جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حضرت شاہ ولی الله رحمة الله علیہ انقلابی یا مجدد؟

مولانا سعید احمد اکبر آبادی

آج کل تجدد نواز علماء اور ارباب قلم کا یہ فیشن ہو گیا ہے کہ وہ اسلام کو عالم گیر مذہب ثابت کرنے کے لیے ہر اُس نظریہ اور اصطلاح کو اسلام پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کو ایک زبردست پروپیگنڈہ نے قبول عام کے بازار میں شہرت ووقعت دے دی ہو، آپ کو یاد ہو گا اب سے چند سال پہلے ” جمہوریت“ کا غوغا ہوا، اس کی مدح وثنا میں ارباب فکر وانشا نے داد سخن گستری دینی شروع کی تو ہمارے ان علمائے کرام نے دلائل وبراہین سے ثابت کیا کہ اسلام کا نظام حکومت بھی تو جمہوری ہی ہے، پھر اب موجودہ ڈیمو کریسی ناکام ہوتی ہوئی نظر آتی ہے او راس کے بالمقابل ڈکٹیٹرشپ کی طرف لوگ زیادہ مائل معلوم ہوتے ہیں تو ان ہی حضرات نے اب جمہوریت کی مذمت بیان کرنا شروع کر دی ہے اور کچھ تکلم زیر لب کے انداز پر اور بعض کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ دراصل اسلام بھی تو ڈکٹیٹرشپ ہی کا قائل ہے، حالاں کہ اگر واقعی طور پر غور کیا جائے تو اسلام کے نظام حکومت کوموجودہ اصطلاح کے ماتحت نہ جمہوریت سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ڈکٹیٹرشپ سے۔ بلکہ وہ ان دونوں کے درمیان کی ایک معتدل راہ ہے، جس میں خلیفہ نہ ڈکٹیٹر کی طرح بالکل مطلق العنان ہوتا ہے اور نہ کسی صدر جمہوریہ کی طرح مجلس نمائندگان کا بالکل پابند۔

اسی طرح سویت روس کی طرف سے سوشلزم کا پروپیگنڈہ ہوا تو ہم میں کتنے ہی تھے جو اس کی آن بان سے مرعوب ہو کر برملا اسلام کے اقتصادی نظام کو بھی سوشلزم پر منطبق کرنے لگے اور انہوں نے دعوی کیا کہ اسلام میں اور سوشلزم میں بنیادی طور پر ( یہ بھی محض برسبیل احتیاط) کوئی فرق نہیں ہے، میں ان دوستوں کی نیت پر کوئی حملہ نہیں کرتا، ممکن ہے کہ یہ سب باتیں نیک نیتی کے ساتھ ہوں اور اس غرض سے ہوں کہ وہ اسلام کو ایک عالم گیر اور دنیا کے ترقی یافتہ نظریوں کا ساتھ دینے والا مذہب ثابت کرنا چاہتے ہوں، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ان کا یہ طرز عمل اسلام کے لیے حد درجہ نقصان رساں ہے، اس کے تو معنی یہ ہوئے کہ اسلام بجائے خود کوئی حقیقت ثابتہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی ربڑ ہے جس کو کھینچ تان کر وہ ہر قدو قامت پر راست کرسکتے ہیں اور وہ ایک ایسا مبہم مجہول دستور ہے جس کی تشریح ہر زمانہ میں اس کے جدید رحجانات کے مطابق ہو سکتی ہے۔

