جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

اہل سنت اور اہل بدعت، تعریف وتعارف

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ …﴾ (الآیة:107)
اہل کتاب نے اختلاف وانتشار کے ذریعے دین واحد کو کئی فرقوں میں بانٹ دیا تھا، مسلمانوں کو اخروی وعید بیان کر کے فرقہ بازی سے روکا جا رہا ہے۔

﴿یوم تبیض وجوہ﴾:”یوم“سے روز قیامت مراد ہے، یعنی روز قیامت بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے۔ روشن چہروں سے اہل ایمان کے چہرے اور سیاہ چہروں سے کفار کے چہرے مراد ہیں، خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین یا مرتدین ومنافقین۔ (تفسیر کبیر للرازی، آل عمران، ذیل آیت:107)۔ ہر دو کے دنیاوی اعمال کے حسی اثرات اس دن جسم پر ظاہر ہوں گے۔ یہ اثر پورے جسم پر ظاہر ہوگا، چہروں کا خصوصی تذکرہ محض اشرف الاعضاء ہونے کی وجہ سے ہے۔ (روح المعانی، آل عمران، ذیل آیت:107)اور ﴿أکفرتم بعد إیمانکم﴾ میں ایمان سے مراد عالم ارواح میں کیا جانے والا ایمان ہے یا وہ ایمان فطرت مراد ہے جو ہر پیدا ہونے والے بچے میں ودیعتاً رکھ دیا گیا ہے( روح المعانی، آل عمران، ذیل آیت:107)۔

سیاہ چہروں کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا اور روشن چہرے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں ہوں گے۔ اللہ کی رحمت جنت ہے، جنت رحمت کا مظہر ہے، پھر جنت کو رحمت سے تعبیر کرنے میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ جنت اللہ کی رحمت سے مل سکتی ہے، کوئی اپنے عمل سے جنت کو نہیں پاسکتا، نیکیاں کتنی ہی زیادہ ہوں، مگر وہ اللہ کی نعمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کر سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:یا رسول الله!آپ کو بھی؟ فرمایا: مجھ کو بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل ورحمت سے ڈھانپ لے۔ (صحیح بخاری، حدیث رقم:6467)۔

روز قیامت اہل سنت والجماعت کے چہرے روشن ہوں گے
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک ”تبیض وجوہ“ سے اہل سنت والجماعت کے چہرے مراد ہیں اور ”تسود وجوہ“ سے اہل بدعت کے چہرے مراد ہیں۔

اہل سنت والجماعت
اہل سنت والجماعت اس گروہ کو کہتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے پر مضبوطی سے قائم ہو، عقائد ونظریات، اعمال وافعال میں انہیں کا پیروکار ہو۔

اہل سنت والجماعت کی اصطلاح اس حدیث سے ماخوذ ہے:
عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم:”لیأتین علیٰ أمتی ما أتی علیٰ بنی إسرائیل، حذو النعل بالنعل، حتی إن کان منہم من أتی أمہ علانیة لکان فی أمتی من یصنع ذلک، وإن بنی إسرائیل تفرقت علی ثنتین وسبعین ملة، وتفترق أمتی علیٰ ثلاث وسبعین ملة، کلھم فی النار، إلا ملة واحدة. قالوا: ومن ھی یا رسول الله؟ قال: ما أنا علیہ وأصحابی“․ ( سنن الترمذی، رقم الحدیث:2641)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کے لوگ ہر وہ کام کریں گے جو بنی اسرائیل کیا کرتے تھے، قدم بہ قدم ان کی نقل کریں گے، حتی کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ بدکاری کی ہوگی تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو یہ عمل بد کریں گے اور بے شک بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی تھی اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گے، سوائے ایک جماعت کے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول الله!وہ (نجات پانے والے)کون لوگ ہوں گے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:وہ لوگ یہ لوگ ہوں گے جو اس طریقے پر قائم ہوں گے جس طریقے پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں“۔

