جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

علوم اسلامیہ میں فقہ کی اہمیت اور کتاب وسنت سے اس کا ربط

مولوی محمد فاروق اعظم

”فقہ“ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے، وہ قرآن کریم کا خلاصہ اور سنت رسول ا لله صلی الله علیہ وسلم کی روح ہے، شریعت کے عمومی مزاج ومذاق کا ترجمان ہے اور اسلامی زندگی کے لیے چراغ راہ بھی، اس لیے علوم اسلامیہ میں اس کی جو اہمیت وضرورت ہے وہ آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہے اور یہی نہیں کہ اس کی ضرورت صرف ماضی ہی سے وابستہ تھی، بلکہ آج بھی اور آئندہ بھی اس کی ضرورت واہمیت ماضی ہی کی طرح محسوس کی جاتی رہے گی اور مجتہدین کرام قرآن وحدیث میں غوطہ زنی کرکے فقہی اصول کے ذریعے امت کے پیش آمدہ مسائل حل کرتے رہیں گے۔

ذیل میں اسی پر روشنی ڈالی جائے گی اور اس پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے گا کہ علوم اسلامیہ میں ”فقہ“ ہی ایسا فن ہے جس کے اندر ایسی عالم گیریت وہمہ جہتی پائی جاتی ہے کہ ہر ہر مسلمان کی زندگی، بلکہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس سے پوری طرح مربوط ہے اور اس کے بغیر انسانی زندگی ادھوری ونامکمل سمجھی جائے گی، رہ گئے وہ کور چشم جو سرے سے فقہ کے منکر ہیں اور اسے کتاب وسنت سے علیحدہ شے گمان کرتے ہیں تو اس سلسلے میں اتنا کافی ہے کہ چاند پر دھول ڈالنے والے کا چہرہ تو گرد آلود ہو سکتا ہے؛ لیکن چاند کی چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔

غرض یہ کہ ”فقہ“ قرآن وحدیث سے تیار شدہ وہ گاڑی ہے جس کے ذریعے حیاتِ انسانی مکمل زاد راہ کے ساتھ اپنی منزل مقصود (آخرت) تک بآسانی پہنچ سکتی ہے۔

فقہ کس کا نام ہے؟
لغت میں لفظ فقہ کو کسی چیز کے جاننے اور سمجھنے کے معنی میں استعمال کیا جاتا تھا، بعد میں اس کا استعمال خاص علم دین کے فہم میں ہونے لگا، قرآن پاک میں یہی مراد ہے اور حدیث میں بھی یہی معنی: من یرد الله بہ خیرا یفقہ فی الدین ․عہد صحابہ وتابعین میں فقہ کا لفظ ہر قسم کے دینی احکام کے فہم پر بولا جاتا تھا، جس میں ایمان وعقائد، عبادات واخلاق، معاملات اور حدود وفرائض سب شامل تھے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمة الله علیہ سے منقول فقہ کی تعریف ان الفقہ ھو معرفة النفس مالھا وماعلیھا ” جس سے انسان اپنے نفع ونقصان اور حقوق وفرائض کو جان لے وہ فقہ ہے، اپنے اندر مذکورہ تمام چیزوں کو سموئے ہوئے ہے، مگر بعد میں جب علیحدہ طور پر ہر فن کی تدوین وتقسیم ہوئی تو ”فقہ“ عبادات ومعاملات اور معاشرت کے ظاہری احکام کے لیے خاص ہو گیا، چناں چہ فقہ کی تعریف علامہ ابن خلدون کے الفاظ میں اس طرح ہے کہ ”افعال مکلفین کی بابت اس حیثیت سے احکام الہٰی کے جاننے کا نام ہے کہ وہ واجب ہیں یا محظور( ممنوع وحرام)، مستحب اور مباح ہیں یا مکروہ“ اس کی مزید وضاحت اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ”فقہ ملکہٴ استنباط اور دینی بصیرت کا نام ہے جس کے ذریعے احکامِ شریعت ،اسرار معرفت اور مسائل حکمت سے واقفیت ہوتی ہے۔ نیز نئے فروعی مسائل کے استنبابط اور ان کی باریکیوں کا علم ہوتا ہے۔“

