جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

خوشی وغم کے موقع پر کرنے کا کام

عبید اللہ خالد

انسانی زندگی خوشی وغم دونوں سے عبارت ہے اور صبر وشکر کا تعلق انسان کے ان دونوں احوال سے ہے، یعنی خوشی کی حالت میں انسان کو الله تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہیے،جب کہ اگر پریشانی وغم کی کیفیت پیدا ہو تو اس میں انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے اور جزع فزع سے احتراز واجتناب کرنا چاہیے، لیکن عموماً انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ فرحت وخوشی کے موقع پر تواتراتا ہے اور اسے وہ اپنا ذاتی کمال یا استحقاق تصور کرتا ہے، جب کہ اگر اسے کوئی مصیبت وتکلیف پہنچ جائے تو وہ بے صبری سے کام لیتا ہے اور جزع فزع کرتا ہے۔

قرآن وحدیث کی تعلیمات میں صبر وشکر کا ذکر کثرت سے ملتا ہے او رمتعدد آیات واحادیث میں صبر وشکر اختیار کرنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ صبر وشکر دو ایسی صفات ہیں جن سے انسان کی آخرت تو سنورتی ہی ہے بلکہ اس کی دنیاوی زندگی بھی پرسکون اور عافیت وخیریت کے ساتھ بسر ہوتی ہے۔ صبر وشکر سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے او رمصائب ومشکلات رفع ہو جاتی ہیں۔ انبیاء، اولیاء، صلحاء اور اتقیاء کی زندگیاں ان دونوں اوصاف حمیدہ اور خصال فریدہ سے عبارت تھیں۔

امام بیہقی رحمة الله علیہ نے حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے کہ”رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کے دو حصے ہیں، آدھا ایمان صبر اور آدھا شکر ہے۔“ (شعب الایمان)

صحیح مسلم اور مسند احمد میں حضرت صہیب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن کا ہر حال خیر ہی خیر اور بھلائی ہی بھلائی ہے اور یہ بات سوائے مؤمن کے کسی اور کو نصیب نہیں، کیوں کہ مؤمن کو اگر کوئی راحت، نعمت یا عزت ملتی ہے تو وہ اس پر الله تعالیٰ کا شکر بجالاتا ہے، جو اس کے لیے (دین ودنیامیں) خیر وبھلائی کا سامان ہے اور اگر مؤمن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پیش آجائے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے تو وہ مصیبت وتکلیف بھی (دین ودنیا دونوں میں) اس کے لیے خیر وبھلائی ثابت ہوتی ہے۔“

شکر کرنا مؤمن کے حق میں دین ودنیا دونوں میں اس طرح خیر وبھلائی کا باعث ہے کہ شکر کی وجہ سے الله تعالیٰ کے وعدہ”لَئِن شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ “ کے مطابق نعمت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور قائم وباقی بھی رہتی ہے ، جب کہ آخرت میں اس شکر کی وجہ شکر کرنے والے کو اجر عظیم ملے گا۔ مصیبت پر صبر کرنے کی صورت میں مؤمن کو دین ودنیا دونوں کی بھلائی اس طرح نصیب ہوتی ہے کہ دنیا میں تو اسے الله تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :”إِنَّ اللَّہَ مَعَ الصَّابِرِینَ“ الله تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور الله تعالیٰ جس کے ساتھ ہو تو انجام کار اس کی مصیبت راحت میں تبدیل ہو جاتی ہے، جب کہ آخرت میں صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا کیا جائے گا، کیوں کہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :”إِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ أَجْرَہُم بِغَیْرِ حِسَابٍ․“

ایک دعا میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کا رشاد ہے کہ:”اللّٰھم اجعلني صبوراً، واجعلني شکوراً، واجعلني في عیني صغیرا، وفي أعین الناس کبیراً․“ ترجمہ: یعنی” اے الله مجھے بڑا صبر والا بنا دے اور بڑا شکر والا بنا دے اور مجھے میری نظر میں چھوٹا بنادے اور دوسروں کی نظروں میں بڑا بنا دے۔“

لہٰذا ایک مؤمن کو اپنی زندگی میں ان دونوں اوصاف حمیدہ کو حتی الوسع اختیار کرنا چاہیے اور الله تعالیٰ سے یہ دعا مانگنی چاہیے کہ وہ رحیم وکریم ذات ہمیں خیر وعافیت والی زندگی عطا فرمائے اور صبر وشکر کا خوگربنا دے۔ آمین۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.