جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

تین طلاقیں دینے کے بعد بیوی کو گھر میں ساتھ رکھنے کاحکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی نے اپنی بیو ی کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آکر اس کے باپ بھائی اور گلی والوں کے سامنے تین دفعہ طلاق دے دی تھی، پھر تھانے والوں اور کچھ رشتہ داروں کے کہنے پر اُسے اپنے گھر لے آیا ہے، میرے ابو فوت ہوچکے ہیں ،امی نے بھی بیٹے اور بہو کو اپنے گھرمیں رکھ لیا ہے، ان کو سب نے سمجھایا ہے کہ یہ حرام ہے لیکن امی اور بھائی کسی بات کو سننے پر راضی نہیں، برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ ہم بہنیں ماں، بھائی اور بھابی سے مل سکتی ہیں یا نہیں؟ اور جو رشتہ دار صلح کروانے میں شامل ہیں اُن سے بھی مل سکتے ہیں یا نہیں؟ ہماری وراثت کے مکان میں یہ حرام کام ہورہا ہے، اس کے لیے کیا حکم خداوندی ہے؟ اور میری باقی بہنیں یا بہنوئی جو ان سے ملتے ہیں ان سے ہمارا ملنا کیسا ہے؟

جواب…واضح رہے کہ بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی ہے ، اس کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ کے بیوی سے تعلقات قائم کرنا کسی بھی طور پر جائز نہیں ہے۔

صورت مسئولہ اگر مبنی برحققت ہے تو شوہر اور ان کی مطلقہ کو چاہیے کہ وہ فوراً علیحدگی اختیار کریں او ر خاندان کے بااثر لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان کو نرمی وملاطفت سے سمجھائیں اور اس گناہ کی سنگینی کا احساس دلائیں، اگر شوہر او ران کی مطلقہ جدائی اختیار کرتے ہیں او راپنے کیے پر توبہ کرتے ہیں، تو حسب سابق ان سے تعلقات استوار رکھے جائیں اور اگر وہ جدائی اختیار نہیں کرتے، تو ان سے تعلقات ختم کر دیے جائیں تاوقتیکہ وہ جدائی اختیار کریں اور توبہ کریں۔

باقی آپ کی والدہ او رجن لوگوں نے صلح کروائی ہے، سخت گہنگار ہیں، انہیں اپنے کیے پر توبہ کرنی چاہیے، البتہ ان سے تعلقات ترک نہ کیے جائیں، اسی طرح آپ اپنی بہنوں سے بھی مل سکتی ہیں اور والدہ سے ملاقات کر نے اپنے آبائی مکان بھی جاسکتی ہیں۔

وارث اور غیر وارث کے حق میں وصیت کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں ہے، ایک بیوی ، چار بیٹیاں اور ایک بچہ کو گود لے چکا ہوں ( اس گود لینے والے بچے کو میری بڑی بیٹی نے دودھ پلایا ہے)،نیز دو بھائی اور ایک بہن بھی ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں زندگی میں ان مذکورہ رشتہ داروں میں سے کسی کے لیے کوئی وصیت کر سکتا ہوں یا نہیں؟ بینوا توجروا

جواب… کسی رشتہ دار کے وارث ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار مورث کی موت کے وقت ہو گا، وصیت کے وقت نہیں، چناں چہ جو لوگ اس وقت شرعی وارث قرار پائیں گے (مثلاً :بیوہ، بیٹیاں، وغیرہ) ان کے حق میں کی گئی وصیت اس وقت معتبر ہو گی جب دوسرے ورثار بھی اجازت دے دیں (بشرطیکہ اجازت دینے والے بالغ ہوں) ، ورنہ معتبر نہیں ہوگی اور بقیہ ترکہ کی طرح اس میں بھی وراثت جاری ہو گی۔

جس بچے کو گود لیا ہے وہ شرعی وارث نہیں، نیز والد اگر حیات ہوں، تو بھائی اور بہن بھی وارث نہیں ہوتے، ان سب کے حق میں کی گئی وصیت ایک تہائی مال میں جاری کی جائے گی، ایک تہائی سے زیادہ میں وصیت کا نافذ کیا جانا، ورثاء کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ (بشرطیکہ ورثاء بالغ ہوں)۔

عورت کا مرد ڈاکٹر سے او رمرد کا لیڈی ڈاکٹر سے علاج کرانے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت بیمار ہے یا ایسی جگہ زخم ہے کہ جس جگہ کو دیکھنا نامحرم کے لیے جائز نہیں، اسی طرح ولادت کے وقت عورت غلیظہ کو ڈاکٹر کے سامنے دکھانا پڑتا ہے۔

