جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

غائبانہ سلام اورجوابِ سلام ثبوت وطریقہ

محمد تبریز عالم حلیمی قاسمی

جو لوگ موجود ہیں اور جن سے ملاقات ہوتی ہے، انہیں سلام کرنا مسنون ہے اور جواب دینا واجب ہے، ایسے ہی جو لوگ موجو دنہیں ہیں، کسی دوسرے ملک یا شہر میں ہیں، اُن کے پاس کسی کو کام سے بھیجا جائے تو ان صورتوں میں بھی سلام کہلوانا چاہیے: ویستحب أن یرسل بالسلام إلی من غاب عنہ“․ (الأذکار:283)

لہٰذا بھیجنے والا اپنے وکیل، قاصد، خادم یا جو بھی ہو اُس سے کہے کہ فلاں کو میرا سلام عرض کرنا، پھرضرورت کا اظہار کرنا؛ اس سلسلے میں بھی ہمیں احادیث سے رہ نمائی ملتی ہے؛ جس سے اہمیت ِ سلام کااندازہ کیا جاسکتا ہے۔

اور غائبانہ سلام، اسلامی فقہ کا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا صدور اور ثبوت خود خالق کائنات سے بھی ہے، فرشتوں سے بھی ہے اور سرکار دو عالم صلی الله علیہ سلم سے بھی ہے، ذیل میں ایسی روایات ذکر کی جارہی ہیں۔

خالقِ کائنات کا محسنِ کائنات کو سلام کہلوانا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: قریش نے حضور صلی الله علیہ سلم سے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ صفا پہاڑ کو سونا بنا دے؟ پس اگر ایسا ہوگیا تو ہم آپ کی پیروی کرلیں گے، حضور صلی الله علیہ وسلم نے رب سے دعاکی؛ چناں چہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اورکہا: إن ربّک یقرئک السلام کہ آپ کے رب نے آپ کو سلام کہاہے اور فرمایا ہے کہ: آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہوسکتا ہے، اس کے بعد ان میں سے جو کفر کرے گا، اسے میں ایسا عذاب دوں گا کہ ایسا عذاب کسی کو نہیں دیا اور اگر آپ چاہیں تو میں اُن کے لیے تو بہ ورحمت کے دروازے کھلے رکھوں، آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے، توبہ ورحمت کا دروازہ ہی کھلا رکھیے۔(المعجم الکبیر،رقم:12736)

خالق کائنات کا خدیجہ کو سلام کہلوانا
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور صلی الله علیہ سلم سے کہا کہ خدیجہ بنت خویلد کو اُن کے رب کا سلام عرض کیجیے، انہیں جنت میں ایک گھر کی خوش خبری سنائیے۔(بخاری: 3820)

محسن کائنات کا سلام کہلوانا
حضرت انس سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کے ایک نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا غزوے میں جانے کا ارادہ ہے؛ لیکن میرے پاس کوئی سامان نہیں ہے،آپ نے فرمایا: فلاں انصاری کے پاس چلے جاوٴ(وہ انتظام کردیں گے)؛ کیوں کہ انہوں نے تیاری کی تھی؛ لیکن بیمار ہوگئے ہیں، اُن سے کہنا: إن رسول اللہ یقرئک السلام (کہ اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ آپ مجھے اپنا تیار شدہ سامان دے دیجیے۔(شرح السنة:3309)

امین الملائلکہ کا سلام کہلوانا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: مجھ سے آپ صلی الله علیہ سلم نے فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنھانے جواب دیا: وعلیہ السلام ورحمة اللہ․ (الأدب المفرد: 1049) اور بخاری کی روایت میں ”وبرکاتہ“ کا اضافہ بھی ہے۔(بخاری، رقم:3768)

صحابی کا حضور صلی الله علیہ سلم کو سلام کہلوانا
حضرت غالب سے مروی ہے کہ ہم حضرت حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے اور اُن سے اُن کے باپ (یعنی میرے دادا نے) بیان کیا: کہ مجھ کو میرے والد نے حضور صلی الله علیہ سلم کی خدمت میں بھیجتے ہوئے کہا تم حضور کے پاس جاوٴ اور خدمت میں (میرا) سلام عرض کرو؛ چناں چہ میںآ ں جناب کے پاس آیا اور کہا: میرے والد آپ کو سلام عرض کررہے ہیں، آپ نے (جواب میں کہا) علیک وعلی أبیک السلام․ (ابوداوٴد، رقم:5231)

