جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمة الله علیہ

مولانا سیّد ابوالحسن علی حسنی

مولانا کا چوتھا بڑا وصف ان کی آدمیت او رانسانیت ہے، آدمیت ایک خاص لفظ ہے اور خاص معنی میں بولا جاتا ہے، معمولی بات نہیں #
        آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

حضرت مرزا مظہر جان جاناں جب کسی کی بڑی تعریف کرتے تو فرماتے ”وہ نسخہٴ آدمیت“ ہے۔ ایک شخص کی وفات ہوئی تو فرمایا”مردندوآدمیت بخاک بردند“ آج مولانا کے بارے میں بھی یہی جملہ بجا طور پر دوہرایا جاسکتا ہے مولانا کی اس صفت وخصوصیت کا اندازہ ان کے مکارم اخلاق سے ہوتا ہے، دوسروں کو، حتی کہ معاندین ومخالفین تک کو نفع پہنچانے کی کوشش کرتے، خود تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں، لیکن دوسروں کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کی فکر کر رہے ہیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ کوئی مہمان تھکا ماندہ کہیں سے آیا ہو ا رات کو سورہا ہے اور مولانا اس کے پیر دبا رہے ہیں، مہمان کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ یہ پیردبانے والے مولانا ہو سکتے ہیں اور یہی نہیں، جنہوں نے ان کو تکلیفیں پہنچائیں، مولانا نے ان کے ساتھ سلوک واحسان کیا اور ہمیشہ نفع رسانی اور خدمت کی فکر میں رہتے او رجب بھی او رجس طرح بھی موقع ملا ہے اس کو آرام ونفع پہنچایا ہے، دوسروں سے اگر اس کو کام پڑا ہے تو سفارش کی ہے، خود جاسکے تو جاکر کی ہے، پیغام کے ذریعہ سے ممکن ہو تو پیغام بھیجا ہے ،جس کے جیسے حقوق ہوتے اور جس کا جیسا مرتبہ ہوا اور جس کو جیسی ضرورت ہوئی اسی کے شایان شان پورا کیا ہے ، براہ راست ان مخالفین کو ضرورت پڑی تو ان کی ضرورت پوری کی اور اگر ان کے عزیزوں میں سے کسی کو ضرورت ہوئی ہے تو ان کی کار براری کی او ران کے واسطے سے اپنے ان معاندین کی راحت رسانی کی، انہوں نے اپنے مخالفین ومعاندین کو معاف بھی کیا، ان کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے، ان کا عمل وہ تھا جو کسی عارف نے کہا ہے #
        ہر کہ مارا یار نہ بود ایزد اورا یار باد
        ہر کہ مارا رنج دادہ راحتش بسیار باد
        ہر کہ در راہ منم خار نہد از دشمنی
        ہر گلے کز باغ عمرثں بشگفد گلزار باد

ہماری آپ کی بدقسمتی تھی کہ ہم نے جانا نہیں کہ وہ کیسے باطنی مراتب پر فائز تھے! اس کا اندازہ وہی کرسکتے ہیں جو اس کوچہ سے واقف ہوں، اور جو اس کا احساس رکھتے ہوں، وقت کے عارفین واہل نظر کی زبان سے میں نے ان کے لیے بڑے بلند کلمات سنے ہیں اور ان سب کو ان کی عظمت وبلندی کا معترف او ران کی مدح وتوصیف میں رطب اللسان پایا ہے، مولانا اپنے زمانہ میں ڈاکٹر اقبال کے ان اشعار کا کامل نمونہ ومصداق تھے #
        سر دیں مارا خبر اورا نظر
        او درون خانہ ما بیرون در
        ما کلیسا دوست ما مسجد فروش
        او زدست مصطفی پیمانہ نوش
        ماہمہ عبد فرنگ او عبدہ
        او نگنجد در جہاں رنگ وبو

ڈاکٹر نے کبھی کہا تھا #
        یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
        یا خاک کی آغوش میں تسبیح ومناجات

مولانا کا عمل پہلے مسلک پر تھا، یہ واقعہ ہے کہ وسعت افلاک میں مولانا کی زندگی تکبیر مسلسل تھی۔

یہ میں کہوں گا کہ مولانا معصوم نہیں تھے، ایسا نہیں کہ ان سے کوئی غلطی نہ ہوئی ہو، ضروری نہیں کہ ان کی تمام سیاسی اور اجتہادی آراو نظریات میں ان سے اتفاق کیا جائے، لیکن یہ میں ضرور کہوں گا کہ جو کچھ انہوں نے کہا یا کیا محض رضائے الہی اور حمیت دینی میں، ان کے لیے کوئی دنیاوی محرک یا مصلحت نہ تھی۔

