جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حقوق نسواں کا محافظ دین اسلام

محترم عطا محمد جنجوعہ

خالق کائنات نے مخلوق کی راہ نمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے، جن کی دعوت کی اساس تو عقیدہ توحید رہی، تاہم زمانہ کے اعتبار سے اُن پر نازل شدہ ضابطوں میں تغیر تبدل رونما ہوتا رہا۔ خاتم النبیین محمد صلی الله علیہ وسلم پر قرآن حکیم نازل ہوا، جس کی حفاظت کے بارے میں رب نے اعلان فرمایا دیا:﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ﴾․(الحجر:19)
”ہم نے ہی اس ذکر کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“

چوں کہ پہلے دور کے ضابطے مخصوص دور کے لیے تھے، ان پر نازل شدہ کتب وصحائف کی اصلی حالت برقرار نہ رہی، یہ اعجاز قرآنحکیم کو حاصل ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس میں کسی قسم کی لفظی ومعنوی تحریف نہ ہو سکی۔

اسلام دین فطرت ہے، جو الله کے قرآن اور نبی مکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کا نام ہے کتاب و سنت کے احکام قیامت کی صبح تک بنی نوع انسان کی راہ نمائی کا ذریعہ ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ قرآن میں کسی آیت کی حکمت عام فہم انسان کی عقل سے بالا ترہو، لیکن کسی کا یہ کہنا کہ فلاں قرآنی ضابطہ فطرت کے خلاف ہے سراسرا حمقانہ فعل ہے۔

اسلام سے قبل جاہلیت میں تعدد ازدواج پر کوئی پابندی نہ تھی، ایک مرد بیک وقت کئی عورتوں سے نکاح کرسکتا تھا، الله تعالیٰ نے چار کی حد مقرر کر دی ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَیٰ فَانکِحُوا مَا طَابَ لَکُم مِّنَ النِّسَاء ِ مَثْنَیٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً﴾․(النساء:3)
”اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو ، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو۔“

سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی جب اسلام لائے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے کوئی سی چار پسند کر لو۔ (باقی چھوڑ دو)۔ ( ابن ماجہ ، کتاب النکاح)

آزادی نسواں کے علم بردار اہل مغرب اس قرآنی حکم پر واویلا مچاتے ہیں کہ اسلام عورتوں کی حق تلفی کرتا ہے۔ اُن کے باشعور طبقہ کو دعوت فکر ہے!

خالق کائنات نے مرد وعورت کو تخلیق کیا، الله عالم الغیب نے اُن کی فطری کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر مشروط اندار میں اجازت دی، تاکہ وہ حیوانوں کی طرح بھڑ اس نکالنے کی بجائے رخصت سے فائدہ اٹھائے۔

افزائش نسل کے لیے انسان میں نفسانی خواہش موجود ہوتی ہے لیکن مرد اور عورت کی طبعی کیفیات مختلف ہیں، خالق نے جن کی تکمیل کے لیے ضابطے مقرر کیے ہیں۔ اُن کی خلاف ورزی پر سزا متعین کی ہے۔ الله عادل ہے، اُس نے انسان کی فطری کم زوری کے تدارک کے لیے اجازت دی ہے کہ ایک مرد چار عورتوں سے بیک وقت نکاح کرسکتا ہے۔ مرد میں جنسی رغبت ہمہ وقت موجود رہتی ہے، جب کہ عورت کو جنسی عمل کے بعد استقرار حمل، وضع حمل، رضاعت اور ننھے منے بچوں کی تربیت کے سارے مرحلے، اُسے یوں مشغول رکھتے ہیں کہ اُس میں طلب کم ہی رونما ہوتی ہے۔ لیکن مرد ان تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے۔ گرم مرطوب علاقہ کی وجہ سے مرد اگر صبر نہ کرسکے تو کیا وہ بدکاری کا مرتکب ہو کر سزا کا مستحق بن جائے یا الله سبحانہ وتعالیٰ کی دی ہوئی رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نکاح کر لے؟!

قرآنی احکام فطرت کے عین مطابق ہیں، مردم شماری کے عالمی اعداد وشمارکے مطابق دنیا میں بعض علاقے ایسے ہیں جن میں عورتوں کی شرح پیدائش مردوں سے زیادہ ہے۔

مزید برآں تاریخ کا مطالعہ کریں، جنگوں کا سلسلہ روز اول سے جاری ہے۔ جن میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں مرد ہلاک ہوئے، اُن کی عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ مثلاً دوسری عالمی جنگ کے دوران روس میں نوے لاکھ مرد ہلاک ہوئے اور جرمنی میں پچاس لاکھ افراد موت کا شکار ہوئے۔ حکومت نے اُن کی بیوگان کے لیے ماہ وار وظیفہ مقرر کیا اور رہائشی سہولتیں میسر کیں۔ سب کچھ بجا، لیکن نسوانی جذبات کے سہارے سے و ہ محروم رہیں۔ کیوں کہ یورپ میں صلیبی قانون رائج ہے کہ مرد ایک وقت میں صرف ایک عورت سے شادی کر سکتا ہے۔ اس لیے اُنھوں نے جذبات سے مغلوب ہو کر غیر فطری روش اختیار کر لی، چناں چہ ان ادھیڑ عمر عورتوں نے پیسے دے کر نوجوان لڑکوں کو ورغلانا شروع کر دیا۔

مغربی معاشرہ، جہاں ایک مرد صرف ایک عورت کو نکاح میں رکھ سکتا ہے، اگر اُن کے ہاں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے تو وہ اپنی مرضی سے جس سے چاہیں آزادانہ جنسی تعلقات قائم کریں۔حرامی بچوں کو جنم دیں۔ کوئی اُن کی اولاد کا باپ بننا گوار نہ کرے۔ ان کے بچے نان ونفقہ، صحت وتعلیم کی سہولتوں سے محروم ہو جائیں۔ اس وقت یورپ او رامریکا میں ساٹھ فیصد سے زیادہ ناجائز اولاد جنم لے رہی ہے۔ باعث حیرت ہے کہ اہل مغرب کو عورتوں کے فطری حیا وشرم کی پامالی قبول ہے۔ لیکن بیوہ عورتوں کا قانونی سہارا بننے کے لیے مرد کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دینے پر رضا مند نہیں۔

قرآن حکیم آفاقی اور عالمی دستور حیات ہے، جس نے مرد کو اجازت دی ہے کہ وہ بیک وقت چار عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے۔ قدرتی آب وہوا یا جنگی حالات میں رب کریم کی اجازت نعمت ثابت ہوتی ہے۔ عورت جنسی آوارگی سے بچ کر گھر کی مالکہ کی حیثیت سے معاشرہ میں باوقار زندگی گزارسکتی ہے۔ خاوند کی سرپرستی میں اس کی اولاد جائز تصور ہو گی اور وہ اُن کے نان ونفقہ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسلام مرد کو بیویوں کے مابین عدل وانصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے بیوہ عورتوں کو معاشرہ میں پرسکون اور باوقار مقام حاصل ہوتا ہے۔

ارباب علم ودانش غور کریں کہ صلیبی معاشرہ عورتوں کے نسوانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے یا اسلام؟

الغرض، اسلام ہی وہ دین فطرت ہے کہ جس نے ایک مرد کو چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی، تاکہ قدرتی آب وہوا کی وجہ سے یا ہنگامی حالات میں عورت دربدر ٹھوکریں کھانے کے بجائے خاوند کی سرپرستی میں باعزت زندگی بسر کرسکے۔ عورتوں کے حقوق کا حقیقی محافظ اسلام ہی ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.