جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

ہمارے معاشرے کی چند برائیاں او ران کی اصلاح کی کوشش

مولانا محمد نجیب قاسمی (ریاض)

ہمارے معاشرے کی مختلف برائیوں میں سے چند برائیاں کافی عام ہوگئی ہیں،ہمیں مشترکہ طور اُن کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔

بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کا فقدان
قرآن وحدیث میں علم کی اہمیت پر بار بار تاکید فرمائی گئی ہے، حتی کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ اقرا بھی اسی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ مگر عصر حاضر میں ہم نے اِن تمام آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ کا تعلق عملی طور پر دنیاوی تعلیم سے جوڑ دیا ہے، حالاں کہ قرآن وحدیث میں جہاں جہاں بھی علم کا ذکر آیا ہے، وہاں وضاحت موجود ہے کہ اُسی علم سے دونوں جہاں میں بلند واعلیٰ مقام ملے گا جس کے ذریعہ اللہ کا خوف پیدا ہو، جو تقدیر پر ایمان کی تعلیم دیتا ہو اور جس کے ذریعہ انسان اپنے حقیقی خالق ومالک ورازق کو پہچانے اور ظاہر ہے کہ یہ کیفیت قرآن وحدیث اور اِن دونوں علوم سے ماخوذ علم سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اِن دنوں ہم عصری تعلیم کو اس قدر اہمیت دے رہے ہیں کہ بچوں اور بچیوں کو، بالغ ہونے کے باوجود، اس لیے نماز کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کروایا جاتا، روزہ نہیں رکھوایا جاتا اور قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرائی جاتی کہ ان کو اسکول جانا ہے، ہوم ورک کرنا ہے، پروجیکٹ تیار کرنا ہے، امتحان کی تیاری کرنی ہے، وغیرہ وغیرہ، یعنی دنیاوی تعلیم کے لیے ہر طرح کی جان ومال اوروقت کی قربانی دینا آسان ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ جو طلبہ عصری درس گاہوں سے پڑھ کر نکل رہے ہیں اُن میں سے ایک بڑی تعداد دین کے ضروری مسائل سے ناواقف ہوتی ہے۔ یقینا ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور پروفیسر بنائیں، لیکن سب سے قبل ان کو مسلمان بنائیں۔ لہٰذا اسلام کے بنیادی ارکان کی ضروری معلومات کے ساتھ حضور اکرمصلی الله علیہ وسلمکی سیرت اور اسلامی تاریخ سے ان کو ضرور بالضرور روشناس کرائیں۔ اگر ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر یا لیکچرار بنا، لیکن شریعت اسلامیہ کے بنیادی احکام سے ناواقف ہے تو کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمیں جواب دینا ہوگا۔

ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال
معاشرے کی بے شمار برائیاں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے استعمال سے پھیل رہی ہیں، لہٰذا اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد وگھر والوں کو بھی ان برائیوں سے دور رکھیں،تاکہ یہ ہمارے ماتحتوں کی آخرت میں ناکامی کا سبب نہ بنیں، کیوں کہ ہم سے ہمارے ماتحتوں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اے ایمان والو!اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کواُس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ (سورة التحریم، آیت:6 )

کرکٹ دیکھنے میں وقت ضائع کرنا
بعض حضرات کرکٹ میچ دیکھنے، اس سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے اور آئندہ کے میچوں میں جیت ہار کے اندازے، نیز اس کے متعلق بحث ومباحثہ میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت لگاتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سارے امور حرام ہیں اور ہمیں اپنی پسند کی ٹیم کو داد وتحسین سے نوازنے کا حق نہیں ہے۔ لیکن ہمیں غور وفکر کرنا چاہیے کہ ان امور میں وقت صرف کرنا اب تک ہماری زندگی میں کتنا نفع بخش ثابت ہوا؟! لہٰذاعقل مندی اسی میں ہے کہ کرکٹ کھیلنے یا میچ دیکھنے میں ہماری مشغولیت اللہ کے احکام، مثلاً نماز کی ادائیگی سے مانع نہ بنے۔ قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ پانچ سوالات کا جواب دے دے: زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ یعنی حصول مال کے اسباب حلال تھے یا حرام؟ مال کہاں خرچ کیا؟ یعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کیے یا نہیں؟ علم پر کتنا عمل کیا؟ (ترمذی)

بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی
جن کبیرہ گناہوں کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، مثلاً نماز ، روزہ ، زکوٰة اور حج کی ادائیگی، ان میں کوتاہی کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنے پراللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا، ان شاء اللہ۔ لیکن اگر گناہوں کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے، مثلاً کسی شخص کا سامان چرایا یا کسی شخص کو تکلیف دی یا کسی کو گالی دی یا کسی شخص کا حق مارا تو قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی معافی کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ جس بندے کا حق ہے، اس کا حق ادا کیا جائے یا اس سے حق معاف کروایا جائے، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ واستغفار کے لیے رجوع کیا جائے۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے : کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا :ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی پیسہ اور دنیا کا سامان نہ ہو۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکوٰة (اور دوسری مقبول عبادتیں) لے کر آئے گا، مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے ایک حق والے کو (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے (اس کے حق کے بقدر)نیکیاں دی جائیں گی۔ پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو (ان حقوق کے بقدر)حق داروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے)ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم )

غیبت
سب سے پہلے ارشاد نبوی صلی الله علیہ وسلمکی روشنی میں سمجھیں کہ غیبت کیا چیز ہے ؟ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلمنے صحابہ کرام سے فرمایا:کیا تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام نے جواب دیا:اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلمنے فرمایا:اپنے بھائی کی اس چیز کا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ کہا گیا اگر وہ چیزیں اس میں موجود ہوں تو؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ چیز اس کے اندر ہو توتم نے غیبت کی اور اگر نہ ہو تو وہ بہتان ہوگا۔ (مسلم)

حضور اکرمصلی الله علیہ وسلمکے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کے سامنے کسی کی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے اور اگر اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کے اندر موجود ہی نہیں ہیں تو وہ بہتان ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں ہی برائیاں عام ہیں، اللہ ان دونوں برائیوں سے امت مسلمہ کو محفوظ فرمائے۔ آمین۔ کسی مسلمان بھائی کی کسی کے سامنے برائی بیان کرنا، یعنی غیبت کرنا ایسا ہی ہے جیسے مردار بھائی کا گوشت کھانا۔ بھلا کون ایسا ہوگا جو اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے غیبت سے بچنے کا حکم دیا ہے اور اس سے نفرت دلائی ہے، ارشاد باری ہے:تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی۔(سورہ الحجرات)

جھوٹ
معاشرے کی ایک مہلک بیماری جھوٹ بولنا ہے، جو بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے، ان کے لیے جہنم تیار کی ہے، جو بدترین ٹھکانا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سورہ الاحزاب( آیت :71,70) میں ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ جھوٹ بولنے والوں کے متعلق آپ صلی الله علیہ وسلمکی سخت وعید ہیں، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلمنے فرمایا:سچائی کو لازم پکڑو ،کیوں کہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی یکساں طور پر سچ کہتا ہے اور سچائی کی کوشش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کی نظر میں اس کا نام سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچے رہو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ اور فجور ہے اور فجور دوزخ کی راہ بتاتا ہے اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسی کی جستجو میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اس کا شمار جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم)

بے پردگی
پاکیزہ معاشرہ اور صاف ستھری سوسائٹی کے لیے عورتوں کو گھروں میں رکھ کر گھریلو ذمہ داریاں ان کو دی گئیں اور مردوں کو باہر کی ذمہ داریوں کا پابند کرکے مردوں اور عورتوں کے باہمی اختلاط سے حتی الامکان روکا گیا، تاکہ ایک صاف ستھرا اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکے اور مسلم معاشرے کی یہ خصوصیت اب تک باقی تھی اور تقریباً پچیس سال سے مغربی تہذیب سے ہمارا معاشرہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور افسوس وفکر کی بات ہے کہ اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے بعض مسلم دانش ور اس کوشش میں ہیں کہ بے پردگی کو جواز کا درجہ دے دیا جائے۔ اسی پس منظر میں قرآن وحدیث کی روشنی میں چند باتیں پیش خدمت ہیں:

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مردوں اور عورتوں کو مشترکہ حکم ﴿یَحْفَظُوا فُرُوْجَھُمْ﴾ اور ﴿یَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُن﴾ (سورہ النور 31,30) کے الفاظ میں دیا ہے، قرآن کریم میں بہت سے مقامات اور احادیث میں بکثرت یہ حکم وارد ہوا ہے، یہ سب کو معلوم ہے کہ شرم گاہ کی حفاظت پردہ سے ہی ہوتی ہے۔ اور عصمت دری کی ابتدا بے پردگی سے ہوکر زنا کی حد تک جا پہنچتی ہے۔ چناں چہ مشہور حدیث میں اس کی طرف اشارہ ہے:رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور آنکھ کا زنا بد نگاہی ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کردیتی ہے۔ (صحیح بخاری،2) اسی طرح فرمان الٰہی ہے:﴿وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیَعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنِتِہِنَّ﴾ (سورہ النور،آیت:31 ) عورتوں کو زمین پر پیر پٹخ کر چلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ کہیں پازیب کی جھنکارو زینت سے کوئی گرویدہ نہ ہوجائے۔ اگر پازیب کی آواز کو پردہ میں رکھا گیا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک عورت کو زیب وزینت کے ساتھ بے پردہ گھومنے کی اجازت دی جائے۔ نہیں، ہرگز نہیں۔حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تم میں سے کسی عورت کو پیغام نکاح دینے کا ارادہ ہوتو اس کو دیکھ لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (مسند احمد)اس حدیث میں صرف پیغام نکاح دینے والے کو غیر محرم عورت کو دیکھنے میں گناہ سے مستثنیٰ کرنے کا مطلب واضح ہے کہ غیروں کو دیکھنے اور دکھانے میں گناہ ہوگا۔ نیز حالت احرام میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث کہ جب مردوں کا گزر ہوتا تھا تو ہم عورتیں اپنے چہروں کو ڈھانک لیتی تھیں۔ حالاں کہ حالت احرام میں چہرہ کا کھولنا واجب ہے۔ لیکن ایک عمومی واجب پر عمل کرنے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، احرام کے واجب کو ترک کردیتی تھیں، ورنہ اگر چہرہ کا پردہ عام حالت میں صرف مستحب ہوتا تو استحباب کے لیے صحابیات اور خاص طور سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ترک واجب نہ کرتیں۔ (ابوداود)

