جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

قانون نصرت

مولانا محمد ادریس ندوی

آج مسلمان جس نازک دور سے گزر رہے ہیں اور اضطراب وپریشانی کی جو کیفیت ان پر طاری ہے اس کے پیش نظراگر خدا کی امداد کے کچھ گزشتہ واقعات ان کو یاد آرہے ہیں اور آج بھی ان کو خدا کی مدد کا انتظار ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن الله تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا قانون مقرر ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ الله تعالیٰ کے قانون نصرت پر غور کیا جائے، تاکہ ہم اپنے کو خدا کی امداد واعانت کا اہل بنا سکیں اور تائید الہی کی دولت سے سرفراز ہوں۔

”نصر“ کے معنیٰ ”مدد کرنے“”غالب کرنے“ کے ہیں۔ خاص طور سے مظلوم کی امداد کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ الله تعالیٰ کے لیے قرآن مجید نے اسم پاک ”نصیر“ کا استعمال کیا ہے۔ الله تعالی کے نصیر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ امداد واعانت ان کی ایسی صفت ہے جو ہر لحظہ ان کے ساتھ ہے، وہ ہمیشہ سے نصیر تھے، اب بھی نصیر ہیں اور ہمیشہ نصیر رہیں گے۔ نصیر کے یہ معنی پیش نظر رکھنے سے اندازہ ہو گا کہ بے شبہ تنہا وہی ایک ایسی ذات ہے جو صحیح معنی میں نصرت فرماسکتی ہے، اسی کی نصرت اعتماد او ربھروسہ کے لائق ہے، بقا اور دوام اسی کی اعانت کو حاصل ہے جو اس کی نصرت سے سرفراز ہوا، اس کو اب نہ کسی اضطراب کی ضرورت ہے اور نہ کسی دوسرے کی مدد کی حاجت ہے، ارشاد فرمایا :﴿وَکَفَیٰ بِاللَّہِ نَصِیرًا﴾ (نساء)․ ترجمہ:” اور الله کافی مدد گار ہے۔“

اب سوال یہ ہے کہ الله کی نصرت سے سرفراز ہونے کا شرف کس طرح حاصل ہوتا ہے؟ اس سلسلے میں پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ خدا کی امداد واعانت کے اصلی مستحق وہی لوگ ہوسکتے ہیں جنہوں نے اس کی اطاعت وانقیاد کا اقرار کیا ہے اور ا سکی دعوت حق پر لبیک کہا ہے، ارشاد ہوا:﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الْأَشْہَادُ﴾․(سورہ غافر،آیت:51)
ترجمہ:” ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور جس دن کھڑے ہوں گے گواہ“۔

﴿وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ﴾․(سورہ روم،آیت:47)
ترجمہ:” ایمان والوں کی مدد کرنا ہم پر حق ہے۔“

معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر خدا کی نصرت کا تصور عبث ہے اور اسی طرح ایمان کے بعد خداکی نصرت سے مایوسی حرام ہے ۔ ارشاد ہوا:﴿مَن کَانَ یَظُنُّ أَن لَّن یَنصُرَہُ اللَّہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَی السَّمَاء ِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنظُرْ ہَلْ یُذْہِبَنَّ کَیْدُہُ مَا یَغِیظُ﴾․(سورہ حج،آیت:15)
ترجمہ:” جس کو یہ خیال ہو کہ ہر گز مدد نہ کرے گا اس کی الله دنیا میں اور آخرت میں توتانے ایک رسی آسمان کو اور پھر کاٹ دے، اب دیکھے کچھ گیا اس کی تدبیر سے اُس کے جی کاغصہ؟“

اہل تفسیر کی ایک جماعت کے نزدیک اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ جو شخص خدا کی مدد سے ناامید ہے وہ خیال کرے کہ جیسے ایک شخص اونچی لٹکتی ہوئی رسی سے لٹک رہا ہے۔ اگر اوپر چڑھ نہیں سکتا تو اس کی توامید ہے کہ رسی اوپر کو کھینچے اور چڑھ جائے۔ لیکن اگر رسی ہی توڑ دی تو پھر اوپر چڑھنے کی کیا توقع ہو سکتی ہے ؟ اسی طرح خدا سے امید کا رشتہ توڑ دینے کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

