جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

تبلیغ دین کا شرعی مزاج اور موجودہ چیلنجز

مولانا محمد تبریز عالم حلیمی قاسمی

اِسلام ایک ایسا مذہب ہے، جس کا پورا ڈھانچہ روحانیت سے مربوط ہے، اِسی لیے اس کا سارا دارومدارمادی، عقلی اور سائنسی علم اور ذرائع علم کے بجائے کتاب وسنت اور اجماع وقیاس کے اُن علوم اور ذرائع علم پر ہے جن میں اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ طریقوں کی وضاحت وصراحت ہوتی ہے۔

جو کام اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا اور خوش نودی کی نیت سے کیا جائے، اس کے لیے طریقہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا اختیارکیا جائے اوردنیاکے نفع(مال، عہدہ، عزت اور لوگوں کی تعریف وغیرہ)کی نیت نہ کی جائے تو یہ روحانیت ہے اور اگر اِن مذکورہ قیود(اللہ کی رضا اور سنت کے اتباع کا اہتمام اور دنیوی نفع کی خواہش سے اجتناب) میں سے کوئی بھی قید رہ جائے تو وہ مادیت بن جاتی ہے، مادی کاموں کا اللہ کے یہاں کوئی وزن نہیں، وہاں صرف اور صرف روحانی اور نورانی اعمال کا وزن ہوگا۔

تبلیغِ اسلام کی عمر وہی ہے جو اِسلام کی ہے، تبلیغ کے بغیر نبوت ورسالت ناقص رہتی ہے؛ اِسی لیے اِسلام کا آغاز تبلیغ سے ہوتا ہے اِس تبلیغِ اسلام کی روح”قول وعمل کی یکسانیت“ اتباعِ شریعت وسنت، اخلاص وبے لوثی، ایمان واحتساب اور خدا ترسی جیسی روحانی صفات میں مضمر ہے، تبلیغِ اِسلام کے ماثور اور متوارث طریقے تین ہیں: زبانی، تحریری اور عملی۔ رسول اکرم صلی علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے یہ تینوں طریقے اِختیار کیے، جس کے نتیجہ میں اِسلام عرب سے عجم میں پہنچا اور عالَم کے افق پر چھاگیا۔جب دنیا میں جدید آلات ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کی ایجادات سامنے آئیں تو وقت کے علماء وفقہاء نے اجتماعی غور وخوض کے بعد ان کے استعمال کے منفی ومثبت اثرات امت کے سامنے رکھے؛ چناں چہ علماء کی ایک جماعت نے اِس کی اجازت دی کہ تبلیغِ اِسلام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع اِبلاغ کا استعمال کرناوقت کا تقاضا ہے، جب کہ علماء کی دوسری جماعت نے مختلف اندیشوں، خطرات اور منفی نتائج کے پیش نظر ان ذرائع سے تبلیغِ اِسلام کا دامن بچائے رکھنے کی تاکید کی۔

فرد کی تبدیلی کے لیے فرد سے براہِ راست رابطہ تبلیغِ اِسلام کا متوارث اور ماثور طریقہ ہے۔ اتنی بات تو طے ہے کہ اِسلام کی اشاعت وتبلیغ جدید سائنس وٹیکنالوجی اور مشینی ذرائع اِبلاغ پر موقوف نہیں ہے، ورنہ کتاب وسنت میں اِس کے واضح اشارے موجود ہوتے۔ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگر مقاصد نیک ہوں تب بھی ان کے حصول کے لیے نیک ذرائع کا اختیار کرنا ضروری ہے۔نیکی کا کام براہِ بدی انجام پائے تو وہ کام اپنی روحانی اساس کھودیتا ہے اور اس سے خیر وبرکت اٹھالی جاتی ہے؛ اِسی لیے اِسلام نے جن کاموں کی انجام دہی کو ضروری قرار دیا ہے ان کے طریقہائے کار کی بھی وضاحت کردی ہے؛ تاکہ ان کاموں کی روحانیت اور تاثیر برقرار ہے۔ ورنہ انسانی عقلوں کے انتخابات وترجیحات آئے دن بدلتے رہتے ہیں؛ کیوں کہ انسانی انتخابات وترجیحات کو نفس پرستی اور مادیت کی آمیزش سے بچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

