جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مردہ بھائی کا گوشت

مولانامزمل حسین کاپڑیا

شریعت مطہرہ کا ایک بہت بڑا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا پاک وصاف اسلامی معاشرہ قائم کیا جائے جس میں ہر مسلمان کی عزت وآبرو محفوظ رہے اور کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان بھائی کو اذیت اور تکلیف نہ پہنچائے۔ ان کے باہمی تعلقات خوش گوار ہوں اور ایک دوسرے کے لیے دلی ہم دردی اور خیر سگالی کے جذبات ہوں۔ چناں چہ اس وجہ سے وہ بد اخلاقیاں اور ایذا رسانیاں جن سے کسی مسلمان کی عزت وآبرو کا تحفظ قائم نہ رہ سکے او ران کے باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو تو شریعت میں ایسی بد اخلاقیوں سے ممانعت کی گئی ہے۔ مثلاً خیانت ، وعدہ خلافی، دھوکہ بازی، چوری، ڈکیتی ، حسد، چغل خوری، غداری ، بہتان تراشی، طعنہ بازی، فحش گوئی اور غیبت وغیرہ۔

قرآن کریم اور احادیث میں انکی ممانعت جا بجاملتی ہے۔ قرآن کریم کے چھبیسویں پارہ سورہٴ حجرات میں چند بداخلاقیوں کی خاص طور پر ممانعت کی گئی ہے اور وہ ہیں تمسخر، طعنہ، برے القاب سے پکارنا، بد گمانی کرنا اور غیبت کرنا۔ لیکن جو طرز بیان اور اسلوب تمثیل غیبت کی مذمت میں اختیار کیا گیا ہے وہ نہایت انوکھا ہے۔ ارشاد ربانی ہے، جس کا مفہوم ہے : ” تم ایک دوسرے کی غیبت مت کرو۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو گوارا کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ اس کو تو تم ناپسندکرتے ہو۔“ اس آیت میں غیبت کو اپنے مردہ مسلمان بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

غیبتہمارے معاشرہ کی ایک ایسی دیمک ہے جس نے انسانی معاشرہ کے باہمی تعلقات کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔لیکن اس کے باوجود آج کل جو گناہ ہمارے معاشرہ میں سب سے زیادہ مروج ہے وہ یہی غیبت ہے۔ ہماری زندگی کا کوئی شعبہ اور ہمارے افراد کا کوئی طبقہ شاید ہی اس گناہ سے خالی ہو۔ زیر نظر مضمون میں احادیث کے حوالے سے غیبت کے مختلف پہلوؤں پر کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس امید پر کہ شاید یہ ہماری زندگیوں کے لیے اہم موڑ بن جائے۔

شریعت میں غیبت اس کو کہتے ہیں کہ :”کسی شخص کی عدم موجودگی میں بہ نیت تذلیل اس کے وہ عیوب بیان کرنا جن کا ذکر اس کو ناپسند ہو۔ خواہ اس عیب کو صراحةً زبان سے بیان کیا جائے یا تحریر سے۔ اشارةً ہو یا کنایةً، اعضاء کے ذریعہ سے ہو یا کسی اور طریقہ سے ۔“ احادیث میں غیبت کی اس تعریف کے بعض پہلوؤں کا صراحت کے ساتھ ذکر ہے۔

حضرت ابوہریرہ کی روایت جو صحیح مسلم، سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی اور سنن نسائی اور اس کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں موجود ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ سے سوال کیا:” کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟ “ صحابہ نے عرض کیا کہ الله اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” ذکرک اخاک بما یکرہ“ اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا کہ اگر وہ سن لے تو ناپسند کرے۔ تو صحابہ کرام  میں سے کسی نے سوال کیا: ” اگر میں اپنے بھائی کی وہ برائی بیان کروں جو اس میں ہے تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ “ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو برائی اس میں ہے اس کو تم بیان کرو ۔ یہی تو غیبت ہے۔“

