جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

غزوہٴ اُحد عبرت وموعظت کے پہلو

مولانا سیف الله خالد رحمانی

ہجرت کے دوسرے سال بدر کے میدان میں مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان پہلا معرکہ ہوا، اس نے پورے مکہ میں نہ صرف رنج والم کی فضا پیدا کر دی؛ بلکہ انہیں اس شکست فاش پر بہت ہی غضب ناک بھی بنا دیا؛ کیوں کہ اس جنگ کی آگ میں مکہ کے چوٹی کے سردار خاکستر ہو چکے تھے، ابو سفیان کے تجارتی قافلہ نے … جو زبردست تجارتی فوائد کے ساتھ شام سے واپس آیا تھا اور مسلمانوں کی گرفت سے بچ نکلا تھا … اپنا پوراکا پورا نفع قریش مکہ کے باہمی مشورہ سے جنگی تیاری کے لیے وقف کردیا ، اس طرح زبردست تیاری کے ساتھ تین ہزار سپاہی مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، ان کے ہم راہ تین ہزار اونٹ، دو سو گھوڑے اور سات سوزرہ پوشجنگ جو تھے، ابوسفیان کو سپہ سالار مقرر کیا گیا، قریش کی پندرہ معزز خواتین… جن کے قریبی رشتہ دار بدر کی لڑائی میں مارے گئے تھے … بھی فوجیوں کو غیرت دلانے اور ان کے جوش کو دو آتشہ کرنے کے لیے ساتھ نکلیں۔

اِدھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی الله عنہ … جو مسلمان ہوچکے تھے اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے حسب منشا انہوں نے اپنے ایمان لانے کو خفیہ رکھا تھا … نے ایک تیزرفتار قاصد کے ذریعہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو اس تیاری کی اطلاع کر دی اور بنو غفار کے اس قاصد کو تاکید کر دی کہ تین دنوں کے اندر آپ کے پاس خط پہنچ جائے، آپ صلی الله علیہ وسلم اس وقت مسجد قبا میں تشریف فرما تھے، حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ نے خط پڑھ کر سنایا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے سنا او رتاکید فرمائی کہ ابھی اس بات کو خفیہ رکھا جائے ؛ کیوں کہ قریش، یہود اور منافقین کے ساتھ رابطہ میں تھے اوراندیشہ تھا کہ اگر جوابی جنگی حکمت عملی کو راز میں نہیں رکھا گیا تو اس سے نقصان ہو سکتا ہے، پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے انس بن فضالہ اور مونس بن فضالہ رضی الله عنہما دونوں کو جاسوسی کے لیے روانہ فرمایا، یہ عقیق پہنچ کر اہل مکہ کے لشکر میں شامل ہو گئے اور مدینہ کے قریب پہنچنے کے بعد لشکر سے الگ ہو کر بارگاہ نبوی میں لشکر کی تفصیلات پیش کر دیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے مزید تحقیق کے لیے حضرت حباب بن منذر رضی الله عنہ کو روانہ کیا ،جنہوں نے اس فوج کی تعداد او رجنگ کی تیاریوں کے بارے میں پوری تفصیل سے مطلع کیا، نیز امکانی خطرات کے تحت سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ اور اسید بن حضیر رضی الله عنہم کو کاشانہٴ نبوت اور مسجد نبوی پر پہرہ دار مقرر کیا گیا۔

پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ رضی الله عنہم سے جنگ کے بارے میں مشورہ کیا، بعض حضرات کا مشورہ تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کی جائے، اس گروہ میں نوجوانوں کے علاوہ سید الشہداء حضرت حمزہ اورحضرت سعد بن عباد ہ رضی الله عنہ جیسے بزرگ صحابہ بھی تھے، دوسری رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رک کر مقابلہ کیا جائے، منافقین کے سردار عبدالله بن ابی کی بھی یہی رائے تھی اور اس کی طرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا میلان بھی تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے مشورہ تو کیا؛ لیکن فوری طور پر اپنے فیصلہ کا اعلان نہیں فرمایا؛ بلکہ جمعہ کے بعد جہاد پر ترغیبی خطبہ ارشاد فرمایا اور اس کے لیے تیاری کا حکم دیا، عصر کے بعد آپ حجرہٴ اقدس میں تشریف لے گئے اور ہتھیار پہنا، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ او رحضرت عمر رضی الله عنہ نے بھی ہتھیار پہننے میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی مدد کی، جب آپ صلی الله علیہ وسلم ہتھیار بند باہر تشریف لائے تو بعض صحابہ کو ندامت ہوئی او رانہوں نے عرض کیا کہ ہم نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی منشاکے خلاف اصرار کیا؛ اس لیے ہمیں معاف کر دیں اور جومناسب سمجھیں قدم اٹھائیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ بات روا نہیں ہے کہ وہ ہتھیار پہن کر پھر اُتار دے؛ تاآں کہ الله تعالیٰ اس کے اور دشمنوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دے؛ اس لیے اب چلو، جو کہوں اس پر عمل کرو اور ثابت قدم رہو۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے تین نیزے طلب کیے ، تینوں پر کپڑا باندھ کر جھنڈا بنایا گیا، قبیلہٴ خزرج کا جھنڈا حضرت حباب بن منذر رضی الله عنہ کو، قبیلہٴ اوس کا جھنڈا حضرت اسید بن حضیر رضی الله عنہ کو اور مرکزی علَم قریش میں سے حضرت مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کو حوالہ فرمایا، حضرت مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کا تعلق بنو عبدالدار سے تھا او رمکہ میں اسی قبیلہ کو علم بر دار ہونے کا اعزاز دیا جاتا تھا، آپ نے اس کو قائم رکھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے آج سر مبارک پر خُود پہن رکھی تھی او رجسم پر دود وزر ہیں تھیں، کاندھے پر کمان ڈالی، ہاتھ میں نیزہ لیا، گھوڑے پر سوار ہوئے، دائیں بائیں حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ اور سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کی مصاحبت میں آگے بڑھے، یہ دونوں حضرات بھی زرہ پوش تھے او رگھوڑے پر سوار تھے، اب آپ صلی الله علیہ وسلم نے لشکر کو کوچ کرنے کا حکم فرمایا۔

مدینہ کی سرحد سے باہر نکلے تو ایک نظر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فوج پر ڈالی، ان میں سترہ لڑکے ایسے پائے گئے، جن کی عمر چودہ سال سے کم تھی، انہیں آپ نے واپس کر دیا، ان میں سے حضرت رافع بن خدیج کو تیر اندازی کی خصوصی صلاحیت کی وجہ سے ساتھ رکھا گیا، سمرہ بن جندب رضی الله عنہ ان کے ہم عمر تھے، انہوں نے کہا کہ ہم کشتی میں رافع کو زیر کر دیتے ہیں ؛ اس لیے ہمیں بھی اجازت دی جائے، دونوں میں کشتی کرائی گئی اور واقعی حضرت سمرہ رضی الله عنہ غالب رہے،؛ اس لیے انہیں بھی شریک کر لیا گیا،یہاں کچھ اَنجانے چہرے بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کو نظر آئے، تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ یہودی ہیں، جو عبدالله بن ابی کے ساتھ آئے ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں واپس فرما دیا؛ کیوں کہ یہ کسی سازش کا حصہ بن سکتے تھے، یہیں رات گذاری گئی، پچاس منتخب مجاہدین نے پہرہ داری کی، محمد بن مسلمہ انصاری رضی الله عنہ ان پہرہ داروں پر نگراں مقرر ہوئے اور جس خیمہ میں شمع نبوت کو آرام کرنا تھا، اس پر ذکوان بن عبدالله رضی الله عنہ پہرہ دار مقرر ہوئے، ابھی رات ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ مجاہدین کو کوچ کرنے کا حکم دیا گیا، اُحد کے بالکل قریب قنطرہ نامی مقام پر حضرت بلال رضی الله عنہ نے اذان دی اور مسلمان بارگاہ الہٰی میں سجدہ ریز ہو گئے، دشمنان اسلام دور سے یہ منظر دیکھ رہے تھے، یہیں سے عبدالله بن ابی اپنے ساتھیوں کے ساتھ الگ ہو گیا کہ چوں کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کے سلسلہ میں میری رائے نہیں مانی گئی؛ اس لیے ہم ساتھ نہیں رہیں گے اور الله نے منافقین کے اس سازشی گروہ سے اس فوج کی حفاظت فرمائی۔

