جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حضرت شیخ یونس صاحبؒ کی کہانی، خود ان ہی کی زبانی

ترتیب وپیشکش: محمد حماد کریمی ندوی
ناظم المعہد الاسلامی العربیہ، مرڈیشور، بھٹکل

حق تعالی شانہ نے اپنے آخری دین ِمتین کو حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم پر نازل فرماکر اسے قیامت تک کے لیے محفوظ فرمانے اور اعدائے دین کی شرپسندیوں سے بچانے کا خود ہی وعدہ اور انتظام فرمادیا ہے، چناں چہ ارشادِ ربانی ہے: ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ﴾ (سورہٴ حجر:9) ترجمہ: ”ہم نے یہ نصیحت نامہ اتارا ہے، اور ہم نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔“ اور ارشاد ہے: ﴿یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِأَفْوَاھِھِمْ، وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرَہ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ﴾ (سورہٴ توبہ:32) ترجمہ: ”یہ اپنے پروپیگنڈہ اور زبانی مہم کے ذریعہ اللہ کی روشنی بجھا دینا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنی روشنی کو مکمل کر کے رہے گا، چاہے ان منکروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔“ اور اسی دین متین کی تشریح احادیث رسول صلی الله علیہ وسلم ہیں، جن کے بارے میں فرمایا گیا کہ: ﴿اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ﴾ (سورہٴ قیامہ: 19) ترجمہ: ”پھر اس کی وضاحت وتفسیر بھی ہماری ذمہ داری ہے“۔

البتہ اسبابِ ظاہری کے طور پر اس کی حفاظت کا کام اپنے بندوں سے لیا، چناں چہ قرآن کریم کے الفاظ وحروف اور اس کو صحت سے پڑھنے کا التزام حفاظ وقرائے کرام سے کروایا اور اس کے معانی کی حفاظت مفسرین کرام سے اور احادیث رسول صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت محدثین ِ عظام سے اور دونوں سے معانی واحکام کا استنباط فقہائے کرام سے کروایا۔

حفاظت کے دو طریقے ہیں:1.. حفظ  2.. کتابت۔

چناں چہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے شاگردوں کی پہلی جماعت، یعنی صحابہ کرام اور پھر درجہ بدرجہ خیر القرون کے حافظے اس قدر قوی تھے کہ جو سنتے مِن وعن وہ محفوظ ہوجاتا اور پھر انہیں حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ اس قدر محبت وعشق تھا کہ آپ کی ہر ہر ادا اور کیفیت ِ بیان تک کو محفوظ رکھا اور پھر اپنے تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ اگلوں تک بھی پہنچادیا، اور اس کا خود رسو ل صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا، چناں چہ ارشاد ہے: ”اَٴلاَ فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ مِنْکُمُ الْغَائِبَ“․ اور ارشادِ نبوی ہے: ”نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَاًٴ سَمِعَ مَقَالَتِیْ، فَحَفِظَھَا، وَوَعَاھَا، وَاَٴدَّاھَا کَمَا سَمِعَ، فَرُبَّ مُبَلِّغٍ أَوْعَی لَہُ مِنْ سَامِعٍ“ پھر جب حفظ میں کمزوری آنی شروع ہوئی تو اس کی جگہ کتابت نے لے لی اور کتابت حدیث بھی خود رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے دور سے ثابت ہے اور آج تک اس کا تعامل جاری ہے۔

اب ممکن تھا کہ کوئی فضائل کی تحصیل کے شوق میں ہر رطب ویابس روایت کرنا شروع کردے، جس سے خلل فی الحدیث واقع ہو تو اس کا سد باب ﴿یٰأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا﴾(سورہٴ حجرات:6) ترجمہ: ”اے ایمان والو!اگر تمہارے پاس کوئی غیر متقی کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو“ کے عام حکم سے اور (مَنْ کَذَبَ عَلَیََّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّاْٴ مَقْعَدَہُ مِنَ االنَّارِ) کے خاص حکم سے کردیا، جس کی وجہ سے ائمہ جرح وتعدیل اور محدثین ِ کرام نے وضع حدیث کے تمام راستوں کو بند کردیا اور چودہ صدی گذرنے کے باوجود آج بھی صحیح وضعیف اور موضوع ومکذوب روایات میں امتیاز سہل ہوگیا۔

الحمد للہ ہر صدی میں ایسے اصحاب الجرح والتعدیل اور محقق علمائے محدثین موجود رہے اور نہ صرف عرب اور اسلامی ممالک میں، بلکہ عجم وہند میں ایسے علماء کثیر تعداد میں رہے ہیں، جنہوں نے محنت کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا۔

ماضی قریب میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری اور ان کے بعض تلامذہ ، اسی طرح حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی اسی شان کے محدثین میں سے تھے۔

عہدِ حاضر میں حضرت مولانا شیخ محمد یونس صاحب جون پوری اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی تھے۔

(ماخوذ باختصار، ازعرض مرتب بر کتاب الیواقیت الغالیة، بقلم: محمد ایوب سورتی، ص:15 و16)

مولانا ایشیا کے عظیم الشان ادارہ جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کی مسندِ درس پر تقریباً چالیس سال فائز رہے اور ہزاروں تشنگانِ علم ومعرفت کی پیاس بجھاتے رہے۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب  نے اپنی حیات ہی میں آپ پر اعتماد فر ما کر بخاری شریف کی تدریس کی خدمت آپ کے سپرد فرمادی تھی، پھر کچھ دن کے بعد بیعت وارشاد کی بھی اجازت مرحمت فرمادی تھی۔

بر صغیر میں بخاری شریف کا درس معیارِ فضل وکمال ہی نہیں، بلکہ علم وفضل اور تقدیس وپاکیزگی کا بھی امین سمجھا جاتا ہے، آپ کی ذاتِ گرامی یقینا فضل وکمال، علم وعمل، تقوی وطہارت، صبر وقناعت، توکل ورضا، خوف وخشیت اور انابت الی اللہ کی ایک جامع ومکمل تصویر تھی۔

تمام علوم وفنون میں آپ کو مرجعیت کا مقام حاصل تھا، خصوصاً علم ِ حدیث میں تو آپ ہندستان وایشیا ہی میں نہیں، بلکہ پورے عالم ِ اسلام میں اس وقت سند کا درجہ رکھتے تھے بہت سے علماء ومحدثین مختلف مقامات سے حاضر خدمت ہوتے رہتے تھے، اور آپ سے حدیث کی سند حاصل کرتے تھے، نیز اپنے علمی اشکالات پیش کرکے ان کا حل طلب کرتے تھے اور یہاں آکر انہیں تشفی ہوجاتی تھی، بہت سے علمائے عرب بھی آپ سے مراجعت کرتے تھے اور بہت سے حدیث سے شغف رکھنے والے آپ سے سند حاصل کرنے کو اپنے لیے باعث فضل وکمال سمجھتے تھے۔

