جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

قرآن مجید کی پرنٹنگ پلیٹ کے پانی اور کیمیکل سے گرائنڈنگ کے بعد اس پانی کو گندی نالیوں میں بہا دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ دینی کتب ،قرآن کریم، سپارے وغیرہ کی چھپائی کرتے وقت پرنٹرز حضرات چھپائی کے لیے پہلے پلیٹ لگاتے ہیں ، پلیٹ پر تمام قرآنی عبارت آجاتی ہے، پلیٹ مشین پے لگا کر اس سے چھپائی ہوتی ہے،چھاپنے کے بعد اس پلیٹ کو گرائنڈ کیا جاتا ہے(یعنی مٹایا جاتا ہے)، گرینڈ کرتے وقت اس گرینڈ کا پانی اور کیمیکل تمام گندی نالیوں میں بہادیا جاتا ہے، اس کا شرعی حکم کیا ہے کہ یہ قرآن کریم کی بے حرمتی ہے یا نہیں اور اس کا متبادل طریقہ کیا ہے، جسے اختیار کیا جائے؟یہ کام خیبر سے لے کر کراچی تک پورے ملک میں کیا جارہا ہے، آیا اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب…ادب کا تقاضا یہ ہے کہ صورتِ مذکورہ میں جس طرح کتابی نسخے کو کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ پر دفن کر دیا جاتا ہے، اسی طرح پرنٹنگ پلیٹ کے پانی اور کیمیکل کی مدد سے گرائنڈنگ کے بعد بہتر یہ ہے کہ اس پانی کو کسی محفوظ جگہ پر جمع کرنے کا اہتمام کیا جائے ، الغرض اس پانی کو گندی نالی میں بہانا بے ادبی ہے ، نہ تو قرآن کی طباعت وتسجیل کے حکومتی قواعد اس کی اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی ادب اس کا متقاضی ہے، اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے اور اس کے پانی کومحفوظ کرکے دریا وغیرہ میں بہا دیا جائے۔

ماہیت کی تبدیلی اور حرام جانور  کی چربی سے تیار شدہ مصنوعات کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والی کمپنی پلاسٹک کی مصنوعات بنانے کے لیے خام مال(جو کہ دانوں کی شکل میں ہوتا ہے) استعمال کرتی ہے، جس کے اجزاء میں جانوروں کی چربی کی بہت معمولی مقدار ( جو تناسب دو سال میں پانچ منٹ اور سولہ میل میں ایک انچ میں ہوتی ہے) شامل کی جاتی ہے۔ جن جانوروں کی چربی ان دانوں کے اجزاء میں شامل ہوتی ہے، ان میں وہ حلال جانور بھی شامل ہیں جن کا ذبیحہ مشکوک ہے( غیر مسلم کا ہو یا مشینی ذبیحہ)

اور حرام جانور بھی شامل ہوتے ہیں، گو کہ وہ چربی مختلف اجزاء میں شامل ہو کر دانوں کی شکل میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس کی ماہیت تبدیل ہو جاتی ہے، لیکن بہرحال دانوں کے اجزاء میں لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے چربی کی شناخت ممکن ہوتی ہے۔
1..کیا اس کو ماہیت کا تبدیل ہونا کہا جائے گا؟
2..ایسے دانوں سے پلاسٹک کی مصنوعات بنانے کی شرعاً اجازت ہو گی جن میں حرام جانور کی چربی معمولی مقدار میں شامل ہو؟
3..وہ حلال جانور جن کا ذبیحہ درست نہ ہو ان کی چربی کا حکم کیا ہو گا؟

