جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

سوزِ آخرت

محترم شمس نوید عثمانی

ابو ذر غفاری
جن کا غیور خون۔ غیرت حق سے گل نار اور حمیت بندگی سے سرشار خون ۔رگوں میں چپ چاب دوڑنے پھرنے کے بجائے رگ وپے سے ٹپک پڑنے کا قائل تھا، جنہوں نے الله کے قدموں میں سررکھتے ہی او رحضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہی یہ محسوس کیا تھا کہ آخرت اس دنیا سے کہیں زیادہ بڑی اور قیمتی حقیقت ہے، محسوس کیا تھا کہ اب وہ دنیا کی بڑی سے بڑی قہرمانیت سے آنکھیں چارکرکے یہ زلزلہ انگیز اعلان کرسکتے ہیں کہ ”محمد صلی الله علیہ وسلم جس خدا کے رسول صلی الله علیہ وسلم ہیں یہ ساری کائنات اسی خدا کی ہے۔ اسی خدا کی غلامی ہے۔“

ابوذرغفاری
خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے کہ انہوں نے واقعی ایسا ہی کرکے او رکہہ کے دکھا دیا۔ بارگاہ رسالت میں انہوں نے جس حقیقت کا ابھی ابھی اقرار کیا تھا اس کا فلک شگاف اعلان کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے، اعلان کرنا اس وقت جان کی بازی لگا دینے کے مترادف تھا، مگر انہوں نے سر ہتھیلی پر رکھ کر وحشت وبربریت اور کفر وشرک کی سفاکیوں کو للکارا اور سیکڑوں بتوں کے درمیان کھڑے ہو کر پوری طمانینت اور بے خوفی کے ساتھ خدا کی توحید اور محمد صلی الله علیہ وسلم کی رسالت کا ولولہ انگیز اعلان کیا، چڑھی ہوئی تیوریوں سے آگ برسی اور مشتعل ہجوم کے دست تشدد نے کھل کر مشق ستم کی، مگر جبر وتشدد کی یہ یلغار خدا کے اس اکیلے بندے کو پسپا کہاں کرسکی وہ تو جہاں سے اپنے مضروب ومجروح جسم کا ڈھانچا اپنے ہی کاندھوں پر اٹھا کر لایا تھا۔ اسی جگہ دوسرے ہی دن اسی اعلانِ حق کی گرج سے باطل کے قلعہ پر بجلیاں گراتا ہو آیا۔ کعبے کے تین سوساٹھ بتوں کی بنیادوں میں زلزلے کروٹیں لینے لگے، ایک ”آدمی“ کے حوصلوں نے سیکڑوں ”درندوں“ کے غرور ونخوت اورغیظ وغضب کو میدان میں دعوتِ پیکار دی تھی!

ابوذر غفاری
جو گوشت پوست کا ایک ڈھیر نہیں، محمد صلی الله علیہ وسلم کے فولادی یقین کی زبردست باز گشت تھے۔ وہ ایک ”ایمان“ تھے، جو کڑک رہا تھا ،وہ ایک برق تھے، جو تڑپ رہی تھی۔ وہ روح کی ایک ولولہ انگیز چیخ تھے۔ وہ دل کا ایک جذبہٴ بے قرار تھے ،وہ ایک ”رقص شرر“ تھے، جو بے چین تھا کہ گھٹا ٹوپ تاریکیوں پر دیوانہ وارجست کرے اور اندھیروں کا سینہ چیرتا ہوا پھر اسی خاک میں مل جائے جہاں سے وہ پہلی بار بلند ہوا تھا او رجہاں سے اسے ایک بار پھر اٹھنا تھا۔

