جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

مخصوص ایام میں قبرستان جانا
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ”زیارت قبور“ کے مسنون آداب کیا ہیں؟ دور حاضر میں متعینہ تاریخوں اور دنوں میں قبرستان جانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جیسا کہ آج کل عید یا شادی وغیرہ کے موقع پر بعض لوگ اہتمام سے قبرستان جانے کی پابندی کرتے ہیں۔

جواب… زیارت قبور مسنون ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہے کہ اس سے آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے، زیارت قبور کے لیے کسی بھی دن جانا درست ہے، البتہ آدمی کو ہفتے میں کم ازکم ایک دفعہ قبرستان جانا چاہیے، جمعرات، جمعہ، ہفتہ یا پیر کو جانا بہتر ہے اور سب سے بہتر جمعہ کو جانا ہے، زیارت قبور کا اصل مقصد چوں کہ دنیا کی غفلت سے نکلنا اور آخرت کی فکر کا پیدا ہونا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص شادی یا عیدین وغیرہ کے موقع پر قبرستان جائے، تو مضائقہ نہیں، البتہ ان خاص موقعوں پر جانے کو لازم سمجھنا اور نہ جانے والوں پر طعن وتشنیع کرنا ناجائز ہے۔

زیارت قبور کا طریقہ اور ادب یہ ہے کہ میت کے پیروں کی طرف سے جا کر، چہرے کے سامنے قبلہ کی طرف پشت کرکے کھڑا ہو جائے اور یوں کہے: ”السلام علیکم یا أھل القبور، یغفرالله لنا ولکم، أنتم سلفنا ونحن بالاثر“ پھر اسی طرح دیر تک کھڑے ہو کر الله تعالیٰ سے دعا مانگے او راگر کوئی بیٹھنا چاہے، تو زندگی میں جس طرح اس شخص کے ساتھ برتاؤ تھا، اسی طرح قریب یا دور بیٹھ جائے اورجتنا ہو سکے تلاوت کریم کرے، سورہ یسٓن پڑھنے کی بہت فضیلت آئی ہے او را سکے علاوہ سورہ فاتحہ، سورہ تکاثر، سورہ ملک اور سورہ اخلاص بھی پڑھنی چاہیے، اس کے بعد یوں کہے کہ: یا الله اس تلاوت کا ثواب صاحب قبر یا تمام مردوں تک پہنچا دے۔

تنبیہ: قبروں کی بے حرمتی کرنا ناجائز ہے، لہٰذا قبروں پر چلنے ، پھلانگنے اور ان پر ٹیک لگانے سے اجتناب کیا جائے، اسی طرح قبرستان میں ہنسی مذاق اور شور وشغب کرنے سے بھی احتراز کرنا لازم ہے۔

عید کے دن میت کے گھر پر جمع ہو کر تعزیت کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض علاقوں میں کسی گھر میں جب فوتگی ہوتی ہے تو اس کی وفات کے بعد پہلی عید پر میت کے گھر والے عید کے دنوں میں نئے کپڑے نہیں پہنتے او رمیت کے عزیز واقارب اور علاقے کے لوگ اس بنا پر ان کے گھر آتے ہیں کہ یہ مرحوم کی پہلی عید ہے۔

کیا شریعت مطہرہ میں اس کی گنجائش ہے؟ نیز ایسی رسم منانے والوں کے بارے میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟

جواب… واضح رہے کہ میت کے گھر والوں میں صرف اس کی بیوہ کو چار ماہ دس دن تک سوگ کا حکم ہے، دوسری خواتین کے لیے تین دن تک اس کی اجازت ہے، اس سے زیادہ نہیں، باقی تعزیت تین دن کے بعد درست نہیں، مکروہ ہے اور ایک مرتبہ تعزیت کے بعد دوبارہ تعزیت کرنا بھی صحیح نہیں، لہٰذا عید کے دن میت کے عزیز واقارب کے ہاں تعزیت کی نیت سے جانا اور جمع ہونا جائز نہیں، بلکہ بدعت ہے ،اس سے اجتناب ضروری ہے۔

