جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کل نفنس ذائقة الموت

متعلم امین عالم،جامعہ فاروقیہ کراچی

لوگوں نے ہر چیز میں اختلاف کیا ، اپنی اپنی رائے رکھی ، نظریہ علیٰحدہ علیٰحدہ، خیال جدا جدا، مختلف راستوں پر چلے یہاں تک کہ ذات خدا میں بھی اتفاق نہ ہو سکا۔

صرف موت ایسی چیز ہے کہ جس میں کسی مذہب، کسی فرقے کو اختلاف نہیں۔ مؤحد، مشرک، مسلمان، کافر، امیر وغریب، اچھا، بُرا، مرد وعورت، عرب وعجم، مغرب ومشرق، صغیر وکبیر، حاکم ومحکوم، عالم وجاہل، دوست ودشمن، سب متفق ہیں کہ موت برحق ہے، یقینا وہ قبر کا جہاں ہو گا۔ جو دنیا میں آیا ہے ضرور ایک دن قبر کی طرف جائے گا، تن درست وبیمار، خوردوکلاں، شاہ وگدا سب انسان درِ فانی سے عالم بقا کی طرف روانہ ہوں گے #
        نہ آیا جو کہ باقی رہا
        نہ مسافر رہا نہ ساقی رہا

اس لیے فکر آخرت، ذکر موت پر بندہٴ عاجز نے قلم اٹھایا کہ ہر انسان ایک حقیقت او راٹل بے دل چیز کا تصور حقیقی رکھے۔ چند نصائح، چند پندوموعظت کی حکایات، بزرگان کے کلمات، موت کے حالات، قرآنی آیات ، نبوی ارشادات کا مجموعہ تیا رکیا۔ شاید وباید کوئی اہل دل اس سے نصیحت حاصل کر لے اور آخرت کے لیے کوئی سامان ایمان ، ایقان، قرآن، نبی آخر الزمان کافرمان بن جائے۔ الله اور اس کے رسول راضی ہو جائیں ۔ الله کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو، سچی بات پر یقین کریں۔ قبر وحشر میں نجات ہو جائے۔

تذکرہٴ موت قرآن میں
﴿کُلُّ مَنْ عَلَیْْہَا فَانٍ، وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ ﴾․(سورہٴ رحمن:27-26)
ترجمہ:”جوکوئی زمین پر ہے فنا ہونے والا ہے اور باقی رہے گی ذات تیرے رب کی بزرگی او رعظمت والی“۔

﴿کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْت﴾․(سورہٴ اٰل عمران:185)
ترجمہ:” ہر نفس کو موت چکھنی ہے“۔

﴿أَیْْنَمَا تَکُونُواْ یُدْرِککُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِیْ بُرُوجٍ مُّشَیَّدَةٍ﴾․(النساء،آیت:77)
ترجمہ:” جہاں کہیں بھی تم ہوئے موت تم کو آپکڑے گی، اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو“۔

﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً﴾․ (سورہٴ ملک:2)
ترجمہ:” موت وحیات کو پیدا کیا، تاکہ جانچے تم میں کون اچھا کام کرتا ہے؟“

﴿قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّونَ مِنْہُ فَإِنَّہُ مُلَاقِیْکُم﴾․(سورہٴ جمعہ، آیت:8)
ترجمہ:” تو کہہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، وہ ضرور تم کو ملنے والی ہے۔“

تذکرہ موت پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے فرمان میں
”عن ابن عمر: اذا اصبحت فلا تنتظر المساء، واذا أمسیت فلا تنتظر الصباح، وعد نفسک من الاموات․“ (مشکوٰة)
ترجمہ:” جب صبح کرے، پس شام کا انتظار نہ کر، جب شام کرے تو صبح کا انتظار مت کر۔ اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کر۔

”اکثروا ذکر ھاذم اللذات، قیل وما ھاذم اللذات؟ قال الموت․“(مشکوٰة)
ترجمہ:” لذتوں کو مٹانے والی کو اکثر یا دکیا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا۔ لذتوں کو مٹانے والی کیا ہے؟ فرمایا ”موت“۔