لیکن یہی جذبہ بے قرار یہی شعلہٴ بغاوت۔ جو بڑے سے بڑے باطل پر بجلیاں گرا دیتاتھا جب اس آدمی کے روبرو ہوتا جس کا حسین اور عظیم نام ” محمد صلی الله علیہ وسلم“ تھا تو پھر اس کی والہانہ عاجزی وسپردگی کا عالم ہی کچھ اور ہوتا ۔حق وصداقت کا کتنا بڑا پیکر ہو گا وہ وجود( صلی الله علیہ وسلم) انسانی ،جس کی جنبش نظر پر ابوذر جیسے نڈر اور بے جگر انسان کی دھڑکنیں رقص کرتی تھیں!؟ مختلف صحابہ نے آں حضرت کی ”جامع کمالات“ شخصیت سے اپنے اپنے ذوق وصلاحیت کے مطابق فیوض وکمالات کی دولت سمیٹی تھی۔ مگر ابوذر غفاری کے حصے میں حضور صلی الله علیہ وسلم کا محض زہد وفقر ہی آیا تھا۔ یہ زہد وفقران کے اندر اور باہر اس طرح چھایا ہوا تھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ان کے زہد وفقر کو حضرت عیسی علیہ السلام ابن مریم کے زہد وفقر سے مشابہ قرار دیا۔

اسلام قبول کرنے سے قبل وہ ایک بہت بڑے ڈاکو رہ چکے تھے۔ لیکن پھر ان کے اندر ہی اندر ایک عظیم انقلاب پیدا ہونا شروع ہوا۔ ان کے دل نے گواہی دی کہ اس ساری کائنات کا خدا ایک ہی ہے، توحید کی یہ چنگاری ان کی راکھ میں شعلہ زن ہوئی تو خدا کے بندوں کو لوٹنے والا بے چین ہو گیا کہ وہ خود ہی راہ مولا میں کہیں لٹ جائے، اب وہ دولت دنیا سے بیزار ہو کر دولت دین ڈھونڈ رہے تھے، اب انہیں اس خدا کی تلاش بے قرار کیے ہوئے تھی جس کا یقین ان کے قلب وروح کے اندر جاگ اٹھا تھا ،پھر جب اس ”حقیقت منتظر“ کی جاں نواز آہٹ پا کر وہ کشاں کشاں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے تو نگاہ اولین ہی میں حضور کی دل نواز آنکھوں میں حقیقت کی تجلی دیکھ لی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے ہو کر رہ گئے۔ خدا ہی جانے دامنِ رسول صلی الله علیہ وسلم میں انہیں وہ کون سی ”دولت“ نظر آئی تھی کہ جس کے بعد سونے اور چاندی کو انہوں نے مٹی کے ڈھیر میں بدلا ہوا پایا اور پھر اپنی فقیرانہ زندگی پر انہوں نے دولت وحکومت کا سایہ تک نہ پڑنے دیا۔ ان کو حضور صلی الله علیہ وسلم سے اور حضور صلی الله علیہ وسلم کو ان سے گرویدگی کا ایسا زبردست تعلق تھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بستر وفات پر بھی ان کو یاد فرمایا تھا اور زندگی میں اپنی محفل میں سب سے پہلے تخاطب کا شرف بھی انہیں کو عطا فرماتے تھے، آخری وقت میں جب وہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے بالیں پر تشریف لائے تو خوف وغم سے لرزتے ہوئے ان کے وجود کو آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سینے سے چمٹا لیا تھا، ہائے وہ سینہ جسے محمد صلی الله علیہ وسلم کے مقدس سینے سے لمس کا شرف حاصل ہوا تھا!!!

اور آہ! خدا کے آخری رسول صلی الله علیہ وسلم سے یہ ان کی آخری ہم آغوشیآغوش رسالت کی اس گرمی اور گرم جوشی نے ان کے سوز آخرت کو اس حد تک گرما دیا تھا کہ پھر وہ کبھی اس دنیائے فانی کو گلے لگانے کا تصور تک نہ کرسکے ،پھر تو یہ دنیا آخرت کے اس دور افتادہ راہی کے لیے ایک درخت کی چھاؤں سے زیادہ کچھ نہ رہی، جس کے نیچے بہت دور جانے والا مسافر تھوڑی سی دیر کو سستا تو سکتا ہے، پاؤں پھیلا کر سو نہیں سکتا ،سو بھی جائے تو بقدر ضرورت، پھر تیز تیز اپنی راہ چل دیتا ہے۔

حضور صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں صرف ایک بار انہوں نے کسی جگہ کی امارت کی خواہش ظاہر کی تھی او رانہیں بارگاہِ رسالت سے جواب ملا تھاکہ:
”اے ابوذر! تم ناتواں ہو۔ میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو مجھے خود اپنے لیے پسند ہے “۔

