جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

دورِ آزمائش اور اسلامی تعلیمات

مولانا محمد غیاث الدین حسامی

اس دنیا کے اندر ہر انسان کی کتاب ِ زندگی میں آزمائش اور مصیبت کا لفظ ضرور لکھا ہوا ہوتا ہے، بچہ ہو کہ بوڑھا ، جوان ہو کہ ادھیڑ ، مرد ہوکہ عورت ہر ایک کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلہ میں آزمائشی دور سے گذرنا پڑتاہے ، پھر یہ آزمائش و مصیبت کبھی انفرادی ہوتی ہے کہ آدمی اپنی حالت اور حیثیت کے اعتبار سے آزمایا جاتا ہے تو کبھی اجتماعی ہوتی ہے کہ پوری قوم وملت کو آزمایا جاتا ہے اور کبھی آزمائش دین کی بنیاد پر ہوتی ہے تو کبھی دنیا وی اعتبارسے ہوتی ہے،الغرض اس دنیا ئے رنگ و بو میں ہر ایک اپنی حیثیت کے لحاظ سے آزمایا جاتاہے ۔

مسلمان اس دنیا کی دیگر قوموں سے بلند مقام پر فائز ہے اور الہٰی تعلیمات کی وجہ سے امتیازی شان رکھنے والی قوم ہے ، اس لیے اس کا امتحان اور آزمائش بھی بڑی سخت ہے ، ہر زمانہ میں ایمان والوں کو آزمایا گیا اور بڑے تکلیف دہ دور سے گذارا گیا ، حضرت نوح علیہ السلام کو اس لیے تکالیف دی گئیں کہ وہ بتوں کی عبادت کو چھوڑکر ایک اللہ کی عبادت سے اپنی زندگی کو روشن کرلیں اور اپنی پوری زندگی اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلانے میں صرف کردیں ، اس کے بدلہ میں قوم نے کہا:﴿ قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ یَا نُوحُ لَتَکُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِینَ﴾اے نوح! اگر تم اپنی اس تبلیغ سے باز نہیں آوگے تو تم کویقیناپتھر مار مار کر ہلاک کردیاجائے گا۔ (شعراء:116 ) اور قوم نے ایسا ہی کیا ، حضرت شعیب علیہ السلام کو اس لیے مصیبت میں مبتلا کیا گیا کہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا اور ناپ تول میں کمی سے ان کو باز رکھا، قوم نے ان کی بھلائی پر کہا:﴿ لَنُخْرِجَنَّکَ یَا شُعَیْبُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِی مِلَّتِنَا﴾اے شعیب! ہم تم کو اور تمہارے ہاتھ پر ایمان لانے والوں کو ضرور اپنی بستی سے نکال دیں گے یا پھر تم لوگ ہمارے مذہب کو قبول کرلو۔(الاعراف :88)قوم کی طرف سے آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت شعیب علیہ السلام اپنے وطن کو خیر بادکہہ گئے۔ ایمان کی بنیاد پر حضرت موسی علیہ السلام کو آزمایا گیا ، فرعونیوں نے حضرت موسی علیہ السلام اور آپ پر ایمان لانے والوں کو خوب مصائب میں مبتلا کیا ، جس کی تفصیل قرآن کریم کی آیتو ں میں لکھی ہوئی ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس لیے آگ میں ڈالا گیا کہ آپ نمرود کی خدائی کے منکر ہوکر خدائے واحد کی توحید پر قائم رہے ، پوری قوم مخالف ہوگئی، یہاں تک کہ بت پرست باپ کی طرف سے دھمکی آئی کہ:﴿ قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِہَتِی یَا إِبْرَاہِیمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ لَأَرْجُمَنَّکَ وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا﴾ اے ابراہیم! کیا تو مجھے اپنے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے، اگر تو اس سے باز نہیں آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کردوں گا اور ایک لمبے زمانے تک مجھ کو چھوڑکر چلاجا (سورہ مریم :46) غرض یہ کہ ہر نبی کو آزمایا گیا اورایمان والوں کو مصائب میں مبتلا کیا گیا، یہاں تک کہ خاتم الانبیاء سید الکونین محبوبِ رب العالمین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آزمائشی دور سے گذارا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خو د اپنی اس حالت کو بیا ن کرتے ہیں:” لَقَدْ أُوذِیتُ فِی اللَّہِ وَمَا یُوْذَی أَحَدٌ“ مجھے اللہ کے راستہ میں اتنی تکلیف دی گئی کہ مجھ سے پہلے کسی کو اتنی تکلیف نہیں دی گئی ہے ۔( ترمذی حدیث نمبر:2472) وہ کون سی آزمائش ہے جو آپ صلی الله علیہ وسلم کے حصہ میں نہ آئی ہو؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی طرف سے جس قدر اذیت کا سامنا کرنا پڑاوہ ناقابل بیان ہے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، مذاق اڑایا،آپ کو ساحر ، مجنون اور دیوانہ کہا، لوگوں کو آپ کے دین سے ہٹانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، آپ کے خلاف اعلانِ جنگ کیا، لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اور آپ کی دعوت کے خلاف بھڑکایا اور دارِ ہجرت یعنی مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مقیم ہو گئے تھے،وہاں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگیں لڑیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتمہ کرنے کے ناپاک منصوبے بنائے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مٹانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی گئیں ، اسی طرح انہوں نے مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن یہودیوں اور منافقوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا، سب نے اکٹھے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چالیں چلیں اور منصوبے بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدے کیے اور توڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکوں کے ساتھ ساز باز کی اور دھوکے اور مکاری سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی کوشش کی،ان تمام حالات میں آپ صلی الله علیہ و سلم ثابت قدم رہے اور اپنے رب کی طرف پورے انہماک کے ساتھ متوجہ رہے۔

