جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مقبول جو ہوں شاذ ہیں، قابل تو بہت ہیں
حضرت مولانا ریاست علی بجنوریؒ ۔۔ ایک انسان ساز کی کچھ یادیں

مفتی محمد تبریز عالم قاسمی

دارالعلوم دیوبند بلا شبہ ایک چمن ہے ایک ایسا چمن جس کے پھولوں سے دنیائے علم وعمل میں خوش بو ہے، واقعی ا ِس چمن کا ہر پھول ایک شعلہ اور ہر سرو ایک مینارہ ہے اور واقعة ً اس خاک کے ذرے ذرے سے شرر بیدار ہوتے ہیں اور ایسااِس وجہ سے ہے کہ دارالعلوم دیوبند کی سب سے بڑی شناخت اِخلاص اور تقویٰ ہے، اس کی ظاہری وباطنی تعمیر میں یہی روح کار فرما ہے، اس کے درو دیوار میں بے لوثی اور للہیت کی مہک بسی ہوئی ہے۔

جیسے چراغ کی روشنی کی جہت طے کرنا مشکل ہے، ٹھیک اسی طرح بعض چیدہ شخصیات کی علمی وعملی زندگی کی سمت طے کرنا بعض دفعہ مشکل ہوجاتا ہے، بات اگر علم وہنر کے گہوارے سے تعلق رکھنے والی مقبول اور ہر دل عزیزشخصیت کی ہو تو یہ کام خاصا دشوار ہوجاتا ہے، افلاک کے تاروں سے بلند تر مقام کی حامل شخصیت پر خامہ فرسائی کے لیے آزاد، دریابادی اورشورش جیسے انشا پردازکا قلم درکار ہے، ورنہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کا شکوہ دامن گیر ہوجانا یقینی امر ہے۔

میرے اور مجھ جیسے لاکھوں شاگردوں کے ا ستاذ محترم، مشفق ومکرم حضرت مولانا ریاست علی بجنوری نور اللہ مرقدہ، سابق استاذ ِحدیث وسابق ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند کی نورانی، بافیض، مردم ساز، خدا رسیدہ اور مختلف الجہات شخصیت کا سانحہ ارتحال واقعة ً دارالعلوم دیوبند کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے، اگرچہ ان کی وفات کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند اور کائنات کا نظام مختل نہیں ہوگا، اگرچہ اِس مینارہٴ نور کی تابانی وضو فشانی ماند نہیں پڑے گی؛ لیکن شمس وقمر کی فطری روشنی میں بھی تاریکی کا احساس ختم ہونا دارالعلوم دیوبند سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کے لیے مشکل ضرور ہے، علم وعمل اور شرافت ونجابت کے پیکر، اکابر ِدیوبند کا پرتو، ایک تابندہ علمی شخصیت، جمال وکمال کا مظہر، روایات ِ اکابر کا عنوان، علم وفضل، دانش وبینش اور فکر وتدبر کی علامت، تاج دار ِشعر وادب، اپنے اساتذہ کے علوم کے شارح، علم وادب کا حسین سنگم، دارالعلوم دیوبند کی علمی اور تاریخی روایتوں کے پاسبان، یتیموں اور بیواوٴں کے کفیل، طلبہ کے خیر خواہ کو قلب ودماغ سے نکالنا اور فراموش کرنا ممکن نہیں #
        فروغِ شمع جو اَب ہے، رہے گی رہتی دنیا تک
        مگر محفل تو پروانوں سے خالی، ہوتی جاتی ہے

حضرت الاستاذ مولانا نور عالم خلیل امینی رئیس تحریر مجلہ ”الداعی“ عربی واستاذ ادب ِعربی دارالعلوم دیوبند نے ایک جگہ لکھا ہے: ”کسی بڑے اور اہلِ کمال میں سب سے بڑا وصف اس کی تواضع اور خاکساری ہی ہوسکتی ہے، یہ تمام صفات کی ماں، ساری خوبیوں کی جڑ اور اچھائیوں کا سرچشمہ ہے، اِس کے بغیر ہر بڑائی برائی ہے اور اس کے ساتھ ہر عیب چشم پوشی کے لائق ہے، بڑوں کی بڑائی کے لیے یہ سب سے قیمتی تاج ہے، اگر کوئی بڑا اِس سے عاری ہے تو وہ بڑا ہوہی نہیں سکتا“۔

