جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

کیرم بورڈ کی دکان کھولنا
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے ہوٹل کا کاروبار شروع کیا اور اس سے ملحقہ ایک کمرہ میں کیرم بورڈ کھیلنے کے لیے لڑکوں کوجگہ مہیا کی اور ایک گیم پر 30 روپے اور 50 روپے مقرر کیے ہوئے ہیں، نماز کے اوقات میں بھی یہ کھیل جاری رہتا ہے، نیز جیتنے والے ہارنے والوں پر کھلانے کی شرط بھی لگاتے ہیں، جب کہ مسجد کا راستہ بھی قریب ہے ،اس سے بچوں کا ماحول بھی خراب ہوتا ہے، لہٰذا قرآن وحدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب…واضح رہے کہ شرعاً ایسا کھیل کھیلنا ممنوع اور مذموم ہے جس کے کھیلنے سے آخرت سے غفلت ہو، اسی طرح ہر وہ کھیل جو محض وقت گزاری کے لیے ہو یا ورزش سے زیادہ اس میں لہو ولعب ہو یا اس میں ہارجیت کے مقابلے میں مال لگانے کی شرط ہو تو اس کا کھیلنا بھی شرعاً ممنوع اور مذموم ہے۔

صورتِ مسئولہ میں کیرم بورڈ چوں کہ محض وقت گزاری کے لیے کھیلا جانے والا ایک کھیل ہے اور نمازوں کے اوقات میں بھی یہ کھیل جاری رہتا ہے جو کہ آخرت سے غفلت ہے، اور اس میں ورزش کا پہلو تو بالکل مفقود ہے، بلکہ صرف لہو ولعب اور تماشہ کے لیے ہی ہے، اس سے بچوں کا ماحول بھی خراب ہوتا جارہا ہے، ان وجوہات کی بنا پر شرعاً یہ کھیل ممنوع او رمذموم ہے، لہٰذا اس شخص کے لیے اس کو فوری طور پر ختم کرنا ضروری ہے، نیز اس میں ہارجیت کے مقابلے میں کھلانے کی شرط لگائی جاتی ہے جو کہ قمار(جوّا) ہے اور قمار (جوّا) کو الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں حرام قرار دیا ہے۔

نشے کی حالت میں ایک ہی مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی مرد شراب کے نشے کی حالت میں لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو کہے کہ ” میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی“ یعنی لفظ طلاق کو ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ دہراتا ہے“ برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

جواب… صورت مسئولہ میں نشے کی حالت میں جو تین طلاقیں دی گئی ہیں وہ تینوں واقع ہو گئی ہیں، لہٰذا اب یہ عورت اس مرد پر حرمت مُغَلَّظَہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے اور حلالہ شرعیہ کے بغیر نہ رجوع ممکن ہے اور نہ تجدید نکاح۔

دوران عدت عورت کا امتحان دینے کے لیے جانے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے حوالے سے کہ ایک لڑکی عدت طلاق گزار رہی ہے، اس لڑکی نے جمعیت تعلیم القرآن کے تین ماہ کے کسی کورس میں شرکت کی ہے، اب چند دن بعد اس کے کورس کا امتحان ہو گا، جب کہ کورس کروانے والے حضرات اس عدت گزارنے والی لڑکی سے امتحان میں شرکت کے لیے کسی دارالافتاء کا لکھا ہوا فتویٰ مانگ رہے ہیں جس کے بعد وہ امتحان میں شرکت کرسکے گی، پوچھنا یہ ہے کہ کیا عدت کے دوران لڑکی مذکورہ کورس جو تجوید کے حوالے سے ہے، کے امتحان میں شرکت کرسکتی ہے کہ نہیں؟؟