دیگر علوم وفنون کے مقابلہ میں حدیث کا علم غیر معمولی ہے، اس میں ان تمام روات کے احوال سے باخبر ہونا ضروری ہے، جن کے ذریعہ یہ علم پہنچا ہے، پھر ان لکھوکھا افراد کی زندگی کی تفصیلات، ان کا مزاج ومذاق، ان کا کردار، معاصرین کا ان کے بارے میں خیال کہ وہ ثقہ یا کامل الضبط ہیں یانہیں وغیرہ، یہ خود ایک مستقل فن ہے۔

اس فن پر آپ کی گرفت تھی، یہ فضلِ الہٰی اور امتیازی خصوصیت ہے، جو حق تعالی شانہ کی طرف سے آپ کو ودیعت کی گئی تھی، متن ِ حدیث، سند ِ حدیث اور حدیث کے مقتضیات ومطالبات اور اس کے معانی ومفاہیم پر نہ یہ کہ آپ کو گرفت تھی، بلکہ بفضل ایزدی اس کا القاء ہوتا تھا، آپ کی تحقیقات، روایت ودرایت پر نقد، وسعتِ مطالعہ اور متقدمین ومتاخرین کی کتابوں پر بھرپور نقد وتبصرہ اور علامہ ابن حجر عسقلانی جیسے جبل العلم فی الحدیث کے مسامحات کا تذکرہ، یہ وہی شخص کرسکتا ہے جس نے پوری بصیرت، انہماک، عشق کے سوز اور مجتہدانہ فراست کے ساتھ پورے ذخیرہ ٴ احادیث کو کھنگال ڈالا ہو۔

دراصل ابتداہی سے آپ نے علم حدیث کے ساتھ اشتغال رکھا، آپ خود فرماتے تھے کہ اگر مجھے کسی سے کچھ پیسے میسر آجاتے تو ان سے حدیث کی کتابیں خرید لیتا، اب آپ کی قیام گاہ پر اپنا ذاتی علم حدیث کا اتنا بڑا کتب خانہ ہے کہ شاید ہی برصغیر میں کسی کے پاس ہو۔

آخری دور میں تو آپ نے عوام وخواص سے کچھ ملنا جلنا بھی شروع کردیاتھا اور آپ کی خدمت میں جو حاضر ہوتے ، ان کی اصلاح وتربیت، تزکیہٴ روحانی اور ان کی اخلاقی حالت پر توجہ فرماتے تھے، ورنہ اس سے قبل تو آپ نے اپنے آپ کو درس ومطالعہ کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

آپ کو صرف فن حدیث ہی پر مکمل گرفت نہیں، یہ تو آپ کی امتیازی خصوصیت تھی، بلکہ دیگر علوم وفنون، صرف ونحو، عروض ومعانی، نقد وبلاغت، منطق وفلسفہ، کلام وعقائد، زبان وادب، فقہ وتفسیر وغیرہ پر بھی مکمل درک تھا۔

آپ نے ابتدا میں حدیث کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں پڑھائی ہیں اور ان فنون کا حق ادا کیا ہے، اس کے علاوہ تاریخ وجغرافیہ، سیر وسوانح، اور قوموں وملکوں کے حالات پر بھی آپ کی گہری نظر تھی، جب بھی مجلس میں کوئی موضوع زیر بحث آجاتا اس پر سیر حاصل مواد میسر ہوتا تھا۔

بر ِصغیر، مشرق ِوسطی، عالم ِ اسلام اور دنیا کے حالات پر آپ کی گہری نظر تھی، کسی بھی گوشہ میں جو حالات پیش آتے تھے ، ان پر آپ کا دل دھڑکتا اور بے چینی محسوس کرتا تھا۔

خلاصہ یہ کہ حق تعالی نے آپ کو بے شمار خصائص وامتیازات عطا فرمائے تھے، ملت کو آپ کی ذات سے نفع ِ کثیر حاصل ہورہا تھا۔(ماخوذ باختصار، الیواقیت الغالیہ، و:21 تا 24)

آپ کے حالات زندگی آپ ہی کے دست مبارک سے”ایک خود نوشت مرقع“ کے نام سے لکھے ہوئے ہیں، اسی کی تلخیص پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔

ایک خود نوشت مرقع
اسم گرامی: محمد یونس
ولادت:تاریخ پیدائش :صبح ۷/بجے بروز دوشنبہ 25 / رجب 1355ھ 2/اکتوبر 1937ء ۔

طفولت وتعلیم
ابتداء ً جب عمر چھ سات سال کے مابین ہوئی، اپنے شوق سے ایک مکتب میں جانا شروع کیا، جس کی صورت یہ ہوئی کہ والدہ مرحومہ کا تو انتقال ہو گیا تھا، جب کہ میری عمر5سال 10 ماہ کی تھی ،نانی کے پاس رہتا تھا ، وہ چھوٹے مامو ں کو مکتب جانے کے لیے مار رہی تھی، میرے منھ سے نکل گیا کہ ہم بھی پڑھنے جائیں گے ، اسی وقت کھاناپک گیا اور ڈیڑھ میل پر ایک مکتب تھا، جہاں بڑے ماموں کے ساتھ بھیج دیے گئے، مگر راستہ میں تھک گئے تو ماموں نے کاندھے پر اٹھایا ، تھوڑی دور چل کر اتار دیا، اسی طرح کبھی اٹھا لیتے اور کبھی اتار دیتے ، سارا راستہ قطع ہوگیا، مگر بچپن کی وجہ سے پڑھنا نہیں ہو سکا ، صرف کھیل کود کام تھا ، پھر ایک اور مکتب میں بیٹھے ، وہاں کچھ قاعدہ بغدادی پڑھا ، ماموں صاحب نے پڑھنا چھوڑ دیا تو ہمارا پڑھنا بھی چھوٹ گیا۔

پھر کچھ دنوں بعد ایک پرائمری اسکول ہمارے گاوٴں میں قائم ہو گیا، اس میں جانے لگے، درجہ دوم تک وہاں پڑھا، پھر درجہ سوم کے لیے مانی کلاں کے پرائمری اسکول میں داخلہ لیا، سوم پاس کر نے کے بعد والد صاحب نے یہ کہہ کر چھڑا دیا کہ انگریزی کا دور نہیں اور ہندی میں پڑھانا نہیں چاہتا ۔

