جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

دنیاوی مال و متاع سے محبت محمود ہے یامذموم؟

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

چھٹی چیز کھیتی باڑی
مرغوبہ اشیا کی فہرست میں چھٹی چیز کھیتی باڑی ہے۔ کھیتی باڑی سے انسان کا فطری لگاؤ ہے۔ اس کے ذریعے خوردو نوش کی اشیا کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔ اگر یہ حدود شریعت میں ہو،یعنی جائز اشیا کی اور جائز صورتوں میں ہو، اس کا عشر نکالنے کا اہتمام ہو۔ اس میں اشتغال سے حقوق اللہ اور حقوق العبد میں کوتاہی نہ ہو تو انسان کے حق میں نعمت اور فضل خداوندی ہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿أفَرَیْتُمْ مَا تَحْرُثُوْنَ،ءَ أَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ﴾․(الواقعة:23، 24) ترجمہ:”بھلا دیکھو تو جو تم بوتے ہو؟کیا تم اُسے اُگاتے ہو یا اُگانے والے ہم ہیں؟“

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''جو مسلمان کوئی پودا لگاتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے، اس سے کوئی پرندہ کھاتا ہے یا انسان یا جانور تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوجاتا ہے۔ (صحیح البخاری(

البتہ کھیتی باڑی میں اس قدر مصروف ہوجانا کہ اس سے خالق اور مخلوق کے حقوق پامال ہونا شروع ہوجائیں تو یہ مذموم ہے۔ چناں چہ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہیں ہل کی پھالی اور زراعت کے دیگر آلات دیکھے تو فرمانے لگے کہ میں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا ہے :”جس قوم کے گھر میں بھی یہ آلات داخل کیے جائیں گے اللہ تعالیٰ اس قوم کو ذلت میں مبتلا کردے گا۔ “ ( صحیح البخاری:1/ 312 تا314)

دنیا کی تمام نعمتیں، خواہ وہ جائز طریقوں سے حاصل کرلی جائیں، ان کا فائدہ بہت تھوڑا ہے، اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے یوم آخرت پر جو نعمتیں اہل ایمان کی رکھی ہیں وہ اپنی کیفیت اور کمیت میں دنیاوی نعمتوں سے بدرجہا بہترہیں۔ دنیا کی نعمتیں مقدار کے اعتبار سے کم ہوں یا زیادہ ،ان سے فقط زندگی تک فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور کیفیت میں تو اخروی نعمتوں سے ان کامقابلہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ(عزوجل) فرماتے ہیں: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو کسی آنکھوں نے دیکھی ہیں، نہ کسی کانوں نے سنی ہیں، نہ کسی انسانی دل پر ان کا خیال گزرا ہے ۔ وہ نعمتیں کتاب الٰہی کی اس آیت کا مصدا ق ہیں:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أَخْفی لَھُمْ مِنْ قُرَّةٍ أَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾( السجدہ: 17،صحیح مسلم، رقم الحدیث7132) ”سو کسی جی کو معلوم نہیں جو چھپادھری ہے ان کے واسطے آنکھوں کی ٹھنڈک بدلہ، اس کا جو کرتے تھے۔“

اخروی نعمتوں کی ترغیب
﴿ھَلْ أوْنَبِّئَکُمْ بِخَیْرٍ مِنْ ذَالِکُمْ…﴾اہل تقویٰ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیاوی مال و متاع سے بہتراخروی نعمتوں کی خبر دی جارہی ہے کہ ان کے پروردگار کے پاس ان کے باغات ہیں ،جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس میں رہنے والا شخص اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔علامہ رازی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا اس سے معلو م ہوا کہ انسان کا اصل مرجع جنت ہے،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق انسان کو رحمت کے لیے پیدا کیا ہے، نہ کہ عذاب دینے کے لیے۔ دوزخ کی حیثیت ثانوی مرجع کی ہے۔ (تفسیر کبیر، اٰل عمٰران، ذیل آیت:15)

وازواج مطھّرة اور صاف ستھری بیویاں ہوں گی، وہ حیض ونفاس کی گندگی، منھ اور بغل اورجسم سے اٹھنے والی ہر بدبو سے محفوظ ہوں گی ، گویا خِلقی اور خُلقی تمام عیوب سے محفوظ ہوں گی۔ (روح المعانی، اٰل عمٰران، ذیل آیت:15)

﴿وَرَضْوَانٌ مِنَ اللّٰہِ﴾اوراللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشنودی کا پروانہ عطا ہوگا، یہی تمام نعمتوں اور لذتوں کی حقیقی بنیادہوگی، اسے مؤخر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اگر اخروی نعمتیں رضائے الہٰی کے بغیر حاصل ہوں تو ان میں لذت و سرور کی کیفیت نہ رہتی۔ پروانہ خوش نودی کو آخر میں ذکرکرکے اس کی لذت میں اضافہ کردیا۔ ”رضوان“میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضامندی بہت عظیم نعمت ہے۔ (تفسیرکبیر، اٰل عمٰران، ذیل آیت:15)

