جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

خواتین اُمّت کی تربیت او رہماری ذمہ داریاں

مولانا خالد سیف الله رحمانی

شعبان1440ھ کے کسی جمعہ کی بات ہے، جب میں شہر سے اپنی جائے قیام کو لوٹ رہا تھا، اس درمیان ایک خاتون کا فون آیا اور اپنا مدعا پیش کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں، وہ کہہ رہی تھیں: آپ لوگ جمعہ میں بیان کرتے ہیں اور اُن کو صرف مرد سنتے ہیں، عورتیں محروم رہتی ہیں، عیدین کے موقع سے عیدگاہ میں دین کی بات پیش کی جاتی ہے؛ لیکن عورتوں کے لیے اس سے استفادہ کی کوئی صورت نہیں ہوتی، آپ حضرات مدارس کے جلسے کراتے ہیں؛ لیکن سامعین صرف مرد ہوتے ہیں، سیرت کے جلسے ہوتے ہیں تو وہ بھی مردوں کے لیے ، دعوت وتبلیغ کے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں، ان میں بھی عورتوں کی شرکت نہیں ہو سکتی، غرض کہ دینی نقطہ نظر سے جتنے اجتماعات ہوتے ہیں، ان سے خواتین محروم رہتی ہیں، اگر کوئی ایسا پروگرام ہو، جس میں پیچھے کی طرف عورتوں کا انتظام ہو، تب بھی مقررین کی ساری گفت گو مردوں کو سامنے رکھ کر ہوتی ہے، خواتین کے مسائل اور اُن کی ضروریات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی، اس کے برخلاف خواتین چوں کہ تنہا گھر میں ہوتی ہیں اور ان کا وقت فارغ ہوتا ہے؛ اس لیے وہ مردوں سے زیادہ ٹی وی سیریل دیکھتی ہیں اور سوشل میڈیا پر آنے والے پروگراموں کو سنتی ہیں، جس میں اسی نوے فی صد غیر اخلاقی باتیں ہوتی ہیں کہ بیوی کے اندر شوہر کے خلاف اور بہو کے اندر ساس سسر کے خلاف بغاوت کے جذبات پیدا ہوں، یہ پروگرام ازدواجی زندگی میں تلخی کا سبب بنتے ہیں، لڑکیاں خاندان کوجوڑنے کے بجائے خاندان کو توڑنے کا ذریعہ بن رہی ہیں؛ اس لیے کہ خواتین دین کی باتوں سے واقف نہیں ہیں اور ایسے ایسے گناہوں میں مبتلا ہیں کہ جن کا تصور نہیں کیا جا سکتا، آخر آپ لوگ اپنی بہنوں کے بارے میں بھی تو کچھ سوچیں؛ ورنہ قیامت کے دن ہم آپ لوگوں کا دامن پکڑیں گے۔ یہ ان کی طویل گفت گو کا خلاصہ تھا، وہ بہت جذبات میں گفت گو کر رہی تھیں، میں نے عرض کیا:مختلف دینی جماعتوں اور تنظیموں سے میرا بھی کچھ تعلق ہے، میں ان کے ذمہ داروں کے سامنے آپ کی بات رکھوں گا اور ان شاء اللہ اس کی طرف توجہ کی جائے گی، کہنے لگیں :میں نے کئی علماء سے بات کی ہے؛ لیکن کہیں سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا، انھوں نے بات ختم کرتے کرتے یہ بھی خواہش ظاہر کی کہ آپ کا جمعہ کا کالم پورے ملک میں پڑھا جاتا ہے، آپ اس کالم میں بھی اس موضوع پر قلم اُٹھائیں، میں نے ان سے وعدہ کر لیا اور افسوس کہ آج کئی مہینوں بعد اس وعدہ کو وفا کرنے کی نوبت آرہی ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام نے ایسی کسی بھی شکل سے منع کیا ہے ، جس میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو، یہ ممانعت فطرتِ انسانی کا تقاضا اور سماج میں اخلاقی قدروں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتوں کو پوری طرح دینی باتوں سے محروم رکھا جائے، ان کی تعلیم وتربیت کا انتظام نہ کیا جائے، انہیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے ناواقف رکھا جائے، صورت حال یہ ہے کہ ہمارے اجتماعات میں ماں کے حقوق اور اس کے فرائض ان مردوں کے درمیان بیان کیے جاتے ہیں، جو باپ ہوتے ہیں، بیٹیوں کے حقوق وفرائض بیٹوں کے درمیان ذکر کیے جاتے ہیں، بہووں کی ذمہ داریاں داماد کے سامنے ذکر کی جاتی ہیں، نکاح وطلاق کے احکام کا بڑا حصہ عورتوں سے متعلق ہوتا ہے؛ لیکن ساری گفتگو مردوں کے مجمع میں ہوتی ہے، عبادات کے بہت سے احکام خواتین کے لیے مردوں سے الگ ہیں؛ لیکن مسائل صرف مردوں کے لحاظ سے بتائے جاتے ہیں، ازواج مطہرات، بنات طاہرات اور وفا شعار اور جاں نثارصحابیات کے بغیر سیرت نبوی کا مضمون مکمل نہیں ہو سکتا؛ لیکن خواتین کے لیے سیرت کے جلسے نہیں کیے جاتے کہ عورتیں سنیں اور سمجھیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک خواتین کے ساتھ کس قدر کریمانہ تھا، علماء کو، مسلم تنظیموں کو اور جماعتوں نیز دیگر مذہبی اداروں کو اس پر گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں یقینی طور پر ایسی تدبیر اختیار کرنی چاہیے کہ انسانیت کے نصف حصہ (جس کوآج کل نصف بہتر کہا جاتا ہے) تک ہم اسلامی تعلیمات کو پہنچانے کی کوشش کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خواتین مسجدوں میں نماز ادا کیا کرتی تھیں؛ کیوں کہ آج کی طرح فتنہ وفساد کا اندیشہ نہیں تھا، عورتوں کے لباس ڈھکے چھپے ہوتے تھے، لوگ نگاہوں ہی کی نہیں دلوں کو بھی برائی سے محفوظ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کا سلسلہ جاری تھا، آپ وقتاً فوقتاً نازل ہونے والی آیات کو نمازوں کے بعد پیش فرماتے تھے، ظاہر ہے کہ اللہ کی کتاب مردوں کے لیے بھی ہے اور عورتوں کے لیے بھی؛ اس لیے نمازوں میں ان کی شرکت کا انتظام کیا جاتا تھا، بعد کو اخلاقی بگاڑ اور بے حیائی کے رجحان کو دیکھتے ہوئے فقہاء نے عورتوں کے مسجد میں نماز ادا کرنے کو حرام اور ناجائز تو نہیں قرار دیا؛ لیکن کہا کہ یہ بہتر نہیں ہے اور ان کا یہ اجتہاد پوری طرح منشا نبوی کے مطابق تھا، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شب وروز کی رفیق اور مزاج شناس ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج کی عورتوں کو دیکھا ہوتاتو ان کو مسجد میں آنے سے منع کر دیا ہوتا۔