تبلیغی جماعت کی خدمات کی تاثیر اور جدید ذرائع ابلاغ؛بالخصوص ٹی وی کے ذریعہ نشر کیے جانے والے دینی پروگرام کی اثر انگیزی کا تقابل کیا جائے تو روحانیت ومادیت کا فرق واضح طور پر سامنے آتا ہے۔ ایک متوارث طریقہ کا رزلٹ ہے اور دوسرا ماڈرن طریقہ کا نتیجہ ہے۔ میں یہ کہنے کی جسارت نہیں کرسکتا کہ وسائل میں تبدیلی اور تجدید غیر درست ہے؛ لیکن یہ کہنے اور لکھنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ ہر وہ شکل جس سے مقاصد کا ہیولیٰ اور حلیہ ہی بدل جائے یا مقاصد ہی فوت ہوجائیں یا مقاصد کا حصول اختلاف وانتشار کا ذریعہ بن جائے وہ شکل درست نہیں۔ احادیث وتاریخ میں کہیں بھی اِس کی صراحت نہیں ملتی کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تبلیغِ اِسلام کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا ہو جس سے مقصود پر اثر پڑتا ہو یا غیر شرعی امور کا ارتکاب کرنا پڑتا ہو۔

اسلام کا روحانی نظام
زندگی کے تمام شعبوں میں اِسلام کا اپنا ایک مستقل روحانی نظام ہے اور اس نظام کا اپنی روح کے ساتھ ایک ایسا اٹوٹ رشتہ ہے کہ اگر اس اسلامی نظام کو اس کی ساخت اور روح کے ساتھ برپا کیاجائے تو اس نظام کی روحانیت نہ صرف یہ کہ گرد وپیش کو متاثر کرتی ہے ؛بلکہ باد مخالف کوبھی اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ اس کے ثمرات ونتائج اور انوار وبرکات دیکھ کر عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔ اور اگر اس نظام میں کوئی ایسی تبدیلی کردی جائے جس سے ڈھانچہ ہی بدل جائے یا اس کی روح متاثر ہوجائے تو نتیجہ اس کے برعکس ظاہر ہوتا ہے؛ چناں چہ مادیت کی حرص وہوس اور لذتِ دنیا کو اس روحانیت میں دخل اندازی کا موقع مل جاتا ہے؛ دیکھیے! شریعت نے نماز با جماعت کی ادائیگی کے لیے مسجد کی حاضری کو ضروری قرار دیا ہے، جب ایک مسلمان مسجد آتا ہے تو مسجد کا روحانی ماحول اسے اپنے اندر جذب کرلیتاہے۔ وقار، سکون، سنجیدگی اور قلب کی آمادگی کی کیفیات خود بخود پیدا ہونے لگتی ہیں؛ لیکن وہی نماز مسجد کے بجائے دکان یا مکان میں جماعت کے ساتھ ادا کی جائے تو وہ روحانی کیفیات محسوس نہیں ہوتیں؛ کیوں کہ وہ روحانی کیفیات اسی نظام اور ڈھانچے سے مربوط ہیں۔

اِسلامی آدابِ طعام اور نظامِ اَکل وشُرب کی روحانیت دستر خوان پر بیٹھ کر کھانے میں مضمر ہے۔ اگر اس نظام کو اس کی روحانیت سے الگ کردیا جائے اور کھڑے ہوکر کھانا کھایا جائے یا دستر خوان نہ بچھایا جائے تو حرص وہوس اور لوٹ کھسوٹ کے مناظر سامنے آنے لگتے ہیں اور ایثار ومحبت دَم توڑ دیتے ہیں۔ حدیث میں ہے:دو آدمی کا کھانا چار کے لیے کافی ہے۔ یہ اسی اِسلامی نظام کے ساتھ مربوط ہے، ورنہ غیر اِسلامی نظام میں چار آدمی کا کھانا دو کے لیے بھی ناکافی ہوجاتا ہے۔

تزکیہٴ نفوس اور تطہیر قلوب کا نظام، صحبتِ صالحین سے مربوط ہے۔ اگر اصلاحِ باطن کے لیے صحبتِ صالحین کے بجائے صالحین کی تصویروں کے پاس بیٹھا جائے اور ان کی صرف ویڈیوز سن اور دیکھ لی جائیں تو قیامت تک اصلاح نہیں ہوسکتی؛ کیوں کہ اصلاحی نظام اسی خاص ماحول سے جُڑ ا ہوا ہے۔

