جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

اِیمان پر اِستقامت مومن کی برتری کی ضمانت

مولانا نور عالم خلیل امینی

مسلمانوں کی آزمایشوں میں خدا کی حکمت ومصلحت
الله تعالیٰ آزمایشوں کے ذریعے صبرشعار مومن اور بد کار منافق کے درمیان اِمتیاز کو نمایاں کرتا ہے، جس سے یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ کون اس کا دوست ہے او رکون ذلیل دُشمن۔ وہ سختیوں اور مصائب کے ذریعے سچے مسلمان کے اِیمان، اُس کے شیوہٴ صبر، اُس کی ثابت قدمی ومضبوطی کو وَاضح کرتا ہے اور ساتھ ہی اس منافق کے نفاق کا پردہ چاک کرتا ہے جو اَپنے چہرے پر اِیمان کا نقاب ڈَال کر، اپنے دل میں پوشیدہ کفر کوچھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح وہ اس غیب سے پردہ اٹھا دیتا ہے، جس کو صرف وہی جانتا ہے اور اس حقیقت کو الم نشرح کر دیتا ہے، جس کو اس کے بتائے بغیر کسی کے لیے جاننا ممکن نہیں۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے :

ترجمہ:” الله وہ نہیں جو مسلمانوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس پر تم ہو، جب تک ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے اور الله نہیں ہے کہ تم کو غیب کی خبر دے، لیکن الله اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے چھانٹ لیتا ہے۔“ (آلِ عمران:179)

شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ الله اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
” یعنی جس طرح خو ش حالی او رمہلت دینا کفار کے حق میں مقبولیت کی دلیل نہیں، اسی طرح اگر مخلص مسلمانوں کو مصائب اور ناخوش گوار حوادِث پیش آئیں( جیسے جنگ اُحد میں پیش آئے) یہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ الله کے نزدیک مبغوض ہیں۔ بات یہ ہے کہ الله تعالیٰ مسلمانوں کو اس گول مول حالت پر چھوڑنا نہیں چاہتا، جس پر اب تک وہ رہے ہیں، یعنی بہت سے کافر از راہِ نفاق کلمہ پڑھ کر دھوکہ دینے کے لیے ان میں ملے رہتے تھے، جن کے ظاہر حال پر منافق کا لفظ کہنا مشکل تھا، لہٰذا ضروری ہے کہ الله تعالیٰ ایسے واقعات وحالات بروئے کار لائے جو کھرے کو کھوٹے سے او رپاک کو ناپاک سے کھلے طور پر جدا کر دے۔ بے شک خدا کو آسان تھا کہ تمام مسلمانوں کو بدون امتحان میں ڈالے منافقوں کے ناموں اور کاموں سے مطلع کر دیتا، لیکن اس کی حکمت ومصلحت مقتضی نہیں کہ سب لوگوں کو اس قسم کے غیوب سے مطلع کر دیا کرے۔ ہاں! وہ اپنے رسولوں کا انتخاب کرکے جس قدر غیوب کی یقینی اطلاع دینا چاہے دے دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ عام لوگوں کو بلاواسطہ کسی غیب کی یقینی اطلاع نہیں دی جاتی ہے، مگر جس قدر خدا چاہے۔“

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں:
”یعنی تم لوگ مخلوقات کے سلسلے میں الله کی مغیبات کو نہیں جانتے، ہاں !وہ غیب کے پردہ کو چاک کرنے والے اسباب پیدا کرکے مومن اورمنافق میں امتیاز قائم کر دیتا ہے۔“

