جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

ذکری فرقہ اور اس کے عقائد
سوال… ہمارے علاقے میں اصلاحی جماعت کے نام سے ایک گروہ ہے جو سادہ قسم کے لوگوں کو ورغلا رہا ہے اور یہ لوگ مندرجہ ذیل عقائد رکھتے ہیں:
1..صرف ذکر کرو، باقی نماز، روزہ، حج وغیرہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں، ذکر نہیں کرو گے تو یہ تمام فضول ہیں۔
2..سلطان محمد علی ان کا پیشوا ہے، اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے روپ میں آیا ہے، یعنی سلطان محمد علی کی ذات اصل میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ذات ہے، صرف شکل وصورت میں فرق ہے۔
3..سلطان محمد علی کے اندر الله تعالیٰ کی ذات ہے، سلطان محمد علی کا ہاتھ الله کا ہاتھ ہے۔
4..سلطان محمد علی کو امام مہدی بھی کہتے ہیں۔
5..سلطان محمد علی کامل مرشد ہے جو ہر جگہ موجود ہے او راپنے مریدوں کو ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔
6..یہ لوگ خود کو صحابی کہتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو مسلمان بھی نہیں سمجھتے۔
7..یہ لوگ حج نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ وہ ذات پاکستان میں بھی ہے تو وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے!
8..سلطان محمد علی کا لنگر کھانا نہیں ہے بلکہ نور ہے، جو کھائے گا وہ اپنے اندر نور داخل کرے گا، نیز یہ لوگ سعودی عرب کے لوگوں کو مسلمان نہیں مانتے۔

یہ لوگ اپنی اصلیت عام تقریروں اور رسالوں سے ظاہر نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو ورغلا کر اپنے دفاتر لے جاتے ہیں اور جب وہ قریب جاتے ہیں تو یہ مندرجہ بالا باتیں کرتے ہیں، تب ان کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے، میں خود ان کے دفتر جاکر ان کی گفت گو سن چکا ہوں۔ آپ حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری وضاحت کے ساتھ راہ نمائی فرمائیں، تاکہ سادہ لوح مسلمان ان کے شکنجے میں پھنسنے سے محفوظ ہو جائیں۔

وضاحت…سوال میں مذکورہ”اصلاحی جماعت“ سے فرقہ ”ذکری“ مراد ہے، ذکریوں کی ہیرا پھیری کی وجہ سے سائل ان کے عقائد پر مکمل طور سے مطلع نہیں ہو سکا، عقائد کی مزید وضاحت جواب میں حسب ضرورت کر دی گئی ہے۔

جواب…1..واضح رہے کہ نماز، روزہ، حج جیسی عبادتیں ضروریاتِ دین میں سے ہیں، یعنی یہ دلائل قطعیہ سے ثابت ایسے احکام ہیں جن کا دین میں شامل ہونا ہر خاص وعام کے علم میں ہے، ان میں سے کسی حکم کا بھی انکا رکرنا یا اس کی تخفیف کفر ہے، لہٰذا جو شخص نماز، روزہ، حج وغیرہ کو ہلکا سمجھے اورانہیں کوئی خاص اہمیت نہ دے، بلکہ ذکر کے بغیر ان ارکان کو فضول سمجھے، تو وہ اسلام سے خارج ہے۔

درحقیقت ذکری فرقہ کے پیروکار سرے سے نماز کے منکر ہیں، نماز کے بجائے پانچ وقت ذکر کرتے ہیں۔ (کتاب: میں ذکری ہوں،ص:7)

اسی طرح یہ لوگ رمضان کے روزوں کے بھی منکر ہیں، اس کے بجائے دوسرے دنوں میں تین ماہ آٹھ دن روزے رکھ لیتے ہیں۔ (کتاب:”میں ذکری ہوں“:1/39-37)

2..صحیح بات یہ ہے کہ یہ لوگ سید محمد جون پوری کو باقاعدہ رسول مانتے ہیں اور ان کا کلمہ یہ ہے :”لا الہ الا الله نور پاک مہدی مراد الله“، الفاظ کی ہیر پھیر سے ان کے اصل عقائد نہیں چھپ سکتے، حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، جو شخص آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبی مانے، وہ کافر ہے۔

3..ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ الله تعالیٰ ہر لحاظ سے یکتا ہیں، نہ آپ کا کوئی مثل ہے اور نہ ذات وصفات میں کوئی آپ کا شریک ہے، لہٰذا الله رب العزت کی ذاتِ عالی یا صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانے والا مشرک ہے۔

