جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

پانچ نبوی دعائیں ۔۔ اہمیت ومعنویت

مفتی محمد عبدالله قاسمی

دعا ایک بہترین عبادت ہے،تواضع وفروتنی کاعظیم مظہرہے، خالق ومخلوق کے مابین تعلق وارتباط کاوسیلہ ہے،مصائب اور پریشانیوں سے گلوخلاصی کے لیے نسخہِاکسیرہے، جسے دعا جیسی قیمتی دولت میسرآگئی گویااسے دونوں جہاں کی فلاح وکام یابی حاصل ہوگئی،اللہ کی رضاوخوش نودی کاپروانہ اس کے ہاتھ آگیا،یہ وہ شاہ کلیدہے جوسخت اور ناموافق حالات میں انسان کامونس وغم خوارثابت ہوتا ہے اورمصائب کے ہجوم اورستم گاریوں کے تلاطم میں اس کی مدد کرتا ہے، یہ وہ جوہربیش بہاہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب سے فضل ورحمت کاخواست گارہوتاہے اوراپنی زندگی کے سفر کو ترقی وکام یابی کی شاہ راہ پر محو سفر رکھتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں کودعا مانگنے کاحکم دیاہے، اور دعا سے پہلوتہی کرنے والوں کے لیے بڑی سخت وعیدبیان کی ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشادہے:اورتمہارے پرودرگارنے کہاہے کہ مجھے پکارو،میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا،،بے شک جولوگ تکبرکی بنا پر میری عبادت سے منھ موڑتے ہیں وہ ذلیل ہوکرجہنم میں داخل ہوں گے۔(الغافر:60)اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے بھی امت کواللہ جل شانہ سے دعائیں مانگنے کی ترغیب دی ہے،اوراس باب میں امت کوبڑی واضح ہدایات اورراہ نمائی فراہم کی ہے اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم …جوعبدیت وبندگی کی مجسم تصویرتھے،تواضع وانکساری کابہترین نمونہ تھے…نے اللہ جل شانہ سے خوب دعائیں مانگی ہیں،اللہ کے نبی کی دعاؤں کومحدثین نے محفوظ کیاہے اورپوری دیانت داری کے ساتھ امت تک ان کوپہنچایاہے،یہ دعائیں کیاہیں؟ ایک طرف خدائے ”وحدہ لاشریک لہ“ کی شان ِکبریائی کااعلان ہے ،تودوسری طرف شہنشاہ مطلق کے دربارمیں بندہ کی عاجزی وانکساری کااظہارہے،ایک طرف خالق ِکائنات کی تعریف وتوصیف کابہترین مجموعہ ہے،تودوسری طرف خطاؤں اور کوتاہیوں کابلاجھجھک اعتراف ہے،یہ دعائیں مختصرہونے کے ساتھ نہایت جامع اورپرمغزہیں،دنیاوآخرت دونوں کی بھلائی کودعاء رسول جامع ہے، ان باتوں کے علاوہ اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی دعائیں فصاحت وبلاغت کابہترین مرقع ہیں، عربی تراکیب کی بوقلمونی، چھوٹے چھوٹے جملوں کی بے ساختہ بندش،استعارات اور تشبیہات کی حلاوت ومٹھاس… یہ وہ چیزیں ہیں جو عربی زبان سے شغف رکھنے والوں کے ادبی ذوق کوغذا کا سامان فراہم کرتے ہیں اور ان کے تخیلات وتصورات کو ایک نئی سمت عطاکرتے ہیں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جامع دعا جوآپ صلی الله علیہ وسلم بکثرت اللہ جل شانہ سے مانگاکرتے تھے،کنزالعمال میں مذکورہے،وہ دعا یہ ہے:”اللہم انی اسالک الصحة والعفة والامانة وحسن الخلق والرضابالقدر“․(کنزالعمال،حدیث نمبر:3650)اے اللہ !میں آپ سے صحت،عفت وپاک دامنی،امانت داری،حسن اخلاق اورتقدیرپرراضی رہنے کاسوال کرتاہوں۔اس مختصرسے جملہ میں اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے پانچ دعائیں مانگی ہیں:

