جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ اخلاق وصفات

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

جامع اوصاف
حضرت خواجہ نظام الدین  کے اوصاف وخصوصیات کا خلاصہ اوران کا صحیح ترین وجامع ترین تعارف ان الفاظ میں ہے جو عطائے خلافت کے وقت ان کے صاحب نظر شیخ ومرشد ( شیخ کبیر حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر) کی زبان سے نکلے، انھوں نے فرمایا:
”باری تعالیٰ ترا علم وعقل وعشق دادہ است وہر کہ بدیں صفت موصوف باشد از وخلافت مشائخ نیکوآید“۔
ترجمہ:”الله نے تم کو علم وعقل وعشق کی دولت عطا کی ہے اور جو ان صفات کا جامع ہو وہ مشائخ کی خلافت کی ذمہ داریاں خوب ادا کرسکتا ہے“۔

حضرت خواجہ کی سیرت اسی جامعیت کا مرقع ہے، یہاں علم وعقل وعشق تینوں پہلو بہ پہلو نظر آتے ہیں۔ محبت ومعرفت حقیقی اور مشائخ کبار کی تربیت وصحبت، جو بہترین اثرات ونتائج پیدا کرتی ہے او رجن کے بہترین مجموعہ کا نام دور آخر میں تصوف پڑ گیا ہے۔ یعنی اخلاص واخلاق، اس کی بہترین نمودان کی زندگی میں نظر آتی ہے۔

اخلاص
ان کی زندگی کا بہترین جو ہر ،جس نے اُن کو اپنے معاصرین ہی میں نہیں، بلکہ مشائخ اسلام میں ایک بلند مقام اور اپنے زمانہ ہی میں نہیں، بلکہ تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں قبول عام اور بقائے دوام عطا کیا اور ان کو محبوبیت کے خاص انعام سے نوازا، وہ توحید واخلاص کی وہ خاص کیفیت اور ذوق ہے جس میں محبت ورضائے الہی کے سوا کوئی چیز مطلوب ومقصود نہیں رہی، محبت ویقین کے شعلہ نے ہر طرح کے خس وخاشاک کو جلا کر رکھ دیا تھا ۔ حب جاہ اور اس طرح کی تمام محبتوں اور طلبوں کا استیصال کلی ہو چکا تھا #
        شاد باش اے عشق خوش سودائے ما
        اے طبیب جملہ علت ہائے ما
        اے دوائے نخوت وناموس ما
        اے تو افلاطون وجالنیوس ما
        عشق آں شعلہ است کہ چوں بر فروخت
        ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
        ماند الا الله باقی جملہ رفت
        شاد باش اے عشق شرکت سوز رفت

امیرحسن سنجری راوی ہیں کہ ایک مرتبہ مجلس میں یہ ذکر ہو رہا تھا کہ کچھ لوگ مسجد میں قیام کرتے ہیں اور وہاں قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل پڑھتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ اگر اپنے گھرہی میں رات کو قیام کریں تو کیسا ہے ؟ فرمایا کہ آدمی اپنے گھر میں ایک پارہ پڑھے وہ مسجد میں ایک قرآن ختم کرنے سے بہتر ہے۔ اس پر یہ ذکر آگیا کہ گزشتہ زمانہ میں ایک صاحب جامع مسجد دمشق میں رات بھر عبادت میں مشغول رہتے تھے، اس لالچ میں کہ اس کی عام شہرت ہو گی اور شیخ الاسلامی کے عہدہ پر، جو اس زمانہ میں خالی تھا، ان کا تقرر ہو جائے گا۔ یہ سن کر حضرت خواجہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے فرمایا:
        ”بسوز اوّل شیخ الاسلامی را وپس“
ترجمہ:”آگ لگاؤ ایسی شیخ الاسلامی کو، پھر۔“
        ”خانقاہ را وبعد ازاں خود را“
ترجمہ:”خانقاہ کو، پھر اپنے کو خاک کرکے رکھ دو۔“

حضرت خواجہ کی ساری زندگی اسی دل سوختگی اور خود باختگی کا نمونہ ہے اور اسی چیز نے ان کی صحبت میں کیمیا اور اکسیر کی خاصیت پیدا کر دی تھی۔

