جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

امیرا لمومنین ،امام المتقین ،خال المسلمین ،خلیفہ سادس وراشد وعادل برحق ،کاتب الوحی المبین ،امام السیاسة والمدبرین
حضرت سیدناامیر معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہم

محترم عبدالمنان معاویہ

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وارضاہ مشہورِ صحابی رسول ہیں ،ان کے فضائل ومناقب میں اگر دیگر روایات نہ بھی ہوتیں ،تو بھی ان کے لیے یہ فضلیت کم نہیں کہ وہ صحابی رسول تھے اور مقام صحابیت ،نبوت ورسالت کے بعد سب سے بلند ترمقام ہے اور جس طرح مقام نبوت ورسالت کسبی نہیں ہے، بلکہ وہبی منصب ہے، اسی طرح مقام صحابیت بھی کسبی نہیں ،بلکہ وہبی منصب ہے اور اس کی دلیل نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ذیشان ہے :”اللہ تعالیٰ نے مجھے چنا اور میرے لیے میرے صحابہ کو چنا“۔ (حدیث رسول ) اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی صحبت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جماعت ِ صحابہ  کے ایک ایک فرد کو چن لیااور جس طرح یہ یقینی بات ہے کہ اب کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا تو پھر یہ بھی یقینی امر ہے کہ اب کوئی شخص صحابیت کے منصب پر بھی فائز نہ ہوگا ۔درج بالا حدیث نبوی کی شرح صحابی رسول سید نا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ:
”ان اللّٰہ نظر فی قلوب العباد فاختار محمداً صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فبعثہ برسالتہ وانتخبہ بعلمہ، ثم نظر فی قلوب الناس بعدہ، فاختار لہ اصحابا، فجعلھم انصار دینہ ووزراء نبیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم․“

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ،فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے قلوب پر نظر ڈالی اور ان سب میں اپنے علم کے مطابق حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو منتخب فرمایا اور اپنی رسالت کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا، پھر آپ کے بعد لوگوں کے قلوب پر نظر ڈالی تو کچھ لوگوں کو آپ کے اصحاب اور اپنے دین کے ناصر ومددگار اور آپ کے وزراء اور نائبین کے طور پر منتخب فرمایا “۔(حلیة الأولیاء والاستیعاب لابن عبدالبر،بحوالہ معارف الحدیث، حصہ ہشتم :361)قول سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ درج بالا حدیث نبوی کی جامع شرح ہے، اس کے بعد اس پر مزید کلام کی ضرورت نہیں ہے ۔

سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ ،مکہ مکرمہ کے متمول گھرانے اور بنوامیہ کے سردار حضرت ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کے ہاں پیدا ہوئے ،آپ  کی والدہ ماجدہ کا نام ہند رضی اللہ عنہا ہے،آپ رضی اللہ عنہ قبیلہ قریش کی شاخ بنو امیہ سے تھے ،بنوامیہ قریش کے سپہ سالار تھے اور قبل اسلام ہونے والی جنگوں میں مثلاً عکاظ ،جنگ فجار اول ودوم میں سپہ سالاری کے فرائض عبد شمس کے پوتے اور حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے والد حرب بن امیہ نے سرانجام دیے۔(العقد الفرید،سید نا معاویہ  ،:1/92)ان کی وفات کے بعد سپہ سالاری کا منصب ، حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو تفویض کیا گیا ۔تاریخ الخلفاء میں علامہ سیوطی  نے لکھا ہے کہ آپ کی پیدائش سے قبل آپ کی والدہ نے خواب دیکھا ،جس کی تعبیر بیان کی گئی کہ ان کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ عرب کا سردار بنے گا ،اس خواب کے بعد آپ کی پیدائش ہوئی، آپ  کا حلیہ بیان کرتے ہوئے مشہور محقق عالم دین جناب حکیم محمود احمد ظفر لکھتے ہیں:۔” رنگ سرخ وسفید کا امتزاج ،سروقد لحیم وشحیم ،وضع وقطع اور چال وڈھال میں ایک خاص قسم کا رعب اور تمکنت ،رنگ گورا ،چہرہ کتابی ،،آنکھیں موٹی موٹی اور چتون شیر کی مانند ،صورت وجیہ ،بظاہر شان وشوکت اور تمکنت، لیکن مزاج میں زہد وتواضع اور فروتنی ،نہایت درجہ بردبار ،حلیم اور وسیع القلب، فقیر کی تمکنت اور امیر کی مسکنت کا بہترین امتزاج ،ڈاڑھی گھنی ،مہندی اور وسمہ کے خضاب سے رنگی ہوئی ،لباس میں سادگی، بلکہ اکثر دفعہ دسیوں پیوند صرف قمیض کو لگے ہوئے ہوتے “۔(کتاب التنبیہ والاشراف ،کتاب الزہد، ہسٹری آف دی عربزبحوالہ سید نا معاویہ  ،:1/114)

