی جاتی تھیں ، جس سے وہ دوسرے گھوڑوں میں نمایا ں نظر آتا تھا، اس لیے قرآن کریم میں اس کی صفت ”المُسَوّمة“نشان زدہ بیان کی گئی۔ اعلیٰ اور قیمتی گھوڑوں کے لیے یہ لفظ بطور استعارہ بولا جاتا ہے۔ (تفسیر کبیر للرازی، اٰل عمران، ذیل آیت:14)

مشینی دور سے پہلے گھوڑا مال داری کی علامت سمجھا جاتا تھا، اس کی وجہ سے انسان احساس تفاخر میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک رحمن کے لیے، ایک انسان کے لیے، ایک شیطان کے لیے۔ رحمن کے لیے وہ گھوڑا ہے جسے اللہ کی راہ میں قتال کے لیے باندھا جائے، ا س کاچارہ اس کا بول وبراز اور ہر وہ چیز جسے اللہ چاہے (اس کے مالک کے حق میں) باعث اجر بنادے گا۔ انسان کا گھوڑ ا وہ ہے جسے وہ اپنی ضرورت کے لیے پالے اور وہ گھوڑا اس کے فقر پر پردے کا ذریعہ ہو۔ شیطان کا گھوڑا وہ ہے جس پر جُوّا یا شرط رکھی جائے (یعنی مقابلے بازی اور تکبر کے لیے رکھا جائے)۔“ (مسند احمد، رقم الحدیث:3756)

اس سے معلوم ہوا سواری اگرضرورت یا دین کے کام کی غرض سے رکھی جائے تو مذموم نہیں، اگر اس کی محبت میں غلو کرتے ہوئے اسے فخر اور تکبر کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ مذموم ہے۔ یہی حکم جدید دور کی جدید سواریوں کا ہے۔

پانچویں چیز مویشی
مرغوبہ اشیا میں پانچویں چیز مویشی ہیں، جس کے لیے قرآن کریم میں ”اَنعام“ کا لفظ ہے، اس سے گائے بیل، بھیڑبکریاں، اونٹ مراد ہیں۔ (تفسیر کبیر للرازي، اٰل عمٰران، ذیل آیت:14) دیہی علاقوں میں اسے مال داری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسے اپنی ضرورت کے لیے حدود شریعت میں رہ کر پالا جائے اور ان سے شغل رکھا جائے تو یہ محبت محمود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں کے فائدے ہی کے لیے پیداکیا ہے۔ چناں چہ قرآن کریم میں ہے: ﴿وَالأَنْعَامَ خَلَقَھَا لَکُمْ فِیْھَا دِفٴٌ…… وَیَخْلقُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ﴾․ (النحل:8-5) ”اورچوپائے بنادیے تمہارے واسطے ان میں جڑ ادل ہے اورکتنے فائدے اور بعضوں کو کھاتے ہو اور تم کو ان سے عزت ہے جب شام کو چراکرلاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو اور اٹھالے چلتے ہیں بوجھ تمہارے ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں مگر جان مارکر ، بے شک تمہارا رب بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے اورگھوڑے پیدا کیے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے اورپیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔“ (جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.