نماز فجر کے بعد مسلمانوں کا لشکر تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے، جنگی حکمت عملی کی رعایت کے ساتھ ٹھکانہ پر قابض ہو گیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی فوجیں اس طرح آراستہ کیں کہ دائیں طرف اُحد کا پہاڑ تھا، بائیں طرف وادی قناة کا عمودی کنارہ تھا، جو جبل رماة تک پہنچتا تھا، پیچھے کی طرف آپ صلی الله علیہ وسلم نے جبل رماة کور کھا تھا، یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی، جسے ”جبل عینین“ یعنی دو چشموں والا پہاڑ کہا جاتا تھا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے غزوہٴ اُحد میں اسی پہاڑی پر تیر اندازوں کا دستہ مقرر فرمایا تھا، اس مناسبت سے بعد میں اس کا نام ”جبل رماة“ پڑ گیا، اس طرح تین جہتوں سے مسلمانوں کی فوج محفوظ تھی اور صرف سامنے کی جانب سے ہی قریش حملہ آور ہوسکتے تھے، اس میدان کی چوڑائی چار سو گز سے زیادہ نہیں تھی، اس طرح کم تعداد کے باوجود دشمن کی بڑی تعداد کا مقابلہ آسان تھا، یہیں صفیں آراستہ کی گئیں، چودہ جاں بازوں کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے رکھا گیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے پچاس ماہر تیر اندازوں کو جبل رماة پر رکھا تھا، تاکہ وہ اس پہاڑی پر سے دشمن کی فوج پر تیر سے حملہ بھی کرسکیں او راگر کوئی فوجی ٹکڑی مسلمانوں کی پشت پر حملہ آور ہونا چاہے تو وہ اس کو روک سکیں، نیز آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان پر حضرت عبدالله بن جبیر رضی الله عنہ کو امیر مقرر کرتے ہوئے نصیحت کر دی تھی کہ چاہے ہماری لاشوں پر چیل اور پرندے گرنے لگیں، پھر بھی وہ اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی فوج کو پانچ دستوں پر تقسیم فرمایا اورہرایک پر الگ الگ کمانڈر متعین کیا، نیزایک محفوظ دستہ بھی رکھا ؛ تاکہ بوقت ضرورت کام آئے، دشمنوں کو صف بندی کا شعور نہیں تھا ؛ لیکن غزوہٴ بدر میں مسلمانوں کی صف بندی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بھی مختلف دستے بنائے، معرکہ عربوں کے اس قدیم طریقہ کے مطابق شروع ہوا کہ کفار مکہ کا ایک فوجی علم اٹھائے ہوئے باہر نکلتا او رمسلمانوں کو دعوت مبارزت دیتا، سب سے پہلے طلحہ بن ابی طلحہ نے مقابلہ کی دعوت دی، حضرت علی رضی الله عنہ نے اپنی تیغ آب دار سے دو ہی ضرب میں اس کے ٹکڑے کر دیے، بنو عبدالدار کے مختلف نمائندے جھنڈا تھام کر نکلتے، مسلمانوں سے ان کامقابلہ ہوتا، یہاں تک کہ بائیس دشمنانِ اسلام اس انفرادی مقابلے میں واصل جہنم ہوئے، حضرت ابوبکر کے صاحب زادے حضرت عبدالرحمن بھی کفار مکہ کے ساتھ تھے، انہوں نے جب للکارا تو خود حضرت ابوبکر اپنی شمشیر سونت کر مقابلہ میں آگئے، یہاں تک کہ اہل مکہ شکست خوردہ فوج کی طرح بکھرنے لگے۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مجاہدین میں جوش پیدا کرنے کے لیے جنگ کے آغاز ہی پر اپنی تلوارلہراتے ہوئے دریافت کیا:”کون ہے، جو اسے لے گا اور اس کا حق ادا کرے گا“؟ حضرت زبیر بن عوام، حضرت علی بن ابی طالب او رحضرت عمر بن الخطاب رضی الله عنہم نیز دوسرے سروفروشانِ اسلام آگے بڑھے؛ لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روکے رکھا، جب تیسری بار اس جملہ کے ساتھ آپ نے اپنا ہاتھ لہرایا تو مجاہدین کی رگ حمیت، جذبہٴ جاں نثاری کے اوجِ کمال پر پہنچ گئی، حضرت ابو دجانہ رضی الله عنہ نے عرض کیا: الله کے رسول! اس کا کیا حق ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے دشمن کے منھ پروار کرو، کوئی کافر اس سے بچنے نہ پائے اور کوئی مسلمان اس سے مارا نہ جائے، حضرت ابودجانہ نے عرض کیا کہ میں اس کا حق ادا کروں گا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تلوار عنایت فرمائی، حضرت ابودجانہ رضی الله عنہ کے لیے یہ شمشیر آب دار ہی نہیں تھی؛ بلکہ تمغہٴ افتخار بھی تھی، انہوں نے اپنے سر پر سرخ کپڑے کی پٹی باندھی، پورے ولولے کے ساتھ رجز یہ اشعار پڑھتے ہوئے دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور اپنے مقدر پر اکڑ اکڑ کر چلنے لگے، حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کو یہ چال پسند نہیں، مگر میدانِ جہاد میں یہ خوب ہے! حضرت ابو دجانہ رضی الله عنہ نے اس تلوار کی ایسی لاج رکھی کہ دشمن کی صف میں گھس کر آخری صف پار کرکے آگے نکل گئے، یہاں تک جب آپ رضی الله عنہ نے تلوار اٹھائی تو ایک سہمی ہوئی چیخ آئی کہ میں ایک عورت ہوں، دیکھا تو ابوسفیان کی بیوی ہندہ تھی، حضرت ابودجانہ رضی الله عنہ ہاتھ روک لیا کہ شمشیر نبوی کے احترام کے خلاف ہے کہ اسے ایک عورت پر چلایا جائے۔