اسی نوع کی ذہنی مرعوبیت کی ایک بدترین مثال یہ ہے کہ آج ہم اپنے بزرگوں کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے لیے وہی عنوانات تجویز کرتے ہیں جو موجودہ دور سیاست میں کسی بڑے سے بڑے لیڈر کے لیے سرمایہٴ نازش وافتخار سمجھے جاتے ہیں۔ اس قسم کے لفظوں میں غالباً سب سے بڑا شان دار اور پر عظمت لفظ ”انقلابی“ ہے، گزشتہ چند مہینوں میں اسلامی سیاست پر جن حضرات نے مقالے لکھے ہیں ان کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ہمارے ارباب قلم کس بری طرح جدید عنوان ستائش سے مرعوب ہو کر رہ گئے ہیں، اب انہیں اپنے ہر بزرگ کی ذات ”انقلابی“ اور اس کا ہر کارنامہ انقلاب نظر آتا ہے، ان بزرگوں میں حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی رحمة الله علیہ کی ذات غالباً سب سے نمایاں اور ممتاز ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب کو ہندوستان کے دور آخر کا سب سے بڑا داعی انقلاب راہ نما اور انقلابی کہا جاتا ہے ، حالاں کہ اگر انقلابی کے صحیح معنی کو پیش نظر رکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ حضرت شاہ صاحب کو انقلابی کہنا ان کی تعریف وتوصیفنہیں، بلکہ ایک گونہ تنقیص ہے۔ مندرجہ ذیل سطروں میں اس حقیقت پر کچھ روشنی ڈالنے کی سعی کی گئی ہے۔

انقلابی کے خصائص
سب سے پہلے انقلابی او رمصلح کا فرق سمجھ لیجیے ، جو حضرات کسی قوم میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک مصلح اور دوسرا انقلابی، ان دونوں میں مابہ امتیاز یہ ہے کہ مصلح کا راستہ نہایت معتدل اور افراط وتفریط سے بچا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ روحانی اور اخلاقی کریکٹر کے لحاظ سے بہت بلند پایہ انسان ہوتا ہے، اس کی تمام کوششیں خیر خواہی اور خیر اندیشی کے جذبہ پر قائم ہوتی ہیں، اس میں منتقمانہ جوش بالکل نہیں ہوتا، اس کو ذاتی ترفع اوروجاہت پسندی سے بُعد ہوتا ہے، وہ جو کچھ کرتا ہے اورکہتا ہے سچائی اور ایمان داری سے کرتا او رکہتا ہے، لیکن اس کے برخلاف ایک انقلابی لیڈر یا راہ نما کا یہ حال نہیں ہوتا، اس کے سامنے ایک نظام ہوتا ہے، اس کے خیال میں نہایت ہی مکروہ اور مذموم، وہ ہر ممکن طریقہ سے اس کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے عفو ودرگزر بے معنی چیزیں ہیں، یہ نظام چوں کہ اس کی نگاہ میں انتہا درجہ قبیح، اور لائق مذمت ہوتا ہے اور اس کے احساسات اس کی نفرت وحقارت سے پر ہوتے ہیں، اس لیے رد عمل کے اصول کے مطابق وہ اس کا انتہائی توڑ تلاش کرتا ہے اور اس پر جم جاتا ہے، اس راہ میں اس کو اعتدال اور میانہ روی کا مطلقاً دھیان نہیں رہتا، مثلاً اایک انقلابی، نظام سرمایہ داری کو دیکھتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ میں سوشلزم سے کم کسی چیز پر راضی ہی نہیں ہوسکتا، وہ انفرادی ملکیت کا ہی سرے سے منکر ہوتا ہے، اس کے لیے یہ دشوار ہے کہ وہ ملکیت کی تحدید یا اس پر کچھ پابندیاں عائد کرنے پر رضا مند ہو سکے۔

پھر جب وہ اپنی ایک شاہ راہ مقصود متعین کر لیتاہے تو وہ اس پر آنکھ بند کرکے بڑی تیزی سے چلتا ہے، اب اس کو گردوپیش کی کوئی پروا نہیں ہوتی اور نہ اسے یہ خیال ہوتا ہے کہ ”زیرقدمش ہزار جانست“ والا معاملہ ہے، ایسا نہ ہو کہ سینکڑوں بے گناہ انسان اس کی تیزگامی کی نذر ہو جائیں، اس لحاظ سے ”انقلابی“ کے لیے ضروری نہیں کہ وہ فضائل اخلاق کا پابند ہو اور روحانی مرتبہ کے لحاظ سے وہ کسی غیر معمولی حیثیت کا انسان ہو، غرضیکہ ایک انقلابی کے ذاتی خصائص وشمائل کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں تین چیزیں نمایاں نظر آئیں گی۔
1..تشدد اور جبر2.. افراط وبے اعتدالی3.. خود غرضی اور جذبہ انتقام۔

