جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

بڑی مدت سے بھیجتا ہے ساقی ایسا مستانہ

مولانا محمد طیب صاحب
مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد

شیخ المحدثین، بخاریِ عصر، رئیس وفاق المدارس، حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی ذات بابرکات سے متعلق اپنے قلبی تاثرات او ران کے حالات وکمالات کی تعمیل میں چند نجی مصروفیات اور تعلیمی سال کے اختتامی بیانات کے سلسلہ میں اسفار کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔ اب کچھ فرصت میسر آئی تو بصورت الفاظ یہ چند قلمی آنسو پیش خدمت ہیں، یقینا حضرت علم وفضل، نسبت وکمالات کا جامع پیکر اور ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ گونا گوں فتنوں کے اس دور میں ایسے خدا رسیدہ بزرگوں کا نفس وجود بھی امت کے لیے مجسم رحمت ہوتا ہے اور نہ جانے کتنے فتنوں کے لیے آڑ بنارہتا ہے۔ اس لیے ان کی وفات حسرت آیات پوری ملت کا عظیم نقصان ہے۔ حضرت کے سفر آخرت سے نہ بھرنے والا خلا پیدا ہوا ہے۔

بندہ کی حضرت سے شخصی ملاقاتیں تو بہت زیادہ نہیں ہوئیں ،البتہ اجتماعی شکل میں استفادے کا موقع متعدد بار حاصل ہوا ہے، مگر جن مختصر وطویل ملاقاتوں کی دولت ہاتھ آئی ان کا نقش جمیل ناقابل فراموش ہے۔ یہ حضرت شیخ کی یادوں اور بیش بہا محاسن ومحامد کے چند مختصر نقوش ہیں ،جو اس وقت بے ساختہ قلم پر آگئے ،ورنہ حضرت شیخ کی زندگی اور خدمات کے بہت سے پہلو ہیں جن پر برسوں لکھا جاتا رہے گا۔…اللھم لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ․ آمین!

دنیا میں ہر آن موت وحیات کی پنجہ آزما ئی ر ہتی ہے،زندگی پر موت کی فتح ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔لیکن ہروقت اور ہر جگہ اور ہر موسم میں پیش آنے کی وجہ سے زندوں کا ایک ہی لمحے میں مردہ ہوجانا اور پھر لو ٹ کر کبھی نہ آنا،ایک عام سا واقعہ بن گیا ہے ۔لیکن جب کوئی ایسی نابغہٴ روزگار شخصیت دنیا سے منھ موڑلیتی ہے۔ جس کی زندگی خود اس کے لیے اور دوسروں کے لیے مفید تر تھی توافادیت کے بقدر دنیا والوں کو اس کے چلے جانے کا غم ہوتا ہے اور اس کو کھو دینے کے بعداس کی قدروقیمت کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔خصوصاًجب اقوام ِعالم ا س کا صحیح جانشین پیش کرنے سے قاصر نظر آئیں ،کچھ اسی طرح کا احساس شیخ الشیوخ، رئیس الوفاق،جامع شریعت وطریقت،جانشین شیخ الاسلام، شیخ المحدثین، حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب نوراللہ مرقدہ کے اٹھ جانے کے بعدہو رہا ہے: #
        سنے کون ہائے، صدائے دل ملے کس سے آہ !شفائے دل
        جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے

اللہ تعالی نے ان کے لیے جتنی زندگی مقدرکر رکھی تھی اس سے ایک لمحہ بھی وہ زیادہ کیونکر جی سکتے تھے․․ ؟کیوں کہ:
        ایک لمحے کی اجازت بھی نہیں ملنے والی
        موت آتی ہے تو دستک بھی کہاں دیتی ہے؟!

