جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

نماز فجرکی پابندی…موانع وتدابیر

مفتی محمد عبدالله قاسمی

نمازخالق ومخلوق کے مابین تعلق وارتباط کابہترین ذریعہ ہے، قلب ونظرکی پاکیزگی اورروح کی جلاء کاسامان ہے،مصائب اور پریشانیوں میں انسان کارفیق ومددگارہے، نماز وہ عظیم الشان عبادت ہے جو انسان کے اخلاق ورجحانات کی تعمیرکرتی ہے اوراس کے ظاہروباطن کی اصلاح میں قابل ِ قدرکرداراداکرتی ہے،نمازوہ بہترین عبادت ہے جومردہ دلوں کی کھیتی کوسرسبزی وشادابی عطاکرتی ہے اورایمان ویقین کی سرور انگیز کیفیت سے انسان کے دل ودماغ کوسرشارکرتی ہے،نمازانسان کے ہر دکھ کامداوااورہرمصیبت سے گلوخلاصی کاسامان ہے،اللہ کی رضاوخوش نودی کاسبب ہے،دونوں جہاں میں فلاح وکام یابی کاذریعہ ہے۔

نمازفجرکی اہمیت
یوں توپنج وقتہ نمازوں کی قرآن وسنت میں بڑی فضیلت آئی ہے اورباجماعت پنج وقتہ نمازوں کااہتمام کرنے والوں کے لیے بڑی خوش خبری ہے اوران سے عظیم اجروثواب کاوعدہ کیاگیاہے،تاہم فجرکی نمازکے بارے میں خاص فضائل واردہوئے ہیں اوراس کی مسلمانوں کوخاص طورپر تاکیدکی گئی ہے،آپ صلی الله علیہ وسلم کاارشادگرامی ہے:جوشخص دو ٹھنڈی نمازیں،یعنی فجراورعصرپابندی سے پڑھتاہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (بخاری)آپ صلی الله علیہ وسلم کاارشادہے:وہ شخص ہرگزجہنم میں داخل نہ ہوگاجس نے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے یعنی فجراورسورج کے غروب ہونے سے پہلے، یعنی عصرکی نمازیں پابندی سے پڑھی ہوں۔(مسلم)ایک روایت میں ہے:تمہارے پاس دن اوررات کے فرشتے باری باری آتے رہتے ہیں اورفجراورعصرکی نمازوں میں اکھٹاہوتے ہیں،پھروہ فرشتے جو تمہارے پاس ہوتے ہیں وہ آسمان پرچلے جاتے ہیں،اللہ ان سے پوچھتاہے ، حالاں کہ وہ سب سے زیادہ جانتاہے ،کہ تم نے میرے بندوں کوکس حال میں چھوڑا؟فرشتے کہتے ہیں:ہم انہیں نمازکی حالت میں چھوڑ کر رخصت ہوئے اورنمازکی حالت میں ہی ہم ان کے پاس پہنچے تھے۔ (بخاری) ایک روایت میں آتاہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے چودہویں رات کے چاندکودیکھاتوفرمایا:تم اپنے رب کوایسے ہی دیکھوگے جیسے تم چاندکودیکھ رہے ہو،تمہیں ذرہ بھی شک وشبہ نہ ہوگا؛لہٰذااگرتم سورج کے طلوع اورغروب ہونے سے قبل نمازوں کااہتمام کرسکوتوضرورکرو،پھرآپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:سورج کے طلوع اورغروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی پاکی بیان کرو۔(بخاری)ایک روایت میں ہے: جس شخص نے عشاء کی نمازباجماعت پڑھی گویااس نے آدھی رات عبادت کی،اورجس نے فجرکی نمازباجماعت پڑھی اس نے گویاپوری رات عبادت کی۔(مسلم)ایک حدیث میں ہے:اگرلوگوں کویہ معلوم ہوجائے کہ عشا اورفجرکی نمازمیں کیاثواب ہے،تولوگ اس ثواب کوحاصل کرنے کے لیے مسجدوں میں پہنچ جائیں گے،چاہے ان کوگھسٹ گھسٹ کرہی پہنچناپڑے۔ (بخاری)ایک حدیث شریف میں ہے:آپ صلی الله علیہ وسلم کے سامنے ایسے شخص کاتذکرہ کیاگیاجوصبح ہونے تک سوتارہتاہے (یعنی فجرکی نماز نہیں پڑھتاہے)توآپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:ایسے شخص کے کانوں میں شیطان پیشاب کردیتاہے۔(بخاری)