صحابی کا دوسرے صحابی کو سلام کہلوانا
حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ ایک صاحب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: حضرت ابو درداء نے آپ کو سلام کہا ہے إن أبا الدرداء یقرء علیک السلام (جواب دینے کے بعد) حضرت سلمان فارسی نے پوچھا کب آنا ہوا؟ اُن صاحب نے کہا:تین دن ہوئے، آپ نے فرمایا: اگر تم نے یہ سلام نہ پہنچایا ہوتا تو تمہارے پاس یہ امانت رہتا(یعنی سلام کا پہنچانا ایسے ہی ضروری ہے جیسے امانت کا، صاحب امانت تک) ۔ (شرح السنة: 12/268)

حضرت خضر کا حضور کو سلام کہلوانا
نزھة البساتین میں حضرت ابراہیم خواص سے نقل کیا گیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ مجھ کو سفر میں پیاس معلوم ہوئی اور شدت ِپیاس سے بے ہوش ہوکر گر پڑا، کسی نے میرے منھ پر پانی چھڑکا، میں نے آنکھیں کھولیں، تو ایک مرد حسین، خوب رو کو گھوڑے پر سوار دیکھا، اُس نے مجھ کو پانی پلایا اور کہا: میرے ساتھ رہو، تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ اُس جوان نے مجھ سے کہا: تم کیا دیکھتے ہو؟ میں نے کہا: یہ مدینہ ہے، اُس نے کہا : اتر جاوٴ، میرا سلام رسولِ خدا صلی الله علیہ سلم سے کہنا اور عرض کرنا آپ کا بھائی خضر، آپ کو سلام کہتا ہے۔(فضائل درود وشریف:112)

حضور کی جانب سے سلام کا تحفہ
ابن عبد اللہ المکی نے بیان کیا کہ میں نے ابو الفضل القدمانی سے سنا کہ خراسان سے ایک شخص آیا، اس نے کہا: میں نے خواب میں رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی، اُس وقت میں مسجد ِنبوی میں تھا، آپ نے فرمایا: جب تم ھمدان جاوٴ تو ابو الفضل بن زیرک کو میرا سلام پہنچادینا، میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ کس وجہ سے ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہر جمعہ کو مجھ پر سو مرتبہ یا اس سے زائد یہ درود پڑھتا ہے۔

اللہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبي الأُمِّيِّ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ جَزَی اللہُ مُحَمَّدا صلی الله علیہ سلم عَناَّ مَا ہُو أہلُہ․(القول البدیع: 1/166، الباب الرابع: فی تبلیغہ)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اُمت محمدیہ کو سلام کہلوانا
رسول اللہ صلی الله علیہ سلم نے فرمایا: شبِ معراج میں میری ملاقات حضرت ابراہیم علیہ الصلاة والسلام سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہنا اور انھیں بتلانا کہ جنت کی زمین زرخیز ہے، اس کا پانی شیریں ہے؛ مگر وہ چٹیل ہے اور اُس کے پودے سبحان اللہ ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ہیں۔(ترمذی، رقم الحدیث: 3484)

حضرت ابراہیم علیہ الصلاة والسلام کے سلام کا جواب ہمیں بھی ایک مرتبہ دے دینا چاہیے اور جو کام بتایا ہے وہ کام کرنا چاہیے، یعنی یہ اذکارکر کے اپنی جنت میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانا چاہیے۔

حضرت حکیم الامت  اس حدیث کی روشنی میں لکھتے ہیں:
شب معراج میں حضرت ابراہیم علیہ الصلاة والسلام نے ہمارے حضور صلی الله علیہ سلم سے فرمایا تھا کہ اپنی امت کو ہمارا سلام کہیے گا، اس لیے امت کو حکم ہوا کہ صلاة ابراہیم کو نمازمیں داخل کریں اور خارج نماز بھی پڑھا کریں۔(زاد السعید: 560)