حضرت صدر ِوفاقکے سانحہ ارتحال پراس درد انگیز مرثیہ کا یہ بند پوری طرح صادق آتا ہے، جو شورش کاشمیری مرحوم نے مولانا ابوالکلام آزاد کے مزار پر دردوالم میں ڈوب کر کہا تھا․․ : #
        عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہیں آستیں نہیں ہے
        زمین کی رونق چلی گئی ہے افق پہ مہرِمبیں نہیں ہے
        تیری جدائی میں مرنے والے وہ کو ن ہے جو حزیں نہیں ہے
        مگر تیری مرگ ِناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

حضرت کا تذکرہ پہلی مرتبہ احقر نے شوال1396ھ کے اواخر میں سنا تھا، والد ماجد شیخ الحدیث حضرت مولانانذیر احمد صاحب قدس سرہ ان دنوں دارالعلو م ٹنڈوالہ یار میں مدرس تھے اور ہم درجہ ثالثہ کے طالبعلم ۔کراچی سے چند احباب دارالعلوم تشریف لائے تو انہوں نے بتایا کہ جامعہ فاروقیہ میں تعلیم کا آغاز ہوگیاہے اورطلباء کی کثیر تعداد نے رجوع کیا ہے ۔ افتتاحی خطاب جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب قدس سرہ نے خود فرمایا اور طلباء کو تین باتوں کی پابندی کی تاکید فرمائی ہے:
    1..مطالعہ 2..  اسباق کی حاضری 3..تکرار

حضرت نے جامعہ فاروقیہ کے لیے علمی ذوق کے حامل ایسے مدرسین اور اساتذہ چنے جن کی وجہ سے مدرسہ کا تعلیمی ،تدریسی اور علمی ماحول پورے جوبن کے ساتھ ابھرا اور کراچی جیسے شہر میں جہاں اکابر کے بڑے بڑے تعلیمی ادارے (جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن وغیرہ) پہلے سے موجود تھے۔ ایک نوجوان عالم ومہتمم کا اتنا مشہور ہونا انتہائی تعجب خیز بات تھی ۔جامعہ فاروقیہ حضرت کی گوناں گوں تدریسی ،تربیتی اور انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے بہت جلدعلمی دنیا میں ایک نمایاں نام بنانے میں کام یاب ہوا اور بلاشبہ جامعہ سے حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید، مولانا قاضی عبد الرشید صاحب (ناظم فاق صوبہ پنجاب)،مولانا عبدالمتین صاحب ،مولانا حمید الرحمن صاحب ،مولانا محمد یوسف کشمیری دامت فیوضھم جیسے رجال کار پیدا ہوئے۔ جو اندرون وبیرون ممالک دفاع واشاعت اسلام کا گراں قدر کام کر رہے ہیں۔ اس چشمہ فہم وادراک سے سیراب ہونے والے صرف صوبہ سندھ تک ہی محدود نہیں،بلکہ اس کا دائرہ فیض رساں افغانستان وایران اور دور دور کے ممالک تک وسیع ہے ۔حضرت شیخ  بلامبالغہ اس وقت برصغیر کے سب سے بڑے جلیل القدراستادِحدیث تھے اور ان کا صرف صحیح بخاری شریف کی تدریس کا عرصہ نصف صدی سے زائد ہے ۔حضرت جب بخاری شریف کا درس دیتے تو لغوی ،کلامی ،حدیثی اور فن بلاغت وبدیع سے متعلق ابحاث ایسے بیان فرماتے تھے ،پتا چلتا کہ اندر خزانہ ہے اورزبان کے تالے کھل گئے ہیں اور وہ بکھرتا جا رہا ہے۔ چوں نکہ حضرت شیخ پر منعمِ حقیقی کا یہ خصوصی فضل و انعام تھا کہ ان کو اپنے وقت کی بلند پایہ اور گراں مایہ علمی شخصیتوں کے خرمنِ علم سے خوشہ چینی کی سعادت نصیب ہوئی ، حضرت شیخ کو جن اصحابِ فضل وکمال کے دامن ِفضل سے وابستگی اور سر چشمئہ علم و فن سے کسبِ فیض کا شرف حاصل ہوا،ان میں سے اکثر اس زمانہ کے عبقری اور علم و فن کی آبرو تھے، حضرت  کو شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی اور شیخ الادب مولانا اعزاز علی جیسے متنوع العلم ،راسخ العلم اور شریعت و طریقت کے جامع اصحابِ استقامت وعزیمت سے استفادے کاموقع میسرآیا تھا اور حضرت تھانوی کے خلیفہٴ اجل مسیح الامت حضرت مولانا شاہ مسیح اللہ  کی گراں قدر صحبت ِکیمیا نے حضرت شیخ الحدیث میں اتباع ِسنت ،انابت الی اللہ کا ذوق ،استقامت و عبادت کا شوق، ایمان واحتساب کی کیفیت سے سر شاری ،مسلمانوں کے دینی تنزل کا جامع احساس اور تدریسی وانتظامی کمالات ،کوٹ کوٹ کر بھر دیے تھے۔

