جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حبّ الٰہی کا راز اتباعِ رسول میں مضمر ہے

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿قُلْ إِن تُخْفُواْ مَا فِیْ صُدُورِکُمْ أَوْ تُبْدُوہُ یَعْلَمْہُ اللّہُ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأرْضِ وَاللّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْر، یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْْرٍ مُّحْضَراً وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَء ٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَیْْنَہَا وَبَیْْنَہُ أَمَداً بَعِیْداً وَیُحَذِّرُکُمُ اللّہُ نَفْسَہُ وَاللّہُ رَؤُوفُ بِالْعِبَادِ، قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْم، قُلْ أَطِیْعُواْ اللّہَ وَالرَّسُولَ فإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ، إِنَّ اللّہَ اصْطَفَی آدَمَ وَنُوحاً وَآلَ إِبْرَاہِیْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِیْن، ذُرِّیَّةً بَعْضُہَا مِن بَعْضٍ وَاللّہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴾․(سورہ آل عمران، آیت:34)
”تو کہہ اگر تم چھپالوگے اپنے جی کی بات یا اسے ظاہر کروگے ، جانتا ہے اس کو اللہ اور اس کو معلوم ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،جس دن موجود پاوے گا ہر شخص جو کچھ کہ کی ہے اس نے نیکی اپنے سامنے اور جو کچھ کہ کی ہے اس نے برائی ۔آرزو کرے گا کہ مجھ میں اس میں فرق پڑ جاوے دور کا اور اللہ ڈراتا ہے تم کو اپنے سے اور اللہ بہت مہربان ہے بندوں پر،تو کہہ اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ کی تو میری راہ پر چلو، تاکہ محبت کریں تم سے اللہ اور بخشے گناہ تمہارے اور اللہ بخشنے والا مہربا ن ہے، تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور رسول کا، پھر اگر اعراض کرے تو اللہ کی محبت نہیں ہے کافروں سے،بے شک اللہ نے پسند کیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کے گھر کو اور عمران کے گھر کو سارے جہاں سے،جو اولاد تھے ایک دوسرے کی اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

ربط و تفسیر
﴿قُلْ إِن تُخْفُواْ﴾……
سابقہ آیت میں کافروں سے موالات، دلی اور دوستانہ تعلق رکھنے سے منع کیا گیا ہے اور ساتھ ہی مجبوری کے وقت ان کے شر سے بچنے کے لیے بچاؤ کے طور پر کوئی حیلہ و تدبیر کی اجازت بھی دی گئی، ممکن ہے کوئی بدطینت اپنے ذاتی مفادات کے لیے کافروں سے خفیہ تعلقات بنالے یا ان کے ساتھ خفیہ معاہدے کرلے اور اپنے برے اعمال کو سند جواز بخشنے کے لیے تقیہ کی گنجائش سے غلط فائدہ اٹھانا چاہے ۔ اس آیت میں ایسے بدخصلت اور بہروپیوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر و باطن سے بخوبی واقف ہے، قیامت کے دن سارا کیا دھرا سامنے آجائے گا۔

حبّ الٰہی کا راز اتباعِ رسول میں مضمر ہے
﴿قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ…﴾
یہود و نصاریٰ کو اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ ہے۔ یہود کہتے ہیں:﴿نَحْنُ أَبْنَاء ُ اللَّہِ وَأَحِبَّاؤُہُ﴾نصاری کا جو وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس نے بھی کہا تھا :”إنما نعظم المسیح ونعبدہ حبّا للّٰہِ وتعظیماً لہ“․ (روح المعانی، آل عمران، ذیل آیت:31) ہم حضرت مسیح کی تعظیم اور عبادت اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی عظمت کی بنا پر کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ بھی بتوں کی عبادت اللہ تعالیٰ کی محبت و قربت حاصل کرنے کے لیے کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قول قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے:﴿ما نعبدھم إلا لیقربونا إلی اللّٰہ زلفی﴾․

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے محبت الٰہی کا ایک پیمانہ مقرر فرمادیا اور وہ ہے ”اتباع رسول“اس کے سوا ہر دعوی محبت جھوٹ ہے، ناقابل اعتبار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضامندی، اس کی نوازشہائے بے کراں اور دنیا وآخرت کی تمام کام یابیاں اسوہ رسول میں پنہاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت، انسانوں کے ساتھ تعلقات، زندگی کے ہر انفرادی واجتماعی پہلو میں ہمیں رسول اللہ کا دامن تھامنا ہوگا۔