”ما أنا علیہ وأصحابی“کے جملے سے اہل سنت والجماعة کی اصطلاح ما خوذ ہے۔ ”ماأنا علیہ“سنت کی تعبیر ہے، یعنی نبی کا جو طریقہ ہے وہی سنت ہے، سنت ہی حجت ہے، نہ کہ حدیث ، سنت اور حدیث میں عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے، کیوں کہ حدیث تو ہر اس قول وعمل کو کہتے ہیں جو آپ علیہ السلام کی طرف منسوب ہو اور سنت سے مراد وہ دینی راہ ہے جو محمود ومستقیم ہو۔ ”السنة:الطریقة المستقیمة المحمودة، ولذلک قیل:فلان من أھل السنة“ (تہذیب اللغة، ازہری:12/210) اس کی مزید تفصیل آگے آ رہی ہے، لہٰذا وہ تمام احادیث شریفہ جو مخصوص ہیں یا منسوخ ہیں یا مؤول ہیں، وہ احادیث تو ہیں، مگر سنت نہیں اور جو احادیث شریفہ مامور بہا ہیں وہ احادیث بھی ہیں اور سنت بھی۔

”وأصحابی:”اجماع امت سے تعبیر ہے۔ سنن ابی داؤد (سنن أبی داود، رقم الحدیث:4596)، ابن ماجہ (سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث:3991) میں یہی حدیث دوسرے حضرات صحابہ کرام سے مروی ہے، اس میں ”أصحابی“کی جگہ ”الجماعة“کا لفظ آیا ہے، یعنی مسلمانوں کی جماعت۔اسی کا نام اجماع ہے۔ اور مسلمانوں کی جماعت سے مراد صحابہ کرام اور تابعین کی جماعت ہے۔ (العقیدة الطحاویة وشرحہا، ص:238)

اہل سنت کی لغوی واصطلاحی تعریف
اہل سنت والجماعة تین الفاظ سے مرکب ہے۔
1..اہل:اَتباع واشخاص اور پیروکاروں کو کہتے ہیں۔

2..السنة:لغت میں راستے کو کہتے ہیں اور مجازا اس کا اطلاق مقررہ اصول، قانون، طرزعمل اور عادت پر بھی ہوتا ہے (صحاح للجوھری، ص:2139)۔ یہ قانون واصول برے ہوں خواہ اچھے، اسے سنت کہا جاتا ہے۔(المحکم والمحیط الأعظم، ابن سیدہ:8/417، والقاموس المحیط: 4/236)

اور اصطلاح شریعت میں سنت کا اطلاق ہراس چیز پر ہوتا ہے جس کا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہو یا کسی کام سے منع کیا ہو یا قولا یا فعلا کسی فعل کی ترغیب دی ہو، جس کے بارے میں قرآن عزیز میں کوئی صراحت نہ آئی ہو۔ ( النہایة فی غریب الحدیث والأثر:2/368)

اس اصطلاحی سنت کے مفہوم میں خلفائے راشدین کی سنت بھی داخل ہے، کیوں کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے:”فإنہ من یعیش منکم فسیری اختلافا کثیرا فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء المھدیین الراشدین تمسکوا بھا، وعضوا علیھا بالنواجذ، وإیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل محدثة بدعة، وکل بدعة ضلالة․“ (سنن أبی داود، رقم الحدیث:4607 )

”تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ میرے بعد بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے اپنی ڈاڑھ سے مضبوطی سے پکڑ لو۔ خبردار!دین کے معاملے میں نئی چیزوں سے بچتے رہو، کیوں کہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گم راہی ہے“۔

سنت کا لفظ جب بدعت کے مقابلے میں بولا جائے تو پھر سنت سے مراد وہ راہ محمود ہے جسے شریعت نے مقرر فرمایا ہے۔ (إرشاد الفحول للشوکانی، ص:33 المدخل لابن بدران، ص:89، تسہیل الأصول إلیٰ علم الأصول، ص:139)

اس پس منظر میں سنت کی تعریف کرتے ہوئے علامہ ابن رجب حنبلی لکھتے ہیں:
”والسنة ھی الطریقة المسلوکة، فیشمل ذلک التمسک بما کان علیہ ھو صلی الله علیہ وسلم وخلفاؤہ الراشدون من الاعتقادات والأعمال والأقوال، وھذہ السنة الکاملة، ولہذا کان السلف قدیما لا یطلقون اسم السنة إلا علیٰ ما یشمل ذلک کلہ․“ (جامع العلوم والحکم فی شرح خمسین حدیثا من جوامع الکلم، ص:315، رقم الحدیث:28)