اپنے ہی بارے میں نہیں، اپنے خلفاء اور جانشینوں کے بارے میں بھی ( جن سے تہذیب اخلاق او رتزکیہ نفس کا کام لینا تھا، اس کا لحاظ فرماتے تھے کہ وہ اخلاص کے اس مقام پہنچ گئے ہیں کہ حب جاہ کا ان کے دل سے خاتمہ ہوچکا ہے۔ مولانا فصیح الدین نے سوال کیا کہ مشائخ کی خلافت کا اہل کون ہوتا ہے ؟ فرمایا :
        ”کسے را کہ در خاطر او توقع خلافت نہ باشد“
ترجمہ:”وہ شخص جو خلافت کا متوقع اور منتظر بھی نہ ہو۔“

صاحب سیر الاولیاء کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ آپ کو اپنے ایک ممتاز خادم کے متعلق، جن کو اجازت دی جاچکی تھی معلوم ہوا کہ وہ کمبل کئی مرتبہ تہہ کرکے بچھا کر اس پر مشائخ کی طرح بیٹھتے ہیں اور امراء وخواص ان کی خدمت میں معتقدانہ حاضر ہوتے ہیں، آپ اس سے اتنا آزردہ ہوئے کہ جب وہ آئے تو آپ نے ان سے منھ پھیر لیا اور ان کو اجازت سے محروم کر دیا، عرصہ تک ان سے ایسی ہی بے رخی رہی، جب تک کہ ان کا عذر ظاہر نہیں ہوا اورانہوں نے معافی نہیں مانگی ان پر نظر عنایت مبذول نہیں ہوئی۔

دشمن نوازی
اخلاص وفنائیت اور بے نفسی کے اس مقام پر پہنچ کر سالک کے دل سے رنج وشکایت، انتقام کا جذبہ اور ایذا کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے، وہ نہ صرف آشنا پر ور، دوست نواز ہوتا ہے، بلکہ وشمن کا احسان مند اور دشمن کے حق میں دعا گو بن جاتا ہے، گویا دشمنی کوئی احسان ہے، کوئی نادر تحفہ اور زخم دل کا مرہم ہے، جس پر بے اختیار دل سے دعا نکلتی ہے او رمنھ سے پھول جھڑتے ہیں۔ امیر علی سنجری راوی ہیں کہ حضرت نے ایک مرتبہ یہ مصرع پڑھا #
        ہر کہ مارا رنج دادہ راحتش بسیار باد
ترجمہ:”جو ہم کو رنج دے خدا اس کو بہت راحت پہنچائے۔“

اس کے بعد یہ شعرارشاد ہوا #
        ہر کہ او خارے نہد در راہِ ما از دشمنی
        ہر گلے کز باغ عمرش بشفگد بے خار را
ترجمہ:” جو ہمارے راستہ میں کانٹے بچھائے الله کرے اُس کے گلشنِ حیات میں جو پھول کھلے بے خار رہے۔“

سیر العارفین میں ہے کہ خواجہ نصیرالدین چراغ دہلی فرماتے تھے کہ حصار اندریپ میں (جو موضع غیاث پور کے قریب ہے )جھجو نامی ایک شخص تھا، جس کو بے حد حضرت سے دشمنی تھی، برُا بھلا کہتا تھا اور آپ کو تکلیف وایذا پہنچانے کی فکر میں رہتا تھا، اس کا انتقال ہو گیا۔ حضرت شیخ نے اس کے جنازے میں شرکت کی، دفن کے بعد اس کے بالیں پر دو رکعت نماز پڑھی اور دعا فرمائی کہ خدا یا اس شخص نے جو کچھ کہا ہو یا بُرا سوچا ہو، میں نے اس کو معاف کردیا، تو میری وجہ سے اس کو سزا نہ دینا۔

