جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حرمتِ تصویر کی نوعیت

مولانا محمد شعیب الله خاں، بنگلور

پھر یہاں ایک اور بات قابلِ لحاظ ہے کہ اگر مسئلہ تصویر ایک اختلافی مسئلہ ہونے کی وجہ سے اس میں شدت ،بلکہ اس پر نکیر کوئی غلط بات ہوتی تو جمہور علمائے امت نے اس پر کیوں نکیر کی اور پوری شدت سے کی؟ چناں چہ علمائے عرب وعجم نے تصویر کو جائز قرار دینے والوں پر جس قدر شدت برتی ہے، اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی وہ حیثیت نہیں جو مسائل اختلافیہ کو حاصل ہے، ورنہ ان حضراتِ اکابر کا یہ شدت برتنا جائز نہ ہوتا، کیوں کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ مسائل اختلافیہ میں ایک دوسرے پر اعتراض جائز نہیں اور یہاں صورت حال یہ ہے کہ جواز کے قول کی سختی سے تردیدکی گئی ہے۔ جس کے نمونے اس رسالہ میں موجود اکابرین کے فتاوی میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

مثلاًعلامہ شیخ ابن باز نے بعض فتاوی میں لکھا ہے کہ:
”ہم نے جواب میں جو احادیث او راہل علم کا کلام نقل کیا ہے، اس سے حق کے متلاشی پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لوگ جو کتابوں، مجلوں، رسالوں اور جریدوں میں جان دار کی تصویر کے سلسلہ میں وسعت برت رہے ہیں، یہ واضح غلطی اور کھلا ہوا گناہ ہے۔“ (فتاوی شیخ ابن باز:4/179-189)

مفتی علامہ شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ نے لکھا ہے کہ:
”جس نے یہ خیال کیا کہ شمسی تصویر منع کے حکم میں داخل نہیں اور یہ کہ منع ہونا مجسم صورت اور سایہ دار چیزوں کی تصویر کے ساتھ خاص ہے، تو اس کا خیال باطل ہے۔“ (فتاوی ورسائل شیخ محمدبن ابراہیم:1/134)

اللجنة الدائمة کے ایک فتوی میں لکھا ہے کہ:
”انسان وحیوان وغیر جان دار چیزوں کی شمسی وعکسی تصویر لینا اور ان کو باقی رکھنا حرام ہے، بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔“ (فتاوی اللجنة الدائمة:1/459،رقم الفتوی:1978)

اور علامہ شیخ عبدالرحمن بن فریان”شمسی تصویر کی حرمت“ پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
”ولا تغتر ایھا المسلم بمن تنطع بمعسول الکلام وقام یحلل ویحرم، بغیر دلیل وبرھان، بل بمجرد الرأی والھذیان، من بعض متعلمة ھذہ الأزمان، وأجاز الصور الضوئیة، وجعل المنع خاصا بما لہ اجسام، سبحان الله! من این ھذا التفریق ولم یجیء لا فی سنة ولا قرآن․“
ترجمہ:” اے مسلم! تو اس زمانے کے بعض علم کی جانب منسوب لوگوں سے دھوکہ نہ کھانا، جو چکنی چپڑی باتیں کرتے اور بلا دلیل وبرہان، محض اپنی رائے اور بکواس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے ہیں اور عکسی تصویر کو جائز قرار دیتے او رمنع کو صرف ان تصویروں سے خاص کرتے ہیں جو مجسمہ کی شکل میں ہوں۔ سبحان الله! یہ فرق کہاں سے آیا؟ جب کہ نہ تو سنت میں یہ فرق آیا اور نہ قرآن میں آیا۔“

” فیجب علی المسلمین انکار ھذا المنکر، ولا یجوز لھم السکوت، ولا یغتر بفشوہ ورواجہ، فان المنکر ھو بحالہ منکر، کما ھو فی الشرع، ولا یحللہ کثرتہ ورواجہ، ولا محبتہ البعض وارتکابہ․“ (الدر السنیة:15/234)
ترجمہ:”لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس منکر پر انکار ونکیر کریں اور اس پر ان کی خاموشی جائز نہیں ہے اور تصویر کے رواج او رعام ہو جانے سے دھوکہ نہ کھایا جائے، کیوں کہ منکر تو ہرحال میں منکر ہے، اس کا عام ہوجانا اور رواج پاجانا اس کو حلال نہیں کر دیتا اور نہ بعض لوگوں کی اس سے محبت اور اس کا مرتکب ہونا اس کو جائز کرتا ہے۔“

قابل غور یہ ہے کہ اگر تصویر کے مسئلہ میں اختلاف اس درجہ کا ہوتا جو مختلف فیہ مسائل میں ہوتا ہے تو کیا اس قدر شدت کا جواز تھا، جوان حضرات نے اختیار کیا ہے اور تصویر کوحرام ،بلکہ گناہ کبیرہ قرار دیا ہے اور جواز کے قائلین کو کھلی غلطی واضح گناہ پر ٹھہرایا ہے؟ اور اہل اسلام کو اس پر انکار ونکیر کرنا ضروری قرار دیا ہے اور خاموشی کو ناجائز کہا ہے او راس کے عام ہو جانے اور رواج پاجانے کو بے اثر ٹھہرایا ہے؟ نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس اختلاف کو وہ حضرات کوئی قابل لحاظ ہی نہیں مانتے تھے۔

