جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو

عبید اللہ خالد

حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم الله تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ جو تعلیمات لے کر آئے ہیں وہ نہایت جامع ہیں اور ہر شعبہ ٴ زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، ان میں حلال وحرام کے احکام بھی ہیں، زندگی گزارنے کے طریقے بھی ہیں، مفید باتوں کی طرف راہ نمائی بھی ہے اور شروروفتن سے آگاہی بھی، غرض زندگی کا کوئی شعبہ اور حصہ ایسا نہیں ہے کہ آپ کی طرف سے اس سے متعلق ہدایات موجود نہ ہوں۔ ایک روایت میں آپ نے ایک صحابی کو نصیحت فرمائی او ر زندگی بنانے اور سنوارنے کے لیے چند چیزوں کی طرف متوجہ فرمایا، جن سے مستفید ہو کر انسان اپنی دنیا وآخرت دونوں کو کام یاب وکام ران بناسکتا ہے اور دونوں جہانوں کی سعادتوں کو سمیٹ سکتا ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
”اغتنم خمساً قبل خمس: شبابک قبل ھرمک، وصحتک قبل سقمک، وغناء ک قبل فقرک، وفراغک قبل شغلک، وحیاتک قبل موتک“․

یعنی ”پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو، بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے صحت کو، فقر وافلاس سے پہلے خوشحالی کو، مشاغل وتفکرات میں مبتلا ہونے سے پہلے فراغت واطمینان کو او رموت سے پہلے زندگی کو۔“

جوانی میں جو اعمال صالحہ، عبادات، طاعات اور امور خیر انجام دیے جاسکتے ہیں ظاہر ہے کہ بڑھاپے میں وہ امور انجام نہیں دیے جاسکتے، کیوں کہ جو طاقت وقوت او رہمت انسان کو جوانی میں میسر ہوتی ہے وہ بڑھاپے میں کہاں میسر ہوسکتی ہے؟

صحت وتندرستی بھی الله تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذ صحت وتندرستی سے انسان کو فائدہ اٹھانا چاہیے او رجو نیک اعمال زمانہٴ صحت میں انجام دیے جاسکتے ہیں انہیں بجا لانا چاہیے، صحت وتندرستی بہرحال غنیمت ہے، کیوں کہ بیماری کی حالت میں انسان کمزورو عاجز ہو جاتا ہے اور اعمال صالحہ کو اس طرح انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا جس طرح صحت و تندرستی کیحالت میں انجام دے سکتا ہے۔

اگر انسان کو فراخی وآسودگی اور خو شحالی کی حالت نصیب ہو تو اسے بھی غنیمت سمجھنا چاہیے اور الله تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ اس نعمت او رموقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے او راپنی اخروی فلاح وبہبود کے لیے غنیمت جاننا چاہیے، عبادات مالیہ ، صدقات وخیرات اور الله تعالیٰ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنا چاہیے، قبل اس کے کہ یہ دولت چھن جائے یا موت کا پنجہ اس کوانسان کے ہاتھ سے جداکر دے کہ ہر کمالے را ز والے۔

فراغت بھی الله تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے او راس سے انسان کو نفع اٹھانا چاہیے، امور خیر میں خرچ کرنا چاہیے ، فارغ اوقات میں طاعات وعبادات کو بجالانا چاہیے اور آخرت کے لیے پونجی جمع کرنی چاہیے، کیوں کہ مشاغل وتفکرات کے ہجوم میں انسان یا تو طاعات کو انجام ہی نہیں دے سکتا اور اگر انجام دے بھی سکے تو وہ دل جمعی جو فراغت میں حاصل ہوسکتی ہے وہ تفکرات ومشاغل کے ہجوم میں حاصل نہیں ہوسکتی۔ فارغ البالی زندگی میں ایسا موقع اور حالت ہوتی ہے جسے خیر کے کاموں میں زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے اس سے دنیا وآخرت دونوں جہانوں کے فوائد وثمرات کو سمیٹا جاسکتا ہے۔

زندگی الله تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور دنیا کو الله تعالیٰ نے”مزرعة الآخرة“ یعنی آخرت کی کھیتی بنایا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں جو بوئے گا آخرت میں اس کا پھل ضرور پائے گا، لہٰذا دائمی سعادتوں کے حصول کے لیے زندگی کے اوقات ولمحات کو عبادات وطاعات میں خرچ کرنا چاہیے، الله تعالیٰ کے احکامات کو بجالاناچاہیے،حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسوہٴ حسنہ پر عمل کرنا چاہیے، دنیا میں انہماک سے اجتناب کرنا چاہیے اور اخروی زاد راہ کی تیاری کرنی چاہیے۔

الله تعالیٰ ہمیں زندگی، صحت،جوانی، فراغت اور خوش حالی کو امور خیر میں صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.