ایک مرتبہ حاضرین میں سے ایک صاحب نے ذکر کیا کہ بعض آدمی جناب والا کو منبر پر اور دوسرے موقعوں پر بُرا بھلا کہتے ہیں، ہم سے نہیں سنا جاتا۔ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ میں نے سب کو معاف کیا ،تم بھی معاف کرو، اور ایسے آدمی سے جھگڑا نہ کرو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایاکہ اگر دو آدمیوں کے درمیان رنجش ہو تو اس رنجش کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باطن کو عداوت سے خالی کرے، دوسرے کی طرف سے بھی آزار کم ہوجائے گا۔ فرمایا کہ آخر لوگ بُرا بھلا کہنے سے کیوں رنجیدہ ہوتے ہیں؟ مشہور یہ ہے کہ مال صوفی سبیل است وخونِ او مباح (صوفی کا مال وقف ہے اور اس کا خون روا، جب معاملہ یہ ہے تو کسی بُرا کہنے والے سے کیوں جھگڑا کیا جائے ؟!

ایک دن فرمایا کہ دنیا کا عام اصول تو یہ ہے کہ نیکوں کے ساتھ نیکی اور بدوں کے ساتھ بدی کی جائے، لیکن مردان خدا کا اصول یہ ہے کہ بدی کا بدلہ بھی نیکی سے دیا جائے، فرمایا :

”یکے خار نہدو تو ہم خار نہی، ایں خار خار باشد … میانِ مرد ماں ہمچنیں است کہ با نغزاں نغزی وبا کوزاں کوزی، اَمامیانِ درویشاں ہمچنیں است کہ بانغزان نغزی وباکوزاں ہم نغزی ۔“
ترجمہ:”اگر کوئی کانٹا رکھے اور تم بھی کانٹا رکھ دو، تو کانٹے ہی کانٹے جمع ہو جائیں گے۔ لوگوں کے درمیان اصول یہی ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھوں کے ساتھ ٹیڑھا،لیکن درویشوں کا اصول یہ ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھوں کے ساتھ بھی سیدھا۔“

حضرت خواجہ کا اس بارے میں معیار اتنا بلند تھا کہ بُرا کہنا تو بڑی چیز ہے، وہ بُرا چاہنے کو بھی روا نہیں رکھتے تھے ،ایک مرتبہ فرمایا :
        ”بدگفتن اندک است اما بدخواستن ازاں بدتراست“
ترجمہ:”بُرا کہنا بھی بُرا ہے لیکن برا چاہنا اس سے کہیں برا ہے۔“

جب یہ معاملہ آپ کا سب کے ساتھ تھا تو اپنے شیخ اور ولی نعمت کے عزیزوں اور تعلق والوں کے ساتھ کیوں نہ ہوتا جن کے احسان سے آپ کارواں رواں تر تھا۔

سیر العارفین میں ہے کہ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل کے نواسے خواجہ عطا ء الله ایک لا ابالی وبے باک آدمی تھے۔ ایک دن دوات، قلم او رکاغذ لے کر آئے اور کہا کہ میرے لیے فلاں سردار کو ایک سفارشی خط لکھے دیجیے، تاکہ مجھے یہ کوئی اچھی رقم دے دے۔ شیخ نے فرمایا کہ نہ میری اس سردار سے کبھی ملاقات ہوئی ہے، نہ وہ یہاں کبھی آیا ہے، جس شخص سے بالکل جان پہچان نہ ہو اس کو رقعہ کس طرح لکھا جائے؟ صاحب زادے کو غصہ آگیا اور انہوں نے سخت سُست کہنا شروع کیا کہ ہمارے ہی نانا کے مرید ہو اور ہمارے ہی خاندان کا صدقہ پایا ہے۔ اب ایسے احسان فراموش ہو گئے ہو کہ میرے لیے ایک رقعہ تم سے نہیں لکھا جاتا، یہ تم نے کیا پیری مریدی کا جال بچھایا ہے اور خلق خدا کو دھوکا دے رہے ہو؟ یہ کہہ کر دوات زمین پر پٹک دی اور اٹھ کر چلے، حضرت نے دامن پکڑ لیا اور فرمایا کہ ناراض ہو کر کیوں جارہے ہو؟ خوش ہو کر جاؤ، اس کے بعد ایک رقم سامنے رکھی او رضا مند کرکے رخصت کیا۔