علماء نے لکھا ہے کہ الله تعالیٰ (جو اپنے ارادے کو بہت کر گزرنے والا او راپنے کرنے یا نہ کرنے میں حکمت کو خوب جاننے والا ہے ) جس طرح شرعی دینی آیات واحکام کے ذریعے مسلمانوں کی تربیت کرتا ہے، اسی طرح تکوینی وتقریری آیات اور نشانیوں کے ذریعے بھی مسلمانوں کی دینی تربیت کا انتظام کرتا ہے۔ یعنی نظری اسباق کے ساتھ ساتھ عملی اسباق کے ذریعے اس کے ایمان ویقین کو صیقل اور دینی زندگی کو آب دار وتاب ناک بناتا ہے۔ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ:”البتہ تمہاری آزمایش ہو گی، مالوں میں او رجانوں میں اور البتہ سنو گے تم اگلی کتاب والوں سے اور مشرکوں سے بد گوئی بہت او راگر تم صبر کرو اور پرہیز گاری کرو، تو یہ ہمت کے کام ہیں۔“ (آل عمران:186)

شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ الله فرماتے ہیں:
”یہ خطاب مسلمانوں کو ہے، آئندہ بھی جان ومال میں تمہاری آزمایش ہو گی اور ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں گی، قتل کیا جانا، زخمی ہونا، قید وبند کی تکلیف اٹھانا، بیمار پڑنا، اموال کا تلف ہونا، اقارب کا چھوٹنا۔ اس طرح کی سختیاں پیش آئیں گی۔ نیز اہل ِکتاب اور مشرکین کی زبانوں سے بہت جگر خراش اور دِل آزار باتیں سننا پڑیں گی۔ ان سب کا علاج صبر وتقویٰ ہے، اگر صبر واستقلال اور پرہیز گاری سے ان سختیوں کا مقابلہ کرو گے، تویہ بڑی ہمت اور اُولو العزمی کا کام ہو گا، جس کی تاکید حق تعالیٰ نے فرمائی۔“

تقریباً اسی طرح کا مضمون سورہٴ محمد میں اس طرح ذکر ہواہے:
ترجمہ:” اور البتہ ہم تم کو جانچیں گے، تاکہ معلوم کر لیں جو تم میں لڑائی کرنے والے ہیں اور قائم رہنے والے اور تحقیق کر لیں تمہارِی خبریں۔“ (محمد:31)

یعنی جہاد وغیرہ کے احکام سے امتحان اور آزمایش مقصود ہے، کیوں کہ اسی سخت آزمایش کے ذریعہ انسان کا ایمانی جوہر کھلتا ہے اور رِیا کار کی رِیا کاری ظاہر ہو جاتی ہے اور لوگوں کو بھی یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ کون الله کے راستے میں لڑ رہا ہے، اس لیے ثابت قدم ہے اور کون ایسا نہیں ہے، ورنہ الله تعالیٰ کو تو شروع سے معلوم ہے کہ کون کیا ہے؟

یہی مضمون سورہٴ انبیاء میں اس طرح وارد ہوا ہے:
ترجمہ:” اور ہم تم کوجانچتے ہیں برائی سے او ربھلائی سے آزمانے کو اور ہماری طرف پھر کر آجاؤ گے۔“ (الانبیاء:35)

یعنی دنیا میں راحت وآرام یا تکلیف وپریشانی کے جن احوال سے انسانوں کو گزارا جاتا ہے ان کا مقصد کھرے وکھوٹے میں خط فاصل کھینچنا ہے، تاکہ سارے لوگوں کو کھلی آنکھوں اچھے اور بُرے لوگوں اور الله والوں اور الله کے دشمنوں کے احوال کا مشاہدہ ہوجائے اور صابر وشاکر او رناشکر ے اورشکوہ کرنے والوں کا فرق نمایاں ہو جائے۔

شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ الله فرماتے ہیں:
”یعنی دنیا میں سختی ، نرمی، تن درستی، بیماری، تنگی، فراخی او رمصیبت وعیش وغیرہ مختلف احوال بھیج کر تم کو جانچا جاتا ہے، تاکہ کھرا کھوٹا الگ ہو جائے او رعلانیہ ظاہر ہو جائے کہ کون سختی پر صبر اور نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے اور کتنے لوگ ہیں جو مایوسی یا شکوہ، شکایت اور ناشکری کے مرض میں مبتلا ہیں ( اور ہماری طرف پھر کر آجاؤ گے) یہاں تمہارے صبر وشکر اور ہر نیک وبد عمل کا پھل دیا جائے گا“۔