ورنہ اگر تم نے اس کی طرف ایسی برائی منسوب کر دی جو اس میں نہیں تو یہ بہتان ہے۔ اس حدیث میں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے بھائی کے لفظ سے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ جس شخص کی تم غیبت کر رہے ہو اس سے اگرچہ تمہاری رشتہ داری نہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ تمہارا بھائی ہے۔ اس لیے کہ جس انسان کی غیبت کی جارہی ہے اگر وہ کافر بھی ہے تو اس کے جدا علیٰ بھی حضرت آدم علیہ السلام ہیں او راگر وہ مسلمان ہے تو پھر انسانی اخوت کے علاوہ اسلامی اور دینی اخوت بھی پائی جارہی ہے اور اسلامی اخوت مسلمانوں کوجسم واحد کی طرح بنا دیتی ہے۔ جس طرح جسم واحد کا کوئی عضو دوسرے عضو کو نقصان نہیں پہنچاتا اور اس کے خلاف کوئی سازش نہیں کرتا اس طرح ایک مسلمان کو بھی دوسرے مسلمان کی ایذا رسانی اور اس کے عیوب کی تشہیر کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

آج کل ہم جس طرح سے غیبت کے مرض میں مبتلا ہیں اس کا اندازہنہیں کیا جاسکتا او رنہ صرف یہ بلکہ عموماً غیبت کرنے کے بعد ہمیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم نے غیبت کی ہے اور اگر کسی کے احساس دلانے پر احساس ہو بھی جائے تو نفس یہ دھوکہ دیتا ہے کہ تم نے غیبت کب کی ہے۔ غیبت اس کو نہیں کہتے۔غیبت کا تو مفہوم ہی اور ہے۔ چناں چہ عموماً غیبت کے مفہوم کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کی ایسی برائی بیان کرنا جو کہ اس میں نہ ہو یہ غیبت ہے او راگر ایسی برائیاں کی جائیں جو کہ اس شخص میں واقعتاً موجود ہیں تو یہ غیبت میں شامل نہیں۔ حالاں کہ مذکورہ بالا حدیث میں صحابہ کرام رضو ان الله علیہم اجمعین کے سوال کے جواب میں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے اس نکتہ کی نشان دہی واضح الفاظ میں فرما دی کہ ایسی برائیاں بیان کی جائیں جو اس میں ہوں تب تو غیبت ہے اوراگر کوئی ایسی برائی اس کی طرف منسوب کر دی جو اس میں نہ ہو۔ تب یہ غیبت نہیں، بلکہ بہتان اور الزام تراشی ہے۔

اسی طرح بعض لوگوں کو غیبت کے مفہوم کے بارے میں یہ غلط فہمی ہے کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کی ایسی برائی بیان کرنا جو اس کے سامنے کہنے کی ہمت نہ ہو غیبت ہے او راگر اس کے سامنے کہنے کی ہمت ہو تو غیبت نہیں ہے۔ اس لیے اگر کسی غیبت کرنے والے سے کہا جائے کہ تم نے غیبت کی ہے توجواب دیتے ہیں:”ارے! یہ بات تو ہم اس کے منھ پر بھی کہہ سکتے ہیں ۔“ حالاں کہ غیبت کے مفہوم کے بارے میں جو حدیث اوپر گزری اس میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ وہ بات اس کے سامنے کہی جاسکتی ہو یا نہیں۔ بلکہ صرف اتنا مذکور ہے کہ وہ بات اس کو بری محسوس ہو تو یہ غیبت میں شامل ہے۔ بعض لوگوں کو ایک شبہ غیبت کے مفہوم کے بارے میں یہ ہے کہ اگر کسی کی عدم موجودگی میں اس کی وہ برائیاں بیان کی جائیں جو لوگوں میں مشہور نہیں ہیں تو یہ غیبت ہے او راگر وہ برائیاں لوگوں میں مشہور ہیں توان کا ذکر کرنا غیبت نہیں ہے۔ لیکن مذکورہ بالا حدیث میں اس بات کا بھی کوئی ذکر نہیں ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی کی ایسی برائی بیان کی جائے جو لوگوں کو معلوم نہیں تو اس میں دو گناہ ہیں۔ ایک غیبت کرنے کا اور وسرا کسی کے پوشیدہ عیب کو مشہور کرنے کا اور اگر ایسا عیب ہے جو لوگوں میں مشہور ہے تو پھر فقط غیبت کا گناہ ہو گا۔ مثلاً کوئی شخص اندھا ہے اور بہت سے لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ اندھا ہے۔ اب اگر کوئی اس اندھے کے اس عیب کو اس کی عدم موجودگی میں حقارت آمیز انداز میں یا محض لوگوں کوہنسانے کے لیے بیان کرے تو یہ غیبت ہے۔ باوجودیکہ اس کا اندھا پن لوگوں میں مشہور ہے۔ غیبت کو مختلف اعتبارات سے تین قسموں پر منقسم کیاجاسکتا ہے۔