حاصل یہ ہے کہ اہل ایمان کو خدا کی امداد پر یقین کامل رکھنا چاہیے اور ان کے دل میں خدا کی نصرت کی طلب اور خواہش پیدا ہونی چاہیے۔اس کے لیے سراپا تمنا اور انتظار بن جانا چاہیے، الله تبارک وتعالی نے اہل ایمان کوجنت کی بشارتیں سناتے ہوئے ان کی نصرت خدا وندی کے لیے تڑپ اور بے چینی کو ان الفاظ میں ظاہر کیا۔﴿وَأُخْرَیٰ تُحِبُّونَہَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّہِ وَفَتْحٌ قَرِیبٌ ﴾․ (سورہ صف،آیت:13)
ترجمہ:” او رجنت کے علاوہ دوسری وہ چیز تم کو دے گا جس کی تم کو چاہت ہے۔ مدد الله کی اور قریبی فتح۔

خدا کی نصرت کے ساتھ یہ قلبی تعلق دعا کی صورت میں بھی ظاہر ہونا چاہیے اور پورے آداب کے ساتھ الله تعالیٰ سے اس کے لیے درخواست اور التجا کرنی چاہیے، قرآن مجید کا بیان ہے کہ اہل ایمان خدا سے عرض کرتے ہیں:﴿أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ﴾․(سورہ بقرہ، آیت:286) ترجمہ:” توہی ہمارا آقا ہے، تو مدد کر ہماری کافروں کے مقابلہ میں۔“

﴿وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ إِلَّا أَن قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِی أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ ﴾․(سورہ آل عمران:147)
ترجمہ:” اور ان کا کہنا تو بس اتنا ہی تھا ، اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو اور ہمارے باب میں ہماری زیادتی کو بخش دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور ہم کو کافروں پر غالب رکھ۔“

بدر کے موقع پر حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم اور خود مسلمانوں نے جس طرح بارگاہ خداوندی میں فریاد اور امداد کی دعا کی ہے اس درخواست کا نقشہ قرآن مجید نے ان الفاظ میں کھینچا ہے:﴿إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِکَةِ مُرْدِفِینَ﴾․(سورہ الانفال:9)
ترجمہ:” او راس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے، پھر اس نے تمہاری فریاد سن لی، (اور فرمایا) کہ میں تمہیں ایک ہزار یکے بعددیگرے آنے والے فرشتوں سے مدد دوں گا۔“

اس موقع پر خود حضور صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ رب العزت میں الحاح وزاری بھی یاد کرنے کے لائق ہے او راگر گوش حقیقت نیوش ہو تو بدر کی فضا میں اب بھی یہ مناجات سنی جاسکتی ہے۔

”اے میرے پروردگار! اپنا وعدہ پورا فرما، خدا وندا! اگر یہ مٹھی بھر انسان تباہ ہو گئے تو قیامت تک تیری پرستش نہ ہو گی۔“

پھر معاملہ محض تمنا، طلب اور دعا ہی پر نہیں ختم ہو جاتا، بلکہ جس سلسلہ میں ہم امداد خدا وندی کے طلب گارہیں، اس کے لیے بقدر طاقت وہمت جدوجہد بھی کرنی چاہیے۔ خصوصاً دین کے راستے میں جدوجہد اور سعی وکوشش نصرت خدا وندی کے حصول کا خاص وسیلہ وذریعہ ہے۔ ارشاد فرمایا: ﴿وَلَیَنصُرَنَّ اللَّہُ مَن یَنصُرُہُ ﴾․(سورہ حج:40)

آج مسلمانوں کے دلوں میں خام خیالی کی وجہ سے یہ خواہش پیدا ہے کہ انہیں اپنی جگہ سے حرکت بھی نہ کرنا پڑے اور خدا کی آسمانی مدد ان پر سایہ فگن ہو جائے۔ یہ انتہائی خطرناک غلطی ہے۔ قرآن مجید نے نصرت خداوندی کے جتنے بھی واقعات سنائے ہیں ان پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ خدا کی نصرت نے اہل ایمان کی دست گیری اسی وقت فرمائی جب انہوں نے اپنے کو اس کی راہ میں پیش کر دیا۔

مسلمانوں کو اگلے اہل ایمان کے حالات سناتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَأْتِکُم مَّثَلُ الَّذِینَ خَلَوْا مِن قَبْلِکُم مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَاء ُ وَالضَّرَّاء ُ وَزُلْزِلُوا حَتَّیٰ یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ مَتَیٰ نَصْرُ اللَّہِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّہِ قَرِیبٌ﴾․(سورہ بقرہ،آیت:214)
ترجمہ:” کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں پہنچ جاؤ گے درانحالیکہ ا بھی تک تم پر اگلے بندگان خدا کے سے حالات نہیں آئے، آئیں اُن پر سختیاں اور تکلیفیں اور وہ ہلاڈالے گئے، یہاں تک کہ کہنے لگے رسول اور ان کے ایمان والے ساتھی کہ کب آئے گی الله کی مدد؟ معلوم ہونا چاہیے کہ الله کی مدد قریب ہے۔“