شکست کی صورت میں فتح پائے جانے کا امکان
ابھی گزرا کہ غیب کی باتوں کو الله کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب ایسا ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم انسانوں کو جوکچھ ہزیمت وشکست کی شکل میں نظر آرہا ہے، وہ وفتح مندی وکام رانی ہو اور جو چیز فی الحلال شر نظر آرہی ہے وہ انجام کے اعتبار سے خیر ہی خیر ہو۔ الله تعالی فرماتا ہے:
ترجمہ:”تم اس کو اپنے حق میں بُرا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے“۔(النور:11)

اس آیت میں اس جگر خراش واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا پر (6ہجری میں غزوہ بنی المصطلق سے مدینہ واپسی کے وقت ایک منزل پر ان کا قافلہ ٹھہر گیا تھا اور قضائے حاجت کے لیے جانے کی وجہ سے، جنگل میں ان کا ہار گم ہو گیا، اس کی تلاش میں دیر لگ جانے کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی الله عنہا جنگل سے واپس آئیں تو قافلہ کے روانہ ہوجانے کی وجہ سے وہیں رُک گئیں۔ رات کا وقت ہو جانے کی وجہ سے نیند کا غلبہ ہوا تو وہیں لیٹ گئیں۔ ایک صحابی جو گرے پڑے کی خبر گیری کے لیے قافلے کے پیچھے چلا کرتے تھے، صبح کو وہاں پہنچے تو حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو دیکھ کر چونک پڑے او رحضرت عائشہ کو اونٹ پر بٹھا کر دوپہر کو قافلہ سے جاملے) خبیث اور بد باطن منافق عبدالله بن ابی نے نہایت نازیبا تہمت لگائی اور بعض مسلمانوں نے بھی اس تہمت کو سادگی میں سچ سمجھ لیا، حضور صلی الله علیہ وسلم، حضرت عائشہ او ران کے گھرانے او رتمام مسلمانوں کو اس تہمت کا ناقابل بیان صدمہ تھا۔

قرآن پاک کی یہ آیت ( اور اس سے قبل اور بعد کی آیتیں) اسی موقع پر نازل ہوئیں،جس میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اس تہمت اور اس کی تشہیر وغیرہ کو پنے حق میں بُرا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

شیخ الاسلام حضرت علامہشبیر احمد عثمانی رحمہ الله فرماتے ہیں:
”یہ خطاب ان مسلمانوں کی تسلی کے لیے ہے، جنہیں اس واقعے سے صدمہ پہنچا تھا، بالخصوص عائشہ صدیقہ  اور ان کا گھرانہ کہ ظاہر ہے وہ سخت غم زدہ اور پریشان تھے، گو بہ ظاہر یہ چرچا بہت مکروہ، رنج دہ اور ناخوش گوار تھا، لیکن فی الحقیقت تمہارے لیے اس کی تہہ میں بڑی بہتری چھپی ہوئی تھی۔ آخر اتنی مدت ایسے جگر خراش حملوں اور ایذاؤں پر صبر کرنا کیا خالی جاسکتا ہے؟ کیا یہ شرف تھوڑا ہے کہ خود حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں تمہاری نزاہت وبراء ت اتاری اور دشمنوں کو رسوا کیا اور قیامت تک کے لیے تمہارا ذکر خیر قرآن پڑھنے والوں کی زبان پر جاری کر دیا اور مسلمانوں کو پیغمبر علیہ السلام کی ازواج واہل بیت کا حق پہچاننے کے لیے ایسا سبق دیا، جو کبھی فراموش نہ ہو سکے۔ فللّٰہ الحمد علی ذلک“․