”سنت اس راہ کو کہتے ہیں جس پر چلا جائے اور اس راہ کو مضبوطی سے پکڑنا ہے جس پر آپ علیہ السلام اور آپ کے خلفائے راشدین عمل پیرا تھے، خواہ وہ اعتقادات ہوں یا اعمال واقوال، یہی سنت کاملہ ہے، اس وجہ سے سلف صالحین سنت کا اطلاق اعتقادات واعمال واقوال پر کرتے تھے“۔

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”فعلی المؤمن اتباع السنة والجماعة فالسنة ما سنّہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم، والجماعة ما اتفق علیہ الصحابة فی خلافة الأئمة الکرام․“( الغنیة:1/ 114)

کہمومن پر سنت اور جماعت کی پیروی لازم ہے، پھر سنت کی وضاحت فرمائی کہ سنت سے وہ راہ مراد ہے جسے آپ علیہ السلام نے مقرر فرمایا ہو اور جماعت سے مراد صحابہ کرام ہیں، خلفائے اربعہ کے دور میں صحابہ کرام کا جن امور پر اتفاق ہوا ہو اس کی پیروی کرنا بھی مومن پر لازم ہے۔

3..الجماعة:گروہ کو کہتے ہیں، مگر احادیث ِرسول میں الجماعة سے مخصوص گروہ مراد ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ الجماعة سے صحابہ کرام کی جماعت مراد ہے(غنیة:1/114)۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے صحابہ کرام اور تابعین کرام کی جماعت مراد ہے( العقیدة الطحاویة وشرحھا، ص:238)۔

تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کی جماعت ِخاص مراد ہے( تحفة الألمعی، ذیل حدیث رقم:2641)۔

یہ اختلاف لفظی ہے، جو جماعت بھی اپنے اقوال واعمال میں آپ علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے پر ہو وہ اہل سنت والجماعہ ہے، خواہ تابعین کی جماعت ہو یا عام مسلمانوں کی۔

گویا اہل سنت والجماعہ مسلمانوں کی اس جماعت کو کہتے ہیں جو اپنے عقائد اور اعمال میں حضور علیہ السلام اور صحابہ کرام کے نقش قدم پر اور سلف صالحین کے اجماعی امور پر متفق ہو۔

یہی جماعت جماعت حق ہے، جسے نجات اخروی کی خبر دی گئی ہے، جن کے چہرے قیامت کے دن روشن ہوں گے، جنہیں حوض کوثر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے جام حیات پلایا جائے گا۔

اہل سنت کی علامات
اہل سنت والجماعہ کی موٹی موٹی علامات یہ ہیں:
اپنے تنازعات اور اختلافات میں قرآن کریم اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حَکَم بناتے ہیں۔

قرآن واحادیث کی تعلیمات وہدایات کے ہوتے ہوئے کسی کے قول وفعل کو حجت نہیں مانتے، نہ اسے قرآن وحدیث پر حَکَم بناتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی نبی، ولی کی عبادت، سجدہ تعظیمی، طواف قبور، نذر ونیاز کو جائز نہیں سمجھتے، نہ ہی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کو بلا اسباب متصرف سمجھتے ہیں، نہ ہی ان سے حاجات طلب کرتے ہیں، نہ انہیں دعا واستعانت کے لیے پکارتے ہیں، نہ ہی ان کے نام پر بغرض قربت جانور ذبح کرتے ہیں، نہ ہی ان کے نام کیے ہوئے جانوروں کو حلال سمجھتے ہیں، اگرچہ بوقت ذبح ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو،کیوں کہ ایسے مذبوحہ جانوروں میں اصل تعظیم لغیر اللہ ہے، جو حرام ہے۔

انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی کو معصوم نہیں سمجھتے، جیسا کہ شیعوں کے فرقوں نے اپنے ائمہ کو معصوم سمجھ رکھا ہے۔

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پوری امت سے افضل سمجھتے ہیں، ان میں سے ہر فرد کو عادل، صالح سمجھتے ہیں، ان کے لیے مغفرت کا پروانہ بارگاہ ایزدی کی جانب سے جاری کیا جا چکا ہے، اس لیے کسی شخص کو ان کے کردار اور ان کے باہمی مشاجرات کی بنیاد پر ان پر قیل وقال اور لعن وطعن کو حرام سمجھتے ہیں۔

گناہ کبیرہ کے مرتکب کو جب وہ اس گناہ کو حلال سمجھ کر نہ کرے، دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے، بلکہ اسے مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔

تقدیر پر عقیدہ رکھتے ہیں، بندہ کو خیر وشر کے کسب کا مختار سمجھتے ہیں۔

ایمان کے بعد عمل صالح کو تقویت ایمان کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ افعال معصیت سے ایمان کے کمزور اور افعال کفریہ سے ایمان سے محروم ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جو لوگ ایمان کے بعد معصیت کو مضر نہیں سمجھتے انہیں اہل سنت سے خارج سمجھتے ہیں۔

الحب للہ والبغض للہ پر ایمان رکھتے ہیں، شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کے موافق نیک وبد کے ساتھ برتاؤ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

اہل بدعت کے چہرے بروز قیامت سیاہ ہوں گے
﴿وتسود وجوہ﴾ بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک اس سے بدعتی مراد ہیں۔ ( تفسیر ابن کثیر)

اہل بدعت کی تعریف اور تعارف
سنت کے مقابلے میں بدعت ہے۔ بدعت لغت میں ہر نئی چیز کو کہتے ہیں اور علمائے حق کی اصطلاح میں بدعت سے مراد:”طریقة فی الدین مخترعة، تضاھی الشریعة، یقصد بالسلوک علیھا ما یقصد بالطریقة الشرعیة․“( الاعتصام للشاطبی:1/31)

یعنی دین میں خودساختہ طریقہ جو شریعت کے مشابہ ہو اور اس پر چلنے کا مقصد وہی ہو جو راہ شریعت پر چلنے کا ہوتا ہے۔

مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ نے اس تعریف کوذرا وضاحت کے ساتھ یوں بیان فرمایا ہے:
”بدعت کے معنی یہ ہیں کہ دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جائے جو شارع علیہ السلام سے نہ قولا اور نہ فعلا اور نہ تقریرااور نہ صراحتاً اور نہ اشارة ثابت ہو اور اس کو دین اور قربت اور عبادت جان کر اور قرب خداوندی سمجھ کر کیا جائے تو ایسی چیز شریعت میں بدعت ہے“۔ (عقائد اسلام، حصہ اول، ص:313)

گویا کسی چیز کے بدعت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں دو چیزیں بیک وقت پائی جائیں۔

اس چیز کی بنیاد ومنشا ماثور پر نہ ہو، یعنی اس کی اصل کتاب وسنت میں یا صحابہ کرام اور تابعین کرام یا تبع تابعین کے دور میں نہ پائی جاتی ہو۔

اس چیز کو (خواہ قولی ہو یا فعلی ہو)دین کا جز سمجھا جائے۔ (الاعتصام:1/162، شرح المقاصد:2/28، نبراس:21)

اگر ان میں سے ایک چیز پائی گئی تو وہ چیز بدعت نہیں کہلاتی، لہٰذا دنیا کی نئی چیز بنانا بدعت نہیں کہلائے گا، جیسے ریل، موٹر، پختہ عمارات وغیرہ، اور اسی طرح حفاظت دین کے لیے انتظام بھی بدعت نہیں کہلائے گا، جیسے علوم نحویہ صرفیہ کی تدوین اور درس وتدریس، مدارس کا قیام، تبلیغ دین کے لیے مختلف انجمنیں اور جماعتیں۔

بدعت کی دو قسمیں ہیں
1..بدعت فی العقیدة
2..بدعت فی العمل

دونوں صورتوں کی بدعت کبھی مسلمان کو صرف گناہ گار کرتی ہے اور کبھی کبھی دائرہ اسلام سے خارج کردیتی ہے۔ پہلی کو بدعت مفسقہ اور دوسری کو بدعت مکفرہ کہتے ہیں۔

جس حدیث میں بہتر بدعتی فرقوں کو دخول جہنم کی خبر دی گئی ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں:
”جن بہتر فرقوں کے بارے میں ”کلہم فی النار“آیا ہے (یعنی سب دوزخ میں جائیں گے) اس سے دوزخ کا دائمی عذاب مراد نہیں، اس لیے دوزخ کا دائمی عذاب ایمان کے منافی ہے، دائمی عذاب تو کفار کے ساتھ مخصوص ہے اور چوں کہ بدعتی فرقے سب اہل قبلہ ہیں، اس لیے ان کی تکفیر میں جرأت نہیں کرنی چاہیے، جب تک کہ ضروریات دین کا انکار اور احکام شرعیہ متواترہ کا انکار نہ کریں“۔ (مکتوبات، ص:38، از دفتر سوم)