ظاہر ہے کہ نصرت خدا وندی کی یہ بشارت محلوں کے آراستہ گھروں میں غفلت کی زندگی گزارنے والوں کو او رمحض دنیاوی عیش وعشرت میں مست وسرشار رہنے والوں کو نہیں سنائی گئی، بلکہ یہ خوش خبری ان لوگوں کو دی گئی جو ابتلا وآزمائش کی کٹھن منزلوں سے گزرے، مگر ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ ہوئی۔ اگر زحمتیں پیش آئیں تو ان کو برداشت کیا اوراگر خدانے دنیاوی سکون وطمانینت نصیب فرمائی تو اس سے بھی انہوں نے رضائے حق کی جستجو کا کام لیا، سورہٴ انعام میں صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اے نبی کریم (صلی الله علیہ وسلم)! آپ سے پیشتر پیغمبروں کو جھٹلایا گیا اور ان کو تکلیفیں دی گئیں۔ مگر وہ ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ ہماری امداد ان کے پاس آگئی۔

﴿وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِکَ فَصَبَرُوا عَلَیٰ مَا کُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّیٰ أَتَاہُمْ نَصْرُنَا ﴾․(سورہ الانعام:34)
ترجمہ:” اور تم سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے گئے، پس وہ جھٹلانے پر صبر کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کوہماری مدد پہنچی۔“

بدر کے موقع پر خدا کی مدد مسلمانوں کے پاس مدینہ طیبہ میں نہیں آئی، بلکہ بدر کے میدان میں وہ خدا کی نصرت سے سرفراز ہوئے۔ وہ کمزور تھے، بے سروسامان تھے، جس حال میں بھی تھے دین کی پکار پر حاضر ہو گئے۔ ارشاد ہوا:﴿وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللَّہُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ﴾ترجمہ:” الله تمہاری مدد بدر میں کرچکا ہے اور تم کمزور تھے۔“

راہ حق پر صبر وثبات اور جدوجہد کے لیے قرآن مجید نے ایک نقشہ پیش فرمایا ہے جس کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مقصود کو پانے کے لیے انسانوں کو کن منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے او رمحض تمنا اور آرزو، مقصد میں کام یابی کے لیے کافی نہیں ہوا کرتی۔ ارشاد فرمایا:﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ﴾․(آل عمران:200)
ترجمہ:” اے ایمان والو! صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوطی سے جمے رہو اور لگے رہو اور الله سے ڈرتے رہو، تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو۔“

اس آیت کا پہلا حکم ہے ”اصبروا… صبر کرو“

صبر روکنے اور سہارنے کو کہتے ہیں، تحمل برداشت کی یہ قوت جب صحیح مواقع پر استعمال کی جائے اس کو صبر کہیں گے۔

اس آیت میں صبر کا مفہوم یہ ہے کہ تن آسانی اور نفس پر وری کے جذبات کو دبا کر میدان عمل میں آنا چاہیے اور اس پر جمنا چاہیے۔

دوسرا حکم ہے:” صابروا…اور مقابلہ میں مضبوط رہو۔“

قرآن مجید نے صابروا کا عجیب جامع لفظ استعمال کیا ہے ۔ مقابلہ میں مضبوط رہنے کا حکم تو دیا، مگر مقابلہ کی کوئی صورت متعین نہیں فرمائی، اس جامعیت کا فائدہ یہ ہے کہ مخالف جس سمت سے بھی اسلام او رمسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہے ،ہم کو حکم ہے کہ ہم مضبوطی سے اس کا مقابلہ کریں۔

ہوسکتا ہے کہ دشمن اسلام اور مسلمانوں کو زیرکرنے کے لیے جنگ کا سامان کرے یا مسائل دینیہ پر حملہ کرے، اسلامی تہذیب کو برباد کرنے یا مسلمانوں کے اندر افتراق پیدا کرنے کی کوشش کرے… غرض جو صورت بھی ہو تم کو پامردی کے ساتھ مقابلہ میں جمنا چاہیے، الله تعالیٰ جزائے خیر دیں امام رازی کو، انہوں نے صراحتاً اس مفہوم کو اپنی تفسیر میں لکھ دیا، ارشاد فرمایا:”مصابرة میں جہاد اور اسی طرح اہل باطل کے شکوک وشبہات کا ازالہ بھی داخل ہے“۔

صابروا کا ایک مطلب اہل تفسیر نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اہل باطل، کے سلسلہ میں جو زحمتیں برداشت کرتے ہیں تم حق کے سلسلہ میں مشقتوں کو برداشت کرنے میں ان سے کم نہ رہو۔

