جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حدیث رسول کے باب میں ہماری کوتاہیاں اور صحابہ کرام کی احتیاط

محمد مجاہد بن محمد خلیل
متعلم تخصص فی الحدیث،جامعہ فاروقیہ کراچی

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أما بعد!
امت مسلمہ آج تنزلی کا شکار ہے، ہر طرف امت محمدیہ ہی ظلم وجبر کے سمندر میں ڈوب رہی ہے، کہیں بھی امت مسلمہ کو چین وسکون میسر نہیں تھا،اگر آپ اس کے بارے میں غور کریں کہ وہ کونسے اسباب ہیں جن کی وجہ سے آج امت زوال کا شکاربنی ہے…تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ آج ہم احکام ِ اسلام اور تعلیماتِ اسلام سے دور ہیں، اگر آپ اسلام کی ابتدائی تاریخ پر روشنی ڈالیں، تو آپ پر یہ بات آشکارہ ہو گی کہ قرن اول میں جومسلمانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا ،تو اس کی وجہ صرف اور صرف اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہونا ہے، اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک آواز پر جنگل کے درندوں نے جنگل کو خالی کیا ہے، تو صرف اور صرف اسلام اور شعائر اسلام پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے اور آج ہم جو ذلیل و خوار ہو رہے ہیں تو صرف اور صرف اسلام سے دور ہو نے کی وجہ سے ۔

اسلام کے احکامات نہ صر ف ایک عام انسان کی زندگی سے دور ہو رہے ہیں ، بلکہ خواص تک کی زندگی بھی بعض احکام اسلام سے تہی دامن نظر آتی ہے اور سب سے زیادہ اسلام کے جس گوشے میں ہماری کمزوری دیکھنے میں آ رہی ہے،وہ ہے روایت حدیث ، حدیث کے باب میں ہم اتنے جری بن گئے ہیں کہ ہر کس وناکس سے اور ہر طرح کی حدیث کو بیان کرنا ہمارا معمول بن گیا ہے اور اس میں ہمیں کوئی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں ہوتی،بلکہ ہم ہر حدیث کو بیان کرنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں، خواہ اس کی کوئی اصل ہو یا نہ ہو ، چاہے اس کی کوئی سندِ معتبر ہو یا نہ ہو۔

آج ہمارے معاشرے میں بہت سی احادیث اور آپ صلی الله علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب واقعات رواج پارہے ہیں اور زبان زد عام ہورہے ہیں ،جن کی اصل میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور کتب حدیث میں ان کا ذکر تک نہیں ملتا، بلکہ ان زبان زد عام من گھڑت احادیث اور واقعات میں سے ایک وہ حصہ بھی ہے جو بعض خواص کے حلقوں میں بھی وقتاً فوقتاً منبر ومحراب ، وعظ ونصیحت کی مجالس اور تصنیف وتالیف کے میدان میں متعدد رسائل اور کتب کی زینت بنتا رہتا ہے اور یوں ان غیر محتاط خطباء ،واعظین اور مصنفین کرام کی زبانوں پر کمزور اور واہی روایات ،من گھڑت احادیث اور بے سند ولا اصل واقعات معاشرے میں پنپتے اور رواج پاتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ کثرت رواج اور شہرت کی وجہ سے بعض دفعہ یہ احساس ہی ختم ہو جاتا ہے کہ ذہن کے کسی خانے میں یہ تصور اور شعور پیدا ہو کہ اس حدیث یا واقعے کی تحقیق کی جائے اور اس کی اصل اور سند کو تلاش کیا جائے کہ آیا یہ معتبر بھی ہے یا نہیں ؟ایسا نہ ہو کہ وہ بات جسے حدیث کہا جارہا ہے ، یا وہ واقعہ جسے آپ صلی الله علیہ و سلم یا آپ صلی الله علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب کیا جارہا ہے، اس کا کسی حدیث کی کتاب یا کسی معتبر ماخذ اور وثیقہ میں ثبوت ہی نہ ملتا ہو،بلکہ زمانہ قریب یا بعید سے اعداء دین اور ملحدین کی شرارت اور دسیسہ کاری یا کسی اپنے کے تساہل کی بنا پر اسلامی معاشرے میں داخل ہو کر رواج پا گیا ہو۔

جب کہ حدیث کے بارے میں جتنی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے شاید ہی کسی اور کام میں اتنی احتیاط درکا ر ہو، جیسا کہ حدیث نبوی میں آتا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ :جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

”عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ․“ (الصحیح لمسلم:رقم الحدیث:3)

ایک اور حدیث میں اس سے بھی زیادہ سخت وعید وارد ہوئی ہے، اگرچہ الفاظ اس کے نرم ہیں ،لیکن معنی کے لحاظ سے وہ حدیث مذکورہ بالا حدیث سے زیادہ سخت ہے، امام ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی  اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں کہ:آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کوئی حدیث بیان کی اور اس کا خیال یہ ہو کہ یہ جھوٹ ہے(یعنی یہ بات حدیث رسول نہیں ہے) تو و ہ جھوٹوں میں سے ایک جھوٹاہے۔

”عَنِ الْمُغِیرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ حَدَّثَ بِحَدِیثٍ وَہُوَ یُرَی أَنَّہُ کَذِبٌ، فَہُوَ أَحَدُ الْکَذَّابِینَ․“(مسند : رقم الحدیث:18211)

مذکو رہ بالا دونوں احادیث پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات آشکارہ ہوتی ہے کہ حدیث کے باب میں انتہائی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم اس شخص کو جہنم کی وعید سنا رہے ہیں جس نے ایسی بات کو امام الانبیا ء علیہ السلام کی جانب منسوب کیا جو بات آپ نے فرمائی نہ ہو، لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم حدیث کی تحقیق کرنا گویا کہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، ہمارے گھروں اور دکانوں پر بیسیوں ایسی باتیں آویزاں ہوتی ہیں جو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں ، ہماری مجالس میں بہت سی باتوں کو حدیث کہہ کر بیان کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت کے لحاظ سے وہ حدیث نہیں ہے، مثلاً:ایک حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ ایک شخص آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں آپ سے دنیا اور آخرت کے متعلق سوالات کرنا چاہتا ہوں ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : جو چاہو پوچھو، اس پر اس شخص نے کہا کہ:اے اللہ کے نبی !میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاکہ :اللہ کا خوف اختیار کرلو، سب سے بڑے عالم بن جاو گے، وہ آدمی کہنے لگاکہ :میں لوگوں میں سب سے زیادہ غنی بننا چاہتا ہوں، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاقناعت اختیار کرو، لوگو ں میں سب سے زیادہ غنی بن جاو گے، اسی طرح اس شخص نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے چوبیس سوالات کیے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان تمام کے جوابات سے آگاہ فرمایا، ہم طوالت کے خوف سے صر ف اتنا ہی بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔

اس حدیث کو علامہ جلال الدین سیوطی نے جامع الاحادیث میں شیخ شمس الدین القماح کے مجموعہ سے نقل کیا ہے اور اس کے علاوہ اس بات کا کوئی اور ماخذ ومصدر ہم کو نہیں ملا، علامہ سیوطی  کے شیخ شمس الدین القماح نے اپنے سے اوپر اس حدیث میں صرف تین روات کاذکر کیا ہے، حالاں کہ حضرت خالد بن ولید (جو کہ اس حدیث کو حضورصلی الله علیہ وسلم سے روایت کرنے والے ہیں )کا انتقال 21ھ میں ہو ا ہے اور اس حدیث کے سب سے پہلے راوی اور حضرت خالد بن ولید کے درمیان کئی صدیوں کا فاصلہ ہے ، جسے اس سند میں صرف درمیان کا ایک راوی طے کر رہا ہے،حدیث کا دارومدار ہی سند متصل معتبر پرہوتا ہے، اس حدیث کی تو سند موصول ہی ثابت نہیں ہے اور اسناد کی اہمیت کے بارے میں امام عبد اللہ بن مبارک  کا قول صحیح مسلم کے مقدمہ میں موجود ہے الإسنادمن الدین لولاالإسناد لقال من شاء ماشاء ا سی طرح عصر قریب کے عظیم محقق، شیخ العصر، عبد الفتاح ابو غد ہ صاحب المصنوع کے مقدمہ میں فرماتے ہیں : جب حدیث کی سند ہی نہ ہو، تو وہ بے قیمت اور غیر قابل التفات ہے ، کیوں کہ ہماری جانب ہمارے آقا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کلام کو نقل کرنے میں اعتماد صرف اسی سند پر ہو سکتا ہے۔(ص:18)