مہرکی ادائیگی نہ کرنا
مہر عورت کا حق ہے، اس کو نکاح کے وقت متعین اور صحبت سے قبل ادا کرنا چاہیے۔ مہر میں حسب استطاعت میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، نہ بہت کم اور نہ بہت زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر قرآن کریم میں تقریباً سات جگہوں پر مہر کا ذکر فرمایا ہے، لہٰذا ہمیں مہر ضرور ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہم بڑی رقم مہر میں ادا نہیں کرسکتے اور لڑکی کے گھر والے مہر میں بڑی رقم متعین کرنے پر بضد ہیں، جیساکہ ہمارے ملکوں میں عموماً ہوتا ہے،تو ہمیں حسب استطاعت کچھ نہ کچھ مہر ضرور نقد ادا کرنی چاہیے( اورباقی موجل طے کرلیں) جیساکہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلمنے حضرت علی کی زرہ فروخت کراکے مہر کی ادائیگی کرائی۔ آج ہم جہیز اور شادی کے اخراجات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، لیکن مہر کی ادائیگی جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس سے کتراتے ہیں۔مقدار مہر کی تعیین میں بے اعتدالی نہ برتی جائے، اس کی مقدار اتنی ہوکہ مرد بآسانی اداکردے۔ فرمان رسول صلی الله علیہ وسلمہے:عورتوں کے مہر کے معاملے میں غلو نہ کرو کہ عداوت کاسبب بن جائے۔ (مسند احمد)

جہیز کی لعنت
امت کے تمام علما ء اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہصلی الله علیہ وسلم نے اپنی لاڈلی صاحبزادی حضرت فاطمہ  کو چند چیزیں عنایت فرمائی تھیں، جیساکہ صحیح احادیث میں ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلمنے جب فاطمہ  کانکاح کیا تو ان کے ساتھ ایک چادر ، چمڑے کا تکیہ، جس کے اندر کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور دو چھوٹے گھڑے بھی کردیے۔ (مسند احمد ونسائی) لیکن اسے سنت کہنا درست نہیں ہے، کیوں کہ رسول اللہصلی الله علیہ وسلم نے اپنی دو بیٹیوں حضرت رقیہ اور ام کلثوم  کو حضرت عثمان  کے نکاح میں دیاتھا اور ان دونوں کو کوئی چیز دینااحادیث میں وارد نہیں ہے۔ اگر جہیز دینا سنت ہوتا توآپ صلی الله علیہ وسلم اپنی تمام بیٹیوں کوبلاتفریق جہیز سے نوازتے۔ حضرت علی  کے نکاح کے وقت نہ حضرت علی کا اپنا کوئی ذاتی گھر تھا اور نہ ہی کوئی سازو سامان ۔جب آپ  کے نکاح کی خبر حضرت حارث بن نعمان  نے سنی تو بخوشی اپنی سعادت سمجھتے ہوئے اپنا ایک گھر حضرت علی  کو رہنے کے لیے پیش کردیا۔ حضرت علی  نے اپنی زرہ حضرت عثمان کو 480 درہم میں فروخت کردی اور جاتے وقت حضرت عثمان  نے وہ زرہ حضرت علی  کو تحفہ میں دے دی۔ اسی زرہ کے پیسے سے حضرت فاطمہ  کے گھر کا سامان خریدا اور حضرت عائشہ اور ام سلمہ  کو حکم دیاکہ حضرت علی اور فاطمہ  کے ساتھ ان کے گھر تک جاؤ۔اس حدیث سے یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ سارا سامان حضرت علی کے پیسے سے خریدا گیا تھا، نہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلمنے حضرت فاطمہ کو جہیز میں دیا تھا۔ اس واقعہ کو جہیزلینے اور دینے کے لیے کسی طرح حجت نہیں بنایا جا سکتاہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مہر کے علاوہ فریقین میں سے کسی طرف سے کوئی مال یا جائداد مطالبہ کرکے لینا جائز نہیں ہے۔ مگر لوگ اپنی بیٹی یا داماد اور اس کے گھر والوں کو بغیر کسی مطالبہ کے اپنی استطاعت کے مطابق جو سامان دیں تو اس کی گنجائش ضرور ہے، لیکن اس میں بھی حتی الامکان کمی کرنی چاہیے، تاکہ غریبوں کی بچیوں کی شادی آسان ہوسکے اور جہیز کی کثرت کی وجہ سے جو نقصانات سامنے آرہے ہیں ان پر کسی حد تک کنٹرول کیا جاسکے ۔

