جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

میرے استاد میرے مربی

مولانا امین الحق
مہتمم دارالعلوم تعلیم القرآن، باغ، آزادکشمیر

حضرت اقدس کی ہمہ گیر زندگی کے لاتعداد عنوانات ہیں، جن پر کچھ لکھا گیا ہے اور ابھی بہت کچھ لکھا جائے گا۔یہ مختصر سی تحریربعنوان(میرے استاد میرے مربی) ارسال کی جارہی ہے۔ شرف قبولیت فرماکر ممنون فرمائیں۔

یہ دنیا عارضی ہے، اس میں ہمیشہ کسی نے نہیں رہنا۔اس دنیاسے اٹھارہ ہزاردینی مدارس کے سرپرست اورساٹھ سال سے زیادہ قال اللہ وقال الرسول کادرس دینے والے وفاق المدارس کے صدر،استاذی المکرم، شیخ الحدیث حضرت مولانا شیخ سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ سفرآخرت پرروانہ ہو گئے۔ان کی رحلت سے جوخلا پیداہواہے اللہ کریم اپنے فضل سے اس خلا کوپُرفرمائے۔

حضرت مولاناکی رحلت سے دین دارطبقہ ہی نہیں،بلکہ پوری دنیاکے مسلمان سایہ شفقت سے محروم ہوگئے ۔ مولاناکاوجوداس دنیامیں امت مسلمہ کے لیے عطیہ خداوندی اورنزول رحمت الہیہ کاباعث تھا۔وہ انتہائی متبع سنت، پیکراخلاص، شرعی حدود پرخودبھی اوردوسروں کوبھی کاربندرکھنے والے تھے۔ مولانا اعلی پائے کے مدرس تھے۔ درس حدیث میں ان کا علم سیل بیکراں کی طرح ہمہ گیر،دقیق نکات پر گہری نظر ،شرعی احکامات کی بے غبارتوضیح، ادب،فصاحت وبلاغت اورزبان دانی کی دقتوں پرکامل دست رس رکھنے کے ساتھ ساتھ ازمنہٴ رفتہ ،موجودہ اورآمدہ پرحددرجہ نظر رکھتے تھے۔مغلق عبارات کو چٹکلوں میں سمجھادیتے ۔ مولانا ایک بارعب شخصیت کے حامل ہونے کے باوجود انتہائی شفیق ،طلبائے کرام سے انتہائی محبت فرمانے والے تھے۔جامعہ فاروقیہ ہی نہیں،بلکہ وفاق کے ماتحت چلنے والے ہزاروں دینی مدارس حضرت مولانا کے روحانی فیض سے مستفید ہو ئے۔تحریک سواداعظم اہل سنت ہویاوفاق کی صدارت، مولانا ہرجگہ نمایاں نظرآتے تھے۔بڑے بڑے اکابر علمائے عظام حضرت مولانا کے در اقدس پرقدم بوسی اوردعاؤں کے حصول کے لیے تشریف لاتے ۔ملکی اوربین الاقوامی مسائل میں اُن سے راہ نمائی لیتے۔پاکستان ہی نہیں،بلکہ پوری دنیامیں مولانا کے ہزاروں ایسے شاگرد ہیں جودنیامیں امتیازی شان کے مالک ہیں اوردنیاان سے راہ نمائی لیتی ہے۔