ابن کثیر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:
یہ آیت کریمہ اس شخص کے متعلق فیصلہ کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے ،مگر اس کے انداز و اطوار رسول اللہ کے طریقے کے موافق نہیں ہیں ۔ ایسا شخص درحقیقت جھوٹا ہے، جب تک وہ شریعت محمدیہ کی پیروی نہ کرے اور اپنے تمام اقوال و افعال میں آپ علیہ السلام کے نقش قدم پر نہ چلے۔ (تفسیر ابن کثیر، آل عمران، ذیل آیت:32)

اگلی آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت سے اعراض کرنے پر فرمایا:﴿فإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْکَفِرِیْن﴾(پھراگر اعراض کریں تو اللہ کو محبت نہیں ہے کافروں سے) یہ تنبیہ اس پر دلالت کناں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے طور طریقوں سے اعراض کرنا کفر ہے۔ ( تفسیر ابن کثیر، آل عمران، ذیل آیت:32)

اگر کوئی شخص رسول اللہ کے اسوہ کو کسی دوسرے انسان ، لیڈر، قائد کے اسوے سے ہلکا سمجھتا ہے ، اس لیے اعراض برتتا ہے تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں اور اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا ،اگرچہ وہ کتنے ہی بلند بانگ دعوی محبت کرتے رہیں۔

اور اگر کوئی شخص رسول اللہ کے اسوے کو سب سے عمدہ اسوہ جانتے ہوئے غلبہ نفس و شیطان سے مجبور ہوکر غیروں کے طور طریقے کا شکار ہوجاتا ہے وہ کافر نہیں ہوتا، مگر سخت گناہ گار ضرورہوتا ہے۔

بدعت کی تردید
نیز اس آیت سے بدعت کی تردید ہوتی ہے۔ بدعت جس قدر نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے ناطے کی جائے تب بھی وہ مردود ہے، کیوں کہ وہ اسوہ رسول سے ہٹی ہوئی ہے۔ شیخ الحدیث مولانازکریا رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:

علامہ عینی رحمةاللہ علیہ نے کہا ہے:بدعت اصل میں اس نئے کام کے کرنے کو کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں:
1..اگر وہ کام کسی مستحسن شرعی کے تحت درج ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے۔
2..اور اگر وہ کام کسی مستقبح شرعی کے تحت درج ہو تو وہ بدعت مستقبحہ ہے۔ ( اوجز المسالک:2/5،38، دارالکتب العلمیة، بیروت)
﴿إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَیٰ آدَمَ وَنُوحًا﴾
یہود و نصاریٰ کو آپ کی رسالت کے متعلق کھٹکا لگارہتاتھا۔ یہ رسالت کا سلسلہ بنی اسرائیل میں تھا، بنو اسماعیل میں کیسے آگیا؟ اس آیت میں اس شبہ کا عقلی جواب دیا گیا۔ یہ انتخاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے ، یہ کوئی خاندانی، شخصی، علاقائی منصب نہیں ہے تو بہر صورت انہی میں برقرار رہے اور یہ تمام انبیاء ایک دوسرے سے نسبی تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء واجداد میں نبوت رہی ہے ،اب اگر یہ منصب حضور علیہ السلام کے پاس ہے تو اس میں حیرت وتعجب کی بات کیا ہے؟ حضرت آدم علیہ السلام کا تذکرہ سورہ بقرة میں گزرچکا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام عراق میں مبعوث ہوئے تھے، تورات کی روایت کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام سے دسویں پشت میں تھے، ان کا تذکرہ خاص طور پر کیاگیا ہے۔ آپ کا عہد شرک کا ابتدائی عہد ہے اور آپ سلسلہ نبوت کے پہلے نبی ہیں، جو مشرکوں کی ہدایت کے لیے تشریف لائے ، نیز آپ کو آدم ثانی کا لقب بھی حاصل ہے۔

آل ابراہیم کے تحت حضرت اسماعیل علیہ السلام آگئے، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد تھے۔