رشوت
رشوت کا مطلب ہے اپنے جائز یا ناجائز مقاصدکوحاصل کرنے کے لیے اہل منصب کو روپے یا کوئی دوسری چیز پیش کرنا۔موجودہ دور میں اس لین دین کو ہدیہ یانذرانہ کاخوب صورت نام دیاجاتاہے، لیکن درحقیقت یہ رشوت ہے۔ رشوت کی مذمت اوراس کے لینے اوردینے والوں پراللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے بڑی سخت وعیدیں بیان کی ہیں، چناں چہ فرمان رسول ہے:رشوت لینے اوردینے والے پراللہ کی لعنت برستی ہے۔ (ابن ماجہ)ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہصلی الله علیہ وسلمنے فرمایا: رشوت لینے اوردینے والا دونوں ہی دوزخ میں جائیں گے۔ (طبرانی)اسلام کی نظرمیں جس طرح رشوت لینے اوردینے والاملعون اوردوزخی ہے، اسی طرح اس معاملہ کی دلالی کرنے والابھی حدیث رسول کی روشنی میں ملعون ہے۔ صحابی رسول حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلمنے رشوت لینے اوردینے والے اوررشوت کی دلالی کرنے والے سب پرلعنت فرمائی ہے۔ (مسند احمدوطبرانی) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تویہاں تک فرماتے ہیں کہ قاضی کاکسی سے رشوت لے کراس کے حق میں فیصلہ کرنا کفرکے برابرہے اورعام لوگوں کاایک دوسرے سے رشوت لینا سُحت یعنی حرام ناپاک کمائی ہے۔ (طبرانی)

رشوت دینے کی گنجائش کب ہوسکتی ہے؟
ایک شخص کاحق ہے جو اسے ملناچاہیے،رشوت دیے بغیر نہیں ملے گا،یااتنی دیرسے ملے گاجس میں اسے غیرمعمولی مشقت برداشت کرنی پڑے گی۔اسی طرح اس کے اوپرکسی فردکی طرف سے ظالمانہ مطالبات عائدہوگئے ہیں اوررشوت دیے بغیران سے خلاصی مشکل ہے توامیدہے کہ رشوت دینے والاشخص گناہ گارنہ ہوگا،البتہ دیانت شرط ہے ،جس کی ذمہ داری خوداس پرہوگی۔

سود یعنی انسانوں کو ہلاک کرنے والا گناہ
سب سے پہلے سمجھیں کہ سود کیا ہے؟وزن کی جانے والی یا کسی پیمانے سے ناپی جانے والی ایک جنس کی چیزیں اور روپے وغیرہ میں دو آدمیوں کا اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک کو عوض کچھ زائد دینا پڑتا ہو ربا اور سودکہلاتا ہے۔جس وقت قرآن کریم نے سود کو حرام قرار دیا اس وقت عربوں میں سودکا لین دین متعارف اور مشہور تھا اور اُس وقت سود اُسے کہا جاتا تھا کہ کسی شخص کو زیادہ رقم کے مطالبہ کے ساتھ قرض دیا جائے، خواہ لینے والا اپنے ذاتی اخراجات کے لیے قرض لے رہا ہو یا پھر تجارت کی غرض سے، نیز وہ صرف ایک مرتبہ کا سود ہو یا سود پر سود۔ مثلاً زید نے بکر کو ایک ماہ کے لیے 100 روپے بطور قرض اس شرط پر دیے کہ وہ110 روپے واپس کرے، تو یہ سودہے۔بینک میں جمع شدہ رقم پر پہلے سے متعین شرح پر بینک جو اضافی رقم دیتا ہے وہ بھی سود ہے۔سود کی حرمت قرآن وحدیث سے واضح طور پر ثابت ہے، جس کے حرام ہونے پر پوری امت مسلمہ متفق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام مذکورہ برائیوں سے محفوظ رہ کر دنیاوی فانی زندگی گزارنے والا بنائے، آمین۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.