ہمارے معاشرے کی صورت ِ حال
لیکن آج ہمارابڑاالمیہ یہ ہے کہ امت ِمسلمہ کی ایک بڑی تعداد نمازجیسی عظیم الشان عبادت سے تغافل برتتی ہے اورسستی وسہل انگاری سے کام لیتی ہے،نمازِ جمعہ اورنمازِ عیدین کے علاوہ کسی بھی نمازمیں انہیں مسجدمیں حاضر ہونے کی توفیق نہیں ملتی،عوام الناس کے گراں قدرمالی تعاون سے شہر شہر اورقریہ قریہ مساجدتعمیرہوتی ہیں،جودیدہ زیب اور اور فن ِ تعمیرکاشاہ کارہوتی ہیں؛لیکن جب آپ مصلیوں کی تعداد دیکھیں گے توبہ مشکل ایک دوصف میں مصلی حضرات نظرآتے ہیں،ایک دوصف کوچھوڑکرساری مسجدویران اورغیرآبادہوتی ہے اورمسلمانوں کی بے رخی پرمرثیہ خواں ہوتی ہے اورجولوگ پنج وقتہ نمازوں کے لیے پابندی کے ساتھ مسجدوں میں حاضرہونے کااہتمام کرتے ہیں ان میں بھی زیادہ تر بوڑھے اورعمردرازحضرات ہوتے ہیں،جن کی زندگی کاآفتاب مائل بہ غروب ہوتاہے،اوران کاسفینہٴ حیات ساحل ِ موت کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اورنوجوان حضرات مسجدوں میں خال خال ہی نظرآتے ہیں،یہ صورتِ حال توعام نمازوں کی ہے،فجرکی نمازمیں مجموعی صورتِ حال توبہت مختلف ہے،وہ لوگ جوچاروں نمازیں مسجدوں میں باجماعت اداکرنے کااہتمام کرتے ہیں ان میں بھی بیشترلوگ نماز ِفجرمیں سستی کرتے ہیں، اورجماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں،یقینایہ صورت ِحال کافی افسوس ناک اور غم انگیزہے اورہرباشعوراوردینی مزاج کے حامل انسان کے لیے لمحہٴ فکریہ ہے، نمازِ فجرمیں سستی اورکاہلی کے اسباب وعوامل کیاہیں؟اورنماز ِفجرکے لیے بیدار نہ ہونے کی وجوہات کیاہیں؟درج ِذیل سطورمیں ان کاتذکرہ کرنا اور ان کاتدارک پیش کرنامقصودہے۔