ایک دلچسپ قصہ پیش آیا کہ میں اپنے طور پر ہندی کی پہلی کتاب پڑھ رہا تھا، اس میں لکھا ہوا تھا کہ”طوطا رام رام کرتا ہے “، والد صاحب نے جب مجھ کو پڑھتے سنا تو فرمایا :”کتاب رکھ دو ،بہت پڑھ لیا“ ۔

اس کے بعد تقریباً دو سال تعلیم چھٹی رہی ۔

علاقہ کا حال
علاقہ میں عام طور سے جہالت تھی ، لیکن عام طور پر لوگ صحیح العقیدہ اور دین کی طرف مائل تھے۔

میرے نانا مرحوم تو میری والدہ کی ولادت سے غالباً پہلے وفات پاگئے تھے، پھر نانی مرحومہ کی دوسری شادی میرے دادا مرحوم کے بڑے بھائی سے ہوئی، جن کو ہم ساری عمر اپنا نانا سمجھتے رہے اور وہ بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی برتاوٴ کرتے تھے ،وہ بچپن سے نمازی اور دین دار تھے ، عام طور سے برما رہا کرتے تھے ، وہاں کوئی عالم رہتے تھے، جو حضرت حاجی صاحب نور اللہ مرقدہ کے سلسلے میں منسلک تھے ، ان سے اچھا تعلق تھا ، جس کا اثر یہ ہوا کہ ہمارے گاوٴں میں تعزیہ بنتا تھا ، جس میں ہمارے خاندان کے بعض لوگ شریک ہوتے تھے ، سنا ہے کہ دادا مرحوم بھی شرکت کرتے تھے، مگر نانا مرحوم نے ڈھول وغیرہ توڑ ڈالے اور اس بدعت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا۔

والد صاحب تو ہمیشہ ہی بدعت سے دور ہے ، لیکن ایک چیز کوئی بھی بدعت نہیں سمجھتا تھا، وہ مولود شریف اور قیام تھا، حضرت اقدس مولانا عبدالحلیم صاحب کی جب آمدو رفت شروع ہوئی تو ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ ہو گیا۔

مجھے اپنے بچپن کا واقعہ یاد ہے جب میری عمر9،10 سال کی ہوگی ، میں بچوں کے ساتھ مولود کی مجلس کرتا تھا ، ہماری بیل گاڑی تھی، اس پر ہم عمر تین چار بچے جمع ہو جاتے اور ہم سب سے بڑے علامہ سمجھے جاتے اور مولود پڑھتے، اور پڑھتے کیا، صرف کھڑے ہو کر درودو سلام پڑھ لیتے اوراس کے بعد گھروں سے جو کھانا وغیرہ لاتے وہ مل کر سب کھا لیتے اور مجلس برخواست ہو جاتی ۔

اپنے علامہ سمجھے جانے کا ایک دل چسپ قصہ لکھتا ہوں ، میں اپنے گاوٴ ں کے پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا ، نو سال کی عمر ہوگی ، ماسٹر صاحب موجود نہیں تھے، تھوڑی دیر میں دیکھا ایک جنازہ قریب کے قبرستان میں لایا گیا اور اس کو دفن کیا جانے لگا، ہم نے سب لڑکوں سے کہا کہ ہم نے نماز جنازہ نہیں پڑھی، جلدی سب لوگ وضو کر لیں ، سب نے وضو کیا اور ہم نے نماز جنازہ پڑھائی ، نا معلوم کیا ہوا دوبارہ پڑھائی، غالباً سہ بارہ بھی اور یہ سب مکتب میں ہو رہا تھا، جو اس وقت گاوٴ ں سے باہر ایک شخص کی ایک عمارت میں تھا، جہاں ان کے بیل اور مزدور رہتے تھے ۔

بچہ کا خطبہ، بڑے کی امامت
ایک اور دل چسپ قصہ لکھ دوں ، ہمارے گاوٴں میں جمعہ ہوا کرتا تھا، ہم سب سے پہلے غسل کر کے پہنچ جاتے تھے اور خطیب صاحب کی نقل اتارا کرتے تھے ، ایک مرتبہ اتفاق سے خطیب صاحب موجودنہ تھے اور گاوٴں کے بڑے بوڑھے موجود تھے، جن میں میرے نانا بھی تھے، میری عمر9،10سال سے زیادہ نہ ہوگی ، کوئی پڑھا لکھا نہ تھا، صرف قرآن شریف پڑھے ہوئے تھے ، اس کے علاوہ کچھ پڑھ نہیں سکتے تھے، حضرت عمروبن سلمہ الجرمی کی طرح ہم ہی اس وقت سب سے بڑے پڑھے لکھے تھے ، ایک صاحب نے ہمیں حکم دیا :
”چل منبر پر اور خطبہ پڑھ“۔

ہم بے خوف چڑھ گئے اور خطبہ شروع کر دیا ، ایک جگہ تو ذرا اٹک سی ہوگئی، باقی الحمدللہ صاف ہی پڑھا گیا، نماز ایک دوسرے صاحب نے پڑھائی ، ہماری نانی صاحبہ اور دوسرے اعزہ اس سے بہت مسرور ہوئے ، مگر خیال یہ پڑتاہے کہ خطبہ ایک ہی ہوا تھا۔

گاوٴں کاحال
ہمارے گاوٴں سے تین میل کے فاصلہ پر مانی کلاں میں جامع مسجد میں تو حفظ پڑھایا جاتا تھا اور اتنا با برکت درس تھا کہ سینکڑو ں حفاظ پیدا ہوئے ، ہمارے مختصر سے گاوٴں میں جس کی اس وقت کی مسلم آبادی زیادہ سے زیادہ پندرہ مکانات پر مشتمل تھی اس میں چھ حفاظ تھے، وہیں مدرسہ ضیاء العلوم تھا، جس میں ہماری ابتدائی تعلیم ہوئی، ہمارے گاوٴں میں سب سے پہلے اس مدرسہ میں مولوی نور محمد صاحب نے پڑھا، جن سے ہم نے تعلیم الاسلام کے کچھ اسباق پڑھے ، وہ پھر پاکستان چلے گئے ۔

عربی کی تعلیم
پھر تقریباً 13/ سال کی عمر میں مدرسہ ضیاء العلوم قصبہ مانی کلاں میں داخلہ ہوا ، ابتدائی فارسی سے لے کر سکندر نامہ تک اور پھر ابتدائی عربی سے لے کر مختصر المعانی، مقامات وشرح وقایہ و نورالانوار تک وہیں پڑھیں ۔