اب ایک صورت تو یہ ہے کہ اس زخم، بیماری، آپریشن کرنے والی لیڈی ڈاکٹر ہے ہی نہیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ لیڈی ڈاکٹر موجود ہے، جیسے آج کل کے زمانے میں، تولیڈی ڈاکٹر ہی سے علاج کرانا ضروری ہے؟ مثلاً اس شہر میں لیڈی ڈاکٹر کو ڈھونڈے اور اگر کسی نے اس طرح نہیں کیا، لیڈی ڈاکٹر کی فیس کی زیادتی کی وجہ ہے یالیڈی ڈاکٹر کے دور ہونے کی وجہ سے تو ایسی صورت میں گناہ ہو گا یا نہیں؟

اسی طرح لیڈی ڈاکٹر کے لیے مردوں کا علاج کرنا، مرد کے جسم کو ہاتھ لگانا، یا مرد کے اعضائے مستورہ کو علاج کی غرض سے دیکھنا جب کہ مرد ڈاکٹر بھی اس شہر میں موجود ہو،کیسا ہے؟

جواب… واضح رہے کہ عورت کا کسی ماہر تجربہ کار لیڈی ڈاکٹر کی موجودگی میں معمولی سہولت کے حصول کے لیے مرد ڈاکٹر سے ایسا علاج کرانا جس میں کشف عورت ہو، جائز نہیں اور نہ ہی مرد کا لیڈی ڈاکٹر سے ایسا علاج کرانا جائز ہے ، البتہ اگر لیڈی ڈاکٹر اتنی دور ہو کہ مریضہ خاتون کو اس تک پہنچانے میں ہلاکت یا سخت تکلیف میں مبتلا ہونے کا غالب گمان ہو اور قریب میں مرد ڈاکٹر سے علاج میسر بھی ہو، تو ایسی صورت میں مرد ڈاکٹر سے علاج کروانے کی گنجائش ہو گی، لہٰذا صرف فیس کی زیادتی کی وجہ سے لیڈی ڈاکٹر کو چھوڑ کر مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا درست نہیں، جب کہ فیس میں عام طور پر اتنا زیادہ تفاوت نہیں ہوا کرتا۔

والد کی ایک بیٹے کے ساتھ بائیکاٹ کی وصیت کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ اس کے نو بیٹے ہیں، وہ اپنی آخری عمر میں آٹھ بیٹوں کو جمع کرکے نویں بیٹے کے خلاف وصیت کرتا ہے، یعنی اس نے آٹھ بیٹوں کو کہا کہ تم سب اپنے بھائی سے ہر طرح کا بائیکاٹ کرو، بالکلیہ تعلق ختم کرو اور اسے میری نماز جنازہ میں بھی شریک نہ ہونے دینا اگر تم نے اس کی خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن میں تمہارے گریبان پکڑوں گا، اب والد کی اس بات پر آٹھ بیٹوں کو عمل کرنا ضروری ہے؟ اگر اس کی بات کی خلاف ورزی کی تو کیا اولاد گناہ گار ہو گی؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں واضح اور کافی و شافی جواب دیں۔

جواب… مذکورہ سوال میں چند باتیں قابل غور ہیں:
الف۔ قرآن وحدیث میں والدین کی خدمت کے بڑے فضائل آئے ہیں اور ان کی نافرمانی اور ستانے کی سزائیں بھی تفصیل سے ذکر کی گئی ہیں، والدین کی نافرمانی کا گناہ بہت بڑا ہے او راس کی سزا الله رب العزت دنیا ہی میں چکھا دیتے ہیں ،کہ ایسے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور خود ان کی اولاد نافرمان بن جاتی ہے ، ایسی نافرمان اولاد کو بلا تاخیر اپنے والد کے قدموں میں گِر کر معافی مانگنی ضروری ہے، اگر خدا نخواستہ!والدین اس دنیا سے رحلت فرماچکے ہیں، تو ان کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا خوب اہتمام کرے اور والدین کے تعلق رکھنے والوں سے اچھا تعلق رکھے اور اپنے گناہ پر الله تعالیٰ سے خوب گِڑ گڑا کر معافی مانگے۔

ب۔ شریعت مطہرہ میں صلہ رحمی (رشتہ جوڑنے) کی تاکید آئی ہے اور قطع رحمی (رشتہ توڑنے) پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔

ج۔ اگر والدین شریعت کے خلاف حکم دیں تو ان کی اطاعت کرنا جائز نہیں۔

د۔کسی شرعی مصلحت کی وجہ سے تعلق ختم کرنا جائز ہے۔

مندرجہ بالا باتوں کی روشنی میں مذکورہ سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر والد بائیکاٹ کے ذریعے بیٹے کی اصلاح کرنا چاہتا ہو،تو اس کی گنجائش ہے ، اگر محض قطع رحمی مقصود ہو تو جائز نہیں، اس وصیت پر دوسرے بیٹوں کے لیے عمل کرنا جائز نہیں، اس حکم کی خلاف ورزی سے اولاد گناہ گار بھی نہیں ہو گی؛ کیوں کہ الله تعالیٰ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں اور بہر صورت والد کے جنازے میں شرکت سے منع نہیں کیا جائے گا۔

کرکٹ ٹورنا منٹ کے انعقاد، انٹری فیس،ٹرافی وغیرہ کے احکام
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے… جس میں تمام شریک ٹیمیں مقرر کردہ فیس ادا رکریں گی بغیر فیس کے انٹری نہیں ہو گی… اور کمیٹی کا دعوی ہے کہ یپسے ٹورنامنٹ میں ہی خرچ ہوں گے، مثلاً :گیند، ٹیپ، بلا وغیرہ پر، بہرحال ان شرکاء میں ایک طالب علم زید بھی ہے، جو کسی ٹیم کا ایک رکن ہے، وہ نہ پیسے دیتا ہے اور نہ ہی جیتنے کے بعد پیسے وغیرہ لیتا ہے … اور زید کا کہنا ہے کہ میں صرف تفریح کے لیے کھیلتا ہوں… اور زید کی کارکردگی کی وجہ سے کچھ پیسوں کا اعلان وغیرہ بھی کمیٹی کی طرف سے ہوتا ہے، لیکن زید وہ پیسے بھی نہیں لیتا بلکہ وہ جس ٹیم کا حصہ ہے اس کے کپتان کے حوالے کرتا ہے۔

1.. اب سوال یہ ہے کہ کیا زید کے لیے اس طرح اخلاص سے کھیلناجائز ہے ؟ 2…اس پر جو پیسے ملیں گے وہ زید یا کسی اور کے لیے حلال ہیں؟3… بعض مرتبہ کوئی خاص مہمان چند روپیوں کا اگر زید کے لیے اعلان کرے تو کیا یہ زید کے لیے حلال ہوں گے؟4… یہ ٹورنامنٹ چلانے والوں کے لیے اگر پیسے بچ جائیں تو وہ حلال ہوں گے؟

جواب…واضح رہے کہ کمیٹی والوں کا ٹیموں سے انٹری فیس لینا اور پھر ان پیسوں کے ذریعے ٹرافی وغیرہ خرید کر وِنر اور رَنر ٹیموں کو دینا شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ قمار (جوا) ہے او رقمار کو الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں حرام قرار دیا ہے۔

او رجہاں تک زید کا پیسے نہ دینے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ زید بذات خود اگرچہ پیسے نہیں دے رہا مگر اس کی ٹیم والے اس کی طرف سے بھی پیسے دیتے ہیں، اس لیے زید کے لیے نہ اس ٹورنامنٹ میں کھیلنا جائز ہے اور نہ ہی اس کے لیے وہ پیسے لینا جائز ہے جوکمیٹی والے اچھی کارکردگی پر دیتے ہیں۔

اگر اسی ٹورنامنٹ میں کھیلتے ہوئے زید کے لیے کوئی خصوصی مہمان کچھ پیسوں کا اعلان کر دے تو ان پیسوں کا لینا بھی زید کے لیے اگرچہ جائز ہے مگر نہ لینا بہتر ہے، تاہم اس طرح کے ٹورنا منٹ میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔

اور ٹورنا منٹ چلانے والی کمیٹی کے پاس جو پیسے بچ جائیں وہ ان کے لیے رکھنا حلال نہیں ہے، بلکہ ان پیسوں کو ان ٹیموں تک پہنچانا ضروری ہو گا جنہوں نے اس ٹورنا منٹ میں شرکت کی ہے۔

انسانی خون کے عطیات لے کر اسٹاک کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگوں سے خون کے عطیات لے کر اسٹاک کرنا او رایمرجنسی کی صورت میں ضرورت مند لوگوں کو یہ خون فراہم کرنا شرعاً کیسا ہے؟

ایک صورت اس میں یہ اختیار کی جاتی ہے کہ اگر متبادل خون ان لوگوں کو فراہم کر دیا جائے تو آپ کا مطلوب بلڈ گروپ مفت مل جاتا ہے، بصورت دیگر خریدنا پڑتا ہے جب کہ وہ اسٹاک شدہ خون لوگوں کے دیے گئے عطیات کا ہوتا ہے، اس کی بھی شرعی حیثیت واضح فرما دیں۔