عہد نبوی میں عیدین کے موقع پر خواتین بھی عیدگاہ جاتی تھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم الگ سے ان کے درمیان وعظ فرماتے تھے، یہاں تک کہ عورتیں خیمہ لگا کر مسجد نبوی میں معتکف بھی ہوتی تھیں، آپ کا معمول مبارک روزانہ مغرب کے بعد اُن ام المومنین کے یہاں قیام کا تھا، جن کے یہاں آپ کی باری ہوتی تھی، یہیں دوسری ازواج مطہرات، صاحب زادیاں اور گھر کی خواتین جمع ہو جاتی تھیں، حسب ضرورت مہاجر اور انصاری خواتین بھی آیاکرتی تھیں اور کبھی براہ راست اور کبھی ازواج مطہرات کے واسطے سے اپنی ضرورت کے مسائل دریافت کرتی تھیں، خواتین بھی آپ کی مجلسوں سے استفادہ کیا کرتی تھیں، شاید اس لیے کہ آگے مرد ہوتے تھے، پیچھے عورتیں ہوتی تھیں یا اس بنا پر کہ مرد شرکاء کی تعداد زیادہ ہوتی تھی یا اس وجہ سے کہ مردوں کی آواز اونچی رہا کرتی ہوگی اور عورتوں کی آواز دب جاتی ہوگی یاشاید یہ سبب ہو کہ خواتین سے متعلق بعض مسائل کا مردوں کی مجلس میں پوچھنا مناسب نہیں ہوتا ، بہر حال جو بھی سبب ہو، عورتوں نے اس صورت حال کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ مرد ہم پر غالب آجاتے ہیں؛ اس لیے ہمیں ایک دن کا خصوصی وقت ملنا چاہیے؛ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جمعرات کا دن متعین فرما دیا، اس میں خواتین کا اجتماع ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خطاب فرماتے اور ان کے سوالات کا جواب دیتے، یوں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار ہر ایک کے لیے کھلا رہتا تھا، جہاں مرد حضرات آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، مسائل پوچھتے، اپنے اشکالات حل کرتے، وہیں خواتین بھی حاضری کی سعادت حاصل کرتیں؛ اسی لیے حدیث میں بہت سے ایسے سوالات کا ذکر ملتا ہے، جو عورتوں نے کیے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری توجہ کے ساتھ ان کا جواب عطا فرمایا ہے، اسی طرح کسی خاتون کو اپنے شوہر سے یا والد سے شکایت ہوتی تو وہ بے تکلف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنا دکھ رکھتی اور آپ ان کے مسائل کو حل کرتے، ایک لڑکی کی شادی اس کی پسند کے بغیر اس کے والد نے کر دی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ نے اس نکاح کو رد فرما دیا، حضرت ابو سفیان کی بیوی نے اپنے شوہر کے بخل کی شکایت کی اور آپ سے استفسار کیا کہ کیا میں ان کے مال میں سے چھپا کر کچھ لے سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری حد تک لینے کی اجازت دی، یہاں تک کہ خواتین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رشتہ کے بارے میں بھی مشورہ کیا کرتی تھیں، حضرت فاطمہ بنت قیس کے پاس کئی رشتے آئے، انھوں نے آپ سے مشورہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے حضرت اُسامہ کا رشتہ پیش کیا اور ان ہی سے نکاح ہوا، ایسا بھی ہوا کہ بعض خواتین کو ان کے شوہر پسند نہیں تھے، انھوں نے آپ کے سامنے اپنا معاملہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد سے خلع حاصل کیا، غرض کہ خواتین آپ کے مواعظ سے بھی استفادہ کرتی تھیں، آپ سے مسائل بھی دریافت کرتی تھیں، اپنی گھریلو زندگی کے سلسلہ میں بھی مشورہ کیا کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے خندہ پیشانی سے پیش آتے اور ہر ضرورت میں ان کی مدد فرماتے تھے۔