اکثر کتابیں استاذی مولانا ضیاء الحق صاحب سے اور شرح جامی بحث اسم حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب سے ، مگر کثرت امراض کی وجہ سے بیچ میں طویل فترات واقع ہوتی رہیں ، اس لیے تکمیل کافی موٴخر ہوگئی ۔

پھر یہ بھی پیش آیا کہ ہماری جماعت ٹوٹ گئی ، ہم نے اولاً شرح جامی، شرح وقایہ، نورالانوار مولانا ضیاء الحق صاحب سے پڑھی تھیں، مگر جماعت نہ ہونے کی وجہ سے حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب نے اگلے سال پھر انھیں کتابوں میں داخل کر دیا اور خود پڑھایا ۔

مظاہر علو م میں داخلہ
اس کے بعد شوال 1377ھ میں مدرسہ مظاہر علوم میں بھیج دیا ، یہاں آکر پہلے سال جلالین ، ہدایہ اولین ،میبذی اور اگلے سال بیضاوی ، سلّم ، ہدایہ ثالث ، مشکوة شریف اور تیسرے سا ل یعنی شوال 1379ھ تا شعبان 1380ھ دورہٴ حدیث شریف کی تکمیل کی اور اس سے اگلے سال کچھ مزید کتابیں ہدایہ رابع ،صدرا، شمس بازغہ، اقلیدس، خلاصتہ الحساب ، درمختار پڑھیں۔

مظاہر علوم کی مسند تدریس پر
شوال 1381ھ میں معین المدرس کے عہدہ پر تقرر ہوا ، وظیفہٴ طالب علمی کے ساتھ سات روپیہ ماہانہ ملتا تھا، شرح وقایہ اور قطبی زیر تعلیم وتدریس تھیں ، اگلے سال بھی یہی کتابیں رہیں اور وظیفہ ۱۰ روپے ماہانہ ہوگیا، اس سے اگلے سال تیس روپے خشک (یعنی بلا طعام)پر تقرر ہوا اور مقامات وقطبی سپرد ہوئیں اور اس سے اگلے سال یعنی چوتھے سال شوال1384ھ سے ہدایہ اولین ، قطبی و اصول الشاشی زیر تدریس تھیں ۔

درس حدیث
اسی سال ذی الحجہ1384ھ میں حضرت استاذی مولانا امیر احمد صاحب نوراللہ مرقدہ کا انتقال ہوجانے کی وجہ سے مشکوة شریف استاذی مفتی مظفر حسین صاحب کے یہاں سے منتقل ہو کر آئی، جو باب الکبائر سے پڑھائی ، پھر آئندہ سال شوال 85ھ میں مختصر المعانی ، قطبی ، شرح وقایہ ، مشکوة شریف مکمل پڑھائی اور شوال 87ھ میں ابو داود شریف ونسائی شریف ونور الانوار زیر تعلیم رہیں اور شوال 87ھ سے مسلم شریف ، نسائی وابن ماجہ وموطئین زیر درس رہیں ۔

شیخ الحدیث کے منصب پر
اس کے بعد شوال1388ھ میں بخاری شریف ومسلم شریف وہدایہ ثالث پڑھائی ، وللّٰہ الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ ومبارکاً علیہ، اس کے بعد سے بحمد اللہ سبحانہ وتعالیٰبخاری شریف اور کوئی دوسری کتاب ہوتی رہتی ہے ۔

امراض کے باوجود علمی شغل
میں مسلسل بیمار رہا ، مظاہر علوم آنے کے چند دن بعد نزلہ وبخار ہوگیا اور پھر منہ سے خون آگیا ، حضرت اقدس ناظم (مولانا اسعد اللہ) صاحب نوراللہ مرقدہ کا مشورہ ہواکہ میں گھر واپس ہو جاوٴں، لیکن میں نے انکار کر دیا ،حضرت شیخ نور اللہ مرقدہ واعلی اللہ مراتبہ نے بلا کر ارشاد فرمایاکہ: ”جب تو بیمار ہے اور لوگو ں کا مشورہ بھی ہے تو مکان چلا جا“، میں نے عرض کیا جو اب تک یاد ہے ، کہ:”حضرت! اگر مرنا ہے تو یہیں مر جاوٴں گا“حضرت نے فرمایا کہ :”بیماری میں کیا پڑھاجائے گا؟ “میں نے عرض کیا اور اب تک الفاظ یاد ہیں کہ:”حضرت ! جوکان میں پڑے گا وہ دماغ میں اتر ہی جائے گا“اس پر حضرت قدس سرہ نے ارشاد فرمایا کہ ”پھر پڑا رہ“۔

یہ ہے حضرت قدس سرہ سے پہلی بات چیت ، اس کے بعد ہم تو بہت بیمار رہے اور گاہ بگاہ جب طبیعت ٹھیک ہوجاتی تو اسباق میں بھی جاتے رہتے ، انھیں ایام میں حضرت اقدس مولانا عبدالحلیم صاحب  کو اپنی بیماری کاخط لکھا ، مولانا نے جواباً لکھا کہ یہ کیا یقین ہے کہ”خون پھیپڑے سے آیا ہے؟“ اس سے طبیعت کوکچھ سکون ہو گیا ، لیکن سینے میں درد رہا کرتا تھا۔

یہ بات اور بھی لکھ دوں کہ جن ایام میں طبیعت خراب تھی، کبھی کبھی دارالحدیث کے شرقی جانب بیٹھ کر حضرت اقدس نوراللہ مرقدہ کا درس سنتا اور سوچا کرتا تھا کہ نامعلوم ہم کو بھی بخاری شریف پڑھنی نصیب ہوگی یا نہیں ؟ اور رویا کرتاتھا، اس مالک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے توفیق عطا فرمائی اور پڑھنے کی منزل گزرگئی ، اور اللہ تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے پڑھانے کی توفیق بخشی ، حالات کی ناسازگاری سے جس کی توقع بھی نہیں تھی، لیکن سب فضل وکرم ہے۔
        کہاں میں اور کہاں یہ نکہتِ گل
        نسیمِ صبح تیری مہربانی!