مسلمانوں کے غلبہ کو دیکھ کر جبل رماة کے تیرانداز مالِ غنیمت لوٹنے کے لیے ٹوٹ پڑے، حضرت عبدالله بن جبیر رضی الله عنہ نے بہت روکا، مگر لوگوں نے مانا نہیں، یہاں تک کہ صر ف دس افراد ان کے ساتھ رہ گئے، ابوسفیان کے اشارہ پر خالد بن الولید نے اپنے دستہ کے ساتھ پیچھے سے حملہ کیا او رمجاہدین دونوں طرف سے دشمنوں کے درمیان گھر گئے، جنگ کا یہ آخری مرحلہ بڑا صبر آزما ثابت ہوا، بہت سے مجاہدین نے جام شہادت نو ش کیا، حضرت حمزہ رضی الله عنہ نہ صر ف شہید ہوئے؛ بلکہ ہندہ نے مثلہ بھی کیا، ان کے اعضاء کا ہار بنا کر پہنا او رکلیجہ چبانے کی کوشش کی، مگر نگل نہ سکی، خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر بار بار یلغار ہوتی رہی، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت طلحہ بن عبدالله، حضرت ابو دجانہ او رحضرت ابو طلحہ انصاری رضی الله عنہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اس طرح اپنے حصار میں لے لیا اور تیروں نیزوں اور تلواروں کے زخم کھائے کہ گویا ان کے بدن گوشت پوست کے نہ ہوں؛ بلکہ آہن وفولاد کے ہوں اورجاں نثاری کا حق ادا کر دیا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دندانِ مبارک شہید ہو گئے، پیشانی پر ایک شخص نے پتھر مارا،جس سے چہرہ لہو لہان ہو گیا، حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا کہ وہ قوم کیوں کر فلاح پاسکتی ہے، جو اپنے نبی کو خون سے رنگین کر دے؛ حالاں کہ وہ اسے الله کی طرف بلا رہا ہے؟ اس موقع پر آیت نازل ہوئی:﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْء ٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذَّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ﴾(آل عمران:128)آپ صلی الله علیہ وسلم کو کوئی اختیار نہیں ہے، الله چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے کہ وہ ظلم کرنے والے ہیں… یہاں تک کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی شہادت کی خبر بھی مشہور ہو گئی، جس نے مجاہدین کو اور بھی مایوس کر دیا۔