مولانا کا چھٹا بڑا وصف ان کا اپنے بزرگوں، اساتذہ اور شیوخ سے عاشقانہ تعلق ہے، واقعہ یہ ہے کہ یہ ان کی شخصیت کی کنجی ہے او ران کی ساری زندگی او راس کے اہم اور عظیم واقعات کا راز یہ ہے، یہ چیز ایسی تھی جو ان کے رگ وپے میں سرایت کر گئی تھی، ان کا یہ تعلق ان کو بعض ایسی چیزوں پر آمادہ کر دیتا تھا جوان کے عام اخلاق وصفات کے خلاف ہوتیں اور بعض دفعہ سمجھ میں نہ آتیں کہ یہ کیسے ہوا؟ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گی کہ مولانا اپنی بڑی سے بڑی توہین اور اذیت برداشت کرسکتے تھے، مگر اپنے اکابر واسلاف اور شیوخ واساتذہ کی تنقیص اور ان کا استخفاف برداشت نہ کرسکتے تھے، بعض مرتبہ یہ چیز ان کی شدید بیزاری ومخالفت کا سبب بن جاتی، آخر میں اپنے اسلاف کی امانت کی حفاظت او ران کے نقش قدم پر چلنے او ران کے مسلک پر قائم رہنے کا جذبہ بہت شدید ہو گیا تھا اور وہ اس راستہ سے بال بھرہٹنا گوارا نہیں کرتے تھے ،اسی طرح سے خلاف شریعت فعل کے دیکھنے کا تحمل نہیں رہا تھا اور یہ تاثر ان کے عام اخلاق پر بھی غالب آگیا تھا۔

مولانا کا ایک بہت بڑا کارنامہ، جس کی اہمیت کا احساس بہت کم لوگوں کو ہے، یہ ہے کہ 47ء کے ہنگامہ میں اور اس کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کے بقا وقیام کا ایک بڑا ظاہری سبب مولانا ہی کی ہستی تھی، یہ وہ وقت تھا کہ جب بڑے بڑے کوہ استقامت جنبش میں آگئے، سب یہی سمجھتے تھے کہ اب ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں، مسلمانوں کی تاریخ میں دوہی چار ایسے دور گزرے ہیں جب مسلمانوں کی اور اسلام کی بقاء کا سوال آگیا ہے، 47ء کا ہنگامہ ہندوستان کے مسلمانوں کے حق میں اسی نوعیت کا تھا، اصل مسئلہ سہارن پور کے مسلمانوں کا تھا، سارا دار ومدار ان پر تھا، یہ اپنی جگہ چھوڑتے تو یو،پی کے مسلمانوں کے قدم لغزش میں آجاتے اور سہارن پور کے مسلمانوں کا انحصار سارا کا سارا دو ہستیوں حضرت مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوری رحمة الله علیہ اور حضرت مولانا مدنی پر تھا، اس وقت مسلمانوں کی قسمت کا فیصلہ جمنا کے کنارے ہونا تھا لیکن یہ دو صاحب عزم مجاہد بندے وہاں جمے رہے اور انہوں نے گھٹنے ٹیک دیے، ایک رائے پور کی نہر کے کنارے بیٹھ گیا او رایک دیوبند میں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ رائے پورودیوبند مشرقی پنجاب کے ان اضلاع سے، جہاں کشت وخون کا ہنگامہ گرم تھا، متصل ہیں، لیکن یہ الله کے بندے پورے عزم واستقلال کے ساتھ جمے رہے اور انہوں نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ اسلام کو یہاں رہنا ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا مسلمانوں کا یہاں سے نکلنا صحیح نہیں، اگر تم مشورہ چاہتے ہو تو ہم مشورہ دیتے ہیں او راگر فتوے کی ضرورت ہے تو ہم فتوی دینے کو تیار ہیں کہ یہاں سے اس وقت مسلمانوں کا نکلنا درست نہیں، اس وقت جو ہندوستان میں اسلام ومسلمان قائم ہیں یہ انہیں بزرگوں کا احسان ہے، ہندوستان میں اس وقت جو مسجدیں قائم ہیں او ران میں جو نمازیں پڑھی جارہی ہیں اور پڑھی جاتی رہیں گی، یہ ان کا طفیل ہے، ہندوستان میں جتنے مدرسے اور خانقاہیں قائم ہیں او ران سے جو فیوض وبرکات صادر ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، انہیں کے رہین منت ہوں گے اور اس سب کا ثواب ان کے اعمال نامے میں لکھا جاتا رہے گا، اس سلسلہ میں مولانا حسین احمد صاحب نے سارے ملک کا دورہ بھی کیا، ایمان آفریں اور ولولہ انگیز تقریریں کیں او راپنے ذاتی اثر ورسوخ، اپنی تقریروں اور خود اپنے طرز عمل سے مسلمانوں کو اس ملک میں رہنے، اپنے ملک کو اپنا سمجھنے اور حالات کا مقابلہ کرنے پر آمادہ کیا۔