پردہ پوشی ونکتہ نوازی
سیر الاولیاء میں ہے کہ اکثر معمول تھا کہ جو لوگ باہر سے آتے وہ کوئی شیرینی یا تحفہ خرید کر اپنے ساتھ لاتے اور پیش کرتے۔ ایک مرتبہ کچھ لوگ اسی ارادہ سے آرہے تھے۔ ایک مولوی صاحب بھی ساتھ تھے۔ انہوں نے سوچا کہ لوگ مختلف تحائف پیش کریں گے اور وہ اکٹھا حضرت کے سامنے رکھیں گے۔ خادم سب کو اٹھا کرکے لے جائے گا، کیا پتہ چلے گا کہ کون لایا؟ اس نے تھوڑی سی مٹی راستہ سے اٹھاکر کاغذ میں باندھ لی۔ جب سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہر ایک نے اپنی چیز سامنے رکھی۔ مولوی صاحب نے بھی اپنی پڑیا سامنے رکھ دی، خادم وہ سب چیزیں اٹھا کر لے جانے لگا۔ پڑیا کو بھی اٹھانا چاہا۔ حضرت نے فرمایا:”اس کو یہیں چھوڑ دو، یہ میری آنکھ کا سرمہ ہے“۔ یہ اخلاق وعالی ظرفی دیکھ کر ان عالم صاحب نے توبہ کی او رمرید ہوئے۔

شفقت وتعلق
الله تعالیٰ نے حضرت خواجہ کو عام انسانوں اور خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں اور اپنے اہل تعلق کے ساتھ ایسی شفقت ومحبت عطا فرمائی تھی جس کو اگر ماں کی شفقت سے تشبیہ یا اس پر بھی ترجیح دی جائے تو واقعات کے لحاظ سے اس میں کوئی مبالغہ اورشاعری نہ ہو گی، شیوخ کاملین کی یہ شفقت دراصل نبی صلی الله علیہ وسلم کی اس شفقت کی وراثت اور نیابت ہے، جس کی حقیقت اس آیت میں بیان کی گئی ہے:﴿لَقَدْ جَاء َکُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُم بِالْمُؤْمِنِینَ رَء ُوفٌ رَّحِیمٌ﴾․

”آئے تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول صلی الله علیہ وسلم گراں ہے اُن پر تمہاری ہر زحمت اور مشقت ، وہ شفیق ہیں تم پر، اہل ایمان کے لیے بڑے ہم درد اور بڑے مہربان۔“

اور اس حکم کی تعمیل ہے جس کا خطاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہے:”واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین․“

”اور فروتنی اور تواضع کے ساتھ پیش آئیے ان اہل ایمان کے ساتھ، جنہوں نے آپ کی پیروی قبول کر لی ہے۔“

اس شفقت وتعلق نے وہ ”اتحاد“ پیدا کر دیا تھا کہ دوسروں کی جسمانی اذیت سے اپنے کوجسمانی طور پر اذیت اور دوسروں کو قلبی راحت سے اپنے کو قلبی راحت ملتی تھی، امیر حسن علی سنجری راوی ہیں کہ ایک مرتبہ مجلس ہو رہی تھی، سایہ میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگ دھوپ میں بیٹھے تھے، آپ نے سایہ میں بیٹھنے والوں سے فرمایا۔ بھائی! ذرا مل مل کر بیٹھو،تاکہ ان بھائیوں کے لیے بھی جگہ ہوجائے۔ دھوپ میں یہ بیٹھے ہیں اور میں جلا جارہا ہوں۔

ایک مرتبہ آپ نے کسی بزرگ کا مقولہ نقل کیا، جو درحقیقت اپنے ہی حال کی ترجمانی تھی کہ ”خدا کی مخلوق میرے سامنے کھانا کھاتی ہے اور میں اس کھانے کو اپنے حلق میں پاتا ہوں جیسے وہ کھانا میں ہی کھا رہاہوں“۔