حضرت ابو ھریرہ کا حضرت عیسی علیہ السلام کو سلام کہلوانا
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ سلم نے فرمایا: یقینا حضرت عیسی علیہ الصلاة والسلام حاکمِ عادل اور منصف امام کی حیثیت سے نازل ہوں گے…اور میری قبر پر آئیں گے اور مجھے سلام کریں گے اور میں اُن کے سلام کا جواب دوں گا، حضرت ابوھریرہ نے (شاگردوں سے) فرمایا: اے میرے بھتیجو! اگر تم حضرت عیسیٰ علیہ الصلاة والسلام کو دیکھو تو کہنا: ابوہریرہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں۔(المستدرک للحاکم، رقم:4162)

کوئی سلام پہنچائے تو جواب کیسے دے؟
جب کوئی شخص کسی کا سلام پہنچائے تو وہ شخص مُبَلِّغ(پہنچانے والا) کو جواب سلام میں شریک کرے اور یوں کہے: علیک وعلیہ السلام؛ چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا یہی معمول تھا، ایک صاحب نے اپنے والدکا سلام پہنچایا تو آپ نے یوں جواب دیا: علیک وعلیہ السلام․ (ابوداوٴد:5231، فی الأدب)

ویستحب أن یرد علی المُبلغ أیضا: فیقول: وعلیک وعلیہ ا لسلام․(رد المحتار:9/595)

جواب فی الفور دینا چاہیے
ملاقات کے وقت سلام کا جواب دینا واجب ہے اور یہ جواب فوراً دینا ضروری ہے اور جواب میں بلا وجہ تاخیر مکروہ تحریمی ہے، شامی(9/593) پر اس کی صراحت ہے، ایسے ہی اگر غیر موجود شخص کا کوئی سلام لائے یا خط ودرخواست یاکسی بھی چیز میں سلام لکھ کر کوئی بھیجے تو فی الفور جواب دینا واجب ہے۔(عمدة القاری:15/346)

تکملہ فتح الملھم میں ہے:
ولو أتاہ سلام من غائب مع رسول أو في ورقة وجب الرد علی الفور․(تکملہ:4/246)

لیکن اِس موقع پر بہت کوتاہی ہوتی ہے، ایسے سلام کا جواب نہیں دیا جاتا اور اگر جواب دیا گیا تو صرف وعلیکم السلام، اصلاح کی ضرورت ہے، ایسے سلام کا پورا جواب وعلیک وعلیہ السلامہے اور اگر سلام، عورت نے عورت کا، کسی عورت کو یا مرد کو پہنچایا ہو تو جواب یوں دے علیکِ وعلیہا السلام․

سلام کا پہنچانا ضروری ہے
اگر کسی نے دوسرے شخص سے کہا کہ فلاں کی خدمت میں میرا سلام عرض کردینا اور اس شخص نے کہا ٹھیک ہے، پہنچادوں گا، تو ارسالِ سلام واجب ہے؛ کیوں کہ قبولیت کے بعد یہ ایک امانت ہے، جس کا پہنچانا واجب ہے، ورنہ یہ ودیعت ہے، پہنچانا واجب تو نہیں؛ لیکن پہنچادے تو احسان ہوگا۔(رد المحتار:9/595)

مذکورہ صورت میں چوں کہ غفلت، سہو یا کسی او رمجبوری کی وجہ سے سلام پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے؛ اس لیے مناسب ہے کہ کہنے والا یوں کہے: میرا سلام کہہ دینا ”اگر یاد رہے“ ”اگر ممکن ہو“ ” بشرطِ سہولت“اگر یہ شخص نہ کہہ سکے تو دوسرا شخص ہی یہ کہہ دے کہ ان شاء اللہ ”اگر یاد رہا“ ”ممکن ہوا“ تو عرض کردوں گا، ایسی صورت میں دونوں کے لیے سہولت رہے گی۔

تحریری سلام کے جواب کا حکم
اگر سلام تحریری شکل میں ہو مثلاً خط، درخواست، تعزیت نامہ یا اس جیسی کسی چیز میں ہو تو پڑھتے وقت، سلام کا جواب دینا ضروری ہے، چاہے زبان سے یا لکھ کر؛ کیوں کہ غائب کا خط وتحریر، حاضر شخص کی موجودگی کے حکم میں ہے۔