پہلی قسم
ان افراد کے اعتبار سے ہے کہ جن کی غیبت کی جارہی ہے ۔ چناں چہ اس قسم کے تحت جس طرح ایک زندہ مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے۔ اسی طرح ایک مردہ مسلمان کی غیبت کرنا بھی حرام ہے ۔ بلکہ مردہ مسلمان کی غیبت کرنے میں حرمت ایک گونہ زیادہ ہے ۔ اس لیے کہ زندہ شخص تو پھر بھی جواب دے سکتا ہے او راپنی صفائی بیان کرسکتا ہے ۔ لیکن ایک مردہ شخص تو کچھ بول ہی نہیں سکتا۔ حدیث میں مردوں کے عیوب بیان کرنے کی ممانعت آئی ہے ،سنن ابی داؤد میں حضرت عبدالله بن عمر  کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے مردوں کے اچھے اوصاف بیان کرو اور ان کی برائیوں سے زبان روکو۔“

اور پھر زندہ اشخاص میں جس طرح ایک مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے اس طرح اس کا فر کی غیبت کرنا بھی حرام ہے جو اسلامی مملکت کی حفاظت میں اسلامی مملکت کا تابع بن کر رہتا ہے۔ جسے اسلام میں ”ذمی“ کہتے ہیں ۔ ذمی کی غیبت کرنا، اس وجہ سے حرام ہے کہ جب وہ اسلامی مملکت کی حفاظت میں اس کے تابع بن کر رہتا ہے تو اس کو وہی حقوق ملنے چاہییں جو کہ ایک مسلمان کو ملے ہوئے ہوں۔ جس طرح اسلامی معاشرہ ایک مسلمان کی عزت وآبرو کی حفاظت کا ضامن ہے، اس طرح وہ ایک ذمی کی عزت وآبرو کی حفاظت بھی ضامن ہے اورجہاں تک ایک ایسے کافر کی غیبت کا تعلق ہے جو ذمی نہیں ہے، جسے اسلامی اصطلاح میں ”کافر حربی“ کہا جاتا ہے تو اس کی غیبت اگرچہ اس طرح سے حرام نہیں جس طرح ایک مسلمان یا ذمی کی غیبت کرنا حرام ہے ۔ لیکن اگر دینی یا دینوی مصلحت نہ ہو تو بلاوجہ اس کی غیبت کرنا بھی مکروہ ہے۔

دوسری قسم
ان عیوب کے اعتبا رسے ہے جن کی وجہ سے کسی کی غیبت کی جارہی ہو۔ مثلاًکسی شخص کے بدن میں، اس کے اعضائے جسمانی میں کوئی عیب ہے یا کسی شخص کے لباس میں عیب ہے یا اس کی عادتوں میں کوئی بری عادت ہے۔ اس قسم کی تفصیلات سے قبل یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کرا ب تک جتنے انسان پیدا ہوئے ہیں ان میں صرف انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس کے گناہوں سے محفوظ ہونے کی کوئی ضمانت یا ثبوت ہمارے پاس موجود ہو ۔ ہر اچھے سے اچھے انسان میں کوئی عیب ضرور ہوتا ہے ۔ جب کوئی شخص کسی کا کوئی عیب بیان کرے تو یہ سوچ لے کہ میں کب تمام عیوب سے مبرا ہوں او رپھر عیوب انسانی بدن کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ مختلف چیزوں میں مختلف عیب ہو سکتے ہیں ۔ جس طرح کسی شخص کے اعضائے جسمانی میں کوئی عیب نکالنا مثلاًکسی شخص کو ذلیل کرنے کی نیت سے یا دوسرے کے سامنے اس کی تضحیک کے لیے موٹا کہہ دینا یا لنگڑا کہہ دینا یا کوئی او رعیب اس کے بدن میں نکالنا حرام ہے ۔ اسی طرح کسی شخص کے لباس میں عیب نکالنا، مثلاً کسی کی تحقیر کی نیت سے کہنا فلاں شخص کا لباس چھوٹا ہے یا لمبا ہے یا اس کا لباس غریبانہ ہے یہ بھی غیبت میں شامل ہے۔ اسی طرح کسی شخص کی بری عادتوں میں سے کسی بری عادت کا ذکر کرنا بھی غیبت میں شامل ہے ۔مثلاً کسی شخص کو تحقیر وتذلیل کی نیت سے کہنا کہ فلاں شخص بڑا پیٹو ہے یا بڑا پوستی ہے۔ اسی طرح کسی کے نسب میں اور اس کی نسل میں عیب نکالنا بھی غیبت میں شامل ہے اس طرح کسی شخص کی تذلیل کرنے کی نیت سے اس کی عبادت میں کوئی عیب نکالنا مثلاً یہ کہ فلاں شخص نفل نہیں پڑھتا یا فلاں شخص تہجد نہیں پڑھتا۔ یہ بھی غیبت میں شامل ہے ۔ اس طرح کسی شخص کے گناہوں کا تذکرہ کرنا یعنی اس کو ذلیل کرنے کی نیت سے دوسروں کے سامنے اس کے گناہوں کی تشہیر کرنا، یہ بھی غیبت میں شامل ہے۔