ایمان ویقین کافقدان
ایک چیزجس کی وجہ سے مجموعی طورپرہماری دینی واخلاقی زندگی پر اثر پڑا ہے ،وہ ایمان ویقین کاحددرجہ فقدان ہے،یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ نیکی اورحسنات پرجس خوش خبری اورعظیم اجروثواب کاوعدہ کیا گیا ہے، اسی طرح معصیات ا ورسیئات پرجووعیداورتہدیدقرآن وسنت میں وارد ہوئی ہے ،اس پرہمیں اس درجہ کاایمان نہیں ہے جوشریعت میں ہر بندہ ٴ مومن سے مطلوب ہے،دین ِاسلام ہمارے صفحہٴ ادراک پر محض ایک نقطہٴ سیاہ کی حیثیت رکھتاہے، جوہم کواپنے آباء واجدادسے ورثہ میں ملا ہے، ورنہ شعوری طورپردین پرعمل کرنے کاجذبہ اوراس کی کماحقہ قدر ہمارے دلوں سے رفتہ رفتہ رخصت ہوتی جارہی ہے،اسی ایمان ویقین کی کمزوری کی وجہ سے بندہٴ مومن کی طبیعت حسنات اورنیکیوں کی طرف نہیں آتی اوراعمال ِ صالحہ پرعظیم خوش خبری اوربے پناہ اجروثواب کوسن کربھی اس کاجذبہٴ عمل بیدار نہیں ہوتا، زجرووعیداورتہدیدی آیات سن کربھی اس کے دل میں کسی قسم کاخوف اورڈرپیدانہیں ہوتا،چناں چہ بندہٴ مومن آج خواہشاتِ نفس کااسیربن چکاہے،عیش وتنعم کافریفتہ ،لذتِ کام ودہن کاحریص اور معاد وآخرت سے لاپروا ہوتاجارہاہے،اسی ایمان ویقین کی کمزوری کی وجہ سے فجرکے وقت …جس میں طبعی طورپرانسان کی نیندگہری ہوتی ہے، مزیدبرآں پرسکون ماحول ،خوش گوار موسم اورخنک آلود ہوائیں نیند کوتقویت بخشتی ہیں…بندہٴ مومن بیدار نہیں ہو پاتا اور نمازِ فجر کی پابندی پرجس عظیم انعام کاوعدہ کیاگیاہے اس سے محروم رہ جاتاہے۔

آپ بھلاسوچیں کہ ایک انسان، جسے یہ معلوم ہوکہ کل صبح سویرے بادشاہ ِ وقت نے مجھے بلایاہے اورصبح مجھے ایک بڑے بیش بہااورقیمتی انعام سے سرفر ازکیاجائے گا،توکیاوہ رات میں مارے خوشی کے سوپائے گا؟اگرسوبھی گیاتوکیایہ ممکن ہے کہ وہ صبح سویرے بیدارنہ ہواوربہ عجلت ِ ممکنہ بادشاہ کے دربارمیں پہنچنے کی کوشش نہ کرے؟ نہیں نہیں!یہ شخص توکبھی ایسانہیں کرے گا،دنیاکے چندٹکوں کی خاطرجب انسان کایہ حال ہے اورمادی اوردنیوی منفعت کوحاصل کرنے کے لیے وہ اپنی نیندکوقربان کردیتاہے توپھرنمازِفجرمیں سستی وکاہلی کیامعنی رکھتی ہے؟ظاہرہے کہ یہ ایمان ویقین کی کمزوری ہے،مبشرات ِخداوندی پراعتمادکی کمی کانتیجہ ہے؛اس لیے یہ بات بے حدضروری ہے کہ ہم ایمان ویقین کی شمع اپنے دلوں میں فروزاں کریں،بزرگوں اوراولیاء اللہ کی بافیض صحبتوں میں بیٹھنے کی کوشش کریں،قرآن پاک کی تلاوت کریں،سیرتِ طیبہ کامطالعہ کریں، اس سے ان شاء اللہ ہمارے مرجھائے ہوئے قلوب کی کھیتی سرسبزوشاداب ہوگی اورپنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی آسان ہوگی۔

