جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حسن ا خلاق مؤمن کی پہچان

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

مسلمان جب حسن اخلاق اور فضائل ومکارم سے اپنی حیات کو متصف کرتا ہے تو پھر وہ بارگاہ خداوندی اور مخلوق خداوندی دونوں میں مقبول ہو جاتا ہے، حسن اخلاق کے ذریعہ جو مراتب وفضائل حاصل کیے جاسکتے ہیں، کسی اور چیز سے ممکن نہیں، جب آدمی اپنے آپ کو حسن اخلاق سے متصف کرتا ہے ، وہ معاشرہ کا باعزت فرد بن جاتا ہے، اس کے مال اور عزت وآبرو پردست درازی سے بھی انسان کتراتا ہے۔ اس کے مقابل جب انسان بے حیا ، بد اخلاق ہوتا ہے وہ ذلت ، پستی اور خواری کی وادی میں منھ کے بل گر جاتا ہے۔ خود مسلمانوں کی سربلندی اور سرفرازی اور ان کی گزشتہ مجد وشرافت کی واپسی بھی اسی سے وابستہ ہے کہ مسلمان اخلاق فاضلہ سے اپنے آپ کو متصف کر لے اور اخلاق رذیلہ اور سیئیہ سے اجتناب کرنے لگے۔ خود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بھی امتِ مسلمہ کو اخلاق حسنہ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے اور بد اخلاقی، بداطواری، بدکرداری سے کنارہ کشی کرنے کا حکم کیا ہے۔ مسلمان اچھے اخلاق، سچائی، امانت داری، وعدہ کی پاس داری، زبان کی صفائی ، دل کی دھلائی، کینہ وکدورت سے دوری جیسے اوصاف سے متصف ہوتا ہے۔ اس میں جھوٹ، مکاری، عیاری، دغابازی، گالی گلوچ، فحش، درشت روی، سخت روئی یہ تمام اوصاف ایک مسلمان کے نہیں ہو سکتے۔ سختی، شدت، غیبت ،چغل خوری اس طرح کے اوصاف سے مسلمان عاری اور تہی دامن ہوتا ہے۔ مسلمان کسی کے درپے آزار نہیں ہوتا، اس کا سراپا وجود دوسروں کے لیے باعث رحمت ورافت ہوتا ہے۔ اس کی ہر نقل وحرکت، اس کا اٹھنا بیٹھنا دوسروں کے افادہ اور ان سے تکلیف اور ضرر کو دور کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ وہ صرف اپنے ذاتی نفع اندوزی کے دائرہ میں محدود ومحصور نہیں ہوتا، وہ دوسروں کو نفع پہنچانے کا باعث ہوتا ہے۔

حسن اخلاق کی دعوت
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کو حسن اخلاق سے متصف ہونے کا حکم دیا ہے، اخلاق فاضلہ سے متصف اشخاص کو خیار مسلمین (بہترین مسلمان) کہا ہے۔ حسن ِ اخلاق کی جامع تعریف ملا علی قاری نے یوں کی ہے:” معاملات میں عدل کو تھامے رہنا، احکام کے نفاذ میں انصاف اوراحسان و عدل کو اپنانا۔ اس سلسلہ کی صحیح تعریف یہ ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے احکام شریعت، آداب طریقت اور احوال حقیقت کو اپنانا“۔ (مرقاة المفاتیح:8/3170) نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میرے یہاں تم میں سے سب سے محبوب شخص حسن اخلاق سے متصف شخص ہے۔“ (بخاری:3759) اور قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اے الله کے رسول ! انسان کو عطا کردہ بہترین چیز کیا ہے؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”حسن اخلاق“۔ (شعب الایمان، تعظیم النبی صلی الله علیہ وسلم واجلالہ وتوقیرہ، حدیث:1435) اور خود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حسن اخلاق کی تعریف فرمائی ہے: نواس بن سمعان سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے نیکی اورگناہ کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی اور اچھائی حسن اخلاق ہے او رگناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا تمہیں ناپسندیدہ گزرے“۔ (مسلم ،باب تفسیر البر والإثم، حدیث:2553) نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نیکی کو حسن اخلاق کے مترادف بتایا ہے، گناہ کو حسن اخلاق کی نقیض اور ضد فرمایا ہے، فرمایا: حسن اخلاق ہی نیکی ہے، گناہ جو چیز تمہیں شک وتردد میں مبتلا کردے، جس سے اطمینان قلب حاصل نہ ہو اور تمہاری طبیعت پروہ ناگوار گزرے۔

