جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

والدین کے حقو ق سورہٴ بنی اسرائیل کے تناظر میں

محترم عبدالمنان معاویہ

ایک مسلمان کی زندگی کے تمام لمحات اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت میں بسر ہونی چاہیے ،اسی میں دنیا کی کام یابی ہے اور اسی میں اُخروی نجات کا راز مضمر ہے ،لیکن مغربی طرز حیات کی نقالی نے ہمیں صرف اپنے دین سے ہی نہیں دور کیا، بلکہ مشرقیت سے بھی پَرے کردیا ہے ،مغربی معاشرے میں بچوں کو اپنے والد کی خبر نہیں ہوتی اور تخم ریزی کرنے والے کو اپنے پیڑ کا پتہ نہیں ہوتا ،اس معاشرے سے ہمیں کیا واسطہ،ہمیں تو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم نے زندگی بسر کرنے کا مکمل طریقہ بتلایا ہے ،جس کے مطابق ہم اگر ایام ہائے حیات بسر کریں تو ہماری دنیا کی زندگی بھی پرسکون ہوگی اور ان شاء اللہ روزِ محشر بھی شفاعت ِ نبوی صلی الله علیہ وسلم کے مستحق بن سکیں گے۔

والدین ․․․انسان کے لیے دنیا میں ہی محبت ورحمت کے شجر سایہ دار کی مانند ہیں ، اللہ تبارک وتعالیٰ جس طرح رب العالمین ہیں ،اسی طرح والدین بھی ایک بچے لیے اللہ تعالیٰ کی صفت ِ ربوبیت کا مظہر ہوتے ہیں، اسے چلنا سِکھاتے ہیں ،بولنے کے لیے الفاظ سِکھا تے ہیں ،اس کی توتلی زبان سے نکلنے والے جملوں کو بار بار اس کی زبان سے نکلوا کر جہاں لفظوں کی تصحیح ہوتی ہے وہیں ماں باپ اپنے بچے سے محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں ،بچہ بولتا ہے، لیکن کسی کو سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا ہے کہ بچہ کیا کہہ رہا ہے، لیکن اُس وقت بھی ایک ماں ہوتی ہے کہ فوراً کہتی ہے کہ میرا بچہ یہ کہہ رہا ہے ،بچہ رنگ کا کالا ہے، لیکن ماں کہتی ہے میرا چاند ،میرا لعل ․․․باپ سارا دن کماتا ہے ،محنت ومزدوری کرتا ہے، شام کو تھکا ماند اجب گھر پہنچتا ہے تو بچہ گلے میں دونوں ہاتھ ڈالتا ہے تو باپ کی ساری تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے ،بچہ ضد کرتا ہے کہ ابو مجھے یہ کھلوناچاہیے، اُس وقت باپ بیمار ہے، اُس کے پاس رقم اتنی ہی ہے کہ یا تو بیٹے کے لیے کھلونا خرید لے یا اپنی دوائی لے لے تو اس وقت باپ اپنی بیماری کو چھوڑ دیتا ہے، لیکن بیٹے کے لیے کھلونا خریدتا ہے کہ میرے بیٹے کی خواہش ہے ،کل کو میرا بیٹا یہ نہ کہے کہ میرے ابو نے کھلونا نہیں لے کر دیا ،اس طرح کی بے شمار حقیقتیں ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا ،اب آئیے قرآن پاک کی سورہٴ بنی اسرائیل کے تناظر میں والدین کے حقوق جاننے کی سعی کرتے ہیں ۔ارشاد ربانی ہے کہ :” اور آپ کے رب نے حکم دیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرواور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرواور اگر دونوں میں سے ایک زندہ ہو یا وہ دونوں زندہ ہوں اور وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں ،تو انہیں ”اف“تک نہ کہو اور ان کو مت جھڑکو اور ان سے اچھے طریقے سے بات کرنا، ان کے لیے شفقت کے پَر پھیلا دینااور اپنے رب سے یوں عرض کرنا کہ اے میرے رب! میرے ماں باپ کے ساتھ اس طرح رحم کا معاملہ کر،جس طرح انہوں نے مجھ پر بچپن میں رحم کا معاملہ کیا“۔(سورہٴ بنی اسرائیل :24-23)