تیسری قسم
غیبت کی تیسری قسم ان ذرائع کے اعتبار سے ہے۔ جن کو کسی شخص کی غیبت کرنے کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے ۔ مثلاً زبان ، قلم وغیرہ سے کسی کی غیبت کرنا، اس قسم کے تحت جس طرح زبان سے کسی کی غیبت کرنا منع ہے۔ اسی طرح تحریری طور پر کسی کی غیبت کرنا بھی ہے۔ مثلاً کسی شخص کو ذلیل کرنے کی نیت سے کسی دوسرے شخص کو اس کے عیوب سے خط کے ذریعے مطلع کرنا یا کسی شخص کے عیوب کو اخبار میں چھاپنا اور جس طرح کسی شخص کا نام صراحتاً بول کر یا لکھ کر غیبت کرنا منع ہے ۔ اسی طرح حکایتاً یعنی نقل اتار کر کسی کے عیب سے لوگوں کو مطلع کرنا بھی غیبت میں شامل ہے ۔ مثلاً کوئی شخص لنگڑا ہے تو اس کی عدم موجودگی میں اس کی طرح کی چال چلنا یا کوئی شخص بولنے میں ہکلاتا ہے تو اس طرح سے ہکلا کر بولنا یہ سب غیبت میں شامل ہے ۔ جامع ترمذی میں حضرت عائشہ  کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلمنے فرمایا: ” میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقل کروں، چاہے مجھے بہت کچھ مل جائے۔“

اشارةً کسی کے عیب سے لوگوں کو مطلع کرنا بھی غیبت میں شامل ہے ۔ یعنی ظاہر میں تو کسی شخص کا نام لے کر اس کی غیبت نہیں کی۔ لیکن چند ایسے قرائن اور اشارے بیان کر دیے جس سے لوگ سمجھ جائیں کہ فلاں شخص کا عیب بیان کیاجارہا ہے۔ مثلاً کسی کے پاس کوئی کا لا شخص آئے، اس کے جانے کے بعد وہ شخص حاضرین سے بہ نیت تحقیر وتذلیل یہ کہے کہ بعض لوگ ایسے کالے ہوتے ہیں، جیسے کوئلہ۔ اس اشارہ سے حاضرین مجلس سمجھ جائیں گے کہ یہ اس شخص کا عیب بیان کیا جارہا ہے جو ابھی آیا تھا۔