اولیاء کی صفات
﴿اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْن رَبَّنَا اِنَّنَا اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا…﴾(16،17)

”اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْن“پچھلی آیت کے لفظ ”اَلَّذِیْنَ اتَّقُوْا“سے بدل واقع ہورہا ہے یامبتدا محذوف ”ھم“کی خبر بن رہا ہے۔(الجامع الاحکام القرآن للقرطبی، اٰل عمٰران ذیل آیت:16) یعنی جن اہل تقویٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اخروی نعمتوں کا اہتمام کیا ہے ان کی صفات یہ ہیں کہ وہ زبانِ قال سے طلب مغفرت اور جہنم سے بچنے کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔

﴿اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا﴾اظہارایمان کے فوراً بعد مغفر ت کی طلب ہے، دیگر طاعات کا تذکرہ نہیں ہے۔ علامہ رازی رحمة اللہ علیہ نے اس سے یہ نکتہ اخذ فرمایا ہے کہ نفس ایمان ہی ایسی بنیادی طاعت ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوجاتی ہے۔ (تفسیر کبیر) اگردیگر طاعات نہ ہوں تب بھی مومن پروانہ مغفرت پاسکتا ہے۔ اس سے خارجیوں کی تردید ہوگئی، جو گناہ کبیرہ کے مرتکب پر ہمیشہ کے لیے جہنم واجب کردیتے ہیں اور دوسری طرف فرقہ مرجئہ کی بھی تردید ہوگئی، جو ایمان کے بعد کسی گناہ کو ایمان کے لیے نقص اور دخول جنت کے لیے مانع ہی نہیں سمجھتا۔ ﴿فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا﴾سے واضح ہوگیا جب تک مغفرت کا پروانہ جاری نہ ہوگا جنت میں داخلہ ممکن نہیں۔ استحقا ق مغفرت تو نفس ایمان سے ہوجاتا ہے، البتہ رفع درجات کے لیے ان صفات کی ضرورت ہے۔

﴿الصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ﴾ یہاں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی صفات حسنہ کا بیان ہورہا ہے۔ بر بنائے مدح منصو ب ہے۔ اعنی الصابرین.

تنگی میں اپنے نفس کو کسی عمل پر محبوس رکھنے اور روکے رکھنے کا نام صبر ہے۔ قرآن کریم میں آپ علیہ السلام کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے:﴿وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِ﴾․ (الکھف:28) ”اور اپنے نفس کو روکے رکھیے ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں صبح وشام۔“اور اصطلاح شریعت میں نفس کو عقل و شرع کا پابند کرنے کا نام صبر ہے۔ (مفردات الفاظ قرآن ،راغب۔ مادہ: صبر) صبر کبھی طاعات پر ہوتا ہے اور کبھی معصیت سے دور رہنے پر اور کبھی احوال غم (خواہ مالی ہوں یا جسمانی) پر، یعنی نفس کو آہ و بکا اور شکوہ شکایت سے بچانے پر۔ الصابرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ان تمام کیفیتوں میں عقل و شرع کے پابند رہتے ہیں۔

الصادقین
صدق سچائی کو کہتے ہیں۔ صدق کی تین قسمیں ہیں:
1..صدق فی الاقوال: یعنی گفتگو میں سچائی ہو، خلاف حقیقت نہ ہو۔
2..صدق فی الافعال: کام میں سچائی ہو، جس فعل کو انجام دے اسے کمال تک پہنچائے۔ جیسے کہتے ہیں فلاں لڑائی میں سچا ہے، یعنی میدان جنگ میں خوب لڑتا ہے۔
3..صدق فی النیة: ارادے میں سچائی ہو، یعنی کسی فعل کی انجام دہی کا پختہ ارادہ ہو۔ یہاں صادقین سے مراد وہی لوگ ہیں جو اپنی گفتگو، کام، اور ارادے میں سچے ہوں، ان میں کسی قسم کا کھوٹ نہ ہو۔ (تفسیرکبیر للرازی، اٰل عمٰران، ذیل آیت:17)

القانتین، المنفقین
خشوع اور خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنے والے ہوں۔ اعمال حسنہ کی وجہ سے خودپسندی میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ اعمال حسنہ کی بدولت ان میں مزید تواضع اور عاجزی اور اطاعت شعاری کا جذبہ بڑھے۔

”المنفقین“خرچ کرنے والے:خرچ کرنے والے دو طرح کے ہوتے ہیں ، واجب اور نفلی۔ واجب خرچ وہ ہے جس میں کوتاہی کرنے سے انسان گناہ گار ٹھہرے ،جیسے ،زکوة، عشر، اہل وعیال کے نان و نفقہ میں کوتاہی کرنا۔