امراض کے تسلسل کی وجہ سے شادی کی ہمت ہی نہ ہوئی اور اب بڑھاپا شروع ہو چکا ، حدود خمسین کے آخری سالوں میں چل رہاہوں ، اب اپنی بیماریوں کی وجہ سے ضرورت محسوس ہوتی ہے، مگر ہوتا کیا ہے؟ وقت گزر گیا ۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کی پہلی زیارت
حضرت نوراللہ مرقدہ کا نام نامی تو مدرسہ ضیاء العلوم میں اپنے اساتذہ اور خاص طو ر سے استاذی حضرت اقدس مولانا عبد الحلیم صاحب سے سنا، پھر جب سہارن پور بغرض تکمیل حاضر ہوئے تو حضرت نوراللہ مرقدہ کی زیارت ہوئی ، سب سے پہلی زیارت کی شکل یہ ہوئی کہ میں کسی ضرورت سے مدرسہ کے دفتر میں گیا تو حضرت نوراللہ مرقدہ کو دیکھا ، ایک سادہ کرتا پہنے ہوئے تھے، جس کا رنگ زرد تھا، غالباً ڈو ریا کا ہوگا، لیکن بات چیت نہیں ہوئی ، بات چیت تو بیماری کے وقت ہوئی ، اس کی ابتدا میں تردد ہے کہ پہلے وہ واقعہ پیش آیا جو اولاً لکھا گیا یا دوسرا واقعہ جو لکھ رہا ہوں ۔

”وہ تو بہت پکا تھا تو تو بہت کچا ہے “
ہمیں جذبہ پیدا ہوا کہ حضرت نوراللہ مرقدہ سے دعا کروانی چاہیے ، حضرت مغرب کے بعد طویل نوافل پڑھتے تھے، ہم بیٹھ گئے ، ایک صاحب نے غالباً بیعت کی درخواست دے رکھی تھی ، حضرت نو راللہ مرقدہ نے سلام پھیرا اور فارغ ہو کر فرمایا : ”آبھائی “۔

ہم نے سمجھا کہ شاید ہمیں بلا رہیں ، ہم آگے بڑھ گئے ، حضرت نے فرمایا : ”تو نہیں “ ہم بلبلاکر رو پڑے۔

بہر حال پہلے حضرت نوراللہ مرقدہ نے ان صاحب کی ضرورت پوری کی، اس کے بعد احقر کا ہاتھ پکڑا اور ساتھ لے کر کچے گھر چلے اور حال پوچھتے رہے اور بیماری کا تذکرہ کرتے رہے ، حضرت نے پوچھا کہ :”تو کہاں سے پڑھ کر آیا ہے؟“

میں نے عرض کیا ”مدرسہ ضیاء العلوم مانی کلاں “ سے۔

حضرت قدس سرہ نے فرمایا :”کس سے پڑھا؟“

عرض کیا ”حضرت مولانا عبد الحلیم صاحب سے “فرمایا:”وہ تو بہت پکا تھا، تو تو بہت کچا ہے“۔

اس کے بعد حضرت نے برف کا ٹھنڈا پانی، جس میں عرق کیوڑہ ملا ہوا تھا، نوش فرمایا اور کچھ بندہ کے لیے بچا دیا ، مگر زیادہ آنا جانا نہیں رہا ۔

دستر خوان پر اکرام
اصل جان پہچان اس وقت ہوئی جب بندہ کا قیام دفتر میں ہو گیا۔

رمضان شریف میں میں اپنی سحری الگ کھا لیتا تھا، ایک رات خواب دیکھا کہ مولانا اکرام الحسن صاحب مرحوم والد ماجد حضرت مولانا انعام الحسن صاحب بندہ کی طرف متوجہ ہیں اور کچھ بات کر رہے ہیں ، اسی رات سحر ی میں حضرت نے بلوایا اور جب کوئی اکرام کی صورت ہونے والی ہوتی تو مولانا اکرام صاحب کو دیکھا کرتے تھے، بہر حال حضرت نو راللہ مرقدہ نے بلواکر فرمایا کہ:
”مجھے معلوم ہوا کہ تو تنہا ہی سحری کھا لیتا ہے ، دیکھ ! سحری ہمارے ساتھ کھا لیا کر اور اپنی سحری مولوی نصیر کو دے دیا کر “ اور پھر فرمایا : ”سحری کھالی؟“

میں عرض کیا جی ہاں ، فرمایا: ”اور کھائے گا؟“ عرض کیامیں کھا چکا ہوں ، فرمایا : ”اور کھانے پر بھی تو کھایا جاوے“ہم بیٹھ گئے، اس کے بعد روزانہ حضرت نوراللہ مرقدہ کے دسترخوان پر سحری میں حاضر ہو جاتے ، اس زمانہ میں حضرت کے یہاں سحری میں پلاوٴ کے ساتھ گھی لگی ہوئی روٹیوں کا دستور تھا ، حضرت نوراللہ مرقدہ نے ایک مرتبہ پو چھا :”گھی چپڑی روٹی مل گئی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں ! حضرت نے پوچھا ”کتنی آئی؟میں نے عرض کیا: ایک، حضرت نے دوسری سر کادی ، اس کے بعد سے ہمارے لیے دوکا دستور ہو گیا ۔

دلچسپ بحث
ایک مرتبہ دیر سے پہنچا اور حضرت نو راللہ مرقدہ سے ایک بحث بھی کی ، جس کا افسوس اب تک ہے ۔

حضرت نے پہنچتے ہی فرمایا کہ ”خالی جگہ نہیں ! بیٹھ جا “ میں نے کہا بیٹھ کر کیا کروں گا ؟ فرمایا: ”قل ھو اللہ پڑھ کر ایصال ثواب کر “میں نے پوچھا کسے؟ فرمایا :”مجھ کو“ عرض کیا زندوں کو ؟” تونے مشکوة شریف نہیں پڑھی؟“ عرض کیا پڑھی تو ہے ، فرمایا ”مسجد عشّا ر والی روایت نہیں پڑھی ؟“ عرض کیا: پڑھی تو ہے ، پوچھا کہ ”کہاں ہے ؟ “ میں نے عرض کیا مشکوة کتاب الفتن میں، (یہ روایت مشکوة، کتاب الفتن میں باب الملاحم کی فصل ثانی میں ہے )۔ حضرت نو ر اللہ مر قدہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا مولا نا سید سلیمان ندوی اس حدیث پر میرے معتقد ہو گئے ، فرمایا: ”ایک مرتبہ سید صاحب تشریف لائے، انھوں نے یہ حدیث معلوم کی ، میں نے کہا: ابو داود میں ہے ، سید صاحب نے پوچھا کہ کہا ں ہے ؟ میں نے کہا : کتاب الملاحم میں اور پھر کتاب منگوا کر دکھا بھی دی ۔