امیر علی سنجری فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ بے وقت حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اس طرف عزیزوں سے ملنے آیا ہوا تھا، حاضری کو جی چاہا، بعض دوستوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی او رکام سے آیا ہو اور شروع سے حاضری کی نیت نہ کی ہو تو شیخ کی خدمت میں نہیں حاضر ہونا چاہیے، میں نے دل میں کہا کہ اگرچہ قاعدہ یہی ہے، لیکن دل نہیں مانتا کہ یہاں آکر حضرت کی زیارت کیے بغیر واپس چلاجاؤں۔ میں آج قاعدہ کے خلاف ہی کروں گا۔

حضرت نے فرمایا اچھا کیا ۔پھر یہ شعر پڑھا #
        در کوئی خرابات وسرائے اوباش
        منع نبود بیاو بنشین وبباش

پھر فرمایا کہ مشائخ کا معمول یہی ہے کہ کوئی ان کے پاس اشراق سے پہلے اور عصر کی نماز کے بعد نہیں جاتا، لیکن میرے یہاں یہ قاعدہ نہیں، جس وقت جس کا جی چاہے آئے۔

غم خواری عام
یہ اہل قلوب غم دنیا سے فارغ البال، لیکن دنیا والوں کے غم اور خلقِ خدا کی فکروں سے نڈھال اور خستہ حال رہتے ہیں ، وہ اپنا غم بھلا دیتے ہیں اور ساری دنیا کا غم اپنا غم بنا لیتے ہیں ،یہ کہنے کا حق درحقیقت انہیں کو ہے #
        ”سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے“

خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے نواسے خواجہ شرف الدین سے کسی مجلس میں کسی صوفی نے کہا خواجہ نظام الدین عجب فارغ البارل بزرگ ہیں، مجرد ہیں، اہل وعیال واطفال کا کوئی تردد ان کو نہیں ہے، ان کو ایسا فارغ خاطر حاصل ہے کہ ایک ذرہ غم بھی اُن کو چھو نہیں گیا ہے ۔ وہ عزیز اس مجلس سے اٹھے تو حضرت خواجہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، چاہتے تھے کہ خود اس کا ذکر کریں حضرت خواجہ نے خو د ہی ارشاد فرمایا:
”میاں شرف الدین! وہ رنج وغم جو میرے دل کو وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے شاید ہی کسی دوسرے شخص کو اس سے زیادہ ہوتا ہو، جو شخص میرے پاس آتا ہے ،اپنا حال مجھ سے بیان کرتا ہے، اس سے دو چند فکرو تردد اور غم والم مجھے ہوتا ہے۔ بڑا سنگ دل ہے وہ جس پر اپنے دینی بھائی کا غم اثر نہ کرے، اس کے علاوہ یہ جو کہا گیا ہے ۔ المخلصون علی خطر عظیم(مخلصین کو بڑا خطرہ درپیش رہتا ہے) اس سے بھی سمجھ سکتے ہو کہ” نزدیکاں رابیش بود حیرانی“۔

حضرت خواجہ کے نزدیک مسلمان کا دل خوش کرنا اور اس کی دل جوئی اور راحت رسانی افضل ترین عمل اور تقرب الی الله کا بہترین ذریعہ تھا، سیرالاولیاء میں ہے کہ فرمایا:
مجھے خواب میں ایک کتاب دی گئی، اس میں لکھا تھا کہ جہاں تک ہو سکے دلوں کو راحت پہنچاؤ کہ مومن کا دل اسرار ربوبیت کا مقام ہے۔ کسی بزرگ نے خوب کہا ہے #
        می کوش کہ راحت بجانے بہ رسد
        یا دستِ شکستہ بنانے برسد
ترجمہ:” کوشش کرو کہ کسی انسانی جان کو تم سے آرام پہنچے یا جو دست شکستہ ہے اس کو تمہارے ذریعہ سے روٹی ملے“۔

ایک مرتبہ فرمایا کہ قیامت کے بازار میں کسی سودے کی اتنی قیمت اور چلن نہ ہو گا جتنا دل کا خیال رکھنے اور دل کے خوش کرنے کا۔