صحت وعافیت
صحت وتن درستی اللہ جل شانہ کی عظیم نعمت ہے،یہ وہ دولت بیش بہاہے جس کادنیامیں کوئی بدل نہیں،صحت اورعافیت ہے تودنیاکی تمام رعنائیاں اوراس کے دلآویزمناظرمشام جاں کومعطرکرتے ہیں اورقلب ودماغ کوفرحت وتازگی بخشتے ہیں اوراگرکوئی صحت وتن درستی کی نعمت سے محروم ہے تویہ کائنات اپنی وسعت وکشادگی اوراپنی سحرخیزجلوہ آرائی کے باوجودتنگ اورتاریک معلوم ہوتی ہے؛اسی لیے اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے یہ قیمتی دولت اللہ جل شانہ سے مانگی ہے اورامت کویہ دولت اللہ جل شانہ سے مانگتے رہنے کی تلقین کی ہے،ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم ایک صحابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے،کیادیکھتے ہیں کہ جسم کاایک کمزورڈھانچہ ہے جوتنے کی طرح سوکھ گیا ہے۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:کیاتم اللہ تبارک وتعالی سے صحت اورتن درستی کی دعا نہیں مانگتے؟اس نے کہا:میں یہ دعاکرتاہوں کہ اے اللہ آخرت میں جو آپ مجھے سزادیں گے وہ سزادنیاہی میں مجھے دے دیجیے،آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:سبحان اللہ!کیاتم اس کی طاقت رکھتے ہو؟آپ نے فرمایا:تم اللہ سے یوں دعا کرو:اے ہمارے پروردگار! آپ ہمیں دنیاوآخرت میں بھلائی عطافرمائیے اورہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھیے۔جس طرح بندے سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے صحت وعافیت مانگے اورمہلک بیماریوں سے حفاظت کی دعا کرے،اسی طرح شرعابندے سے یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ صحت وتندرستی کوبرقراررکھنے کے لیے احتیاطی تدابیربھی اختیارکرے اورایسی چیزوں سے کنارہ کشی اختیارکرے جوصحت کے لیے نقصان دہ ہوں،آج ہمارے سماج میں بہت سی ایسی چیزیں عام ہوگئی ہیں جوصحت انسانی کوتباہ وبربادکرنے والی ہیں اورانسان کے جسم کوکھوکھلاکردینے والی ہیں، مثلا شراب ، سگریٹ،گٹکااوردیگرنشہ آور اشیاء، یہ چیزیں ہمارے معاشرے کالازمی حصہ بن چکے ہیں اور امیروغریب، مردوعورت، بوڑھے وجوان، ہرایک اس کاعادی بن چکاہے اورہماری نسل ِنومیں ان چیزوں کی ایسی لت پڑگئی ہے کہ چھوٹنے کانام ہی نہیں لیتی۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیابھرمیں اسی فیصدمنشیات کااستعمال ترقی پذیرممالک میں کیا جارہاہے، منشیات کے عادی لوگوں میں ساٹھ فیصدلوگوں کی عمرپندرہ تاتیس سال کے درمیان ہے،جس سے واضح ہوتاہے کہ منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت کس طرح ہمارے نوجوان اورآنے والی نسلوں کے لیے زہر ِقاتل ثابت ہورہی ہے،دوسری طرف حکومت منشیات کے کاروبارپرقدغن لگانے کے بجائے ان کی قانونی سرپرستی کررہی ہے،کیوں کہ منشیات کے کاروبار اورتجارت سے حکومت کواچھاخاصہ ٹیکس وصول ہوتاہے اوراس پرارباب ِاقتدارعیش وعشرت کے مزے لوٹ رہے ہیں،ظاہرہے کہ یہ ایک بڑی قابل تشویش اورافسوس ناک صورت ِحال ہے،جوفوری طورپراصلاح طلب ہے،ایسے حالات میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولادکونشہ آوراشیاء سے دوررکھیں،سگریٹ،گٹکاکھانے والے دوست واحباب کے ساتھ میل جول رکھنے سے منع کریں،منشیات کے استعمال سے پیداہونے والی ضرر رساں بیماریوں اوران کے مہلک نتائج سے انہیں روشناس کرائیں، اوراس سلسلہ میں کسی قسم کی رعایت نہ برتیں۔