رات دیرتک جاگنے کارجحان
اسلامی تہذیب وثقافت کو اپنانے اورصفحہٴ حیات پر اس کا نقش بٹھانے ہی میں مسلمانوں کی فلاح وکام یابی کارازپوشیدہ ہے،اسلامی نظام ِزندگی مسلمانوں کے لیے بڑی خیروبرکت کی حامل ہے،آج مجموعی طور پر امت مسلمہ نے اسلامی تہذیب اوراسلامی نظام ِ حیات کوپس پشت ڈال دیا ہے اورمغربی تہذیب وتمدن کوسرمایہٴ عزت وافتخارسمجھنے لگے ہیں،مغرب کی طرف سے آنے والی ہرصداان کے لیے فردوسِ گوش اورسامعہ نوازثابت ہورہی ہے،اس کالازمی نتیجہ یہ ہواکہ اسلامی نظام ِزندگی کی برکت سے، جوشریعت پرعمل آوری اورفرائض وواجبات کی بجاآوری آسان اورسہل تھی، مغرب کے پرفریب تمدن نے اس کوبہت مشکل بنادیا،فرنگی تہذیب وتمدن نے مسلمانوں کے دینی ڈھانچہ پرایساشب خون ماراہے کہ اس کاایک ایک حصہ بکھرکررہ گیاہے اورعملی طورپرشریعت کے بعض احکام پرعمل کرنا دشوار ہو گیا، شریعت مطہرہ کامزاج یہ ہے کہ رات میں نماز عشاء کی ادائیگی کے بعدبہ عجلت ممکنہ سونے کااہتمام کیاجائے اوراس بات کی ترغیب خود معلم ِکائنات صلی الله علیہ وسلم نے امت کودی ہے،حضرت ابوہریرہفرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم عشا سے پہلے سونے اورعشا کے بعد گفتگوکرنے کوناپسندکرتے تھے، (ترمذی)حضرت سلمان فارسیفرماتے ہیں:تم رات میں گفتگوکرنے سے پرہیزکرو؛کیوں کہ یہ آخرت کوضائع کردیتاہے،اگرتم سے ایساہوجائے تو (اس کی تلافی کے لیے)سونے سے پہلے دورکعت نمازپڑھو۔(مصنف ابن ابی شیبة)حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے عشا کی نمازکے بعدکلام کیا،پھرمیں نے سوچاکہ اسی حال میں سوجانامناسب نہیں ہے؛چناں چہ میں نے اٹھ کر وضو کیا اور دو رکعت نمازاداکی اوراللہ سے استغفارکیااورمیں یہ بات اپنی تقوی وطہارت جتلانے کے لیے عرض نہیں کررہاہوں؛بلکہ اس سے تومیرامقصدیہ ہے کہ لوگ اس بات پرعمل کریں۔ (تعظیم قدرالصلاة للمروزی)لیکن آج دانستہ طورپرمسلمانوں نے اس شرعی ہدایت کوفراموش کردیاہے اوربلاکسی عذرشرعی کے رات دیرتک جاگنے کے مذموم اورناپسندیدہ ہونے کااحساس تک ان کے دلوں سے رخصت ہوگیاہے،چنان چہ بہت سے مسلمان بھائی رات دیرتک فضول اور لغویات میں مصروف رہتے ہیں،دوست واحباب کے ساتھ خوش گپیوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں،خاص طورپرتاجراورکاروباری حضرات تو رات دس گیارہ بجے اپنی دوکان بندکرکے تھکے ماندے گھرلوٹتے ہیں،بارہ بجے کھاناکھانے سے فارغ ہوتے ہیں،پھردوڈھائی بجے تک فلم بینی میں مصروف رہتے ہیں اوررات جب تابہ کمرپہنچتی ہے تووہ بستر پر دراز ہو جاتے ہیں، رات دیرتک بیداررہنے کارجحان صرف تاجر اور کاروباری حضرات کے ساتھ ہی کیاخاص ہے؛بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ خواص ہوں یاعوام،مردہوکہ عورت ،جوان ہوں کہ بوڑھے، سبھی یکساں طورپراس مرض میں مبتلاہیں،بسترپردرازہونے کے بعدرات کاایک معتدبہ حصہ تقریباسبھی لوگ فون چلانے میں اورواٹس ایپ اورفیس بک استعمال کرنے میں گزارتے ہیں،دوستوں کومیسیج کرنے اوران کے ساتھ گفتگوکرنے میں وقت ضائع کرتے ہیں،ظاہرہے کہ دن بھرکاتھکاماندہ انسان رات دوڈھائی بجے بسترپرجائے گاتوکیوں کراس کی فجرمیں آنکھ کھلے گی؟اورکیسے وہ مسجدمیں جبین ِنیازخم کرنے کے لیے حاضرہوگا؟اس لیے یہ بات بے حد ضروری ہے کہ خداکے واسطے ہم اپنی زندگی کانظام بدلیں،سونے کھانے؛بلکہ پوری زندگی کانظام ایسابنائیں کہ شریعت کے احکام پامال نہ ہوں، آخریہ کیابات ہے کہ ایک شخص اگرکسی مہلک مرض میں مبتلاہوجائے اور اطباء نے اسے روزانہ صبح سویرے اٹھ کرپیدل چلنے اورورزش کرنے کی صلاح دی ہواوراس کواس کی صحت بخش زندگی کاضامن قراردیاہوتواطباء کے کہنے سے وہ اپنی زندگی کانظام بدلنے پرآمادہ ہوجاتاہے،کھانے سے لے کرسونے تک کامعمول اس طرح بنانے پرراضی ہوجاتاہے کہ ڈاکٹروں کے تجویزکردہ نسخہ پرعمل آوری بہ سہولت ممکن ہو؛لیکن ہرروزصبح سویرے احکم الحاکمین کی طرف سے صداآتی ہے،موذن بلندآہنگی اورپوری شوکت وقوت سے یہ اعلان کرتاہے کہ نمازنیندسے بہترہے اوردونوں جہاں میں فلاح وکام یابی کی ضامن ہے؛لیکن ہم بسترسے اٹھنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے اورایسانظام العمل بنانے پرہم تیارنہیں ہوتے جس سے صبح سویرے بیدارہونااورخداکی عبادت کے لیے مسجدمیں حاضرہوناآسان ہو۔