انقلاب فرانس کے نام سے آج کون پڑھا لکھا ناواقف ہے؟! جنہوں نے اس کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ فکری اور ذہنی تبدیلی پیدا کرنے میں فرانس کے چار مصنفوں کو بہت دخل ہے ، مانتیکیو، والیٹر، ویرو اور روسو، یہ چار وہ لوگ ہیں جن کی تصنیفات کو اساس انقلاب کہا جاتا ہے۔ ان میں غالباً سب سے زیادہ اعتدال پسند روسو ہے، لیکن اس کا حال بھی یہ ہے کہ وہ امن ،علم، تہذیب اور مذہب واخلاق ان سب چیزوں کا برملا مذاق اُڑاتا ہے اور ان پر پھبتیاں کستا ہے، مثلاً ایک جگہ وہ لکھتا ہے:
تہذیب کیا ہے؟ تعیش پسندی! امن کیا ہے؟ ظلم وجور علم کیا ہے؟ انسانی غلطیاں ۔“

چوں کہ اس طرح کی انتہا پسندانہ باتیں شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی اندرونی جذبہٴ انتقام پر مبنی ہوتی ہیں، اسی لیے خود روسو کے بعض عقید ت مندوں کو اس کی طرف سے کبھی کبھی شبہ پیدا ہو جاتا تھا اور وہ درپردہ یہ سوال کرتے تھے۔

”کیا روسو سوسائٹی کا اس لیے دشمن ہے کہ اس میں وہ اپنے لیے کوئی جگہ پیدا نہیں کرسکا؟“ ”کیا وہ دولت سے اس لیے متنفر ہے کہ وہ اسے حاصل نہ کرسکا؟

پھر کتاب انقلاب کے مسلمہ ابواب وفصول میں غدر اور انقلاب میں کوئی فرق نہیں ہے، چناں چہ انقلابیوں کا ایک عام مقولہ ہے کہ کام یاب بغاوت کا نام انقلاب ہے اور ناکام انقلاب کا نام بغاوت ، افسوس ہے کہ یہاں تفصیل کا موقع نہیں، ورنہ یہ بات بہت آسانی سے ثابت کی جاسکتی ہے کہ آج کل کے مصطلحہ انقلاب میں جن لوگوں نے شان دار انقلابی کارنامے کیے ہیں، ان میں اکثر وبیشتر ایسے ہی لوگ تھے جو ذاتی طور پر سوسائٹی کے مروجہ نظام کا شکار ہوئے اور اس کی وجہ سے انہوں نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ مثال کے طور پر میں کارل مارکس کی ابتدائی پُرمصائب زندگی کو پیش کرسکتا ہوں، اس بنا پر اس کے افعال واعمال کی نسبت یہ دعوی نہیں کیاجاسکتا کہ وہ کسی ذاتی غرض یا کسی جذبہ انتقام سے بالکل مبرہ ومنزہ تھے۔

میں اس موقعہ پر یہ بھی ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی انقلابی لیڈر کی واقعی عظمت وبزرگی کا منکر نہیں ہوں، لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ میرے نزدیک ایک مصلح، مجدد اور مجاہد ملت کا مرتبہ انقلابی سے کہیں زیادہ بلند ہے اور میں ایک لمحہ کے لیے یہ گوار نہیں کرسکتا کہ آپ اپنے کسی مجدد ملت یا مجاہدامت کو انقلابی کے لفظ سے یاد کریں۔

