جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

مجنون کی نماز جنازہ اور اس کی نمازروزے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی پیدائشی پاگل ہے ،اگر یہ قبل البلوغ یابعد البلوغ مر جائے تو اس کی نماز جنازہ تو بچوں والی پڑھی جائے گی، لیکن اگر پیدائشی طور پر صحیح تھا اور قبل البلوغ پاگل ہو گیا اور بعد البلوغ (پاگل ہونے کی حالت میں ) مر گیا تو اس کی نماز جنازہ کس طرح پڑھی جائے گی۔

اسی طرح ایک آدمی قبل البوغ اور بعد البلوغ صحیح تھا لیکن کچھ عرصہ بعد پاگل ہو گیا اور مر گیا تو اس کی نماز جنازہ کس طرح پڑھی جائے گی اور اس کی نمازوں، روزوں وغیرہ کا کیا ہو گا؟

جواب… جس طرح شریعت نے بچوں کو مکلف نہیں بنایا اسی طرح پاگل بھی مکلف نہیں، لہٰذا جو شخص پیدائشی پاگل ہویا قبل البلوغ پاگل ہوگیا ہو تو اس پر بچوں والے احکام جاری ہوں گے اور اس کی نماز جنازہ بچوں کی طرح پڑھی جائے گی۔

جو شخص بالغ ہونے کے بعد پاگل ہو گیا ہو تو بالغ ہونے کے بعد چوں کہ انسان مکلف ہو جاتا ہے یہ بھی مکلف ہو گیا، لہٰذا بعد البلوغ صحت کے زمانے کے ( کیوں کہ مجنون ہونے کے بعد احکام کا مکلف نہیں) جتنے بھی فرائض وواجبات ہیں سب اس کے ذمے لازم ہیں، جو نمازیں وغیرہ رہ گئی ہوں اور قضاء کرنے کا موقع ملنے کے باوجود قضاء نہیں کی، تو اگر وصیت کی ہو تو ورثاء پر ثلث مال سے قضاء شدہ نمازوں وغیرہ کا فدیہ ادا کرنا ضرور ی ہے اور اگر وصیت نہ کی ہو تو ورثاء پر فدیہ دینا ضروری نہیں، إلاّ یہ کہ کوئی اپنی مرضی سے دینا چاہے تو دے سکتا ہے، مذکورہ شخص کی نماز جنازہ بھی بالغ افراد کی طرح پڑھی جائے گی۔

انسانی، حیوانی اور نباتاتی کلوننگ کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی کلوننگ کا کیا حکم ہے؟

جواب…واضح رہے کہ ”انسانی کلوننگ“ درج ذیل مفاسد کا سبب اور ذریعہ ہے، اس لیے جائز نہیں:
1..منشائے خداوندی کے خلاف ایک غیر فطری عمل ہے۔
2..الله تعالیٰ کی خلقت کو بگاڑنا ہے، جوکہ ایک شیطانی فعل ہے، شیطان نے جنت سے نکلتے وقت کہا تھا:” میں انہیں (انسانوں کو) حکم دوں گا کہ وہ الله تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کریں۔“ (سورة النساء، آیت:119)
3..”عبث فی خلق الله“ کے زمرے میں د اخل ہے۔
4..انسان کی اہانت لازم آتی ہے، جب کہ اہانت سے منع کیا گیا ہے اور تکریم کا حکم ہے۔
5..شریعت کے بے شمار اصولوں سے روگردانی ہے۔
6..تناسل کی غرض سے نکاح کی طرف احتیاج کم ہو گا، کیوں کہ کلوننگ کو اس غرض کے لیے کافی سمجھا جائے گا، جو کہ سنت نبوی (نکاح) سے اعراض کی ایک صورت ہو گی ۔
7..اس عمل کے تحت پیدا ہونے والا بچہ اپنی شناخت سے محروم رہے گا، اور خاندانی نظام بکھر کر رہ جائے گا، حالاں کہ اسلام میں نکاح کی اہمیت اور زنا کی حرمت ”نسب کی حفاظت “ کے پیشِ نظر بھی ہے اور ظاہر ہے کہ کلوننگ کے عمل سے نسب کی حفاظت میں مشکل ہو گی۔
8..کلوننگ کے عمل سے ایک ہی شکل کے کئی بچے پیدا ہوسکتے ہیں، اس لیے جرائم پیشہ لوگوں کے لیے تلبیس وفریب کے دروازے کھل جائیں گے، اس طرح فریب ودھوکہ دہی میں ان کو آسانی ہو گی، جس سے معاشرتی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔
9..عورتیں اپنے بیضے او رجنین کی پرورش کے لیے اپنی بچہ دانیاں فروخت کرنے لگ جائیں گی جو کہ شرعاً ناجائز اور قبیح عمل ہے۔
10..یہ بھی احتمال ہے کہ کلوننگ کے عمل کے تحت پیدا ہونے والے بچے فطری صلاحیتوں سے محروم ، نقائص کے حامل بچے ہوں جو کہ بنی نوع انسان کے ساتھ سراسر ظلم وتعدی کی ایک صورت ہو گی، الله تعالیٰ ظالموں کو ناپسند فرماتے ہیں۔
11.. بغیر ضرورت ”ستر“ کو ظاہر کرنا لازم آئے گا جو کہ ایک حرام فعل ہے۔

