جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

اہل کتاب کے دین اسلام سے منھ موڑنے کی بنیادی وجہ

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿وَمَا اخْتَلَفَ الّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ…﴾ (19)
دین حق فقط”دین اسلام“ہے، اہل کتاب یہود ونصاری کے قبول نہ کرنے کی وجہ سرکشی اور ضدی پن ہے۔حب جاہ ومال کے باعث دین اسلام کی معرفت اور اس کی سچائی سے واقف ہونے کے باوجود اس کا انکار کرنا کفر عنادی کہلاتا ہے۔ یہودی ربی اور نصرانی راہب کفر عنادی کا شکار ہیں۔ عوام ان کی پیروی کی وجہ سے گم راہی پر چل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں متنبہ فرمایا ہے، اگر یہ اسی طرح ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ان کا حساب چکائے گا۔

اہل کتاب کے اختلاف سے مراد دین اسلام اور رسالت محمدی سے اختلاف کرنا ہے۔

دوسرا احتمال یہود ونصاری کا باہمی اختلاف بھی ہوسکتا ہے، وہ بایں طور پر کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کتاب الٰہی تورات کی حفاظت کی ذمہ داری سترعلماء کے سپرد فرمائی۔ حضرت یوشع علیہ السلام کو ان پر خلیفہ مقررفرمایا، اس کے باوجودحضرت یوشع علیہ السلام کے بعد، یہودی تورات کا علم رکھنے کے باوجود، باہمی حسد و عناد کا شکار ہوکر ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے۔ یا حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی جاننے کے باوجود ان کا انکار کیا۔ اسی طرح مسیحی علماء اس حقیقت سے واقف تھے کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں ، اس کے باوجود انہیں ابن اللہ بناکر پیش کیااور ان کی حقیقت سے اختلاف کیا۔ (زادالمسیر اٰل عمران، ذیل آیت:19)

اور ”العلم“سے مراد وہ دلائل ہیں جن سے دین اسلام کے حق ہونے اور آپ علیہ السلام کی نبوت پر یقین حاصل ہوتا ہے۔

﴿فَإنْ حَآجُّوکَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ لِلّہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُل لِّلَّذِیْنَ أُوْتُواْ الْکِتَابَ وَالأُمِّیِّیْنَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اہْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَیْْکَ الْبَلاَغُ وَاللّہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَاد﴾․(سورہ آل عمران، آیت:20)
”پھر بھی اگر وہ تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے میں نے تابع کیا اپنا منھ اللہ کے حکم پر اور انہوں نے بھی کہ جو میرے ساتھ ہیں اور کہہ دے کتاب والوں کو اور اَن پڑھوں کو کہ تم بھی تابع ہوتے ہو؟ پھراگروہ تابع ہوئے تو انہوں نے راہ پائی سیدھی اور اگر منھ پھیریں تو تیرے ذمہ صرف پہنچادینا ہے اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے“۔

﴿فَإن حَاجُّوک﴾دین اسلام کی حقانیت اور یہود و نصاری کے باطل عقائد کے واضح ہونے کے بعد بھی اگر یہودی دین حق کے متعلق قیل و قال اور حجت بازی سے کام لیتے ہیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر واضح اعلان کردیا جائے کہ میں نے اور میرے پیروکار مسلمانوں نے اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں دے دیا ہے۔ ضدی اورہٹ دھرم کے لیے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ آپ علیہ السلام کو تسلی دی گئی کہ آپ کا کام اپنی دعوت پہنچادینا ہے ، کون قبول کرتا اور کون انکار کرتا ہے اس پر آپ پریشان نہ ہوں۔

”الأمیّین“سے کیا مراد ہیں؟
پہلا احتمال:
”اُمّی“عربی میں پڑھنے لکھنے سے ناواقف شخص کو کہتے ہیں، مگر یہاں اہل کتاب کے مقابلے میں ”اُمّیّین“کا لفظ ان لوگوں کے لیے بولا گیا ہے جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں اتری تھی۔ گویا ”اوتوا الکتاب“اور ”امیّیّن“کے الفاظ سے آسمانی اور غیر آسمانی مذاہب کے پیروکاروں کو عمومی طور پر ایمان لانے کاحکم دیاگیا ہے۔(تفسیربیضاوی)

اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عامہ کا بھی اثبات ہوگیا۔ آپ کی رسالت کسی قبیلے، خاندان ، علاقے، وطن کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ،بلکہ پورے عالم کے انس وجن کے لیے ہے۔