إذا کتب لک رجل بالسلام في کتاب ووصل إلیک، وجب علیک الرد باللفظ أو بالمراسلة؛ لأن الکتاب من الغائب بمنزلة الخطاب من الحاضر، والناس عنہ غافلون․(رد ا لمحتار:9/594)

اور خط ودرخواست کے سلام کاجواب بھی فی الفور دینا ضروری ہے، عموماً اِس سلسلے میں کوتاہی ہوتی ہے، انسان خط یا درخواست پڑھ لیتا ہے؛ لیکن سلام کا جواب نہیں دیتا، اوپر آپ پڑھ ہی چکے والناس غافلون عنہکہ لوگوں میں اِس حوالے سے غفلت پائی جاتی ہے، خط میں سلام آئے یا درخواست وغیرہ میں تو دو باتیں ضروری ہیں: جواب دینا اور فی الفور دینا۔

ولو أتاہ سلام من غائب مع رسول أو في ورقة وجب الرد علی الفور․(تکملہ فتح الملھم:4/246)

ہاں! اگر جواب تحریری شکل میں دینا ہو تو فی الفور جواب دینا ضروری نہیں؛ بلکہ جوابی خط میں وعلیکم السلاملکھ سکتا ہے۔اور احسن الفتاوی میں ہے:
زبانی یا بذریعہ خط جواب دینا واجب ہے، بہتر ہے کہ فوراً زبان سے جواب دے دیا جائے؛ کیوں کہ ممکن ہے خط کے جواب کا موقع نہ ملے تو واجب فوت ہونے کا گناہ ہوگا، خط کا جواب دینے کا ارادہ نہ ہو یا خط قابلِ جواب نہ ہو تو فوراً زبان سے جواب دینا واجب ہے۔(احسن الفتاویٰ:8/134)

جوابی سلام میں کیا لکھے؟
حضرت تھانوی سے دریافت کیا گیا کہ خطوں کے اندر جو سلام لکھا ہوا آتا ہے، مثلا لکھتے ہیں السلام علیکم، اس کے جواب میں وعلیکم السلام لکھنا چاہیے یا السلام علیکم لکھ دینا کافی ہے؟ فرمایا: فقہاء نے دونوں کو کافی لکھا ہے۔(اسلامی تہذیب:56)

تحریری سلام کے جواب کا حکم: غفلت اور اصلاح
اگر کسی کے پاس کسی شخص کا خط آئے اور اس خط میں ”السلام علیکم ورحمة اللہ“ لکھا ہوتو اس کے بارے میں بعض علماء نے فرمایا کہ اُس سلام کا تحریری جواب دینا چوں کہ واجب ہے؛اِس لیے خط کا جواب دینا بھی واجب ہے، اگر خط کے ذریعہ اس کے سلام کا جواب اور اُس کے خط کا جواب نہیں دیں گے تو ایسا ہوگا کہ جیسے کوئی شخص آپ کو سلام کر ے اور آپ جواب نہ دیں؛ لیکن بعض دوسرے علماء نے فرمایا کہ اُس خط کا جواب دینا واجب نہیں ہے(مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھماکا قول ہے: إني لأری جواب الکتاب عليّ حقا کرد السلام یعنی میں اپنے اوپر خط کے جواب کو ایسے ہی ضروری سمجھتا ہوں جیسے سلام کا جواب۔ المصنف:221، مولف عرض گزار ہے کہ اول الذکر رائے کی دلیل ابن عباس کا یہ قول ہے، ثانی الذکر رائے کے قائلین اسے استحباب کی تاکید پر محمول کریں گے)اِس لیے کہ خط کا جواب دینے میں پیسے خرچ ہوتے ہیں اور کسی انسان کے حالات بعض اوقات اس کے متحمل نہیں ہوتے کہ وہ پیسے خرچ کرے (یا پیسے ہیں؛ لیکن ڈاکخانہ آنے جانے کا چکر بھی ایک مسئلہ ہے،مولف)؛اِس لیے اس خط کا جواب دینا واجب تو نہیں ہے؛ لیکن مستحب ضرور ہے؛البتہ جس وقت خط کے اندر سلام کے الفاظ پڑھے،اُس وقت زبان سے اُس سلام کا جواب دینا واجب ہے اور اگر خط پڑھتے وقت بھی زبان سے سلام کا جواب نہ دیا اور نہ خط کا جواب دیا تو اِس صورت میں ترکِ واجب کا گناہ ہوگا، اِس میں ہم سے کتنی کوتاہی ہوتی ہے کہ خط آتے ہیں اور پڑھ کر اُس کو ویسے ہی ڈال دیتے ہیں، نہ زبانی جواب دیتے ہیں نہ تحریری جواب دیتے ہیں اور مفت میں ترکِ واجب کا گناہ اپنے نامہ اعمال میں لکھوالیتے ہیں،یہ سب ناواقفیت کی وجہ سے کرلیتے ہیں، اِس لیے جب بھی خط آئے توفوراً زبانی سلام کا جواب دے دینا چاہیے۔(اصلاحی خطبات:165)