”حیوانی کلوننگ“ اگرچہ مباح ہے، لیکن چوں کہ اس میں الله تعالیٰ کی خلقت میں بگاڑ، اس کی مخلوق کی حرمت میں اعتداء لازم آئے گا او راس میں بہت سے تاوان بار نتائج کا بھی احتمال ہے، اس لیے حیوانات میں بھی اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اور رہا”نباتاتی کلوننگ“! تو کلوننگ کے عمل کا یہ میدان پیچیدگیوں سے خالی اور مفاسد او رمخاطر سے پاک ہونے کے سبب نہ صرف جائز بلکہ زراعتی میدان میں ترقی لانے کے لیے مطلوب بھی ہے۔

جینیٹک انجینئرنگ کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ”الھندسة الوارثیة(Genetic Engineering) کو مختلف امراض کے دفعیہ کی جینز(Genes) بنانے کے لیے کام میں لایا جائے، تو اس کا کیا حکم ہو گا؟ جزاکم الله خیراً

جواب…واضح رہے کہ تجرباتی دنیا میں اب یہ بات ممکن سی ہوگئی ہے کہ اگر کوئی جین کسی خاص بیماری کا سبب ہو تو اسے نکال کر اس کی جگہ دوسرا صحت مند اور تندرست جین لگایا جاتا ہے، اس سے بیماری ختم ہو جاتی ہے، اسے ”الھندسة الوراثیة“ (Genetic Engineering) کہا جاتا ہے، شاید اس عمل کے ذریعے سے کینسر اور ایڈز وغیرہ جیسی لا علاج بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہو سکے، لہٰذا درج ذیل شرائط کے ساتھ علاج ہونے کے سبب اس کی گنجائش ہے:
1..بیماری مہلک ہو یا شدید تکلیف کا باعث ہو۔
2..اگر امراض کے دفعیہ کے لیے نہ ہو بلکہ محض کسی فائدے کے حصول کے لیے ہو تو ستر کھل جانے کا امکان نہ ہو۔
3..لگایا جانے والا جین دوسرے شخص کے جسم سے نہ لیا گیا ہو، بلکہ اس کے اپنے جسم یا کسی حلال حیوان کے جسم سے ہو۔

جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہٴ سجدہ اور سورہٴ دھر پڑھنا مستحب ہے اس پر پابندی لگانا درست نہیں
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جمعة المبارک کو صبح فجر کی نماز میں کیا نبی علیہ السلام سے مواظبت کے ساتھ ہر جمعہ کو سورہ سجدہ اور سورہ دھر کا پڑھنا ثابت ہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہے تو کس درجہ میں؟ کیوں کہ ہمارے علاقہ میں ایک مولوی صاحب نے یہ ترتیب شروع کی ہے جس پر کچھ علماء نے بھی اعتراض کیا او رکہا کہ اس میں مقتدیوں پر مشقت ہے، کیوں کہ جب امام سورہ سجدہ کی تلاوت شروع کرے گا تو آیت سجدہ پڑھنے کے بعد جب امام سجدہ میں جائے گا تو اگر پیچھے کوئی سنتوں میں مشغول ہو یا کسی نے آیت سجدہ تو سنی لیکن سجدہ میں شامل نہ ہو سکا تو اب یہ آدمی کیا کرے اور وہسجدہ کرے یا نہیں؟