ٹی وی اور نیوز چینلز کے ڈھانچے
ٹی وی در حقیقت بنئے کی دکان ہے، جو سرمایہ داروں کی تیار کردہ اشیاء کو اشتہار کی لیپا پوتی کے ذریعہ بیچتا ہے۔ ٹی وی اور پرچون کی دکان میں بظاہر کوئی فرق نہیں:دونوں بازار میں اشیاء بیچنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ٹی وی سے ہمیں عالمی، ملکی، سماجی، جغرافیائی اور بہت ساری مختلف النوع خبریں اور معلومات ملتی ہیں؛ مگر کس قسم کی خبریں؟ وہ خبریں جو ہمارے اِسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے کسی کام کی نہیں!ٹی وی لوگوں کو یہ تو بتاتا ہے کہ کس فلمی ہیرو کی آج سال گرہ ہے، کس کھلاڑی نے کیا ریکارڈ بنایا ہے، کس ہیرو کا کس ہیروئن سے افیئر چل رہا ہے، کس نے کس سے بھاگ کر شادی کرلی، امریکہ میں لوگ روزانہ کتنے کتے خریدتے ہیں وغیرہ؛ لیکن ٹی وی یہ نہیں بتاسکتا کہ آپ کا پڑوسی کس حال میں ہے؟ ساس اور بہو کے تعلقات کیسے اچھے ہوں گے؟ امورِ خانہ داری کو کیسے بہتر کیا جائے؟ یہ ٹی وی کا موضوع نہیں۔ملک اور دنیا میں پیار ومحبت کا چراغ کیسے روشن ہوگا؟ ٹی وی کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ٹی وی کے تمام چینلز صرف کمائی کا ذریعہ ہیں۔ ایک ٹی وی چینل قائم کرنے کے لیے کروڑوں روپیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ روپے کہاں سے آتے ہیں؟ تو اِس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ ٹی وی کے ذریعے کمائی کا انحصار اس بات پر ہوتاہے کہ کتنی کمپنیاں اسے اشتہارات دینے کو تیار ہیں۔ کمپنیاں اشتہارات پر روپے اِس لیے خرچ کرتی ہیں؛تاکہ عوام الناس ان کی زیادہ سے زیادہ اشیاء خریدیں۔ ٹی وی پر میچ دکھا کر عوام کو معلومات فراہم کرنا مقصود نہیں ہوتا؛بلکہ اشتہارات کے ذریعہ روپے کمانا مقصودہوتاہے؛اِسی لیے کھلاڑیوں کے لباس پر بھی کمپنیوں کے اشتہار ہوتے ہیں؛چناں چہ اگر یہ کہا جائے کہ پورا معاشرہ مل کر ٹی وی فنکاروں، اداکاروں اور کھلاڑیوں کو پالتا ہے تو یہ مبنی بر حقیقت بات ہوگی۔ اِسی لیے ٹی وی کے پروگراموں کو دلچسپ بنانے کے لیے ہر طرح کا مرچ مسالہ استعمال کیا جاتا ہے؛چناں چہ پروگرام میں جدت کے لیے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے، عوام کو لبھانے کے لیے ہر ہتھکنڈے کا استعمال جائز ہے۔ پروگرام کی مقبولیت ہی حصولِ اشتہار کا ذریعہ ہے، گویا پروگرام کو اشتہار کے عوض میں بیچ کر نفع کمایا جاتا ہے۔ ٹی وی کو اِس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کیا بیچ رہا ہے، اسے صرف اِس سے مطلب ہے کہ اسے کیا اور کتنا مل رہا ہے؛ چناں چہ چینل کو اگر اشتہار کے لیے ننگی تصویریں دکھانی پڑیں تو وہ اس کے لیے بھی تیار، اخلاق سوز مواد فراہم کرنا ہو تو وہ اس کے لیے بھی راضی۔ یاد رکھیے !اگر نفع خوری اور لذت پرستی سے ٹی وی کو الگ کردیا جائے تو یہ سلسلہ شاید ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ٹی وی ایک ایسا نظام اور ڈھانچہ ہے جس کی کوئی روح ہے ہی نہیں۔ وہ مادیت وظلمت کا پٹارہ ہے۔ تعلیم وتدریس، تبلیغ وتلقین یا تطہیر نفس اس نظام کا ہو ہی نہیں سکتے؛ کیوں کہ نفس پرستی، حرص وحسد اور نفع خوری روحانیت کی ضدہیں۔ ٹی وی کے نیوز چینلز کے اغراض ومقاصد بھی وہی ہیں جو عام چینلز کے ہیں۔