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد جس طرح اہل مکہ کے دیگر قبائل آپ صلی الله علیہ وسلم کے دشمن جاں ہوئے، اسی طرح بنوہاشم وبنوامیہ کے لوگ بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کے دشمن جان بن گئے اور بنو ہاشم کے ابو سفیان رضی اللہ عنہ بن حارث، جو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے، انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی شان میں ہجو لکھنا شروع کردی اور بنو امیہ کا ابوسفیان آپ صلی الله علیہ وسلم کی جان کا دشمن بن گیا، حتیٰ کہ جنگ احد میں کفار مکہ کی جانب سے جو لشکر مدینہ منورہ میں جنگ کرنے گیا اس کا سپہ سالار ابو سفیا ن ہی تھا ،پھر جنگ خندق ہوئی ( ابوسفیان بن حرب اموی فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے اورابوسفیان بن حارث ہاشمی فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے ،نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان دونوں کا اسلام اپنی بارگاہ میں قبول فرمالیاتھا) ۔الغرض کہ کفار ِ مکہ نے جتنی لڑائیاں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے لڑیں ،اُن میں سے کسی ایک لڑائی میں بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کفار کی جانب سے شامل جنگ نہ ہوئے ۔یہ بات اس امر کا ثبوت ہے کہ سید نا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سلیم الفطرت تھے اور خداوند متعال نے ان کو ان افعال شنیعہ سے محفوظ رکھا ،علامہ ابن حجر عسقلانی  نے آپ کے قبول اسلام کی بابت ”تقریب التہذیب “میں لکھاہے کہ ::”معاویة بن ابی سفیان خلیفة ٌصحابیٌ اسلم قبل الفتح وکتب الوحی “حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم خلیفہ اور صحابی ہیں ، فتح مکہ سے قبل مشرف باسلام ہوئے اور آپ کاتب الوحی تھے۔(ص:357) اسی طرح علامہ ذہبی  نے بھی لکھا ہے کہ :۔ ”اظھراسلامہ یوم الفتح “ یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اپنے اسلام کو ظاہر کیا ۔(تاریخ اسلام للذہبی :2/318)

حضرت سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کی اُ خت ِ محترمہ حضرت رملہ المعروف ام حبیبہ رضی اللہ عنہا پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کے عقد میں تھیں ، ایک روز پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ سیدہ ام حبیبہ  اپنے بھائی کے بالوں میں کنگھی کررہی ہیں ،تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے ام حبیبہ! کیا تم معاویہ سے محبت کرتی ہو․؟تو سیدہ ام حبیبہ  نے فرمایا یقینا یا رسول اللہ !میں معاویہ سے محبت کرتی ہوں ،تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ اور اللہ کا رسول بھی معاویہ سے محبت کرتے ہیں“۔ (تاریخ ابن عساکر)اسی طرح سید نا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بے شمار احادیث نبویہ کتب احادیث میں موجود ہیں ،جن میں سے چند یہ ہیں۔