بدعتی اعمال وعقائد کی چند جھلکیاں
ائمہ اربعہ کی تقلید کو بدعت سمجھنا، سلف صالحین پر کیچڑ اچھالنا، معجزہ، کرامت، اجماع کا انکار، اپنے تنازعات کے لیے قرآن وحدیث کو فیصل مقرر نہ کرنا، غمی وخوشی، معاش ومعاملات میں اسلامی احکام، تہذیب وتمدن کو پس پشت ڈالنا، ظالمانہ ٹیکس وصول کرنا، اولیا کو متصرف سمجھنا، عرس کرنا، قبروں پر چادریں چڑھانا، قبے بنانا، چراغاں کرنا، مخصوص دنوں میں ایصال ثواب کو شرعی طور پر لازمی سمجھنا یا ایصال ثواب کا انکار کرنا، عذاب قبر کا انکار کرنا، نماز کے بعد بآواز بلند مخصوص ہیئت کے ساتھ ذکر کرنا، اذان کے پہلے اور بعد میں متصل صلاة وسلام پڑھنا، تعزیہ بنانا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سوگ 14 سو سال بعد منانا، ماتم کرنا، غیر اللہ کی نذر ونیاز ماننا، گیارھویں کرنا، میلاد کے جلوس نکالنا، حجیت حدیث کا انکار کرنا، سبع قرات کا انکار کرنا، مذہب کو انفراد عمل جاننا غیر شرعی حوالات معاملات یا معاہدے کرنا، انفرادی عبادت اجتماعی طریقے پر ادا کرنا، کسی عمل کے لیے اپنی طرف سے سے اس کا خاص وقت دینی حکم سمجھ کر مقرر کرنا یا اس کی ادائیگی میں خاص ہیئت ضروری سمجھنا، مستحبات کو واجب کا درجہ دینا۔

اہل بدعت کے لیے وعیدیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالے جو دین میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے“۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث:2697)

ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:”بدترین چیز وہ اضافے ہیں جو لوگ اپنی طرف سے گھڑ لیں، ہر گھڑی ہوئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گم راہی ہے اور ہر گم راہی دوزخ میں لے جانے والی ہے“۔ (صحیح مسلم)

ایک حدیث میں آپ علیہ السلام کا ارشاد ہے:
”جو شخص اسلام میں اچھی بات نکالے (یعنی جس چیز کی اصل شرع میں موجود ہو، اس کی ترویج کا پہلا قدم اٹھائے) پھر لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہوگا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی اور جو اسلام میں بری بات نکالے (یعنی شریعت کے مخالف کام کرے یا ایسا عمل کرے جس کی اصل شریعت میں نہ ہو) اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھ دیا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہوگا“۔ (صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص ظلماً قتل کیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہوں کا ایک حصہ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے (قابیل) پر بھی پڑتا ہے،کیوں کہ اسی نے قتل کا طریقہ ایجاد کیا“۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث:3335)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”قیامت کے دن میرے ساتھیوں (مسلمانوں) کا ایک گروہ میرے پاس آئے گا (جام کوثر پینے کے لیے) انہیں حوض سے دور کر دیا جائے گا، تو میں کہوں گا:یا ربی أصحابی!اے میرے پروردگار!یہ میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:”إنک لا علم لک بما أحدثوا بعدک“کہ بے شک آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی نئی باتیں نکالی تھیں۔ بے شک یہ لوگ الٹے پاؤں پیٹھ پھیر کر دین سے نکل گئے“۔(صحیح بخاری، رقم الحدیث:6585)

اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
1..بدعتیوں کو حوض کوثر سے دھتکار دیا جائے گا۔
2..آپ علیہ السلام کو جو غیب کی خبریں دی گئی ہیں وہ تمام مخلوق کو دی گئی خبروں سے زیادہ ہیں، کوئی نبی ورسول اور فرشتہ آپ کو دی گئی غیب کی خبروں تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن آپ علیہ السلام کو دی گئی غیب کی خبریں بہرحال محدود اور متناہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بدعتیوں کے متعلق فرمائیں گے کہ یہ میرے ساتھی ہیں اور آپ کو بتایا جائے گا کہ یہ آپ کے ساتھی نہیں ہیں، آ پ نہیں چاہتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزوں کا اضافہ کیا تھا۔