آل عمران: عمران کے نام سے دو تاریخی شخصیتیں گزری ہیں۔
1..حضرت موسی علیہ السلام کے والد گرامی کا نام بھی عمران تھا۔
2..حضرت مریم علیہا السلام کے والد ماجد کا نام بھی عمران تھا۔ یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں۔ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے عمران والد مریم علیہا السلام کو ترجیح دی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، آل عمران، ذیل آیت رقم:34)

حسن ووہب تابعین سے بھی یہی منقول ہے (روح المعانی، آل عمران، ذیل آیت رقم:34) اور بعض مفسرین نے اس سے حضرت موسی علیہ السلام کے والد ماجد کو بھی مراد لیا ہے۔ ( بحر العلوم، آل عمران، ذیل آیت رقم:34)

﴿إِذْ قَالَتِ امْرَأَةُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّراً فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ،فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّیْ وَضَعْتُہَا أُنثَی وَاللّہُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَیْْسَ الذَّکَرُ کَالأُنثَی وَإِنِّیْ سَمَّیْْتُہَا مَرْیَمَ وِإِنِّیْ أُعِیْذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْْطَانِ الرَّجِیْمِ، فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَہَا نَبَاتاً حَسَناً وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَہَا رِزْقاً قَالَ یَا مَرْیَمُ أَنَّی لَکِ ہَذَا قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِندِ اللّہِ إنَّ اللّہَ یَرْزُقُ مَن یَشَاء ُ بِغَیْْرِ حِسَاب﴾․ (سورہ آل عمران، آیت:37)
”جب کہا عمران کی عورت نے کہ اے رب! میں نے نذر کیا تیرے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد رکھ کر ، سو تو مجھ سے قبو ل کر بے شک تو ہی ہے اصل سننے والا، جاننے والا۔پھر جب اس کو جنا بولی اے رب! میں نے تو اس کو لڑکی جنا اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ میں نے جنا اور بیٹا نہ ہو جیسی وہ بیٹی اور میں نے اس کا نام رکھا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے۔پھر قبول کیا اس کو اس کے رب نے اچھی طرح کا قبول اور بڑھایا اس کو اچھی طرح بڑھانا اور سپرد کی زکریا کو۔ جس وقت آتے اس کے پاس زکریا حجرے میں پاتے اس کے پاس کچھ کھانا، کہا اے مریم! کہاں سے آیا تیرے پاس یہ؟ کہنے لگی یہ اللہ کے پاس سے آتا ہے، اللہ رزق دیتا ہے جس کو چاہے بے قیاس۔

تفسیر: قصہ حضرت مریم علیہا السلام
پچھلی آیتوں میں آل عمران کا اجمالی تذکرہ تھا۔ اس آیت سے ان کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔

﴿إذ قالت امرأت عمران…﴾
یہ عمران بن ماثان کی اہلیہ تھیں، ان کا نام حنہ بنت فاقوذا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ محترمہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کی نانی محترمہ تھیں۔ ان کی اولاد نہ تھی، بارگاہ الٰہی میں آہ و فغاں قبول ہوئی اور حمل ٹھہر گیا۔ اللہ تعالیٰ کا شکرانہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے نذر مانی میرے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ دنیاوی معاملات سے یکسو اور آزاد ہوکر اللہ تعالیٰ کے دین اور گھر کی خدمت کے لیے وقف ہوگا، لیکن جب انہوں نے بچہ جنا تو معلوم ہو ا کہ وہ لڑکا نہیں، لڑکی ہے اور لڑکی اپنی طبعی کم زوری کی بنا پر دین کی ایسی خدمات انجام نہیں دے سکتی جس طرح ایک لڑکا دے سکتا ہے۔

﴿واللّٰہ أعلم بما وضعت……﴾
یہ کس کا قول ہے؟ اس میں دو احتمال ہیں ۔ پہلااحتما ل یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اس نے جو جنا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ بات حضرت حنہ کے تحسرانہ کلمات کے جواب میں بطور تسلی کے فرمائی۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حضرت حنہ کا قول ہے۔ بچی کی پیدائش کے بعد کسی قسم کے شکوے کے اظہار کے بجائے اس کی حکمتوں کی طرف اشارہ فرمادیا ۔ چناں چہ ایک قرات”وضعت“متکلم کے صیغے کے ساتھ بھی ہے۔