تبلیغِ اِسلام کا مزاج
ٹی وی کی مادی حیثیت کو سامنے رکھنے کے بعد اب تبلیغِ اسلام یا دینی تعلیم کے مزاج پر غور کریں تو یہ بات دودو چار کی طرح واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ تبلیغ اور طریقہٴ تبلیغ جب دونوں اپنی ساخت اور روح کے ساتھ اکٹھا ہوں گے تو تبلیغ کے مثبت اور موثر اثرات باقی رہیں گے اورجوں ہی انھیں ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے گا تبلیغ کی اثر انگیزی زائل ہوجائے گی۔ جس طرح متوارث طریقہٴ دین کے بغیر دین حاصل نہیں ہوسکتا، اسی طرح اشاعتِ دین کے متوارث طریقہ کے بغیر تبلیغ نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابر نے مدارس میں آج تک دینی تعلیم دینے کا رنگ ڈھنگ روایتی ہی رکھا ہے،ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سے دین کی روحانیت کا احاطہ، اِدراک، احساس، تصور اور اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر ذاکر نائک، جاوید غامدی، ڈاکٹر طاہر القادری، سر سید وغیرہ نے تبلیغ دین اور اشاعت اِسلام کا غیر متوارث طریقہ اپنایا تھا، اِس لیے ظاہری پذیرائی تو بہت ہوئی؛ چناں چہ روحانیت سے خالی ان مجالس کے قمقموں اور قندیلوں نے بھیڑ تو خوب اکٹھی کی؛ لیکن مادیت کی ظلمت کے علاوہ انھیں کیا ملا خوب ظاہر ہے۔مدارس، خانقاہیں اور تبلیغی جماعت کے اجتماعات نے قندیلوں اورقمقموں کے بغیر دنیا سے ظلمت وجہالت کا خاتمہ صرف اِس لیے کیا کہ وہاں ساخت اور روح دونوں موجود تھے۔

ٹی وی ڈیبیٹ پر ایک سرسری نظر
شروع میں نیوز چینلز پرصرف خبریں نشر ہوتی تھیں، پھر ایک تبدیلی یہ ہوئی کہ مردوں کے بجائے خوب صورت عورتوں کو نیوز ریڈر زکے طور پر اتارا گیا، پھر عورتوں کو نیم برہنہ کیا گیا؛تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ نیوز چینلز پر وقت گذاریں اور انھیں اشتہار ملے۔ اسی لیے خبروں میں بھی ایسی خبر کا انتخاب کیا جانے لگا جسے انسان دلچسپی سے سنے؛چناں چہ خبروں کے ساتھ واقعہ کی ویڈیو بھی دکھانے کا رواج ہوا۔ پچھلے دس پندرہ سالوں میں نیوز چینلز نے ٹی وی ڈیبیٹ کا سلسلہ شروع کیا اور سیاسی وسماجی مسائل کو موضوعِ گفتگو بنا کر ایک نیا ٹاک شوپیش کیا ،جس میں ہر پارٹی کے لیڈران وترجمان اور سماجی کارکنان شریک ہوتے ہیں اورجو نہیں آسکتے، کیمرہ ان کے گھر پہنچانے کی سہولت رکھی گئی۔ ڈیبیٹ چلانے کے لیے کسی ایسے چرب زبان (مردیازن)کا انتخاب ہوتا ہے جو بات سے بات اور بال کی کھال نکالنے میں ماہر اور بے مثال ہو۔عوام کو شور وہنگامے کی شکل میں ایک نئی چیز اور نئی لذت ملی؛پس دلچسپی سے شریک ہونے لگے۔جب یہ قصہ پارینہ ہوا اور کئی چینلز یہ کام کرنے لگے تو سیاست کے ساتھ مذہب کو لایا گیا۔ مذہبی گفتگو اور سوال وجواب کے لیے علماء سے رابطہ کیا گیا، جن میں سے بعض اس کام کے لیے تیار ہوگئے اور پھر ایک شور شروع ہوا۔ چوں کہ ڈیبیٹ میں نتیجہ مقصود نہیں ہوتا؛اِس لیے در پردہ مذہب کے نام پر اِسلام کی شبیہ بگاڑنے اور مذہب سے یقین اٹھانے کی ناپاک سازش اس پروگرام کا حصہ بن گئی اور اس طرح مسلمانوں کے دل ودماغ میں شکوک وشبہات کے زہر خوب گھولے گئے ،جس کا سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔ یہ اسی سازش کا حصہ ہے کہ ڈیبیٹ میں مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی نمائندگی دی جانے لگی؛ نوبت بایں جارسید کہ ایک سیٹ پر بے پردہ عورت تو بازو میں دوسری سیٹ پر مبلغ اسلام براجمان ہوتے ہیں اور دونوں میں خوب بحث کرائی جاتی ہے، سوال وجواب کا ایسا طوفان کھڑا کیا جاتا ہے کہ ایک سوال کا جواب مکمل نہیں ہوپاتا کہ کئی غیر متعلق سوالات کی بوچھاڑ ہوجاتی ہے۔(لوگ درسِ نظامی کی کافیہ، سلم اور قطبی پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں بحث بے نتیجہ رہتی ہے، ڈیبیٹ کی بے نتیجہ گفتگو پر دانش ورانِ قوم وملت چیں بجبیں کیا ہوتے، شوق سے اس ڈیبیٹ کا حصہ بنتے ہیں،آخر کیوں؟انھیں اِس تعلق سے بھی لب کشائی اور گل افشانی کرنی چاہیے)

