جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

ایک اہم دینی فریضہ

مولانا محمدیوسف

موجود دور میں اُمّت مسلمہ کی فکر انگیز اور درد ناک حالت، ہر سمجھ دار اور دین اسلام کی غیرت وحمیت سے سرشار درد دل رکھنے والے انسان کے لیے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف ناکامیاں ہیں، ذلت وپستی، بے چارگی ولاچارگی کی صورت حال ہے تو دوسری طرف دور دور تک روشن مستقبل کی کوئی کرن نظر نہیں آتی، موجودہ حالات میں اگر ہم انفرادی واجتماعی طور پر اپنا احتساب کریں تو اس مایوس کن صورت حال کے جہاں اور عوامل سامنے آئیں گے، وہیں ہمیں یہبات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ ہم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے سے ناقابل معافی حد تک کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ اُمت مسلمہ کی ناکامیوں اور موجودہ آلام ومصائب میں اس ذمہ داری سے غفلت کا بھی بڑا دخل ہے، قرآن کریم کی آیات اور بے شمار احادیث مبارکہ اس بات کا برملا اعلان کرتی ہیں کہ اس امت کو خیر الامم (تمام اُمتوں میں سب سے بہتر اُمّت) کا خطاب ملنے میں اچھائی کاپرچار کرنے او ربرائیوں سے روکنے کی ذمہ داری کا بڑا دخل ہے، اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کی اشاعت اور معاشرے وملک میں پھیلی ہوئی اخلاقی وروحانی برائیوں کا سدباب اُمّت محمدیہ کا اہم فریضہ ہے۔ نمونہ کے طور پر چند احادیث پیش خدمت ہیں:

حضرت حذیفہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: الله تعالیٰ کی قسم! اچھائیوں کا حکم دو اور برائیوں سے روکو، ورنہ عنقریب الله جل شانہ تم پر بہت سخت عذاب بھیجیں گے، پھر تم دعائیں کرو گے تو وہ بھی قبول نہیں ہوں گی۔ (ترمذی شریف)

ایک روایت کا مفہوم ہے کہ الله جل شانہ بعض لوگوں کے بُرے اعمال کی وجہ سے عمومی عذاب نازل نہیں فرماتے، جب تک کہ ذمہ دار لوگ گناہ ہوتے ہوئے دیکھیں اور باوجود قدرت کے منع نہ کریں او رجب ایسا ہونے لگے گا تو الله جل شانہ عوام اور خواص سب پر عذاب اتار دیں گے۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الله جل شانہ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ فلاں بستی کو اس کی آبادی سمیت الٹ دو تو انہوں نے فرمایا کہ پرورد گار! ان میں آپ کا ایک ایسا بندہ بھی ہے ، جس نے پل بھر بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی۔ پروردگار عالم نے فرمایا: اس کو اٹھا کر پٹخ دو، کیوں کہ اس کے چہرے پر میری (نافرمانی کی) وجہ سے کبھی بھی غصہ اورناگواری کا اثر نہیں آیا۔

ترک تبلیغ کا نتیجہ
حضرت ابودرداء رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ اچھائیوں کی تلقین اور برائیوں سے منع کرتے رہو، ورنہ الله تعالیٰ تم پر ایسا ظالم حاکم مسلط کر دیں گے جو نہ کسی بڑے کی تعظیم کا خیال رکھے گا اور نہ چھوٹے پر رحم کھائے گا اور تمہارے نیک لوگ دعائیں بھی کریں گے تو قبول نہیں ہوں گی اور مدد مانگیں گے تو ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

مندرجہ بالا احادیث سے اس فریضہ کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے اور یہ کہ دوسروں کو گناہوں سے روکنا او راچھائیوں کا حکم کرنا ایمان کا لازمی جز ہے۔

اہل بصیرت اور عاقبت اندیش لوگ ہمیشہ سے یہ پیشین گوئی کرتے چلے آئے ہیں اور کر رہے ہیں کہ اُمّت محمدیہ جب بھی اس فریضہ سے غفلت اختیار کرے گی تو سخت مصائب وآلام اور ذلت وخواری میں مبتلا کر دی جائے گی اور ہر قسم کی غیبی نصرت ومدد سے محروم ہو جائے گی اور یہ سب کچھ اپنے فرض منصبی کو نہ پہچاننے، اس کی قدر نہ کرنے اور جس کام کی انجام دہی اس کی ذمہ داری تھی، اس سے غفلت کی بنا پر ہو گا اور یہی صورت حال آج درپیش ہے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے پانچ اصول
یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اس ذمہ داری کو جس قدر شرعی ہدایات کی روشنی میں حکمت وتدبر اور منظم طریقے پر نبھایا جائے گا، اسی قدر اس کار خیر کے مثبت اور دوررس اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ فقیہ ابواللیث سمر قندی رحمة الله علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کام کے لیے پانچ چیزوں کی ضرورت ہے:
1..صحیح علم ہو ( جاہل اور دین سے ناواقف شخص اس کام کا اہل نہیں)۔
2..مقصد الله جل شانہ کی رضا اور دین کی برتری ہو ( بری نیت ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہے)۔
3..نرمی او رمحبت کے ساتھ شفقت کا مظاہرہ کرے، سخت اور تند خونہ بنے، الله تعالیٰ نے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون کی طرف دعوت دین کے لیے بھیجتے ہوئے فرمایا تھا کہ اس سے نرمی سے بات کرنا۔
4..اس عمل کے نتیجے میں دوسروں سے تکلیف پہنچے تو صبر وتحمل کا مظاہرہ کرے، انتقام اور بدلہ لینے پر نہ تل جائے، حضرت لقمان علیہ السلام اپنے صاحب زادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”بھلی باتوں کا حکم کرو، برائی سے روکو اور جو حالات آئیں ان پر صبر کرو۔“ (سورہٴ لقمان)
5..جس چیز کی دوسروں کو تلقین کرے، خود بھی اس پر عمل کرے، تاکہ لوگ اس شخص کو خود عمل نہ کرنے کا عار نہ دلائیں۔ ارشاد خداوندی ہے:”کیا تم لوگوں کو نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟“