آخرمعرکہ ختم ہوا ، رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم کچھ صحابہ رضی الله عنہم کی مدد سے، پہاڑکی اونچائی پر ایک غار میں پہنچ گئے، حضرت علی رضی الله عنہ او رحضرت طلحہ رضی الله عنہ نے اوپر چڑھنے میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی مدد کی، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ ، حضرت عمر رضی الله عنہ اور کچھ اورصحابہ رضی الله عنہم بھی یہیں آگئے، زخم دھویا گیا، مگر خون بند نہ ہوتا تھا، آخر خواتین جنت کی سردار حضرت فاطمہ رضی الله عنہا بھی پہنچ گئیں اورچٹائی کو جلا کر اس کی راکھ سے زخموں کو بھرا، محمد بن مسلمہ رضی الله عنہ صاف پانی لائے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا، اس طرح معرکہ ختم ہوا، ابوسفیان اپنے کیمپ میں گیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی رضی الله عنہ سے فرمایا کہ ابوسفیان پر نظر رکھیں، اگر ابوسفیان اونٹ پر سوار ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مکہ واپس ہو رہا ہے اور اگر گھوڑے پر سوار ہو تو اس کا رُخ مدینہ کی طرف ہو گا، ایسی صورت میں ہم ضرور اس کا مقابلہ کریں گے۔

یہ جنگ مسلمانوں کے لیے ایک امتحان تھی، صبر کا بھی امتحان اورجاں نثاری کا بھی امتحان اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہصحابہ رضی الله عنہم اس امتحان میں پورے اترے، انہوں نے ایسی جاں نثاری کا ثبوت دیا کہ تاریخ میں شاید ہی اس کی کوئی مثال مل سکے، صحابہ رضی الله عنہم نے اس شان سے نذرانہٴ زندگی پیش کیا کہ گویا خدا کی راہ میں مرنے سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں، جنگ ختم ہونے کے بعد حضور صلی الله علیہ وسلم نے کہا کہ کوئی سعد بن ربیع رضی الله عنہ کی خبر لائے، حضرت سعد رضی الله عنہ کو تلاش کیا گیا تو وہ لاشوں کے درمیان آخری سانس لے رہے تھے او رجسم پر نیزے کے بارہ زخم تھے، حضرت سعد رضی الله عنہ نے آخری پیغام انصار کے لیے دیا کہ اگر خدانخواستہ آج رسول الله صلی الله علیہ وسلم شہید کر دیے گئے اور تم میں کا ایک شخص بھی زندہ رہا تو تم خدا کے یہاں منھ دکھانے کے لائق نہیں رہو گے، پھر حضور صلی الله علیہ وسلم کو سلام کہلوا بھیجا اور روح پرواز کر گئی، حضرت عمرو بن جموح انصاری رضی الله عنہ کی بیوی حضرت ہند رضی الله عنہا کے شوہر، بھائی، بیٹا، تینوں شہید ہو گئے، شہادت کی ہر خبر پر بے قرار ہو کر پوچھتیں کہ آقا صلی الله علیہ وسلم کیسے ہیں؟ یہاں تک کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو دکھایا گیا تو کہنے لگیں:”اگر آپ سلامت ہیں تو ہر مصیبت ہیچ ہے “! بعض انصاری خواتین سے جب آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے صاحب زادہ کی شہادت پر تعزیت کی تو انہو ں نے کھا: ” کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہمیں تہنیت (مبارک باد) دیجیے، نہ کہ تعزیت“۔