فقہ کی بنیاد قرآن وحدیث ہی ہیں نہ کہ محض عقل وقیاس، چناں چہ علامہ مناظر احسن گیلانی فرماتے ہیں کہ :”فقہ کے یہ معنی نہیں کہ شریعت میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ عقل کرتی ہے، بلکہ وہی بات یعنی نتائج واحکام کا، جو روغن وحی ونبوت کی ان معلومات میں چھپا ہوا تھا، عقل کی مشین ان ہی کو اپنی طاقت کی حدتک ان سے نچوڑنے کی کوشش کرتی ہے، اسی کوشش کانام اجتہاد ہے۔“

فقہ کا اصل سرچشمہ
یہ بات تو پوری طرح واضح ہے کہ احکام شرعیہ کے استنبابط کا اصل منبع کتاب الله رہا، اس کے بعد سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ،پھر قیاس واجماع، جس کی حقیقی تصویر اس واقعہ میں دیکھی جاسکتی ہے جب کہ حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کو یمن کا قاضی بنا کر رخصت کرتے وقت رسول الثقلین صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ : کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اپنے فیصلہ کی بنیاد کس کو قرار دو گے؟ حضرت معاذ نے عرض کیا کتاب الله کو۔ آپ نے پوچھا اگر اس میں کسی کا حل نہ مل سکے تو فرمایا احادیث سے فیصلہ کروں گا۔آپ نے پھر دریافت فرمایاکہ اگر وہاں بھی نہ ملے تو؟ اخیر میں کہا کہ اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا او رحق کی جستجو میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے مزاج دین او رمزاج شریعت سے ہم آہنگی اور آگہی پرخوشی کا اظہار کیا او رالله کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا: ” تمام تعریفیں الله ہی کے لیے ہیں، جس نے الله کے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس سے اس کا رسول راضی ہے۔“

اسی طرح اسی کی ہم شکل تصویر آپ کے وصال کے بعد مسئلہ خلافت سے جھلکتی ہے، جو صحابہ رضی الله عنہم کے اجماع سے حل ہوا، اسی کے ساتھ اس حقیقت کی حیثیت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ درس نبوی کے سب سے پہلے مدرسہ کا پہلا معلم،جن کے اخلاق واعمال نبی کے بالکل مشابہ حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ، جن کو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ ہی میں درس وتعلیم کی اجازت دے دی تھی او رصحابہ کو حکم فرمایا کہ قرآن وحدیث اور مسائل ابن مسعود سے حاصل کرو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا فقہی طریقہٴ کار بے حد مقبول ہوا۔ بعد میں یہی ”فقہ حنفی“ کی شکل میں ابھر کر پورے عالم میں پھیل گیا۔ مذکورہ سطور سے پوری حقیقت سامنے آگئی کہ عمارتِ فقہ کی خشت اول کتاب الله ہے پھر حدیث، قیاس اور اجماع۔ اور فقہ کی بنیاد بھی عہد نبوی ہی میں رکھی جاچکی تھی۔

فقہ اسلامی کا ارتقا
فقہ وفتاویٰ کی بنیاد تو عہد رسالت ہی میں پڑ چکی تھی اور اسی زمانے میں خود ایوان رسالت سے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا مدینہ منورہ میں منصب افتا پر فائز ہونا بھی تاریخ بتاتی ہے۔

قرنِ اوّل میں جہاں امور دینیہ ودنیویہ کو حل کرنے کے لیے انفرادی واجتماعی وغور وفکر ہوتا تھا، وہیں اجتماعی اور شورائی اجتہاد کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ چناں چہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اس مقصد کے لیے اکابر صحابہ اور فقہائے صحابہ کی ایک مستقل مجلس قائم رکھی تھی۔ تابعین کے دور میں بھی مدینہ کے فقہائے سبعہ کی ایسی ہی مثالیں ملتی ہیں، یہ اس زمانہ کا سب سے بڑا اور لائق اعتبار دارالافتاء تھا ،بعد میں کوفہ کی درس گاہِ فقہ میں اسی منہاج وطریق کو امام ابوحنیفہ نے مزید وسعت کے ساتھ اختیار کیا او رایسی عظیم الشان اور وسیع وجامع فقہ کی بنیاد رکھی جو دیگر تمام مکاتب فقہ سے فائق وممتاز ہے، اسی کو آج فقہ حنفی سے جانا جاتا ہے۔