حضرت شیخ  کا نا م اور کام تودارالعلوم ٹنڈوالہ یار قیام کے دوران ہی سن رکھا تھا مگر بد قسمتی سے ابھی تک زیارت و ملاقات کا شرف ہاتھ نہ آیا تھا۔حضرت والد ماجد قدس سرہ دار العلوم ٹنڈو الہ یار سے فیصل آ باد تشریف لائے تو انہی دنوں مجلس صیانتہ المسلین کی نشاةثانیہ ہوئی اور جامعہ اشرفیہ کے حضرات ، مولانا وکیل احمد شیر وانی  اور مولانا مشرف علی صاحب تھانوی مد ظلہم العالیہ وغیرہ نے مجلس کو ازسرِنو متحرک کیا اور سالانہ اجتماع شروع ہوا تو بڑے بڑے اکابر مشائخ اور حضرت تھانوی  کے اجل خلفاء تشریف لانے لگے ،جن میں مسیح الامت حضرت مولانامسیح اللہ خان قدس سرہ ،حضرت مولانافقیر محمد پشاوری ،عارف باللہ ڈاکٹرعبد الحی صاحب عارفی ، حضرت حاجی محمدشریف ملتانیاور حضرت مولانا عبد السلام صاحب نوشہروی نور اللہ مراقدہم اجمعین بطور خاص قابل ذ کر ہیں۔ حضرت والد ماجد قدس سرہ ہمیں ساتھ لے کر ان اجتماعات میں شریک ہوتے تھے ۔احقر اس وقت درجہ رابعہ ،خامسہ میں تھا ، درس نظامی کے درمیانی سالوں میں ہم ہر سال جاتے رہے اور حضرت تھانوی  کے اجل خلفاء کو بہت قریب سے دیکھنے اور سننے کی سعادت ِو افر حاصل ہوتی رہی ،مجلس صیانتہ المسلین کے سالانہ اجتماع میں شیخ المحدثین حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا بیان بھی ہوتا اورحضرت کا بیان انتہائی سہل اور درسی انداز کا ہوتا تھا۔احقر کو حضرت کے بتائے ہوئے بہت سے افادات اس طرح یاد ہیں جیسے کل ہی حضرت کا وعظ سنا ہو۔یہ ملکہ بہت کم لوگوں کے حصہ میں آتا ہے کہ سامعین کو سالہا سال گزرنے پر بھی ان کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہی نہیں، بلکہ لب و لہجہ بھی مستحضر رہ جائے۔

سہ روزہ پروگرام میں متعدد بارحضرت کو قریب سے دیکھا، ان کی شخصیت ووعظ اور حضرت والد صاحب سے قریبی مراسم و تعلقات کی وجہ سے انس ولگاؤ پیدا ہوا۔کیوں کہ عموماً صرف علمی قابلیت کی بنا پرکسی سے انس نہیں ہوتا، بلکہ اس میں سب سے اہم چیز مربیّان ِملت اور اہل اللہ کی صحبت و خدمت سے حاصل ہونے والی وہ تواضع وفنائیت ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ قریب آتے ہیں اور انسان ہر دلعزیز بنتا ہے، حضرت میں تواضع و انکساری حد درجہ پائی جاتی تھی۔ جب ہم درجہ مشکو ة شریف میں تھے اور حضرت والد صاحب کے درسِ مشکوٰة شریف کی شہرت و مقبولیت سن کر کچھ ایرانی طلبہ آگئے تھے، جو اس سے قبل جامعہ فاروقیہ میں حضرت شیخ  کے پاس ابتدائی درجات میں نیازحاصل کر چکے تھے، وہ حضرت شیخ کے علمی ،تدریسی اور انتظامی کمالات کا بہت تذکرہ کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان سے محبت و عقیدت میں اس وقت بہت زیادہ اضافہ ہوا اورحضرت کا علمی مقام و مرتبہ مزید دل میں راسخ ہوا۔