الغرض اس آیت نے مسلمانوں کویہ سبق دیا ہے کہ شر سے خیر برآمد ہو سکتا ہے، لہٰذا شر کے ظاہر پر نظرکرکے رنجیدہ خاطر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر الله کے ساتھ معاملہ درست ہے تو صبر کرنا چاہیے، ان شاء الله اس شرکا انجام محض خیر ہو گا۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
”مجھے مومن کے معاملے پر تعجب ہے کہ اس کے سارے معاملات بھلے ہیں، اگر اس کو بھلائی ہاتھ آئے اور الله کا شکر گزار ہو تو یہ اس کے لیے بھلائی کا ذریعہ ہے او راگر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آجائے اور صبر سے کام لے تو اس کے لیے یہ بھیبھلائی ہے، مومن کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی ساری باتیں باعث بھلائی ہوں۔“ (مسند احمد حدیث:23412)

پھر یہ کہ الله تعالیٰ دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ کبھی کسی کے مقابلے میں کسی کی مدد وحمایت کرتا ہے او رکبھی کسی کو دوسرے پر فتح یاب اور غالب کرتا ہے، وہ کبھی دشمنوں کو مسلمانوں پر غلبہ دیتا ہے، لیکن حسنِ انجام مومنین ہی کے ہاتھ آتا ہے، اسی طرح وہ مسلمانوں کو کافروں کے بہ قدر زخم یاقتل سے دو چار کرتا ہے، تاکہ مخلص اہل ایمان اور بد عمل کافروں اور منافقوں کافرق قائم ہوجائے۔

جنگ احد میں مسلمانوں کی فتح جو بہ ظاہر شکست میں تبدیل ہوئی اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو جن نقصانات سے دو چار ہونا پڑا او ران کی وجہ سے مسلمانوں کو دلی اذیت ہوئی، ان کے حوالے سے الله پاک نے دیگر باتوں کو واضح کرتے ہوئے ذیل کی آیت میں مسلمانوں کو اس طرح مخاطب کیا ہے:

ترجمہ:” اگر پہنچا تم کو زخم، تو پہنچ چکا ہے ان کو بھی زخم ایسا ہی اور یہ دن باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان لوگوں میں اور اس لیے کہ معلوم کرے الله جن کو ایمان ہے اور کرے تم سے شہید اور الله کو ظلم کرنے والوں سے محبت نہیں اور سواس واسطے کہ پاک صاف کرے الله ایمان والوں کو اور مٹا دیوے کافروں کو“۔ (آل عمران:141-140)
ہزیمت کی جو ظاہری شکل آج اسلام پسندوں کو اٹھانی پڑی ہے اور جس طرح ان کے دل کو کچو کے لگ رہے ہیں اور دُشمنانِ اسلام اور منافقین وقت جس طرح انہیں طعنے دے رہے ہیں او رگویا زبان حال سے (بلکہ اب تو یورپی میڈیا زبان قال سے بھی) یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تمہارا دین سچا ہوتا اور اس کی پیروی اور اس کے فہم وتنفیذ میں تم راہ راست پر ہوتے تو تمہیں ہی کام یابی ملتی، لیکن دیکھا یہ جارہا ہے کہ جنہیں تم الله کے دشمن کہہ رہے ہو وہی کام یاب ہیں اور تمہیں سرچھپانے کی جگہ بھی نہیں مل پارہی ہے! ان دل خراش واقعات وحوصلہ شکن صورت حال میں خدائے ذوالجلال کا مذکورہ بالا ارشاد، اسلام پسندوں کے لیے انتہائی باعث تسلی اور حوصلے کو مہمیز کرنے والا ہے۔

شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی  مذکورہ آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:
”مسلمانوں کو جنگ احد میں جو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا، اس سے سخت شکستہ خاطر تھے۔ مزید براں منافقین اور دشمنوں کے طعنے سن کر اور زیادہ اذیت پہنچی تھی، کیوں کہ منافقین کہتے تھے کہ محمد صلی الله علیہ وسلم سچے پیغمبر ہوتے… تو یہ نقصانات کیوں پہنچتے یا تھوڑی دیر کے لیے بھی عارضی ہزیمت کیوں پیش آتی؟ حق تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی تھی کہ اگر اس لڑائی میں تم کو زخم پہنچایا تکلیف اٹھانی پڑی، تو اس طرح کے حوادث فریق مقابل کو پیش آچکے ہیں۔ اُحد میں تمہارے پچھتر (75) آدمی شہید اور بہت سے زخمی ہوئے تو ایک سال پہلے بدر میں ان کے ستر (70) جہنم رسید اور بہت سے زخمی ہوچکے ہیں اور خو داس لڑائی میں بھی ابتداءٍ ان کے بہت آدمی مقتول ومجروح ہوئے، جیسا کہ :﴿وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللَّہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُم بِإِذْنِہِ﴾ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ پھر بدر میں ان کے ستر(70) آدمی ذلت کے ساتھ قید ہوئے، تمہارے ایک فرد نے بھی یہ ذلت قبول نہ کی۔ بہرحال اپنے نقصان سے مقابلہ کرو، تو غم وافسوس کا کوئی موقع نہیں، نہ ان کے لیے کبر وغرور سے سر اٹھانے کی جگہ ہے۔باقی ہماری عادت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ سختی، نرمی، سکھ، دکھ، تکلیف، راحت کے دنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے رہتے ہیں، جس میں بہت سی حکمتیں مضمر ہیں۔ پھر جب وہ دکھ اٹھا کر باطل کی حمایت میں ہمت نہیں ہارتے تو تم حق کی حمایت میں کیوں کر ہمت ہارسکتے ہو؟ ( اور اس لیے کہ معلوم کرے الله جن کو ایمان ہے ) یعنی سچے ایمان والوں کو منافقوں سے الگ کردے، دونوں کا رنگ صاف صاف او رجدا جدا نظر آنے لگے ۔ (اور الله کو محبت نہیں ظلم کرنے والوں سے ) ”ظالمین“ سے مراد اگر مشرکین ہیں، جو احد میں فریق مقابل تھے، تو یہ مطلب ہو گا کہ ان کی عارضی کام یابی کا سبب یہ نہیں کہ خدا ان سے محبت کرتا ہے، بلکہ دوسرے اسباب ہیں، منافقین مراد ہوں، جو عین موقع پر مسلمانوں سے الگ ہوئے تھے، تو یہ بتلا دیا کہ وہ خدا کے نزدیک مبغوض تھے، اس لیے ایمان وشہادت کے مقام سے انہیں دور پھینک دیا گیا ( اور سو اس واسطے کہ پاک صاف کرے الله ایمان والوں کو اور مٹا دے کافروں کو ) یعنی فتح اور شکست بدلتی چیز ہے او رمسلمانوں کو شہادت کا مقام بلند عطا فرمانا تھا، مومن ومنافق کا پرکھنا، مسلمانوں کو سدھا نا، یاذنوب سے پاک کرنا اورکافروں کو آہستہ آہستہ مٹا دینا منظو رتھا کہ جب وہ اپنے عارضی غلبہ اور وقتی کام یابی پر مسرور ومغرور ہو کر، کفر وطغیان میں بیش از بیش غلو کریں گے، خدا کے قہر وغضب کے اور زیادہ مستحق ہوں گے، اس واسطے یہ عارضی ہزیمت مسلمانوں کو ہوئی، نہیں تو الله کافروں سے راضی نہیں ہے “۔

کافروں اور منافقوں کو ڈھیل دیا جانا محض الله کی حکمت ہے
ہاں! واقعی الله تعالیٰ کبھی بھی کافروں سے راضی نہیں ہوسکتا، اس لیے وہ کسی مصلحت سے اگر انہیں مسلمانوں پر غلبہ دے دے، تو یہ وقتی غلبہ ہو گا اور آخرت میں تو کافروں اور منافقوں کا ٹھکاناجہنم ہی ہے، اس لیے کافروں کو اپنی وقتی کام یابی پرناچنے گانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ یہ محض اس لیے ہے کہ ان کی سرکشی میں اور اضافہ ہو اور بالآخر وہ خدائے قہار کے مزید غیظ وغضب کا شکار ہوں اور آخرت میں رسوا کن عذاب کے مستحق ہوں۔