چھوٹوں پر شفقت
حضرت خواجہ اپنے قیمتی مشاغل اور اعلیٰ کیفیات باطنی کے ساتھ بچوں اور چھوٹوں پر بڑے شفیق تھے اور وہ اپنی شدید مصروفیت کے باوجود ان کی دل جوئی اور ملاطفت کے لیے وقت نکال لیتے تھے، ان عظیم ذمہ داریوں اور باطنی مشغولیت کے باوجود ان بچوں کی رعایت فرماتے او رچھوٹی چھوٹی باتوں کا دھیان رکھتے۔

خواجہ رفیع الدین ہارون آپ کے حقیقی بھانجے کے صاحب زادے تھے۔ اگر کبھی کھانے کے وقت وہ موجودنہ ہوتے تو اگرچہ بڑے بڑے بزرگ دسترخوان پر بیٹھے ہوتے، لیکن آپ ان صاحب زادے کا انتظار کرتے، آپ اپنے بچہ کی طرح خلوت وجلوت میں ان کی تربیت ودل داری فرماتے۔

خواجہ رفیع الدین کو تیر وکمان او رپیرا کی وکُشتی کا بڑا شوق تھا، حضرت سلطان المشائخ بڑی شفقت کے ساتھ ان سے انہیں فنون کی باتیں کرتے تھے، ان کو ہمت افزائی اور تشویق فرماتے، ان فنون کی باریکیوں اورنکتوں کی تعلیم دیتے، تاکہ یہ خوش ہوں۔

جو شریف النفس اور ذی استعداد نوجوان اپنے زمانہ کے شوقین لوگوں کے جیسا لباس پہنتے او ران میں نوجوانی کے تقاضے سے لباس میں تجمل پیدا ہوتا ( جس کو بعض سخت گیر خلاف ثقاہت ومتانت سمجھ کر اعتراض کرتے ہیں) حضرت خواجہ ان کی بھی دل جوئی فرماتے او راس کو جوانی اور زمانہ کا تقاضا سمجھ کر نظر انداز فرماتے، سیرالاولیاء کے مصنف امیر خسرو لکھتے ہیں کہ میرے چچا سید حسین کرمانی کی نوجوانی کا زمانہ تھا، وہ اس زمانہ کے شوقین نوجوانوں کے لباس اور وضع میں ایک روز تشریف لائے۔ حضرت خواجہ نے ان کو دیکھ کر فرمایا :
        ”سید بیا وبنشیں وسعادت ببر۔“
ترجمہ:”سید آؤ، بیٹھو! اورسعادت میں حصہ لو۔“

الله ہی بہتر جانتا ہے کہ اس شفقت وملاطفت اور دل جوئی ودل نوازی سے کتنے نوجوانوں کی اصلاح وتربیت ہوئی ہو گی اور کتنے ”آہوئے وحشی“ اسیر دام محبت ہوئے ہوں گے او ران کا شمار خدا کے مقبول بندوں اور شیوخ کا ملین میں ہوا ہو گا۔

حضرت خواجہ کے ان اخلاق وصفات اور صوفیائے صافیہ کی سیرت کو دیکھ کر امام غزالی کی اس رائے اور شہادت کی تصدیق ہوتی ہے جس کا انہوں نے تلاش حق کے طویل سفر او رمختلف گروہوں اور انسانی طبقات کے عمیق مطالعہ کے بعد اظہار کیا ہے۔

”مجھے یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ صوفیہ ہی الله کے راستہ کے سالک ہیں، ان کی سیرت بہترین سیرت، ان کا طریق سب سے زیادہ مستقیم او ران کے اخلاق سب سے زیادہ تربیت یافتہ اور صحیح ہیں۔ اگر عقلاء کی عقل، حکماء کی حکمت اور شریعت کے رمز شناسوں کا علم مل کر بھی ان کی سیرت واخلاق سے بہتر لانا چاہے تو ممکن نہیں۔ ان کے تمام ظاہری وباطنی حرکات وسکنات مشکوة نبوت سے ماخوذ ہیں اور نور نبوت سے بڑھ کر روئے زمین پر کوئی نور نہیں جس سے روشنی حاصل کی جائے“۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.