1983ء میں جب والدماجد قدس سرہ نے جامعہ اسلامیہ امدادیہ کی بنیاد رکھی تو روزِاول سے یہ کوشش و مزاج رہا کہ تعلیمی سال کے افتتاحی بیان کے لیے اکابرومشائخ میں سے کسی بزرگ شخصیت کو زحمت دی جاتی ۔ ابتدائی چند سالوں میں ایک مرتبہ افتتاحِ صحیح بخاری شریف کے لیے حضرت شیخ کو دعوت دی گئی، جسے حضرت نے کمالِ شفقت فرماتے ہوئے قبول فرمالیا اور جامعہ میں قدم رنجہ فرماہوئے ۔حضرت کو جامعہ کی درس گاہوں کا معائنہ کروایا گیا تو فرما یا درس گاہوں کی یہ جگہ تنگ ہے ،ان کو اور کشادہ ہونا چاہیے تھا۔ اس وقت ہم خدام تو بہت حیران ہوئے اور حضرت کی بصیرت ودور اندیشی سمجھ نہ آسکی ،کیوں کہ اس وقت اور طلباء کی تعداد کے اعتبار سے جگہ بہت کشادہ تھی مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا اللہ تعالی کے فضل وکرم اور والد ماجد قدس سرہ کی شبانہ روز جدوجہد اور اخلاص و للہیت کی برکت سے طالبینِ علوم نبوت کے مبارک قدوم نے حضرت کے ارشاد کو سچ اور ہمارے تخمینے کو غلط ثابت کر دیا، چنا ں چہ مشکوة شریف کی درس گا ہ دو تین مرتبہ کی کشادگی کے باوجود اپنی تنگ دامنی کا نوحہ کر رہی ہے ،دو درسگاہوں کی درمیانی دیوارکو گرا کر ایک بڑی درسگاہ بنانے کے باوجود بھی جگہ کی شدید قلت محسوس ہو رہی ہے اور گزشتہ کئی برس سے موقوف علیہ کے اسباق با مرِمجبوری لائبریر ی کے لیے بنائے گئے ہال میں ہو رہے ہیں۔

80ء کے اوائل میں جب صدرِوفاق حضرت مفتی محمود کا انتقالِ پر ملال ہوا، وفاق المدارس کے نئے عہدیدار منتخب کرنے کا موقع آیا اورصدر کے عہدہ کے لیے مولانا محمد ادریس میرٹھی  کا نام آیا توشوریٰ نے اسی نام کو منظور کرلیا اور ناظم ِاعلیٰ کے لیے کسی اور بزرگ کا نام مجلسِ عاملہ نے تجویز کیا،جب وہ نام مجلس ِشوریٰ کے اجلاس میں آیا تو سب اراکین نے بیک زبان کہا اس عہدہ کے لیے مولاناسلیم اللہ خان صاحب موزوں ہیں۔کیوں کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو چکی تھی کہ مولانا میں تعلیمی و انتظامی کمالات موجود ہیں،اس لیے سب نے حضرت کا نام لیا۔ اور ہر گزرتے پل کے ساتھ اس منجانب اللہ انتخاب کے برکات وثمرات کا عملی ظہور کھلی آنکھوں دیکھا گیا، حالاں کہ حضرت شیخ کے تقرر کے لیے اس سے پہلے کوئی مہم بھی نہیں چلائی گئی تھی ۔حضرت خود بتاتے تھے کہ میں نے معذرت کی کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا، لیکن تمام اراکین ِشوریٰ نے کہا کہ آپ منتخب ہو کر ناظم اعلیٰ وفاق المدارس بن چکے ہیں : #
        حق نے کر ڈالی ہیں دوہری خدمتیں تیرے سپرد
        خود تڑپنا ہی نہیں اوروں کو تڑپانا بھی ہے