حضرت شاہ صاحب کے خصائص
انقلابی کی ان خصوصیات کو پیش نظر رکھ کر اب حضرت شاہ صاحب  کے اوصاف وکمالات کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہو گا کہ حضرت شاہ صاحب  اسلام کے بہترین مفکر، حکیم اور زبردست عالم ربانی اور اسلامی فلاسفر تھے، ان کی تصنیفات نے اس زمانہ کی بیمار ذہنیتوں کی اصلاح کرکے انہیں پاک وصاف بنایا، غیر اسلامی اوہام وتخیلات کی جگہ مسلمانوں میں خالص اسلامی تخیل پیدا کیا۔ حضرت شاہ صاحب شریعت اور طریقت، فلسفہ اور تصوف، عقلیات اور نقلیات کے ایسے مجموعہ دلکش ودل آویز تھے کہ ان کی ذات جس طرح ایک مسلمان کے لیے رشد و ہدایت کا کام دے سکتی ہے، غیرمسلموں، مگر انصاف پسندوں، کے لیے بھی وہ بہترین معلم ثابت ہو سکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب  کی پُرزور تحریرکا اثر مسلمانوں کی طرح غیر مسلموں کے دل ودماغ کو بھی متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اسلام کے بہترین راز دار حکیم مصلح ہیں اورپھر اپنے ہمہ گیر دلائل وبراہین کی روشنی میں اسے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سننے والے کو مجال انکار باقی نہیں رہتا، اسلام دین فطرت ہے۔ پس جس کسی کو اس دین کے محرم اسرار ہونے کا شرف حاصل ہو گا ضروری ہے کہ تمام نوامیس فطرت، اسرار ورموز عالم سے بھی پوری طرح باخبر ہو، اس مقام بلند پر پہنچ کر مجازا ورقیاس وتخمین کے تمام حجابات یک قلم اُٹھ جاتے ہیں اور دیکھنے والا جلوہٴ جمال حقیقت سے بلاواسطہ شاد کام وفائز المرام ہوتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر ارباب سلوک ومعرفت کی اصطلاح میں انسان اپنی تئیں مجدد سمجھنے لگتا ہے، اب اگر کسی مرشد کامل یا علم شریعت میں مہارت کے ذریعہ حضرت حق جل وعلا کی توفیق اس کے شامل حال نہیں ہوتی تو وہ گم راہ ہو کر طرح طرح کی دعا وی باطلہ کرتا ہے، ورنہ وہ سنبھل جاتا ہے اور اس مقام سے گزر کر اس کی طبیعت میں اعتدال پیدا ہو جاتا ہے۔

حضرت شاہ صاحب  نے تفہیمات، الخیر الکثیر اور حجة الله البالغة کے شروع میں جو کچھ اپنی نسبت لکھا ہے ایک طرف آپ اس کو دیکھیے اور دوسری جانب آپ نے اپنی تصنیفات میں شریعت وطریقت کی تطبیق کی جو کوشش کی ہے اس کو ملاحظہ فرمائیں تو صاف عیاں ہو جاتا ہے کہ آپ بے شبہ اس مقام رفیع پر سرفراز تھے جو مجددیت کا مرتبہ کہلاتا ہے، لیکن چوں کہ علوم ظاہریہ ورسمیہ میں بھی آپ کو بڑا کمال تھا ،اس لیے مجددیت کی شان کے ساتھ آپ کے قباء عظمت میں فلسفیت کے ایک تکملہ زریں کا اور اضافہ ہو گیا ہے اور ان دونوں کی آمیزش نے حکمائے اسلام کی صف میں آپ کو ایک نمایاں تر مقام پر لا بٹھایا ہے۔

مقام مجددیت
حضرت شاہ صاحب خود اپنے اس مقام کا اظہار تفہیمات میں اس طرح کرتے ہیں:
مجھ کو میرے رب نے یہ سمجھایا ہے کہ ہم نے تم کو اس طریقہ کا امام بنا دیا اور حقیقت قرب تک پہنچنے کے تمام راستوں کو بند کرکے صرف ایک راستہ کھلا رکھا ہے اور وہ تمہاری محبت اور اطاعت کا راستہ ہے، جو شخص تمہارا دشمن ہے، اس کے لیے آسمان آسمان نہیں اور زمین زمین نہیں، پس تمام اہل مشرق ومغرب تمہاری رعیت ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔اس سے غرض نہیں کہ یہ لوگ جانتے ہیں یا نہیں، اگر جانتے ہیں تو کام یاب ہوں گے، ورنہ نقصان اٹھائیں گے۔“

