جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

دعوت وتبلیغ اور حاجی عبدالوہاب صاحب رحمة الله علیہ

عبید اللہ خالد

انبیاء کرام علیہم الصلاة والسلام دنیا میں داعی بن کر مبعوث ہوئے اور مخلوق خدا کو الله تعالیٰ کی وحدانیت وعظمت، خیر وبھلائی اور احکام خداوندی سے روشناس کرانے کے لیے حد درجے کی محنت وکوشش بروئے کار لاتے رہے۔ آخر میں امام الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپ نے پیغام خداوندی پہنچانے میں جس قدر تکالیف برداشت کیں اور انسانوں کو خدا پرستی کی طرف دعوت دی وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے اور تاریخ کے سینے پر”ثبت است برجریدہٴ عالم دوام ما“ کا عملی نمونہ پیش کررہی ہے۔ آپ کی رحلت کے بعد انسانوں کو خیر وبھلائی کی طرف دعوت دینے اور برائی وشر سے منع کرنے کا کام آپ کی امت کے سپرد ہوا۔ چناں چہ قرآن مجید میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ ﴾ یعنی ”تم سب اُمتوں سے بہترین امت ہو، جو (عام) لوگوں کو نفع پہنچانے کے لیے ظاہر کی گئی ہو، تم نیکی کے کاموں کا حکم دیتے ہو، برائی کے کاموں سے منع کرتے ہو اور (خود بھی)الله تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو“۔

خیر وبھلائی کا حکم دینے اور شر وبرائی کے کاموں سے روکنے کا عظیم فریضہ اُمت مسلمہ ہر دور میں انجام دیتی رہی ہے اور تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اس فریضے کو جس احسن واکمل طریقے سے اُمت مسلمہ نے سر انجام دیا کوئی قوم وملت اس طرح انجام نہ دے سکی۔ اس سلسلے کی کڑی گزشتہ ایک صدی سے جاری دعوت وتبلیغ کے نام سے محنت بھی ہے، جو پورے عالم میں بہت بڑے پیمانے پر انسانوں کی خیر کی طرف راہ نمائی کرنے، ان کو ان کے خالق حقیقی کے ساتھ جوڑنے، ان کیمقصد حقیقی سے آگاہ کرنے اور اُمت مسلمہ کو ان کا بھولا ہوا سبق سکھارہی ہے۔ اس مبارک کام کے ذریعے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا اور وہ خیر کے راستے سے اس طرح منسلک ہوئے کہ اسی راستے میں جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔

اس محنت کی ابتداء حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمة الله علیہ نے کی، آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت جی حضرت مولانا محمدیوسف کاندھلوی رحمة الله علیہ نے اس کار خیر کوسنبھالا، پھر حضرت جی مولانا انعام الحسن کاندھلوی رحمة الله علیہ اس کی آب یاری کرتے رہے ، ان حضرات کے بعد پاکستان میں اس محنت کے حوالے سے حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب رحمة الله علیہ کا نام نمایاں ہوا، ہم نے اپنے ابتدائیشعور سے انہی کا نام اس سلسلے کے سرفہرست حضرات میں پایا۔ انہوں نے اس کام کی صرف سرپرستی ہی نہیں کی بلکہ سرپرستی کا حق ادا کیا، اپنی پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کر رکھی تھی، نوجوانی ،کہولت اور بڑھاپا اسی میں کھپا دیا اور بالآخر اسی راہ ہی میں جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔آپ کی شخصیت لاکھوں انسانوں کی اصلاح اور خیر وبھلائی کا ذریعہ بنی رہی۔ اتنے بڑے کام ظاہر ہے کہ ویسے ہی سر انجام نہیں پاتے بلکہ ان کے پیچھے بہت بڑی ریاضتیں اور قربانیاں کار فرما ہوتی ہیں۔

الله تعالیٰ آپ کی مساعیٴ جمیلہ کو قبول ومنظور فرمائے، آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، دعوت وتبلیغ کے اس عظم کام کو مزید ترقیات سے نوازے، شر وروفتن اور آفات وبلیات سے مامون ومحفوظ فرمائے اور ہمیں آپ کے سنہری نقوش پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یا رب العلمین․



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.