جس طرح کسی کی غیبت کرنا منع ہے اسی طرح کسی کی غیبت سننا بھی منع ہے۔ چناں چہ حضرت عبدالله بن عمر کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے غیبت کرنے اور سننے دونوں سے منع فرمایا ہے۔ اگر کسی کی غیبت بیان کی جارہی ہے اور کوئی شخص اس غیبت کو سن رہا ہے اور اس کو اس غیبت سے منع کرنے پر قادر ہے۔ لیکن وہ منع نہیں کرتا اور دل میں بھی اس کو بُرا محسوس نہیں کرتا تو گویا کہ وہ اس غیبت پر راضی ہے اور یہ رضا مندی بھی غیبت کرنے کے حکم میں ہے اور اگر منع کرنے پر بھی قادر نہیں تو دل سے اس غیبت کو برا سمجھے او رجس شخص کے عیوب بیان کیے جارہے ہیں اس کے عیوب سن کر اس شخص کے بارے میں کوئی بد گمانی نہ کرے اور اس کے متعلق کوئی غلط خیال قائم نہ کرے۔ بلکہ اگر ہو سکے تو جس شخص کی برائیاں بیان کی جارہی ہیں تو غیبت سننے والا اس شخص کی اچھائیاں بیان کرنا شروع کردے۔ ایسے موقع پر جب کہ کسی شخص کی برائیاں کی جارہی ہوں تو اس شخص کی طرف سے دفاع کرنا بڑی ہمت کی بات ہے اور حدیث میں اس کی بہت فضیلت آئی ہے۔ کتاب الترغیب والترہیب میں حضرت انس  کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلمنے فرمایا۔ کسی شخص کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت بیان کی گئی اور اس نے اس کی مدد نہیں کی۔حالاں کہ وہ اس کی مدد کرنے پر قادر تھا تو اس کو بھی دنیا وآخرت میں اس غیبت کا گناہ ملے گا اور جس نے مدد کی تو الله تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی مدد فرمائیں گے۔

مسند احمد میں حضرت اسماء بنت یزید  کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ سلم نے فرمایا: ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کا دفاع کرے گا تو گویا الله تعالیٰ پر اس کا حق ہو گا کہ الله تعالیٰ اس کو دورخ کی آگ سے آزاد فرما دیں۔“

انسان کی زندگی ” دارالعمل“ ہے او رموت کے بعد یعنی قبر اور آخرت والی زندگی ” دارالجزاء“ ہے۔ یعنی انسان اپنی زندگی میں جو بھی اچھا یا برا عمل کرتا ہے اس کا ثواب اور عذاب اس کی جزا اور سزا موت کے بعد ملتی ہے۔ سوائے اس کے کہ انسان توبہ کر لے یا خداوند پاک اپنے فضل سے معاف فرمادیں۔ لیکن بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی جزا اور سزا موت کے بعد توملتی ہی ہے۔ لیکن کبھی زندگی میں اس کا بدلہ مل جاتا ہے۔ چناں چہ احادیث میں غیبت کرنے والوں کے لیے دونوں قسم کی سزاؤں کا ذکر ہے۔ آخرت کی سزا سے متعلق سنن ابی داؤد میں حضرت انس  کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ سلم نے ارشاد فرمایا: ” شب معراج میں میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا۔ جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھاکہ یہ کون لوگ ہیں؟ بولے یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی آبروریزی کرتے تھے۔“

اعمال اور اعمال کی جزا وسزا میں گہری مناسبت اور مشابہت ہوتی ہے۔ چوں کہ یہ لوگ اپنے مسلمان بھائی کا گوشت کھاتے تھے۔ یعنی غیبت کرتے تھے۔ اس لیے ان کی سزا بھی آخرت میں یہی مقرر کی گئی کہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گوشت کو نوچیں گے۔

غیبت ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی نیکیوں کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے روز بہت سے لوگ محض غیبت کرنے کی وجہ سے اپنی نیکیوں سے محروم ہو جائیں گے ۔ چناں چہ حضرت ابو امامہ  کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت کے روز بندہ کا نامہٴ اعمال اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ ( جب وہ اپنا نامہ اعمال دیکھے گا…) تو کہے گا اے میرے رب! میں نے فلاں فلاں نیکیاں کی تھیں۔ لیکن میرے نامہٴ اعمال میں وہ نہیں ہیں؟! تو الله تعالی فرمائیں گے کہ تیری وہ نیکیاں لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے ماری گئیں۔“ (الترغیب والترہیب)

صحیح مسلم او رجامع ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ  نے عرض کیا کہ ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ کوئی درہم ہے او رنہ ہی کچھ سامان ہے توحضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے روز نمازیں، روزے اور زکوٰة جیسے اعمال کے ساتھ آئے گا۔ لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہے، کسی پر تہمت لگائی ہے، کسی کا مال ناحق کھایا ہے کسی کا خون بہایا ہے اور کسی کو ناحق مارا ہے۔ چناں چہ اس کی نیکیاں دوسرے شخص کو دے دی جائیں گی اور جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی لیکن زیادتیاں ابھی باقی ہوں گی تو پھر دوسرے کے گناہ اس کے نامہٴ اعمال میں ڈال دیے جائیں گے او رپھر اس شخص کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