ڈیبیٹ میں علماء کی شرکت… اسباب واثرات
یہ انسانی کمزوری ہے کہ اسے اپنا سراپا اچھا لگتا ہے اور وہ دوسروں کی نگاہ میں اچھا دکھنا بھی چاہتا ہے۔سیلفی کا جنون، تصویر کشی کا شوق، لائیو شو میں شرکت، اپنی ویڈیو بنانے اور دکھانے کی تمنا…سب اسی نفس امارہ کے حکم کی تعمیل کے حصے ہیں، جو انسان کو اپنی گرفت میں لیے رہتاہے ؛اِسی لیے آج موبائل کی خصوصیات میں کیمرہ بنیاد ہوتا ہے۔فیس بک کی مقبولیت کا راز یہی ہے کہ اس سے اپنی تصویریں شیئر کی جاتی ہیں، واٹس ایپ میں یہ سہولت اسی لیے رکھی گئی ہے۔غورکیجیے SMS نے اِسی وجہ سے دم توڑ دیا کہ اس میں ارسالِ تصویر کی رنگینی کا مزہ نہیں ہے، خطوط اِسی لیے بند ہوگئے کہ اس میں تصویر کشی کی لذت نہیں ملتی۔ ڈیبیٹ میں علماء کی شرکت بھی اسی تلذذ کا حصہ ہے، اپنی تصویر چھپتی ہے،ویڈیو بنتی ہے، خیالی علم وفن کا خوب اظہار ہوتا ہے، مزہ آتا ہے اور قیامت تک اپنی ویڈیو محفوظ ہوجاتی ہے، گویا پس مرگ زندہ کا منفی مصداق بن جاتے ہیں۔حلقہ مریداں اور اہلِ خانہ اس ویڈیو کے سرچ میں اپنا وقت ضائع کرکے حضرت کی گل افشانیوں سے محظوظ ہونے کی خوب کوشش کرتے ہیں۔ اس ویڈیو اور بحث ومباحثہ کی نشر و اشاعت کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، واٹس ایپ اور فیس بک پر ارسال در ارسال کا سلسلہ قائم ہوجاتا ہے۔بعد میں جب ڈیبیٹ سننے اور دیکھنے کے لیے ان کو کھولا جاتا ہے تو ڈیبٹ کے ساتھ عریانی وفحاشی کے مناظر ساتھ ساتھ سامنے آتے ہیں، جن سے دامن بچانے کے لیے جنید وشبلی کا جگر چاہیے۔ یہ سب کچھ ہوا اور ہوتا ہے۔ اِس بیچ تبلیغِ اِسلام اور دفاعِ اِسلام کا تصور کہیں نہیں ملتا اور نہ ہی اِس نقطہ نظر سے کوئی دیکھتا اور سنتا ہے۔ علاوہ ازیں خیالی تبلیغِ اسلام کے لیے جو ماحول اور موقع فراہم کیا گیا ہے اس سے روحانیت بالکلیہ غائب ہوتی ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ تصویر کے گناہ اور اس کے تلذذ کے ساتھ، عورتوں کے اختلاط کے ساتھ، بے پردگی کے ساتھ، غیر محرم عورتوں کی آواز سننے اور سنانے کے ساتھ کس اِسلام کی تبلیغ ہوگی؟ کیا اس اسلام کی جو فاران کی چوٹی سے ظاہر ہوا تھا ،جس نے مذکورہ چیزوں کے ارتکاب کو گناہ کہا ہے یا اُس اِسلام کی جو مغرب کے افق سے ظاہر ہوا ہے، جسے ماڈرن اِسلام کہا جاتا ہے۔یاد رہے اول الذکر اِسلام کی تبلیغ کے لیے روحانی ماحول اور نورانی طریقہ مطلوب ہے،جو ٹی وی ڈیبیٹ میں مکمل طور پر مفقود ہوتا ہے۔اسلامی طریقہ سے صرفِ نظر روحِ تبلیغ کو زہر ہلاہل دے دینے کے مترادف ہے۔ ٹی وی ڈیبیٹ کے آقاؤں کے پیشِ نظر مسلمانوں میں ایک ایسا دینی مزاج پیدا کرنا ہے جس میں رنگ رلیوں، ہلے گلے اور موج مستی کا بھی وافر حصہ موجود ہو۔چناں چہ یہی مغرب کو مطلوب ہے اور یہی اس کا مشن ہے۔