نبی علیہ السلام کے عمل اور احادیث کی روشنی میں وضاحت فرماکر تسلی بخش جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔

جواب… واضح رہے کہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہٴ سجدہ اور سورہٴ دھرکا پڑھنا مستحب ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم سے یہ سورتیں پڑھنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ، لہٰذا جو آدمی آپ صلی الله علیہ وسلم کی اتباع میں مذکورہ سورتیں پڑھتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے، البتہ امام کے لیے بھی ضروری ہے کہ پورا سال اس پر مداومت اور پابندی نہ کرے تاکہ عام لوگ ایک مستحب عمل کو فرض او رواجب نہ سمجھنے لگیں ،، بلکہ کبھی پڑھے اور کبھی نہ پڑھے، کیوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم سے پڑھنا او رترک کرنا دونوں ثابت ہیں۔

رہی یہ بات کہ جو لوگ آیت سجدہ سن کر سجدہ میں شریک نہ ہوسکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ نماز کے بعد سجدہ کریں، ایک سجدے کو مشقت نہیں سمجھنا چاہیے، محض اپنی سستی کی وجہ سے کسی مستحب عمل پرپابندی لگانا درست نہیں۔

ٹھیکہ میں دوسرے آدمی کو شریک کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں حضراتِعلماءِ کرام مندرجہ ذیل مسائل کے متعلق کہ:
1..بندہ ایک گارمنٹس کمپنی سے منسلک ہے، جوکپڑا وغیرہ بنانے کے متعلق ہے، بندہ بطور ٹھیکیدارکمپنی سے کپڑا بنانے کا معاہدہ کرتا ہے، جس کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ کمپنی سے ٹھیکہ لے کر کام شروع کروا دیتا ہوں، جب کہ کمپنی کام مکمل کرنے پر ٹھیکے کی طے شدہ رقم ادا کرتی ہے، اس دوران میں اپنے طور پر اپنے ورکروں کی تنخواہیں وغیرہ اور دیگر متعلقہ امور کا خرچ برداشت کرتا ہوں، لیکن بوجہ مجبوری اتنی رقم کا بندوبست نہ ہونے کی بناء پر کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ اس لیے ہوئے ٹھیکہ میں شریک کرتا ہوں، سوال یہ ہے کہ اس طرح کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ شریک کرنا کیسا ہے؟ اور اس کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟ نفع ونقصان کی ترتیب کیا ہونی چاہیے؟

2..نیز آج کل کمپنیوں میں یہ طریقہ مروج ہے کہ ٹھیکیدار کے ساتھ بعض لوگ اسی کپڑے کے لیے ہوئے ٹھیکے میں شریک ہوتے ہیں اور ترتیب یہ ہوتی ہے کہ کپڑے کے ہر پیس پر متعین منافع رکھتے ہیں، مثلاً: ایک پیس پر ایک روپیہ، دو پیس پر دو روپیہ وغیرہ، لیکن اگر درمیان میں کسی مہینے کام نہیں ہوا، تو اس کے نفع ونقصان میں اپنے آپ کو ٹھیکیدار کے ساتھ شریک نہیں سمجھتے، کیا ان شرکاء کا مذکورہ طریقہ درست ہے؟ اگر درست نہیں تو اس کا جائز حل کیا ہو گا؟