ایک مقام پر فرماتے ہیں:
مجھ کو بتایا گیا ہے کہ میں اس حقیقت کا اعلان کر دوں کہ آج وقت میرا ہی وقت ہے اور زمانہ میرا ہی زمانہ ہے، اس شخص پر حیف جو میرے جھنڈے کے نیچے نہیں ہے۔“

ایک دو نہیں، تفہیمات کا اول سے آخرتک مطالعہ کیا جائے تو اس میں اس بات سے متعلق اشارات وتصریحات بکثرت ملیں گی۔ پھر حضرت شاہ صاحب  نے جو کچھ فرمایا، مدعیان باطل کے دعاوی کی طرح محض زبانی تعلی اور خود ستائی نہ تھا بلکہ ان کی تصنیفات، اُن کے شان دار علمی اور عملی کارنامے اس دعوی کا ناقابل تردید ثبوت ہیں، اس حقیقت ثابت سے کون انکار کرسکتاہے کہ حضرت شاہ صاحب جن مضبوط بنیادوں پراپنے دست تجدید سے اسلام کی تعمیر قائم کر گئے ہیں، اس کی استواری کا یہ عالم ہے کہ حوادث ونوازل کے لاکھ سیلاب آئیں اس کو مترلزل نہیں کرسکتے، آج اسلامی فلسفہ اور حقائق ومعارف اسلام کی جو کچھ روشنی نظر آتی ہے غور کیجیے تو وہ سب اسی آفتاب علم کا پر تو ہے #
        فیضی احسنت ازیں عشق کہ دوراں امروز
        گرم دارد ز تو ہنگامہٴ رسوائی را

علم اسرار
یہ ظاہر ہے کہ شان مجددیت اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتی، جب تک کہ شریعت کے غوامض وحکم سے پوری طرح واقفیت نہ ہو، اس کے بغیر ایمان محض ایمان بالغیب اور عمل صرف”تعمیل حکم“ کے درجہ تک محدود رہتا ہے، حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کو مجددیت کے مقام بلند پر سرفراز ہونا تھا، اس لیے انہیں اسرار ورموز شریعت کا محرم بنایا گیا اور جو حقیقتیں دوسروں کو محض سان گمان سے معلوم تھیں۔ آپ نے ان کا مشاہدہ کیا۔ چناں چہ حجة الله البالغہ میں ارشاد ہوتا ہے۔

”میرے نزدیک تمام جدید فنون میں سب سے زیادہ دقیق، مرتبہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ بلند اور علوم شرعیہ میں سب سے زیادہ روشن اور مبرہن دین کے اسرار کا علم ہے، جس میں احکام کی حکمتوں اور مصلحتوں سے اور خاص خاص اعمال کے بھیدوں اور ان کی نکات سے بحث ہوتی ہے، بس خدا کی قسم! یہی علم سب سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ انسان اپنی استطاعت کے مطابق اس میں اپنے نفیس ترین اوقات صرف کرے اور فرض طاعتوں کے بعد اس کو اپنے لیے ذخیرہٴ آخرت بنائے، کیوں کہ اسی علم کے ذریعہ انسان کو شرعی احکام ومسائل کی بصیرت حاصل ہوتی ہے اور اخبار شرع کے ساتھ اس کی نسبت ایسی ہی ہو جاتی ہے جیسی عروض جاننے والے کی اشعار کے دوا وین کے ساتھ یا ایک عالم منطق کی براہین حکما کے ساتھ اور وہ اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔“

علوم رسمیہ وظاہر یہ میں مہارت
پھر ہر مجدد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ماحول کا بالکل صحیح اندازہ رکھتا ہو، اپنے زمانہ کے عواطف ورجحانات سے پوری طرح باخبر ہو۔ اور جدید طریقہٴ استدلال پر اس کو کامل عبور ہو اگر یہ چیز نہیں ہے تو اسے مجددیت میں خاطر خواہ کام یابی حاصل نہیں ہو سکتی، کیوں کہ وہ ابنائے زمانہ کو ان کے مروجہ علوم کی روشنی میں حقائق اسلامی کوسمجھا نہیں سکے گا اور لوگ خود اسی کے طرز استدلال سے نامانوس ہو کر اس کے دلائل زیادہ توجہ کے ساتھ سن نہیں سکیں گے۔