راقم 1977ء میں جامعہ فاروقیہ میں داخل ہوا۔حضرت مولانا سے مشکوة شریف، بخاری شریف،ترمذی شریف پڑھنے کاشرف حاصل ہوا۔ مولاناکے تربیتی اندازاورشفقت ومحبت کو ایساہی پایاجوصرف علمائے دیوبندکاخاصہ تھا۔مولانا ایک میٹھے پھل داردرخت کی مانندتھے، جس کے ثمرسے ہر شخص مستفیدہوا۔مختلف مدارس میں تدریس کے بعد انہوں نے دینی درس گاہ جامعہ فاروقیہ قائم کی ۔یہ ادارہ کونپل سے پودابنااورپودے سے ایک شجرسایہ دار،جس کے سایہ میں ہزاروں کی تعدادنے استراحت فرمائی اوراس کے شیریں پھل سے ان گنت لوگوں نے لذت پائی۔مولانانے اس ادارے کی ایسے آبیاری کی وہ ایک شجرہی نہیں، بلکہ گلستان بن گیا،جس میں رنگ ہارنگ پھول ،پودے اورشجرلہلہارہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگ جب دنیاسے رخصت ہوتے ہیں تواپنے خاندان یاگھرکے افرادکوسوگوارچھوڑجاتے ہیں ۔لیکن مولانا ایسی خوش نصیب شخصیت ہیں کہ ان جیسے خوش نصیب لوگ دنیامیں خال خال آئے ہیں،جواپنے پیچھے لاکھوں روحانی فرزندوں کوالوداع کہہ کر اس دنیائے فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرماگئے۔مولانا دینی غیرت میں اس شعرکے مصداق تھے #
        تمنا ہے کہ اس دنیا میں کوئی کام کر جائیں
        اگر ہو سکے تو خدمت اسلام کر جائیں
        جس کام کے لیے آئے وہ کام نہ بگڑے
        سر جائے تو جائے مگر اسلام نہ بگڑے

حضرت مولانا رحمہ اللہ اس لحاظ سے بھی بڑے خوش نصیب ہوئے کہ ان کے دوہونہارفرزند مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب اورمولاناعبیدالله خالد صاحب اس وقت حضرت کی نیابت کے فرائض بخوبی سرانجام دے رہے ہیں ۔مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب ملائشیا اورحضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب جامعہ فاروقیہ کراچی میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔میں سمجھتاہوں کہ مولانا کامیرے ساتھ خصوصی مشفقانہ تعلق تھا،دیگروجوہات کے ساتھ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں اورمولانا ڈاکٹر محمدعادل خان صاحب ہم سبق اوررفیق کار تھے۔

جامعہ فاروقیہ سے جب میں نے دورہ حدیث کے ساتھ درس نظامی کی تکمیل کی تو مولانانے مجھے اپنے گھربلایااورپوچھا کہ آپ کاکیاارادہ ہے؟میں نے عرض کیاکہ باغ شہرمیں دینی مدرسہ ہے، جس کے مہتمم میرے ماموں حضرت حافظ عبداللہ ہیں، انھوں نے مجھے حکم دیاہے کہ تبلیغی جماعت میں چلہ لگاکرگھرآئیں اوراس ادارے میں کتابیں پڑھانی ہیں۔اس بناپر میرا ارادہ تعمیل حکم کاہے۔حضرت استاد محترم نے فرمایاکہ جتنے بھی دینی مدارس ہیں وہ دین کے قلعے ہیں، میں ان سب کے لیے دعاگوہوں۔آپ میرے کہنے پر ایک سال تدریس چھوڑدیں اوریہ سال تبلیغی جماعت میں لگائیں۔میں خاموش ہوگیاتومولانا پوچھنے لگے کہ آپ کوکوئی عذرہے؟میں نے عرض کیاکہ حضرت میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔گھر والوں نے اتنی رقم دی ہے جس سے صرف ایک چلہ لگ سکتاہے۔فرمانے لگے کہ اس راستے میں کسی کے سہارے نہیں چلاکرتے۔قرض لے کرچلناچاہیے۔قرض میں دوں گااورآپ تشکیل میں جہاں کہیں بھی ہوں گے میں وہیں پیسے پہنچادیاکروں گا،آپ پانچ روپے کے حسا ب سے یہ قرض میری نسلوں کوواپس کردینا۔یہ کہہ کرمولانانے پندرہ سوروپے مجھے دیے اورفرمایاکہ یہ پہلی قسط ہے۔مولانا درمیان سال بھی مجھے پیسے بھیجتے رہے اورجب خود رائیونڈ تشریف لائے تووہاں بھی پیسے دیے۔ دوسال بعد ہماری دستاری بندی ہوئی ۔حضرت مولانامفتی محمودرحمہ اللہ اس موقع پر تشریف لائے اور دستاربندی فرمائی۔دوسرے دن مولانا سے اجازت لے کرجب میں رخصت ہونے لگااورمیں نے قرض واپس کرنا چاہا تو مولانا پوچھنے لگے یہ کیاہے ؟میں نے عرض کیاجوآپ نے جماعت میں جانے کے لیے قرض دیاتھاوہ ہے۔حضرت ہنس کرفرمانے لگے کہ قرض معاف کرنے کابھی تومجھے حق ہے۔حضرت مولانانے مجھے پیسے واپس کر دیے۔شہرباغ میں جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن کے ساتھ ہم نے جامعہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قائم کیا،اس کے افتتاح میں مولاناکومدعوکیا۔مولانا نے واپس جاکر مجھے خط لکھاکہ مجھے ادارہ دیکھ کرخوشی بھی ہوئی اورحیرانگی بھی۔ خوشی توادارہ دیکھ کرہوئی اورحیرانگی اس پرہوئی کہ اس پسماندہ علاقہ میں اتنااچھا ادارہ آپ نے کس طرح تعمیرکروایا؟!پھرمجھے لکھاکہ آپ اپنی صحت کاخیال رکھیں اورکھاناوقت پرکھائیں۔ایک مرتبہ میں کراچی گیا۔مولاناسے ملاقات کی ۔مولانا اس وقت کسی سفرپر جارہے تھے۔میں واپس آگیا تومولانا نے باغ ادارہ میں فون کیا۔میرے برادرمحترم بابوالیاس رحمہ اللہ نے فون اٹھایا۔مولانا نے میرے متعلق دریافت کیاکہ امین الحق کراچی آئے تھے، وہ پریشان لگ رہے تھے ۔ برادرمحترم بابوالیاس نے جواباعرض کیاکہ حضرت اساتذہ کی دوماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی باقی تھی، جس پر وہ پریشان تھے ۔ مولانا نے فرمایاکہ یہ دوماہ کی تنخواہ میں اداکروں گا،ان سے کہناکہ پریشان نہ ہوں اوررقم بھیج دی #
        جیتے جی نہیں کچھ قدر انسان کی
        یاد آتی ہیں اُن کی وفائیں ان کے چلے جانے کے بعد