ترجمہ:” اور یہ نہ سمجھیں کافر کہ جو مہلت دیتے ہیں ان کو کچھ بھلا ہے ان کے حق میں۔ ہم تو مہلت دیتے ہیں ان کو، تاکہ ترقی کریں وہ گناہ میں او ران کے لیے عذاب ہے خوار کرنے والا“۔ (آل عمران:178)

شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ الله اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
”یعنی ظاہری فتح وکام رانی کی شکل میں، یا لمبی عمروں اور خوش حالی اور دولت و ثروت کی شکل میں، جو ڈھیل کافروں اور منافقوں کو ملا کرتی ہے، تو انہیں خیال گزرتا ہے کہ ہم اگر مغضوب اور راندہٴ در گاہ ہوتے (جیسا کہ مسلمان کہتے ہیں) تو ہم کو اتنی فراخی وخوش حالی اور مہلت کیوں دی جاتی؟ اور مسلمانوں کے مقابلے میں ہمیں جیت کیوں نصیب ہوتی؟ سو واضح رہے کہ یہ مہلت د ینا ان کے حق میں کچھ بھلی بات نہیں، کیوں کہ انہیں مہلت دینے کانتیجہ یہ ہوگا کہ جن کو گناہ سمیٹ کر کفر میں مرنا ہے اور وہ خوش حالی و فراوانی اور کام یابی کے ظاہری نقشوں کو دیکھ کر اپنی آزادی او راختیار سے جی بھر کر ارمان نکالیں او رگناہوں کا ذخیرہ فراہم کر لیں۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہیں کہ ہم تو بڑیعزت اور شان وشوکت میں ہیں، حالاں کہ ذلیل وخوار کرنے والا عذاب ان کے لیے تیار ہے، لہٰذا سوچ لیں کہ مہلت دینا ان کے حق میں بھلا ہوا یا برا؟“ (تفسیر عثمانی، تبدیلی کے ساتھ)

قرآن پاک میں مسلمانوں کو صاف لفظوں میں یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ ہم فتح ونصرت کو کبھی کبھی ماضی میں بھی اپنی حکمت ومصلحت کے تحت کچھ وقتوں کے لیے انبیاء ورسل او ران کے ماننے والوں سے ٹالتے رہے ہیں، حتی کہ وقت کے انبیاء ورسل کی مایوسانہ کیفیت اپنے عروج کو پہنچ جاتی تھی۔ قرآن پاک نے اس صورت حال کی اس طرح بلیغ تصویر کھینچی ہے:
ترجمہ:” یہاں تک کہ جب نااُمید ہونے لگے رسول اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا، پہنچی ان کو ہماری مدد۔پھر بچا دیا جن کو ہم نے چاہا او رپھرتا نہیں عذاب ہمارا قوم گناہ گار سے“۔ (یوسف:110)

دوسری آیت میں ارشاد ہے:
ترجمہ:”کیا تم کو یہ خیال ہے کہ جنت میں چلے جاؤ گے ،حالاں کہ تم پر نہیں گزرے حالات ان لوگوں جیسے جو ہوچکے تم سے پہلے کہ پہنچی ان کو سختی او رتکلیف اور جھڑ جھڑائے گئے، یہاں تک کہ کہنے لگا رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے، کب آوے گی الله کی مدد؟ سن رکھو! الله کی مدد قریب ہے“۔ (البقرة:214)