عفت وپاک دامنی
دوسری دعا جواللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے اللہ جل شانہ سے مانگی ہے اورامت کویہ دعا مانگتے ر ہنے کی تلقین کی ہے، وہ عفت وپاکیزگی ہے،عفت وپاکیزگی ایک بہترین اورقیمتی وصف ہے،اللہ تبارک وتعالی کی رضاوخوش نودی کاذریعہ ہے،یہ وہ انمول جوہرہے جوانسان کومتقی اورپرہیزگار بناتاہے اورمیدان ِمحشرکے ہول ناک عذاب اورقیامت خیز مناظر سے بندہ مومن کومحفوظ رکھتاہے،عفت وپاک دامنی کامفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی قوت ِشہوانی کوکنٹرول میں رکھے، اور زنا وبدکاری سے خودکومحفوظ رکھے اورغلط وحرام جگہوں میں اپنے شہوانی جذبہ کی تسکین نہ کرے آج کے اس تیرہ وتاریک دورمیں،جب کہ مغربی تہذیب کازہرہلاہل ہمارے معاشرے میں سرایت کر گیا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ فرنگی تہذیب کاسیل ِبلاخیزمسلم سماج کوبڑی تیزی کے ساتھ اپنی لپیٹ میں لیتاجارہاہے،اس کے نتیجہ میں بہت سے معاصی اورسیئات جن سے اسلامی تہذیب وثقافت کے حامل معاشرے میں بچنااوران سے کنارہ کشی اختیارکرناآسان اورسہل تھا،آج کے دور میں قدرے دشواراورمشکل ہوگیاہے،آج گھرکی چہاردیواری سے باہرنکلیں! ایک طرف قدم قدم پرروکشان ِحورکی تجلی ہے،ادائے زلیخاکی دلبری ودل کشی ہے،آب ِانگورکی گلی گلی فراوانی ہے،تودوسری طرف سازونغمے کازیروبم ہے،وصل کے بے پردہ مضامین پرمشتمل موسیقی کی گھن گرج ہے، درودیوار پربدکاری وسیہ مستی پرآمادہ کرنے والی تشہیر وتحریرہے، پھرسائنس وٹیکنالوجی کی حیرت انگیزترقی نے یہ غضب ڈھایاکہ گھرگھرٹی وی اوروی سی آرپہنچ چکاہے، اسمارٹ فونزاوروائی فائی کافتنہ ہرگھرپردستک دے رہاہے،ملٹی میڈیاموبائیل کی گوناگوں سہولیات اورسستے داموں میں ملنے والے انٹرنیٹ ڈیٹاکے امتزاج نے جوتباہی مچائی ہے کہ الامان والحفیظ،اس نے حسن عفت کانقاب الٹ کررکھ دیااورقلب ونظرکی پاکیزگی پرایساشب خون ماراکہ ایمان ویقین کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں اورنوجوان طبقہ کی صحت وتن درستی کادیوالیہ ہوگیا،چناں چہ وہ آنکھیں جنہیں بادہٴ عشق ومعرفت سے مخمورہوناچاہیے تھا آج وہ عشوہ طرازاداؤں والی نازنیں کے انتظار دید میں سلگ رہی ہیں،وہ چہرہ جسے ایمان ویقین کے موج ِنورمیں غرق ہوناچاہیے تھاآج اس کے خدوخال ناکام محبت کی گواہی دے رہے ہیں،وہ قلب ودماغ جس میں عشق الہٰی کی انگھیٹی سلگنی چاہیے تھی اوراس میں لقائے محبوب کی تمناکروٹ لینی چاہیے تھی آج وہ لالہ رخوں کی حسرت گاہ بناہواہے،ظاہرہے کہ یہ صورت ِحال کافی افسوس ناک اورغم انگیزہے اورہرباشعورمسلمان کے دل ودماغ کوجھنجھوڑنے والاہے۔