از راہ کرم جواب ارشاد فرمائیں۔ جزاکم الله خیراً

جواب…عدت طلاق کی ہو یا وفات کی دونوں کے دوران عورت کا بلا ضرورتِ شرعی گھر سے نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر ضرورت اتنی شدید ہو کہ اُس کے لیے جائے بغیر مسئلہ حل نہ ہوتا ہو جیسے موت واقع ہونے کا خطرہ ہو، یا نان نفقہ کو حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلے، تو فقہائے کرام نے مجبوری کی خاطر عورت ( معتدة الوفاة) کو دن میں گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے، لیکن رات کو گھر واپس آنا بہرحال ضروری ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں تجوید سے متعلق امتحان دینے کے لیے نکلنا کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے، جس کے بغیر چارہ کار نہ ہو، بلکہ عدت کے بعد اگلے سال بھی یہ امتحان دیا جاسکتا ہے، اس لیے عدت کے زمانہ میں امتحان دینے کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

مسافت سفر کے درمیان پندرہ دن  سے کم قیام ہو تو آدمی مسافر شمار ہو گا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی تشکیل کسی دور مسافت سفر سے زیادہ فاصلے پر واقع مقام میں پندرہ یا بیس دن کے لیے ہو جائے، لیکن وہاں جاتے ہوئے راستے میں ایک دو جگہ پندرہ دن سے کم کی تشکیل ہو، تو وہ شخص پندرہ دن سے کم تشکیل والی جگہوں میں قصر کرے گا یا اتمام؟ مثلاً: سیالکوٹ سے ایک شخص کی تشکیل لکی مروت کی طرف ہوئی، اس طور پر کہ وہ دس دن کا مونکی او رایک دن رائیونڈ مرکز میں گزار کر وہاں جائے گا، تو ایسا شخص کا مونکی اور رائیونڈ میں قصر کرے گا یا اتمام؟

کامونکی ، سیالکوٹ سے اسی (80) کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے، لیکن تیس (30) کلو میٹر کے بعد درمیان میں اس کا وطن اصلی ڈسکہ آتا ہے، کامونکی سے رائیونڈ تک سو (100) اور رائیونڈ سے لکی مروت تک چار سو کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔

جواب… واضح رہے کہ جب کوئی شخص مسافت سفر (سواستتر کلومیٹر) کے بقدر مسافت طے کرنے کا ارادہ کرکے روانہ ہو جائے، تو وہ جب تک کسی جگہ پندرہ دن یا زیادہ قیام کا ارادہ نہ کرے، برابر مسافر رہتا ہے ، اگرچہ درمیان میں کئی جگہ پندرہ دن سے کم قیام کرتا رہے، اس لیے مذکورہ شخص کامونکی اور رائیونڈ میں قیام کے دوران قصر یعنی دورکعت نماز ادا کرے گا اور مذکورہ دونوں مقامات میں وہ مسافر شمار ہو گا۔