رشتے کی غرض سے لڑکی کی تصویر دیکھنا کیسا ہے؟
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے حق مذکورہ مسئلہ کے حوالے سے کہ ذی روح کی تصویر تو حرام ہے، لیکن اگر رشتے کی غرض سے لڑکا اپنے گھر والوں سے یہ کہے آپ لوگوں نے جہاں میرے لیے رشتہ طے کیا ہے، میرے لیے لڑکی کی تصویر لاؤ تاکہ میں تسلّی سے دیکھ کر اس کو پسند کر لوں، تو اس کی گنجائش ہے یا نہیں کہ گھر والے لڑکی سے کسی بھی ذریعے تصویر کھنچوا کر پیش کریں؟

جواب…واضح رہے کہ ذی روح کی تصویر شرعاً ناجائز اور حرام ہے، بلا ضرورت شدیدہ اس کی کوئی اجازت نہیں اور پھر عورت کی تصویر اس طرح دکھانا بے حیائی کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے، نیز مذکورہ صورت میں تصویر کھینچوانے کی کوئی ضرورت بھی نہیں، لڑکا کسی طریقے سے لڑکی کو ایک نظر دیکھ کر پسند کر لے۔

وعدے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک آدمی کسی کے ساتھ کسی غیر منہی چیز کا وعدہ کرے تو کیا اس کے لیے وعدہ پورا کرنا واجب ہے یا مستحب ہے؟ او راگر منہی چیز کا وعدہ کرے تو کیا حکم ہے؟

جواب…جائز وعدہ جو شریعت کے خلاف نہ ہو اس کو پورا کرنا دیانتاً واجب ہے، قضاءً نہیں ،اور بغیر کسی عُذر کے وعدے کو پورا نہ کرنے والے پر احادیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ جو وعدہ شریعت کے مخالف ہو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں، بلکہ ترک کرنا ضروری ہے۔

ٹرسٹ فنڈ کو زکوٰة دینے کا حکم کیا ہے؟
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ زید اور بکر نے ساتھ مل کر ایک ٹرسٹ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد بے روز گار ہنر مندوں کو برسر روز گار کرنا ہے، ٹرسٹ کی انتظامیہ اہل خیر حضرات سے زکوٰة وصدقات کی وصولی کرتی ہے اور مستحقین تک پہنچاتیہے۔

ٹرسٹ کے معاونین دو قسم کے ہیں:
مستقل اور غیر مستقل

مستقل افراد کے تعاون سے دفتری اخراجات اور ٹرسٹ کے دیگر لوازمات ( بلڈنگ کا کرایہ، اسٹیشنری، یوٹیلٹی بلز وغیرہ) کی ادائیگی ہوتی ہے اور تعاون کنندہ گان کی اس مد میں خرچ ہونے والی رقم زکوٰة یا صدقات واجبہ میں سے نہیں ہوتی، بلکہ عطیہ ہوتی ہے، جب کہ غیر مستقل معاونین سے زکوٰة وصدقات کی صورت میں وصول ہونے والے فنڈز کو لوگوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔

اس کے استعمال کی دو صورتیں ہیں:
زکوٰة فنڈ سے باقاعدہ ہنر مند/ بے روز گار طبقہ کو سامان کی صورت میں پچاس ہزار تک کا تعاون دیا جاتا ہے جو کہ ناقابل واپسی ہے، لیکن احساس ذمہ داری کو اجاگر کرنے کے لیے وصول کار کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ یہ رقم آپ کے خود کفیل ہونے کے بعد ( تقریباً ایک سال کا وقت دیا جاتا ہے ) ماہانہ اقساط کی صورت میں اپنے ہی اکاؤنٹ میں جمع کروانی ہے، جب اقساط پوری ہو جائیں گی تو ادارہ آپ سے وصول کرے گا، اس دوران اس فرد کی چیک بک اور اے ٹی ایم ادارہ کے پاس محفوظ رہتا ہے، لیکن ادارہ اس رقم کو نکالنے کا مجاز نہیں، جیسے ہی اقساط پوری ہو جاتی ہیں ادارہ کسی ایک بے روز گار/ ہنر مند کو اس فرد کے پاس لے جاتا ہے کہ یہ بھی آپ ہی کی طرح بے روز گار/ ہنر مند ہے، آپ کا تعاون ادارہ نے کیا تھا، اب ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس کا تعاون اپنے ہاتھ سے کیجیے اور یہ پھر کسی اور کا تعاون کرے گا اور وہ فرد پھر چیک اس مستحق کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے، اس سے دو فوائد حاصل ہوتے ہیں:

ایک فائدہ یہ ہے کہ اس صورت میں زکوٰة کی رقم سرکل میں آ کر کئی لوگوں کے روز گار کا سبب بن جاتی ہے اور صاحب ِ نصاب کے لیے مستقل صدقہٴ جاریہ۔

دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ زکوٰة وصول کرنے والے کے اندر احساس ِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور متفکر رہتا ہے کہ اسے یہ رقم واپس کرنی ہے، اور بہر صورت وہ معاشی طور پر خود کفیل ہونے کی کوشش کرنے لگ جاتا ہے، بصورت دیگر اگر اسے یہ بتا دیا جائے کہ یہ رقم آپ کی ہے، آپ کاروبار کیجیے تو تجربہ بتاتا ہے کہ وہ رقم کسی اور مصرف میں خرچ کر ڈالتا ہے اور آئندہ پھر زکوٰة کی رقم کا امیدوار بن کر لائن میں لگا ہوتا ہے، لیکن اس حیلہ سے معاشرے کے ایک فرد کو زکوٰة لینے کے بجائے دینے والا بنایا جاتا ہے ،تاکہ معاشرتی سدھار ہو سکے۔

دوسرا تعاون بطور قرضہ حسنہ ہے، اس مد میں صرف عطیات کی رقم ہوتی ہے، اس میں زکوٰة کی رقم شامل نہیں کی جاتی، عین اسی طرح بے روزگار/ ہنر مند طبقہ کو قرض حسنہ دیا جاتا ہے اور یہ قابل واپسی ہے، اقساط کی صورت میں ادارہ اس کی باقاعدہ وصولی کرتا ہے اور وصولی کے بعد اپنی صوابدید پر ہی اسے آگے کسی اور شخص کو بطور قرض دیتا ہے۔

دریافت طلب امور یہ ہیں:
کیا اس صورت میں زکوٰة کی ادائیگی ہوجاتی ہے ؟ کیا اس طرح ملکیت منتقل کی جاسکتی ہے؟ کیا انتقال درا نتقال سے زکوٰة کی رقم کو سرکل میں لاکر معاشرہ کے مستحق افراد کو معاشی طور پر بحال کرنا شرعی طور پر پسندیدہ فعل ہے؟ مدلل، جامع اور باحوالہ جواب عنایت کیجیے۔

جواب… مذکورہ طریقہ کار تملیک نہیں، بلکہ قرضہ شمار ہو گا اور زکوٰة کی ادائیگی مزکی (زکوٰة ادا کرنے والے) کے ذمے باقی رہے گی، جب کہ ٹرسٹ والوں پر اس رقم کا ضمان مزکی کو ادا کرنا واجب ہو گا۔

اس کے ساتھ یہ بات واضح رہے کہ زکوٰة ادا کرنے والے یہ رقم ٹرسٹ والوں کو مستحقین تک پہنچانے کے لیے دیتے ہیں، نہ کہ لوگوں کو (اگرچہ وہ مستحق ہی کیوں نہ ہوں) یہ رقم قرضے کی صورت میں دینے کے لیے،اسی طرح اس طر یقے میں یہ خامی بھی ہے کہ وہ مستحقین جو خود کمانے کے قابل نہیں، مثلاً :بوڑھے، بیوہ وغیرہ وہ اس رقم سے محروم رہیں گے، البتہ اگر زکوٰة اور دیگر واجب صدقات کے علاوہ دیگر عطایا (جیسا کہ استفتاء کی دوسری صورت میں مذکور ہے) معطین کی اجازت سے اس غرض کے لیے استعمال کیے جائیں تو جائز ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.