یعنی مہلت دیے جانے اور عذاب میں تاخیر کی وجہ سے پہلی قوموں کو بھی دھوکا ہوا تھا اور ان کے حوصلے اور بڑھ گئے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت علامہ عثمانی  فرماتے ہیں:
” یعنی تاخیر عذاب سے دھوکہ مت کھاؤ۔ پہلی قوموں کو بھی لمبی لمبی مہلتیں دی گئیں اور عذاب آنے میں اتنی دیر ہوئی کہ منکرین بالکل بے فکر ہو کر بیش از بیش شرارتیں کرنے لگے۔ یہ حالات دیکھ کو پیغمبروں کو ان کے ایمان لانے کی کوئی امید نہ رہی، ادھر خدا کی طرف سے ان کو ڈھیل اس قدر دی گئی کہ مدت دراز تک عذاب کے کچھ آثار نظر نہ آتے تھے۔ غرض دونوں طرف کے حالات وآثار پیغمبروں کے لیے یاس انگیز تھے۔ یہ منظر دیکھ کر کفار نے یقینی طور پر خیال کر لیا کہ انبیاء سے جو وعدے ان کی نصرت اور ہمار ی ہلاکت کے کیے تھے، سب جھوٹی باتیں ہیں۔ عذاب وغیرہ کا ڈھکو سلا صرف ڈرانے کے واسطے تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ اس مایوس کن اور اضطراب انگیز حالت میں انبیا کے قلوب میں بھی یہ خیالات آنے لگے ہوں کہ وعدہٴ عذاب کو جس رنگ میں ہم نے سمجھا تھا، وہ صحیح نہ تھا، یا وساوس وخطرات کے درجہ میں بے اختیار یہ وہم گزرنے لگے ہوں کہ ہماری نصرت اور منکرین کی ہلاکت کے جو وعدے کیے گئے تھے کیا وہ پورے نہ کیے جائیں گے؟ جیسے دوسری جگہ فرمایا:﴿وَزُلْزِلُوا حَتَّیٰ یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ مَتَیٰ نَصْرُ اللَّہِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّہِ قریب﴾ (البقرة:214) جب مجرمین کی بے خوفی او رانبیاء کی تشویش اس حد تک پہنچ گئی اس وقت ناگہاں آسمانی مدد آئی، پھر جس کو خدا نے چاہا، یعنی فرماں بردار مومنین کو محفوظ رکھا او رمجرموں کی جڑ کاٹ دی“۔

یہاں یہ خطرہ نہ گزرے کہ کیا انبیا بھی الله کی مدد سے مایوس ہو جایا کرتے تھے؟ اس سوال کا جواب شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ الله نے اس طرح دیا ہے:
”الله تعالیٰ کی غیر محدود رحمت ومہربانی سے مایوس ہونا کفر ہے، لیکن ظاہری حالات واسباب کے اعتبار سے ناامیدی کفر نہیں، یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ فلاں چیز کی طرف سے جہاں تک اسباب ظاہری کا تعلق ہے، مایوسی ہے، لیکن حق تعالیٰ کی رحمت کاملہ سے مایوسی نہیں، آیت:﴿حَتَّیٰ إِذَا اسْتَیْأَسَ الرُّسُلُ﴾میں یہی مایوسی مراد ہے، جو ظاہری حالات وآثار کے اعتبار سے ہو، ورنہ پیغمبر ،خدا کی رحمت سے کب مایوس ہو سکتے ہیں؟!“

ہم مسلمان عجلت پسند ہیں
”زلزلوا“ کی قرآنی تعبیر کتنی ہمہ گیر، بلیغ اور خوف وامتحان کی اس زبردست کیفیت کو اجاگر کرتی ہے جس سے مسلمانوں اور خود انبیا علیہم السلام کو سابقہ پڑا تھا۔ آج اگر مسلمانوں پر مشکل وقت آن پڑا ہے، اگر دین کا نام لینے کے جرم میں ان کا ہر جگہ، ہر پیمانے پر اور کفر وطاغوت کی تمام ترقی یافتہ طاقتوں کے ذریعہ پیچھا کیا جارہا ہے، انہیں دوڑایا جارہا ہے، ان کے گرد گھیرا ڈالا جارہا ہے او ران کی زندگی، عزت اور انسانیحرمت کونت نئے طریقوں سے پامال کیاجارہا ہے، تو چنداں جائے تعجب نہیں کہ یہ تو ایمان کی پختگی اور اسلامی احکام پر سختی سے قائم رہنے کا وہ ”ٹیکس“ ہے جو وفا کیش فرزندانِ اسلام کو خوشی خوشی اور سرخ روئی کے ساتھ ادا ہی کرنا پڑے گا۔