مگر چوں کہ حضرت شیخ  سیاسی الجھنو ں سے آزاد خالص میدان تعلیم کے آدمی تھے اور تعلیم و تربیت اور نظم و نسق کا وسیع تجربہ رکھتے تھے، اس لیے اس تعلیمی بورڈ کی ترقی اور از سرِ نو اسے منظم کرنے میں انہوں نے زبردست محنت کی ۔ان کی بار آور محنت اور اخلاص وللہیت کا نتیجہ تھاکہ نائن الیون کے بعد حالات نے جو پلٹاکھایا اور ہماری دیرینہ اور آبرو مندانہ ملکی پالیسی کی گرتی ہوئی دیوار کے ملبہ کے نیچے بڑے مضبو ط نظریات و افکار کے حامل ادارے اور منشور دب کر رہ گئے، بڑے بڑے اصحاب عزیمت نے اپنی پالیسیاں بدلیں اور رخصتوں کے قصر میں ہی بسیرا کرنے میں عافیت سمجھی۔ خوف وہیبت کی اس فضا میں ہر حساس مسلمان کو دینی مکاتب و مدارس کی فکر تھی اورہرباخبر وذی شعور انسان کی زبان پر تھاکہ سقوط طالبان کے بعدسقوط مدارس دشمنوں کی منزل ہے۔ مدارس کا نصاب ،نظام،اثرورسوخ غرض ہر پہلو حملوں کی زد میں آیا ۔

لیکن الحمداللہ وفاق المدارس کی مدبرانہ قیادت نے ان ناگفتہ بہ حالات وواقعات میں بھی انتہائی عزم وہمت سے کام لیا اور ہر پرو پیگنڈا کا ہر فورم پر مؤثر جواب دیا اور ہر سطح پر مدارس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا بڑی کام یابی سے ازالہ کیا۔ ا س کا بڑا ظاہری سبب یہ تھا کہ وفاق کی قیادت ایک ایسے اللہ والے بزرگ کے ہاتھ میں تھی جو نصف شب سے طلوعِ سحر تک اپنے رب کی بارگاہ میں گڑگڑاتے اوران اسلام کے قلعوں اور اداروں کی بقا وترقی کے لیے دعائیں کرتے تھے ۔۔حضرت شیخ تدریس کے علاوہ تعلیم و تربیت وانتظامی امور میں بھی حضرت مسیح الامت کے زیر سایہ رہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حضرت شیخ کی برکت سے پاکستان کے تمام مدارس دینیہ کو حضرت مسیح الامت قدس سرّہ کا فیضان پہنچا ہے۔

حضرت کا مزاج مشاورتی تھا اور وفاق کو ایک قابل رشک ادارہ بنانے میں حضرت شیخ کے اس مزاج اور ذاتی دلچسپی کو خاص دخل ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوا کہ ہم جانتے تھے کہ اس مسئلہ کے بارہ میں صدر وناظم وفاق کی ذاتی رائے کیا ہے، مگر ہم نے دیانت داری سے اس کے علاوہ کوئی مشورہ دیا تو اسے نہایت خندہ پیشانی سے سنا اور بعد میں کبھی بھی زیارت و ملاقات کے دوران اشارةً بھی ناگواری کا احساس تک نہ ہونے دیا۔