اس لیے خواتین ِ اُمّت کے سلسلہ میں اسی توازن کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کہ احتیاط بھی ہو، اختلاط سے اجتناب بھی ہو، شرعی حدود سے تجاوز نہ ہو؛ لیکن اُن تک دین کی باتیں پہنچائی جائیں، ان کے لیے خطبات ومواعظ رکھے جائیں اور ان کے لیے ایسا موقع بھی فراہم کیا جائے کہ وہ علماء کے سامنے اپنے مسائل کو پیش کر یں اور حسب ضرورت ان سے مشورے لے سکیں، وہ محسوس کریں کہ سماج کا نصف حصہ جو مردوں پر مشتمل ہے، جیسے ان پر توجہ دی جاتی ہے، دوسرے نصف پر بھی اسی طرح توجہ دی جاتی ہے؛ کیوں کہ عمومی طور پر جو فرائض وواجبات اور سنن ومستحبات مرد سے متعلق ہیں، عورتوں سے بھی متعلق ہیں؛ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان کے لیے علم حاصل کرنے کو ضروری قرار دیا:”طلب العلم فریضة علیٰ کل مسلم“ اس میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے، اسی طرح دین کی دعوت ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا حکم پوری امت کے لیے ہے، اس میں عورتیں بھی شامل ہیں؛ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خواتین کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی ہے، آپ نے فرمایا:جس کی تین بیٹیاں ہوں وہ ان کی تربیت کرے، ان کا نکاح کر دے اور ان کے ساتھ بہتر سلوک کرے، اس کا ٹھکانہ جنت ہے:”من عال ثلاث بنات فادبھن وزوجھن واحسن الیھن فلہ الجنة․“ (سنن ابی داود:7/459)بیٹی تو بیٹی ہے، آپ نے تو باندی کی بھی تعلیم وتربیت کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کے پاس کوئی باندی ہو، وہ اس کو تعلیم دے اور بہتر طور پر تعلیم دے، اس کی تربیت کرے اور بہتر طور پر تربیت کرے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا:”ایما رجل کانت عندہ ولیدة، فعلمھا فاحسن تعلیمھا، وادبھا فاحسن تادیبھا ، فلہ اجران․“ (بخاری عن ابی موسیٰ اشعری، حدیث نمبر: 4795)