اسی طرح ہماری اصلاحی مجالس میں ایک واقعہ بہت معروف ومشہور ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے تمام مدینہ والوں کی دعوت کی ، اسی دوران رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی نظر اچانک ایک صحابی پر پڑی، جو کسی گہری سوچ میں تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: عبد الرحمن بن عوف نے مدینہ والوں کی دعوت کی ہے اور تم یہاں بیٹھے کیا غور وفکر کر رہے ہو؟ تو وہ صحابی کہنے لگے: یا رسول اللہ ! میں یہاں اسی فکر میں بیٹھا ہوں کہ کیسے آپ صلی الله علیہ وسلم کا ایک ایک امتی جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے؟ ا س پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگرعبد الرحمن ہزار سال بھی مدینہ والوں کی دعوت کرتا رہے، تو تمہارے ثواب کو نہیں پاسکتا۔

حالاں کہ اس اور اس سے پہلے والے واقعہ کی سند ہی ثابت نہیں ہے اور ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ جس بات کی سند ثابت نہ ہو اس کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا درست نہیں ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث جو کہ ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ مشہور ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا اور میسجز وغیرہ پر کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے سب سے پہلے رمضان کے چاند کی خوش خبری دی اس پر جنت واجب ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی آج کل عوام میں مشہور ہے، کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے سب سے پہلے ربیع الاول کے چاند کی خوش خبری دی اس پر جنت واجب ہے، حالاں کہ کتب ِ حدیث میں اس طرح کی کوئی روایت موجود ہی نہیں ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث جو کہ ہمارے منبرو محراب سے سننے میں آتی رہتی ہے، کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فریاما:”النَّاسُ کُلُّہُمْ مَوْتَی إِلَّا الْعُلَمَاء َ، وَالْعُلَمَاء ُ کُلُّہُمْ نِیَامٌ إِلَّا الْعَامِلُونَ، وَالْعَامِلُونَ کُلُّہُمْ یَغْتَرُّونَ إِلَّا الْمُخْلَصِینَ، وَالْمُخْلِصُونَ عَلَی خَطَرٍ عَظِیمٍ․“

ترجمہ: لوگ سب کے سب مردہ ہیں سوائے علماء کے ، علماء سب کے سب ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں سوائے عمل کرنے والوں کے ، عمل والے سب غرق ہیں سوائے اخلاص والوں کے ، اخلاص والے بڑے خطرے میں ہیں۔حالاں کہ حافظ ابن جوزی، حافظ صغانی ، شیخ عجلونی اور علامہ محمد طاہر پٹنی  جو کہ اکابر امت اور حدیث کے میدان میں رسوخ رکھنے والی شخصیات ہیں ، انہوں نے اس حدیث کو موضوع کہاہے، دراصل یہ قولِ رسول نہیں ہے، بلکہ اس کے ہم معنی ایک قول حضرت سہل تستری  کا ہے، جس کوخطیب بغدادی نے اقتضاء العلم میں بیان کیاہے، اس لیے اگر بیان کرنا ہو تو پھر سہل تستری  کی طرف نسبت کرکے بیان کرنا چاہیے، نہ کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے بیان کیا جائے ،اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ہر بات اچھی ہے، لیکن ہر اچھی بات حدیث رسول نہیں ہے،جیسا کہ شیخ العصر عبد الفتاح ابوغدہ اپنی علوم حدیث کے تعارف میں مشہور کتاب لمحات من تاریخ السنة وعلومھا کے حاشیہ میں اسی بات کو امام مزی کی جانب نسبت کرکے لکھتے ہیں۔(لمحات،ص:93)

اسی طرح ایک واقعہ ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ مشہور ہے، جب ہمارے خطباء حضرت ابوبکر صدیق  کے فضائل کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس واقعہ کو اکثر بیان کرتے ہیں، وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے، اس حال میں کہ آپ نے ٹاٹ کا لباس پہنا ہوا تھا، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل!اس سے پہلے تو آپ میرے پاس اس حالت میں کبھی نہیں اترے؟ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آسمان میں وہ لباس پہنیں جو زمین پر ابوبکر صدیق  نے پہناہوا ہے۔(تاریخ بغداد، 14/ 478)

حالاں کہ اس واقعہ کو حافظ جلال الدین السیوطی(متوفی:911) نے اللآلی المصنوعة میں، حافظ ابن عراق الکنانی (متوفی:963)نے تنزیہ الشریعةمیں اور علامہ محمد بن علی الشوکانی  (متوفی:1250) نے الفوائد المجموعة میں موضوع کہا ہے۔