ماضی قریب میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب نے ٹی وی ڈیبیٹ کے بائیکاٹ کا اعلان کیاتھا، جوکہ بہت اچھا فیصلہ تھا۔ اِس کے باوجود بعض علماء ٹی وی ڈیبیٹ میں شریک ہوتے رہے۔ظاہر ہے کہ اس کے پس پردہ ان کے دینی یا دنیاوی مقاصدہوں گے، جو انھیں جوازِ شرکت کی سند فراہم کرتے ہیں، جس کے بارے میں وہ ہی بہترجانتے ہوں گے ؛لیکن اگر حسن ظن کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو ان کی شرکت تبلیغِ اِسلام، دفاعِ اِسلام یا شوکتِ اسلام کے اظہار کے لیے ہی ہوتی ہوگی؛ لیکن انھیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا واقعةً یہ مقاصد حاصل ہورہے ہیں اور کیا ان مقاصدکے حصول کے لیے یہ مادی طریقہ مناسب ہے؟ وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ سب اِسلام کو بدنام کرنے، تعلیماتِ اِسلام کے حوالہ سے شکوک وشبہات پیدا کرنے اور لوگوں کو اِسلام سے دور کرنے کی یہ ایک مکمل سازش ہے، جس کا وہ حصہ بن رہے ہیں۔ وہ کیوں نہیں سوچتے کہ ان کی شخصیت کو استعمال اور داغ دار کرکے خوب نفع کمایا جارہا ہے؟ وہ کیوں نہیں غور کرتے کہ ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر گولی چلائی جارہی ہے؟ مذہبی گفتگو کے لیے مجلس گناہ میں شرکت کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ اگر سنیما ہال میں تبلیغِ اسلام کا دفتر یا مجلس قائم کردی جائے تو اس سے اِسلام کی تبلیغ ہوگی یا مبلغین بھی مستحقین تبلیغ ہوجائیں گے؟ ذرا سوچیے! ٹی وی ڈیبیٹ پر حق گوئی کی اجازت نہیں ہوتی، وہاں پر مسائل کا بیان ممکن نہیں ہوتا، توحیدِ باری تعالیٰ کو سمجھانے کی اجازت نہیں ہوتی؛ چناں چہ مبلغ صاحب جیسے ہی ان موضوعات پر آئیں گے چوطرفہ اعتراضات کی ایسی بوچھاڑ ہوتی ہے کہ اصل گفتگو کا رخ بدل جاتا ہے؛ لیکن اتنا ضرور ہوتا ہے کہ وہ اعتراضات ٹی وی دیکھنے والوں کے دل ودماغ میں کانٹے کی طرح چبھتے رہتے ہیں، جو اِسلام سے متنفر ہونے کا سبب بنتے ہیں۔

ایک ڈیبیٹ کے بارے میں پتہ چلا کہ اس میں ایک مولانا صاحب بھی رونق اسٹیج تھے۔اینکر نے سوال کیا: بقرعید میں آپ لوگ اتنے جانوروں کا خون کیوں بہاتے ہیں؟ یہ ظلم ہے آپ پیسے خرچ کردیں تو غریبوں کا بھلا ہوگا؟ مولانا صاحب جواب دینے کے لیے جیسے ہی لب کشا ہوئے مزید کئی اعتراضات کردیے گئے، چناں چہ نہ مولانا کا جواب مکمل ہوا اور نہ سامعین وشائقین کو تشفی ہوئی؛ لیکن اسلام کے اِس حکم سے بدگمانی کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوگئیں، جو اصل مقصد تھا۔ مولانا صاحب کو ایسی ڈیبیٹ کی شرکت سے کیا ملا؟