نرم خوئی حسن اخلاق سے ہے
مخلوق کے ساتھ نرمی، نرم خوئی، لطف ومہربانی، سہولت وآسانی، مخلوق سے کلفت او رمشقت کو دور کرنا یہ حسن اخلاق سے ہے، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس پر امت مسلمہ کو ابھارا ہے، اس پر اجراور ثواب کاو عدہ فرمایا ہے ” الله عزوجل نرم خو ہیں، وہ نرمی کو پسند فرماتے ہیں، نرمی خوئی پر وہ کچھ عطا کرتے ہیں جو دوسرے امور پر عطا نہیں کرتے۔“ (صحیح مسلم: باب فضل ارافق:2593) ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے:”تم نرمی کو اختیا رکرو، سختی، فحش گوئی سے اجتناب کرو، جس چیز میں نرمی ہوتی ہے وہ اس کو زنیت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی چلی جاتی ہے اس کی زینت ختم ہوجاتی ہے۔“ (صحیح مسلم ،باب فضل الرفق:2594) ایک دوسری روایت میں مروی ہے: جس کو نرمی کا کچھ بھی حصہ عطا کیا گیا اس کو دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا کی گئی۔حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے: جس کو نرمی کا حصہ عنایت کیا گیا اس کو دنیا وآخرت کی بھلائی کا حصہ دیا گیا، جس کو اس سے محروم کر دیا گیا اس کو دنیا وآخرت کی خیر اور بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔ (مسند احمد،مسند الصدیقہ عائشہ:25259)

حیاء کا تعلق بھی حسن اخلاق سے ہے
حکماء کے قول کے مطابق ”حیاء“ کہتے ہیں: ”ملامت کے لائق چیز کے خوف سے جو تبدیلی او رتغیر انسان میں پیدا ہوتا ہے اس کا نام ہے۔ بعض لوگوں نے ”حیاء“ کی دوسری تعریفات کی ہیں۔ جنید کہتے ہیں: نعمتوں کے حصول اور نعمتوں پر شکر کی عدم ادائیگی کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کا نام ”حیاء“ ہے۔ ذوالنون کہتے ہیں:” الله عزوجل کے حضور جو اس سے سابق میں قصور ہوئے ہیں اس کی وحشت سے دل میں ہیبت او رخوف کا پیدا ہونا۔ دقاق کہتے ہیں:”الله کے حضور دعوی کے ترک کرنے کا نام”حیا“ہے ۔ (مرقاة المفاتیح:8/3170) اور خود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے”حیا“ کا شمار حسن اخلاق میں فرمایا ہے ۔ زید بن طلحہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دین میں اخلاق ہیں، اسلام کے اخلاق میں سے ”حیاء“ ہے۔ (ابن ماجہ:4181) اسی لیے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ”حیاء“ کو جز وایمان قرار دیا ہے ، فرمایا: ”حیا ایمان کا جز ہے۔“ (بخاری:6118) یعنی حیا انسان کو شرعی طور پر قبیح امور کے ترک یا طبعی یا شرعی قبیح امور کے اجتناب سے روکتی ہے اور ایک روایت میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” پہلے انبیاء کے کلام میں یہ بات مروی ہے کہ ”جب تم میں حیاء نہ رہے تو جو چاہے کرو۔“ (بخاری:3484)

چوں کہ حیاء ہی نا مناسب امور سے روکتی ہے،جب حیاء نہیں ہوتی انسان سے جو چاہے گناہ صادر ہوتے ہیں، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے انجام دہ امور پر نظر کرے۔