حضرت الاستاذ مولانا ریاست علی بجنوری نور اللہ مرقدہ کی ذات میں تواضع وخاکساری کی صفت حد درجہ تھی، کیا چھوٹے کیا بڑے! سبھی اِس کے قائل ہیں، کوئی اِس کا منکر نہیں، آپ اپنی تحریروں میں اپنے نام کے ساتھ کوئی امتیازی القاب نہ لکھتے تھے، نہ پسند فرماتے تھے، شناخت کے لیے عموماً ”خادم تدریس دارالعلوم دیوبند“کا سادہ سا جملہ لکھا کرتے تھے، اپنے لیے صدارت یا کرسیٴ صدارت کو قطعی پسند نہیں فرماتے تھے، مجلس میں کہیں بھی بیٹھ جایا کرتے تھے، مجلس میں پاوٴں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے، عموماً پیالے میں پانی نوش فرماتے تھے، سادہ لباس زیب تن فرماتے تھے، لباس کی سادگی ایسی کہ جو شخص پہلے سے متعارف نہ ہو وہ وضع قطع سے فیصلہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہی مولانا ریاست علی بجنوری ہیں، یہی شوریٰ کی شرعی حیثیت کے مصنف ہیں، یہی ترانہٴ دارالعلوم کے خالق ہیں، یہی ایک پختہ کار او رمنفرد حیثیت کے شاعر ہیں اور یہی ماضی میں ماہنامہ دارالعلوم کے مدیر اور تعلیمات کے ناظم رہ چکے ہیں اور اب یہی اپنے استاذ محترم کی تقریر ِبخاری بنام ایضاح البخاری شائع کررہے ہیں اور یہی وہ ممتاز شخص ہیں جن کی اصابت ِ رائے، بر وقت مفید مشوروں ،ہوش مندی اور دور اندیشی سے دارالعلوم دیوبند، جمعیت علمائے ہند، ادارة المباحث الفقہیہ اور دیگر وابستگانِ علم وادب اور اساتذہ وطلبہ مستفید ومستفیض ہوتے رہتے ہیں اور یہی وہ روشنی ہیں جنھوں نے اندھیروں میں چراغ جلائے ہیں، علمی کام کرنے و الے اساتذہ کی ایک کھیپ تیار کردی ہے اور یہی وہ یکتائے زمانہ شخص ہیں جنھوں نے قطروں کو دریا بنایا ہے،یقینا کسی شخص کی شخصیت میں اتنی ساری صفات وخصوصیات پنہاں ہوں اور وہ انھیں ظاہر نہ ہونے دے، اِسی کا دوسرا نام خاکساری اور تواضع ہے؛ لیکن قدرت نے رفعت وشہرت، قدرومنزلت کو اِسی تواضع سے مربوط کیا ہے، ا ِسی تواضع وخاکساری کے خمیر سے فلک کے تاروں سے بلند تر مقام بنتا ہے، جو حضرت کے حصہ میں آیا اور خوب آیا، سچ ہے #
        کہ دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے

دارالعلوم دیوبند میں سہ سالہ طالب علمی کے دور میں حضرت الاستاذ کو دور سے ہی دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملتا رہا، بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ اِس دوران حضرت سے عدمِ قربت میری بدنصیبی کا حصہ تھی؛ البتہ معین مدرسی کے دو سالوں میں کبھی کبھار حضرت کی مجلس میں حاضری کا موقع ملتا رہا، وہ حاضری میری خوش نصیبی کا حصہ تھی، دورانِ طالب علمی کی بد نصیبی، خوش نصیبی میں اس وقت تبدیل ہوئی جب دارالعلوم حیدرآباد کی تدریسی ملازمت کا موقع ملا اور ہر سال شوال میں مدرسہ کے کام سے دارالعلوم دیوبند حاضری ہوتی رہی، طالب علمی اور معین مدرسی کا زمانہ گذار کر دارالعلوم دیوبند سے جانے کے بعد لگاتار سات سالوں تک دیوبند جب بھی حاضر ہوا حضرت الاستاذ سے ملنے کا شرف ملتا رہا، ہر سال اِس احساس میں اضافہ ہوتا رہا کہ حضرت الاستاذ میں ”پدرانہ شفقت“ کا عنصر غالب ہے، وہ اپنے دل میں اپنے طلبہ کے تئیں ”درد“ رکھتے ہیں، حافظہ اور ذاتی ڈائری سے بیتے دنوں کی کچھ یادوں کو زندگی دے کر دلی تسلی کا سامان فراہم کرتا ہوں، ان واقعات ومشاہدات میں ایک طالب علم کے لیے عبرت وموعظت کا کافی سامان ہے۔