جواب… جوابات سے پہلے بطور تمہید چند باتیں سمجھنی چاہییں کہ:
1.تبدیلیٴ ماہیت (کسی چیز کا اپنی حقیقت وماہیت چھوڑ کر دوسری حقیقت وماہیت میں بدل جانا) ممکن ہے ناممکن نہیں۔
2.کوئی بھی حرام اور ناپاک چیز تبدیلی ماہیت کے بعد حلال اورپاک ہو سکتی ہے، یہ امام محمد رحمة الله علیہ کی رائے ہے، محیط اور ذخیرہ میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمة الله علیہ کو بھی امام محمد رحمة الله علیہ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، اور احناف کثر الله سوا دہم کے نزدیک یہی قول مفتیٰ بہ ومختار ہے۔
3.تبدیلیٴ ماہیت کے لیے وسائل اور ذرائع متعین نہیں، بلکہ کوئی بھی تدبیر تبدیلیٴ ماہیت کا سبب بن سکتی ہے۔
4.تبدیلی ٴماہیت کے بعد حلت وطہارت کے حکم میں نجس ( جو چیز اپنے آپ نجس ہو) او متنجس ( جوچیز کوئی اور ناپاک؟ چیز پڑنے کی وجہ سے ناپاک ہو گئی ہو ) اشیاء میں کوئی فرق نہیں۔
5.تجزیہ (کسی چیز کے اجزاء کو الگ الگ کرنا)، تخرجہ ( کسی چیز کے بعض اجزاء کو نکال دینا)، اختلاط ( دو چیزوں کا آپس میں خلط کر دینا)، تقلیل (کسی چیز کاکم مقدار میں باقی رہنا) اور تحلیل ( ایک چیز کو دوسری چیز میں حل کر دینا) وغیرہ کو تبدیلیٴ ماہیت نہ سمجھا جائے، لہٰذا تبدیلیٴ ماہیت کا حکم دیتے وقت حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے، کیوں کہ بسا اوقات اختلاط اور تقلیل وتحلیل وغیرہ کو انقلاب سمجھ لیا جاتا ہے۔
6.حقیقت وماہیت کی تبدیلی کے بعد حرام وناپاک چیز اس وقت حلال وپاک ہوسکتی ہے جب وہ کسی حلال وپاک چیز میں تبدیل ہو جائے، بصورتِ دیگر اسی طرح حرام وناپاک رہے گی۔

مندرجہ بالاتمہید کے بعد سوالات کے جوبات ملاحظہ فرمائیں:
1..انقلابِ ماہیت کا جو لغوی مفہوم ہے وہی اس کا شرعی اور اصطلاحی مفہوم بھی ہے اور وہ یہ کہ کوئی چیز اپنی حقیقت وماہیت چھوڑ کر دوسری حقیقت وماہیت اختیا رکرے، جیسے: شراب سرکہ بن جائے، خون مشک بن جائے، نطفہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے وغیرہ، کہ ان تمام صورتوں میں شراب اپنیحقیقتِ خمر یہ، خون اپنی حقیقت ِدمویہ، نطفہ اپنی حقیقت ِمنویہ چھوڑ کر دوسری حقیقتوں میں تبدیل ہو گئے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فقہائے کرام نے تبدیلیٴ ماہیت کے لیے کوئی واضح حد اور مدار ومعیار مقرر نہیں کیا، بلکہ مذکورہ بالا اور ان جیسی دیگر مثالوں کے بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے۔

البتہ مجموعی طور پر معتمد کتبِ فقہ وفتاویٰ اور اکابرینِ امت کی تحقیقات وتحریرات کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نام، صورت، کیفیت اورمواقع استعمال کے ساتھ ساتھ اگر کسی چیز کے جوہری خواص واوصاف (رنگ، بو، مزہ اور شراب میں نشہ آور ہونا) اثرات وعلامات او رامتیازات باقی نہ رہیں، بلکہ نام بھی دوسرا، صورت بھی دوسری، اوصاف وخواص بھی دوسرے اور اثرات وعلامات اور امتیازات بھی دوسرے پیدا ہو جائیں ( جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں یہ تمام چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں ) تب جاکر کسی چیز پر تبدیلیٴ ماہیت کا حکم لگایا جاسکتا ہے، البتہ جہاں ان تمام جوہری عناصر کا علم عام لوگوں کو ہوسکتا ہو، وہاں عرفِ عام او رجہاں صرف ماہرین کو علم ہو سکتا ہو، وہاں متعلقہ ماہرین کا قول شرعاً معتبر ہو گا۔

2،3 مندرجہ بالاتفصیل کو مدِنظر رکھتے ہوئے اگر ماہرین اس کو ماہیت کی تبدیلی قرار دے دیں تو اس سے پلاسٹک کی مصنوعات بنانے کی شرعاً گنجائش ہے اور اس چربی کا استعمال درست ہو گا، بصورت ِ دیگر اس کا استعمال جائز نہیں ہو گا۔

بغیر ساز وآلات کے گانے کے الفاظ گنگنانے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام دریں مسئلہ کہ کیا گانا گانا اور سننا مطلقاً حرام اور ناجائز ہے، یا پھر جواز کی بھی کوئی صورتیں مستثنیٰ ہیں، اسی طرح بعض دفعہ بندہ گانے کے الفاظ دہراتا ہے یا گنگناتا ہے اس میں گناہ ہے یا نہیں ،ساز کے ساتھ ہو چاہے یا بغیر ساز کے ہو، نیز احادیث سے گانا سننے اور گانے کا ثبوت ملتا ہے، اس کا کیا جواب ہے یا پھر یہ صورتیں مستثنیٰ ہیں؟؟

