جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

نسل نو کے لیے فکر مندی ضروری ہے

عبید اللہ خالد

حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد بنی نوع انسان کی تعلیم وتربیت تھاتا کہ آپ لوگوں کو ان کے خالق حقیقی سے روشناس کرائیں، الله تعالیٰ کے احکام وفرامین ان تک پہنچا کر ان کے عقائد واعمال کی اصلاح کریں، معاشرے کو خیر وشر کی تمیز سکھلا کر امور خیر کو بجالانے اور امور شر سے بچنے کی تلقین کریں اور عملاً لوگوں کو یہ باتیں سکھلائیں اور بتلائیں۔ قرآن مجید آپ صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِہِمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَإِن کَانُوا مِن قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ﴾․

یعنی”حقیقت میں الله تعالیٰ نے مسلمانوں پر (بڑا) احسان کیا، جب کہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے (عظیم الشان) پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو الله تعالیٰ کی آیتیں (اور احکام) پڑھ پڑھ کرسناتے ہیں اور (ظاہری اور باطنی گندگیوں سے) ان کی صفائی کرتے رہتے ہیں اور ان کو کتاب (الہی) اور سمجھ کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور بالیقین یہ لوگ(آپ کی بعثت سے) پہلے صریح غلطی یعنی (کفر وشرک) میں (مبتلا) تھے۔“

آپ صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کے انہی مقاصد کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں بھی بیان فرمایا ہے، جو قرآن مجید کے پہلے پارے میں مذکور ہے۔ چناں چہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں کا تعلیم وتزکیہ فرمایا اور آپ کی محنت وکاوش کے نتیجے میں صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین کی ایک ایسی جماعت تیار ہوئی کہ دنیا اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے اور اس جماعت نے اپنے عمل سے پوری دنیا میں خیر کا ایسا انقلاب برپا کیا کہ انسانیت ہمیشہ کے لیے اس کے ثمرات وبرکات سے ان شاء الله مستفید ہوتی رہے گی۔

خیر وشر کی کشمکش چوں کہ ازل سے جاری ہے، لہٰذا شر کی قوتوں نے خیر کے اس عظیم انقلاب کو، جس کی بنیاد محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے رکھی تھی، نقصان پہنچانے کی نامسعود مساعی مسلسل جاری رکھی ہوئی ہیں، اس وقت مغرب ویورپ ان شیطانی قوتوں کی سرپرستی کر رہا ہے اور تقریباً گزشتہ تین صدیوں سے شر کی ان قوتوں کو مسلمانوں کے اعمال بد کی وجہ سے بادیٴ النظر میں کام یابی ملتی جارہی ہے اور شر کو پھیلانے کے لیے ایسے اسباب ووسائل پیدا کیے جارہے ہیں کہ سابقہ ادوار میں اس کی نظیرملنا مشکل ہے۔ لہوولعب، فحاشی وعریانی، بے حیائی وبدتمیزی اورمنکرات کو مختلف انداز واسلوب اختیار کرکے عام کیا جارہا ہے اور امت مسلمہ خصوصاً اس کی نسل نو کو ان مفاسد میں زیادہ سے زیادہ مبتلا کرنے اور جکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ٹی وی، انٹرنیٹ، کیبل وغیرہ بے حیائی اور فحاشی وعریانی کو پھیلانے کے لیے نجانے کیا کیا اسباب ووسائل مہیا کیے جارہے ہیں ، اب تو اسمارٹ فون نے حد کر دی ہے کہ اس کے ذریعے پوری دنیا کی فحاشی وعریانی کو نوجوان بچے اور بچیوں کے ہاتھوں میں بے دردی سے تھما دیا گیا ہے، جس کے بھیانک نتائج افسوس ناک اور دل سوز واقعات کی صورت میں ظاہر ہو رہے اور معاشرے کی پاکیزہ فضا کو بے حد مکدر اور آلودہ کر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں امت کے بڑوں، سرپرستوں خصوصاً بچوں کے والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس دجالی تہذیب وثقافت کی آلودگی سے اپنے بچوں اور اہل وعیال کو بچائیں اور انہیں ایسے اسباب ووسائل اختیار کرنے سے دورر کھیں جن کی وجہ سے وہ فحاشی وعریانی اور بے حیائی میں مبتلا ہوں اور ان کی دنیا وآخرت دونوں تباہ ہوجائیں۔ اپنی اولاد کو بے حیائی، فحاشی وعریانی اور انکے آلات سے بچانا او ران کی اچھی تعلیم وتربیت کرنا والدین اور سرپرستوں کا اسلامی فریضہ اور شرعی ذمہ داری ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں اپنی اس ذمہ داری اور فریضے کو ٹھیک طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ وما علینا إلا البلاغ۔
 



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.