ایک بار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دُعا فرمائی کہ :۔” اللھم علمہ الکتاب والحساب وقہ العذاب“ ۔اے اللہ! معاویہ کو کتابت اور فن ِ حساب سکھادیجیے اور ان کو آخرت کے عذاب سے بچائیے ۔ اسی روایت کی بعض سندوں کے ساتھ اس کے متن میں ”ومکن لہ فی البلاد“ کا اضافہ بھی ذکر کیا گیا ہے ،جس کا ترجمہ ہے ”اور ملکوں کا ان کو اقتدار نصیب فرمائیے “۔ (سیر اعلام النبلاء : 3/124۔معارف الحدیث:8/451) اور ایک دوسری روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے دُعا یوں فرمائی کہ:۔” اللھم اجعلہ ھادیاً مھدیاً واھدبہ“اے اللہ ! معاویہ  کو اپنے بندوں کے لیے ذریعہ ٴ ہدایت بنا اور خود ہدایت یافتہ بنادیجیے، اور ان سے ہدایت کا کام بھی لے لیجیے “۔ (جامع ترمذی ،باب المناقب) حدیث مذکورہ درج کرنے کے بعد مشہور محدث ومحقق عالم دین حضرت مولانا محمد منظورنعمانی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :” آپ  کے بارے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی یہ مذکورہ سب دعائیں ہی قبول ہوئیں ،وہ بہترین کاتب تھے ،حتی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کو کتابت وحی اور اپنی خط وکتابت کے لیے بھی منتخب فرمایا تھا ،حساب کتاب کے ماہر تھے، اللہ نے ان کو دور دراز علاقوں تک اسلامی سلطنت کے وسیع کرنے کا ذریعہ بنایا ،وہ خود بھی ہدایت یافتہ تھے ،اور اللہ ہی جانتا ہے کتنے بندگانِ خدا ان کی وجہ سے دولت ایمان سے سرفراز ہوئے اور رہا آخرت کا معاملہ سو وہ ارحم الراحمین کے ہاتھ میں ہے،وہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے عہد میں اسلامی فوج کے ایک بہترین سپاہی تھے ،پھر خلفائے ثلٰثہ کے عہد میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ترقی کرتے رہے ،ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ملک شام کا گورنر بنایا تھااور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بھی وہ اسی منصب پر فائز رہے ،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مابین اختلاف اور جنگ وجدال رہا ،لیکن جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلافت سے ان کے حق میں دست بردار ہوگئے تو وہ خلیفة المسلمین ہوگئے اور ایک طویل مدت تک باتفاق عام صحابہ وتابعین وہ امیر المومنین رہے ہیں “۔(معارف الحدیث :8/451)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک صفت قرآن کریم نے باہمی رحم دلی بھی بیان کی ہے اور یہ رحم دلی عملی طور پر یوں دیکھی گئی کہ جب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جنگ ہوئی، اس جنگ کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کے نام اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ :۔”ہم میں اور اہل شام میں باہمی جھگڑا ہوا، حالاں کہ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہے اور دعوتِ اسلام ایک ہے ،ہم ان سے ایمان باللہ اور تصدیق رسالت میں کسی اضافے کا مطالبہ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ ہم سے ایسا کوئی مطالبہ کرتے ہیں، (یعنی ہمارا اور ان کا ایمان باللہ وتصدیق رسل برابر ہے) ہمارا اور ان کا اختلاف خون عثمان پر ہے اور ہم اس سے بری الذمہ ہیں “۔ (نہج البلاغہ ،مکتوب نمبر 58)اسی طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے کہ :۔” ایھا الناس لاتکرھوا امّارة معاویة، فانّکم لو فقدتّموہ رایتم الرّوس قندر عن کواھلھا کانّھا الحنظل“ ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب جنگ صفین سے واپس تشریف لائے تو فرمایا :اے لوگو! تم معاویہ کی گورنری اور امارت سے کراہت مت کرو،کیوں کہ اگر تم نے انہیں کھو دیا ،تو تم دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جس طرح حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ کر گرتا ہے “۔(البدایہ والنھایہ :8/131۔تاریخ اسلام للذہبی :2/266۔تاریخ الخلفاء، للسیوطی) اسی طرح جب سید نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت واقع ہوئی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی شہادت کی خبر سن کر بے ساختہ رونے لگے ،ان کی اہلیہ نے کہا کہ ان کی زندگی میں آپ ان کے مخالف رہے اور اب رو رہے ہیں ؟تو فرمایا کہ ”تمہیں کیا خبر کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو کھودیا ہے؟ جو علم وحلم اور عمل وفضل میں بے مثال تھا“۔(تاریخ ابن کثیر :8/15)

