جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

ارباب اقتدار کے لیے قرآنی ہدایات

عبید اللہ خالد

سلطنت وحکومت الله تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ الله تعالیٰ نے اپنی اس نعمت سے بعض انبیاء کو بھی نوازا تھا، جن میں سے حضرت یوسف، حضرت داود اور حضرت سلیمان علیہم الصلاة والسلام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ الله تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدردانی ضروری ہے۔ اگر انسان نعمتوں کی قدر دانی اور شکر گزاری کرتا ہے تو الله تعالیٰ نعمتوں میں اضافہ فرماتے ہیں، جب کہ ناشکری کی صورت میں نعمتوں کے چھن جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

الله تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر دانی میں ان کیحقوق کی بجا آوری او ران کے لوازمات وتقاضوں کو پورا کرنا بھی ہے ۔ سلطنت وحکومت جو کہ الله تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اس کے بھی کچھ حقوق وتقاضے ہیں۔ قرآن مجید کی جس آیت میں خلافت راشدہ کی پیش گوئی کی گئی ہے وہاں نہایت جامع انداز میں اس کے حقوق وتقاضوں کو بیان کیا گیا ہے۔ چناں چہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ﴿الَّذِینَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِی الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّکَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ﴾ ”یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دے دیں تو یہ لوگ خود بھی نماز کی پابندی کریں گے اور زکوٰة دیں گے اور (دوسروں کو بھی) نیک کاموں کے کرنے کو کہیں گے اور بُرے کاموں سے منع کریں گے اور سب کاموں کا انجام تو الله تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے“۔

یہ آیت ہجرت مدینہ منورہ کی ابتداء میں نازل ہوئی۔ اس کے حقیقی مصداق اگرچہ خلفائے راشدین ہیں او رانہوں نے اپنے اپنے ادوار میں حکومت وسلطنت کو ان قرآنی ہدایات واصولوں کے مطابق چلایا او ران کے حق میں یہ قرآنی پیشین گوئی حق وسچ ثابت ہوئی، جس کا مشاہدہ پوری دنیا نے کیا۔ لیکن قرآن مجید کے الفاظ جب عام ہوں تو وہ کسی خاص واقع میں منحصر نہیں ہوتے او ران کا حکم عام ہوتا ہے، لہٰذا یہ آیت ان تمام لوگوں سے ، جن کو الله تعالیٰ سلطنت واقتدار عطا فرماتے ہیں، تقاضا کر رہی ہے کہ وہ اپنے ملک وسلطنت کو ان ہدایات کے مطابق چلائیں جو قرآن مجید کی اس آیت میں بیان کی گئی ہیں اور جن کا عملی نمونہخلفائے راشدین رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین نے اپنے اپنے دور خلافت میں پیش کیا ۔

اس وقت ہمارے ملک عزیز پاکستان میں انتخابات کی بے ہنگم گہما گہمی کے بعد نئی حکومت امید ویاس کے سائے تلے وجود میں آچکی ہے۔ ایک طبقہ اگرچہ اسے شکوک وشبہات سے دیکھ رہاہے لیکن عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ بہرحال اس سے اچھی امیدیں وابستہ کیے ہوئے بھی ہے۔ ہمارے ہاں اب تک یہ تکلیف دہ روایت رہی ہے کہ ہمارے حکم راں اپنے آپ کو عوام کا منتخب نمائندہ کہتے ہیں، لیکن عملاً وہ پاکستان اور عوام پاکستان کے مفادات کا نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کو مقصد اقتدار بنا لیتے ہیں او ران کے اشاروں اور دباؤ میں آکر اپنی حقیقی ترجیحات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، منکرات وفواحش کو عام کرنے اور حدود وتعزیرات اور اسلامی قوانین کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر نو منتخب حکومت اس روایت بد کو ختم کردے اور قرآن مجید کی عطا کردہ ہدایات کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لے تو کیا ہی اچھا ہو گا۔ اس سے ہمارا دین ودنیا دونوں سنوریں گے اور ہمارا یہ ملک عزیز بھی ترقی وخوش حالی کی شاہراہ پر گام زن ہو گا۔ ان شاء الله تعالیٰ

الله تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں اس ملک کے تحفظ وترقی کی توفیق عنایت فرمائے، آمین یا رب العالمین․
 



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.