غرض یہ کہ آزمائش ہر ایک کی زندگی کا مقدر ہے، اس حالت سے ہر ایک کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً گزرنا ہے، جیسے کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا :﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُتْرَکُوا أَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لا یُفْتَنُونَ- وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللَّہُ الَّذِینَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِینَ﴾ کیا لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ ایمان کی بات کہنے کی وجہ سے چھوڑ دیے جائیں گے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا ؟ یقیناً جو لوگ اُن سے پہلے گذر چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو اللہ ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں)سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں۔(العنکبوت :3-2)اسی طرح ایک جگہ اللہ نے فرمایا: ﴿لَتُبْلَوُنَّ فِی أَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِینَ أَشْرَکُوا أَذًی کَثِیرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ﴾جس کا مفہوم یہ ہے کہ مال اور جانوں کے ساتھ تمہیں آزمایا جائے گا اور یہود و نصاری اسی طرح مشرکین تمہیں تکلیف دہ اذیت ناک باتیں سناتے رہیں گے، تم صبر اور تقوی کا دامن تھام رہو، اس لیے کہ یہ بڑی ہمت کا کام ہے(آل عمران:186 ) اسی طرح ایک موقع پر فرمایا:﴿وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ﴾ اور ہم تمہیں ضرور آزمائش میں مبتلا کریں گے کچھ خوف اور بھوک کے ذریعہ ، مال و اولاد اور رزق میں نقصان کے ذریعہ اور اے محمد(صلی الله علیہ وسلم)صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔(البقرة:155)اسی طرح فرمایا:﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَأْتِکُم مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِکُم مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُواْ حَتَّی یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَہُ مَتَی نَصْرُ اللّہِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللّہِ قَرِیْبٌ﴾کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ جنت میں یونہی داخل ہو جاؤ گے ؛حالاں کہ ابھی تک تمہارے پاس وہ حالات نہیں آئے ، جو تم سے پہلے لوگوں کے پاس آئے؟انھیں دشمن سے جنگ اور بیماری کی مصیبتیں اتنی پہنچیں کہ ان کی بنیادیں ہل گئیں؛یہاں تک کہ وقت کے رسول اور ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟سنو اللہ کی مدد قریب ہے۔(البقرة:214)