قرآن کریم کی کئی آیات مثلاً:﴿قُلْ یَااَیُّھَا النَّاسُ إِنَّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ جَمَیْعًا﴾(اعراف:158)”تو کہہ اے لوگو! میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف۔“

﴿تَبَارَکَ الَّذِیْ نُزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہِ لِیَکُوْنَ لِلّعَلٰمِیْنَ نَذِیْرا﴾(فرقان:1)”بڑی برکت ہے اس کی جس نے اتاری فیصلہ کی کتاب اپنے بندے پر، تاکہ رہے جہان والوں کے لیے ڈرانے والا۔“

اطرافِ عالم کے بادشاہوں کو اور سرداروں کو قبول ِ اسلام کے لیے دعوتی خطوط بھیجنا، آپ کی عالمی اور دائمی رسالت پر واضح دلیل ہے۔

علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
”والذی نفسی بیدہ، لا یسمع بی احد من ھذہ الامة یہودی ولا نصرانی، ومات ولم یؤمن بالذی ارسلت بہ إلا کان من اھل النار․“(صحیح مسلم، رقم الحدیث:153)

ایک اور حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعثت إلی الاحمر والاسود․“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کان النبی یبعث إلی قومہ خاصة، وبعثت إلی الناس عامة․“ (صحیح بخاری، رقم الحدیث:335)

دوسرا احتمال:
یہ ہے کہ ”امیین“سے بنواسماعیل یعنی مشرکین عرب مراد ہیں۔ بدویانہ گزربسر کرنے کی وجہ سے ان میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا، بہت کم لوگ یہ صلاحیت رکھتے تھے، اسی وجہ سے اہل کتاب ان کو اور خود یہ اپنا تعارف ”امیین“سے کراتے تھے۔ یہ ان کا امتیازی پہلو تھا، اس میں حقارت یا عیب کا کوئی دخل نہیں تھا۔

مشرکین عرب مراد لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کی رسالت اور بعثت صرف انہی کے لیے تھی ،کیوں کہ آپ کی رسالت عامہ پر دوسری کئی دلیلیں موجود ہیں، یہاں اہل کتاب اور مشرکین عرب کا خصوصی تذکرہ محض اس حیثیت سے کیاگیا ہے کہ یہ آپ ا کے براہ راست اور پہلے مخاطب ہیں۔

﴿إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللّہِ وَیَقْتُلُونَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْْرِ حَقٍّ وَیَقْتُلُونَ الِّذِیْنَ یَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْم، أُولَئِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَةِ وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِیْن﴾․(سورة آل عمران، آیت:21 تا22)
”جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کے حکموں کا اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان کو جوحکم کرتے ہیں انصاف کرنے کا لوگوں میں سے، سو خوش خبری سنادیجیے ان کو عذاب دردناک کی،یہی ہیں جن کی محنت ضائع ہوئی دنیا میں اور آخرت میں اور کوئی نہیں ان کا مددگار“۔

ربط:سورت کے شروع سے زیادہ ترمضامین نصاری سے متعلق تھے اور ان کے عقائد وافکار کی تردید ہوتی چلی آرہی تھی۔ اس آیت سے یہود کے بعض اعمال بد سے پردہ اٹھاکر انہیں انجام بد سے آگاہ کیاگیا ہے۔

یہودیوں کے جرائم اور ان کی سزا
آیت کریمہ میں یہود کے تین جرم خصوصی طور پر گنوائے گئے ہیں:
1..یکفرون باللّٰہ: احکام الٰہی کا انکار۔ شرک میں مبتلا ہوجانااور بچھڑے کو معبود بنالینا۔ حضرت موسی علیہ السلام پر اترنے والے احکام کا انکارکرنا اور براہ راست اللہ تعالیٰ سے ملنے کا اصرارکرنا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے بجائے انہیں مطعون کرنا۔ بعثت محمدی کے بعد آپ کی رسالت پر ایمان نہ لانا بھی حکم الٰہی کا انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کسی ایک حکم کا انکار گویا تمام احکام کا انکار ہے اور یہ کفر ہے۔

2..ویقتلون النبین:انبیاء علیہم السلام کا قتل یہود کا وطیرہ رہا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام ان کی درندگیوں کا نشانہ بنے۔