فقہ اسلامی یا قانونِ اسلامی کی تدوین اور طریقہٴ کار
تدوین وترتیب کا باضابطہ سلسلہ اموی دور سے شروع ہوا او رعہد عباسی کی ابتدا سے مختلف علوم وفنون کی طرف زیادہ توجہ ہوئی۔ چناں چہ اسی زمانے میں فقہ کو فن کی حیثیت حاصل ہوئی۔ علما تاریخ فقہ کو چار دور میں تقسیم کرتے ہیں، پہلا دور اس نشو ونما اور ابتدا کا ہے، جس کا سلسلہ10ھ تک جاری رہا، دوسرا دور اس کی وسعت کا ہے، جس کی مدت عہد صحابہ سے 41ھ تک رہی، تیسرا دور اس کی پختگی وکمال اور تدوین کا ہے، جو صغارِ صحابہ کے دور سے دوسری صدی ہجری کی ابتدا تک رہا ہے اور چوتھا دور چوتھی صدی ہجری کے تقریباً نصف تک رہا ۔ یہ وہ دور ہے جس کے بعد فقہ اسلامی کا دور تقلید شروع ہو جاتا ہے اور عہد نبوی سے بُعد کی بنا پر لوگوں میں اسلاف جیسی فقاہت اور فقہ اسلامی میں درک وکمال باقی نہیں رہتا ہے، اس لیے عام طور پر لوگ ائمہ اربعہ کے فقہی مکاتب کے پیرو ہو جاتے ہیں۔

یوں تو طلوع اسلام کے ساتھ ہی فقہ اسلامی کا آغاز ہو گیا تھا، لیکن چوں کہ یہ وہ زما نہ تھا جس میں لوگ انتہائی سادہ اور ضروریات محدود تھیں، اسی وجہ سے فقہائے صحابہ کی توجہات اس کی تدوین کی طرف مبذول نہ ہو سکیں، پھر حالات کے تقاضے کے پیش نظر فقہائے مدینہ نے تدوین فتاویٰ کی داغ بیل ڈالی اور فقہائے کوفہ نے فتاوی وقضایا کے جمع وترتیب پر زور دیا۔ چناں چہ حضرت ابراہیم نخعی رحمہ الله نے ایسے فتاوی اور ان کے مبادیات کو ایک مجموعہ کی شکل میں جمع کیا تھا ،اسی طرح حضرت امام ابوحنیفہ رحمة الله علیہ کے پاس اور حماد کے پاس بھی ایک مجموعہ تھا لیکن فقہ اسلامی کی باضابطہ فقہی ابواب کے مطابق تدوین کا سہرا حضرت امام حنیفہ کے سر ہے جس کی تائید امام موفق مکی کی تحریر سے یوں ہوتی ہے کہ ”امام ابوحنیفہ ہی نے سب سے پہلے علم شریعت (فقہ)کی تدوین کی، ان سے پہلے یہ کام کسی اور نے نہیں کیا۔“

عہد رسالت کے بعد جب اسلام کی حدود بہت بڑھ گئیں، قیصر وکسریٰ کی حکومتیں اسلام کے زیرنگیں ہو گئیں، یورپ میں اندلس تک افریقہ میں مصر اور شمالی افریقا تک اور ایشیا میں ایشیائی ترکستان اورسندھ تک اسلام پھیل گیا تو اسلام کو نئے تمدن، نئی تہذیب اور نئی معاشرتوں سے سابقہ پڑا”وسائل اور مسائل کی نئی نئی قسمیں پیدا ہو گئیں تو تابعین کے آخری عہد میں علمائے حق کی ایک جماعت نے (امام ابوحنیفہ کی قیادت میں) کتاب وسنت کو سامنے رکھ کر اس کے مقرر کردہ قوانین وحدود کے مطابق ایک ایسا ضابطہ حیات مرتب کرنا چاہا جو ہر حال میں مفید ، ہر طرح مکمل اور ہر جگہ قابل عمل ہو۔“