4..یہ عقیدہ قطعاً احادیث صحیحہ کے خلاف ہے، احادیث میں جس مہدی موعود کا ذکر ہے وہ قربِ قیامت میں دجال کے ظہور سے پہلے ظاہر ہوں گے، حضرت حسن رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہوں گے، نصاری سے آپ کی بہت عظیم الشان جنگ ہو گی اور آپ ان پر فتح یاب ہوں گے، آپ کے زمانے میں دین کی خوب اشاعت ہو گی، دنیا عدل وانصاف سے بھر جائے گی، مکہ مکرمہ کے باشندے ان سے بیعت کریں گے اور جس سال آپ کا ظہور ہو گا اس سال رمضان میں چاند اور سورج گرہن ہو گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آپ کی ملاقات ہو گی، آپ کے حالات کتب احادیث میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے کوئی علامت بھی ایسی نہیں جو ان کے مذہبی پیشوا پر صادق آتی ہو ۔

5..ہر جگہ موجود او رہرجگہ دیکھنے والے کے لیے”حاضر ناظر“ کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے، جس کا آسان سا مطلب ہے: ”وہ شخصیت جس کا وجود کسی خاص جگہ میں نہیں، بلکہ اس کا وجود بیک وقت ساری کائنات کو محیط ہو اورکائنات کی ایک ایک چیز کے تمام حالات اوّل سے آخر تک اس کی نظر میں ہو“ یہ مفہوم صرف الله تعالیٰ کی ذات پاک پر صادق آتا ہے اور یہ صرف اسی کی شان ہے۔

6..”صحابی“ اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی صحبت مبارکہ سے فیض یاب ہوا ہو، یا بحالتِ ایمان اور بیداری آپ صلی الله علیہ وسلم کی دنیوی حیات میں زیارت سے سرفراز ہو او رپھر حالتِ اسلام پر اس دنیا سے رخصت ہو جائے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بابِ نبوت وصحابیت ہمیشہ کے لیے بند کردیے گئے، کسی مسلمان کوبلاوجہِ شرعی کافر جاننا کفر ہے۔

7..ذکری فرقے سے تعلق رکھنے والے حج جیسی عظیم عبادت کے بھی منکر ہیں، بلکہ یہ تو خانہ کعبہ کو قبلہ ہی تصور نہیں کرتے ، حج بیت الله کے بجائے ”کوہِ مراد“ میں جاکر حج کرتے ہیں، جو کہ تربت(ضلع مکران) کے قریب ایک میل کے فاصلے پر ایک پہاڑ ہے۔ (کتاب: ”مہدی تحریک،ص:71)

8..یہ بالکل باطل اور بے اصل عقید ہے۔

لہٰذا سوال میں ذکر کردہ اصلاحی جماعت کے نام سے موسوم (ذکری) گروہ کے عقائد کا اہل سنت والجماعت کے عقائد سے کوئی تعلق نہیں، یہ فرقہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہے، مسلمانوں کو ایسے عقائد اور ایسے لوگوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔

کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص کا تیمم کرکے نماز ادا کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ
1..کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص تیمم کرکے نماز ادا کرتا رہا، اس کی نمازیں ہوں گی؟
2..تیمم کرنے والا نجاست کیسے دور کرے؟ کپڑے یا بدن سے؟

جواب…1.. واضح رہے کہ کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص کو اگر خادم میسر ہو ، یا ایسا کوئی معاون کہ مدد طلب کرنے پر وہ اس کے ساتھ تعاون کرتا، تو اس طرح کا شخص وضو پر قادر شمار ہو گا، اس پر وضو کرنا لازم ہے اور اس کا تیمم کرنا درست نہیں ہے، وہ نمازیں جو اس نے تیمم سے ادا کی ہیں، ان کا اعادہ کرے گا۔

2..تیمم کرنے والا پانی یا اس کے متبادل پاک چیز کے ذریعے سے اپنے جسم یا کپڑوں سے نجاست دور کرے، اگر کسی بھی طریقے سے وہ نجاست دور کرنے پر قادر نہ ہو تو اسی حالت میں نماز ادا کرے۔

