جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

برصغیر میں اولیائے کرام رحمةالله علیہم کاکردار

حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ

اسلام برصغیر پاک وہند میں صوفیاء کے ذریعے پھیلا، نہ کہ بادشاہوں کے ذریعے۔ جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ دلّی میں مسلمانوں کی حکومت ہزار سال کے لگ بھگ قائم رہی۔ لیکن دلّی کے اردگردکی اکثر آبادی ہندو تھی۔ سب سے پہلے ہندوستان میں خواجہ معین الدین چشتی رحمة الله علیہ تشریف لائے اور یہ خلیفہ تھے پیر ہارون عثمانی رحمة الله علیہ کے۔ پھر انہوں نے اپنے پیر بھائی سلطان غوری رحمة الله علیہ کو ہندوستان پر حملے کی دعوت دی۔ انہوں نے دلی پر حملہ کیا۔ اس وقت وہاں پھریری کی حکومت تھی۔ علاقے سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے سلطان کو کوئی خاصی کام یابی حاصل نہ ہوئی۔ جب دوسری مرتبہ حملہ کیا تو پھریری ہلاک ہو گیا۔ بادشاہی سلطان کے قبضے میں آگئی تو سلطان نے اپنے ایک غلام قطب الدین ایبک رحمہ الله کو وہاں کا بادشاہ بنایا اور خود واپس چلا گیا۔ لیکن اس بادشاہی نظام سے ہندوستان میں اسلام نہ پھیلا۔ کیوں کہ اسلام حاصل ہوتا ہے دلوں کی تسخیر سے ۔ نہ یہ حکومت سے مسخر ہوتے ہیں، نہ ڈنڈوں سے۔ بلکہ یہ مسخر ہوتے ہیں دلوں سے۔ ہندوستان میں چوں کہ ہندو رہتے تھے اور یہ اپنے جوگیوں اور پنڈتوں کے بڑے گرویدہ تھے۔ یہ پنڈت او رجوگی بڑے بڑے مجاہدات اور ریاضات کرتے تھے۔ جس سے ان کو روحانی تصرف حاصل ہو جاتا تھا۔ جس کی بنا پر وہ ہواؤں میں اڑتے، دریاؤں میں چلتے اور دیوار پر بیٹھ کر اس کو ایسے چلاتے جیسے گھوڑا چلتا ہے۔ جس کی وجہ سے عام لوگ ان کی بڑی قدر کرتے تھے۔ اب ہندو میں اسلام پھیلانے کے لیے ضروری تھاکہ مسلمان بھی ایسے کام کرکے دکھائیں۔ یعنی کرامات دکھائیں، جس سے لوگوں کے دل مسخر ہوں۔

چناں چہ اولیاء الله نے بھی بڑے بڑے مجاہدے او رریاضات کیں۔ جس کی وجہ سے الله نے ان کو روحانی تصرف عطا فرمایا۔ اب ان اولیاء کاتصرف حقیقی تھا۔ جیسا کہ حضرت موسی علیہ السلام کا معجزہ عصاء والا ،جب کہ ان پنڈتوں او رجوگیوں کا تصرف دھوکہ اور جادو تھا۔جو الله کے ان ولیوں کے سامنے نہ چل سکا تو لوگ جو پہلے ان جوگیوں کی طرف مائل تھے۔ اب ان بزرگوں کی طرف مائل ہونے لگے۔جب بزرگوں نے ان پر محنت کی تو ان میں سے اکثر اسلام میں داخل ہو گئے۔ مثال کے طور پر ایک دو واقعات میں آپ کو سناتا ہوں:

٭… جالندھر میں ایک بزرگ نے اپنا خلیفہ بھیجا تو اس نے جا کر جالندھر کی کسی ویران جگہ پر ڈیرہ ڈال دیا۔ روزانہ ایک عورت ان کے پاس سے گزرتی۔ خلیفہ نے ایک مرتبہ اس عورت سے پوچھ لیا کہ تو کیا لے کر جاتی ہے؟ تو اس عورت نے کہا کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک جوگی بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس کو دودھ دینے کے لیے جاتی ہوں۔گر میں اس کو دودھ نہ دوں تو میری بھینس بگڑ جاتی ہے۔ حضرت نے کہا کہ برتن ذرا ادھر دکھاؤ۔ اس بڑھیا نے حضرت کو جو برتن دیا تو حضرت نے اس کے برتن میں انگلی ڈالی او راس کو واپس کر دیا۔ جب وہ اس جوگی کے پاس پہنچی تو وہ دودھ خون بن چکا تھا۔جوگی نے دیکھا تو معاملہ سمجھ گیا کہ راستے میں کوئی بیٹھا ہوا ہے۔ اس نے بڑھیا سے پوچھا بڑھیا نے سارا واقعہ بیان کر دیا۔ اس نے غصے سے بڑھیا کو کہا کہ مجھے وہاں لے چلو۔ جب وہ بزرگ کے پاس پہنچا تو اس نے بزرگ سے غصے میں کہا: کیا کمال ہے تیرے پاس؟ ذرا مجھے بھی دِکھا۔ بزرگ نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی کمال نہیں۔ بزرگ نے کہا کہ: اگر تیرے پاس کوئی کمال ہے تو ذرا مجھے بھی دِکھا۔ تو جوگی نے فوراً ہوا میں اڑنا شروع کر دیا۔ بزرگ نے اپنے کھڑاؤں یعنی لکڑی کے جوتے اتارے اور ہوا میں اچھال دیے۔ اب وہ جوتے فضا میں جاکر لگے جوگی کو برسنے۔ تھوڑی دورجاکر وہ جوگی گرا اورمر گیا۔ اب جتنے اس کے معتقد تھے وہ سارے کے سارے اس بزرگ کے معتقد ہو گئے کہ یہ تو اس سے بھی بڑا ہے۔

٭…اسی طرح کا ایک اور واقعہ آتا ہے کہ ایک ہندونوجوان اسلام لایا اور دارالعلوم دیوبند میں اس نے پڑھنا شروع کر دیا۔ اب وہ جاکر ہندو سے بحث مباحثے کرتا۔ ایک مرتبہ ہندو اس کو بڑے پنڈت کے پاس لے گئے تواس نے اس کو ایک تھپڑ رسید کیا او رکہا کہ تو ہندو پیدا ہوا تھا، ہندو زندہ رہے گا اور ہندو مرے گا۔اب میں دیکھوں گا کون مائی کا لال تجھے مسلمان بناتا ہے۔ شبیر کہتے ہیں کہ اس کے ایک تھپڑ سے میں سارا کا سارا بدل گیا۔ مجھے ہندو دین سچا نظر آنے لگا او راسلام جھوٹ نظر آنے لگا۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں واپس جاکر دوبارہ ہندو بنتا ہوں۔ چناں چہ میں نے مدرسے میں جاکر اپنا سامان باندھا اور مدرسے سے نکل پڑا۔تھوڑی دیر بعد جو حضرت مدنی رحمہ الله علیہ مدرسے میں تشریف لائے تو انہیں کچھ محسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ شبیر کہاں ہے؟ لڑکوں نے کہا کہ وہ تو چلا گیا ہے۔ حضرت نے کہا جلدی کرو۔ اس کو واپس لے آؤ۔ لڑکے بھاگے ہوئے گئے تو شبیر ریلوے اسیشن پر ٹکٹ خرید رہا تھا۔ لڑکوں نے اسے پکڑا اور حضرت کے پاس واپس لے آئے۔ حضرت نے پوچھا: تو اُس نے کہا: حضرت! میں دوبارہ ہندو ہوتا ہوں۔ ہندومذہب سچا ہے۔ حضرت نے کہا کہ اس کو کمرے میں بند کر دو۔ صبح حضرت عبدالقادر رائے پوری رحمة الله علیہ کے پاس لے جانا۔شبیر کہتے ہیں رات ہوئی تو وہ پنڈت دروازے کی کھڑی سے اندر آیا او رمجھے کہا شبیر آنکھیں بند کرو۔ میں نے آنکھیں بند کیں تو وہ مجھے مدینہ لے گیا۔ پھر کہاآنکھیں کھولو اور ان مسلمانوں کو دیکھو کہ یہ سارے سوئے ہوئے ہیں۔ پھر واپس لے آیا اورکہا کہ شبیر اب آنکھیں بند کرو۔ میں نے آنکھیں بندکیں تو وہ مجھے گنگالے گیا او رکہا کہ اب ان ہندوؤں کو دیکھو کہ یہ کس طرح خدا کی عبادت کر رہے ہیں؟ میں نے دیکھا تو کوئی ایک ٹانگ پر او رکوئی کس طرح او رکوئی کس طرح عبادت کر رہا ہے۔ اب تجھے پختہ یقین ہو گیا کہ ہندو مذہب سچا ہے یا اسلام؟یہ کہہ کر دوبارہ واپس روشن دان سے چلا گیا۔ اب تو مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ ہندومذہب سچا ہے۔ صبح مجھے لڑکے حضرت عبدالقادر رائے پوری رحمة الله علیہ کے پاس لے گئے او رسارا واقعہ سنا دیا۔ حضرت نے ان لڑکوں کو کہا کہ تم جاؤ۔ مجھے اپنے پاس ٹھہرالیا اور مجھے کچھ نہیں کہا۔ فقط یہ کہ جب حضرت کے کھانے کا وقت ہوتا تو مجھے بلالیتے او راپنے ساتھ کھانا کھلاتے۔اس کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ نہ میں نماز پڑھتا تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا ذکر وغیرہ کرتا تھا۔بس ایسے ہی خانقاہ میں ٹھہرا رہتا تھا۔ لیکن جب خانقاہ سے باہر نکلنے کا ارادہ کرتا اور خانقاہ کی حدود کے کنارے میں پہنچتا تو میرے پاؤں کو آگ لگ جاتی۔ اسی وجہ سے میں باہر نہیں نکل سکتا تھا۔جبسات آٹھ دن گزر گئے تو ایک دن حضرت عصر کے بعد سیر کے لیے جارہے تھے۔ تو میں نے کہا کہ حضرت مجھے اجازت دیں۔ اب میں گھر جاتا ہوں۔کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات کی تو حضرت کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ چہرہ میری طرف پھیر کر مجھ کو ایک تھپڑ لگایا اور کہا کہ شبیر! تو ہندو پیدا ہوا، بعد میں اسلام لایا، اب اسلام پر زندہ رہے گا او راسلام پر ہی مرے گا۔ میں دیکھوں گا کہ تجھے کون مائی کا لال اب ہندوبناتا ہے؟ شبیر کہتے ہیں حضرت کے ایک تھپڑ سے میرا دل بالکل صاف ہو گیا، ہندومذہب جو مجھے سچا نظر آرہا تھا اب مجھے جھوٹ نظر آنے گا۔ اس طرح الله نے مجھے عذاب نار سے بچایا۔