یہی حکم ای میل، فیس بک، ٹوئٹر،واٹس اپ اور مسیج ودرخواست کا ہونا چاہیے۔مولف

فأما إبلاغہ إلی المرسل؛ فلیس بواجب کما نقلت عن الشیخ التھانوي، وحینئذٍ لا یجب جواب الرسالة البریدیة، ولاسیما إذا کان یحتاج إلی بذل مالٍ․ (تکملہ فتح الملھم:4/246)

بچوں کے لکھے ہوئے سلام کا حکم
حضرت تھانوی کے افادات میں ہے:
بعض بچوں کی طرف سے خطوں میں جو سلام لکھا ہوا آتا ہے تو عام طور سے عادت یہ ہے کہ اُس سلام کے جواب میں صرف دعا لکھ دیتے ہیں؛ مگر میرے نزدیک اس سے جواب ادا نہیں ہوتا؛ اس لیے سلام اور دعا دونوں لکھتا ہوں؛ لیکن اگر وہ سلام بچے نے نہ لکھوایا ہو یا کسی بڑے نے اُس کی طرف منسوب کردیا ہو تو اس کا جواب ہی واجب نہیں۔ (اسلامی تہذیب: 57)

سلام پہنچانے کی درخواست ہر ایک سے مت کیجیے
جیسے زبانی سلام کہلوایا جاتا ہے، ویسے ہی کبھی خطوط وغیرہ میں لکھا جاتا ہے کہ فلاں فلاں کو میرا سلام کہہ دیجیے گا، یہ بھی ایک اچھی چیز ہے اور تعلقات میں مضبوطی کا سبب ہے؛ لیکن مندرجہ ذیل ادب پیش نظر رہے، جو آدابِ خط وکتابت کا ایک ادب ہے۔

کثیر المشاغل مکتوب الیہ کو پیام وسلام پہنچانے سے معاف رکھے، اسی طرح اپنے معظَّم کو بھی تکلیف نہ دے، خود اُن لوگوں کو براہ راست جو لکھنا ہے لکھ دے اور جو کام مکتوب الیہ کے لیے مناسب نہ ہو، اُس کی فرمائش لکھنا تواور بھی بے تمیزی ہے۔(آداب المعاشرت در اصلاحی نصاب: 489)

مسلم اور غیر مسلم کو خط میں سلام لکھنے کا طریقہ
آپ صلی الله علیہ سلم کا طریقہ اس سلسلے میں یہ تھا کہ اگر مکتوب الیہ مسلمان ہوتا تو سلام کا مخاطب، خاص طور پر اُس کو بنایا جاتا، یعنی السلام علیکم جیسے الفاظ ہوتے اور اگر مکتوب الیہ مسلمان نہ ہوتا تو پھر علی العموم سلام کے الفاظ ہوتے یعنی یوں لکھتے: سلامٌ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الہُدی،سلام کے بعد اصل مضمون ہوتا، چناں چہ آں حضرت صلی الله علیہ سلم نے ہرقل (شاہ روم) کو جومکتوب ارسال کیاتھا، اُس میں سلام اِسی طرح تھا۔(مظاہر حق 5/351)