یہ جواب سنتے ہی انہوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دنیا کی سنہری گرد کو دامن شوق سے جھٹک دیا تھا “۔وہ فقر وزہد میں ڈوبتے چلے گئے تھے، آخرت سے نزدیک تراور جیتے جی دنیا سے دور تر ہوتے چلے گئے تھے۔

لیکن یہ دوری جو کبھی کبھی ”رہبانیت“ معلوم ہوتی تھی حقیقتاً ”رہبانیت نہیں تھی“۔ وہ دنیا سے فرار نہیں ہوئے تھے، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے انہوں نے دنیا کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کا صحیح اندازہ اس ملاقات اور گفتگو سے ہوتا ہے جو ان کے زہد وفقر کے اس خاص دور میں ان کے اور حضرت ابو موسی اشعری کے درمیان ہوئی، حضرت اشعری سے ان کے گہرے روابط تھے، مگر جب وہ گورنر بنائے جانے کے بعد حضرت ابو ذرغفاری سے ملنے آئے اور وہ بھائی بھائی کہتے ہوئے ان کی طرف بڑھے تو حضرت ابو ذر  نے ان کو دور ہٹاتے ہوئے کہا:
”اب تم گورنر ہو۔ میرے بھائی کہاں؟“

لیکن دوسری ملاقات کے موقعہ پر جب حضرت ابو موسیٰ اشعری پھر ان کی طرف مشتاقانہ بڑھنا چاہتے تھے تو حضرت ابو ذر کی مفصل گفت گو نے یہ واضح کیا کہ ان کا حقیقی مفہوم کیا تھا، درحقیقت وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ اگر دولت وحکومت نے تمہاری دولت دل کو لوٹ نہیں لیا ہے تو ہم تو بھائی بھائی ہیں، ورنہ ایک دولت مند گورنر اور ایک فقیر میں بھائی بھائی کا رشتہ کہاں!

”تم نے کوئی بڑی بلڈنگ تو کھڑی نہیں کر لی’“ حضرت ابوذر نے سوال کیا تھا۔

”جی نہیں“

”زراعت تو نہیں کرتے مویشیوں کے گلے تو نہیں رکھتے؟“

”جی نہیں“

”ہاں! تو اب تم یقینا میرے بھائی ہو“۔ حضرت ابو ذر نے اخوت اسلامی کے سچے احسان کے ساتھ کہا تھا اور خدا کے دو غلام بغلگیر ہو گئے تھے ۔

ایک بار ابو مروان نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک چادر باندھے ہوئے خدا کی پرستش کر رہے ہیں۔

”ابوذر! انہوں نے نماز کے بعد ان سے پوچھا کیا بس ایک ہی چادر رہ گئی ہے ؟“

”اگر کوئی اور ہوتی تو تمہیں نظر نہ آتی؟ “حضرت ابو ذر نے مسکرا کر جواب دیا۔

”لیکن “ ابو مروان بولے ” اس سے پہلے تو تمہارے پاس دو کپڑے تھے؟“

”ضرور تھے“ حضرت ابوذر نے کہا ” مگر وہ کپڑے میں نے ان کے مستحقوں تک پہنچا دیے۔“

”تم تو خود ہی ان کے مستحق اور ضرورت مند تھے !“ ابو مروان نے قدرے حیرت سے کہا۔

یہ سنتے ہی حضرت ابوذر کے چہرے پر روحانی کرب کے آثار ظاہر ہوئے۔ ابومروان کو غور سے دیکھا اور دل گرفتہ سی آواز میں کہا:
”خدا تمہیں معاف کرے۔ تم چاہتے ہو کہ دنیا کو بڑھایا جائے، تمہیں نظر نہیں آتا کہ ایک چادر میں باندھے ہوئے ہوں، دوسری مسجد کے لیے ہے، کچھ بکریاں ہیں ،جن کا دودھ پیتا ہوں، کچھ خچر ہیں، جو بوجھ ڈھوتے ہیں، ایک خادم ہے، جو کھانا پکا کے کھلا دیتا ہے۔ بتاؤ آخر اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟“

لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان بکریوں کا دودھ بھی وہ خود ہی نہیں پی لیتے تھے۔ دودھ کی یہ نعمت پاتے ہی انہیں منعم حقیقی کا خیال آتا تھا۔ پھر خدا کے ان بندوں کا خیال آتا جو ان کے آس پاس آباد تھے اور ان کا جو اپنے حصے کا رزق حاصل کرنے کے لیے ان کے دستر خوان پر مہمان بن کر آتے رہتے تھے، پڑوسیوں اور ہمسایوں کو دودھ سے شکم سیرکرنے کے بعد جو کچھ بچ رہتا وہ اوران کی اہلیہ دونوں نوش جان فرما لیتے، ورنہ ایسا بھی ہوتا کہ سارا دودھ اوروں کے حصے میں چلا جاتا او ران کے لیے صرف نعمت کی مٹھاس رہ جاتی! ان کے اوپر فقر وزہد کا جو غیر معمولی غلبہ تھا اس کے پیش نظر اندیشہ تھاکہ ان کے یہ مخصوص رحجانات کوئی خطرناک رنگ نہ لائیں اور ان اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم سے ٹکراؤ کی نوبت نہ آجائے جو دین ودنیا کا بوجھ اٹھائے ہوئے زندگی کا پل صراط طے کر رہے تھے۔

ایک بار ابوذر  مسجد میں لیٹے ہوئے تھے، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور مستقبل کے واقعات کی طرف غیبی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
”ابوذر! جب تم اس جگہ سے نکالے جاؤ گے تو کیا کرو گے؟“

”اپنے گھر چلا جاؤں گا“ انہوں نے عرض کیا ” یا مسجد نبوی چلا جاؤں گا۔“

”اگر اس سے بھی نکالے گئے؟“

”تو پھر تلوار سے کام لوں گا۔“

یہ جواب سن کر حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنا مقدس ہاتھ ان کے شانے پر رکھ دیا او رتین بار بار ارشاد فرمایا:
”ابو ذر! خدا تمہاری مغفرت کرے۔ تلوار مت نکالنا، جہاں وہ لے جانا چاہیں چلے جانا۔“

اورتاریخ گواہ ہے کہ حضرت ابوذر نے ایسا ہی کیا تھا۔ دور عثمانی میں انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ ربذہ چلے جائیں اور وہ سیدھے اٹھ کر وہاں چلے گئے تھے اور پھر وہیں گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر لی تھی، وہاں کچھ لوگوں نے ان سے درخواست پر درخواست کی کہ وہ خلیفہٴ ثالث حضرت عثمان کے خلاف اٹھیں تو ہم پوری طرح ساتھ دیں گے، لیکن انہوں نے فتنہ کا سر کچل دیا اور نماز تک کی امامت قبول نہیں کی ،ایک حبشی غلام کے پیچھے نماز پڑھی او رکہا ” میرے خلیل صلی الله علیہ وسلم کا میرے لیے یہی حکم تھا۔“ کیسا خوش نصیب تھا وہ انسان جو انس وجن کے سردار محمد صلی الله علیہ وسلم کو اپنا خلیل کہہ سکتا تھا۔ اور کس قدر سچا ہو گا وہ انسان کامل صلی الله علیہ وسلم جس کی ایسی والہانہ اطاعت ابوذر جیسے شمشیر برہنہ انسان نے کی!

ربذہ میں ان کی یہ فقیرانہ زندگی اس دور سے تعلق رکھتی ہے جب ایک طرف امت کے اندر اختلافات کے شعلے اٹھ کر فتنوں کا رنگ اختیارکرتے چلے جارہے تھے۔ تو دوسری طرف دولت دنیا کا ایک سیلاب تھا جو امنڈا چلا آرہا تھا، وہ ان دونوں سے بچنا چاہتے تھے، اپنی تنہائی کی برکت سے وہ ان دونوں آزمائشوں سے محفوظ ومامون رہے۔ مگر ان کی بیوی کے لیے ان کی یہ عظیم زہد وفقر کی زندگی بڑی آزمائش ضرور بن گئی تھی۔

عمران بن اوطان نے دیکھا کہ ابو ذر مسجد کے گوشہٴ تنہائی میں سمٹے ہوئے اس طرح بیٹھے ہیں جیسے کوئی بڑے بھاری طوفان سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہا ہو۔

”ابو ذر!“ ابن اوطان نے تعریض کے انداز میں پوچھا ”یہاں اکیلے بیٹھے کیا کررہے ہو؟“

حضرت ابو ذر نے درد بھری نظریں اٹھاتے ہوئے جواب دیا” میں نے اپنے آقا سے سنا ہے کہتنہائی برے ہم نشین سے بہتر ہے۔“