اسی طرح ہندوپاک کے علماء کا بھی رویہ رہا ہے، ایک دو حضرات کے اس سلسلہ میں فتاوی نقل کر دینا اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نے ایک اسکول کے جلسہ (جس میں تصویرلی جاتی ہے) کے بارے میں سوال پر لکھا ہے کہ:
”یہ معصیت کی مجلس ہے، جس میں شرکت قطعاً جائز نہیں؛ بلکہ دورانِ مجلس اس قسم کی حرکت شروع ہو تب بھی روکنے کی قدرت نہ ہونے والے ہر شخص پر اٹھ جانا واجب ہے۔“ نیز لکھا کہ تصویر سازی شریعت کی رو سے ایک کبیرہ گناہ ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ : انتہائی قلق کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ تصویر کی لعنت عوام سے تجاوز کرکے خواص بلکہ علماء تک پھیل گئی ہے، جس کا افسوس ناک نتیجہ سامنے آرہا ہے کہ بہت سے لوگ ان حضرات کے اس طرز عمل کو دیکھ کر اس قطعی حرام کو حلال باور کرنے لگے۔“ (احسن الفتاوی:418,434,8/417)

پاکستان میں ایک جگہ ایک مسجد میں رمضان میں قرآن ختم کے موقعہ پر جلسہ ہوا، اس میں ایک وہیں کے مدرس صاحب نے جلسہ کی تصاویر لیں، لوگوں کے منع کرنے پر اس نے بتایا کہ یہ ریل امام صاحب نے بھروائی ہے اور ان ہی کی اجازت سے تصویر لے رہا ہوں اور ایسا سب جگہ ہوتا ہے، الغرض اس نے ضد میں تصاویر کھینچیں اور خود ان امام صاحب کے مائیک پر آنے پر ان کی بھی تصاویرلیں، اس واقعہ کا ذکر کرکے کسی نے حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی سے سوال کیا تو اس کے جواب میں حضرت نے لکھا ہے کہ:
” تصویریں بنانا، خصوصاً مسجد کو اس گندگی کے ساتھ ملوث کرنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ اگر یہ حضرات اس سے علانیہ توبہ کا اعلان کریں اور اپنی غلطی کا اقرار کرکے الله تعالیٰ سے معافی مانگیں تو ٹھیک ہے، ورنہ ان حافظ صاحب کو امامت سے اور تدریس سے الگ کر دیا جائے۔ او ران کے پیچھے نماز ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے۔“ (آپ کے مسائل او ران کا حل:7/61)

اسی طرح علماء وبزرگان کی آئے دن اخبارات میں شائع ہونے والی تصاویر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :”تصویر بنانا اور بنوانا گناہ ہے؛ لیکن اگر قانونی مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنا پڑے تو امید ہے کہ مواخذہ نہ ہو گا۔ باقی بزرگان دین نے اوّل تو تصویریں اپنی خوشی سے بنوائی نہیں اور اگر کسی نے بنوائی ہوں تو کسی کا عمل حجت نہیں، حجت خدا اور رسول صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ( آپ کے مسائل:62/7)

ایک اور سوال کے جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :” فلم اور تصویر آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد سے حرام ہے اور ان کو بنانے والے ملعون ہیں۔ “( آپ کے مسائل:7/67)

پاکستان کے وزیر خاجہ سردار آصف احمد نے ایک بیان میں میں کہا تھا کہ :”اسلام میں رقص وموسیقی اور تصویر سازی پر کوئی پابند نہیں ہے۔ “اس کا رد کرتے ہوئے آپ نے اولاً ان امور کے بارے میں احادیث نقل کی ہیں، پھر لکھا ہے کہ : ”آں حضرت صلی الله عیہ وسلم کے ارشاد کے بعد سردار آصف احمد کا یہ کہنا کہ اسلام میں ان چیزوں پر کوئی پابندی نہیں، قطعاً غلط وخلاف واقعہ ہے اور ان کے اس فتوی کا منشا یا تو ناقص مطالعہ ہے یا خاکم بدہن صاحب شریعت صلی الله علیہ وسلم سے اختلاف ہے۔ پہلی وجہ جہل مرکب اور دوسری وجہ کفر خالص۔“ (آپ کے مسائل:7/76)