(الف) حضرت کی زندگی ”ہٹو بچو“ کی کیفیت سے کوسوں دور تھی، اپنی بڑائی اور اپنا امتیاز نمایاں کرنے کا جذبہ نہ کے درجہ میں تھا، جس سال حضرت مولانا فدائے ملت اسعد مدنی کا ا نتقال ہوا، میں دارالعلوم میں نووارد تھا، جنازے کی نماز دارالعلوم میں ادا ہورہی تھی، ازدحام کافی تھا، حضرت کو دیکھا اکیلے، کنارے طلبہ کی پچھلی صف میں کھڑے ہیں، ساتھ میں نہ کوئی خادم نہ کوئی اور، میں بہت متاثر ہوا کہ اس پائے کا محدث اکیلا کنارے کھڑا ہے، عموماً تنہا ہی ہوتے تھے، اس سادہ انسان کی سادہ زندگی کا منظر نگاہوں میں آج بھی تازہ ہے، آج وہ راستہ، وہ گلی، وہ موڑ،وہ زینہ، وہ مسند ِدرس اور وہ درودیوار ماتم کناں ہیں، انھیں سادگی کا ایسا تاج محل اب کبھی دکھائی نہیں دے گا۔

(ب) 1434ھ کی بات ہے، دارالعلوم حاضری کے موقع پر حضرت کی مجلس میں حاضری ہوئی، مختصر بات چیت ہوئی، میں شروع سے ہی کم گوہوں، میں نے ڈرتے ہوئے حضرت سے اپنی بیماراہلیہ کی خاطر تعویذ کی درخواست کی، حضرت فوراً تیار ہوگئے اور کہا کل کو لے لینا۔ دوسرے دن حاضر ہوا، اختتامِ مجلس پر میں نے یاد دلایا تو کہا: بیٹے! میں بھول گیا، کل کو آتے ہی یاد دلانا۔ حضرت کا بیٹے کہنے کا انداز اِتنا نرالہ اور مخلصانہ ہوتا تھا کہ دل تھوڑی دیر کے لیے بھول جاتا تھا کہ وہ کہاں ہے، وہ آواز آج بھی کانوں میں رس گھولتی معلوم ہورہی ہے، خیر دوسرے دن حاضر ہوا فوراً اپنے ہاتھ سے لکھ کر تعویذ عنایت فرمایا، یہ معاملہ صرف میرے ساتھ خاص نہیں تھا؛ بلکہ ہر کس وناکس حضرت کے تعویذات سے فائدہ اٹھاتا تھا، آپ کسی کو منع نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اس تعویذ پر کچھ عوض لیتے تھے، تعویذات وعملیات سے وابستہ افراد کا عالم، عامل، پابند شریعت، متبع سنت، صدقِ مقال واکل حلال کا حامل ہونا نہایت ضروری ہے، حضرت کے یہاں یہ خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں، اصلی خاتم مقطعات، مدنی تختی اور لوح عزیزی جیسے تعویذات جو حضرت مدنی، حضرت تھانوی، شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور شیخ احمد بن علی بونی رحمھم اللہ کے قابل اعتماد مجرب تعویذات میں ہیں، ہمارے اکابر واسلاف نے ایک خاص ضابطہ کے تحت اس پہلو سے فائدہ اٹھانے کے طریقے بتلائے ہیں، جس میں اجازت کو شرط قرار دیا گیا ہے، حضرت کو اِس سلسلہ کا معتبر ترین آدمی مانا جاتا تھا، شیخ الاسلام حضرت مدنی سے حضرت مولانا کے پھوپھا مولانا سلطان الحق صاحب سابق ناظم کتب خانہ دارالعلوم دیوبند کو اور ان سے حضرت نور اللہ مرقدہ کو اجازت تھی ، حضرت نے اِس فیض کو عام کرنے کے لیے ”کاشانہٴ رحمت“ نامی ایک ادارہ بھی قائم فرمایا تھا، یہ ادارہ آج بھی عملیات کی شرائط اور تعویذات کے آداب کو پورا کرکے ان تبرکات سے عوام الناس کو مستفید کررہا ہے۔