جب آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی رضی الله عنہ کی لاش دیکھی تو دل بے قرار ہو گیا، اتنا روئے کہ ہچکی بندھ گئی او رجو ش میں فرمایا کہ جیسے انہوں نے حضرت حمزہ رضی الله عنہ کا مثلہ کیا ہے، میں اس کے بدلہ ستر کافروں کا مثلہ کروں گا؛ لیکن اسی وقت سورہٴ نحل کی آیت:﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِہِ﴾(النحل:126) نازل ہوئی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بات واپس لی اور فرمایا کہ حمزہ سید الشہداء ہیں، چناں چہ سب سے پہلے حضرت حمزہ رضی الله عنہ پر نماز جنازہ پڑھی، پھر ہر شہید کا جنازہ ان کے ساتھ رکھا گیا، اس طرح ستر سے زیادہ دفعہ آپ رضی الله عنہ کی نماز جنازہ پڑھی گئی، حضرت معصب بن عمیر رضی الله عنہ … جن کے ہاتھوں میں مسلمانوں کا جھنڈا تھا … نے بھی جام شہادت نوش فرمایا، ان کے بعد ان کے بھائی حضرت علی رضی الله عنہ کو جھنڈا عطا ہوا، اس غزوہ میں ستر سے زیادہ صحابہ رضی الله عنہم شہید ہوئے اور سوائے حضرت حنظلہ رضی الله عنہ کے، سبھوں کی لاش کا مثلہ کیا گیا، آخر ہفتہ کے دن تین یا سات شوال کو مغرب کے وقت رسول الله صلی الله علیہ وسلم مجاہدین کے ساتھ مدینہ واپس آئے، سرفروشانِ اسلام گو زخم سے چور چور تھے، لیکن پھر بھی انہوں نے جاگ کر پوری رات مدینہ کا پہرہ دیا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قریش مکہ واپس ہو کر مدینہ پرحملہ کرنا چاہتے ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے صبح میں اعلان کیا کہ قریش مکہ کی فوج کا تعاقب کرنا ہے، چناں چہ جھنڈا حضرت علی رضی الله عنہ کو عطا ہوا او رمجاہدین مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے، آٹھ میل تک تعاقب کرتے ہوئے حمراء الاسد میں یہ لشکر خیمہ زن ہوا، مسلمانوں کے اس ولولہ کو دیکھ کر اہل مکہ پر رعب بیٹھ گیا اور وہ واپس ہو گئے۔

قرآن مجید میں اس غزوہ کا تفصیل سے ذکر آیا ہے او رمتعدد آیتیں اس بارے میں نازل ہوئی ہیں، اسی لیے غزوہٴ احد میں عبرت وموعظت کی بہت سی جہتیں ہیں:

٭...صالحین اور نیکو کاروں پر بھی الله کی طرف سے آزمائشیں آتی ہیں، قرآن مجید میں بہت سے انبیاء کا ذکر آیا ہے، جو ابتلاؤں اورآزمائشوں سے گذرے ہیں، خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو مختلف آزمائشوں سے گذارا گیا ہے؛ اس لیے مسلمانوں کو دین کی راہ میں آنے والی آزمائشوں سے ہمت نہ ہارنا چاہیے اور صبر اوستقامت کا ثبوت دینا چاہیے ، مادی فتح وشکست حق او رباطل ہونے کی دلیل نہیں ہے، بلکہ الله اور اس کے رسول کی خوش نودی کو پانا اصل کا م یابی اور خوش نودی سے محروم رہنا اصل ناکامی ہے۔

٭...اسلام کے دفاع کے لیے ظاہری وسائل کو اختیار کرنا اور خوش تدبیری سے کام لینا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سنت ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے جنگ کے لیے جو صف آرائی کی او رجس طرح مجاہدین اسلام کے لیے جگہ کا انتخاب کیا، وہ زبردست جنگی حکمت عملی کا نمونہ ہے، یہ حکمت عملی تیغ وشمشیر ہی کی جنگ میں مطلوب نہیں ہے؛ بلکہعلمی، عملی اور تبلیغی جنگ میں بھی مطلوب ہے۔

٭...حب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا اصل مظہر امتحان کے موقع پر جاں نثاری ہے، زبان سے عشق ومحبت کے دعوے، بے روح دعوے ہیں، اگر ان پر عمل کی شہادت نہ ہو۔ صحابہ کی شان یہی تھی کہ ان کی زبان پر دعوے نہیں ہوتے تھے ؛ لیکن وہ اپنی رگ گلو کا آخری قطرہ بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر نچھاور کرنے کو تیار رہتے تھے۔

٭... مسلمانوں کا تعلق ہر حال میں الله سے قائم رہنا چاہیے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے جہاد شروع ہونے سے پہلے بھی فجر کی نماز پڑھی اورجب پہاڑ کی اونچائی پر غار کی پناہ لی تواس وقت بھی باوجود زخم سے چور ہونے کے نماز ادا فرمائی، یہی جذبہٴ خود سپردگی ہے، جو بزم سے رزم تک مسلمانوں کا اصل سرمایہ ہے۔