کھانے کے نظام میں بے اعتدالی
ایک چیزجوفجرمیں سستی وکاہلی کاسبب ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے کھانے کے ایسے اوقات متعین کرلیے ہیں جن کااثربھی نہ صرف عبادات پرپڑتاہے؛بلکہ اس سے انسانی صحت پربھی منفی اثرپڑتاہے،ناشتہ عام طور پرہمارادس گیارہ بجے کے دوران ہوتاہے،پھرکھاناتین تاچاربجے تک ہوتاہے اورشام کاکھاناگیارہ تابارہ بجے کے مابین ہوتاہے، ظاہرہے کہ جب رات کاکھانااتنی تاخیرسے ہوگاتوپھربسترپربھی آدمی تاخیرسے جائے گا اوررات کاایک بڑاحصہ گزرنے کے بعدسوئے گا،اس صورت میں لازمی طورپرفجرکی نمازمیں بیدارہونامشکل اوردشوارہوگا،اس لیے یہ بات بے حدضروری ہے کہ ہم کھانے کے نظام میں ایسی صالح تبدیلی لائیں جن سے احکام ِشرعیہ پرعمل آوری میں سستی نہ ہو،خصوصارات کاکھاناعشا سے قبل ہی کھانے کااہتمام کریں اورعشاء کے معابعدسونے کی کوشش کریں،یہ چیزان شاء اللہ فجرکی نمازکے لیے بیدارہونے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔

نمازفجرمیں بیدارہونے کی چندتدابیر
نمازِفجرمیں بیدارہونے کے لیے کیاتدابیراختیارکی جائیں؟اوروہ کیاطریقہٴ کارہے جس کواختیارکرنے سے صبح سویرے اٹھناآسان اورسہل ہوگا؟ذیل میں چنداموراختصارکے ساتھ ذکرکیے جارہے ہیں،ان شاء اللہ اگرکوئی مسلمان ان کی پابندی کویقینی بنائے توفجرکااہتمام کرنے میں آسانی ہوگی اوریہ اس کے لیے دونوں جہاں میں فلاح وکام یابی کاذریعہ ہوگی۔

جلدسونے کااہتمام
صبح سویرے بیدارہونے کے لیے رات کوجلدسونے کااہتمام کرنابے حدضروری ہے،کیوں کہ کم ازکم چھ گھنٹے سوناہرانسا ن کی ضرورت ہے اوراس کی صحت کی حفاظت کاضامن ہے؛اس لیے بہتریہ ہوگاکہ آپ عشا کے بعد جلد سو جائیں اوراگریہ نہ ہوسکے توکم ازکم ایسے وقت تولازمی طورپرسوجائیں کہ فجرکی نمازتک آپ کی چھ گھنٹے کی نیندمکمل ہوجائے،رات میں چھ گھنٹے سونے کے بعدانسان کی طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے اوردن بھرکی تھکاوٹ دورہوجاتی ہے اورفجرمیں بیدارہونااس کے لیے آسان اورسہل ہوجاتاہے۔