٭…اسی طرح ایک مسلمان ملاح نے ایک ہندو پنڈت سے کرایہ نہیں لیا۔ تو اس نے ا س کے اس احسان کے بدلے میں اس پر توجہ ڈالی تو اس کا دل رام رام کرنے لگا۔ مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی رحمة الله علیہ نے اس کو مولانا عبدالرحیم رائے پوری رحمة الله علیہ کے پاس بھیجا تو حضرت کی توجہ سے اس کا دل دوبارہ الله الله کرنے لگا۔

صوفیاء نے اس طرح لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کیا۔ ان کے دلوں میں اسلام کو راسخ کیا اور صوفیاء پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ صوفیاء نے اسلام قوالیوں کے ذریعے پھیلایا، یہ بات صحیح نہیں۔ بلکہ صوفیاء نے اپنی محبتوں اور ریاضتوں کے ذریعے اسلام کو پھیلایا۔ بیٹا! دل دلوں سے بدلتے ہیں نہ کہ دلیلوں سے۔ نہ ہی ڈنڈوں سے بدلتے ہیں۔ ڈنڈوں سے آپ اپنی بات منوالیں گے۔ لیکن دل نہیں لے سکتے۔ دلیلوں سے اپنے مخالف کو خاموش تو کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کا دل نہیں جیت سکتے۔ دل فقط دلوں سے جیتے جاسکتے ہیں۔ اولیاء الله کی توہین سے بچو۔ اس کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی۔ایک مرتبہ ایک آدمی حضرت مولاناحسین احمد مدنی رحمہ الله علیہ کے سامنے ننگا ہو گیا۔ اس کی سزا اس کو دنیا میں یہ ملی کہ جب تقسیم ہند ہوئی تو ہندوؤں یا سکھوں نے اس کو بھی ننگا کیا اور اس کی بیٹیوں کے ساتھ اس کے سامنے زنا کیا۔ یہ واقعہ خود اس نے اپنی زبان سے سنایا او رکہتا تھاکہ یہ سزا مجھے حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی  کی گستاخی کی وجہ سے ملی ہے۔ (جواہرات حکیم العصر از مولانا محمدشفیق، ص:144تا147)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.