حسن اخلاق سے متصف مومن کیسا ہوتا ہے؟
حسن اخلاق سے متصف انسان تکلیف کو برداشت کرتا، بدلہ کو ترک کرتا، ظالم پر رحم کرتا،مظلوم کا دفاع کرتا، اس کے لییمغفرت کا طلب گار اور اس پر مشفق ہوتا ہے۔ دنیوی امور سے غافل، آخرت کی جانب راغب، یعنی یہ شخص نہایت نرم خو، سلامت رو ہوتا ہے۔ اس میں دھوکہ، مکاری وعیاری نہیں ہوتی تو ایسے شخص کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے جنت کے اعلیٰ درجات کا مستحق قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”مسلمان اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے رات کے تہجد گذار اور دن کے روزہ دار کا رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔“ (ابوادؤد:4798) اور ایک روایت میں فرمایا: ”مؤمن بھولا اور شریف ہوتا ہے اور گناہ گار اور فاجر دھوکہ باز اور مکار ہوتا ہے۔ (ترمذی:1964) بعض مواقع سے مومن کی مثال مطیع وفرماں بردار اونٹ سے دی گئی ہے، جو اپنے مالک کے تابع ہوتا ہے، اس کے بٹھانے پر بیٹھتا ہے او راسکے اٹھانے پر اٹھ جاتا ہے، اس طرح مومن اور مسلمان ہرامر اور نہی میں الله کے حکم کے تابع ہوتا ہے۔ مکحول سے مروی ہے، فرماتے ہیں: نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”مومن نرم خو، آسان تر، تابع دار اونٹ کے مثل ہوتا ہے؛ اگر اسے تابع کیا جاتا ہے تو تابع ہوتا ہے او راگر اسے کسی پہاڑ پر بٹھایا جاتا ہے بیٹھ جاتا ہے۔“ (شرح السنة للبغوی:3506)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمیں حسنِ اخلاق سے متصف ہوناچاہیے، لوگوں کے ساتھ آسانی وسہولت او رنرم روی کا سلوک کرنا چاہیے، فحش گوئی اوربد کلامی سے پرہیزکرنا چاہیے، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں اور آپ کی شریعت پر عمل پیرا ہونا چاہیے، اس کو اپنی زندگی میں نافذ کرناچاہیے، اس سے ہمیں دنیا وآخرت کی کام یابی حاصل ہو گی، اپنے آپ کو مکارم اخلاق سے متصف کریں، بد اخلاقی سے اجتناب کا حکم کریں۔

مسلمان جب حسن اخلاق اور فضائل ومکارم سے اپنی حیات کو متصف کرتا ہے تو پھر وہ بارگاہ خداوندی اور مخلوق خداوندی دونوں میں مقبول ہو جاتا ہے، حسن اخلاق کے ذریعہ جو مراتب وفضائل حاصل کیے جاسکتے ہیں، کسی اور چیز سے ممکن نہیں، جب آدمی اپنے آپ کو حسن اخلاق سے متصف کرتا ہے ، وہ معاشرہ کا باعزت فرد بن جاتا ہے، اس کے مال اور عزت وآبرو پردست درازی سے بھی انسان کتراتا ہے۔ اس کے مقابل جب انسان بے حیا ، بد اخلاق ہوتا ہے وہ ذلت ، پستی اور خواری کی وادی میں منھ کے بل گر جاتا ہے۔ خود مسلمانوں کی سربلندی اور سرفرازی اور ان کی گزشتہ مجد وشرافت کی واپسی بھی اسی سے وابستہ ہے کہ مسلمان اخلاق فاضلہ سے اپنے آپ کو متصف کر لے اور اخلاق رذیلہ اور سیئیہ سے اجتناب کرنے لگے۔ خود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بھی امتِ مسلمہ کو اخلاق حسنہ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے اور بد اخلاقی، بداطواری، بدکرداری سے کنارہ کشی کرنے کا حکم کیا ہے۔ مسلمان اچھے اخلاق، سچائی، امانت داری، وعدہ کی پاس داری، زبان کی صفائی ، دل کی دھلائی، کینہ وکدورت سے دوری جیسے اوصاف سے متصف ہوتا ہے۔ اس میں جھوٹ، مکاری، عیاری، دغابازی، گالی گلوچ، فحش، درشت روی، سخت روئی یہ تمام اوصاف ایک مسلمان کے نہیں ہو سکتے۔ سختی، شدت، غیبت ،چغل خوری اس طرح کے اوصاف سے مسلمان عاری اور تہی دامن ہوتا ہے۔ مسلمان کسی کے درپے آزار نہیں ہوتا، اس کا سراپا وجود دوسروں کے لیے باعث رحمت ورافت ہوتا ہے۔ اس کی ہر نقل وحرکت، اس کا اٹھنا بیٹھنا دوسروں کے افادہ اور ان سے تکلیف اور ضرر کو دور کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ وہ صرف اپنے ذاتی نفع اندوزی کے دائرہ میں محدود ومحصور نہیں ہوتا، وہ دوسروں کو نفع پہنچانے کا باعث ہوتا ہے۔