چناں چہ امام صاحب نے اپنے ایک ہزار شاگردوں میں سے چالیس کو منتخب کرکے دنیا کی بے نظیر شورائی طرز کی ایک مجلس تدوین فقہ قائم کی، جس کے اندر یوسف وزفر جیسا قیاس اور صاحب بصیرت، یحییٰ بن زائدہ، حفص بن غیاث،حبان جیسا ماہر حدیث، قاسم بن معن جیسا ماہر لغت، داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسا زہد وورع کا پیکر موجود تھا ،گویا یہ مجلس ہر علم وفن کے ماہروں سے مزین تھی او راس پر مزید یہ کہ ابوحنیفہ رحمة الله علیہ جیسا جامع کمالات اس قافلے کا میرکارواں… الله کبر!

طریقہٴ تدوین پر روشنی ڈالتے ہوئے امام شعرانی رحمة الله کے حوالے سے مفتی ظفیر الدین صاحب لکھتے ہیں کہ :”جب کوئی واقعہ ( مسئلہ) آپڑتا تو امام ابوحنیفہ اپنے تمام اصحابِ علم وفن سے مشورہ، بحث ومباحثہ اور تبادلہ خیال کرتے، پہلے ان سے فرماتے کہ جوکچھ ان کے پاس حدیث اور اقوال صحابہ کا ذخیرہ ہے وہ پیش کریں، پھر خو داپنا حدیثی ذخیرہ سامنے رکھتے اور اس کے بعد ایک ماہ یا اس سے زیادہ اس مسئلہ پر بحث کرتے، تا آنکہ آخری بات طے پاتی اور امام ابویوسف قلم بند کرتے۔ اس طرح شورائی طریقے پر سارے اصول منضبط ہوئے، ایسا نہیں ہوا کہ تنہا کبھی کوئی بات کہی ہو۔“

یہ اسی قانونِ اسلامی کی جامعیت ووسعت ہے کہ سائنس وٹکنالوجی کا یہ عہد جدید اور مستقبل کا کوئی بھی ترقی یافتہ اور عصری تمدن اپنے مسائل ومعاملات کے لیے اس کا دامن تنگ نہیں پاسکتا۔ ڈاکٹر حمید الله تحریر کرتے ہیں:”ان مباحث میں تقریباً پانچ لاکھ مسئلے مرتب ہوئے، جن میں اڑتیس ہزار کا تعلق عبادات سے اور باقی کا معاملات سے تھا اور یہ بات خوب اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہیے کہ اس مجلس میں محض انہیں مسائل پر بحث ومباحثہ ہوا کرتے تھے جن سے قرآن وحدیث ساکت تھے، نہ کہ ان مسائل پر جن کی قرآن وحدیث میں پوری وضاحت ہے۔