آج دنیا میں علم وعمل، تہذیب واخلاق او رمعاملات، غرض ہر شعبہٴ زندگی میں خدا سے بے تعلقی کا رحجان کس قدر بڑھ گیا ہے اور چوں کہ حقیقتاً ان تمام امور میں خداوندی پیامات کا صحیح حامل اسلام ہی ہے، اس لیے ان تمام حملوں کی زد براہ راست اسلام ہی پر پڑتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اہل باطل جس عزم وارادہ اور قوت کے ساتھ باطل کی حمایت میں سرگرم عمل ہیں کیا ہم حق کی حمایت میں کسی طرح بھی ان سے پیچھے رہ جائیں؟ باطل کی راہ میں لوگ جو پریشانیاں اٹھاتے ہیں کیا ہم صداقت کی راہ میں ان مصائب کو نہیں برداشت کرسکتے؟ ظاہری مشکلات، مادی پریشانیاں اور وقتی مصیبتیں ہم کو مایوس اور پست ہمت نہ بنا دیں، بلکہ اسلام کی حمایت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے ہم کو پورے استقلال اور پامردی کے ساتھ میدان عمل میں آنا چاہیے۔ صابروا کا یہی مفہوم ہے۔

تیسرا حکم ہے:”ورابطوا یعنی لگے رہو۔“ ربط عربی زبان میں باندھنے کو کہتے ہیں۔ مرابط ان لوگوں کو کہتے ہیں جو تحفظ کی غرض سے دشمن کے حملے کا جواب دینے کے لیے ہر وقت سرحدوں پر تیار رہتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس آیت کے پہلے ٹکٹرے میں مسلمانوں کو صبر وثبات کا حکم دیا۔ دوسرے ٹکڑے میں صبر وثبات میں مضبوط رہنے اور دشمن پر غلبہ پانے کا حکم دیا، اب فرمایا گیا کہ ان دونوں صورتوں میں اصبروا اور صابروا میں مرابط کی شان ہونی چاہیے، جس طرح مرابط کسی وقت غافل نہیں ہوسکتا، سرحد کو چھوڑ نہیں سکتا، اپنے تحفظ اور دشمن کے جواب کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو دین پر عمل کرنے اور اس کی حمایت میں مرابط کی شان اختیار کرنی چاہیے۔ نفس وشیطان ہمارے ایمان وعمل میں رخنہ اندازی نہ کرسکیں اور اعدائے دین کے حملوں کے جواب کے لیے ہم ہر وقت مستعداد رہوشیار رہیں۔

چوتھا حکم ہے:”واتقواالله…اور خدا سے ڈرتے رہو۔“

یعنی اصبروا، صابروا اور رابطوا کی منزلوں میں تقوی کا لحاظ رہے، ان چیزوں کا مقصود بھی حصول تقویٰ ہو اور ان چیزں کے برتنیمیں بھی تقویٰ پیش نظر رہے۔ اچھی سے اچھی تحریک ہو اور بہتر سے بہترپروگرام ہو ،اگر اس کے چلانے اور برتنے میں صحیح طریقے نہیں اختیار کیے جاتے ہیں تو نتائج خراب نکلتے ہیں اس لیے مسلمان کی زندگی، وہ انفرادی ہو یا اجتماعی تقویٰ سے رنگین ہونی چاہیے اس کی ابتدا بھی تقوے سے ہو اور انتہا بھی تقویٰ ہی پر ہو۔ یہ وہ مراحل ہیں جن کے طے کرنے کے بعد:”لعلکم تفلحون… تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو۔“ کی منزل آتی ہے۔

غور کیجیے کہ اس آیت کے پہلے مخاطب صحابہٴ کرام رضی الله عنہم اجمعین ہیں، جو مکہ کا عہد ستم گزار کر مدینہ منورہ (صلی الله علی صاحبہا) آچکے ہیں اور راہ حق میں بے نظیر قربانیاں پیش کرچکے ہیں۔ فقر وفاقہ ، سب وشتم، قید وبند، زدوکوب اور جلاوطنی ان میں سے وہ کون سی آزمائش ہے جس میں یہ الله کے بندے پورے نہیں اترے۔ مگر قرآن مجید انہیں کو مخاطب فرماکر کہتا ہے کہ اگر منزل مقصود تک پہنچنا ہے تو ان چاروں چیزوں کو اختیار کرو۔

جب حضرات صحابہ کرام رضو ان الله علیہم اجمعین جیسے بلاکشان اسلام کو اس آیت کا مخاطب اوّل بنایا گیا تو اب فیصلہ آسان ہے کہ ہمارے لیے ان اصولوں کا لحاظ کس درجہ ضروری ہے۔والله ولی التوفیق!



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.