ذخیرہ احادیث میں بھی آپصلی الله علیہ وسلمنے بیشتر جگہ مسلمانوں کی آزمائش کے بارے میں بتلایا ہے اور محدثین نے اس طرح کی تمام حدیثوں کو اور قرب ِ قیامت پیش آنے والا تمام حالات کو اپنی کتابوں میں جمع کیا، ان تمام احادیث کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزمائش اور ابتلاء بہتری اور خوش خبری اور وعدہ جنت کا ذریعہ ہے ، چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مَنْ یُرِدِ اللَّہُ بِہِ خَیْرًا یُصِبْ مِنْہُ“اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصیبت میں گرفتار کردیتا ہے۔ (بخاری ، حدیث نمبر5645)گویا کہ بندہ مومن کا مصیبت سے دوچار ہونا اس کے لیے نیک بختی ہے، محبت الہی کی علامت ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:”إذا أراد اللہ بعبدہ الخیر عجل لہ العقوبة فی الدنیا، وإذا أراد اللہ بعبدہ الشر أمسک عنہ بذنبہ حتی یوافی بہ یوم القیامة“اللہ تعالی جب اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تواس کے گناہوں کی سزا دنیا میں ہی دے دیتا ہے اور جب اللہ تعالی اپنے بندے کے ساتھ عدم رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تواس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، اُس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن دے گااور ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إن عظم الجزاء مع عظم البلاء، وأن اللہ اذا أحب قوما ابتلاھم، فمن رضی فلہ الرضاء، ومن سخط فلہ السخط․“یعنی جتنی بڑی مصیبت ہوگی اُتنا ہی بڑا ثواب ملے گا اور اللہ تعالی جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے مصیبتوں میں ڈال دیتا ہے، جو شخص اس سے راضی ہوا اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردیا تواس کے لیے رضامندی ہے اور جو ناراض ہو اس کے لیے ناراضگی ہے۔(صحیح الجامع)

پھر یہ کہ مومن کو اس بات کا بھی یقین رکھنا ہے کہ آزمائش میں ہونا مصائب میں گرفتار ہونا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلمنے حضرت عبد اللہ بن عباس کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:”یَا غُلَامُ وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ یَنْفَعُوکَ بِشَیْء ٍ لَمْ یَنْفَعُوکَ إِلَّا بِشَیْء ٍ قَدْ کَتَبَہُ اللَّہُ لَکَ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَی أَنْ یَضُرُّوکَ بِشَیْء ٍ لَمْ یَضُرُّوکَ إِلَّا بِشَیْء ٍ قَدْ کَتَبَہُ اللَّہُ عَلَیْکَ․“ اے لڑکے!تم اس بات پر یقین کرلو کہ اگر پوری امت جمع ہوکر تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی ،سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے ، اور اگر پوری امت جمع ہوکرتمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچاسکتی، سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے۔ (ترمذی حدیث نمبر 2516)

حالیہ چند سالوں میں ہندوستا ن کے سیاسی اور معاشرتی حالات جس تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں اورفرقہ پرست طاقتیں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اورمنصوبہ بند طریقہ پر جو ماحول مسلمانوں کے خلاف بنایا جارہا ہے،وہ کسی باشعور انسان سے پوشیدہ نہیں ہے،کبھی اسلامی تعلیمات کو زک پہنچانے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں تو کبھی صاحب ِاسلام صلی الله علیہ و سلم کی شان اقدس میں گستاخی کی جاتی ہے ،کبھی مساجد و مدارس کے خلاف بازار گرم کیا جاتا ہے تو کبھی قرآن مجید کے احکام میں مداخلت کی باتیں کی جاتی ہے ،مسلمانوں کے پرسنل لا کو ختم کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں، اسلامی تہذیب و ثقافت سے میل نہ کھانے والی چیزوں کو مسلمانوں پر زبردستی تھوپا جارہا ہے، یوگا ، سوریہ نمسکار اور اس جیسی خالص ہندوانہ تہذیب کو سماج کا حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور مسلمانوں سے جئے شری رام کانعرہ لگانے کی زبردستی خواہش کی جارہی ہے ، علماء اور حفاظ کے ساتھ توہین آمیز رویہ اِختیار کیا جارہا ہے، ہندوتوانظریہ کو تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے نہ ماننے والوں کوہجومی حملہ میں قتل کیا جارہا ہے اور اسلام کے عائلی نظام کو عورتوں کے حق میں غیر منصفانہ اور ظالمانہ بتایا جارہا ہے، شریعت کے احکام پر عمل کرنے کی آزادی سلب کی جارہی ہے،یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو ایک طرف باشعور اور دلِ درد مند رکھنے والے مسلمان کوتڑپانے کے لیے کافی ہیں، اس سے نہ صرف مسلمانوں میں مایوسی اور نا امیدی کی کیفیت پائی جارہی ہے، بلکہ منصف اور حقیقت پسند برادرانِ وطن بھی فکر مند نظر آرہے ہیں، ان حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں چند باتوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہیں ۔