”من مات فقد قامت قیامتہ․“(طبری)
ترجمہ:” جو مر گیا، اس کے لیے قیامت قائم ہو گئی (فائدہ) اس سے قیامت صغری مراد ہے

”ان المیت لیعذب ببکاء اہلہ“․(مشکوٰة)
ترجمہ:” گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے، (بشرطیکہ رونے والے کی زبان سے خلافِ شرع الفاظ سرزد ہوں)“۔

”اغتنم خمساً قبل خمس․ شبابک قبل ھرمک، وصحتک قبل سقمک، وغناء ک قبل فقرک، وحیاتک قبل موتک، وفراغک قبل شغلک․“
ترجمہ:” پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے،مال داری کو تنگ دستی سے پہلے، زندگی کو موت سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے“۔

خلفائے راشدین او رتذکرہٴ موت
قول صدیق اکبر ”کُلُّ امْرِءٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ ... وَالمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ“․(بخاری)
ترجمہ:” ہر فرد کو اپنے اہل میں صبح اچھی گزرنے کی دعا دی جاتی ہے، حالاں کہ موت جوتے کے تسمہ سے زیادہ قریب ہوتی ہے“۔

قول فاروق اعظم:”کفٰی بالموت واعظاً یا عمر“ (بخاری)
ترجمہ:”اے عمر! واعظ کے طور پر موت ہی کافی ہے“۔

قول ذوالنورین:”ان القبر اوّل منزل من منازل الآخرة“(بخاری)
ترجمہ:” بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں پہلی منزل ہے“۔

قول علی مرتضی: موت سے بڑھ کرسچی اور امید سے بڑھ کر جھوٹی کوئی چیز نہیں۔ موت ایک بے خبر ساتھی ہے۔ جب نماز شروع فرماتے۔ لرزہ براندام ہو جاتے۔ فرماتے: ڈرتا ہوں، قبول ہو گی یا نہیں۔ (خلفائے اربعہ)

موت کیا ہے؟ زندگی اور موت کی کش مکش ابتدا سے چلی آرہی ہے۔ زندگی نے دعویٰ کیا کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہوں گی۔ موت نے اس کو باطل کرکے دکھایا #
        کشمکش ہوتی رہی دن رات مرگ وزیست میں
        انتہا میں موت جیتی اور ہاری زندگی

زندگی میں انسان نے مکان بنایا، کارخانے بنائے، دکان بنائی، ملیں لگائیں، باغات لگائے، کوٹھیاں، ایئرکنڈیشن تیار کیے، محل بنائے، آرائش وزیبائش کے سامان تیار کیے، بناوٹ، سجاوٹ، سج دھج دکھائی، قلعے تیار کیے اور حفاظتی جنگلے لگائے۔ مگر جب موت نے ڈیرہ ڈالا، اجاڑ کے رکھ دیا، رہنے والے مکین چلے گئے۔ گاہک آئے، دکان دار روانہ ہو چکا تھا، بیوی تھی، مگر بیوہ تھی، بچے تھے، مگر بے سہارا ہنستے ہوئے گھر غم زدہ ہو گئے۔ خوشی، غمی میں تبدیل ہو گئی۔ آبادی جو تھی بربادی میں تبدیل ہو گئی، خانہ سرسبز وشاداب، خراب ہو گئے الله الله! کتنا ہول ناک منظر ہے، نومولود چیخ رہا ہے، مگر دودھ پلانے والی شفیق ماں دنیا سے چل بسی۔ موت کا وقت متعین ہے ہر کسی کا، کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا۔