حدیث صحیح میں حضرت خباب بن الارت رضی الله عنہ سے مروی ہے ( جس کو علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے ) کہ:
”ہم صحابہ نے عرض کیا: اے الله کے رسول! آپ ہمارے لیے نصرت کی دعا کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں میں یہ ہوا کہ ان میں سے کسی کے بیچ سر پر آرا رکھ کر قدم تک دو حصوں میں چیر دیا گیا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دین سے نہیں پھرا۔ پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم! الله اس دین کو اتنا مکمل کر دے گا کہ ایک سوار”صنعاء“ سے ”حضر موت“ (یہ دونوں جگہیں یمن میں ہیں) تک اس طرح بے خوف سفر کرے گا کہ اس کو خدا کے سوا او راپنی بکریوں کے سلسلے میں بھیڑئیے کے سوا کسی چیز کا خوف نہ ہو گا، لیکن تم لوگ عجلت پسند ہو“۔ (تفسیر ابن کثیر)

لہٰذا ہم مسلمانوں کو عجلت اور بے صبری سے کام نہیں لینا چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ الله کا وعدہ برحق ہے اور سچے رسول کی پیش گوئی سچی ہے۔ الله تعالیٰ اس دین کو ،دین پسندوں کو اور دین کی نصرت کرنے والوں کو ضرورغلبہ دے گا، اہل ایمان کو عزت دے گا، دین کا کلمہ بلند کرے گا اور کافروں، منافقوں اور یہود ونصاریٰ ومشرکین وملحدین کو ذلیل وخوار کرے گا۔ یہ اس کا اٹل فیصلہ، ناقابلِ تنسیخ تقدیر، لکھا ہوا وعدہ اور اس کا وعدہ کردہ قول برحق ہے اورالله سے زیادہ بات کا پکا اور وعدے کا سچا بھلا کون ہو گا؟

فتح اور شکست ،غلبہ او رجیت کا معاملہ بعض دفعہ انسانوں کے لیے ابہام آمیز، غیر واضح او رناقابل فہم ہوتا ہے۔ بعض دفعہ جو چیز ”فتح مبین“ نظر آتی ہے وہ ذلت آمیز شکست، رسوا کن ہزیمت او رمٹی میں ملا دینے والی پستی ہوتی ہے، جب کہ جو صورت حال ہزیمت کی نظر آتی ہے، وہ زبردست فتح اور قابل افتخار کام یابی ہوتی ہے۔ انجام کار کو الله تعالیٰ کے سوا کون جانتا ہے؟ وہی خالق خیر اور خالق شر ہے، لہٰذا کبھی کبھی خیر، شر کے نقشے میں موجود ہوتا ہے، جب کہ خیرنظر آنے والی بات شر محض کا یقینی پیش خیمہ ہوتی ہے۔ اعتبار انجام کارکا ہے:
ترجمہ:”تو شاید تم کو پسند نہ آوے ایک چیز اور الله نے رکھی ہو اس میں بہت خوبی“۔ (النسآء:19)

نیز ارشاد ہے:
ترجمہ:” اور شاید کہ تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کوبھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور الله جانتا ہے اور تم نہیں جانتے“۔ ( البقرة:216)

سچ ہے کہ الله جانتا ہے، ہم نہیں جانتے، وہ عواقب سے ہماری بہ نسبت زیادہ واقف ہے اور دنیا وآخرت میں ہماری صلاح وفلاح کی باتوں کی زیادہ خبر رکھتا ہے، اس لیے ہمیں اس کے وعدے پر یقین کرنا چاہیے، تاکہ ہم دنیا وآخرت میں کام رانیوں سے ہم کنار ہوں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.