٭... رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مرکزی جھنڈا قریش کی قدیم روایت کے مطابق بنو عبدالدار کے ایک فرد حضرت مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کو عنایت فرمایا، اس میں سبق ہے کہ جو روایت چلی آرہی ہو، اگر اس پر عمل کرنے میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو اسے باقی رکھا جاسکتا ہے، بلاوجہ ہر روایت کو توڑ دینا معقول بات نہیں ہے۔

٭... اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو ہمیشہ اپنی اخلاقی سطح بلند رکھنی چاہیے، مکہ میں مشرکین قتل کیے گئے؛ لیکن کسی کا مثلہ نہیں کیا گیا، ہندہ حضرت ابو دجانہ رضی الله عنہ کی تلوار کی زد میں آچکی تھیں؛ لیکن ان پر وار نہیں کیا گیا، جب کہ تقریباً تمام ہی شہداءِ اُحد کا مشرکین نے مثلہ کیا اور جب فرط جذبات میں زبانِ مبارک سے مثلہ کرنے کی بات نکل گئی تو فوراً الله تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کی گئی، گو اس میں برابر کا بدلہ لینے کی اجازت دی گئی؛ لیکن مسلمانوں نے کبھی بھی جوابی طور پر بھی ایسی ناشائستہ حرکت نہیں کی ہے۔

٭... داعی کے دل میں ہمیشہ مدعو کی محبت ہونی چاہیے، خواہ وہ ظلم وزیادتی میں کتنا بھی آگے بڑھ جائے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مشرکین کی ان ظالمانہ حرکتوں کے باوجود اہل مکہ کے لیے دعا ہی فرمائی ہے کہ یہ مقام نبوت سے نا آشنا ہیں، انہیں معاف کر دیا جائے۔

٭... داعی کو کبھی بھی مدعو سے نااُمید اور مایوس نہیں ہونا چاہیے، خواہ بہ ظاہر وہ کتنی ہی سخت دلی اور شقاوت قلبی کا ثبوت دے، چناں چہ اس جنگ میں، جو سردارانِ قریش مسلمانوں کے خلاف پیش پیش تھے اور فتح مکہ تک زندہ رہے، ان سب نے اسلام کے سامنے سر تسلیم خم کیا، یہاں تک کہ ابو سفیان، ہندہ اور صفوان بن امیہ نے بھی۔

٭... اس غزوہ میں نو عمر بچوں کو بہ اصرار واپس بھیجنا پڑا او ربہت سی خواتین وہ تھیں، جو جذبہٴ جاں نثاری کے ساتھ ہم رکاب تھیں، یہاں تک کہ حضرت اُم عمارہ رضی الله عنہا نے تو باضابطہ جہاد میں حصہ لیا، ظاہر ہے کہ یہ تربیت کا نتیجہ تھا، صحابہ رضی الله عنہم خواتین او ربچوں کی ایسی تربیت فرماتے تھے کہ وہ دین کے لیے ہر طرح کی قربانی میں مردوں اور بڑوں کے شانہ بہ شانہ رہتی تھیں، جب تک گھر کے تمام لوگوں میں دینی مزاج پیدا نہ ہو، مثالی اسلامی معاشرہ نہیں بن سکتا۔

٭... اس غزوہ کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کی کام یابی وناکامی اصل میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اتباع واطاعت میں مضمر ہے، اس جنگ میں مسلمانوں کو جو نقصان اٹھانا پڑا، بہ ظاہر اس کا سبب یہی تھاکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ”جبل رماة“ پر جس دستہ کو مقرر فرمایا تھا اور جس سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنی جگہ سے نہ ہٹیں، وہ اپنی جگہ سے ہٹ گئے، اگر یہ صورتِ حال پیش نہیں آئی ہوتی تو شاید مسلمان اس نقصان سے دو چار نہیں ہوتے، اسی لیے قیامت تک مسلمانوں کی کام یابی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت واتباع میں مضمر ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی اتباع سے گریز کرکے یہ اُمت فلاح نہیں پاسکتی، جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے موجود ہوتے ہوئے قدسی صفت صحابہ رضی الله عنہم کی لغزش کو بھی قابل عفو نہیں سمجھا گیا تو دوسروں کا کیا ذکر؟



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.