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اُن کے بیٹے کی تعزیت میں آپ نے جو خط بھیجا تھا تو ابتدائی الفاظ یوں تھے: بسم اللہ الرحمن ا لرحیم من محمد رسول اللہ إلی معاذ بن جبل، سلام علیک الخ(یہ روایت حاکم کی ہے، ملا علی قاری نے بھی حاکم کے حوالے سے اپنی کتاب میں یہ تعزیت نامہ نقل کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حضور صلی الله علیہ سلم کا تعزیت نامہ ہے؛ لیکن محققین نے لکھا ہے کہ یہ آپ کا تعزیت نامہ نہیں ہے؛کیوں کہ حضرت معاذ کے صاحب زادے کی وفات، آں جناب کی وفات سے دو سال بعد ہوئی ہے، یہ کسی صحابی کا خطِ تعزیت ہے، راوی کو وہم ہوا ہے،فإن وفاة ابن معاذ بعد وفاة رسول اللہ صلی الله علیہ سلم بسنتین؛ وإنما کتب إلیہ بعض الصحابة، فتوہم الراوي؛ فنسبہا إلی النبي صلی الله علیہ سلم․(کنز العمال:15/747، رقم الحدیث: 43963) (رواہ الحاکم، رقم:5193)

خط یا درخواست وغیرہ کے اخیر میں سلام لکھنا
کسی کو کوئی خط لکھا جائے یا کوئی درخواست لکھی جائے یا کسی تحریری شکل میں سفارش کی جائے تو جیسے شروع میں سلام لکھنا روایات سے ثابت ہے؛ اُسی طرح اخیر میں بھی سلام لکھنا چاہیے؛ جیسا کہ عموماً ہمارے دیار میں رواج ہے، لوگ اخیر میں ”فقط والسلام“ لکھتے ہیں اور والسلام علیکم بھی لکھ سکتے ہیں، امام بخاری نے الادب المفرد میں باب باندھا ہے: باب من کتب آخر الکتاب، السلام علیکم ورحمة اللہ یعنی یہ باب اُس شخص کے بارے میں ہے، جس نے خط کے اخیر میں السلام علیکم لکھا، اس کے بعد صحابیٴ ِرسول حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ایک خط نقل کیا ہے، جو انہوں نے عبد اللہ بن معاویہ کو لکھا ہے، خط کے اخیر میں عبارت یوں ہے۔

ونسأل اللہ الہدی والحفظ والتثبت في أمرنا کلہ، ونعوذ باللہ أن نضل أو نجہل أو نکلف ما لیس لنا بعلم - والسلام علیک أمیر الموٴمنین ورحمة اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ․(الأدب:1061)

ایسا ہی ایک خط شرح السنہ میں منقول ہے، جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے زعماءِ فارس رستم ومہران کو لکھا ہے، جس خط کا اختتام سلام پر ہے، خط پڑھیے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم․ من خالد بن الولید إلی رستم ومہران في ملأ فارس: سلام علی من اتبع الہدی أما بعد! فإنا ندعوکم إلی الإسلام؛ فإن أبیتم فأعطوا الجزیة من ید وأنتم صاغرون؛ فإنَّ معي قوماً یحبون القتل في سبیل اللہ کما یحب فارس الخمر، والسلام علی من اتبع الہدی․(شرح السنة، رقم ا لحدیث: 2668)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خالد بن ولید کی طرف سے رستم ومہران کے نام جو زعماء ایران میں سے ہیں، اُس شخص پر سلامتی ہو جوحق وہدایت کی پیروی کرے۔ بعد ازاں ! واضح ہو کہ ہم تمہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں، اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے ہو تو ذلت وخواری کے ساتھ جزیہ ادا کرو اوراگر تم اِس سے انکار کروگے تو تمہیں آگاہ ہوجانا چاہیے کہ ہلاکت وپشیمانی تمہارا مقدر بن چکی ہے؛ کیوں کہ بلا شبہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو راہِ خدا میں قتل ہوجانے کو اس طرح پسند کرتے ہیں جس طرح ایران کے لوگ شراب پسند کرتے ہیں۔

والسلام علی من اتبع الہدی



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.