دین کے بہت سے ادارے جو سادہ طریقہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قائم تھے، بعد کے ادوارمیں اصل مقصد کو قائم رکھتے ہوئے، اس کے لیے مناسب ِحال شکلیں اختیار کی گئیں، آپ کے عہد میں مسجد نبوی ہی میں تعلیم ہوتی تھی؛ لیکن بعد کے زمانے میں الگ سے مدرسے قائم کیے گئے اور غالباًعباسی دور سے مدرسوں کی الگ عمارتیں بننے لگیں، عہد نبوی میں مسجد ہی میں مقدمات کے فیصلے بھی کیے جاتے تھے، بعد میں محاکم شرعیہ کی مستقل عمارتیں بنائی گئیں، آپ کے عہد میں مسجد ہی میں قیدیوں کو ستونوں سے باندھ کر قید کی سزا دی جاتی تھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں باضابطہ جیلیں بنائی گئیں؛ اس لیے اس پر غور کیا جا سکتا ہے کہ عورتوں کے لیے مسجدوں کا متبادل فراہم کیا جائے، ہر مسلم محلہ میں ایک ایسا مرکز ہو جو خواتین کی تعلیم وتربیت کے لیے مخصوص ہو۔

موجودہ دور میں ہم بہنوں کے مسائل کو حل کرنے اور ان تک دین کا پیغام پہنچانے کے لیے درج ذیل تدبیریں اختیار کر سکتے ہیں:
ان مراکز میں عورتوں کے لیے ہفتہ وار درس قرآن اور درس حدیث کا انتظام کیا جائے، شرعی مسائل کا درس بھی رکھا جائے، جس میں ضروری مسائل بیان کیے جائیں، اب تو ماشاء اللہ لڑکیوں کے مدرسوں میں بھی افتاء کے شعبے قائم ہیں، ان کی معلمات وفاضلات کی بھی خدمات حاصل کی جائیں؛ تاکہ عورتیں بے تکلف اپنے مسائل ان کے سامنے رکھ سکیں، موجودہ حالات میں اتوار کا دن اس کے لیے زیادہ مناسب ہوگا۔

رمضان المبارک، عیدین، شب قدر کی مناسبتوں سے خواتین کے لیے دن کے وقت پروگرام رکھے جائیں اور ان مذہبی تقریبات کی روح ان پر پیش کی جائے۔

سیرت کے خصوصی جلسے خواتین کے لیے کیے جائیں۔

اسی مرکز میں خاندانی تنازعات کے لیے کاونسلنگ کا شعبہ رکھا جائے اور کاونسلنگ میں تجربہ کار تعلیم یافتہ خواتین کو بھی شامل کیا جائے۔

گرما کی تعطیلات میں خواتین کے لیے خصوصی کلاسز اور مذاکراے رکھے جائیں اور ان کلاسزکو ناظرہ قرآن اور دعاوں کے یاد کرنے تک محدود نہ کیا جائے؛ بلکہ عقائد، عبادات، معاشرت اور اخلاق چاروں شعبوں کی تعلیم دی جائے۔

یوں تو ویسے بھی خواتین امت کا نصف حصہ ہیں؛ اس لیے ہر سطح پر ان کے لیے تعلیم وتربیت کا پروگرام ہونا چاہیے؛لیکن موجودہ حالات میں چوں کہ خواتین کے نام سے اور ان کے حقوق کے حوالے سے اسلام کو بدنام کرنے اور شریعت کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں؛ اس لیے اس کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.