ابی اسماء اسی دور میں ان سے ملاقات کرنے کے لیے ربذہ پہنچے تو دیکھا کہ ان کی بیوی خستہ حالی کا شکار ہیں، مگر ابو ذر اسی فقر میں مست ہیں۔

”یہ عورت کہتی ہے کہ “ ابو ذر نے اپنی بیوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پر سوز مسکراہٹ کے ساتھ کہا ” میں عراق چلا جاؤں ۔ لیکن عراق جاؤں گا تو وہ لوگ میرے سامنے دنیا پیش کریں گے اور یہ گراں باری مجھے پل صراط پر اوندھے منہ گراسکتی ہے۔ نہیں۔ میں گرا ں باری سے سبک دوش ہی رہنا چاہتا ہوں۔“ تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ پھر ابوذر نے ایک درد بھری بات کہی۔

میرے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ جہنم کے پُل کے سامنے ایک پاؤں پھلا دینے والا راستہ ہے اور تم لوگوں کو اس پر سے گزرنا ہے۔“ بیت المقدس میں احنف بنقیس کو ایک عجیب آدمی دکھائی دیا جس کا حال یہ تھا کہ وہ سجدے سے سر اٹھاتا تھا اور پھر سجدے میں گر جاتا تھا۔

احنف خاص اشتیاق وتجسس کے ساتھ اس آدمی کے پاس گئے اور سلسلہٴ گفت گو چھیڑنے کے لیے پوچھا۔

کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ آپ نے دو رکعیتں ادا کیں یا ایک رکعت؟“

”اگر مجھے نہیں تو خدا کو تو خبر ہے۔“ اس شخص نے مختصر سا جواب دیا۔ اس کے بعد خوابناک انداز میں یہ لرزتے ہوئے الفاظ ان کے ہونٹوں تک آئے۔

”میرے دوست ابو القاسم صلی الله علیہ وسلم نے مجھ کو خبر دی ہے…؟ جملہ پورا نہ ہوسکا، آواز گلو گیر ہو گئی۔

”میرے دوست ابوالقاسم صلی الله علیہ وسلم نے مجھ کو خبر ،دی ہے کہ …“ بمشکل کہہ سکے تھے کہ پھر سینے سے ہوک اٹھی اور کوئی انہیں یاد آگیا، ضبط کا بندھن ٹوٹ چکا تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے ،تیسری بار انہوں نے پھر بات کرنے کی کوشش کی تو دل کی بات زبان تک آسکی۔

”میرے دوست ابو القاسم صلی الله علیہ وسلم نے مجھ کو خبر دی ہے کہ جوبندہ الله کو سجدہ کرتا ہے الله اس کا درجہ بلند کرکے اس کی بدی کو مٹا کہ نیکی لکھ دیتا ہے۔“

”آخرآپ کون ہیں؟“ پیہم سجدہ ریزیوں کا یہ راز نہاں سمجھنے کے بعد احنف بن قیس نے عقیدت کے ساتھ سوال کیا۔ اس کے جواب میں سادگی، عجز ،درد اور یاد ماضی میں ڈوبی ہوئی آواز آئی۔

”ابوذر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا صحابی… “

غزوہ تبوک کے موقعہ پر جب محاذ پر پہنچنے کے بعد حضور صلی الله علیہ وسلم کو یہ بتایا جارہا تھا کہ کون کون اس مہم میں شامل ہونے سے رہ گیا ہے توپیچھے رہ جانے والوں میں ”ابوذر۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابی“ کا نام بھی لوگوں کی زبان پر آیا۔ لیکن کسی کو خبر نہ تھی کہ راہ میں ان کی سواری سست پڑ گئی تھی تو اب وہ اپنا سامان کمر پر لادے ہوئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے نقوش پاپر چھالے ٹپکاتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ چلے آ رہے تھے، مستانہ وار، اپنے آپ سے بے خبر، خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی یادوں میں غرق ،سراپا نیاز واطاعت۔