تزکیہ کی طرف عدم التفات
ابتداء ً بالکل بچپن میں تو طبیعت کا رجحان تھا، لیکن بعد میں بعض وجوہات سے یہ خیال نکل گیا اور یہی نہیں بلکہ کچھ اس کی اہمیت ہی نہیں رہی ، حضرت عبدالحلیم صاحب مرحوم نے بعض خطوط میں ناراضگی کا اظہار بھی کیا اور لکھا :”تزکیہ ضروری ہے“۔

لیکن اس وقت کتابوں کی طرف غیر معمولی رجحان تھا، ادھر بالکل التفات ہی نہیں ، بلکہ ایک مرتبہ جب حضرت نوراللہ مرقدہ اپنے دارالتصنیف میں تشریف فرما تھے اور میں حسب معمول حاضر ہو ا، تو تھوڑی دیر کے بعد سوال کیا، کیا بیعت ہونا ضروری ہے ؟ حضرت نوراللہ مرقدہ نے ارشاد فرمایا :”بالکل نہیں “۔

پھر ایک زمانہ گزر گیا ، بہت سے لوگ بیعت کی طرف توجہ دلاتے تھے ، جیسے مولانا منور حسین صاحب ، مولانا عبدالجبار صاحب اور بعض اصرار کرتے تھے، جیسے صوفی انعام اللہ صاحب ،مگر کچھ التفات ہی نہ تھا ۔

بیعت میں انقیاد ضروری
اچانک رمضان المبارک 1386ھ کے عشرہٴ اخیر میں خیال پیدا ہوا اور بہت زور سے ، حضرت نو راللہ مرقد ہ سے عرض کیا ، حضرت نے فرمایا : ”بیعت میں انقیاد اور عدم تنقید ضروری ہے ، استخارہ کر لے “۔

میں نے عرض کیا: حضرت! میں نے دعا کی ہے، اس زمانہ میں اپنی دعا پر بڑا اعتماد تھا، مگر حضرت نے فرمایا کہ : ”استخارہ کم از کم تین مرتبہ او ر رات گزرنا اور سونا ضروری نہیں ہے “۔

منامی بشارت
تیسرے استخارہ میں خواب دیکھا، مولانا اکرام صاحب فرما رہے ہیں کہ ”مدرسہ قدیم آجاوٴ، آباد ہو جائے گا“۔

ہمارا قیام اس زمانہ میں دارالطلبہ قدیم میں ہو چکا تھا ، حضرت نے سن کر فرمایا : ”یہ خواب امید افزا ہے “۔

خصوصی بیعت
ایک دن رمضان میں ظہر بعد اپنے خلوت خانہ میں طلب فرما کر بیعت فرمایا۔

میں نے اس سے پہلے عرض کیا تھا کہ حضرت! جب عمومی بیعت ہوتی ہے میں بھی سب کے ساتھ شامل ہو جاوٴں گا ، مگر حضرت نوراللہ مرقدہ نے انکار فرمایا ۔

ایک بات یہ بھی لکھ دوں کہ اس وقت بعض ایسے مشا ئخ ِ کبار حیات تھے جن سے بندہ کو بہت عقیدت تھی، لیکن بیعت میں حضرت نور اللہ مرقدہ ہی کی طرف طبعی رجحان تھا اور عقلاً بھی رجحان تھا، نیز یہ بھی کہ حضرت استاذ تھے اور پھر قریب بھی تھے۔

قیمتی نصائح
ہر وقت پاس رہنا تھا، اس لیے خط و کتابت تو ہوتی نہیں تھی ، بعض اوقات یونہی بعض پرچے مدینہ طیبہ سے بھجوائے، ان میں بعض نصائح لکھیں اوربعض اوقات زبانی نصائح کیں :

ایک گرامی نامہ میں لکھا :”جہاں تک ہو سکے اکا بر کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنا اور ظاہر سے زیادہ باطن میں “۔

تیسرے سال بلڈ پر یشر کی تکلیف پر تحریر فرمایا:”ایک بات کا خیال رکھیو کہ اگر بیماری میں زبانی معمولات نہ ہوسکیں، تو قلب کو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھیو اور زبانی معمولات میں درود شریف کو مقدم رکھیو، میں نے درود شریف کے بہت فوائد دیکھے ہیں “۔

اور یہ تو کئی مرتبہ نصیحت کی :”کبر سے پورا اجتناب کرنا اور اپنی نا اہلی پیش نظر رہے ، اگر کوئی کہے تو اس پر طبعی اثر غیر اختیار ی چیز ہے ، لیکن برانہ ماننا چاہیے“۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ عقلاً یہ خیال ہو کہ ہم تو بہت گندے ہیں ، نہ معلوم کتنے عیوب ہیں، اس لیے عقلاً برانہ مانے ، واللہ اعلم ۔

ایک خط میں نے لکھا تھا کہ ایک طالب علم بہت اصرار کرتا ہے کہ بیعت کر لو ،حضرت نو راللہ مرقدہ نے تحریر فرمایا : ”ضرور کر لو، سلسلہ چلانے کے لیے بیعت تو ضرور کرنا ، مگر اپنی نااہلیت کا استحضار رہنا چاہیے ، اگر نہ کرو گے تویہ سلسلہ بند ہو جائے گا، جو سلسلہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے چلا آرہا ہے “ ( یہ خط اسٹینگر جنوبی افریقہ سے لکھوایا تھا)۔

ایک خط میں لکھوایا تھا: ”مدرسہ کے مال میں بہت احتیاط کرنا“۔

مرکز نظام الدین دہلی میں جب حضرت نور اللہ مرقدہ سے ملاقات ہوئی، تو بالکل خلاف توقع معانقہ فرمایااور فرمایا کہ:”اخلاص سے کام کرنا“۔

آخری خط جو 12/اپریل 82ء کا تحریر کردہ ہے، اس میں میرے ایک خط کے جواب میں لکھا،جس میں میں نے اپنے امراض کی شدت اور خواب میں اموات ومقابر دیکھنے کا تذکرہ کیا تھا، لکھا کہ:”اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے مجھے اور تم کو دونوں کو حسن خاتمہ کی دولت سے مالا مال کرے،ہر وقت اپنے عمل سے ڈرتے رہنا چاہیے، اگر چہ مالک کا کرم بڑا ہے، اس کے کرم ہی کا سہارا ہے، پھر بھی استغفار کثرت سے کرتے رہنا چاہیے“۔