حسن اخلاق کی دعوت
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کو حسن اخلاق سے متصف ہونے کا حکم دیا ہے، اخلاق فاضلہ سے متصف اشخاص کو خیار مسلمین (بہترین مسلمان) کہا ہے۔ حسن ِ اخلاق کی جامع تعریف ملا علی قاری نے یوں کی ہے:” معاملات میں عدل کو تھامے رہنا، احکام کے نفاذ میں انصاف اوراحسان و عدل کو اپنانا۔ اس سلسلہ کی صحیح تعریف یہ ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے احکام شریعت، آداب طریقت اور احوال حقیقت کو اپنانا“۔ (مرقاة المفاتیح:8/3170) نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میرے یہاں تم میں سے سب سے محبوب شخص حسن اخلاق سے متصف شخص ہے۔“ (بخاری:3759) اور قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اے الله کے رسول ! انسان کو عطا کردہ بہترین چیز کیا ہے؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”حسن اخلاق“۔ (شعب الایمان، تعظیم النبی صلی الله علیہ وسلم واجلالہ وتوقیرہ، حدیث:1435) اور خود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حسن اخلاق کی تعریف فرمائی ہے: نواس بن سمعان سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے نیکی اورگناہ کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی اور اچھائی حسن اخلاق ہے او رگناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا تمہیں ناپسندیدہ گزرے“۔ (مسلم ،باب تفسیر البر والإثم، حدیث:2553) نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نیکی کو حسن اخلاق کے مترادف بتایا ہے، گناہ کو حسن اخلاق کی نقیض اور ضد فرمایا ہے، فرمایا: حسن اخلاق ہی نیکی ہے، گناہ جو چیز تمہیں شک وتردد میں مبتلا کردے، جس سے اطمینان قلب حاصل نہ ہو اور تمہاری طبیعت پروہ ناگوار گزرے۔

نرم خوئی حسن اخلاق سے ہے
مخلوق کے ساتھ نرمی، نرم خوئی، لطف ومہربانی، سہولت وآسانی، مخلوق سے کلفت او رمشقت کو دور کرنا یہ حسن اخلاق سے ہے، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس پر امت مسلمہ کو ابھارا ہے، اس پر اجراور ثواب کاو عدہ فرمایا ہے ” الله عزوجل نرم خو ہیں، وہ نرمی کو پسند فرماتے ہیں، نرمی خوئی پر وہ کچھ عطا کرتے ہیں جو دوسرے امور پر عطا نہیں کرتے۔“ (صحیح مسلم: باب فضل ارافق:2593) ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے:”تم نرمی کو اختیا رکرو، سختی، فحش گوئی سے اجتناب کرو، جس چیز میں نرمی ہوتی ہے وہ اس کو زنیت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی چلی جاتی ہے اس کی زینت ختم ہوجاتی ہے۔“ (صحیح مسلم ،باب فضل الرفق:2594) ایک دوسری روایت میں مروی ہے: جس کو نرمی کا کچھ بھی حصہ عطا کیا گیا اس کو دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا کی گئی۔حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے: جس کو نرمی کا حصہ عنایت کیا گیا اس کو دنیا وآخرت کی بھلائی کا حصہ دیا گیا، جس کو اس سے محروم کر دیا گیا اس کو دنیا وآخرت کی خیر اور بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔ (مسند احمد،مسند الصدیقہ عائشہ:25259)