﴿ولیس الذکر کالأنثی﴾
اس میں بھی دو احتمال ہیں۔ اگر یہ حضرت حنہ کا قول ہے تویہ تشبیہ مقلوبی ہے ۔ اصل میں یوں ہے”لیس الأنثی کالذکر“یعنی لڑکی لڑکے کے برابر نہیں ہوسکتی۔

اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے تو حضرت حنہ کو خبر دی جارہی ہے کہ جس لڑکے کی آپ نے دعا کی تھی وہ اس لڑکی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ دریں صورت لفظ ''الذکر'' میں الف لام عہد کا ہوگا۔

﴿وإنی سمیتھا مریم …﴾
حضرت حنہ نے اس نومولود بچی کا نام مریم رکھا۔ مریم سریانی زبان کا عجمی نام ہے۔ (زاد المسیر، آل عمران، ذیل آیت:36) اور اس کا معنی ہے اللہ کے گھر کی خادمہ۔ (أحکام القران للقرطبی، آل عمران، ذیل آیت:36) پھر اس کے اور اس کی آل و اولاد کے حق میں شیطان مردود سے پناہ مانگی۔ چناں چہ اس دعا کی برکت سے حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہونے کے بعد شیطان کے چھونے سے محفوظ رہے۔

آپ علیہ السلام سے مروی ہے کہ کوئی بھی بچہ ایسا نہیں ہے جسے پیدا ہونے کے بعد شیطان نے نہ چھوا ہو، اسی چھونے کی وجہ سے وہ زور زور سے روتا ہے، سوائے حضرت مریم اور ان کے بیٹے کے (وہ شیطانی مس سے محفوظ رہے)۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:3431)

قادیانی فریب
قادیانی ہمیشہ حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہما السلام کے متعلق ان کے فضائل و کمال کو داغ دار بنانے اور ان کی شان گھٹانے کے درپے رہتے ہیں۔ قادیانی حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق بن باپ کے پیدا ہونے کا یقین نہیں رکھتے، اس وجہ سے ایک قادیانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے:
”حضرت مریم کی والدہ کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ مریم کو باوجود ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کرنے کے ان کا یہ منشا نہ تھا کہ وہ کنواری رہے گی، بلکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ جوان ہوکر بیاہی جائے گی اور صاحب اولاد ہوگی، اس لیے انہوں نے مریم کے لیے دعا کی، بلکہ مریم کی اولاد کے لیے بھی“۔ ( بیان القرآن محمدعلی، آل عمران، ذیل آیت:36)

یہ ایک شیطانی مغالطہ ہے کہ حضرت حنہ کی دعا کو وحی کا درجہ دے کر اس سے اپنا مطلب کشید کرلیا۔ جس ماں کو اپنے عمل کے متعلق خبر نہ تھی کہ لڑکا ہے یا لڑکی، وہ اکثر مستقبل کی یقینی خبر کیسے دے سکتی ہے کہ وہ جوان ہوکر بیاہی جائے گی؟!

حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا شیطانی مسّ سے محفوظ رہنا
جیسا کہ گزرچکا ہے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام حضرت حنہ کی دعا کی برکت سے شیطانی مسّ سے محفوظ رہے۔ قادیانی حضرات کو حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا یہ اعزا ز کہاں ہضم ہونا تھا؟اس لیے اس پر کئی شبہات وارد کرکے اس اعزاز کومجروح کرنا چاہا۔

مثلاً بچہ غیر مکلف ہوتا ہے، شیطان اسے کیسے وسوسے کے ذریعے متاثر کرسکتا ہے؟ اگر جسمانی مسّ مراد ہے تو شیطان چھونے پر ہی اکتفا کیوں کرتا ہے؟ مار کیوں نہیں دیتا؟بچہ جو بار بار روتاہے شیطان کے چھونے سے روتا ہے؟ حضرت مریم پیدا ہوئیں، پھر ان کا نام رکھاگیا، پھر ان کے لیے شیطانی مسّ سے حفاظت کی دعا مانگی گئی، جب تک تو شیطان انہیں چھو چکا ہوگا، دعا مانگنے کا کیا فائدہ؟ یا یہ دعا پیدائش سے پہلے مانگی جاتی؟ (دیکھیے، تفصیل بیان القرآن محمد علی، آل عمران، ذیل آیت:36)