حضرت چوں کہ شریعت وطریقت کے جامع ہونے کے ساتھ ساتھ مدبرانہ شخصیت کے بھی مالک تھے،کیوں کہ حضرت سمجھتے تھے کہ تصوف وسلوک کا مقصد ِحقیقی تزکیہ نفس اور اصلاحِ باطن ہے۔اور کتابی علم میں عادةً اس وقت تک برکت نہیں ہوتی جب تک انسان کسی شیخ ِکامل سے تزکیہ نفس نہ کرالے۔اور ان کی دوراندیشانہ نظر میں یہ بات بھی تھی کہ امام غزالی  سے لے کر مولانا عبدالماجد دریابادی تک، جب بھی کسی پر عقل وخرد کا غلبہ ہو ا،اسے خود کو سنبھالنے،تہافت سے بچانے اورتکمیلِ ذات کے لیے معرفت و سلوک کا سہارا لینا پڑا۔ اس وجہ سے بعض مجالس میں تصوف کو شامل نصاب کرنے کی تجویز دی، مگرآج تک نصاب کا حصہ نہیں بن سکا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس بات پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے آخر وقت تک اپنی رائے پر عمل نہیں فرمایا،یہ چیز مشورہ کی روح ہوتی ہے ،جو عموماًاداروں اور تنظیموں میں مفقود ہوتی ہے ۔

اجلاس میں اکثر حضرت خاموش رہتے تھے،مگر جب بولتے تو سب سے زیادہ باخبر معلوم ہوتے تھے۔

حضرت شیخ  مجمع الکما لات ہونے کے باوجود چھوٹوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے تھے کہ انسان دنگ رہ جاتا تھا۔حضرت والد صاحب کی وفات کے بعد میرے لیے ان کی حیثیت ایک مشفق باپ کی تھی ،میں اس بات کی کوشش میں رہتا کہ ان کی صحبت جتنی ہو سکے میسر آئے، حضرت کی صحبت و خدمت میں بیٹھ کر اپنے والدگرامی قدس سرہ کی محبت وشفقت کا احساس ہوتا تھا، مجھے یاد نہیں کہ کبھی حضرت فیصل آباد تشریف لائے ہوں اور جامعہ امدادیہ کو زینت نہ بخشی ہو، بلکہ اکثر ایسا ہوتا کہ حضرت شہر میں کسی جگہ مدعو ہوتے تو پروگرام سے پہلے یا بعدمیں ضرور تشریف لاتے تھے۔ حضرت کے گاؤں لوہاری کا ایک خاندان سرگودھا روڈ فیصل آباد پر مقیم تھا، بعض دفعہ ایسا ہوتاکہ جامعہ تشریف لاتے اور مجھے ساتھ لے کر ان کے یہاں تشریف لے جاتے، وہ ایک متوسط گھرانہ تھا، مگر حضرت اپنے شہرہ آفاق علم ومنصب کے باوجود ا ن کی دل جوئی کے لیے تشریف لے جاتے اور بہت سا وقت ان کے ساتھ گزارتے اور چند ہی لمحات میں حضرت کا علمی اور انتظامی رعب و دبدبہ انس و مودت میں بدل جاتا۔

اگرکبھی قبل از ملاقات بنا اطلاع کیے بھی جا معہ فاروقیہ حاضری ہو جاتے تو حضرت ذرّہ نوازی فرماتے ہوئے نہ صرف شرف ملاقات بخشتے، بلکہ میرے استحقاق سے کہیں زیادہ شفقت و اکرام کا معاملہ فرماتے اورکبھی بھی ذرا برابر نا گواری و رنجیدگی کا اظہار نہ فرمایا ،بلکہ حضرت شیخ کی ہرہر بات سے اپنائیت محسوس ہوتی تھی ۔

ایک مرتبہ میں سالانہ امتحانات کے دوران جامعہ فاروقیہ حاضرہوا توحضرت خود نیچے تشریف نہیں لائے، بلکہ مجھے گھر طلب فرما لیا،حال احوال معلوم کرنے کے بعد فرمایا کہ آج کل توامتحانات جاری ہیں ،آپ کیسے آگئے؟ میں نے عرض کیا حضرت امتحانات کا جائزہ لے کر آیا ہوں، اگر چہ بندہ مسئول تو نہیں تھاالبتہ وفاق کی مجلس عاملہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے فرمایا کہ آپ کو فیصل آبا د موجود ہونا چاہیے تھا،پھربات چیت کے دوران بطور ضیافت شربت عنایت فرمایا تو بندہ نے ذیابیطس کا مریض ہونے کے باوجود بطور سعادت آدھا ،گلاس پی کر معذرةً عرض کیا کہ حضرت ذیابیطس کی وجہ سے آدھا پی سکا ہوں ، حضرت نے برجستہ فرمایا کوئی حرج نہیں اور بے تکلفی سے بندہ کا بچایا ہوا شربت اٹھا کر نوش فرما لیا،یہ منظر دیکھ کر بندہ کی جو کیفیت ہوئی اسے تعبیر کرنے کے لیے الفاظ ملنے مشکل ہیں ۔