اسی طرح ایک واقعہ جو کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ مشہور ہے، خاص طور پر ہمارے خطباء جب بھی سیرت کے عنوان پر بیان کرتے ہیں تو اس واقعہ کو اکثربیان کرتے ہیں اور عوام سے داد تحسین وصول کرتے ہیں، وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ کی سوئی ان کے ہاتھ سے نیچے گِر گئی ، جسے وہ تلاش کرتی رہیں ،لیکن سوئی نہ ملی، اچانک آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے نورانی چہرے کی شعاع سے سوئی نظر آ گئی ۔ اس واقعہ کو ابو القاسم علی بن حسین ابن عساکر (متوفی:571) نے تاریخ دمشق میں اور اما م ابو نعیم الاصبہانی نے دلائل النبوة میں ذکر کیا ہے، لیکن برصغیر کے مشہور عالم دین علامہ عبد الحئی لکھنوی  نے الآثار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة میں موضوع(من گھڑت)قصوں کے ضمن میں اس واقعہ کا ذکر کیاہے اور فرمایا کہ یہ واقعہ روایة اور درایة ثابت نہیں ہے۔(مجموعہ رسائل لکھنوی:5/34)

حالاں کہ ہمارے خطباء میں سے جو بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کے چہرے کے حسن کاتذکرہ کرتاہے،تو وہ یہ واقعہ اکثر بیان کرتا ہے حالاں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے اوصاف جمیلہ کے بارے میں کتبِ حدیث صحیح اورمعتبر ومستند احادیث سے لبریز ہیں تو جب معتبر احادیث موجود ہیں تو پھر، ان واقعات کو، جن کی کوئی اصل نہیں ہے یا پھر ان کی سند انتہائی کمزور او ر واہی ہے، جن کی نشان دہی محدثین کرام نے فرمائی ہے،کو بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

اس کے برخلاف اگر ہم ان پاکیزہ ہستیوں کی پاکیزہ زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں ، جن کے ایمان کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے، حتی کے ان کے ایمان کو بعد میں آنے والوں کے لیے بطور پیمانہ قراد دیا ہے،لیکن اس کے باوجود وہ حدیث کے بیان کرنے میں کس قدر احتیاط سے کام لیتے تھے، حالاں کہ ان شخصیات کے شب وروز آپ صلی الله علیہ وسلم کی معیت میں گزرے، تو ان کو کتنی احادیث یاد ہوں گی؟لیکن کوئی تو وجہ ہے ،جو ان کو بیان ِ حدیث سے روکتی رہی اور وہ حدیث کے بیان کرنے میں کڑی احتیاط سے کام لیتے رہے ، یہی حال تابعین ، تبع تابعین اور اکابر امت کا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام نے روایت ِ حدیث میں انتہائی احتیاط اور کڑی شرائط کا مظاہرہ کیا ہے، حدیث اور سند حدیث میں موجود روات حدیث کی دریافت اور ثقاہت اور ضبط کو اعلی کسوٹی پر پرکھنے کے لیے کڑی تدابیر وشرائط کی روشنی میں ان حضرات نے متعدد قواعد وضوابط وضع کیے ہیں ، پھر یہی امور آگے چل کرمستقل علوم:علم مصطلح الحدیث ،علم الجرح والتعدیل ، علل الحدیث ، علم اختلاف الحدیث وغیرہ کی شکل اختیار کر گئے اور یوں رو ایت ِحدیث میں یہ محتاط رویہ آگے جاکر حدیث کے میدان کو وسعت دیتے ہوئے تحقیقات کی دنیا میں متعدد اور متنوع علوم وفنون کا موجد ٹھہرا۔ اب ہم نمونہ کے طور پر صحابہ کرام ، تابعین اور اکابر امت کی روایت ِ حدیث میں احتیاط کی چند مثالیں ذکر کرتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود ان خوش نصیب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ا جمعین میں سے ہیں جن کے بارے میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاکہ” قرآن ان سے لو“ ان کے بارے میں امام ابن ماجہ سنن میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی سیدنا عبد اللہ بن مسعود کو ”قال رسول اللہ“ کہتے ہوئے نہیں سنا۔(سنن ابن ماجہ:1/17)