علمائے دین اور حاملین علم کی خصوصی ذمہ داری
علوم دینیہ کے حاملین مردان حق پر یقینا یہ ذمہ داری دیگر لوگوں کی نسبت بہت زیادہ ہے، یقینا یہ حضرات اس بات کے سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ ابتدا اپنے گھرانے اور اس کے بعد اپنے معاشرے اور ماحول میں پھیلی ہوئی خرابیوں اور فواحش و منکرات کا بغور جائزہ لیں او راس کے بعد کوئی عملی قدم اٹھائیں، گناہوں پر روک ٹوک او رابتدائی دینی باتوں سے اپنے حلقہ اور اردگرد کے لوگوں کو باخبر کرتے رہنا، ان حضرات کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ موجودہ زمانے میں خصوصاً عمومی اصلاح وتبلیغ، عوام الناس کی دینی ذہن سازی اور ملک ومعاشرے میں کھلے عام الله جل شانہ کی نافرمانی پر آواز اٹھانا او رحتی المقدور لوگوں کو بے دینی وبے حیائی کے کاموں سے روکنے کی مہم میں حصہ لینا قابل احترام علمائے کرام کے لیے فرض کا درجہ رکھتا ہے، اس لیے اپنے علمی مشاغل کے ساتھ اس سلسلے کو جو ڑنا ان حضرات کے لیے بے حد ضروری ہے کہ دین کی بقا اور اس کے احیاء کی یہ اہم ترین صورت ہے۔ حق تعالیٰ علمائے بنی اسرائیل سے شکوہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اہل علم اور نیک لوگوں کو چاہیے تھا کہ عوام کو گناہ کی باتوں اور حرام کھانے ( اور دیگر بُرے کاموں ) سے روکتے، انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟( ان کی یہ خاموشی بہت سنگین گناہ اور) ان کا یہ طرز عمل بہت ہی بُرا ہے۔“ (المائدہ)

دوسری جگہ فرماتے ہیں:”وہ لوگ ایک دوسرے کو گناہ کے کاموں سے روکتے نہیں تھے۔“ (المائدہ)

تنہائی میں نصیحت کرنا
کسی مسلمان بھائی کو علیحدگی میں نصیحت کرنا اور بُرے کام پر ٹوکنا عموماً زیادہ مفید ثابت ہوتاہے، کیوں کہ مقصود کسی کو سر عام رسوا کرنا یا غیروں کے سامنے شرمندہ کرنا ہر گز نہیں، بلکہ اس کے دل میں خیر کی بات کو اتارنا اوربرائی کی نفرت بٹھانا ہے۔

دور حاضر میں
موجودہ زمانے میں غلط نظریات کی اشاعت ، دین میں تحریف اور لوگوں کے افکار، اعمال او راخلاق کو خراب کرنے کے لیے جس منصوبہ بندی کے تحت اہل باطل کی طرف سے کام ہو رہا ہے، اس کو دیکھ کر یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ کہیں دین کا نشو ونما نہ رک جائے اور دین کے بنیادی نظریات وتعلیمات، اس کے نام لیواؤں کے لیے ایک انوکھی چیز نہ بن جائیں۔ یہ محض الله جل جلالہ کا فضل ہے کہ اب بھی دین کے مختلف شعبوں پر کام ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود معاشرے میں بگاڑ اور خرابی میں روز افزوں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ماضی قریب کے عالم اسلام کے مفکر او ربزگ شخصیت حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندی کے بقول: ”فسادوبگاڑ کا طوفان جتنا تیز اور سخت ہے، اس تناسب سے دین کی اشاعت او ربھلائی کے پرچار کی کاوشیں اورکوششیں بہت کم ہیں“ اس لیے قوم میں عمومی بیداری پیداکرنا ضروری ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام الناس اور خصوصاً مغربی معاشرے سے متاثر طبقے میں خاص منصوبہ بندی اورمنظم انداز میں اس کام کو اٹھایا جائے اور ان کے نظریات، اخلاق واعمال کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی جائے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.