مقرباں رابیش بود حیرانی
بھائی! ہم تو حضرت نور اللہ مرقدہ کے سب سے نالائق شاگرد اور ناکارہ وکم فہم مرید تھے اور پھر مدرسہ کے متعلق معاملات پڑتے تھے، اس میں کثرت سے ڈانٹ پڑتی تھی اور پھر حضرت نور اللہ مرقدہ ویسے ہی ہوجاتے تھے جیسے پہلے۔

ہاں! ایک آدھ مرتبہ بعض حضرات نے حضرت کو بہت ہی مکدر کردیا، لیکن معاملہ کسی اور ذات کے حوالہ تھا، اللہ تعالیٰ نے پھر صفائی کرادی ہے۔

اور ہمارا مزاج یہ تھا کہ فضول ہم کسی کام میں پڑتے نہیں، اس لیے جب اپنا کام بن جاتا تو پیچھے نہیں پڑتے تھے۔

ایک عجیب قصہ مجمل لکھتا ہوں، لکھنے کے لیے نہیں۔

بعض حضرات نے شکایت کرکے حضرت کو مکدر کردیا،حضرت ایک رمضان میں رنجیدہ رہے،رمضان تو گزر گیا، اس کے بعد ہم نے ایک پرچہ لکھا، جس میں معافی مانگی اور یہ لکھ دیا کہ”اگر کوئی کام ہو تو میرے حجرہ میں بھجوادیا جائے، مجھے سردی بہت لگتی ہے“۔

حضرت بہت خوش ہوئے اور کئی باردعوت کی اور رمضان شریف میں جن بعض حضرات نے فقرے کسے اور ستایا وہ آئے اور شرمندہ ہوئے، ہم نے اپنے دل میں کہا کہ ہم حضرت کے شاگرد وخادم ہیں، آپ حضرات کو ان قصوں میں نہ پڑنا چاہیے، اس کے بعد سے وہ صاحب تو ہمیشہ کے لیے بحمد اللہ خاموش ہوگئے۔

عطایا کی بارش
بارہا حضرت نے روپے دیے،84ھ کے حج میں جاتے ہوئے پچاس روپے دیے تھے، اس کی نصب الرایة خرید لی،حج سے آکر پوچھا کہ:”میں نے چلتے ہوئے تجھے روپے دیے تھے کچھ تیرے کام آئے؟“میں نے عرض کیا کہ میں نے نصب الرایہ خریدلی، تو فرمایا کہ:”اس کے لیے تو عمر پڑی تھی“۔

مقصد یہ تھا کہ دوسری ضروریات میں خرچ کرتے،”لامع الدراری“ کے ختم پر تین سوروپے دیے، جس کی ہم نے ”مرقاة المفاتیح“ منگوائی اور متفرق اوقات میں دیتے رہے،کبھی تیس،کبھی پچاس، اکثر پچاس اور بذل المجھود مکمل،لا مع الدراری مکمل،أوجز المسالک مکمل، جزء حجة الوداع والعمرات اور مختلف رسائل دیے اور جب بندہ کی حاضری مدینہ طیبہ میں ہوئی تو فرمایا کہ”میری کتابوں میں جو پسند ہولے جا“وہاں اس وقت اردو کتابیں تھیں،ایک کتاب”اللوٴلوٴوالمرجان فیما اتفق علیہ الشیخان“ تھی، وہ ہم نے لے لی،حضرت نے اس کے بعد ایک کتاب بھجوائی”أبوھریرة فی ضوء مرویاتہ“، تالیف ضیاء الرحمن الأعظمی، اس میں حضرت ابوہریرہکی دوسوروایتیں جمع کرکے اس کے طرق وغیرہ پر کلام کیا گیا ہے اور مستشرقین نے جوحضرت ابوہریرہ کی کثرت روایت پر شکوک وشبہات کیے ہیں ان کی تردید کی ہے اور تصوف سے متعلق حضرت کی جتنی تالیفات ہیں، یا صوفی اقبال صاحب نے لکھی ہیں، تقریباً سبھی عطا فرمائیں، اور بعض تو باربار بھجوائی۔

ذکر کی تجویز میں توارد
حضرت نور اللہ مرقدہ سے بیعت تو ہوگیا، لیکن ذکر پوچھنے کی ہمت ہی نہ ہوتی،اپنے امراض کی وجہ سے یہ سمجھتا رہاکہ میرے بس سے باہر ہے اور نہ حضرت نے بیعت کے وقت کچھ فرمایا، ایک مرتبہ رمضان میں از خود اپنے لیے ایک نصاب مقرر کرلیا، یعنی تین تسبیح لا الہ الا اللہ کی اور پانچ تسبیحات اللہ اللہ کی،اس کے بعد جب چندروز بعد غالباً عشاء کے بعد حاضر ہوا تو حضرت نے فرمایا:”ذکر کرلیا کرو“اور مذکورہ بالانصاب بتایا،بس میں تو سمجھتا ہوں کہ اعتکاف میں حضرت کے ساتھ تھا، حضرت کے مبارک قلب کا اثر پڑا، جو خود ایک نصاب مقرر کرلیا اور حضرت نور اللہ مرقدہ نے وہی بتلایا، پھر معلوم ہوا کہ حضرت مشغول حضرات کو یہی نصاب بتاتے تھے۔

معمولات میں اضافہ
کچھ دنوں کے بعد حضرت کے بعض ارشادات کی بنا پرتھوڑا تھوڑا اسم ذات کا اضافہ شروع کیااور سترہ سوتک پہنچا دیا، لیکن حضرت نے کم کرنے کو فرمایااور فرمایا: اسم ذات ایک ہزار رکھو، یہی اب تک معمول ہے، پاسِ انفاس کا حکم بار بار دیا اور مراقبہ دعائیہ بھی بتایا،بس جیسے ہم ہیں ویسا ہی ہمارا ذکر،حضرت کے زمانہ میں اور اب بھی نفی واثبات واسم ذات کا تو معمول ہے،الایہ کہ مرض یا کوئی شدید مانع ہو باقی اور چیزیں کبھی ہوگئیں، کبھی نہیں۔

ایک مرتبہ ایک گرامی نامہ میں تحریر فرمایا،جب کہ میں بہت بیمار ہوگیا تھا کہ:”دل سے ہر وقت اللہ کی طرف متوجہ رہے“یہ بھی لکھ دوں کہ زیادہ مجاہدہ میرے بس کا نہیں تھا اور نہ ہے، ایک مرتبہ رمضان شریف میں حضرت سے عرض کیا کہ: ”حضرت!یہ رات بھرکی بیداری میرے بس کی نہیں“تو فرمایا:”سب کو اس کی ضرورت نہیں“۔