ان بے ڈھنگے شبہات کا جوا ب یہ ہے کہ شیطانی مسّ کا ثبوت صحیح بخاری سے ہے اور چھونا وسوسے کے طریق سے نہیں ہوتا، کیوں کہ بچے کی ذہنی سطح اس کو قبول نہیں کرسکتی، بلکہ یہ چھونا حقیقی جسمانی ہوتا ہے اور شیطان کو اس قدر اختیار ملا ہے، اس سے زائد اختیار نہیں ملا کہ بچے کو جان سے مار دے یا اسے کسی عضو سے محروم کردے اور ہر بار رونے دھونے کی علت بھی مسّ شیطان نہیں ہوتی، نہ اس کا کسی نے دعویٰ کیا ہے اور حضرت حنہ نے بچی کا نام اور دعا پیدا ہونے کے ساتھ مانگی۔ اس میں بعید از عقل کوئی بات نہیں ہے۔ مائیں بچہ پیدا کرنے سے قبل ہی مذکر مونث کا نام رکھ لیتی ہیں۔ حضرت حنہ کے شوہر عمران تو پہلے ہی انتقال کرچکے تھے، نام ماں نے ہی رکھنا تھا اور پہلے سے سوچ رکھا ہوگا اور نیک عورتیں ولادت کی تکلیف ہی میں اپنے اور اپنے ہونے والے بچے کے لیے دعائیں مانگتی رہتی ہیں۔ پیدا ہوتے ہوئے دعامانگنے میں کون سی عقلی رکاوٹ پیش آسکتی ہے؟

شیطان کے مسّ جسمانی سے دیگر انبیاء علیہم السلام بوقت ولادت محفوظ رہے یا نہیں؟ حدیث شریف کے الفاظ”کل مولود“کے عموم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے علاوہ کوئی شیطانی مسّ جسمانی سے محفوظ نہیں رہا، اگر حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہماالسلام کے علاوہ دیگر انبیاء علیہم السلام کو بھی یہ فضیلت حاصل رہی تو پھر حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہماالسلام کی تخصیص بے معنی رہ جائے گی۔ (روح المعانی، آل عمران، ذیل آیت:36)

لیکن حضرت قتادہ سے منقول ہے کہ یہ فضیلت تمام انبیاء علیہم السلام کو حاصل رہی ،وہ شیطان کے مسّ جسمانی سے محفوظ رہے اور آیت کریمہ میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا خصوصی تذکرہ حضرت حنہ کی دعا کے جواب میں آیا ہے۔ اس سے دیگر انبیاء کی اس فضیلت سے نفی نہیں ہوتی۔ ( ملخص بیان القرآن للتھانوی، آل عمرانِ، ذیل آیت:36)

مسائل
1..حضرت حنہ نے اپنے بچے کے لیے خدمت دین، عبادت وطاعت کی نذر مانی تھی۔ ایسی نذر امت محمدیہ میں جائز ہے۔ اگر کوئی نذر مانے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹا دیا تو اسے عبادت، طاعت اور خدمت دین کے لیے وقف کروں گا یا قرآن و حدیث ، فقہ، علوم دینیہ کی تحصیل کے لیے وقف کروں گا ۔ ایسی تمام نذریں ماننا درست ہے۔

2..ماں کوبھی بچے کا نام رکھنے کا حق ہے، بالخصوص جب بچے کا باپ انتقال کرچکا ہو تو ماں کو نام رکھنے میں اولیت حاصل ہے۔( أحکام القرآن للجصاص، آل عمران، ذیل آیت:36)

3..جس دن بچہ پیدا ہو اسی دن نام رکھنا مسنون ہے۔ علامہ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے اس کو راجح قراردیا ہے ۔(تفسیر ابن کثیر، آل عمران، ذیل آیت:36)

4..ماں کوبچے کے اوپر روک ٹوک، تعلیم و تربیت، تہذیب واصلاح کی کچھ نہ کچھ ولایت حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہ ولایت حاصل نہ ہوتو حضرت حنہ کی نذر ہی درست نہ ہوگی۔ (أحکام القرآن للتھانوی، آل عمران، ذیل آیت:36)

حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت
﴿فتقبلھا ربھا……﴾
شریعت موسویہ میں عبادت و خدمت کے لیے لڑکے کی نذر مانی جاتی تھی، لیکن حضرت حنہ کی نذر، جو ایک لڑکی کی صورت میں ظاہر ہوئی، قبول کرلی گئی۔ نبی وقت حضرت زکریا علیہ السلام کا عہد تھا، یقینا انہیں وحی کے ذریعے اس نذرانے کی قبولیت کا حکم ملا ہوگا۔ حضر ت زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے خالو بھی تھے، انہوں نے اس نذرانے کو قبول کرکے اس کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری بھی سنبھالی، ان کے لیے بیت المقدس میں الگ تھلگ کمرہ رہائش کے لیے مختص کیا۔ آپ کا جب بھی ان کے پاس جانا ہوتا غیر موسمی پھل کا نظارہ ہوتا، گرم موسم کے پھل سردیوں میں اور سرد موسم کے پھل گرمیوں میں موجود ہوتے، اس پر انہیں بڑ اتعجب ہوتا۔ بالآخر انہوں نے ایک دن پوچھ ہی لیا یہ رز ق تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ یہ سوال درحقیقت واسطہ اور سبب معلوم کرنے کی غرض سے تھا، وگرنہ ہر مومن کو معلوم ہے کہ ہر فعل کا سبب حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام نے جواب میں فرمایا:﴿ھو من عنداللّٰہ﴾للہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔یعنی بلا سبب ظاہری خرق عادت کے طور پر رزق آموجود ہوتاہے۔ (روح المعانی، آل عمران، ذیل آیت:37)

اللہ تعالیٰ کے کسی نیک بندے کے لیے خرق عادت کوئی امر ظاہر ہوجائے اسی کو کرامت کہتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک کرامت برحق ہے اور یہ آیت اس کے برحق ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (تفسیر کبیر، آل عمران، ذیل آیت:37)

اہل سنت کے بعض اہل علم کے نزدیک عورت بھی مقام نبوت پر فائز ہوسکتی ہے، اس لیے وہ اسے کرامت کے بجائے حضرت مریم علیہا السلام کا معجزہ قراردیتے ہیں ،چوں کہ یہ موقف آیت کریمہ:﴿وما أرسلنا قبلک إلا رجالاً نوحیٰ إلیھم﴾ (الأنبیاء:21) کے مخالف ہے۔اور اس میں کی جانے والی تاویل کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے، اس لیے اہل سنت کے نزدیک حضرت مریم کو نبی قراردے کر ان کے مخصوص رزق کو معجزہ قراردینا درست نہیں ۔

اور بعض اہل علم نے اس غیبی رزق کو حضرت زکریا علیہ السلام کا معجزہ قراردیا ہے ، یہ بھی درست نہیں۔ اگر یہ ان کا معجزہ ہوتا تو انہیں اس کا علم ہوتا۔ ان پر غیبی رزق کی حقیقت کا مشتبہ رہنا ان کے معجزے کی نفی کرتا ہے۔ (تفسیر أبی السعود، آل عمران، ذیل آیت:37 )

قادیانی نظری طور پر معجزہ اور کرامت کے قائل ہونے کے باوجود حضرت مریم علیہا السلام کی اس کرامت کا انکار محض ان کی عظمت کی نفی کے لیے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حضرت مریم علیہا السلام کے جواب ﴿ھو من عنداللّٰہ﴾سے غیبی رزق ثابت نہیں ہوتا۔ (دیکھیے، بیان القرآن احمد لاہوری، آل عمران، ذیل آیت:37) لیکن قرآن کریم کا انداز ِ بیاں حضرت زکریا علیہ السلام کا قدرت الٰہی کے مشاہدے سے ایمانی کیفیت میں ڈوب کر بیٹے کی دعا کرنا اس رزق کے غیر معمولی اور غیبی ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

عقلیت پسند متجددین، سرسید اور منکرین حجیت حدیث معجزہ اور کرامت کے قائل ہی نہیں ، اس لیے ان کے نزدیک بھی یہ رزق غیبی نہیں تھا۔ (جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.