(ج) ستمبر2012ء کی بات ہے، حضرت کے صاحب زادے مولانا سفیان صاحب نے ہماری دعوت کی، جس کی تقریب یوں ہوئی کہ میں جن صاحب (مفتی اسعد اعظمی صاحب سابق استاذ دارالعلوم حیدرآباد)کے ساتھ دیوبند آیا تھا وہ مولانا سفیان صاحب کے دوست تھے، انھوں نے ان کی دعوت کی تو میری بھی ہوگئی، رات کے کھانے میں دسترخوان پر حضرت بھی تشریف فرماتھے، مجھے بڑی خوشی ہوئی، کھانا آیا، حضرت نے اپنی قیام گاہ اور ملاقاتی کمرہ کی تعمیر اس انداز کی کرائی ہے کہ مطبخ سے نیچے کی جانب ایک متوسط سائز کی کھڑکی حضرت کے ملاقاتی کمرہ میں کھلتی ہے، ٹرالی نما لکڑی کا ایک متوسط سائز کا تختہ ہوتا تھا، اسی پر کھانا، برتن اور ضروری اشیاء بڑے سلیقے سے رکھ کر کمرے کی جانب کھسکا دیا جاتا ہے، بہت آسانی اور کم وقت میں سارا سامان کمرے میں آجاتا تھا، وہیں پاس میں دستر خوان ہوتا تھا، بہر حال کھانا پروسا گیا، حضرت کے ساتھ اول آخر ہم طعامی کا یہ شرف ایک ایسا شرف ہے اور ایک ایسی یاد ہے جسے ہمیشہ سمیٹ کر رکھوں گا اور جس کی یادیں ہمیشہ قلب وجگر اور ذہن ونظر میں تازہ رہیں گی، حضرت اور صاحب زادے نے بڑے ہی اخلاص واکرام کا مظاہرہ کیا، کھانے کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا ،جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، میرے وجود کو ہلاکر رکھ دیا، ہوا یہ کہ دستر خوان پر جہاں میں بیٹھا تھا وہ اصلاً راستہ تھا اور میرے پیچھے حضرت کے سونے کے لیے ایک تخت رکھا ہوا تھا، چوں کہ سب لوگ دسترخوان پر تھے، باہر سے کوئی آنے والا نہیں تھا؛ اِس لیے میں اسی راستہ پر بیٹھ گیا تھا اور میری پیٹھ تخت سے لگی ہوئی تھی، حضرت نے معمولی مقدار میں کھانا لیا اور اٹھ گئے، اِس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ ہمیں حضرت کی وجہ سے تکلف ہورہا تھا، ان کی غیر موجودگی میں بے تکلفی رہے گی، یہ بھی ایک سیکھنے کی چیز تھی جو میں نے سیکھی، حضرت کو ہاتھ دھونے کے لیے باہر جانا تھا، میں نے محسوس کیا حضرت دسترخوان پر ہاتھ دھونا مہمان نوازی کی توہین سمجھ رہے ہیں، خیر حضرت اٹھے، تھوڑی دیر ٹہل کر تخت پر بیٹھ گئے جیسے کچھ کام ہو، میری توجہ اس جانب سے ہٹ گئی، تھوڑی دیر کے بعد تخت پر کھڑے ہوکر دوسری جانب گئے اور ہاتھ دھولیے، حضرت دارالعلوم کے موقر استاذِ حدیث ہونے کے ساتھ خود میرے استاذ تھے، گھر اور دسترخوان انھیں کے تھے اور چاہتے بلکہ یہ ان کا حق تھا کہ وہ مجھے یا اپنے صاحب زادے کو حکم دیتے کہ ذرا راستہ دینا؛ لیکن واہ رے اخلاق وتواضع کا پیکر مجسم، گھٹنے کا درد برداشت کرلیا،ادنیٰ درجہ کے مہمان کی معمولی زحمت برداشت کرنا گوارا نہیں کیا اور سنیے!کھانے کے بعد تھوڑی دیر گفتگو ہوئی، کہنے لگے آپ لوگ عصر بعد آئے تھے، میں پہچان نہیں سکا تھا، بعد میں سوچا، ملیں گے تومعذرت کروں گا، اِس جملے میں ادب وتہذیب، شفقت ومحبت، اخلاص واپنائیت، تواضع وانکساری کا مضمون سمٹتاہوا نظر آیا۔