ایک مرتبہ اعتکاف میں خواب دیکھا کہ حضرت لوگوں کو کچھ تقسیم فرما رہے ہیں،میں اگلے روز حاضر ہوا، خواب عرض کیااور عرض کیا: ”حضرت!اگر بیداری کرنے والوں کو ملے گا تو ہم محروم ہوجائیں گے“۔حضرت نے فرمایا:”نہیں انشاء اللہ“، ایک مرتبہ اعتکاف میں بہت بیمار ہوگیا،اس زمانہ میں کچھ ذکر وغیرہ نہیں کرتا تھا،حضرت نے غالباً بھائی ابوالحسن صاحب یا کسی اور سے کہلوایا کہ:”اگر اختیاری مجاہد ہ نہیں کرتے تو اضطراری کرایا جاتا ہے“مگر ہم نے اپنی نالائقی سے کوئی اثر نہیں لیا۔

ناظم صاحب کی طرف سے خلافت
حضرت اقدس مولانا اسعداللہ صاحب(سابق ناظم اعلی مدرسہ مظاہر علوم)نور اللہ مرقدہ نے بروز پنجشنبہ5/ محرم الحرام1396ھ میں ظہر کے بعد اجازت مرحمت فرمائی، جس کا از خود شہرہ ہوگیا،چوں کہ احقر کا بیعت کا تعلق حضرت قطب العالم شیخ الحدیث کاندھلوی ثم المہاجر المدنی نور اللہ مرقدہ سے تھا، اس لیے حضرت ناظم صاحب کی اجازت کے بعد بھی اپنے حضرت نور اللہ مرقدہ سے ہی تربیت کا تعلق رہا اور بحمداللہ بالکل کبھی اجازت کا کوئی خیال بھی نہیں آتا تھا، گواہل اللہ کے ارشاد کی دل میں قدر تھی اور ہے۔

حضرت کی طرف سے اجازت
پھر جب حضرت اقدس نور اللہ مرقدہ رمضان شریف کے لیے مدینہ منورہ سے سہارن پور تشریف لائے تو حسب ِمعمول اعتکاف کیااور رمضان کے بعد شوال میں مجلس شریف میں حسب ِمعمول حاضری ہوتی رہی،غالباً۵/ذی قعدہ تھی ، بروز پنجشنبہ صبح کی مجلسِ ذکر میں حاضر ہوا تو حضرت نور اللہ مر قدہ نے ذکر سے فراغت کے بعد بلوایا اور فرمایا کہ :”تو جمعہ کے دن حاجی شاہ جاتا ہے ؟“ ( حاجی شاہ سہارن پور کا مشہور قبرستان ہے)، عرض کیا حضرت !مجھ کو سردی بہت لگتی ہے ، حضرت نے فرمایا کہ : ”یہاں آ “ اور چارپائی پر بیٹھنے کے لیے فرمایا اور فرمایا کہ :”میرا ارادہ تین چار سال سے تجھے اجازت دینے کا ہے، لیکن تیرے اندر تکبر ہے “، میں خاموش رہا اور الحمد للہ حضرت کے کہنے پر طبیعت پر ذرہ برابر اثر نہیں ہوا ۔

اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ حضرت والا کو حضرت ناظم صاحب کی اجازت کا علم ہو گیا ہوگا ؟ فرمایا کہ ،”ہاں “ میں نے عرض کیا: حضرت میری سمجھ میں بالکل نہیں آیا کہ حضرت ناظم صاحب نے کیوں اجازت دی ؟ حضرت  نے اس پر کیا ارشاد فرمایا یا د نہیں رہا، پھر فرمایا کہ :” تجھے میری طرف سے اجازت ہے “۔

اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ حضرت مجھے کچھ دن پیشتر ایک عجیب حالت طاری ہوئی تھی، جیسے میں اللہ تعالی کے ساتھ ہوں اور نماز سے فراغت پر نقص ہی نقص نظر آتا تھا اور اسی وقت نماز کے بعد استغفار پڑھنے کی حقیقت سمجھ میں آئی اور ایسا ہوگیا تھا کہ اگر کوئی مجھے چار پائی کے سرہانے بیٹھنے کو کہتا تو آنکھوں میں آنسو آجاتے اور ایک مرتبہ ایک جگہ لوگوں نے امامت کے لیے کہہ دیا تو آنسو آ گئے ، لیکن نادا نی سے ایک جملہ کہنے پر ساری حالت جاتی رہی ، میں نے کہہ دیا کہ :”جب آدمی ذکر پر مداومت کرتا ہے تو اس کو ہمہ وقت ایک معیت حاصل ہو جاتی ہے اور اپنی نااہلی کا ہر وقت استحضار ہو جاتا ہے “، اس میں عجب نفس شامل تھا ، بس ساری حالت کافور ہوگئی ۔

حضرت  نے فرمایا :”انشاء اللہ تعالی پھر حاصل ہو جائے گی “، اب تک تو حاصل نہیں ہوئی، لیکن حضرت کی برکت سے امید ہے کہ اللہ تعالی اس ناکارہ روسیاہ پر نظر کرم فرماویں اور دوام حضوری عطا فرمائیں ، اس کے بعد حضرت کے یہاں کچھ مہمان آگئے، حضرت نے فرمایا :”ان کے ساتھ بیٹھ جا“، ناشتہ سے فراغت کے بعد واپس ہوئے تو مدرسہ قدیم کے دروازہ پر پہنچ کر ایسا معلوم ہوا جیسے سینے میں کوئی چیز داخل ہو گئی ، اس کی تعبیر الفاظ میں نہیں ہو سکتی اور دل میں ذکر کا ایک شدید شوق پیدا ہو گیا اس کے بعد ۔

خواب میں حضرت مدنی کی زیارت
ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ حضرت معتکف میں ہیں اور حضرت مدنی نوراللہ مرقدہ بھی تشریف فرماہیں ، حضرت مدنی کا مصلیٰ بچھا ہوا ہے، میں اس پر آکر کھڑا ہو گیا، حضرت سے اگلے سال عرض کیا: تو ایک مصلیٰ عنایت فرمایا۔

میں تو ہمیشہ سہارن پور ہی رہتا تھا ، ہاں جب پاکستان حاضری ہوئی تو فرمایا : ”اپنی جگہ کام کرنا چاہیے تھا“۔

مصادر ومراجع
الیواقیت الغالیہ (اکثر حصہ اسی کتاب سے ماخوذ ہے)
خود نوشت۔ الیواقیت الغالیہ ہی کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.