مسجد کا کچھ حصہ وضو خانے میں شامل کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے شہر میں ایک مسجد جس کی تعمیرات قدیم ہونے کی بنا پراس کو از سر نو تعمیر کیا گیا ہے، ساتھ میں مسجد کی توسیع بھی کی گئی، مسجد کا قدیمی وضو خانہ جو مسجد کی مشرقی دیوار سے متصل تھا جس میں صرف دس ٹونٹیاں وضو کرنے کے لیے لگی ہوئی تھیں، لیکن بعد میں نئی تعمیر میں صحن کے کچھ حصہ کو جس کی مقدار دو صفیں، ایک صف میں10 یا12 آدمیوں کی گنجائش ہے، جو کہ مسجد کا صیفی حصہ تھا، وضو خانہ میں شامل کر لیا گیا ہے، بصورت دیگر مسجد میں اتنی گنجائش ہی نہیں اور نہ ہی کوئی دوسری اضافی جگہ ہے کہ جس میں وضو خانہ بنایا جائے، آپ حضرات سے دریافت یہ کرنا ہے کہ شرعاً نئے وضو خانے کو برقرار رکھا جائے یا پھر دوبارہ اس کومنہدم کرکے قدیم صحن کے حصہ کو مسجد کا شرعی حصہ قرار دیا جائے؟

جواب… واضح رہے کہ جب کوئی جگہ ایک دفعہ مسجد شرعی بن گئی، تو وہ جگہ ہمیشہ کے لیے مسجد رہتی ہے، اس لیے اس میں وضو خانہ وغیرہ بنانا ناجائز ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں نئے وضو خانہ کو مہندم کرکے قدیم صحن کے حصے کو اصل مسجد میں داخل کیا جائے؟

وصیت اور وراثت میں فرق
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے کہ وصیت اور وراثت میں کیا فرق ہے۔

جواب…واضح رہے کہ کسی غیر وارث شخص کو اپنی موت کے بعد بطور تبرع واحسان کے کسی سامان وجائیداد وغیرہ یا اس سے نفع اٹھانے کا مالک بنانے کو وصیت کہتے ہیں، وصیت اپنے اختیار سے غیر ورثاء کے لیے کل مال کے صرف ایک تہائی حصہ میں ہوتی ہے، جب کہ وراثت (میراث) اس جائیداد اور مال وغیرہ کو کہتے ہیں جو مرنے والے کی طرف سے اس کے حق دار کو ملتی ہے اور یہ غیر اختیاری ہوتی ہے۔

سود اور منافع میں فرق
سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سود اور منافع میں کیا فرق ہے، جب کہ کچھ علمائے کرام منافع کو جائز اور سود کو ناجائز کہتے ہیں، حالاں کہ تمام بینک اور مالیاتی اداروں نے لفظ سود(Intrest) کو ختم کرکے لفظ منافع(Profit) کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس پر شاید کوئی/ سوال اعتراض نہیں اٹھ رہا ہے۔

جواب…شریعت میں سود بنص قطعی حرام ہے ، قرآن اور حدیث میں سودی معاملات کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، جب کہ منافع کا لینا شریعت میں جائز ہے، سود اس زیادتی کو کہتے ہیں جو لین دین کے معاملات میں دوسرے فریق کی طرف سے بغیر کسی عوض کے ہو، جب کہ منافع میں زیادتی عوض کے بدلے میں ہوتی ہے اور کسی بھی ادارے کا ( چاہے بینک ہو یا کوئی دوسرا مالیاتی ادارہ ہو) صرف سود (Intrest) کا نام بدل کر اس کو منافع (Profit) کا نام دینے سے سود حلال نہیں ہوتا ہے، جب تک حقیقت میں سودی معاملات کو ختم نہ کیا ہو، حدیث میں ایسے لوگوں کے بارے میں وعید ہے، جو نام بدل کر حرام چیز کو حلال کر دیتے ہیں۔

چست لباس کا استعمال اور اس میں نماز کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مردوں میں چست لباس، یعنی پینٹ پتلون کا عام رواج ہو گیا ہے، مرد کے لیے گھٹنوں سے ناف تک کا حصہ ستر ہے، کیا ستر کے صرف یہ معنی ہیں کہ بدن کا رنگ نظر نہ آئے، یا اس کے ساتھ بدن کی ساخت کا نظر نہ آنا یہ بھی مطلوب شرعی ہے؟ ایسے پتلون کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ اس کو پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟پہننے والے کی رانوں کو دیکھنا اور اس کو دکھانے کا کیا حکم ہے؟ ایسی نماز واجب الاعادہ ہے یا نہیں؟ جواب مدلل تحریر فرمائیں۔