عفت وپاک دامنی کے جوہرسے آراستہ ہونے کے لیے سب سے اہم اوربنیادی چیزنظراوردل کی حفاظت ہے،اگرانسان نے غیرمحرم لڑکیوں سے اپنی نظرکوبچالیااورعنفوان ِشباب کے اندردل میں جوگندے اورصنفی خیالات ابھرتے ہیں ان سے اپنے دل کے آئینہ کوصاف وشفاف رکھا،توایسے انسان کے لیے عفیف اورپاک دامن رہنابہت آسان اورسہل ہے،اسی وجہ سے اللہ جل شانہ نے مسلمان مردوں اورمسلمان عورتوں کونگاہ نیچی رکھنے کاحکم دیاہے،(النور:30)اوراللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے نظرکی حفاظت کرنے پربڑی خوش خبری سنائی ہے اوربدنگاہی کوشیطان کازہرآلودتیرقراردیاہے،جوانسان کے ایمان ویقین کے قیمتی سرمایہ کونقصان پہنچاتاہے اورعبادتوں کی لذت ولطف کوختم کردیتاہے،اسی وجہ سے حضرت خواجہ مجذوب فرمایاکرتے تھے کہ جب کسی نامحرم پراچانک نظرپڑجائے توان کے رخساروں کی سرخی کوجہنم کی آگ سمجھ کر ”ربنا وقنا عذاب النار“ پڑھواوراس سے پناہ چاہو۔
        دیکھ مت ان آتشی رخوں کو تو زنہار
        پڑھ ربنا وقنا عذاب النار

عارف باللہ حضرت مولاناحکیم اخترصاحب کے یہ اشعاربھی ہمارے لیے بڑے عبرت آموزاورسبق آموزہیں:
        بدنگاہی مت سمجھ چھوٹا گناہ
        دل کو اک دم یہ کرتی ہے تباہ
        بدنگاہی تیر ہے ابلیس کا
        زہر میں ڈوبا ہوا تلبیس کا

جوانسان نظرکی حفاظت کرنے کااہتمام نہیں کرتااورعارض ورخسارکادلدادہ ہوتاہے،اس کے لیے اپنی عفت وعصمت کی حفاظت کرنامشکل ہوجاتاہے اوربدنگاہی کی وجہ سے دل میں جوشہوت کی آگ بھڑکتی ہے اس کوبجھانے کے لیے مادہٴ منویہ ضائع کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے عفت وپاکیزگی جیسے قیمتی سرمایہ سے محروم ہونے کے ساتھ وہ مختلف بیماریوں اورعوارض کا بھی شکارہوجاتاہے۔

امانت داری
تیسری دعا جواللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے مانگی ہے اور امت کواس کی تلقین کی ہے وہ امانت اوردیانت داری ہے،امانت داری کالفظ اپنے جلومیں بہت گہرااوروسیع مفہوم رکھتاہے،اگراس کامفہوم انسان کماحقہ سمجھ لے اوراس قیمتی وصف کواپنی زندگی کاحصہ بنالے تواس کی پوری زندگی شریعت کے رنگ میں رنگ جائے گی اوراللہ جل شانہ کی رضا وخوش نودی کاحصول اس کی زندگی کا مقصد اور محوربن جائے گا،امانت داری کامفہوم صرف یہی نہیں ہے کہ کسی نے آپ کے پاس کوئی قیمتی چیزامانت رکھوائی اور آپ نے اس کواسی حالت میں واپس کردیا؛بلکہ امانت داری کے دائرے میں یہ بات بھی آتی ہے کہ شریعت کے سارے احکام کواپنی زندگی کے اندر نافذ کیا جائے اور اوامرونواہی کوبجالانے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے،کیوں کہ اللہ تبارک وتعالی کاارشادہے:بلاشبہ ہم نے آسمانوں، زمینوں اورپہاڑوں پر امانت (شریعت کے احکام)کوپیش کیاتووہ اس کے اٹھانے پرآمادہ نہیں ہوئے اورڈرگئے اورانسان نے اس کواٹھالیا،بے شک وہ اپنی جان کومشقت میں ڈالنے والا بڑا ناداں ہے۔ (الاحزاب:70)