اِس واقعہ نے مجھے اتنامتاثر کیا کہ دورانِ طالب علمی حضرت کے تعلق سے قلب وذہن میں جو غلط فہمیاں تھیں، یک لخت سب کافور ہوگئیں؛ اور ایک مرتبہ جب میں نے اپنا تعارف کرایا کہ میں نے ادب میں آپ سے البلاغة الواضحہ پڑھی ہے اور دو سال معین مدرسی کے شعبہ میں خدمت کی ہے تو حضرت نے فرمایا: بیٹے! تم کبھی آتے نہیں تھے، اس وقت مجھے بہت شرمندگی ہوئی تھی؛ لیکن اس جملے میں، میں نے شکوہ کے ساتھ اپنائیت کی خوش بو بھی محسوس کی تھی، خیر مذکورہ واقعہ کے بعد میں نے حضرت کو ایک خط لکھا اور اس میں اپنی حماقت پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے تہہ دل سے معافی کی درخواست کی، آئندہ سال جب حضرت سے ملاقات ہوئی اور میں نے معافی اور معافی نامہ کا تذکرہ کیا تو ایسی طرح دے گئے کہ جیسے وہ معافی نامہ پڑھا ہی نہ ہو؛ حالاں کہ وہ معافی نامہ حضرت کے پاس پہنچا تھا؛ لیکن کیا کیجیے سامنے والے کو شرمندگی اور ندامت سے بچانا اخلاق عالیہ کا حصہ ہے، حضرت نے اسی عادت واخلاق کی ایک مثال پیش کی۔

امسال شوال میں دیوبند حاضر ہوا تو دل میں ایک کسک سی محسوس ہوئی، کچھ کھوجانے کا شدید احساس ہوا، ایک روز اتفاقاً مولانا سلمان صاحب بجنوری نقشبندی مدیر ماہنامہ دارالعلوم سے ملاقات ہوئی، مولانا حضرت نور اللہ مرقدہ کے گھر تشریف لے جارہے تھے، مجھ سے کہا اگر وقت ہو تو آیئے وہیں بیٹھ کر باتیں کریں گے، موقع غنیمت جان کر ساتھ ہوگیا، حضرت کے اسی ملاقاتی کمرے میں ہم لوگ بیٹھے، میرِ مجلس کے بغیر مجلس کی رونق وروشنی کیا ہوتی ہے جو ہوگی ہر طرف غم واداسی کا منظر تھا، کمرے کی ہر چیز بزبان حال کہہ رہی تھی۔
        ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگِ محفل
        کسے دیکھ کر آپ شرمایئے گا

حضرت کے صاحب زادے مولانا سعدان صاحب سے ملاقات ہوئی، انھوں نے اپنے والد کے انداز کی ضیافت فرمائی اور حضرت کی یادوں کو تازہ کیا۔

اِس سے پہلے بغرضِ ایصال ثواب مزارِ قاسمی گیا، قبرِ اطہر کی زیارت کی، حسب ِتوفیق ایصالِ ثواب کیا، دل تڑپ گیا،غموں کے بادل چھاگئے، پچھلے سال حضرت بقید ِ حیات تھے، ابھی فروری میں مدراس فقہی سمینار میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا، آج سب کو رلا کر تڑپا کر محوِ خواب ہیں، واقعی موت واحد ایسی حقیقت ہے جس کو لوگ افسانہ سمجھا کرتے ہیں؛ جب کہ وہ کسی کو بھی کسی وقت آدبوچتی ہے، حضرت کی قبر پر ایک شعر لکھا ہوا پایا جس میں واقعیت وعبرت کا کافی سامان ہے۔
        آفتابِ علم ہے اور خاک کی آغوش ہے
        آہ! اقدارِ سلف کا پاسباں خاموش ہے