سید نا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی گورنری کا کم وبیش 23 سالہ دور ،اس طرح گزارا کہ اہل شام اورقرب وجوار کے مسلمان آپ سے کلی طور پر مطمئن رہے اور پھر خلافت حقہ کے کم وبیش 20 سال یوں بسر کیے کہ اسلام کی نشر واشاعت ہوئی ،مسلمانوں کو فتوحات ہوئیں اور اسلامی سلطنت، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ایام ہائے خلافت میں 44 لاکھ مربع میل تھی ،سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں 64 لاکھ مربع میل ہوگئی ،جناب حکیم محمود احمد ظفر لکھتے ہیں کہ :۔” گورنری کے 23 سالہ دور میں ہر متنفس آپ سے مطمئن تھا اور خلافت کے 10 سالہ دور میں بھی کسی کو آپ کے خلاف شکایت کا کوئی موقع نہیں ملا،ہر ایک دل آپ سے مطمئن تھا، حقیقت یہ ہے کہ اپنے دورِ خلافت میں آپ نے وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیے کہ امت کی پوری تاریخ میں آپ کا نام ایک خاص اہمیت کا حامل ہے ،اسی وجہ سے سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے لوگ آپ کے متعلق فرمایا کرتے تھے :”مارأیت رجلاً اخلق بالملک من معاویة․“ میں نے معاویہ سے زیادہ امورِ مملکت کے لائق اور کسی کو نہیں دیکھا ۔(البدایہ والنہایہ ،جلد8،صفحہ135،التاریخ الکبیر للبخاری،جلد4،صفحہ372،طبری جلد5،صفحہ337،ابن اثیر جلد3، صفحہ363، سیدنا معاویہ  شخصیت اور کردار:1/415)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں رفاہ عامہ کے لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے طرز میں جدت اپناتے ہوئے اس محکمہ کو مزید ترقی دی ۔(البدایہ والنہایہ )اسی طرح آپ  نے اپنے دورِ خلافت میں نئی مساجد بنوائیں اور بہت سی پرانی مساجد کو شہید کرکے نئی تعمیر کی گئیں۔(فتوح البلدان)آپ  نے خانہ کعبہ کی خدمت کے لیے متعدد غلام مقرر کیے اور خانہ کعبہ پر دیبا اور حریر کے غلا ف چڑھائے۔(تاریخ یعقوبی) علامہ بلاذری کے مطابق آپ نے مسلم تو مسلم، غیر مسلم اقوام کے ساتھ کیے گئے معاہدات اور ان کے مذہبی جذبات کا پورا پورا احترام کیا ۔(فتوح البلدان ) آپ نے زراعت کی جانب بھی خاص توجہ فرمائی اور ملک کے بیشتر علاقوں میں نئی نہروں کی کھدائی کی اور بہت سے علاقوں میں پہلے سے کھدوائی گئی نہروں کی صفائی کروائی گئی، مدینہ منورہ میں آپ  نے ”نہر کظامہ ،نہر ارزق اور نہر شہدأ کھدوائیں“۔ (وفاء الوفا ،علامہ سمہودی ) آپ کے دورِ خلافت میں بہت سے نئے شہر آباد کیے گئے مثلاً،انطاکیہ میں ایک نوآبادی قائم کی گئی ،روڈس اور دیگر کئی شہروں میں اہل اسلام کو بسایا گیا ،شام کے ویران شدہ شہر ”مرعش“کو دوبارہ بسایا گیا ، افریقہ میں ”قیروان “نامی شہر بسایا گیا ،(معجم البلدان ،ہسٹری آف دی سیریز) آپ کے زمانہ خلافت میں ڈاک کا نظام ”البرید“کے نام سے قائم کیا گیا،جب کہ اس سے قبل یہ ادارہ نہیں تھا ۔(الفخری:97) آپ نے فلاحی وترقیاتی کاموں کی طرف جس لگن سے توجہ فرمائی اسی طرح آپ نے اپنی رعایا کی دیکھ بھال میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ،رعایا کے آرام وآسائش کے لیے بیت المال کے منہ کھول دیے اور خصوصاً اہل بیت ِ نبوت کے ساتھ معاملہ تو محبت اور قرابت داری کا تھا ،اس لیے سید نا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما،سید نا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کو دس دس لاکھ درہم سالانہ دیے جاتے تھے ۔(شرح ابن ابی الحدید) اسی طرح ایک بار سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، جو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی ہیں، انہیں چالیس ہزار درہموں کی ضرورت تھی، وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اسی مقصد کے حصول کے لیے تشریف لے گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فوراً ان کی مطلوبہ رقم انہیں مہیا کردی ۔(اسد الغابہ )

ایک بار جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سید نا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر آرام فرمارہے تھے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو نیند آگئی ،تھوڑی دیر آرام کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، سید ہ اُم حرام رضی اللہ عنہا نے مسکرانے کی وجہ جاننا چاہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ :”اول جیش من امتی یغزون البحر قد اوجبوا“میری امت کا پہلا لشکر جو بحری لڑائی لڑے گا اس پر جنت واجب ہوگئی ۔ (بخاری شریف)علامہ بدرالدین حنفی  نے لکھا ہے کہ :” سب سے پہلا بحری لشکر جس نے 28ھ میں سمندر کے سینے کو چیر کر سمندر پار کے علاقے قبرص پر اسلامی علم بلند کیا وہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی قیادت میں تھا “۔(عمدة القاری :14/165)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے 22رجب المرجب 60 ہجری،مطابق اپریل680عیسوی کو اٹھتر برس کی عمر میں وفات پائی ،آپ رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ صحابی رسول حضرت ضحاک بن قیس رضی الله عنہ نے پڑھائی ۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون !



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.