زور تحریر وتقریر
ان کمالات کے ساتھ زور تحریر وتقریر کی نعمت سے بھی بہرہ اندوز ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر مخاطب پر متکلم کے دلائل وبراہین کا اثر کم ہوتا ہے، حضرت شاہ صاحب  کی ذات گرامی ان تمام اوصاف و شمائل کی بھی جامع تھی ،آپ کے عہد میں علوم عقلیہ میں منطق اور فلسفہ کا زور تھا، حضرت شاہ صاحب  دینی ونقلی علوم میں مرتبہ امامت رکھنے کے ساتھ ان علوم میں بھی مہارت تام رکھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ حجة الله البالغہ لکھ کر انہوں نے شرعیات مسائل کے باب میں ابوالحسن اشعری وغیرہ کے علم کلام سے الگ ایک بالکل نئے علم کلام کی بنیادرکھ دی ہے، جو بحث واستدال کے لحاظ سے پہلے علم کلام سے کہیں زیادہ معقول اور نتائج کے افادہ کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ قطعی الثبوت ہے، رہا زور تحریر! تو اس کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، جس شخص نے آپ کی تصنیفات کا مطالعہ کیا ہے اس کو معلوم ہو گا کہ آپ کے کلام میں حافظ ابن تیمیہ کی سی صولت کلام اور بات کا پھیلاؤ اگرچہ بالکل نہیں ہے لیکن وہ جو کچھ فرماتے ہیں ایسے جچے تلے اور موزوں ومتناسب الفاظ میں فرماتے ہیں کہ پڑھنے والے پر اس کا اثر ہوتا ہے اور جتنا جتنا وہ آگے بڑھتاہے عقیدت ارادت کا نقش اسی قدر زیادہ جلی اور پختہ ہوتا جاتا ہے۔

حضرت شاہ صاحب کا عمل تجدید
ان کمالات وخصائص سے آراستہ ہو کر آپ نے جب تجدید کے میدان میں قدم رکھاتو کوئی شبہ نہیں آپ نے وہی عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جو صحیح معنی میں ایک نائب رسول ہی کر سکتا ہے، آپ نے جس فضا میں آنکھ کھولی وہ اخلاقی اور روحانی پستی کے لحاظ سے نہایت شرم ناک دور تھا، مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹمانا شروع ہو گیا تھا دربار پر شیعوں کا قبضہ تھا، تمام ملک میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا، مسلمانوں کی تعلیمی حالت یہ تھی کہ درس گاہوں میں صدرا،شمس بازغہ اور شرح مطالع کے شروح وحواشی اس کثرت سے رائج تھے کہ گویا اس زمانہ میں مسلمانوں کا نصاب تعلیم ان کتابوں کے سوا کچھ اور تھا ہی نہیں، دینیات میں تھوڑا بہت اگرچرچا تھا بھی توفقہ کی چند کتابوں کا، تفسیر وحدیث کا رواج بہت کم تھا ،بس #
        ایں قدر ہست کہ بانگ جر سے می آید

کا مصداق تھا، اخلاق اور اعمال کا یہ عالم تھا کہ بدعات، مشرکانہ اعمال ورسوم جو زیادہ تر ہندوؤں کے ساتھ اختلاط کا نتیجہ تھے، گھر گھر رواج پذیر تھے ،امراء اور ارباب ثروت عیش وعشرت میں مصروف ہو کر دین حق سے غافل ہو چکے تھے، حضرت شاہ صاحب  نے ان تمام احوال گردوپیش کا جائزہ لے کر اپنا عمل تجدید جاری کیا تو اس طرح کہ ایک طرف آپ نے شیعیت کی تردید میں ازالة الخفاء تصنیف فرمائی، مدرسہ رحیمیہ دہلی (جو حضرت شاہ صاحب  کے والد ماجد کے نام پر تھا ) میں قرآن وحدیث کا درس دیا، جس میں دور دور کے طلباء شریک ہو کر کسب سعادت کرتے تھے، اپنی پچاس سال کے قریب مدت تک اس مدرسہ میں درس جاری رکھا، اسی سلسلہ میں آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا، تاکہ اس کا افادہ عام ہو سکے، کوئی شبہ نہیں کہ یہ اقدام بھی آپ کا غیر معمولی عمل تجدید تھا، جس نے عام علماء میں اُن کی خود غرضی کی بنا پر بے چینی پیدا کر دی تھی، اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے حجة الله البالغہ اور تقلید واجتہاد پر زریں تصنیفات کرکے اس بات کی سعی بلیغ کی کہ ان میں جو ذہنی تسفل اور دماغی جمود وخمود پیدا ہو گیا ہے اور جو فی الحقیقت ان کے اجتماعی، سیاسی اور مذہبی انحطاط کا باعث ہے، یہ دور ہو اور اس کے بجائے اجتہاد فکر کی روشنی، آزاد غوروخوض کی عادت اور صحیح اسلامی طریقہ پر سوچنے او رسمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔

کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب  کا عمل تجدید بیکار وبے اثر رہا؟! خوش قسمتی سے حضرت شاہ صاحب  کو جانشین بھی ایسے میسر آئے جنہوں نے آپ کے علوم وفنون کی حفاظت اور دیانت داری کے ساتھ ان کی نشرواشاعت میں حضرت شاہ صاحب  کی جانشینی کا پورا حق ادا کیا،نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم نے اس خاندان کی نسبت کیا خوب لکھا ہے:
”ہریکے از ایشاں بے نظیر وقت وفریددہرو وحید عصر و علم وعمل وعقل وفہم وقوت تقریر وفصاحت تحریری وتقوی ودیانت وامانت ، ومراتب ولایت بود، وہم چنیں اولاد اولاد ایں سلسلہ از طلائی ناب است․“ (اتحاف النبلاء المتقین باحیاء مآثر الفقہاء المحدثین)

لیکن خاندان ولی اللّہی نے جس شاہ راہ کو اختیار کیا اس کی بنیاد حضرت شاہ صاحب نے ہی ڈالی تھی، اس بنا پر مجددیت کا شرف اس تمام سلسلہ میں حضرت شاہ صاحب رحمة الله علیہ کے لیے ہی مخصوص ہے، آج ہند وپاک میں علم دین کا چرچا ، مذہبی بیداری اور شرک وبدعت سے اجتناب اور علماء کا وقار جو کچھ نظر آتا ہے یہ سب حضرت شاہ صاحب  کے ہی مجددانہ کارناموں کا اثر مابعد ہے، ورنہ مصر، ایران اور شام وفلسطین اور ترکی وافغانستان میں مسلمانوں کی جو حالت ہے کون کہہ سکتا ہے کہ اگر اس خاندان والا نشان کی خدمات بابرکات نہ ہوتیں تو یہاں کے مسلمانوں کی مذہبی حالت ان ممالک سے بھی بد تر نہ ہوتی!

پس اس علمی وعملی جلالت شان کے باعث آپ خود سوچیے کہ حجة الاسلام شاہ ولی الله الدہلوی ایک بلند پایہ مجدد تھے یا انقلابی؟ کوئی شبہ نہیں کہ آپ زمانہ کے اعتبار سے متاخر تھے، لیکن اپنے علمی وعملی اور ظاہری باطنی کمالات وخصوصیات کے لحاظ سے زمانہ سلف کے اکابر علماء ومجتہدین سے کسی طرح کم نہیں تھے، بلکہ ایک بڑی حد تک ابوالعلاء المعری کے اس شعر کے مصداق تھے #
        وانی وان کنت الاخیر زمانہ
        لآت بما لم تستطعہ الاوائل

لیکن آپ کو ”انقلابی“ کہنا یایہ دعوی کرنا کہ آپ کسی نئے فلسفہ کے علم بردار تھے، آپ کی تعریف نہیں، بلکہ تنقیص ہے اور اسلام کے صحیح طریق فکر اور اس کے درست طریق اصلاح وارشاد سے بے خبری کی دلیل ہے۔

وآخردعوانا ان الحمدلله رب العالمین!



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.