جواب…1.. صورت مسئولہ میں ٹھیکیداری کا معاملہ استصناع کا ہے جو کہ جائز ہے، البتہ مذکورہ طریقے پر شرکت جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ شرکت فی العروض ہے اور شرکت فی العروض جائز نہیں ہے، اس شرکت کے جواز کا طریقہ یہ ہے کہ ٹھیکیدار اپنے مال کا کچھ فیصدی حصہ مثلاً:(50 فی صد) اپنے شریک پر بیچ دیے، اس کے بعد دونوں اس ٹھیکہ میں شریک ہو جائیں گے، شرکت کے اس معاملے سے حاصل ہونے والا نفع دونوں کے درمیان بقدر حصص ہو گا او رنقصان کا ضمان بھی ہر ایک پر بقدر حصص ہو گا، یعنی نفع اور نقصان کا ضمان ہر شریک پر اس کے مال کے تناسب کے اعتبار سے ہو گا۔

2..شرکت کے معاملے میں کسی ایک شریک کے لیے نفع کی متعین مقدار مقرر کرنا مثلاً:(ہر پیس پر ایک روپیہ میرا باقی آپ کا) جائز نہیں ہے، اسی طرح کسی شریک کا یہ شرط لگانا کہ جس مہینے کام نہیں ہو گا اس میں میں نفع اور نقصان کا ضامن نہ ہو ں گا، یہ بھی جائز نہیں ہے، جائز طریقہ یہ ہے کہ نفع اور نقصان دونوں پر بقدر حصص ہو گا یعنی مال کے تناسب کے اعتبار سے نفع اور نقصان کو دونوں پر تقسیم کیا جائے گا۔

بی، سی کمیٹی کی شرعی حیثیت کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کہ بارے میں ایک شخص نے کمیٹی کی ترتیب چلائی ہوئی ہے، ہر مہینے کے شروع میں چند لوگوں سے پیسے لیتا ہے او رمہینے کے آخر میں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے، جس کا قرعہ نکل آئے، اس کو پیسے دیتا ہے اور جس کا قرعہ نکل چکا ہو وہ بھی آخری قرعہ اندازی تک پیسے جمع کرواتا رہتا ہے۔

مذکورہ بالا صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے چند باتیں مطلوب ہیں:
1..مذکورہ ترتیب کے مطابق کمیٹی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
2..اس آدمی نے جو پیسے جمع کیے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی یہ کمیٹی چلانے والا شخص مہینے کے درمیان میں کیا ان ”کمیٹی کے“ پیسوں کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے؟
3..اس طرح کمیٹی چلانے کے لیے کیا کیا شرائط ہیں؟ وہ بھی تحریر فرما دیجیے!

جواب…1.. واضح رہے کہ کمیٹی کی مذکورہ صورت جائز ہے ، بشرطیکہ کمیٹی کے افراد میں سے جو جب نکلنا چاہے اسے نکلنے کی اجازت ہو اور اس پر کوئی جرمانہ نہ ہو او راس کی رقم ضبط نہ کی جائے۔

2..منتظم کمیٹی بحیثیت وکیل ہوتا ہے، اس کا قبضہ بطور امانت ہے، لہٰذا اگر وہ رقم اس کے پاس اس کی تعدی کے بغیر ضائع ہو جائے تو اس پر ضمان لازم نہیں ہو گا او راس رقم کو استعمال کرنا درست نہیں، اگر استعمال کرے گا تو اس کا ضمان لازم ہو گا۔

3..مروجہ کمیٹی (بی، سی) کی شرعی حیثیت قرض کے لین دین کی ہے، اس لیے اس کے جواز کے لیے دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے :۱۔ سب شرکاء کی رضا مندی سے بلا قرعہ یا بذریعہ قرعہ (پرچی نکال کر) کسی شریک کو وہ رقم بطور قرض دی جائے ۲۔ شرکاء میں سے ہر شریک کو ہر وقت اس کمیٹی سے جدا ہو جانے کا اختیار حاصل ہو اور اُسے اپنی دی ہوئی پوری رقم واپس لینے کا پورا حق ہو، اس پر کسی شریک کو اعتراض نہ ہو اور نہ اس کی رقم میں کوئی کٹوتی ہو۔