علوم اسلامیہ میں فقہ کو جو حیثیت او رمقام حاصل ہے وہ سورج سے بھی زیادہ روشن او رواضح ہے، اس لیے کہ یہ علم زندگی سے مربوط او رانسانی شب وروز سے متعلق وہم رشتہ ہے۔ بالفاظ دیگر اسلام کا نظامِ قانون بنیادی طور پر جن پاکیزہ عناصر سے مرکب ہے وہ کتاب الله اور سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہیں، جو اسلامی شریعت کے مرکزی مصادر و مآخذ ہیں، فقہ وقانون کی دنیا میں اسلامی نظامِ قانون، عدل وانصاف ، توازن واعتدال ، غلو وتشدد سے اجتناب او رجامعیت وافادیت جیسی امتیازی صفات کے لیے شہرت ومقام رکھتا ہے، اس کی وسعت وگہرائی، سہولت پسندی، حیرت انگیز بے ساختگی، لچک اورانسانی فطرت سے ہم آہنگی تمام حقیقت پسندوں کے یہاں مسلم ہے، جس کا دائرہٴ عمل پیدائش سے میراث تک اور عقائد سے لے کر معاملات وسیاست وغیرہ امور تک محیط ہے، بلکہ علوم نبویہ کے امین او رکاتب رسول سیدنا حضرت علی رضی الله عنہ کے بقول: ”فقہ طریقہٴ زندگی کا راہ نما ہے۔“ اس لیے تاریخ کے ہر دو رمیں اس فن پر زمانہ کی بہترین ذہانتیں صرف ہوتی رہیں۔ اسی کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مفتی ظفیر الدین صاحب اس طرح تحریر فرماتے ہیں کہ ”فقہ وفتاوی ایسا فن ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں، اس لیے کہ انسانی زندگی میں جس قدر واسطہ اس فن او راس کے اصول وجزئیات سے پڑتا ہے اور جس قدر آئے دن کے مسائل کا جواب یہاں ملتا ہے کہیں اور سے ممکن نہیں ۔“اس کی غیر معمولی حیثیت کا اندازہ مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی اس تحریر سے بھی ہوتا ہے کہ ” مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا اصل سبب ہے اس لچک کی عملی اور قانونی تشکیل، جو اسلام میں ایک عالم گیر مذہب ہونے کی حیثیت سے موجود ہے۔“ یہ معلوم ہو چکا کہ فقہ دراصل قرآن ہی کی عملی تفسیر ہے۔ جیسا کہ جناب سرور صاحب مولانا عبیدالله سندھی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ” مولانا کے نزدیک اسلامی فتوحات کے بعد قرآن کے قانون کو چلانے کے لیے فقہا کے مختلف مذاہب اسی مقصد کو پوراکرنے کے لیے معرض وجود میں آئے۔“

فقہ کی آفاقیت اور فقہاء کی عبقریت ،نیز خلوص وللہیت کے سوا اسے کیا کہا جاسکتا ہے کہ امت محمدی کے اساطین ، متبحرین اور علم کے پہاڑوں نے نہ صرف یہ کہ اس فن کی تائید کی ،بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور اسے اپنی پلکوں پہ سجانے میں سعادت مندی سمجھی۔ چناں چہ فقہ کی عظمت کو چار چاند لگاتے ہوئے علامہ انو رشاہ کشمیری رحمة الله علیہ اس طرح گویا ہیں کہ:”ہر علم وفن میں، میں اپنی مخصوص رائے رکھتا ہوں، کسی کا مقلد نہیں باستثنائے فقہ کہ اس میں میری کوئی رائے نہیں، ابوحنیفہ کی تقلید کرتا ہوں“۔ اس پتھر کی لکیر سے جہاں علم فقہ کی کاملیت واہمیت کا پتہ چلتا ہے وہیں فقہ حنفی کے ذریعے کتاب وسنت کی حفاظت وپاس داری میں منشائے خدا وندی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

یوں تو فقہ کی اہمیت وافادیت انسانی زندگی کے ایک ایک لمحہ سے عیاں ہے اور اس کا تفوق نہ صرف یہ کہ دیگر علوم اسلامیہ ہی پر ہے، بلکہ اس کا مقام ومرتبہ عبادت سے بھی بڑھ کر ہے جس کی حسین منظر کشی یوں ہوتی ہے کہ: ”حضرت ابن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے، ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے ۔“ (مشکوٰة) مذکور بالاسطور سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو گئی کہ فقہ کی وہی اہمیت ہے جو کتاب وسنت کی، اس لیے کہ شربت بھی چینی اور پانی ہی کا نام ہے ، اگر کتاب وسنت گلشن وگل ہیں تو فقہ انہیں کی عمدہ اور من موہک خوش بو۔