”وہ کوئی آرہا ہے!“ کسی کی آواز بلند ہوئی۔

”ابو ذر ہوں گے“ حضور صلی الله علیہ وسلم نے بلاتأمل فرمایا:
خدا کی قسم ابوذر ہی ہیں۔“ دوسری آواز آئی:
”ابوذر پر خدا رحم کرے“ حضور صلی الله علیہ وسلم کے مقدس الفاظ سنے گئے۔” وہ تنہا چلتے ہیں تنہا مریں گے اور تنہا اٹھیں گے۔“ اورواقعی ایسا ہی ہوا ابوذر نے زہد وفقر کی جو منفرد زندگی بسر کی تھی اس کا آخری سانس انہوں نے ایک ویرانے کی تنہائی ہی میں لیا، جہاں ان کے اوران کی بیوی کے سوا اور کوئی متنفس نہ تھا۔

”اب کیا ہو گا؟“ بے کسی اور بے سروسامانی کے احساس سے ان کی اہلیہ رو پڑی تھیں۔

”کیوں … کیوں روتی ہو؟“ جسمانی ضعف او رایمانی خوف کی دو آتشہ آواز میں حضرت ابو ذر پکارے تھے۔

”ہمارے پاس کفن کے لیے بھی کوئی کپڑا موجو دنہیں اور آپ… آپ… اس ویرانے میں سفر آخرت کے لیے پابہ رکاب معلوم ہوتے ہیں“ آنسوؤں کے درمیان سے ان کی اہلیہ نے کہا تھا۔

”فکر مت کرو“ جاں بلب صحابی نے صحابیت کی مخصوص ایمان افروزیوں کے جلومیں لبوں کو جنبش دی تھی۔” ہم چند آدمی حضور صلی الله علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص صحرا میں جان دے گا او راس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت وہاں پہنچ جائے گی! میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ سب لوگ بستیوں میں مرچکے اور وہ صحرا میں مرنے والا شخص میں ہی ہوں خدا کی قسم! کہنے والے نے سچ کہا اور سننے والے نے سچ سنا۔ جاؤ اور دیکھو کہ لوگ ضرور ادھر آرہے ہوں گے۔“

”حاجیوں کے قافلے اپنی اپنی راہ پر جاچکے“اہلیہ نے آہِ سرد بھرتے ہوئے کہا تھا ،راہیں ویران پڑی ہیں۔ اب کون آئے گا“ لیکن ابوذر کے اصرار پر وہ ٹیلے پر چڑھیں تو دیکھا کہ حضرت عبدالله بن مسعود کے ہم راہ چند لوگ ادھر چلے آرہے ہیں او رحضرت ابوذر کی وصیت کے مطابق ان کو سپردخاک کیا گیا۔ مرتے مرتے وہ دنیا کی گرد سے دامن جھٹکتے ہوئے گئے اور آخری وصیت کی:

”اگر میری بیوی کے پاس کفن بھر کا کپڑا نکل آئے تو مجھے اسی میں کفنایا جائے اور تمہیں قسم ہے کہ مجھے کوئی ایسا شخص کفن نہ پہنائے جس کا ادنیٰ سا بھی تعلق حکومت سے ہو۔“

یہ تھے وہ لوگ جن کو یہ بات یا دتھی کہ خدا کی جنت سہل الحصول نہیں، بلکہ ایک دھار دار پل صراط کے اس پار ہے، لیکن ہم ہیں وہ ظالم نادان جو پل صراط کے اِدھر، اسی دنیا میں، اپنی ”جنت“ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ سبک دوش رہنا چاہتے تھے، تاکہ اس خوف ناک ترین، خطرناک ترین پل کو پار کر سکیں۔ لیکن ہم ہیں کہ دنیا اور اس کے بکھیڑوں سے، سرسے پاؤں تک لدے پھندے، ٹھیک اسی ”پل“ کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں، جو دوزخ کے بھڑکتے ہوئے الاؤ کے اوپر بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے بھی زیادہ تیز ہمارا منتظر ہے۔

اگر ہمارا یہی عالم ہے تو کیا ہم اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ ہمارا انجام کیا ہونا ہے؟ یہ ”سوچ“ تک نہیں ہے، وہاں ایمان کہاں؟ وہاں تو فقط بے جان دعوے ہیں ،بے روح الفاظ۔

سوچیے کیا ہمارے پاس یہ ”سوچ“ کم از کم یہ ”سوچ“ ہے؟

سوچیے کیا ہم مسلمان ہیں؟



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.