ان دو آیتوں میں جو حکم ربانی موجود ہے ،اگر اُس پر غوروفکر کیا جائے اور ان آیتوں پر عمل کیا جائے تو یقین جانیے ہمارے گھر وں میں جو آج کل بے سکونی ہے ،پریشانی ہے، لڑائی جھگڑے ہیں ،وہ سب ختم ہوسکتے ہیں، شرط صرف ان آیات کریمہ میں غور وفکر کے بعد عمل ہے،آیات کریمہ میں حق تعالیٰ نے جو فرمایا اُن میں سے چند نکات ملاحظہ فرمائیے:۔

پہلی بات اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمائی کہ:” اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا،یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات خاصہ میں کسی مخلو ق کو اُ س کا شریک نہ مانے ،پریشانی کے عالم میں غیر خدا کو حاجت روا نہ سمجھ بیٹھنا ،اولاد کے حصول کے لیے اس کے سامنے سر جھکا کر زکریا علیہ السلام کی طرح اسی سے دعا کرنا ۔نفع ونقصان ،فراخ روزی اسی سے طلب کرنا“۔

دوسری بات یہ فرمائی کہ :”اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو،حسن سلوک کیا ہے؟حسن سلوک وہی ہے کہ جب بچپن میں تجھے بولنا نہیں آتا تھا ،تو پیشاب وپاخانہ کے بعد اپنے جسم وکپڑے کو بدل نہیں سکتا تھا تو والدین بغیر تنگ آئے تیرے کپڑے تبدیل کرتے تھے ،تیرے جسم سے گندگی دھوتے تھے ،اگر سردیوں کا موسم ہے تو تیرے لیے گرم پانی کا بندوبست کرتے تھے ،تو ایک بات دس بار پوچھتا تھا تو والدین بغیر تنگ آئے جواب دیتے تھے، اب جب وہ بوڑھے ہوچکے ہیں تو انہیں اسی طرح تمہارے حسن سلوک کی ضرورت ہے جس طرح تمہارے بچپن میں انہوں نے تمہارے ساتھ کیا تھا ۔

تیسری بات حق تبارک وتعالیٰ نے یہ فرمائی کہ :” اگر اُن میں سے ایک یا دونوں زندہ ہوں اور عمر رسیدہ ہوجائیں تو ایسی حالت میں اُن کو ”اف“ تک نہ کہو اور نہ ہی جھڑکو ،اس مقام پر قابل غور بات یہ ہے کہ جب فرمادیا کہ ”اف“نہ کہو ،تو جھڑکنا کیا معنی رکھتا ہے ؟کیوں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی کلمہ ”اف“سے کم درجے کا ہوتا تو حق جل مجدہ یہاں وہ فرماتے ۔(تفسیر در منثور) تو قابل توجہ یہ ہے کہ جب کلمہ اف جس کا مفہوم اردو میں نہایت غصہ کی حالت میں ”اُوہوں“ہے ،ماں باپ کے بڑھاپے میں یا قبل از یں بڑھاپا بھی وہ کوئی ایسی بات کہیں جو تمہیں ناگوار ہو تو بھی ان کے سامنے تم نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے ”اوہوں“ نہیں کرنا اور جھڑکنا مت۔ یہ تو بالکل ہی ناممکن ہے ،جھڑکنا مت تاکید کے لیے ہے، ورنہ جب فرمادیا کہ ”اف “تک نہ کہنا تو جھڑکنے کی گنجائش ہی باقی کہاں رہتی ہے؟