جواب… واضح رہے کہ سازو آلات کے ساتھ گانا گانا اور سننا حرام ہے، اسی طرح جو اشعار کفر وشرک یا کسی گناہ پر مشتمل ہوں اُن کا گانا بھی حرام ہے، اگرچہ بغیر سازوآلات کے ہو، البتہ مباح اشعار اور ایسے اشعار جو حمد ونعت یا حکمت ودانائی کی باتوں پر مشتمل ہوں، اُن کو ترنم کے ساتھ پڑھنا جائز ہے، جہاں تک تعلق گانا گانے کا ہے بغیر سازوآلات کے، تو اس میں اگر موسیقی کی رعایت کی جائے اور گانے والوں کے ساتھ مشابہت ہو رہی ہو تو ناجائز ہے او راگر موسیقی کی رعایت نہ کی جائے او رگانے والوں کے ساتھ تشبہ بھی نہ ہو تو بھی کراہت سے خالی نہیں ہے، لہٰذا گانے کے الفاظ گنگنانے کے بجائے قرآن کریم کی تلاوت کی جائے اور؟ وحشت کو دور کیا جائے، ثواب بھی ہو گا اور وحشت بھی دور ہو جائے گی۔

باقی احادیث میں جس”غناء“ کا ذکر ہے، اس سے مراد ایسے اشعار ہیں، جو حمد ونعت اور حکمت ودانائی کی باتوں پر مشتمل ہوں، ایسے اشعار کا ترنم کے ساتھ پڑھنا جائز ہے۔

قمار کی تعریف اور اس کی شرائط کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ دو ٹیمیں اس شرط کے ساتھ گیم کھیلتی ہیں کہ جو ٹیم ہارے گی وہ دوسری ٹیم کو ایک ہزار روپے دے گی، شرعاً کیسا ہے؟ قمار کی تعریف اور اسکے تحقق کی شرائط ذکر فرما دیں؟

جواب… قمار کی تعریف یہ ہے کہ جس معاملے میں کسی مال کا مالک بنانے کو ایسی شرط پر موقوف رکھا جائے جس کے وجود وعدم کی دونوں جانبیں مساوی ہوں، اور اسی بناپر نفع خالص یا تاوان خالص برداشت کرنے کی دونوں جانبیں برابر ہوں۔

قمار کی تمام صورتوں اور تعریفات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قمار کے لازمی عناصر منددرجہ ذیل ہیں۔
1..قمار دو یا دو سے زیادہ فریقوں کے درمیان ایک معاملہ ہوتا ہے۔
2..اس معاملے میں کسی دوسرے کا مال حاصل کرنے کی غرض سے اپنا کچھ مال داؤ پر لگایا جاتا ہے۔
3..قمار میں دوسرے کا جو مال حاصل کرنا منظور ہو، اس کا حصول کسی ایسے غیر یقینی اور غیر اختیاری واقع پر موقوف ہوتا ہے جس کے پیش آنے کا بھی احتمال ہو اور پیش نہ آنے کا بھی۔
4..قمار میں جو مال داؤ پر لگایا جاتا ہے یا تو وہ بغیر کسی معاوضے کے دوسرے کے پاس چلا جاتا ہے یا پھر دوسرے کا کچھ مال اس کے پاس بغیر معاوضے کے آجاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا خالص نقصان ہوتا ہے۔

جس کسی معاملے میں یہ چار عناصر پائے جائیں گے وہ قمار میں داخل ہو گا اور شرعاً حرام ہو گا۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شرط کے ساتھ کھیلنا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ صریح ”جُوا“ ہے، قرآن وحدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔

جنس تبدیلی کی شرعی حیثیت اور اس کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موجودہ زمانے میں مرد عورتیں بنتی ہیں اور اسی طرح عورتیں مرد بنتے ہیں یعنی مرد اپنا عضوِ تناسل کٹوا کر عورت بنتی ہے اور عورت ا پنے مخصوص اعضائمیں مرد کی طرح مخصوص اعضا ء کا اضافہ کرتی ہیں ا۔ب وہ مرد جو عورت بنی ہے ،تو کیا اس پر عورتوں والے احکام لاگوہوں گے اور اسی طرح وہ عورت جو مردبنی ہے، تو کیا اس پر مردوں والے احکام جاری ہوں گے اور اسی طرح وہ مرد جو عورت بنی ہے اگر کسی مرد سے شادی کرتی ہے او ربالفرض اسے حمل ٹھہر جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔ برائے کرم اس مسئلہ کی قرآن وحدیث کی روشنی میں مکمل وضاحت فرماکر ہماری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب…واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ مخصوص انسانی اعضاء میں قطع وبرید کو شرعاً جنس کی تبدیلی نہیں کہا جاسکتا، بلکہ عرفاً اسے تبدیلیٴ جنس کہہ سکتے ہیں ،جس میں ظاہری مخصوص اعضا، تو اگرچہ تبدیل کر لیے جاتے ہیں، لیکن بچہ دانی وغیرہ کے نہ لگنے کی وجہ سے حمل نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