راقم الحروف کو حضرت الاستاذ کی ایک چیز بہت متاثر کرتی تھی، وہ یہ کہ حضرت کہنہ مشق شاعر ہونے کے باوجود شعر وشاعری کو اپنا مشغلہ بنانے کے بجائے، درس وتدریس اور بالواسطہ یا بلا واسطہ تصنیف وتالیف کو پیشہ بنائے ہوئے تھے، شعروشاعری کے مزاج کو ہمیشہ مغلوب رکھا، درس وتدریس کے مذاق کو نمایاں رکھا، بحیثیت ایک مدرس کے مجھے یہ چیز بہت اچھی اور قابلِ تقلید لگتی تھی، آج واقعہ یہ ہے کہ مدارس میں بہت سے اساتذہ نے درس وتدریس کو ثانوی حیثیت دے رکھی ہے، دیگر مصروفیات کو اوّلین درجہ دیا ہوا ہے، جس کا نقصان ظاہر ہے۔

حوصلہ افزائی وذرہ نوازی
ربیع الثانی1436ھ کی بات ہے،میں نے اپنی کتاب” اسلام کا نظامِ سلام ومصافحہ“ کے لیے حضرت سے تقریظ لکھنے کی درخواست کی، حضرت کا انتخاب، میری ان سے قلبی عقیدت ومحبت کا نتیجہ تھا، حضرت نے ضعف ِ بصارت کے باوجود خود اپنے قلم سے ایک مختصر، مگر جامع تقریظ لکھ کر عنایت فرمائی، جو میری کتاب کے لیے باعث ِزینت ہونے کے ساتھ ایک ناتجربہ کار اور کم علم مولف کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ تھی، مزید براں جب کتاب چھپی تو کسی دوسرے صاحب نے میری کتاب ان تک پہنچادی، مجھے اس کا علم نہیں تھا، شوال میں جب دیوبند حاضری ہوئی، میں کتاب لے کر حضرت کے پاس پہنچا، دیکھتے ہی پہچان گئے اور کہا اچھا سلام والے ہیں، بھائی! تم نے تو تفصیلی کتاب لکھ ڈالی، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ کتاب اتنی ضخیم ہوگی تو میں لمبی تقریظ لکھتا، مزید فرمایا: اس جمعہ کو خانقاہ مسجد میں مجھ سے تقریر کا مطالبہ ہوا تو میں نے تمھاری کتاب دیکھ کر تقریرکردی، یہ حوصلہ افزائی کا ایسا انداز تھا جو اپنے اندر درسِ عبرت کا وسیع مفہوم رکھتا ہے، حضرت میں حقیقت بیانی کی صفت بھی خوب تھی، بے جا تعریف اور بے جا تنقید کے عیب سے خالی تھے، کہنے لگے بیٹے! کتاب کی ضخامت تمہارے مقصود کے خلاف ہے، کیوں کہ تمھارا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں سلام کرنے کا رواج عام ہو؛ لیکن اتنی ضخیم کتاب عموماً لوگ عمل کے جذبہ سے نہیں پڑھتے۔ کتاب 502 صفحہ کی ہے۔

ذرہ نوازی کا ایک واقعہ اور پڑھیے، دارالعلوم حیدرآباد میں غالباً ششماہی کی تعطیل میں ایک دوست کے ہاتھ حضرت کے لیے نہایت معمولی ہدیہ بھیجا، حضرت نے قبول فرمایا اور دعاوٴں کے ساتھ حضرت نانوتوی کی ایک کتاب”قبلہ نما“ بھجوائی، خرد نوازی کے اِس واقعہ سے راقم بے حد مسرورہوا اور یہ سوچنے لگا کہ بڑے لوگ بلا وجہ بڑے نہیں ہوتے، اِسی طرح ایک مرتبہ ایک دوست کے واسطے سے اپنی اہلیہ کے لیے دعائے صحت کی درخواست کی، حضرت نے نہ صرف یہ کہ دعا فرمائی؛ بلکہ اپنے ہاتھ سے کچھ یونانی دواوٴں کا نام اور طریقہٴ استعمال لکھ کر بھیجا، بیتے دنوں کی یہ وہ یادیں ہیں جو حافظہ کا حصہ ہیں ، یادوں کے یہ اجالے، ہمیشہ چراغِ رہ گذر کا کام دیتے رہیں گے۔