ابن جریر اپنی تفسیر جامع البیان میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ،میں نے بارگاہ نبوی میں عرض کیا:یارسول اللہ!قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب کن لوگوں پر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے کسی نبی کوقتل کیا یانیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے شخص کو قتل کیا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیَتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَبِیَّیْنَ بِغیْرِ حَقٍّ وَیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَامُرُوْنَ بَالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴾․پھر آپ نے فرمایا: اے ابو عبیدہ!بنی اسرائیل نے دن کے پہلے وقت میں تنتالیس انبیاء کو قتل کیا ،پھر ایک سوبارہ عبادت گزار علماء اقامت حق کے لیے کھڑے ہوئے، انہوں نے ان کونیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا ، بنی اسرائیل نے دن کے آخری حصے میں ان کو بھی قتل کردیا۔ (جامع البیان، اٰل عمٰران، ذیل آیت:21)

ان یہودیوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہاقتل کرنے کی کوشش کی۔ مدینہ کے یہودی قبیلے بنونضیر نے آپ پر دیوار سے بڑا پتھر گراکرشہید کرنے کی کوشش کی، جس کی اطلاع آپ کوپہلے سے مل گئی اور وہاں سے اٹھ کر چلے آئے۔

غزوہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے آپ کو زہر آلود گوشت کھلادیا، جسے آپ نے فوراً اگل دیا۔ ( انسان العیون فی سیرة المامون، علامہ علی بن برہان الدین حلبی، غزوہ خیبر293) لیکن اس کا اثر آپ نے آخری وقت تک محسوس کیا۔ چناں چہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں، جس مرض میں آپ نے انتقال فرمایا اس میں آپ نے فرمایا: اے عائشہ! میں ہمیشہ سے اس کھانے کے درد کو محسوس کرتا چلا آرہاہوں جو خیبر میں کھایاتھا اور اب اس زہر سے میرے دل کی رگ کٹنے کا وقت قریب آچکا ہے۔ (صحیح بخاری:2/237، مطبوعہ کراچی)انبیاء علیہم السلام کو قتل کرنا یا ان کے قتل کی خواہش رکھنا یا اسے درست سمجھنا کفر ہے۔ انبیاء کا قتل ناحق ہی ہوتا ہے کیوں کہ وہ معصوم ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ یہودیوں کی قباحت اور بدبختی کو نمایاں کرنے کے لیے قتل انبیاء کے ساتھ بغیر حق (ناحق )کا لفظ بھی لے آئے۔ (تفسیرکبیر، اٰل عمران، ذیل آیت:21)

3..ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس:نیکی کا حکم دینے والوں کو قتل کرنا، یہودیوں کا تیسرا جرم واعظانِ قو م کوقتل کرنا ہے۔ نیکی کاحکم دینے والوں کو قتل کرنا کفر نہیں، گناہ کبیرہ ہے۔ البتہ یہ قتل اگردین سے دشمنی کی وجہ سے ہوتو پھر اس کے کفر ہونے پر کوئی شبہ نہیں۔

یامرون بالقسط

یامرون بالقسطکا مطلب یہ ہے کہ واعظان قوم علمائے دین کا جرم محض یہ تھا کہ وہ انصاف کا حکم دیتے تھے۔ انصاف عقیدے اور عمل دونوں سے تعلق رکھتا ہے۔

عقیدے میں انصاف یہ ہے کہ انسان شرک سے بچے، عمل میں انصاف یہ ہے کہ خالق ومخلوق کے حقوق پامال نہ کرے، لہٰذا واعظان قوم کے انصاف کا حکم مذکورہ تمام صورتوں کوشامل ہے۔

نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سابقہ امتوں میں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب تھا۔ ( تفسیرقرطبی، اٰل عمران، ذیل آیت:21) یہ صرف امت محمدیہ کی خصوصیت نہیں ہے ، جیسا کہ جہلا میں یہ معروف ہے۔

عہد حاضر کے یہودیوں کو مخاطب کرنے کی حکمت
یہود کے مذکورہ جرائم میں بالخصوص انبیاء علیہم السلام کے قتل کا جرم زمانہ حال کے یہودیوں سے سرزد نہیں ہوا، بلکہ یہ ان کے آباء واجدا د کاجرم ہے۔موجودہ یہودیوں کو خطاب کرکے اس کی سزا سے ڈرانے کی کیا حکمت ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں زمانہ حال کے یہودیوں نے اس جرم کا ارتکا ب نہیں کیا، لیکن یہ اپنے آباء واجداد کے اس کفریہ فعل پر راضی تھے اور ان کے عمل کو درست سمجھتے تھے۔ کفریہ عمل پر راضی رہنا اور اسے درست سمجھنا بھی کفر ہے۔ اس لیے موجودہ یہود کو خطاب کرکے انہیں عذاب خداوندی سے ڈرایاگیا۔ ( تفسیرقرطبی، اٰل عمران، ذیل آیت:21) (جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.