ٹی وی پر یہ بحث کرنا کہ خدا ہے یا نہیں؟ وجودِ خدا کیسے ثابت ہوتا ہے؟ رام کو کس نے پیدا کیا؟طلاق ظلم ہے، حلالہ کیا ہے؟ وغیرہ صرف فتنہ پردازی کے طریقے ہیں، ٹی وی پر اِس قسم کے موضوعات کو اٹھانے کا مقصد حصولِ نفع کے ساتھ فکری انتشار پھیلانے، تفریح طبع مہیا کرنے اور اِسلام کی شبیہ داغ دار کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔قاسم سید صاحب کی تحریر کا ایک اقتباس پڑھیے:

اس وقت میڈیا کے تین چہرے ہیں: کارپوریٹ، فرقہ پرست اور ذات پرست، یہ تینوں چہرے فاشٹ طاقتوں کے ترجمان بن گئے ہیں، جو سماج کے لیے سنگین خطرہ ہے، غریبوں، دلتوں، کسانوں، اقلیتوں اور دیگر مظلوم طبقات کے مسائل اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ ایک معمولی ایکٹرس، جو اتفاق سے مسلمان ہو اور مانگ میں سیندور سجاتی ہو، پرائم ٹائم کا موضوع بن جاتی ہے۔ ہمارے قابل علماء اس پر اپنی گراں قدر رائے دینے پہنچ جاتے ہیں اور اس کے بچھائے جال میں پھنس جاتے ہیں…ٹی وی مباحثوں کے لیے سنسنی خیز اور اشتعال انگیز موضوع منتخب کیے جاتے ہیں، تاکہ فرقہ واریت کی بھٹی کو خوب دہکایا جائے۔(مضمون:اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچتے ہیں…)

چند گزارشات
تبلیغ پوری توجہ، انہماک اور سامنے والے سے تبادلہٴ خیال کے نتیجہ میں موثر ہوتی ہے۔اِسلام کی تاریخ میں کبھی اِس طرح تبلیغ نہیں ہوئی کہ انسان حواس خمسہ کے بجائے صرف دو حواس یعنی سماعت اور بصارت سے کام لے۔ٹی وی دیکھنے میں صرف دو حواس کام کرتے ہیں، باقی سارا انسانی وجود معطل ہوکر رہ جاتا ہے۔تبلیغ کے عمل میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ مخاطب ،بولنے والے سے براہ راست تعلق نہ رکھے اور اس سے براہ راست سوال نہ کرسکے۔تبلیغ کی تاریخ میں کبھی یہ موقع نہیں آیا کہ ٹی وی پر ڈیبیٹ سننے والاپیر پھیلا کر بیٹھا ہوا ہے، بستر پر لیٹا ہوا ہے، کھانا کھارہا ہے، چائے پی رہا ہے، دنیا کا ہر کام کررہا ہے۔یاد رہے کہ ارتکازِ توجہ کے بغیر دنیا نہیں ملتی، دین تو بہت دور کی چیز ہے۔

یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ دین سیکھنے اور سکھانے سے آتا ہے یا تو کوئی خلوص سے سیکھنا چاہے یا کوئی خلوص سے سکھانا چاہے، اس دو طرفہ عمل میں فریقین کے اندر کسی ایک فرد کا مخلص اور محنتی ہونا ضروری ہے؛جب کہ ٹی وی کے پروگرام میں خلوص کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اِسی لیے بہت سی تقریریں بہت عمدہ ہوتی ہیں، لیکن ٹی وی پر نشرکی جائیں تو بے اثر لگتی ہیں؛ کیوں کہ ٹی وی کا ماحول انسان کی شخصیت اور روحانیت کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔تزکیہ نفوس کے لیے کسی زندہ شخص کی شاگردی اور صحبت اختیار کرنا ضروری ہے۔

پس عافیت اِسی میں ہے کہ ڈیبیٹ میں شرکت سے انکار کردیا جائے؛ بلکہ سماجی بائیکاٹ کردیا جائے، معاملہ خود حل ہوجائے گا۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ٹی وی چینلز کو ان شرعی مسائل سے باخبر کرنا بھی تبلیغِ اسلام کا حصہ ہے، آپ کو اگر ثواب چاہیے تو اس میں یقیناآپ کو اتنا ثواب ملے گا کہ دنیا کی ساری دولت اس کے سامنے ہیچ ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے ہم مخاطب نہیں ہوں گے تو اس خالی جگہ میں کوئی نا اہل بیٹھ جائے گا اور اِسلام کی صحیح ترجمانی کے بجائے اِسلام کی شبیہ خراب کرے گا، وہ ہر داڑھی ٹوپی والے یا مسلم نام والے کو ماہر اِسلامیات بنا کر یا سمجھ کر پروگرام کا حصہ بنالیں گے، اِس سے دین وملت اور مسلم سماج کی مزید مٹی پلید ہوگی اور ہم خاکِ نامرادی چاٹتے رہیں گے؟