والد صاحب کو مکان خریدنے کے لیے بلانیت آدھی رقم دینے اوراس مکان کی ملکیت واستحقاق کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم جس مکان میں رہتے ہیں یہ 1995ء میں خریدا تھا پانچ لاکھ چالیسہزارمیں ،تین لاکھ میرے والد صاحب نے اور دو لاکھ پچاس ہزار میں نے دیے تھے، اس وقت ہم تین بھائی تھے، بڑا بھائی پی آئی اے میں، دوسرا نیوی میں اور میں گورنمنٹ سروس کرتا تھا ، میں پارٹ ٹائم بھی کرتا اور دونوں کاموں کی تنخواہ بھی پوری اپنے والدین کو دیتا تھااورکچھ پیسے بچاکر بیسیاں ڈالتا تھا، جب یہ رقم میں نے گھر کی خریداری میں اپنے والد کو دی تھی مبلغ ڈھائی لاکھ، او راب میرا بھائی والد صاحب کے جیتے جی مکان میں پورا حصہ مانگ رہا ہے، جب کہ والد صاحب نے کہا ہے کہ آدھے مکان کا حق دار فیاض ہے اور آدھا میرا ہے، اس آدھے میں تین بیٹے اور چاربیٹیاں حصے دار ہیں، جناب دین اسلام اور شریعت میں جو ہے اس حساب سے فتوی دیں تاکہ کسی کی حق تلفی بھی نہ ہو اور نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کے قانون کے مطابق مسئلہ بھی حل ہو جائے، اس وقت مکان کی قیمت تقربیاً پچاس سے ساٹھ لاکھ روپے تک ہے۔

جواب… صورتِ مسئولہ میں آپ نے اپنے والد صاحب کو اپنی والدہ صاحبہ کے کہنے پر قرض یا شرکت وغیرہ کی صراحت کیے بغیر جو رقم دی ہے اس کی شرعی حیثیت ”تبرع او راحسان“ کی ہے، اس لیے مذکورہ مکان صرف آپ کے والد صاحب ہی کی ملکیت ہے، آپ کے والد صاحب کے محض کہہ دینے سے آپ آدھے مکان کے مالک نہیں ہوں گے او راسی طرح دوسرے آدھے مکان میں آپ کے تین بھائیوں اور چار بہنوں کی بھی ملکیت ثابت نہیں ہو گی، آپ کے والد صاحب کو چاہیے کہ جس بیٹے اور بیٹی کو جتنا حصہ دینا چاہے تو وہ اس پر فروخت کردے، نیز آپ کے بھائی کا بلاوجہ والد صاحب کی زندگی میں مکان سے حصہ مانگنا ہر گز درست نہیں۔

عورتوں کا قبروں کی زیارت پر جانے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ عورتوں اور لڑکیوں کا قبرستان جانا کیسا ہے؟

اگر کسی مدرسے کی پڑھی ہوئی کوئی عالمہ قبرستان آمدورفت رکھے اور یہ کہے کہ ہم تو پردے میں قبر پر آتی ہیں اور اس لیے تاکہ آخرت وموت کو یاد کرکے عبرت حاص کریں۔

تو کیا ان کا یہ کہنا او راس طرح کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

برائے مہربانی قرآن وحدیث اور شریعت غراء کی روشنی میں درج بالا سوالات کا مفصل جواب تحریر کریں۔

جواب… واضح رہے کہ نوجوان عورتوں کے لیے قبرستان جانا درست نہیں، البتہ بوڑھی عورتوں کے لیے اِس شرط پر جانا جائز ہے کہ وہ باپردہ ہوں، خوشبو لگا کر بن سنور کر نہ جائیں، عبرت حاصل کرنے کی نیت سے جائیں اور وہاں جا کر کوئی خلاف شرع کام نہ کریں مثلاً: رونا، پیٹنا، قبروں کو چومنا، قبر والوں سے مدد مانگنا اور دوسری بدعتیں جو عام طور پرقبرستان میں کی جاتی ہیں ان سے مکمل اجتناب کریں۔

باقی وہ عالمہ اگر نوجوان عورت ہے ، تو اس کے لیے اس طرح کرنا درست نہیں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.