اللہ کی طرف رجوع ہونا۔یہ سب سے پہلی چیزہے، جو ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے ، ہم دونوں جہان کے پروردگار کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کریں ،بندوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ اللہ کے حقوق بھی ادا کریں ، اپنی عبادتوں اور دعاوں میں اضافہ کریں ؛ کیوں کہ ہر مشکل آسان کرنے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ہے ، اللہ کا پاک ارشاد ہے: ﴿یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِین﴾ اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ کی مددچاہو، بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔(البقرة:153 )اس آیت میں نماز سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہونا ہے اور ہر معاملہ میں اللہ کی طرف متوجہ ہونا ؛ لہذا ہمیں زیادہ سے زیادہ اللہ تبارک وتعالی سے لو لگانا چاہیے اور عبادتوں کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”الْعِبَادَةُ فِی الْہَرْجِ کَہِجْرَةٍ إِلَیَّ“ قتل و غارت گری اور مشکل حالات میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی طرح ہے (یعنی ہجرت کے برابر ثواب ملتا ہے)۔ (باب فضل العبادة فی الہرج ، حدیث نمبر2948)

صبر اور استقامت۔قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالی اور احادیث شریفہ میں ہمارے نبی صلی الله علیہ و سلمنے کئی مقامات پر مصائب اورمشکلات میں مضبوطی کے ساتھ صبر کا دامن تھامے رہنے کی تاکید کی ہے ، کیوں کہ صبر کے بڑے فوائدہیں اور یہ بہت مجرب اور قیمتی خدائی نسخہ ہے ؛ چناں چہ ایک مقام پر اللہ تعالی فرماتے ہیں : بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جس کے ساتھ اللہ تعالی ہو ، اسے بڑی سے بڑی مصیبت نقصان نہیں پہنچا سکتی ، دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے :اور صبر کرنے والوں کو( جنت کی) خوش خبری سنا دیجیے۔اگر ہم صبر کریں گے تو یہ ہمارے لیے حالیہ برے حالات سے ان شاء اللہ نکلنے کا ذریعہ ہوگا۔

توبہ و استغفار ۔ہمارے لیے موجودہ نا گفتہ بہ حالات میں ایک اہم کام یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کی کثرت رکھیں، کیوں کہ توبہ اور استغفار تمام مصائب کے دور کرنے کا آسمانی نسخہ ہے ،جیسا کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :” من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ضیق مخرجا ، ومن کل ہم فرجا، ورزقہ من حیث لایحتسب“ جو استغفار کو لازم پکڑ لے ، اللہ تعالی ہر تنگی سے اس کے لیے راستہ نکالیں گے اور ہر غم سے نجات عطا فرمائیں گے اور اسے روزی ایسی جگہ سے عطاکریں گے،جہاں سے اس کو وہم وگمان بھی نہ ہوگا۔ (ابوداؤد:1518) لہٰذا ہمیں گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے اور تقوی شعار بننا چاہیے۔ نیز استغفار کی کثرت رکھنی چاہیے۔

اسلام کی خوبیوں سے برادران وطن کو واقف کرانا۔اوران سب کاموں کے ساتھ نہایت اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ ہم برادران وطن کو اسلام کی خوبیوں سے واقف کرائیں ،کیوں کہ ہمارے ملک میں کئی مذاہب کے ماننے والے ہیں ،اس لیے اسلام کی تبلیغ اور اسلام کے پیغام کو پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں ، اسلام کے تعارف کے لیے قدیم وجدید تمام وسائل استعمال کیے جائیں اور اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اسے پیار اور محبت کے ساتھ دور کریں، تبھی اسلام کا صحیح تعار ف برادرانِ وطن کے سامنے آئے گا اور موجودہ حالات میں اس کام کی ضرورت واہمیت زیادہ ہے ، اس لیے کہ اللہ نے ہمیں اپنی مقدس کتاب میں” خیر امت“ کہا ہے ، جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ خیر اوربھلائی کا سفیر بنے اور خدا سے بچھڑے ہوئے لوگوں کو خدا سے ملائے، جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا:﴿کُنْتُمْ خَیْْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ﴾ تم بہترین امت ہو ، تمہیں بھیجا گیا ہے لوگوں کی بھلائی کے لیے ، تم اچھی باتیں پھیلاتے ہو اور برائی کی روک تھام کرتے ہو۔(آل عمران:110)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.