اپنا حساس
حضرت الاستاذ میں تدریس کا رنگ یقینا غالب تھا، انھوں نے تدریس کو مضبوطی کے ساتھ تھاماتھا، اِسی لیے ان کا اندازِ تدریس سب سے نرالا تھا، بات سے بات نکالتے چلے جاتے تھے، ا دب میں البلاغة الواضحہ کا درس بڑا ہی دلچسپ ہوتا تھا، پورے سبق میں طلبہ کو ایسا مصروف رکھتے کہ طلبہ خود ہی کتاب حل کرلیتے تھے، ایک باکمال مدرس کی پہچان ہے کہ وہ دورانِ درس طلبہ کو مصروفِ عمل رکھے، زبان میں ایسی چاشنی تھی کہ مزہ آجاتا تھا، تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا صاف ستھرا ذوق تھا، تحقیقی مزاج کے مالک تھے، علم میں” عُمق“ زیادہ تھا، فخر المحدثین حضرت مولانا سید فخر الدین صاحب کا بخاری شریف کا سبق حضرت کی تحقیق وتعلیق کے ساتھ شائع ہورہا ہے، یہ کتاب” ایضاح البخاری“ آپ کی وسعت علم، گہرے مطالعہ اور حدیث پر اچھی نظر رکھنے کا پتہ دیتی ہے،شوریٰ کی شرعی حیثیت آپ کے تحقیقی مزاج، منفرد اسلوب اور بلند خیالی کی شاہ کار ہے، حضرت مولانا قاضی اطہر صاحب مبارک پوری لکھتے ہیں:
    اِس کتاب کے مصنف جناب مولانا ریاست علی صاحب بجنوری مدرس وناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند نے نہایت تحقیق وتلاش سے ان مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے اور کتاب وسنت، فقہ وفتاویٰ اور علماء کے آراء واقوال کے قدیم وجدید ماخذوں کو کھنگال کر ایک نہایت سنجیدہ اور باوقار کتاب مرتب کی ہے، شوریٰ اور اہتمام سے متعلق حصہ خاص طور سے مصنف کی تلاش وتحقیق کا شاہ کار ہے۔(شوریٰ کی شرعی حیثیت،ص: 13)

اللہ تعالیٰ نے حضرت الاستاذ کو شعر گوئی کا ملکہ بھی خوب عطا فرمایا تھا، حضرت نے ادب کی راہوں پر یقینانئے پھول کھلائے ہیں، ترانہٴ دارالعلوم حضرت کی آسان، روح پرور شاعری کا بے مثال نمونہ ہے، ہر مصرعہ اور شعر میں صدیوں کی تاریخ اور حقائق وروایات کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے، آپ کس پائے کے شاعر تھے، اِس کے لیے ایک اقتباس پڑھیے،مولانا لقمان الحق صاحب فاروقی مرحوم سابق شیخ الحدیث امداد الاسلام میرٹھ وسابق مدرس دارالعلوم دیوبند ”نغمہ سحر“ میں لکھتے ہیں:

ادب ِاردو کے بے استعدادی،بے ہمتی اور کم نگاہی کے اس دور میں بھی کبھی کبھی کوئی شخصیت اس طرح سامنے آجاتی ہے کہ جیسے قدرت نے اسے اجنبیوں کے درمیان کچھ مدت کے لیے بھیج دیا ہو یا پھر یہ کہ یہ کوئی ایسا پھول ہے جو یکایک صحرا میں کھل گیا ہے اور اپنی رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتا ہوا ایک روز خود ہی شریک قافلہٴ بہار ہوکررخصت ہوجائے گا یا پھر یہ کوئی ایک چراغ ہے جو خود بخود جل اٹھا ہے؛ لیکن حد نظر تک اس چراغ کے سوا اور روشنی کے کوئی آثار نہیں یا پھر یہ کوئی ایسی کشتی ہے جو ایک متلاطم اور موّاج محیط ِاعظم میں تنہا اندھیری رات میں بہتی چلی جارہی ہے۔