جبری اور اختیاری پروایڈنٹ فنڈ(جی پی فنڈ) اور اس پر ملنے والے منافع کا حکم وغیرہ
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں گورنمنٹ کا ملازم ہوں، ہماری تنخواہ سے ہر ماہ 30 روپے گورنمنٹ کاٹتی ہے او ران کے کہنے کے مطابق وہ ان روپوں سے کاروبار کرتے ہیں اور ہمیں یہ اختیار ہے کہ ہم ان 30 روپوں سے بڑھا کے جتنے مرضی کرنا چاہیں کرسکتے ہیں اور میں نے ہر مہینے 2000 روپے کٹوانے شروع کر دیے، بعد میں جب علمائے کرام سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے کہ یہ روپے کٹوانا تو ٹھیک ہے لیکن اس کے اوپر جو منافع ملتا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے، لیکن جو گورنمنٹ خود کاٹتی ہے تو اس پہ ہم مجبور ہیں تو وہ2000 ہزار روپے میں نے کٹوانے اب بند کر دیے اور دو ہزار روپے سے پہلے پندرہ سو کٹواتا تھا اورایک سال پندرہ سو روپے کٹوائے اور دوسرے سال دو ہزار، تو یہ ٹوٹل ملا کے 42000 روپے ہو گئے اور اس سے پہلے جو گورنمنٹ خود کاٹ رہی تھی وہ منافع سمیت چوبیس سو روپے بنتے ہیں،42000 ہزار کا منافع اور یہ ملا کے ٹوٹل تقریباً48000 ہزار روپے بنتے ہیں، مجھے اس رقم کی ضرورت پڑی تو اس ٹوٹل رقم کا80% نکلواسکتے ہیں جو تقریباً38400 روپے بنتا ہے تو میں نے 38000 نکلوا لیے، کیوں کہ +42000 44400=2400 تو میرے اپنے تھے، میں جو رقم نکلوا رہا تھا وہ یہ تھی ،اس میں سود والی رقم شامل نہیں ہو رہی تھی اور ہم جو رقم نکلواتے ہیں وہ دوبارہ وہی رقم پوری کرنی ہوتی ہے جتنی نکلوائی تھی، مثلاً: میں نے38000 نکلوائے تو میں نے ہر مہینہ کی قسط دے کر یہ پورے کرنے ہیں، البتہ یہ ہمیں اختیار ہوتا ہے کہ کتنے مہینوں میں ہم ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس میں بھی کم از کم قسط 1000 روپے ہے تو میری یہ رقم38 مہینوں میں پوری ہو جائے گی۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ گورنمنٹ ان 1000 روپے کے ساتھ بھی176 روپے زیادہ کاٹ رہی ہے اور وجہ یہ لکھی تھی کہ یہ انٹرسٹ یعنی سود کو پورا کرنے کے لیے کاٹ رہے ہیں، مجھے تو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ اوپر6 روپے بھی کٹیں گے اور اس میں ہوں بھی بے اختیار، تو اس میں گناہ گار تو نہیں ہوا اور کیا میں یہ رقم دوبارہ اس طرح نکلواسکتا ہوں؟

جواب… واضح رہے کہ حکومت ملازمین کی تنخواہوں سے جو کٹوتی جبری کرتی ہے اور اس پر کچھ منافع بھی دیتی ہے تو وہ کٹوتی او رمنافع دونوں لینا جائز ہے اگرچہ حکومت یہ منافع سود کے نام پر دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ شرعاً سود نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے ایک تبرع ہے، البتہ جو کٹوتی ملازم اپنے اختیار سے کرواتا ہے او رپھر حکومت اس پر بھی سود کے نام سے کچھ منافع دیتی ہے، تو اس صورت میں وہ کٹوتی لینا تو جائز ہے، لیکن اس پر ملنے والے منافع سے اجتناب کر لینا بہتر ہے، لہٰذا اس کو وصول کرکے صدقہ کردیں۔

پراویڈنٹ فنڈ سے قرض لینے  اور حکومت کی طرف سے زائد رقم کاٹنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ 42000 ہزار پر سود3600 ہے، ان 3600 کے علاوہ باقی ساری رقم میں استعمال کرسکتا ہوں جو بڑھ کے اب 56000 سے کچھ اوپر ہو گئی ہے، یعنی52400 روپے بنتے ہیں، یہ52400 روپے میں استعمال کرسکتا ہوں اور اس کے بعد یہ اور بڑھتے جائیں گے ہر مہینہ10% کے حساب سے۔

الله پاک آپ حضرات کو کروڑوں خوشیاں عطا فرمائے اور دنیا اور آخرت کے ہر میدان میں کام یاب وکامران کرے۔ آمین

جواب…بوقت ضرورت ملازم اگر اپنے اس فنڈ سے کچھ رقم نکلواتا ہے او رپھر حکومت قسط وار وہ رقم اس کی تنخواہ سے کاٹتی ہے اور اس کے ساتھ سود کے نام سے کچھ زائد رقم بھی کاٹتی ہے، جو اس ملازم کے اپنے فنڈ ہی میں جمع ہو جاتی ہے، جس سے وہ کمی جو فنڈ کے اندر آگئی تھی، وہ پوری ہو جاتی ہے، لیکن حقیقت میں نہ تو یہ سودی معاملہ ہے اور نہ ہی وہ زائد رقم شرعاً سود ہے جو حکومت سود کے نام سے کاٹتی ہے، لہٰذا مذکورہ طریقہ سے رقم نکالنے کی شرعاً گنجائش ہے۔