ایک ضروری وضاحت
یوں تو بہت سے فقہی مکاتب وجود میں آئے؛ لیکن مستقل حیثیت چار ہی کو حاصل رہی اور آج بھی دنیا کے تمام مقلدین انہیں چار میں منحصر ہیں، ان میں بھی ہر طرح سے اوّلیت کا درجہ فقہ حنفی کو ہی حاصل رہا، کیوں کہ دیگر ائمہ مجتہدین اور ان کے اجتہاد کو بھی امام ابوحنیفہ  کے اجتہاد ہی کا ایک حصہ کہا جاسکتا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ آپ کے اندر کئی ایسی خصوصیات ہیں جو آپ کو دوسرے ائمہ سے ممتاز کرتی ہیں، ان میں سے اہم شرفِ تابعیت اور آپ کی حیرت انگیزذہانت ہے، یہی وہ اسباب ہیں کہ جہاں دنیا کے ایک بڑے طبقے نے آپ کی پیروی کی، وہیں چند لوگوں کی تعداد ایسی بھی رہی جس نے آپ کو ہدف ملامت بنایا اور طرح طرح سے آپ کے خلاف زہر افشانی کی گئی اور آج بھی ایسے سیاہ بخت او رجاہل لوگ موجود ہیں جن کے نزدیک سرے سے فقہ ہی باطل اور بے بنیاد ہے اور خاص طور پر فقہ حنفی تو ان کی آنکھ کانٹا ہے۔ اس لیے یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی کہ تحریر میں بار بار فقہ حنفی کا ذکر بھی اسی کا شاخسانہ ہے اور آگے فقہ حنفی کے منکرین وحاسدین پر بھی اختصاراً روشنی ڈالی جائے گی۔

فقہ او راس کے منکرین
عالم اسلام کی اکثریت فقہ کی پیروکار ہے اور ائمہ اربعہ میں سے کسی نہ کس کی تقلید کرنے والی ہے، لیکن چند کور چشم ایسے بھی ہیں کہ جن کے یہاں نہ صرف یہ کہ فقہ قابل اعتبار ہی نہیں، بلکہ سرے سے اس کے منکر ہیں او راس بات کی رٹ لگاتے نہیں تھکتے کہ ”فقہ“ محض پراگندہ خیالات اور بیجا قیاس کا مجموعہ ہے، جس کا کتاب وسنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اسی فرقے کو ”غیر مقلد“ سے جانا جاتا ہے، یہ فرقہ حنفیوں کو کبھی مشرک بتاتا ہے تو کبھی احبار ورہبان کا بچاری گردانتا ہے۔ او ران کی عقل نارسا کی کرشمہ سازی یہیں تک نہیں رہ گئی، بلکہ ان کے جنون کی ہانڈی میں اس قدر جوش آیا کہ اس سے ایسے ایمان سوز کلمات بھی ابلے کہ ”فقہ اسلامی پر پیشاب کرنا پیشاب کی ناپاکی کو بڑھا دیتا ہے۔“(العیاذ بالله) بالکل بجا ہے کہ دیوانگی میں خوش بو وبدبو کی تمیز بھی ختم ہو جاتی ہے۔

اس گروہ کا احناف پر الزام یہ ہے کہ حنفی لوگ قرآن وحدیث پر رائے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ محض اہل رائے ہیں اور ہم اہل حدیث او رعامل بالحدیث ہیں۔ نیز فقیہ ومحدث کے بارے میں یہ فرقہ عدم وجود کا نظریہ رکھتا ہے حالاں کہ ان دونوں کی مثال”ایک جان دو قلب“ کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حدیث اگر عمارت کی بنیاد ہے تو فقہ اس کا اوپری ڈھانچہ، جس طرح سے ظاہری عمارت کے لیے بنیاد ناگزیر ہے اسی طرح اس بنیاد سے فائدہ بھی اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب کہ اس کے اوپر عمارت ہو۔

حدیث کا علم او راس سے شغف جتنا ایک محدث کو ہوتا ہے اتنا ہی ایک فقیہ کو بھی، اگر محدثین کا الفاظِ احادیث پر زیادہ زور رہتا ہے تو فقہاء کے یہاں ان کے معانی پیش نظر رہتے ہیں۔ چناں چہ امام بخاری فرماتے ہیں کہ ”فقہ سہل الحصول ہونے کے ساتھ ساتھ حدیث کا ہی ثمرہ ہے اور آخرت میں فقیہ کا ثواب محدث کے ثواب سے کم نہیں ہے۔“ اور یہی نہیں کہ حدیث وفقہ میں انتہائی گہرا ربط ہے، بلکہ امام اعمش تو یہاں تک کہہ گئے کہ ” اے فقیہو! آپ لوگ طبیب ہیں اور ہم دوا فروش ہیں۔“

