جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

قربانی ایک سبق آموز عمل

عبید اللہ خالد

ماہ ذوالحجہ کو سال کے دوسروں مہینوں پر اس اعتبار سے شرف حاصل ہے کہ اس میں الله تعالیٰ کے خلیل اورمحبوب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک ایسے عمل کی، جو انہوں نے محض رضائے الہی اور الله تعالیٰ کی خوش نودی کے حصول لیے سر انجام دیا تھا ، یاد تازہ کی جاتی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ انہیں اپنے ایسے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیاجارہا ہے جو بڑھاپے کی عمر میں الله تعالیٰ نے انہیں عطا کیا تھا اور تھا بھی اکلوتا بیٹا۔ پھر جب وہ بچہ عمر کے ایسے حصے میں پہنچا جس میں بچے کی گفت گو، نشست وبرخاست اور ادائیں انسان کو خوب بھاتی اور اچھی لگتی ہیں اور اس کی محبت دل ودماغ میں رچ بس کر اسے مسحور کر لیتی ہے تو الله تعالیٰ کی طرف سے انہیں حکم ملا کہ اب وہ اس بیٹے کو الله تعالیٰ کی راہ میں قربان کردیں۔

انبیاء علیہم السلام کے خواب چوں کہ سچے ہوتے ہیں اور وحی کادرجہ رکھتے ہیں، لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السلام الله تعالیٰ کے اس حکم کو بجالانے کے لیے مکمل اخلاص کے ساتھ کمربستہ ہوئے او راپنے اکلوتے، عزیزاز جان اور ننھے منے بیٹے کے گلے پر چھری رکھ کر اسے ذبح کرنے ہی لگے تھے کہ الله تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرئیل علیہ السلام جنت سے ایک مینڈھا لے آئے، جسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح کیا گیا اور ساتھ ساتھ یہ وحی بھی نازل ہوئی کہ﴿قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْن﴾ آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکو کاروں کو اس طرح کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔“

پیغمبروں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ویسے بھی الله تعالیٰ نے بہت ساری نمایاں صفات وخصوصیات سے نوازا تھا، آپ جد الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ آپ ہی کی پشت اور نسل میں چلتا رہا۔ اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام ہے، جو حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے او رحضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہیں، ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے، جن میں انبیاء کی ایک بڑی تعداد مبعوث ہوئی۔ سید الانبیا خاتم النبیین حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم بھی آپ کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں پیدا ہوئے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے الله تعالیٰ سے کئی دعائیں مانگیں ہیں جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مذکور ہیں، جن میں سے ایک دعا یہ بھی ہے کہ ”واجعلی لسان صدق فی الآخرین“ یعنی” آنے والے لوگوں میں میرا ذکر خیر جاری فرمادیجیے۔“

چناں چہ دنیا میں جتنے بھی آسمانی مذاہب موجود ہیں وہ سب آپ کا ذکر خیر کرتے ہیں اور آپ کی طرف انتساب کو شرف وفضیلت سمجھتے ہیں، حتی کہ مشرکین مکہ بھی باوجودکفر وشرک کے اپنا انتساب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کرتے اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیروکار سمجھتے تھے۔

بہرحال بڑھاپے کی عمر میں اپنے اکلوتے اور ننھے منے عزیز از جاں فرزند کو قربان کرنے کی آزمائش ایک بہت بڑی آزمائش تھی، جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کام یاب وکامران ہوئے اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عمل میں اس قدر حسن نیت اور اخلاص کار فرما تھا کہ الله تعالیٰ نے اس عمل کو رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے ایک یاد گار عبادت کے طور پر مقرر کر دیا۔

عید الاضحی میں قربانی کاعمل یہ درس دیتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال میں زیادہ سے زیادہ حسن نیت اور اخلاص پیدا کرنا چاہیے کہ اخلاص وحسن نیت ہی کی بدولت عمل میں جان، دوام اور برکت پیدا ہوتی ہے ۔ عمل میں جتنا زیادہ اخلاص ہو گا اتنی ہی زیادہ اس میں خیروبرکت ہو گی۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.