جواب… واضح رہے کہ انسانی خون فروخت کرنا او راس کی قیمت کا استعما ل کرنا حرام ہے، تاہم کسی ضرورت مند انسان کو خون کا عطیہ دینا جائز ہے ، لہٰذا صورت مسئولہ میں لوگوں سے خون کے عطیات لے کر اگر اسٹاک کرنا صرف اس مقصد کے لیے ہو کہ ایمرجنسی کی صورت میں ضرورت مند لوگوں کو یہ خون فراہم کیا جائے تو شرعاً درست ہے، بصورت دیگر اگر اسٹاک کرنے والے ضرورت مند لوگوں سے ہر حال میں متبادل خون مانگنے پر مصر رہیں ،یا پھر قیمتاً ان پر بیچ دیں، تو انسانی خون شرافت اور تکریم کی وجہ سے مال متقوم میں شمار نہیں ہوتا، اس لیے اس کی خرید وفروخت کرنا یا اس نیت سے اسٹاک کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، تاہم اگر کسی مریض کو خون کی اشد ضرورت ہو اور بغیر معاوضہ خون میسرنہ ہو تو ضرورت کی بنا پر خون خریدنا جائز ہے ،البتہ بیچنے والے کے لیے اس پر رقم وصول کرنا ناجائز ہے۔

تیجہ،چالیسویں اوربرسی کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں یہ رواج چَلا آرہاہے کہ کسی بھی بندے کا انتقال ہوتا ہے تو جب تک چالیس دن پورے نہیں ہوتے تو ہر جمعرات کو عورتوں کو جمع کرکے قرآن پڑھتے ہیں، پھر اس کے بعد بریانی آتی ہے، پھر رشتے داروں میں تقسیم ہوتی ہے، اس کے بعد جب چالیس دن مکمل ہوتے ہیں تو پھر عورتوں کو جمع کرکے چالیسواں کرتے ہیں ،پھر اس طرح جب سال مکمل ہوتا ہے تو پھر اسی طرح عورتوں کو جمع کیا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اس طرح نہ کریں تو لوگ اور خاندان والے باتیں کرتے ہیں کہ فلاں بندے کا انتقال ہو گیا اس کے لیے کوئی دعا نہیں ہوتی۔

حالاں کہ متاثرہ گھر کے لوگ اور بچے ان کے لیے قرآن پڑھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں ،کیا خاندان والوں اور لوگوں کو جمع کرکے ہی دعا قبول ہوتی ہے؟

ہمارا دین اسلام قرآن وحدیث آیا اس بات کی اجازت دیتی ہے، اسی طریقے سے چالیسواں اور سال کرنا چاہیے اور قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

تاکہ ہم لوگوں کو پتہ چلے صحیح طریقہ کیا ہے غلط طریقہ کیا ہے۔

جواب… قرآن کریم پڑھ کر میت کو ایصال ثواب کرنا، اسی طرح فقر اء ومساکین پر صدقہ کرکے میت کے لیے ایصال ثواب کرنا از روئے شرع جائز ہے، لیکن چالیس دن تک ہر جمعرات کو، اسی طرح چالیس دن یا سال مکمل ہونے پر رشتہ داروں اور اہل محلہ کو جمع کرکے قرآن پڑھوانے او رکھانے تقسیم کروانے کو لازم سمجھنا یہ غیر واجب کو واجب کا درجہ دینے کی طرح ہے جو کہ بدعت اور مذموم ہے، نہ قرآن میں اس کا کہیں ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم میں اور اجتماع اگر عورتوں کا ہو تو اس میں اور زیادہ قباحت آجاتی ہے۔

جو لوگ اس عمل کے نہ کرنے پر طعنہ زنی کرتے ہیں، انہیں اپنے اس فعل سے باز رہنا چاہیے، البتہ ان لوگوں کی طعنہ زنی کی وجہ سے اس کام کو کرنا کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ ایسے کام میں جس سے الله تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو بندوں کی اطاعت جائز نہیں ہے۔

بہرحال مرحوم کے گھر والوں کا خود قرآن پڑھ کر ایصال ثواب کرنا یہ زیادہ باعث قبولیت ہے اور جہاں تک تعلق ہے رشتہ داروں کو جمع کرکے قرآن پڑھوانے کا تو یہ اگر بغیر تعیین ایام کے ہو تب بھی ریاء ونمود سے خالی نہیں ہوتا، نیز اس پر کھانا وغیرہ بھی کھلایا جاتا ہے جو کہ ناجائز ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس رواج کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.