فقہاء مشکل احادیث کو اپنے قیاسات واجتہادات سے حل کرنے کی بنا پر اہل الرائے سے جانے گئے، نہ کہ اس بنا پر جو غیر مقلدین کا نظریہ ہے۔ چناں چہ علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ ” محدثین اصحاب قیاس کو اصحاب الرائے کہتے ہیں، اس سے ان کی مرادیہ ہوئی ہے کہ وہ مشکل احادیث اپنی رائے اور سمجھ سے حل کرتے ہیں۔

اس فرقہ کے فقہ حنفی سے بغض وعداوت اور کجروی کی تصویر اسی کے آئینے میں اس طرح دیکھی جاسکتی ہے کہ ”کتب فقہ مروجہ شریعت اسلام کے بالکل منافی ہیں، کتاب وسنت کے ہوتے ہوئے ان پر عمل کرنا محض گم راہی اور حرام ہے ،بھلا اکلِ حلال ہوتے ہوئے خنزیر کھانا کب روا ہے؟!“

یہ گروہ جب حنفیوں کے داؤ میں پھنس جاتا ہے تو احادیث کے ضعف وغرابت کی مالا جپنے لگتا ہے، حالاں کہ خوب اچھی طرح جاننا چاہیے کہ حدیث کا یہ معیار انقلاب زمانہ کے پیش نظر امام صاحب کے زمانے کے بعد ہوا۔ ان تمام باتوں سے بخوبی اندازہ لگ جاتا ہے کہ ان کے تمام دعاوی بے دلیل اور سراسر باطل ہیں، ان کی پالیسی دورخی ہے، زبانی طور پر تو یہ گروہ اس کا دعوے دار ہے کہ فقہ سے اسے کوئی سروکار نہیں، اس لیے کہ یہ قرآن وحدیث کے علاوہ ایک تیسری چیز ہے، لیکن عملی طور پر اس میں کتنی صداقت ہے وہ پوری طرح واضح ہے، کیوں کہ نہ تو وہ تقلید سے جدا ہے اور نہ ہی فقہ سے اس کا کوئی سانس خالی، اس فرقے کی گر گٹی چال کا کچھ اندازہ اس کے نام سے بھی ہوتا ہے کہ کبھی وہ محمدی بنتا ہے تو کبھی سلفی او رکبھی اہل حدیث، یہ لوگ جزوی مسائل کو بھی ظاہراً قرآن سے ثابت کرنے کے دعوے دار ہیں، لیکن جب ان سے یہ کہا جائے کہ ہوائی جہاز وٹرین میں نماز کا کیا حکم ہے؟ ٹیلی فون او رانٹرنیٹ پر نکاح ہو جائے گا کہ نہیں؟ وغیرہ وغیرہ او ران کا جواب یا تو قرآن سے یا صحیح وصریح احادیث سے دیں تو بغلیں جھانکنے لگیں گے۔ ان کا بھانڈا تو یہاں آکر پوری طرح پھوٹ جاتا ہے۔ جب کہ ایک طرف تو وہ احناف سے ہر مسئلہ میں بخاری کا حوالہ چاہتے ہیں، گویا بخاری کو معتبر مانتے ہیں اور امام بخاری خود مقلد ہیں اور آئینہ کا دوسرا رخ اس طرح ہے بقول انہیں کے ایک دانش ور کہ:”ہر مشرک پہلے مقلد ہوتا ہے، پھرمشرک“ اب خود ادنیٰ عقل وخر دکا حامل شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ آیا غیر مقلد کا دامن شرک سے محفوظ رہا یا آلودہ؟!