حکایت
حضرت حسن بصری جو اہرات کی تجارت کیا کرتے تھے۔ پھرتے پھراتے روم پہنچے۔ کیا دیکھا کہ وزرا کی بیگمات، لونڈیاں فوج کہیں جارہے ہیں۔ پوچھا کہ کیا آج جشن ہے یا بے وطن ہو کر جارہے ہو؟ وزیر نے کہا: ہمارے ساتھ چلو۔ ایک جنگل میں پہنچے۔ وہاں ایک خیمہ ایستادہ ہے۔ نہایت شان دار خیمہ تھا، پہلے مسلح لشکر نے طواف کیا اور روتے رہے، پھر حکماء فلاسفروں نے، پھر لونڈیوں نے، پھر شاہی بیگمات نے پھر وزیروں نے آخر میں بادشاہ نے طواف کیا، اندر آگیا بصد رنج وملال یاس وحسرت پریشان روتا ہوا سر جھکائے باہر نکلا۔ کچھ آہستہ آہستہ بادشاہ کہتا رہا۔ حسن بصری نے یہ ماجرہ دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ وزیر نے کہا یہ نوجوان لڑکا بادشاہ کا فوت ہو گیا ہے۔ ہر سال پورا لشکر یونہی معہ بادشاہ اس کی قبر پر آتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ بے نیاز کے قبضہ میں یہ فرزند ہے، اے عزیز بچےّ! اگر میرے قبضے میں ذرہ برابر زندہ کرنے کا امکان ہوتا تو ہم سعی بلیغ کرتے، سب مال، ملک اور دولت نثار کر دیتے کہ تیری ایک بار ملاقات ہوجاتی۔ ہم مگر ہار گئے، ہماری طاقت ہیچ ہے تو ایسی ذات کے قبضے میں ہے جو بے نیاز ہے۔

حضرت حسن بصری پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ سب کاروبار چھوڑ کر بصرہ واپس آئے او رتمام جواہرات فی سبیل الله غرباء میں تقسیم کردیے۔ دنیا ترک کر دی اور گوشہ نشین ہو گئے۔ ستر سال الله الله میں گزارے۔ ولی کامل بن کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ (ندائے منبر ومحراب)

مختصر قیام
دنیا میں انسان کا قیام مختصر وقت کے لیے ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب مسلمانوں کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دائیں کان میں اذان او ربائیں کان میں تکبیر پڑھی جاتی ہے، کیوں کہ اذان اور تکبیر جماعت سے پہلے ہوتی ہے اور تکبیر اور جماعت کے درمیان بہت مختصر سا وقفہ ہوتا ہے، اس لیے بچے کے کان میں اذان او رتکبیر پڑھ کر اسے یہ بتا دیا جاتا ہے کہ تیرا دنیا میں قیام بہت مختصر وقت کے لیے ہے۔ تیری اذان بھی ہوچکی اور تکبیر بھی پڑھی جاچکی اور اب جماعت ہونے والی ہے اس کی تیاری کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میت پر نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے تو اس وقت اذان وتکبیر نہیں پڑھی جاتی ،اس لیے کہ وہ تو پہلے پڑھی جاچکی۔ اسی کو عربی شاعر اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے #
        اذان الناس حین الطفل یاتی
        وتاخیر الصلوٰة الی الوفاة
        یشیر بأن عمر المرء شيء
        کما بین الأذان والصلوٰة
        آتے ہوئے اذان ہوئی جاتے ہوئے نماز
        اتنی قلیل مدت میں آئے اور چلے گئے

حکایت
ایک شخص کی اکلوتی بیٹی، جس کی شادی قریب تھی، تمام سامان جہیز مہیا کیا، عین شادی کے دن ملک الموت نے ڈیرہ ڈالا اور بچی داغِ مفارقت دے گئی۔ بارات آئی، مگر دلہن نہ تھی، حلوہ تیار کیا، مگر کھانے والی نہ تھی۔ جو مبارک باد دینے آئے، شریک موت ہوئے۔ انہیں دور سے کہا گیا کہ آج شادی نہیں، بربادی ہے، خوشی نہیں، غمی ہے۔ (ندائے محراب ومنبر)

ماہرین اعداد وشمار نے بہت پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ ہر ایک منٹ میں ساری دنیا کے اندر ایک سو انسان مر جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک رات ودن میں تقریباً پندرہ لاکھ انسان ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں،24 گھنٹے میں پندرہ لاکھ! ظاہر ہے کہ اب اعداد وشمار میں مزید اضافہ ہو چکا ہو گا۔ کیوں کہ دن بدن شرح اموات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ریلوے، بسوں، کاروں ، بحری اور فضائی جہازوں کے حادثات میں روزانہ بے شمار آدمی مر رہے ہیں۔ خانہ جنگیوں او ربڑی طاقتوں کی آویزشوں میں لاتعداد انسان لقمہٴ اجل بن رہے ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پندرہ لاکھ انسانوں کا انتخاب تاب کار عناصر کے برقی ذرّات کی طرح بالکل نامعلوم طور پر ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اگلے 24 گھنٹے کے لیے جن پندرہ لاکھ انسانوں کی موت کی فہرست تیار ہو رہی ہے، اس میں اس کا نام شامل ہے یا نہیں۔ گویا ہر شخص ہر آن اس خطرے میں مبتلا ہے کہ قضا وقدر کا فیصلہ اس کے حق میں موت کا فرشتہ بن کر پہنچے۔