مجھے اِس سے اتفاق نہیں۔ اولا اِس لیے کہ ٹی وی ڈیبیٹ میں مسئلہ سمجھنے یا حل کرنے کے لیے نہیں بلایا جاتا ۔تجربہ اور مشاہدہ اس پر شاہد ہیں۔ ثانیاً اِسلام کی صحیح ترجمانی کے دیگر جائز مواقع بھی موجود ہیں، تبلیغی جماعت، دینی جلسے، جمعہ کے خطابات، درس قرآن کی محفلیں، مساجد کے منبر ومحراب، مدارس کے اسٹیج، جماعت کا فرد سے ملاقات، دینی پمفلٹس کی اشاعت، علاقائی زبانوں میں دینی کتابوں کی ترویج وغیرہ سے تبلیغ کا کام لیا جانا کیا غیر موثر ہے؟ ثالثاً:بے پردہ، نیم برہنہ، چھوٹے لباس میں ملبوس ٹی وی اینکروں اور مجلس میں شریک عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر اِسلام کی کیسے ترجمانی ہوسکتی ہے؟ رابعاً: ٹی وی ڈیبیٹ میں اِسلامی مسائل کی تشریح سننے اور دیکھنے والے کتنے فیصد ہیں اور وہ کس جذبہ سے سنتے ہیں؟ ان ناواقف مسلمانوں کاکیا ہوگا جو گاؤں دیہات میں رہتے ہیں اور ٹی وی ڈیبیٹ نہیں دیکھتے، خامساً: افہام وتفہیم کا کیا وہی طریقہ ضروری ہے؟ سادساً: کیا ایک گھنٹہ اور آدھا گھنٹہ میں یہ مسائل حل ہوجائیں گے؟ کیا شریعت کی ترویج واشاعت کے لیے غیر شرعی امور برداشت کیے جاسکتے ہیں؟کیا ان کو برداشت کیا جانا ضرورت وحاجت میں داخل ہے؟پہلے یہ سب امور حل ہوجائیں تو بہتر ہے۔ بقول حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب:یہ انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی کسی شخص یا حلقہ اور طرز سے مرعوب ہوتا ہے تو اس کو اپنی ہر چیز حقیر نظر آنے لگتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اس کی ہر ایک چیز اپنالے، خواہ وہ اچھی ہو یا بری، آج اسی صورتِ حال سے ہم دوچار ہیں۔

حضرت تھانوی کی راہ نما باتیں
1..مسلمانوں کو اس وقت؛ بلکہ ہر وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اُن کے دین کی حفاظت ہے اور دنیا کے صرف اتنے حصے کی جس کو دین کی حفاظت میں دخل ہو۔(امداد الفتاویٰ :6/230)

2..جو کام تنہا ہوسکے وہ مجمع کے ساتھ ہرگز نہ کرو، اکثر دیکھا ہے کہ مجمع میں کام بگڑ جاتا ہے، دنیوی کام یابی بھی اکثر نہیں ہوتی اور کبھی کچھ دنیا مل بھی گئی تو دین کا ستیا ناس ہی ہوجاتا ہے۔ اور جو کام تنہا نہ ہوسکے مجمع ہی کے ساتھ ہوسکے، اس کے لیے اگر دین داروں کا مجمع میسر ہوجاوے تو کرو؛ بشرطیکہ سب دین دار ہوں یا دین داروں کو غلبہ ہو اور اگر غلبہ دنیاداروں کو ہو اور دین دار مغلوب یا تابع ہوں تو ایسے مجمع کے ساتھ مل کر کام کرنا واجب نہیں، اُس وقت آپ اُس کے مکلف ہی نہ رہیں گے؛ کیوں کہ یہ مجمع بظاہر مجمع اور حقیقت میں یہاں تشتُّت ہے۔ وہی حال ہوگا:﴿تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعاً وَقُلُوبُہُمْ شتی﴾․(کمالاتِ اشرفیہ،ص:42)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.