1984ء میں جامعہ ام القریٰ(مکہ مکرمہ) کی جانب سے وفاق المدارس کے تحت جامعہ فاروقیہ میں دوماہ کا ایک تدریب المعلمین پروگرام تشکیل دیا گیا ۔جس میں احقر کوبطورِ مدرس جامعہ ا سلامیہ امدادیہ شرکت کا موقع ملا ،اس وقت حضرت کے بڑے علمی وانتظامی کمالات کا مشاہدہ ہوااور وہاں قیام کے دوران حضرت سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔کیوں کہ حضرت  دیگر اوصاف وکمالات کے ساتھ تدریب المعلمین میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے۔

حضرت چوں کہ اسلاف کے تقویٰ و طہارت کے حقیقی اور صحیح جانشین تھے ۔چناں چہ جب صدر بنے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت کے اخلاص کی برکت سے مخلص ،محنتی اور باصلاحیت ناظم عطا فرمائے۔ حضرت کے ما تحت کام کی سعادت حاصل کرنے والے ناظمین ایک سے ایک بڑھ کر، سب ہی بڑے اوصاف و کمالات کے مالک تھے، مگرجب حضرت کی عمر بڑھی اور ضعف و بڑھاپے کے آثار نمودار ہونے لگے تو حضرت کوجو ناظم اعلیٰ میسر آئے وہ نہایت فعال اور خیر محمدی علم وحکمت اور تدبر و بصیرت کے حامل تھے، جنہوں نے حضرت شیخ کے زیرسایہ اور شانہ بشانہ وفاق کو منظم ومربوط ادارہ بنانے میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں ۔ مولانا بڑی مضبوط صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔گفتگو کے فن پر انہیں عبور حاصل ہے اور بزور دلائل وہ اپنی بات مخاطبین وسامعین سے منوا لینے کا گربخوبی جانتے ہیں۔ احقر نے جامعہ امدادیہ فیصل آبادکے علاوہ لاہور،ملتان،کراچی کی کئی تقریبات وسیمینارز میں دینی مدارس کا موثر دفا ع کرتے ہوئے انہیں سنا،وہ دینی مدارس کا مقدمہ ایک ماہر اور کام یاب وکیل کی طرح سامنے لاتے ہیں اور فریق مخالف تک کو اپنی سوچ کے زاویے بدلنے پر مجبور کر دیتے ہیں، امید ہے کہ وہ اسی جذبہ ولگن سے آئندہ بھی جملہ خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

ہماری جو تنظیم اتحادواتفاق سے آگے بڑھی اور بامِ عروج تک پہنچی وہ صرف ایک وفاق المدارس العربیہ پاکستان ہے۔ جو آخر دم تک حضرت شیخ کے زیر سایہ مکمل اطمینان واتفاق کے ساتھ کام یابی کی تمام مناز ل بخیر و خوبی طے کرتی رہی، حق تعالیٰ سے دعاہے کہ مولائے کریم حضرت شیخ کے بعد بھی اسے ہر طرح کے ظاہری و باطنی شروروفتن سے محفوظ رکھیں۔یوں تووفاق کی عمر بہت لمبی ہے، مگر وفاق کوآفاق تک پہنچانے اور اسے ایک مربوط انقلابی ادارہ بنانے میں حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ اور ان کے دست ِراست ناظم اعلیٰ مدظلہ کی مخلصانہ مساعی جمیلہ کا نتیجہ اور کمال ہے۔