اسی طرح امانت داری کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ نے اس کوجوصحت اورتن درستی عطاکی ہے ،بن مانگے اس کو آنکھ،کان ،ناک اورصحیح سالم اعضاء عطاکیے ہیں ان کواللہ کی طاعت وفرماں برداری میں مشغول رکھے اوراللہ جل شانہ کی حرام کردہ چیزوں سے دوراورنفوررہے، ہر وہ چیزجس سے دوسروں کاحق متعلق ہے اس کی حفاظت ونگہ داشت کرنا اور حق داروں تک ان کے حقوق پہنچانابھی امانت میں داخل ہے،دوسروں کے حقوق میں خردبردکرناخیانت ہے، الغرض اللہ جل شانہ سے امانت داری کاسوال بڑاگہرااوروسیع مفہوم رکھتاہے، امانت داری کاجومفہوم ہے اس کوذہن میں مستحضررکھ کرہم اللہ جل شانہ سے دعا مانگیں اورساتھ ہی ساتھ امانت داری کے تقاضوں پرعمل بھی کرتے رہیں۔

حسن اخلاق
حسن اخلاق کامل ایمان کی پہچان ہے،اسلام اورمسلمانوں کاطرہٴ امتیازہے،جنت میں داخل ہونے کاذریعہ اورسبب ہے، اللہ کی رضاوخوش نودی کاجلی عنوان ہے،حسن اخلاق وہ قیمتی زیورہے جس سے آراستہ ہونے والے شخص کوآپ صلی الله علیہ وسلم کامحبوب ہونے کی بشارت سنائی گئی ہے اوربروزمحشراس کوآپ صلی الله علیہ وسلم سے قریب ہونے کی خوش خبری دی گئی ہے،یہ وہ بیش بہاوصف ہے جس کی تکمیل کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کومبعوث کیاگیاہے اوراس کوکمال ایمان کا معیار قرار دیا گیا ہے، خوش اخلاق اورخوش اطوارانسان خالق ومخلوق ہردوکی نگاہوں میں محبوب اورمنظورنظرہوتاہے،معاشرے کے افرادکے مابین اس کومرجعیت عامہ اورمقتدایانہ حیثیت حاصل ہوتی ہے اوردوست ودشمن ہرایک کے لیے وہ مرکزمحبت وعقیدت ہوتاہے۔