دنیا پر فریفتہ ہو جانے والے اندھے انسان! سوچ، ممکن ہے تیرے سینہ میں اترنے والی گولی بازار میں آچکی ہو۔

کیا نہیں ہوسکتا کہ جس گاڑی میں تیری موت آنی ہے۔ اس کا ایکسیڈنٹ عنقریب ہو جائے؟

کیا یہ یہ نہیں ہو سکتا کہ تیرے کفن کا کپڑا بازار کی دکان پر آچکا ہو۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ موت دھیرے دھیرے چلتی ہوئی تیری دہلیز تک آپہنچی ہو اور تیری مستی اور غفلت پر قہقہے لگارہی ہو؟!

یہ سب کچھ ہو سکتا ہے، مگر لمبی لمبی امیدوں، پروگراموں، منصوبوں اور پلانوں نے تجھے غفلت میں ڈال دیا۔ تھوڑی سی زندگی مانگ کر لایا ہے، مگر پلان اتنے بڑے بڑے بنارہا ہے کہ عمر نوح بھی مل جائے تو پورے نہ ہوں۔

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انسان کی لمبی لمبی آرزووں کو ایک مثال دے کر سمجھایا ہے۔ حضرت عبدالله سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے چار خط کھینچ کر ایک مربع بنایا او رایک لکیر کو مربع کے درمیان کھینچا جو مربع سے باہر نکلا ہوا تھا اور پھر چھوٹے چھوٹے خط درمیان کے خط میں اس کے دونوں جانب کھینچے او رپھر فرمایا یہ درمیانی خط انسان ہے اور یہ مربع اس کی موت ہے، جو چاروں طرف سے اس کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ درمیانی خط کا حصہ جو مربع سے باہر ہے وہ عوارض ہیں ( یعنی آفات وبلیات وغیرہ ہیں جو ہر جانب سے آدمی پر متوجہ ہیں کہ اس کو پیش آویں اور ہلاک کریں)

پس اگر ایک عارضہ اور حادثہ سے انسان بچ گیا تو دوسرا ہے اور دوسرے سے بچ گیا تو تیسرا ہے۔ اسی طرح متعدد عوارض تاک میں لگے رہتے ہے۔ یہاں تک کہ موت آجاتی ہے۔

حاصل یہ ہے کہ آدمی امیدیں دراز رکھتا ہے اور ایک آرزو اس کی پوری ہو جاتی ہے تو دوسری آرزو کو پورا کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے اور اپنی حیثیت میں پھنس کر آخرت کی تیاری سے غافل رہتا ہے کہ اچانک اسے موت آجاتی ہے۔

چار قسم کے لوگ
علما نے لکھا ہے کہ موت کے حوالے سے انسانوں کے چار طبقات ہیں ، پہلے طبقہ کے لوگ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں منہمک ہیں، جن کو موت کا ذکر بھی اس وجہ سے اچھا نہیں لگتا کہ اس سے دنیا کی لذتیں چھوٹ جائیں گی، ایسا شخص موت کو کبھی یاد نہیں کرتا او رکبھی یاد کرتا بھی ہے تو برائی کے ساتھ، اس لیے کہ دنیا کے اس کو چھوٹنے کا قلق اور افسوس ہوتا ہے۔

دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو الله کی طرف رجوع کرنے والے تو ہیں، مگر ابتدائی حالت میں ہیں۔ موت کے ذکر سے ان کو الله کا خوف بھی ہوتا ہے او راس سے توبہ میں پختگی بھی ہوتی ہے۔ یہ شخص بھی موت سے ڈرتا ہے، مگر نہ اس وجہ سے کہ دنیا چھوٹ جائے گی، بلکہ اس وجہ سے کہ اس کو تو بہ تام حاصل نہیں ہے۔ یہ بھی مرنا نہیں چاہتا، تاکہ اپنے حال کی اصلاح کر لے اور اس کی فکر میں لگا ہوا ہے ۔ تو یہ شخص موت کے ناپسند کرنے میں معذور ہے اور یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے اس ارشاد میں داخل نہ ہو گا جس میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص الله کے ملنے کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ شخص حقیقت میں حق تعالیٰ شانہ کی ملاقات سے کراہت نہیں کرتا، بلکہ اپنی تقصیر اورکوتاہی سے ڈرتا ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو محبوب کی ملاقات سے پہلے اس کے لیے تیار ی کرنا چاہتا ہو، تاکہ محبوب کا دل خوش ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ یہ شخص ہر وقت اس کی تیاری میں مشغول رہتا ہو اس کے علاوہ کوئی دوسرا مشغلہ اس کا نہ ہو او راگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ بھی پہلے طبقہ جیسا ہے۔ یہ بھی دنیا میں منہمک ہے۔

تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو عارف ہے، اس کی توبہ کامل ہے، یہ لوگ موت کو محبوب رکھتے ہیں۔ اس کی تمنائیں کرتے ہیں، اس لیے کہ عشاق کے لیے محبوب کی ملاقات سے بہتر کون سا وقت ہو گا۔ موت کا وقت ملاقات کا ہے، عاشق کو وصل کے وعدہ کا وقت ہر آن یاد رہتا ہے۔ وہ کسی وقت بھی اس کو نہیں بھولتا، یہی لوگ ہیں جن کو موت کی جلدی آنے کی تمنائیں رہتی ہیں ،وہ اسی قلق میں رہتے ہیں کہ آہی نہیں چکتی کہ اس معاصی کے گھر سے جلدی خلاصی ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ کے انتقال کا وقت جب قریب ہوا تو فرمانے لگے۔ محبوب(موت) احتیاج کے وقت آیا، جو نادم ہو وہ کام یاب نہیں ہوتا۔ یا الله! تجھے معلوم ہے کہ مجھے ہمیشہ فقرغناء سے زیادہ محبوب رہا او ربیماری صحت سے زیادہ پسندیدہ رہی او رموت زندگی سے زیادہ مرغوب رہی۔ مجھے جلدی موت عطا کر دے کہ تجھ سے ملوں۔

چوتھاطبقہ ان لوگوں کا ہے جو سب سے اونچا درجہ ہے، ان لوگوں کا ہے جو حق سبحانہ وتعالیٰ کی رضا کے مقابلے میں کچھ تمنا نہیں رکھتے، وہ اپنی خواہشات سے اپنے لیے نہ موت کو پسند کرتے ہیں نہ زندگی کو، یہ عشق کی انتہا میں رضا اور تسلیم کے درجہ کو پہنچتے ہیں۔

خلاصہٴ کلام
میرے عزیزو! یہ بات تو اٹل ہے کہ ”کل نفس ذائقة الموت“ اس لیے موت کی تیاری کرو۔ ہم سفر پر جاتے ہیں تو باقاعدہ ایک تھیلا ہوتا ہے، بستر ہوتا ہے ، کرایہ ہوتا ہے، انتظام ہوتا ہے، اہتمام ہوتا ہے اور ساتھ طعام ہوتا ہے۔ یہ تو ایک لمبا سفر ہے، قبر سے لے کر حشر تک۔ صدیق اکبر کے ایک جملے نے میرے سینے کو ہلاکر رکھ دیا۔

فرمایا:”من دخل القبر بلازاد فکانما رکب البحر بلا سفینة“ پیغمبر کے رفیق ابوبکر صدیق  فرماتے ہیں کہ جس کے پاس کوئی عمل نہیں، نہ نماز، نہ روزہ اور کفن پہن کرجارہا ہے، یوں سمجھے کہ دریا میں بغیر کشتی کے جارہا ہے۔ اب غرق ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں #
        اس سراب رنگ وبو کو گلستان سمجھا ہے تو
        آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو
        یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
        پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.