یہ تو آخرت کی سزا تھی اور دنیا کی سزا کے متعلق سنن ابی داؤد میں حضرت ابوبرزہ اسلمی کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لائے ہیں، لیکن ایمان ان کے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوا۔ یاد رکھو! نہ مسلمانوں کی غیبت کرو اور نہ ان کے عیوب کی تلاش میں رہو۔ کیوں کہ جو شخص ان کے عیوب کی تلاش میں رہے گا تو خدا تعالیٰ بھی اس کے عیب کو تلاش کریں گے اور خدا جس کے عیب تلاش کریں گے تو خود اس کے گھر ہی میں اس کو رسوا کر دیں گے۔“

الله تعالیٰ ہمیں غیبت جیسے ہول ناک جرم کی ہلاکت خیزی کو سمجھتے ہوئے اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی عدم موجودگی میں ان کے بارے میں اچھے خیالات کے اظہار کی توفیق عطاء فرمائے۔

بعض مرتبہ شرعی ضرورت کی بناپر غیبت کرنا گناہ نہیں، بلکہ واجب ہوجاتا ہے۔ احادیث میں متعدد واقعات آتے ہیں جن میں صحابہ میں سے کسی نے آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے سامنے کسی شرعی ضرورت کی بنا پر اپنے مسلمان بھائی کا عیب بیان کیا اور آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ چناں چہ بعض مفسرین نے سورہٴ حجرکی آیت غیبت کی تفسیر کی ذیل میں اور بعض فقہاء نے اپنی تصنیفات میں غیبت کی چند جائز اور درست صورتیں بھی بیان کی ہیں ۔ چناں چہ مولانا عبدالحی فرنگی محلی لکھنوی رحمة الله علیہ نے اپنے رسالہ ”غیبت کیا ہے؟“ میں یہ صورتیں تفصیل سے بیان کی ہیں۔ ان کا خلاصہ یہاں ذکر کیاجاتا ہے۔

اگر مظلوم ظالم کے ظلم کی شکایت کسی ایسے شخص کے سامنے کرے جو اس ظالم کو ظلم سے روک سکتاہے تو یہ غیبت جائز ہوگی ۔ مثلاً قاضی نے کسی شخص پر ظلم کیا، اب وہ حاکم بالا کے پاس جاکر قاضی کے ظلم کی شکایت کرے تو یہ غیبت درست ہے۔

اگر کوئی شخص کسی عیب یا گناہ میں مبتلا ہے، اس کی خبر ایسے شخص کے پاس پہنچانا کہ وہ اس عیب سے اس کو روکے گا… اور اس کو نصیحت کرے گا تو یہ غیبت درست ہے۔ مثلاً کسی شخص میں کچھ عیب ہے تو اس کے والد کو اس سے مطلع کر دینا، تاکہ اس کو اس فعل سے منع کرے یا کوئی سرکاری افسر رشوت لیتا ہے تو اس کی خبر حکومت کو دی جائے، تاکہ وہ اس افسر کو اس سے منع کرے۔

کسی عالم یا مفتی کے پاس مسئلہ پوچھنے کے واسطے اورمسئلہ کی صورت بتانے کے لیے کسی شخص معین کا عیب بیان کیا تو درست ہے۔ لیکن بہتر یہ یہی ہے کہ بلا ضرورت کسی شخص کو معین نہ کرے۔ بلکہ فرضی نام سے سوال کیا جائے۔

وہ شخص جو علی الاعلان گناہوں میں مبتلا رہتا ہو اور لوگوں کے سامنے گناہ کرنے میں کوئی عار اور شرم محسوس نہ کرتا ہو تو اس کی غیبت درست ہے۔ حضرت سفیان بن عینیہ رحمة الله علیہ فرماتے ہیں:”تین شخصوں کی غیبت درست ہے۔ ایک ظالم حکم ران، دوسرا وہ شخص جو علی الاعلان گناہوں میں مبتلا رہتا ہو اور تیسرا وہ شخص جو بدعت میں مبتلا ہو اور لوگوں کوبدعت سکھاتا ہو۔“



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.