جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

معرکہٴ وجود میں بدرو”حنین“ بھی ہے عشق!

مولانا خالد سیف الله رحمانی

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اُمت کے لیے اسوہٴ اورنمونہ ہے، اسی لیے آپ کو مشقتوں اور آزمائشوں سے بھی گزارا گیا اور فتح مندی وکام یابی کے ساتھ ساتھ عارضی شکست وہزیمت سے بھی آزمایا گیا، تاکہ اُمت جس طرح کے حالات سے بھی دو چار ہو، آپ کی حیات طیبہ کو اپنے لیے نمونہ بنائے اور اسوہٴ محمدی کے آئینہ میں اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرے، اس لیے سیرت نبوی میں جہاں ہمیں بدرو فتح مکہ کے واقعات ملتے ہیں، وہیں احد اور حنین کی داستانیں بھی ملتی ہیں کہ اس کے بغیر عشق وجاں نثاری کا امتحان مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔غزوہٴ حنین کا ذکر خود قرآن مجید میں سورہٴ توبہ کی آیت 26-25 میں آیا ہے، حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام کا نام تھا، اب اس نام سے کوئی آبادی موجود نہیں ہے، لیکن عہد نبوی میں یہ مشہور جگہ تھی اور اس وادی کے گردوپیش بازار بھی لگا کرتے تھے، حنین میں قبیلہٴ ہوازن آباد تھا، جو تیراندازی میں طاق سمجھا جا تا تھا، یہ قبیلہ قریش مکہ سے رقابت کا جذبہ پہلے ہی سے رکھتا تھا، جب مکہ سے اسلام کا سورج طلوع ہوا تو بنو ہوازن اور بنو ثقیف دونوں ہی نے اس کی شدت سے مخالفت کی۔

جب مکہ فتح ہوا، تو بنو ہوازن اور بنو ثقیف کو خیال ہوا کہ اب اس طوفان کا رُخ ہماری طرف ہوسکتا ہے، چناں چہ مالک بن اوس کی قیادت میں دونوں قبیلوں کے جنگ جو وادیٴ اوطاس میں جمع ہو گئے، ان بہادر جنگجوؤں کی تعداد چار ہزار تھی، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ان تیاریوں کی اطلاع مل چکی تھی، اندیشہ تھا کہ وہ مکہ کی طرف بڑھیں اور خطرہ تھا کہ کہیں اس سے مکہ کے شورش پسندوں کو موقع نہ ہاتھ آجائے، اس لیے مکہ کی مہم سے فارغ ہو کر آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس غزوہ کی تیاری فرمائی، دس ہزار جاں نثار تو پہلے ہی سے آپ کے ساتھ تھے، مکہ کے نو مسلموں کو ملا کر بارہ ہزار کی تعداد ہو گئی، جن میں ایسے مشرکین بھی تھے، جو محض مالِ غنیمت کی لالچ میں شامل ہو گئے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے صفوان بن اُمیہ سے، جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، بطور عاریت مزید اسلحہ حاصل کیا او رمکہ کے مختلف لوگوں سے ایک لاکھ تیس ہزار درہم سامان جنگ کے لیے بطور قرض بھی حاصل فرمایا ،غرض کہ اب تک غزوات میں سب سے زیادہ تیاری او رمجاہدین کی کثیر تعداد کے ساتھ لشکر اسلام حنین کی طرف بڑھنے لگا۔

دس شوال، منگل کے دن، شام کے وقت یہ لشکر وادی میں داخل ہوا، آپ نے صبح کے انتظار میں وہیں قیام فرمایا، دشمنوں نے راتوں رات پہاڑیوں پر اپنے مورچے بنا لیے، گھاٹی کے سرے پر ماہر تیر انداروں کو بٹھا دیا، جب لشکر اسلام آگے بڑھا او رایک تنگ راستہ سے اس کا گزر ہونے لگا تو چھپے ہوئے تیر اندازوں نے اس طرح تیر کی بارش شروع کر دی کہ گویا منِہ برس رہا ہے، صفیں درہم برہم ہو گئیں اور لوگوں کے قدم اکھڑ گئے، لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم چٹان کی طرح جمے رہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے نعرے لگائے #
        انا النبی لا کذب، أنا ابن عبدالمطلب
”میں نبی ہوں ،اس میں کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“

اس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ چچا حضرت عباس، چچازاد بھائی حضرت ابوسفیان بن حارث، سیدنا حضرت علی او رحضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ تھے، دشمن بار بار آپ صلی الله علیہ وسلم تک پہنچنے کی کوشش کرتے اور یہ جانثار انِ شمعِ نبوت ان کے قدم روک دیتے، پھر جب آپ صلی الله علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کو آواز دی اور آپ کے حکم سے حضرت عباس رضی الله عنہ نے صدا بلند کی تو پورا مجمع واپس آگیا اور بنو ہوازن کو شکست فاش ہوئی، چھ ہزار مرد، عورتیں اور بچے قید ہوئے اوراونٹوں، بکریوں اور چاندی کی ایک بڑی مقدار مجاہدین کے ہاتھ آئی۔