نفلی خرچ وہ ہے جس سے روحانی درجات میں اضافہ ہو، اس میں کوتاہی کرنے پر وعید نہ ہو، لیکن معیوب ہو ،جیسے،صلہ رحمی، ایثار، مہمان نوازی پر خرچ کرنا ہے۔

یہاں”مُنْفِقِیِن“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو امور واجبہ اور امور نفلیہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ چوں کہ اہل ایمان کی یہ صفات مقام مدح پر بیان کی جارہی ہیں اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں نفلی صدقات کی طرف اشارہ ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر فرشتہ پکار کرکہتا ہے جو شخص آج قرض دے گا (یعنی صدقہ کرے گا) کل اس کو اس کا بدل دیا جائے گا۔ ایک اور فرشتہ دوسرے دروازے سے آواز لگاتا ہے ، اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا اچھا بدل عطا فرما اور مال روکے رکھنے والے کے مال کو جلدی برباد فرما۔( مسند احمد، رقم الحدیث:8040)

المستغفرین بالاسحار
سحری کے وقت استغفار کرنے والے،”اسحار“سَحَر کی جمع ہے، سحر شب آخر کے اس وقت کو کہتے ہیں جب صبح صادق قریب الظہور ہو۔ (مفردات القرآن للراغب: مادہ:سحر) سحر ی کے وقت استغفار سے کیا مراد ہے؟ اس میں دو قول ہیں: فجر کی نماز، قولی استغفار۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم کے صاحب زادے زید سے نماز فجر کا قول منقول ہے۔ (روح المعانی، اٰل عمٰران ذیل آیت:17)

علامہ رازی رحمة اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر نماز فجر سے نقل کی ہے، مگر اس کی سند بیان نہیں فرمائی۔ (تفسیر کبیر، اٰل عمٰران ذیل آیت:17)

دوسرا قول سحر ی کے وقت قولی استغفار کا ہے۔ ابن جریر طبری نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے کہ وہ رات کو تہجد پڑھتے رہتے، پھر نافع سے پوچھتے کیا سحری کا وقت آپہنچا؟ اگر وہ فرماتے نہیں تو پھر دوبارہ تہجد شرو ع فرمادیتے، اگر وہ کہتے آچکا ہے تو پھر تہجد چھوڑ کر استغفار میں مصروف ہوجاتے، یہاں تک کہ صبح ہوجاتی۔ (روح المعانی، اٰل عمٰران ذیل آیت:17) ابراہیم بن حاطب اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص سے یہ کہتے ہوئے سنا جو رات کو مسجد میں تہجد پڑھتا تھا۔ اے میرے پروردگار!تو نے مجھے جس کا حکم دیا میں نے اس پر عمل کیا، یہ سحری کا وقت ہے، پس میری مغفرت فرما۔ میں نے نگاہیں اٹھاکردیکھا تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ (تفسیر ثعلبی، اٰل عمٰران ذیل آیت:17)

سحری کے وقت استغفار کی فضیلت مُسلّم ہے، یہ وقت نزول رحمت کا ہے، پرسکون ہونے کی وجہ سے دلجمعی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یاد نصیب ہوتی ہے۔ یہ نیند کے لیے سب سے عمدہ وقت ہے، نیند کی قربانی دے کر یاد الہٰی میں مصروف ہونا بڑا مجاہدہ ہے۔ اس لیے اس کی فضیلت بھی زیادہ ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری پہر میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں، پھر ارشاد فرماتے ہیں: ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطاکروں؟ ہے کوئی دعا کرنے والا جس کی دعا میں قبول فرماؤں؟ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا جس کی مغفرت کروں؟(سنن أبوداود، رقم الحدیث:1315)

المنفقین (خرچ کرنے والوں )کاتذکرہ المستغفرین سے مقدم فرمایا، اس کی حکمت کیا ہے؟ یہ درحقیقت اشارہ ہے اس طرف کہ خدمت خلق کے ذریعے قرب الٰہی کی منزل قریب ہوجاتی ہے۔

نیز یہ تمام صفات حسنہ الصابرین، الصادقین وغیرہ جملہ فعلیہ کے بجائے اسمیہ سے لائے۔ یہ اشارہ ہے ان صفات حسنہ کے دوام کی طرف، اہل تقوی میں یہ اوصاف راسخ ہوکران کا مزاج بن چکا ہے ۔ ان کو حرف عطف کے ساتھ ذکر کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ ان میں سے ہر وصف ایک مستقل وصف ہے ۔ کسی مومن میں اگر ان میں سے ایک صفت بھی ہو گی تو امید ہے وہ اس مدح کا مستحق ٹھہرے گا۔ ( تفسیرکبیر للرازی، اٰل عمٰران ذیل آیت:17) (جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.