ریاست علی ظفر بجنوری ادب ِاردو کی سرزمین پر ایسے ہی لالہٴ صحرائی یا شعروسخن کے بحر متلاطم میں ایک تنہا کشتی کی طرح ہیں، انھوں نے علمائے دیوبند کی طرح شعروسخن کو زندگی کے کسی موڑ پر مشغلہ کے طور پر اختیار نہیں کیا؛ لیکن اس کے باوصف قطعات، رباعیات اور غزلوں اور نظموں کا یہ دل آویز مجموعہ ادب ِاردو میں ایک وقیع اضافہ سمجھا جائے گا۔(نغمہ سحر، ص:9)

اب جب کہ حضرت مولانا کی شاعری کا تذکرہ زیر قلم آہی گیا چند اشعار بطور نمونہ کے لکھنا ضروری معلوم ہوتا ہے، حمد ہو یا نعت، غزل ہویا ترانہ، حضرت نے ہر موضوع پر دادِ تحسین حاصل کی ہے؛ لیکن محبت کے مضمون کا ایسا دلنشیں اور حقیقت پسندانہ تجزیہ اور تعریف، حقیقی اور مجازی محبت کا تقابل اِس انداز سے پیش فرمایا ہے کہ وہ اشعار پڑھنے کے بعد مجھ جیسا بے ذوق طالب علم بھی عش عش کرنے لگتا ہے۔
    محبت ماورائے این وآں ہے
    محبت حاصلِ کون ومکاں ہے
    محبت عام ہے سارے جہاں پر
    محبت کے لیے سارا جہاں ہے
    محبت سے بشر محسودِ کوکب
    محبت کی زمیں بھی آسماں ہے
    محبت دیدہٴ ظاہر سے پنہاں
    محبت چشم باطن پر عیاں ہے
    محبت ابتدائے جذب ومستی
    محبت انتہائے عارفاں ہے
    محبت شعلہ بار وشعلہ پرور
    محبت لذتِ دردِ نہاں ہے
    محبت انصرام وضبط عالم
    محبت ارتباطِ قلب وجاں ہے
    محبت سے جبین چرخ زرتاب
    محبت سجدہ گاہِ کہکشاں ہے
    محبت ہے ہمارا ذوق سجدہ
    محبت ان کا سنگِ آستاں ہے

محبت کی مثبت حقیقت بیانی کے بعد اخیر میں موجودہ دور کے تناظر میں محبت کی منفی معنویت کو کچھ یوں بیان کیا ہے:
        ہوس کہلا رہی شاعروں سے
        محبت ایک سعی رائیگاں ہے
                    (نغمہٴ سحر،ص:116)

حضرت کی دور ا ندیشی کے تعلق سے ایک اقتباس پڑھیے: مولانا اختر شاہ قیصر صاحب رقم طراز ہیں:
مولانا دور اندیش، دوربیں اور بیدار ذہن کے مالک ہیں، ہر معاملہ کے اطراف وجوانب پر نظر رکھتے ہیں، بات کہاں سے چلی اور کہاں تک پہنچے گی فوراًسمجھ لیتے ہیں، قوت فیصلہ بھی خوب ہے، رائے او رمشورہ بڑا نکھرا اور ستھرا ہوتا ہے، معاملہ فہم، معاملہ شناس، ان کی نگاہیں وہاں سے آگے بھی کام کرتی ہیں جہاں دوسروں کی آنکھیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔(جانے پہچانے لوگ، ص:63)

اللہ تعالیٰ حضرت کو اپنی شایانِ شان بدلہ عطا فرمائے اور دارالعلوم دیوبند کے اِس بڑے خسارے اور خلا کو پر فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم کا راہی بنائے، آمین۔
        اکیلا ہوں مگر آباد کر دیتا ہوں ویرانہ
        بہت روئے گی میرے بعد میری شامِ تنہائی



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.