علماء کی تصاویر او ران کا ٹی وی پر آنا عوام کو یا تو بے چین کرتا ہے یا یہ کہ وہ اس سے اس کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے آپ سے جب اس سلسلہ میں علماء کے فعل کا حوالہ دیا تو جواب لکھا کہ:
”یہ اصول ذہن میں رکھیے کہ گناہ ہر حال میں گناہ ہے، خواہ ساری دنیا اس میں ملوث ہو جائے۔ دوسرا اصول یہ بھی ملحوظ رکھیے کہ جب کوئی برائی عام ہو جائے تو اگرچہ اس کی نحوست بھی عام ہو گی، مگر آدمی مکلف اپنے فعل کا ہے۔ پہلے اصول کے مطابق علماء کا ٹی وی پر آنا اس کے جواز کی دلیل نہیں، نہ امام حرم کا تراویح پڑھانا ہی اس کے جواز کی دلیل ہے ، اگر طبیب کسی بیماری میں مبتلا ہو جائیں تو بیماری بیماری ہی رہے گی ، اس کو صحت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ “( آپ کے مسائل:7/81)

ان فتاوی پر غور کیجیے کہ کیا ایک اختلافی مسئلہ پر کسی کوملعون کہنا اوراس کام کے ارتکاب پر امامت سے ہٹانے کی تجویز رکھنا، بلکہ اس کا فتوی صادر کرنا صحیح ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تویہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس مسئلہ کی وہ نوعیت نہیں جو اختلافی مسائل کی ہوتی ہے، بلکہ ان حضرات علماء کے نزدیک اس مسئلہ میں اختلاف غلط فہمی کا نتیجہ ہے، نہ یہ کہ اس کی بنیاد دلائل ہیں۔

مجوزین کی ایک لچر دلیل کاجواب
یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ موجودہ دور کے مجوزّینِ تصویر میں سے بعض کو سنا گیا کہ وہ دلیل جواز یہ دیتے ہیں کہ آج کل تصویر کا عام رواج ہوچکا ہے، کوئی محفل ومجلس اس سے خالی نہیں، عوام تو عوام ،علماء بھی لیتے ہیں، تو کب تک اس کو ناجائز کہتے رہیں؟ ابھی قریب میں ہمارے مدرسہ میں ایک مفتی صاحب کا ورود ہوا، میں تو سفر پر تھا، لہٰذا ملاقات نہیں ہوئی، دیگر اساتذہ کے درمیان انہوں نے یہ باتیں کہیں اور تصویر کو ناجائز کہنے والوں پر طنزوتعریض کی۔

اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو پھر تمام حرام کاموں کوجائزہو جانا چاہیے، کیوں کہ آج شراب بھی عام ہے، موسیقی وگانا بجانا بھی عام ہے، موبائل فون سے گانے بجانے کی ٹیون ہم نے علماء کو بھی رکھتے دیکھا ہے اور بے پردگی بھی عام ہے، سود وجوا بھی عام ہے او ررشوت خوری کا بھی خوب چلن ہے، بلکہ غور کرنا چاہیے کہ کون سا گناہ ایسا ہے جو آج کے معاشرے میں رواج نہیں پارہا ہے؟ لہٰذا یہ سب کے سب حرام کام اس لیے جائز ہو جانا چاہئیں کہ ان کا رواج عام ہو گیا ہے، لہٰذا کب تک اس کو حرام کہتے رہیں؟ لا حول ولا قوة الاّ بالله، اگر یہ مفتیانہ منطق چل جائے تو اسلام کا خدا ہی حافظ!

یہاں ان مفتی صاحب کی دلیل کے جواب میں صرف یہ بات کافی ہے کہ ہم حضرت اقدس مفتی محمد شفیع صاحب رحمة الله علیہ کے رسالہ”گناہ بے لذت“ سے ایک عبارت نقل کیے دیتے ہیں، بغور ملاحظہ کیجیے: حضرت لکھتے ہیں کہ:
”آج کل یہ گناہ اس قدر وبا کی طرح تمام دنیا پر چھا گیا ہے کہ اس سے پرہیز کرنے والے کو زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات ہیں، ٹوپی سے لے کر جوتے تک، کوئی چیز بازار میں تصویر سے خالی ملنا مشکل ہو گیا ہے، گھریلو استعمال کی چیزیں، برتن، چھتری، دیا سلائی، دواؤں کے ڈبے اور بوتلیں اخبارات ورسائل، یہاں تک کہ مذہبی اور اصلاحی کتابیں بھی اس گناہ عظیم سے خالی نہ رہیں، فالی الله المشتکی! اور غور کیا جائے تو ان میں سے اکثر حصہ تصاویر کامحض بے کاروبے فائدہ گناہ بے لذت ہے، مسلمان کو چاہیے کہ گناہ کے عام ہو جانے سے اس کو ہلکا نہ سمجھے، بلکہ زیادہ اہمیت کے ساتھ اس سے بچنے اور دوسرے مسلمانوں کو بچانے کی فکر کریں۔“ (گناہ بے لذت:52)

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب  جیسے اپنے زمانے کے مفتی بے مثال تو تصویر کے عام ہوجانے کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ : عام ہوجانے سے دھوکہ نہ کھائیں اور اس کو ہلکا نہ سمجھیں؛ بلکہ اس سے مسلمانوں کو بچانے کی فکر کریں اور یہ جدید الخیال وروشن خیال مفتی صاحب یہ کہتے ہیں کہ جب یہ عام ہو گئی تو اب حرام کو حرام نہیں؛ بلکہ حلال کہو۔ فیا للعجب!(بشکریہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.