لہٰذا جو لوگ جنس کی تبدیلی کے نام پراپنے جسموں کے مخصوص اعضاء میں قطع وبرید کرتے ہیں، اس سے مخصوص اعضاء میں ظاہری تبدیلی کے باوجود اصل جنس کے احکام نہیں بدلیں گے، یہ لوگ اپنے جسموں میں ناجائز تصرف کر رہے ہیں اس قسم کی قطع وبرید سے انہیں فطری شہوت رانی کے علاہ کوئی فائدہ حصولِ اولاد کے حوالے سے ممکن نہیں، لہٰذا نہ وہ کہیں ہم جنس سے شادی کرسکتے ہیں اور اور نہ ہی دیگر احکام میں کوئی تبدیلی آئے گی، بلکہ تبدیلی سے قبل جو مرد تھا اس پر مردوں والے اور جو عورت تھی اس پر عورتوں والے احکام ہی لاگوہوں گے، البتہ ایسا کام کرنے والے لوگتغییر لخلق الله جیسے بڑے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں، انہیں فوراً اس قبیح فعل سے رک جانا چاہیے اور الله رب العٰلمین کے حضور توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔

میاں بیوی میں ناچاقی دور کرنے کا شرعی طریقِ کار
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زوج اور زوجہ کے درمیان تعلقات خراب ہونے کے باوجود شوہر خلع کرنے پر راضی نہ ہو تو قطعِ خصومت کا شریعت کی روشنی میں کیا طریقہ ہو گا؟

جواب… شریعت ِمطہرہ میاں بیوی کو نکاح پر برقرار رکھنے اور خوش گوار زندگی گزارنے کا درس دیتی ہے، البتہ کبھی کبھار زوجین کی آپس میں ناچاقی ہو جاتی ہے، تو اس کو آپس میں ختم کرنے کے لیے شریعت نے ایک باضابطہ طریقہ بتایا ہے کہ اگر عورت کی طرف سے نافرمانی کا صدور یا اندیشہ ہو تو پہلا درجہ اس کی اصلاح کا یہ ہے کہ نرمی سے اس کو سمجھایا جائے، اگر وہ محض سمجھانے سے باز نہ آئے تو اس کا بستر اپنے سے علیحدہ کر لیا جائے، تاکہ اسے اس علیحدگی سے شوہر کی ناراضگی کا احساس ہو اور اپنے فعل پر نادم ہو جائے، اگر اس سے بھی کام نہ چلے تو پھر اسے معمولی مارپیٹ کی بھی اجازت ہے، جس سے اس کے جسم پر اثر نہ پڑے۔

لیکن کبھی کبھار یہ جھگڑا اور ناچاقی طویل ہو جاتی ہے، یا تو عورت کی سرکشی کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ مرد قصور وار ہے اور بے جا تشدد بھی کر رہا ہے، تو ایسی صورت میں قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ جانبین سے ایک ایک حَکَم مقرر کرے، جو ذی علم اور دیانت دار ہو ؟ وہ ان دونوں کے درمیان مصالحت کی راہ نکالے، تاکہ جانبین سے اشتعال اور خاندانی جھگڑے کی نوبت پیش نہ آئے۔

رہی خلع کی بات تو اس کے بارے میں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ بلا ضرورت خلع کو شریعت میں اسی طرح ناپسند کیا گیا ہے جس طرح طلاق کو ”ابغض المباحات“ کہا گیا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”جس عورت نے بلاوجہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی بوُ حرام ہو گی۔“

لہٰذا میاں بیوی کے لیے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق کو پورا کرنے میں کوتاہی نہ کریں، تاکہ ازدواجی زندگی بھی متاثر نہ ہو اور ان وعیدوں کے مستحق بھی نہ ہو جائیں،جو حقوقِ زوجیت میں کوتاہی کرنے والے کے متعلق وارد ہیں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.