بعض بدعتیوں نے اپنے بدعتی عقیدے علم غیب کلی، بمعنی لامتناہی کے تحفظ کے لیے اس حدیث رسول میں خواہ مخواہ بتکلف کام لیا ہے کہ ”اصحابی“ میں ہمزہ استفہام محذوف ہے، آپ علیہ السلام کا سوال لاعلمی کی بنا پر نہیں، بلکہ بر بنائے تعجب ہوگا کہ کیا یہ بھی میرے ساتھی ہیں جن کے چہرے سیاہ، آنکھیں نیلی اور اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہیں؟

اس تاویل کو سامنے رکھ کر اب سیاق وسباق کی عبارت لائیں تو مفہوم میں خلجان پیدا ہو جاتا ہے، دیکھیے:”یرد علی یوم القیامة رھط من أصحابی فیجلون عن الحوض فأقول: یا ربِّ أصحابی، فیقول: إنک لا علم لک بما أحدثوا بعدک․“ اگر آپ علیہ السلام کے سوال میں ہمزہ استفہام برائے انکار ہو یا برائے تعجب، دونوں صورتوں میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ کو معلوم تھا کہ میرے ساتھی نہیں ہیں تو پہلے ان کے متعلق اقرار کیوں کیا ہے کہ یہ میرے ساتھی ہیں؟ چناں چہ شروع میں ہے:”یرد علي یوم القیامة رھط من أصحابی․“دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصحابی میں ہمزہ استفہام برائے انکار ہو یا تعجب، بہر صورت اللہ تعالیٰ نے آپ کے سوال کے جواب میں آپ کے علم کی نفی کیوں فرمائی ہے؟ اس کا سیاق وسباق سے کیا تعلق تھا؟ کیا شراح احادیث نے یہ احتمال ذکر کیا ہے؟ اور کیا اس احتمال پر عقیدہ کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

بعض اہل علم نے بدعت کو حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کیا ہے، پھر حسنہ کو واجب، مستحب، مباح اور سیئہ کو حرام اور مکروہ میں تقسیم کیا ہے۔ یاد رکھیے! جن اہل علم نے بدعت کو حسنہ کہا ہے وہاں بدعت حسنہ سے لغوی بدعت مراد ہے، یعنی محض نئی چیزوں کی ایجادات، مثلا علوم وفنون کی تدوین، مصنوعات میں ترقی اور ان کی جدید صورتیں، یہی چیزیں حفاظت دین کے اعتبار سے کبھی واجب اور کبھی مستحب ہوتی ہیں، مثلا اس زمانے میں قتال فی سبیل اللہ تیر وتلوار سے قائم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے جدید اسلحہ کی پیداوار بڑھانا اور اس کے فنون حرب سے واقف ہونا واجب ہے، کیوں کہ اس پر ایک دوسرا واجب موقوف ہے۔ ایسی بدعات لغویہ ہماری بحث سے خارج ہیں۔ اصطلاح شرع میں کوئی بدعت حسنہ نہیں ہوتی، بلکہ سیئہ ہی ہوتی ہے۔

﴿تِلْکَ آیَاتُ اللَّہِ نَتْلُوہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَمَا اللَّہُ یُرِیدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِینَ، وَلِلَّہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ وَإِلَی اللَّہِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ﴾․ (سورة آل عمران:109-108)

اہل ایمان کے متعلق دنیا وآخرت کے وعدے اور اہل کفر وبدعت کے متعلق جو دنیوی واخروی وعیدیں بیان کی جا رہی ہیں، یہ سب برحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گا، ہر ایک کو اس کے علم کا درست بدلہ دے گا۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ عدل پر مجبور ہے اور اس کے خلاف پر قادر نہیں، بلکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے، کیوں کہ تمام زمینوں وآسمانوں کی مخلوقات کا مالک ہے اور مالک کو اپنی مملوکہ اشیاء پر تصرف کی پوری قدرت ہوتی ہے، لیکن دنیا میں بغرض امتحان انسان کو نیکی اور بدی کا اختیار دے رکھا ہے، اس لیے فوری بدلہ بھی نہیں دیا جاتا، لیکن ایک دن ایسا آنا ہے جس میں کسی مخلوق کا اختیار باقی نہیں رہے گا۔ وہاں صرف اللہ ہی کا حکم، اس کا فیصلہ چلے گا اور کسی کو اس پر چوں چراں کرنے کی ہمت نہ ہوگی۔ والیٰ اللہ ترجع الامور․ (جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.