جب میں ابتدا میں جامعہ فاروقیہ میں داخل ہوااس دوران صدرکراچی میں کسی شخص نے جامعہ فاروقیہ کے لیے رقم بھیجناتھی۔حضرت مولانانے مولانایوسف کشمیری دامت برکاتہم کوحکم دیاکہ آپ وہ رقم لے آئیں۔مولانایوسف صاحب نے مجھے بھیجاکہ رقم لے آئیں۔حضرت نے جب مولاناکودیکھاکہ وہ صدرنہیں گئے تودریافت کیاکہ رقم لانے کا کیا ہوگا؟ مولانایوسف صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں نے طالب علم بھیج دیاہے ۔مولانا نے حیرانی سے پوچھاکہ طالب علم بھیجاہے؟مولانایوسف صاحب نے عرض کیاکہ حضرت قابل اعتماد طالب علم بھیجاہے۔جب میں واپس آیاتومولانا بہت خوش ہوئے اوردلاسادیا۔8/اکتوبرکے زلزلہ میں حضرت مولاناشیخ سلیم اللہ خان صاحب اوردیگراکابرین کراچی سے باغ ادارہ میں تشریف لائے، جن میں حضرت مولانامفتی رفیع عثمانی صاحب، مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب، مولاناقاری محمد حنیف جالندھری صاحب اور جامعہ بنوری ٹاؤن کے ناظم تعلیمات تھے۔جامعہ بنوری ٹاؤن کے ناظم تعلیمات زلزلہ کی تباہ کاری اورادارہ کی صورت حال دیکھ کرآبدیدہ ہوگئے۔ اس موقع پر حضرت نے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اورادارہ کے ساتھ مالی تعاون بھی فرمایا۔حضرت مولانا نے مجھے آزادکشمیرمیں وفاق کانمائندہ مقرر فرمایا۔دیگرمقامی معاملات میں بھی مولانا مجھ سے رائے لیتے رہتے۔ بعد میں چنداعذارکی وجہ سے وفاق کی ذمہ داری چھوڑ دی۔حضرت مولانانے ہمیشہ ہمارے سروں پر دست شفقت رکھا ۔ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اورہماری راہ نمائی فرماتے رہے۔

وہ ہمارے درمیان اپنی خوش گوار یادیں چھوڑکراس دنیائے فانی سے اُفق کے پارچلے گئے۔
        ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
        بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.