اجیر خاص سے متعلق چند مسائل
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک ادارے میں ملازمت کرتا ہوں جس میں پہلے میری ذمہ داری اشیاء کی خریداری تھی، لیکن پھر میری ذمہ داری بدل دی گئی اور ہمارے ادارہ میں پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ ملازمت پر رکھتے ہوئے تنخواہ ، اوقات او رکام واضح طوربتا دیا جاتا ہے او رجس عہدے پر فائز کیا جاتا ہے وہ بھی تحریری طور پر واضح کر دیا جاتا ہے لیکن جب بھی مالکان ضرورت محسو س کرتے ہیں عہدہ اور کام بدل دیتے ہیں بنا ملازم کی رضا مندی کے او راگر ملازم نئی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دے تو کبھی عذر قبول کر لیا جاتا ہے اور کبھی ملازمت سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔

1..کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہو گا؟
2..…مالکان اپنے ملازم سے طے شدہ کام کے علاوہ او رکیا کیا کام ملازمت کے اوقات میں لے سکتے ہیں؟
3..… کیا ملازم کو اس بنا پر ملازمت سے فارغ کرنا درست ہو گا؟

جواب… حضور صلی الله علیہ وسلم کا مبارک ارشاد ہے کہ” زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا“ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ معاملات کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور انصاف کا معاملہ کیا جائے، ادارہ کی طرف سے جب اپنے ملازمین کو ان کاکام واضح طور پر بتا دیا جاتا ہے کہ آپ سے فلاں کام لیا جائے گا تو چاہیے کہ ان سے وہی کام لیا جائے جو ان کے لیے متعین کیا جاتا ہے، ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا کام تبدیل نہ کیا جائے، تاہم اگر ادارہ واقعی ضرورت محسوس کرے تو ملازمین کی رضا مندی سے ان کا کام تبدیل کرسکتا ہے، اس مختصر تمہید کے بعد سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔

جواب ،1..2..ادارہ ملازمین سے وہی کام لے جس کی تعیین ان کے لیے واضح طور پر کی ہے، تاہم اگر ادارہ ضرورت محسوس کرے تو ملازمین کی رضامندی سے کوئی اور کام لے سکتا ہے۔

3…ادارہ نے ملازم کے لیے جب ایک کام کی تعیین کر دی تو ادارے کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی پاس داری کرے، البتہ اگر ادارہ ضرورت کی بناء پر اس سے کوئی او رکام لینا چاہے اور ملازم طے شدہ کام کے علاوہ کسی او رکام کے کرنے سے انکار کر دے تو اس بناء پر اس کو ملازمت سے فارغ کرنا مروّت کے خلاف ہے، تاہم شرعاً اس وجہ سے اس کو ملازمت سے فارغ کرنے کی گنجائش ہے۔

روضہ اطہر کو چومنا کیسا ہے؟
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ روضہٴ اطہر کو ہاتھ لگا کر چومنا اور اس سے تبرک حاصل کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب… واضح رہے کہ روضہٴ اطہر ( علی صاحبھا الف الف سلام وتحیة) کی زیارت بہت بڑی سعادت اور منجملہ عبادتوں میں سے ایک عظیم عبادت ہے، تو جیسے اور عبادتوں میں آداب کی رعایت رکھنا ضروری ہے اسی طرح یہاں بھی آداب کی رعایت رکھنا ضروری ہے، چناں چہ فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ زیارت کرتے وقت نہ روضہٴ اظہر کی دیوار کو چھویا جائے اور نہ ہی بوسہ دیا جائے کیوں کہ یہ عمل ادب کے خلاف ہے، لہٰذا اس سے لوگوں کو روکنا چاہیے، البتہ ایسے شخص کے ساتھ سختی کا معاملہ نہ کیا جائے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.