حیاء کا تعلق بھی حسن اخلاق سے ہے
حکماء کے قول کے مطابق ”حیاء“ کہتے ہیں: ”ملامت کے لائق چیز کے خوف سے جو تبدیلی او رتغیر انسان میں پیدا ہوتا ہے اس کا نام ہے۔ بعض لوگوں نے ”حیاء“ کی دوسری تعریفات کی ہیں۔ جنید کہتے ہیں: نعمتوں کے حصول اور نعمتوں پر شکر کی عدم ادائیگی کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کا نام ”حیاء“ ہے۔ ذوالنون کہتے ہیں:” الله عزوجل کے حضور جو اس سے سابق میں قصور ہوئے ہیں اس کی وحشت سے دل میں ہیبت او رخوف کا پیدا ہونا۔ دقاق کہتے ہیں:”الله کے حضور دعوی کے ترک کرنے کا نام”حیا“ہے ۔ (مرقاة المفاتیح:8/3170) اور خود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے”حیا“ کا شمار حسن اخلاق میں فرمایا ہے ۔ زید بن طلحہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دین میں اخلاق ہیں، اسلام کے اخلاق میں سے ”حیاء“ ہے۔ (ابن ماجہ:4181) اسی لیے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ”حیاء“ کو جز وایمان قرار دیا ہے ، فرمایا: ”حیا ایمان کا جز ہے۔“ (بخاری:6118) یعنی حیا انسان کو شرعی طور پر قبیح امور کے ترک یا طبعی یا شرعی قبیح امور کے اجتناب سے روکتی ہے اور ایک روایت میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” پہلے انبیاء کے کلام میں یہ بات مروی ہے کہ ”جب تم میں حیاء نہ رہے تو جو چاہے کرو۔“ (بخاری:3484)

چوں کہ حیاء ہی نا مناسب امور سے روکتی ہے،جب حیاء نہیں ہوتی انسان سے جو چاہے گناہ صادر ہوتے ہیں، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے انجام دہ امور پر نظر کرے۔

حسن اخلاق سے متصف مومن کیسا ہوتا ہے؟
حسن اخلاق سے متصف انسان تکلیف کو برداشت کرتا، بدلہ کو ترک کرتا، ظالم پر رحم کرتا،مظلوم کا دفاع کرتا، اس کے لییمغفرت کا طلب گار اور اس پر مشفق ہوتا ہے۔ دنیوی امور سے غافل، آخرت کی جانب راغب، یعنی یہ شخص نہایت نرم خو، سلامت رو ہوتا ہے۔ اس میں دھوکہ، مکاری وعیاری نہیں ہوتی تو ایسے شخص کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے جنت کے اعلیٰ درجات کا مستحق قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”مسلمان اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے رات کے تہجد گذار اور دن کے روزہ دار کا رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔“ (ابوادؤد:4798) اور ایک روایت میں فرمایا: ”مؤمن بھولا اور شریف ہوتا ہے اور گناہ گار اور فاجر دھوکہ باز اور مکار ہوتا ہے۔ (ترمذی:1964) بعض مواقع سے مومن کی مثال مطیع وفرماں بردار اونٹ سے دی گئی ہے، جو اپنے مالک کے تابع ہوتا ہے، اس کے بٹھانے پر بیٹھتا ہے او راسکے اٹھانے پر اٹھ جاتا ہے، اس طرح مومن اور مسلمان ہرامر اور نہی میں الله کے حکم کے تابع ہوتا ہے۔ مکحول سے مروی ہے، فرماتے ہیں: نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”مومن نرم خو، آسان تر، تابع دار اونٹ کے مثل ہوتا ہے؛ اگر اسے تابع کیا جاتا ہے تو تابع ہوتا ہے او راگر اسے کسی پہاڑ پر بٹھایا جاتا ہے بیٹھ جاتا ہے۔“ (شرح السنة للبغوی:3506)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمیں حسنِ اخلاق سے متصف ہوناچاہیے، لوگوں کے ساتھ آسانی وسہولت او رنرم روی کا سلوک کرنا چاہیے، فحش گوئی اوربد کلامی سے پرہیزکرنا چاہیے، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں اور آپ کی شریعت پر عمل پیرا ہونا چاہیے، اس کو اپنی زندگی میں نافذ کرناچاہیے، اس سے ہمیں دنیا وآخرت کی کام یابی حاصل ہو گی، اپنے آپ کو مکارم اخلاق سے متصف کریں، بد اخلاقی سے اجتناب کا حکم کریں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.