رات میں کم کھائیں
اورایک چیزجوفجرکے لیے بیدارہونے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے وہ ہے کم کھانا،ناشتہ اوردوپہرکاکھاناچاہے آپ شکم سیر ہو کر کھائیں؛ لیکن رات میں کم کھانے اورہلکی پھلکی غذالینے کااہتمام کریں، اگرآپ رات میں شکم سیرہوکرکھائیں گے یاثقیل غذالیں گے تواس کے ہضم ہونے میں دیرلگے گی اوراس سے آپ کے جسم میں سستی وکسل مندی پیداہوگی اورفجرکی نمازمیں بیدارہونے میں سدراہ ثابت ہوگی۔

پانی کم پییں
رات کاکھاناکھانے کے بعدپانی کم پینے کی کوشش کریں؛اس لیے کہ جب آپ پانی زیادہ پییں گے توآپ کے جسم میں رطوبت زیادہ پیداہوگی اورجسم میں رطوبت زیادہ ہونے سے نیندبھی آتی ہے اورسستی وکاہلی بھی پیداہوتی ہے۔

چہل قدمی کریں
رات میں کھاناکھانے کے بعدکچھ دیرچہل قدمی اورتفریح کریں، تاکہ کھانے کاکچھ حصہ تحلیل ہوجائے، اورکھانے کے بعدجوسستی وکاہلی پیداہوتی ہے اس کے اثرات کم ہوجائیں،یہ چیزبھی ان شاء اللہ صبح سویرے بیدارہونے میں معاون ثابت ہوگی۔

الارم لگاکرسوئیں
سوتے وقت فجرکی نمازکاالارم لگاکرسوئیں،بسااوقات انسان الارم لگاکرسوتاہے اورفجرکے وقت الارم کی آوازسے اس کی نیندبھی کھل جاتی ہے،لیکن سستی اورکسل مندی کی وجہ سے وہ ہاتھ بڑھاکرالارم بندکرکے سوجاتاہے،اس لیے بہتریہ ہوگاکہ الارم کوکچھ دوررکھ کرسوئیں؛تاکہ الارم بندکرنے کے لیے بسترسے اٹھناپڑے اورجب بسترسے ایک مرتبہ انسان اٹھ گیاتوان شاء اللہ وہ فجرکی نمازپڑھے بغیردوبارہ نہیں سوئے گا۔

سورہٴ کہف کی آیات پڑھ کرسوئیں
ایک عمل یہ کریں کہ سونے سے پہلے سورہٴ کہف کی آخری چارآیات پڑھ کرسوئیں،سورہٴ کہف کی آخری چارآیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ تاثیررکھی ہے کہ ان کوپڑھنے والارات میں جس وقت اٹھنے کاارادہ کرے اس کی آنکھ اسی وقت کھل جاتی ہے،یہ آیات پڑھیں اورفجرمیں بیدارہونے کی نیت کریں،ان شاء اللہ فجرکی پابندی آسان ہوگی۔

اپنے نفس کوسزادیں
فجرکی نمازکے لیے بیدارہونے کی خاطر مذکورہ بالا تدابیر اختیار کرنا کافی ہیں لیکن کبھی کسی کانفس بہت کسل منداورغفلت شعار ہوتاہے، مذکورہ بالا تدابیراختیارکرنے کے باوجودفجرکی نمازکی پابندی انسان کے لیے مشکل ہوتی ہے،اس کاعلاج یہ ہے کہ انسان اس بات کاپختہ ارادہ کرلے کہ جب بھی میری فجرکی نمازقضاہوگی میں مثلاسوروپے صدقہ کروں گااوربیس رکعت نفل نماز پڑھوں گا،اس طرح انسان اگراپنے نفس پرمشقت ڈالے گاتوان شاء اللہ اس کانفس مطیع اورفرماں بردارہوجائے گااورطاعات وعبادات میں کسی قسم کی سستی نہیں دکھائے گا۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.