جواب… واضح رہے کہ فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے لیے گھٹنوں سے ناف تک کے حصے کے ستر میں بدن کی ساخت کا نظر نہ آنا بھی مطلوب شرعی ہے، لہٰذا اگر لباس اتنا چست ہو کہ اس میں واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو تو اس کا استعمال، پہننے والے کی رانوں کو دیکھنا، اس کو دکھانا ناجائز ہے، البتہ اس میں نماز کراہت کے ساتھ ہو جاتی ہے۔

خون کی ڈرپ اور پیشاب کی نلکی کے دوران نماز کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی کو خون کی ڈرپ لگی ہو، یا پیشاب کی تھیلی نلکی کے ذریعے لگائی گئی ہو تو وہ نماز کیسے پڑھے گا؟ جماعت میں شرکت کرنا اس کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

جواب… واضح رہے کہ جس آدمی کو خون کی ڈرپ لگی ہے اگر ڈرپ کے ختم ہونے کے بعد اس کو اتنا وقت ملتا ہے کہ وضو کرکے نماز پڑھے تو اس صورت میں ڈرپ کے ساتھ نماز نہیں ہوگی، کیوں کہ وہ حامل ِ نجاست ہے اور ڈرپ کا وقت سے پہلے ختم ہونے کی صورت میں معذوربھی نہیں ہے، لیکن اگر ڈرپ اتنے وقت میں ختم نہ ہو جس میں وہ وضو کرکے نماز پڑھ سکے تو وہ معذور شمار ہو گا، ڈرپ لگنے کی حالت میں وضو کرکے نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ اگر مریض کی حالت زیادہ خراب نہ ہو تو ڈرپ نکال کر نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ لگالے۔

اسی طرح جس کو پیشاب کی تھیلی نلکی کے ذریعے لگائی گئی ہے تو وہ بھی معذور ہے، کیوں کہ وہ اپنے پیشاب کے روکنے پر قادر نہیں ہے، چنا ں چہ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے وقت وضو کرکے نماز پڑھے۔

باقی رہی بات جماعت میں شرکت کرنے کی، تو چوں کہ دونوں مذکورہ شخص حامل ِ نجاست ہیں لہٰذا نجاست کی حالت میں مسجد کی جماعت میں شرکت کرنا ان کے لیے درست نہیں۔

حمل ٹھہرنے کے بعد خون آنے کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فقہاء رحمھم الله فرماتے ہیں کہ جب عورت کو حمل ہو جاتا ہے تو اس کو حیض نہیں آتا، بلکہ اگر ان دنوں خون آئے تو وہ استحاضہ شمار ہو گا، اب پوچھنا یہ ہے کہ حمل کا ثبوت شرعا کیسے ہو گا؟ اس لیے کہ حیض کے دوران نمازیں ساقط ہو جاتی ہیں جبکہ استحاضہ میں ساقط نہیں ہوتیں۔

اب عام حالات میں جب خون آتا ہے تو پتہ نہیں چلتا کہ حمل قرار پا چکا ہے، لہٰذا نمازیں ساقط نہیں ہوئی ہیں بوجہ عدمِ حیض کے ،یا حمل قرار نہیں پایا، لہٰذا نمازیں ساقط ہو گئی ہیں بوجہ حیض متحقق ہونے کے۔

اب اس خون کے بارے میں یہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ ؟ کیوں کہ حمل کا ثبوت بھی یقینی طور پر متحقق نہیں ہے۔

جواب…واضح رہے کہ حمل ٹھہرنے کے بعد حیض نہیں آتا، لہٰذا حمل ٹھہرنے کے بعد بھی اگر خون آئے تو یہ استحاضہ ہے، اس کی وجہ سے نمازوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، باقی حمل ایک حسی چیز ہے جس کا احساس عورت کو خود ہو جاتا ہے۔

موبائل کمپنیوں کی طرف سے فری منٹس  اورسم کارڈ پر بنائے گئے اکاؤنٹ کے استعمال کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سم کارڈ پر جو اکاؤنٹ بنائی جاتی ہے اس میں پیسے جمع کرنے کی وجہ سے کمپنی کی طرف سے جو فری منٹس ملتے ہیں اس کا استعما ل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس فری منٹس کے استعمال سے قطع نظراس نفس اکاؤنٹ کا استعمال کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ حالاں کہ اس اکاؤنٹ سے پیسے نکلوانے کے وقت اس سے فیصدی کٹوتی ہوتی ہے۔

جواب…سم کارڈ پر بنائے گئے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرنے سے کمپنی کی طرف سے جو فری منٹس ملتے ہیں یہ قرض پر نفع ہے، لہٰذا اس کا استعمال ناجائز اور حرام ہے، البتہ نفس اکاؤنٹ کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.