امام ابومحمد عبد اللہ بن عبد الرحمن الدارمی سنن الدارمی میں حضرت عتاب کے حوالے سے سیدنا انس بن مالک کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ اگر مجھے ا س بات کا خوف نہ ہوتا کہ میں غلطی میں پڑ جاؤ ں گا تو میں تم کو رسول اللہ سے سنی ہوئی احادیث سناتا،امام دارمی فرماتے ہیں کہ جب کبھی آپ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تو اس کے آخر میں او کما قال کے الفاظ ضرور فرماتے تھے۔(سنن الدارمی،1/45)

امام مسلم  (متوفی:261ھ)نے اپنی کتاب صحیح میں محمد بن عبد اللہ الہمدانی کے طریق سے حضرت ابن عمر کا ایک واقعہ نقل کیا ہے، جو کہ حضرت ابن عمر کی روایت حدیث میں احتیاط کو اجاگر کرتا ہے کہ آپ  کے ایک شاگرد نے ایک حدیث میں لفظ صیام رمضان کو لفظ الحج سے مؤخر کر دیا تو اس پر فوراً حضرت ابن عمر نے ان کو روکا اور فرمایا کہ:” قَالَ لاَ. صِیَامِ رَمَضَانَ وَالْحَجِّ، ہَکَذَا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم․“(صحیح مسلم : رقم الحدیث :120)کہ صحیح وہ نہیں ہے جیسے آپ نے پڑھا ، بلکہ الحج کا لفظ صیام رمضان سے مؤخر ہے، اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے۔جب کہ ہم مفہوم کی آڑ میں کیا سے کیا کہہ دیتے ہیں اور ہم کو کوئی فکر نہیں ہوتی ، اسی طرح حضرت عبد اللہ بن زبیر  نے ایک مرتبہ اپنے والد گرامی حضرت زبیر  سے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان نہیں کرتے جیسے فلاں اور فلاں بیان کرتے ہیں؟ اس پر حضرت زبیر نے فرمایا کہ میں کبھی بھی آپ صلی الله علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا ،لیکن میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشادمن کذب علی… سنا ہوا ہے ، اس لیے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے بیان نہیں کرتا۔(صحیح بخاری:رقم الحدیث:107)

امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق ، جو کہ سب سے زیادہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی رفاقت میں رہے، سفر وحضر، جنگ ہو یا امن، غرض ہر جگہ سیدنا صدیق اکبر آ پ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ، تو ان کو آپ صلی الله علیہ وسلم کے کتنے ارشادات یاد ہوں گے؟!لیکن جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں…تو ہم پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ سید نا صدیق اکبر سب سے کم حدیث بیان کرتے تھے، اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ آپ کو اس بات کاخطرہ رہتا تھاکہ کہیں منہ سے وہ بات نہ نکل جائے جو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمائی نہ ہو اور میں اس کی آپ صلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت کر دوں ۔

محدثین کرام نے حدیث بیان کرنے اس قدر احتیاط سے کام لیا ہے کہ اس آدمی کو حدیث پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے جس کو نحو پر عبور حاصل نا ہو، جیسا کہ امام ابن الصلاح (متوفی:643 )اصول حدیث کے باب میں اپنی مشہورکتاب مقدمہ ابن الصلاح میں حضرت اصمعی کے حوالے سے اس بات کو نقل کرتے ہیں ۔(ص:326)

اس کے برخلاف ہمارا حال ہے کہ ہم نے کبھی اس بات کی طرف دھیان دینے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ہم جو بات رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کررہے ہیں ، یا قلم کے ذریعہ اس بات کو اوراق کی زینت بنا رہے ہیں ، یا موبائل وغیرہ کے ذریعہ اس کو سوشل میڈیا پر عام کررہے ہیں … کہ یہ بات بعینہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد بھی فرمائی ہے یا نہیں؟

ہمارے معاشرے میں من گھڑت احادیث جو پھیلی ہیں ، وہ زیادہ تر خطبات سے آئی ہیں ، اگرچہ ان خطبات سے جو نفع امت کو پہنچا اس کا انکا ر کرنا مقصود نہیں ہے اور نہ ان خطبات سے نامور اکابر کے خطبات مراد ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ خطبات ہیں جو کسی معتبر عالم دین اور حدیث میں رسوخ رکھنے والے اہل علم کے نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں حدیث کی تخریج اور حوالہ جات کا التزام کیا گیا ہے، تو ان میں جو حدیث نقل ہو تی ہے اس کو ہم بغیر تحقیق کے بیان کردیتے ہیں ، حالاں کہ یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔

اسی طرح ہماری بعض اصلاحی مجالس میں بھی بعض ایسی احادیث بیان کی جاتی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ ہر دور میں بعض ایسے صوفیا ء اور واعظین آتے رہے ہیں ، جنہوں نے ایسی احادیث بیان کی ہیں جو کہ محدثین کے اصول کے تحت موضوع یا شدیدضعیف تھیں ، اسی لیے جس مصنف نے بھی موضوع یا لا اصل احادیث کو جمع کرنے میں قلم کو جنبش دی اور اس بارے میں کوئی کتاب تالیف کی ہے ،اس میں اس نے متعدد ابواب کو ذکر کرنے کا التزام کیاہے ، تو اس نے ایک باب یہ بھی قائم کیا کہ اس میں صرف ان غیر معتبراحادیث کو ذکر کیا جاتا ہے،جو کہ صوفیائے کرام سے معاشرے میں آئی ہیں۔

اسی طرح معاشرے میں موضوع اور لا اصل احادیث کے پھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بزرگوں کے بہت معتقد ہیں اور یہ بہت ہی اچھی بات ہے، بلکہ آج کے دور میں اپنی اصلاح کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آدمی اکابرین امت سے محبت کرے، ان کے ملفوظات کو پڑھے اور ان کو اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرے۔

یہ عقد ت دیگر اعما ل میں تو مستحسن ہے، لیکن احادیث کو نقل کرنے کے باب میں بھی ان کی عقیدت میں ان پر اعتماد کرتے ہوئے حدیث کو بیان کرنا درست نہیں ہے، بلکہ اصل ماخذ سے حدیث کو دیکھنا چاہیے اور جب آپ اصل ماخذ سے اس حدیث کو نکال کردیکھیں گے تو آپ پر یہ بات عیاں ہو گی کہ کسی جگہ پر تو حدیث کے الفاظ میں زمین وآسماں کا فرق ہوتا ہے اور یہ احتیاطی طرز عمل اپنانے سے ان بزرگوں کے مقام ومرتبہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی ، اس لیے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ معصوم صرف اور صرف انبیائے کرام کی جماعت ہے،ان کے علاوہ کوئی اور معصوم نہیں ہے اور ہر ایک سے غلطی کا امکان ہے، اس لیے بزرگوں کے افادات سے فائدہ حاصل کرنااور ان کوعوام میں بیان کرنا بالکل ایک مستحسن عمل ہے اور اس سے بہت اچھا تاثر بھی پھیلتا ہے، بس اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جب بھی کوئی حدیث ان خطبات یا ملفوظات میں آئے تو صرف ان خطبات یا ان ملفوظات پر ہی اعتماد کرکے اس حدیث کوبیان نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ اس کو اصل ماخذ یعنی حدیث کی کتاب سے نکال کراور اس بات کی تحقیق کرکے کہ یہ حدیث قابل بیان بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو آیا یہی الفاظ اصل حدیث کے ہیں یا کتب ِ حدیث میں حدیث رسول کے کوئی دوسرے الفاظ منقول اور مروی ہیں ؟اور اگر اتنا ملکہ نہ ہو کہ خود حدیث کی حیثیت معلوم کر سکے تو کسی فنِ حدیث کے ماہر سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرکے پھر اس کو بیان کرنا چاہیے۔

اس لیے جوبھی عوام میں کوئی دین کی بات یا کوئی حدیث بیان کرتا ہے ، تو اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوتاہے کہ اللہ تعالی اس سے راضی ہو جائے اور کل قیامت کے دن اللہ جل جلالہ کے سامنے سرخروہو سکے، مرنے کے بعد والی زندگی راحت اور آرام سے گزر سکے،لیکن جب وہ کسی ایسی بات کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے عوام میں پھیلائے گا جس کو اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد نہیں فرمایا، تو اس سے اللہ تعالی کیسے راضی ہوں گے ؟ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم احادیث کو احادیث کے ماخذ اصلی سے دیکھ کر اور ان کی تحقیق کرنے کے بعدیا پھر علم حدیث سے وابستہ حضرات سے پوچھ کر بیان کریں ،تاکہ کل قیامت میں اللہ اور اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے سامنے سرخ رو ہوسکیں اور ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی اس دعا ”نَضَّرَ اللہ امرء اً، سمِعَ منَّا حدیثاً فحفظہ حتی یُبَلِّغَہ“( مسند احمد4/162) کا مصداق بن سکیں، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔ آمین!



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.