چوتھی بات یہ فرمائی کہ :” ان سے نرم لہجہ میں بات کرنا اور ان کے لیے شفقت کے پَر پھیلادو“نرم لہجہ میں بات کا مقصد یہ ہے کہ اگر وہ ایک بات کئی بار پوچھیں تو جھنجھلا کر مت بولنا اور یہ نہ کہنا کہ اباجی! ہزار بار تو بتا چکا ہوں ۔نہیں، نہیں ،ایسا نہ کرنا۔ بلکہ جس طرح انہوں نے تمہارے بچپن میں، تمہارے ساتھ شفقت کا معاملہ کیا تھا،آج ان کی باری ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ شفقت سے بات کرو اور فرمایا کہ ان کے لیے شفقت کے پَر پھیلا دو ،اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ جس طرح بچے کے بچپن میں ماں باپ اپنی شفقت ورحمت کے پَر پھیلادیتے ہیں ،بچے کے بچپن میں ماں باپ اس کی انوکھی خواہشوں کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں ،اس کی شرارتوں سے بے اعتنائی برتتے ہیں ،اس کے لیے سوائے محبت وشفقت کے اور کچھ نہیں ہوتا ،آج ماں باپ بڑھاپے کے اس اسٹیج پر ہیں کہ جہاں انہیں بھی اب اسی طرح کی شفقت ورحمت چاہیے۔

پانچویں بات یہ فرمائی کہ :”اُن کے لیے رب العالمین سے یوں دعا کرنا کہ اے میرے رب ! میرے ماں باپ پر اُسی طرح رحم فرما ،جس طرح انہوں نے بچپن میں میرے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا تھا “۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ماں باپ کا دنیائے فانی سے انتقال ہوجائے تو ان کے لیے دعائے رحمت کرتے رہنا چاہیے ۔اور اس آیت میں بچپن کا تذکرہ کرنا دراصل یہ بتانا ہے کہ بچپن میں جس طرح بچے اپنی بات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور اپنی کم عقلی کو عقل کل سمجھتے ہیں ،بڑھاپے میں آکر ماں باپ کے بھی دنیاوی مشاغل سے تھکے ماندے مسافر کی طرح اعضائے رئیسہ جواب دے جاتے ہیں ،عقل میں بچپناآجاتا ہے اورماں باپ بھی اپنے تجربات کی وجہ سے اپنی رائے کو حرف ِ آخر سمجھتے ہیں ،تو اب ضرورت ہے کہ جس طرح تمہارے بچپن میں ماں باپ نے تمہاری کم عقلی کی باتوں کو درگزر کیا، اب تم بھی اُن کی رائے کو درگزر کرو ،بلکہ ان کے تجربات سے فائدہ بھی اٹھاؤ اور ان کی دل جوئی کے لیے ان کا کہا مانو،اسی میں تمہارے لیے دنیا وعقبیٰ کی کام یابی ہے ۔

فقیہ الامت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم)! اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز ادا کرنا (یعنی جس نماز کا جو وقت ہے اسے اسی وقت پر پڑھا جائے )اللہ کے ہاں پسند یدہ عمل ہے ،میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں پسند یدہ ہے ؟آ پ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں پسند یدہ ہے ۔(متفق علیہ )

اسی طرح امام ابن ماجہ نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ:” حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے پو چھا کہ یارسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم)! ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے ؟ تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دونوں تمہاری جنت یا جہنم ہیں “۔ یعنی ان کی فرماں برداری کرکے اللہ کو راضی کرلو اور جنت کے مستحق ہوجاؤ یا ان کو ناراض کرکے اللہ کو ناراض کرلو اور جہنم کے مستحق ہوجاؤ۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ :”رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ماں باپ کی رضا مندی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے“۔ (مشکوٰة شریف)

قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام میں ماں باپ کے حقوق کی پاس داری کی تعلیم وترغیب کس درجہ میں دی گئی ہے اور ماں باپ کی فرماں برداری میں رضائے حق تعالیٰ پوشیدہ ہے اور ماں باپ کی نافرمانی میں حق تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔یہ دین اسلام کی تعلیم ہے، مسلمانوں کے ہاں اولڈ ہوم کا کوئی تصور نہیں ،بلکہ ماں باپ کی فرماں برداری سے روزی میں برکت ،عمر میں اضافہ جیسی بشارتیں موجود ہیں،جن کی موجودہ زمانہ میں ہر ایک کو ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کے احکامات پر عمل پیر اہونے کی توفیق دے ۔آمین!



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.