حضرت شیخ اپنے مخلصانہ دینی جذبے ،بے پناہ قوت ِعمل ،دین اور دینی اداروں کی حفاظت و ترقی کے لیے انتھک ،مثالی جدو جہداور گونا گوں انتظامی و علمی خدمات کے لحاظ سے ان شخصیات میں سے تھے جو کسی بھی قوم کے لیے باعث فخر ہو سکتی ہیں۔سرگودھا و چنیوٹ کے قریبی اسفار میں بندہ کو حضرت کی ہم رکابی کاشرف حاصل ہوا،حضرت کی غیر معمولی قوت وہمت کو دیکھ کر ہم نوجوانوں کو بھی پسینہ آتا تھا۔حضرت شیخ انتہائی مستعد ،ذمہ دار اور اوقات کے پابند انسان تھے۔عمومی طور پر آپ کے شخصی اور منصبی معمولات کا ایک مستقل نظام الاوقات تھا۔

آج حضرت ہمارے درمیان موجود نہیں رہے، مگر حضرت کی باقیات صالحات میں حضرت کے علمی و عملی جانشین صاحبزادگان حضرت مولانا عبید اللہ خالد صاحب اور حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب دامت برکاتہم اور عظیم صدقہ جاریہ جامعہ فاروقیہ موجود ہے ۔مولانا عبید اللہ خالد صاحب نے انتظامی جانشین ہونے کے ساتھ سفر وحضر میں حضرت کی خدمت و راحت رسانی کا حق ادا کیا،حضرت شیخ اگر سفر میں ہوتے تو مولانا ہمہ وقت حضرت کی دوا ئی اور صحت وغیرہ سے متعلق فکر مند رہتے تھے۔حضرت نے اپنی صالح و سعید اولاد کو دین کی خدمت اور اپنے موقر ادارہ جامعہ فاروقیہ کے انتظام و انصرام کے لیے منتخب فرمایا،جو محض ایک دینی درس گاہ ہی نہیں،بلکہ بہت سے اداروں کے لیے راہ نما اور آئیڈیل ادارہ ہے۔احقر کے والد ما جد  کی وفات کے بعد ایک مرتبہ حضرت شیخ جامعہ امدادیہ میں تشریف لائے تو دوران گفتگو فرمایا ”یہ صرف میراث کا انتقال ہی نہیں،بلکہ میں نے سالہا سال کے تجربات و مشاہدات کے بعد اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ اپنے بیٹوں کے کاندھوں پر ڈالا ہے۔ یہ قدم میں نے بڑی سو چ و بچار اور مشاورت و تدبرکے بعداٹھایا ہے اور واقعةً وہ باصلاحیت ہیں۔“

حضرت کی وفات بہت بڑا صدمہ ہے ، یقیناً اس قسم کے حوادث انسان کو ڈگمگانے اور پایہ استقلال کو لرزہ براندام ہونے پر مجبور کردیتے ہیں۔ غم کے اس موقع پر حضرت شیخ کے شاگرد ،مشائخ اور تمام منتظمین مدارس حضرت کے جملہ پسماندگان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور بلا شبہ تمام مدارس دینیہ بھی تعزیت کے مستحق ہیں۔

حضرت کے اخلا ص و بیش بہا قربانیوں کا زندہ نمونہ موجود ہے، توقع اور دعا یہی ہے کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس میں بہتری اور ترقی ہو گی،اللہ تعالیٰ تمام شرور وفتن سے محفوظ رکھتے ہوئے ان کی تمام مساعی میں برکت دے اور تا دیر ان کاسایہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے ۔بلاشبہ یہ الفاظ اپنے حدود اربعہ کے اعتبار سے شیخ المحدثین حضرت مولاناسلیم اللہ خان صاحب نوراللہ مرقدہم پر ہر طرح صادق ہیں: #
        بڑی مدت سے بھیجتا ہے ساقی ایسا مستانہ
        بدل دیتا ہے جو بگڑا ہوا دستور مئے خانہ



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.