یہ بات میں اور واضح کر دوں کہ مولانا کے بارے میں لوگوں کو یہ بڑا مغالطہ ہے کہ وہ موجودہ حالات سے کلی طور پر مطمئن تھے، قریب کے لوگ جانتے ہیں کہ مولانا کے سینہ کے اندر کیسا درد وسوز، کیسے اسلامی جذبات اورکیسی دینی حمیت موج زن تھی او ران کے اندرونی احساسات کیا تھے، مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ ان کو مولانا کے ان جذبات او راندرونی احساسات اور امت اسلامیہ اور اس کے مسائل کے ساتھ گہرے تعلق اور درد وسوز کا اندازہ نہ ہو سکا او رمولانا کی زندگی کا یہ پہلو جتنا روشن او رمعروف ہونا چاہیے تھا روشن اور عام طور پر معروف نہ ہو سکا،آزادی کے بعد جو خلاف توقع حالات وتغیرات اس ملک میں پیش آئے ، انہوں نے مولانا کی طبیعت کو بہت افسردہ کر دیا تھا، ان کی عمر کا بہترین زمانہ او ران کی بہترین قوتیں انگریزی حکومت کا مقابلہ کرنے میں صرف ہوچکی تھیں اور اس معرکہ میں وہ کام یاب ہو چکے تھے، اب ان کی ضعیفی افسردگی اور بے تعلقی کا زمانہ تھا، آخر میں ان کی تقریروں کا موضوع اور دعوت صرف ذکر کی تلقین کرنا، خاتمہ کی فکر کی طرف متوجہ کرنا، تعلق مع الله اور ایمان بالله کو مضبوط سے مضبوط کرنا، دینی شعائر کا احیاء اور سنت نبویہ کی کثرت سے ترویج اور اشاعت رہ گئی تھی۔ انہوں نے نے اپنے عالی مرتبہ شیوخ واساتذہ سے تعلق مع الله، استقامت علی الشریعت اور باطنی مشغولیت کی جو دولت حاصل کی تھی، تمام اسفار ومشاغل وہجوم خلائق، درس وتدریس کی مصروفیت اور آخر میں علالت کی شدت میں بھی وہ اسی میں مشغول تھے اور روز بروز ہر چیز پر غالب آتی جارہی تھی، زندگی کے آخری ایام تک نماز کھڑے ہو کر اور باجماعت ادا کی، یہ ناچیز آخری بار 25 نومبر کو، یعنی وفات سے صرف گیارہ روز پہلے حاضر ہوا، سخت تکلیف اور بے حد ضعف تھا، یہ وہی دن تھا جس دن ڈاکٹر صاحب نے تفصیلی معائنہ کرکے یہ کہا تھا کہ مولانا صرف اپنی قوت ارادی سے زندہ ہیں اور ہمارا فن اس علالت کے سامنے ناکام ہے، اس روز بھی مولانا نے ظہر کی نماز کھڑے ہو کر او رباہر آکر جماعت کے ساتھ ادا کی۔ مولانا کی خدمت میں جب حاضری ہوئی تو پوری بشاشت اور استقلال کے ساتھ گفت گو فرمائی، ایک کتاب کے پہنچنے کا ذکر کیا، میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہوتا کہ علالت وضعف اس درجہ تک پہنچ گیا ہے تو کبھی اس کے پیش کرنے کی جرات نہ کرتا، فرمایا کیوں؟ میں نے تو کئی صفحات کا مطالعہ کیا اور نفس کتاب ہی بڑی نعمت ہے، اسی مجلس میں ایک مخلص نے، جو باہر سے ملنے آئے تھے، روتے ہوئے کہاکہ دنیا خالی ہوتی جارہی ہے، فرمایا نہیں، دنیا میں بہت لوگ ہیں! انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں دوسروں سے کیا تعلق؟ فرمایا ہمیں تو امت محمدی سے تعلق ہے۔

مولانا نے امت محمدی کی خدمت میں اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، انہوں نے اپنے الله سے جو وعدہ کیا تھا اور اپنے اسلاف سے جو امانت اور ذمہ داری پائی تھی اس کو پورا کرگئے، ان کو نہ ستائش کی تمنا ہے، نہ صلہ کی پروا، نہ مدح وتوصیف کا انتظار ہے، نہ ناسپاسی اور ناشناسی کا گلہ، وہ مسلمانوں کو خطاب کرکے کہہ سکتے ہیں۔
        فقیرانہ آئے صدا کر چلے
        میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
        جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
        سو اس عہد کو ہم وفا کر چلے



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.