حاصل یہ ہے کہ وہ فقہ کی حقانیت کو خوب جانتے اور سمجھتے ہیں، لیکن کچھ تو بغض وعناد او رکچھ اپنے آقا انگریز کی ناراضگی کا خوف۔ دونوں کی آمیزش سے پیدا شدہ تعفن نے ان کی عقل کو ماؤف ، سماعت پردبیز پردہ اور زبان کو اعترافِ حق سے گونگا کر دیا ہے۔ الله انہیں ہدایت عطافرمائے اور ہمیں بھی حق پر جمائے رکھے۔ آمین

فقہ ضرورت اور تقاضے
یہاں آکر ذہن میں ایک خلش پیدا ہو سکتی ہے کہ آخر قرآن وحدیث کے رہتے ہوئے فقہ کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کتاب وسنت کے نصوص میں احکام کا دائرہ محدود ومتناہی ہے، اس کے برخلاف حوادثِ زمانہ غیر محدود اور لامتناہی ہیں، آئے دن نئے نئے مسائل اورمشکلات جنم لیتے رہتے ہیں، اب اگر قرآن وحدیث کے نصوص میں غور وفکر کرکے ان مسائل کا حل تلاش نہ کیا جائے تو یہ شریعت محمدی بالکل جامد ومعطل ہو کر رہ جائے گی، اس میں زمانے کے بدلتے ہوئے حالات وتغیرات کو اپنے اندر سمونے کی گنجائش نہیں رہے گی، حالاں کہ الله تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی یہ شریعت کامل ومکمل ہے او رقیامت تک کی انسانیت کے لیے آخری شریعت ہے۔ انہیں باتوں کے پیش نظر خوش گوار زندگی گزانے کے لیے ایک چراغ راہ کی ضرورت پڑی کہ جس کی روشنی میں انسان بآسانی منزل مقصود تک پہنچ سکے، اسی مشعل راہ کو ”فقہ“ کہا جاتا ہے۔ الله ان ائمہ مجتہدین کا بھلا کرے جنہوں نے ہمیں اپنی منزل کا نشان بتایا، اب ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم ان کی دی ہوئی روشنیوں کے ذریعے ساحل مراد تک رسائی حاصل کریں، خاص طور پر دو رحاضر میں،جب کہ ہر طرف جدید ٹکنالوجی کی صدائیں گونج رہی ہیں اور لوگوں کے لیے راہ راست سے پھسلنے کے بے شمار اسباب مہیا ہیں، اس فن کے تئیں دوہری ذمے داری آجاتی ہے۔

چناں چہ مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ ”فقہ اسلامی میں ہمارے اس زمانے کی بیشتر ضروریات کا حل موجود ہے،لیکن جدید تمدن اور صنعتی انقلاب نے اس زمانے میں نت نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں، معاملات، معاشیات اور اقتصادیات کے سلسلے میں سینکڑوں ایسے مسائل پیدا ہو گئے ہیں جو حل طلب ہیں اور علمائے امت کو دعوتِ فکر دے رہے ہیں کہ وہ فقہ اسلامی کی روشنی میں ان کا حل پیش کر دیں۔“

خلاصہٴ تحریر
مذکورہ بالاتمام حقائق سے علوم اسلامیہ میں فقہ کا کتاب وسنت سے ربط وتعلق ، فقہاء کا کمالِ علم وعمل او ران کی بے پناہ ذہانت وذکاوت، نیز اس فن کی تدوین میں غایت درجہ کا احتیاط اور فقہ کے منکرین وحاسدین کا اس پر ہزار کیچڑ اچھالنے کے باوجود سورج کی طرح اس کی روشنی کا دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچنا، بلکہ انسانی زندگی میں موجوں کی روانی سے بھی بڑھ کر اس کا تسلسل۔ وہ اسباب وعل ہیں جن سے اس علم کی قدر ومنزلت ہمارے سامنے پوری طرح واشگاف ہو جاتی ہے اور تاریخ فقہ اسلامی کی ہر ہر سطر سے اس کی غیر معمولی ضرورت واہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ الله قرآن وحدیث پر ہمیں پوری طرح کاربند بنائے اور ائمہ مجتہدین رحمہم الله کے درجات بلند فرمائے۔ آمین !



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.