حسن اخلاق وہ قیمتی سرمایہ ہے جوایک صالح اورخوش گوارمعاشرے کی تشکیل میں کلیدی کرداراداکرتاہے،باہمی محبت والفت اوراتحادواتفاق کوفروغ دینے میں ممدومعاون ثابت ہوتاہے،حسن اخلاق وہ زیورہے جوانسان کوزینت عطاکرتاہے اورشخصیت کوپرکشش بناتاہے، جو انسان اعلی اخلاق وکردارکاحامل ہوتاہے لوگ اس کی طرف کھنچتے چلے آتے ہیں اوراس کی باتوں کوبڑی اہمیت اورتوجہ کے ساتھ سنتے ہیں،آج مجموعی طورپرہم مسلمانوں سے اخلاق کاقیمتی جوہررخصت ہوتاجارہاہے،کردارکی پختگی اورشخصیت کی دلبری ہم میں عنقاء اورناپیدہوتی جارہی ہے،تحمل وبردباری اورایک دوسرے کوبرداشت کرنے کاجذبہ سردپڑتاجارہاہے، ایثار وہمدردی اوراخوت ومحبت ہمارے سماج سے ختم ہوتاجارہاہے،صبر آزمااورناگفتہ بہ حالات میں ایک دوسرے کاتعاون کرنے اورمددکرنے کامزاج کم ہورہاہے، جس کے نتیجے میں ایک طرف ہمارے معاشرے میں باہم جھگڑے ہورہے ہیں،ایک دوسرے کے عیوب کوہم اچھال رہے ہیں، مسلمان بھائیوں کی عزتوں کو ہم پامال کررہے ہیں، ہمارے دلوں میں معمولی معمولی باتوں کی وجہ سے خوداپنے دینی بھائیوں کے تئیں نفرت وعداوت کے شرارے بھڑک رہے ہیں،تودوسری طرف ہماری اس صورت حال کی وجہ سے غیروں کوہم پرہنسنے کاموقع مل رہاہے اوراسلام اورمسلمانوں کے حوالہ سے غلط اورمنفی پیغام لوگوں کوپہنچ رہاہے،جس کی وجہ سے دین ِاسلام سے وہ متوحش ہورہے ہیں اوراللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے ابدی وسرمدی پیغام کی غلط تصویرغیرمسلموں کے ذہنوں میں بیٹھ رہی ہے،لہٰذا ہماری دینی وملی ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ جل شانہ سے حسن اخلاق کی دولت مانگیں اور بلند اخلاق وکردارسے خودکومتصف کریں اوراس کے لیے کسی اللہ والے اور صاحب ِنسبت بزرگ کی صحبت میں رہیں اوراپنی عملی واخلاقی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اورمنظم کوشش کریں۔

تقدیرالہی پررضامندی
پانچویں اورآخری دعا جوسرور ِکائنات صلی الله علیہ وسلم نے اللہ تبارک وتعالی سے مانگی ہے اورامت کویہ دعا مانگتے رہنے کی تعلیم دی ہے وہ تقدیرپرراضی رہناہے،تقدیرپرراضی رہنے کامطلب یہ ہے کہ انسان پر جب اچھے اورخوش کن حالات آئیں تو اللہ جل شانہ کا شکر بجا لائے اورذہن میں یہ مستحضررکھے کہ یہ اچھے حالات میری کسی طاقت وقوت کاکرشمہ نہیں ہے،نہ اس میں میرے زوربازواورپرانے تجربات کادخل ہے،نہ یہ میری فطری ذہانت اورفطری استعدادکانتیجہ ہے؛ بلکہ یہ محض اللہ کاخاص فضل وانعام ہے، جس سے اللہ نے مجھ کو بغیر استحقاق کے نوازاہے اوراپنے بعض بندوں پرمجھ کوفوقیت عطاکی ہے،لہٰذااب میری ذمہ داری ہے کہ اللہ نے جونعمت اوردولت مجھے عطاکی ہے اس سے شریعت کے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے خودبھی فائدہ اٹھاؤں اوربندگان ِخداکی راحت رسانی کابھی اس سے سامان کروں۔ اوراگرکوئی غم اورمصیبت پہنچے ،سخت اوردل فگارحالات سے انسان دوچارہوجائے توانسان صبرکرے اوراس سے نجات پانے کے لیے جائزتدابیراختیارکرے،جزع فزع کرنا،گریبان چاک کرنا،کپڑے پھاڑنایہ سب رضابالقضاء کے منافی ہے،اسی طرح یہ بات بھی رضابالقضاء کے منافی ہے کہ انسان مصیبت وپریشانی سے گلوخلاصی کے لیے ناجائزاورحرام تدابیرکاسہارالے،مثلانجومیوں،کاہنوں اورجادوگروں کے پاس جانا،ان کی باتوں کی تصدیق کرنااوران کے مشوروں پرعمل کرنایہ سب بھی تقدیرپرصحیح ایمان نہ ہونے کانتیجہ ہے،اسی طرح سخت حالات سے دل گرفتہ ہوکرخودکشی کرلینابھی تقدیرپرراضی نہ ہونے کی علامت ہے،اس لیے اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی یہ دعا بھی کافی اہمیت کی حامل ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.