اس غزوہ سے پہلے مسلمانوں کی تیاریوں اور بنو ہوازن کی تعداد کی قلت کو دیکھتے ہوئے بعض حضرات کو یہ خیال ہوا کہ آج مسلمانوں کو شکست نہیں ہوسکتی اور یہ خیال بعض حضرات کی زبان تک پہنچ گیا، الله تعالیٰ نے اس پر تنبیہ فرمائی اور حنین کی ابتدائی شکست بظاہر اس کی پاداش میں ہوئی، چناں چہ الله تعالیٰ نے فرمایا:

” الله ا س سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے، ابھی غزوہ حنین کے روز اس کی دست گیری کی شان تم دیکھ چکے ہو، اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا، مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی او رتم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے، پھر الله نے اپنی سکینت اپنے رسول اور مؤمنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے، جو تم کو نظر نہ آتے تھے او رمنکرین حق کو سزا دی ، یہی بدلہ ہے ان لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں۔“ (التوبہ:26-5)

طائف بنو ثقیف کا مسکن تھا، انہوں نے حنین میں شکست کھا کر طائف کا رُخ کیا، بنو ثقیف کے بچے کھچے لوگ، نیز فوج کا پر جوش جو ان سپہ سالار مالک بن عوف بھی یہیں قلعہ بند ہو گیا او رکافی دنوں قلعہ کا محاصرہ جاری رہا، اہل سیرت نے اس کی مدت پندرہ دنوں سے چالیس دنوں تک کی لکھی ہے، بارہ صحابہ شہید ہو گئے، لیکن بنو ثقیف اور بنو ہوازن نے ایسی سخت تیر اندازی کی اور بعض نئے ہتھیار استعمال کیے، جس کے ذریعہ دور سے پتھر برسائے جاسکتے تھے اور قلعہ کی دیوار میں شگاف ڈالے جاسکتے تھے، منجنیق سے آگ بھی پھینکی جاتی تھی، لیکن اہل طائف کی کوشش کے سامنے کام یابی نہیں ہو سکی اور اشارہٴ غیبی ہوا کہ اس وقت یہ مہم ترک کر دی جائے، چناں چہ آپ صلی الله علیہ و سلم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے او رجاتے ہوئے ”جعرانہ“ میں رکے، یہیں سارا مال غنیمت آچکا تھا، دس روز تک آپ صلی الله علیہ وسلم نے اہل ہوازن کا انتظار کیا کہ شاید وہ اپنے سامان اور عورتوں کے لیے آئیں، لیکن نہیں آئے، تب آپ صلی الله علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کی تقسیم فرمائی اور زیادہ تر مال مکہ کے نو مسلموں اور دوسرے نو مسلم سرداروں کو عنایت فرمایا، تاکہ وہ پوری طرح اسلام پر ثابت قدم ہو جائیں ،عام مہاجرین نیز انصار کو اس مالِ غنیمت سے کوئی خاص حصہ نہیں دیا گیا۔

فطری طور پر انصار کے درمیان اس کا بڑا چرچا تھا، انہیں احساس ہوا کہ مکہ فتح ہونے کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم کی قربت اپنے شہر کے لوگوں سے بڑھ گئی ہے اور ہماری قربانیوں کی اہمیت کم ہو گئی ہے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے انصار کو ایک خیمہ میں جمع فرمایا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ردیافت فرمایا: اے گروہ انصار! یہ کیا بات ہے، جو تمہارے بارے میں مجھ تک پہنچی ہے ؟ انصار کے بزرگ اور ذمہ دار افراد نے عرض کیا: کچھ نوجوانوں کے احساسات ہیں، جو آپ صلی الله علیہ وسلم تک پہنچے ہیں، پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے نہایت ہی مؤثر خطاب فرمایا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے کہا: اے جماعت انصار!کیا یہ حقیقت نہیں کہ تم گم راہ تھے اور الله نے میرے ذریعہ تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ تم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور الله نے میرے ذریعہ تمہارے شکستہ دلوں کو جوڑا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ تم مفلس اور نادار تھے، الله نے میری وجہ سے تمہیں غنی اور مال دار بنایا؟ انصار ہر سوال کے جواب میں کہتے جاتے:”بے شک یہ الله اور اس کے رسول کا احسان ہے۔“

پھر آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہوا، تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ کے لوگوں نے آپ کو جھٹلایا اور ہم نے آپ کی تصدیق کی، تم کہہ سکتے ہو کہ آپ کے لوگوں نے آپ کو بے یارومدد گار چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کے ہاتھ تھامے، تم کہہ سکتے ہو کہ آپ کے لوگوں نے آپ کو گھر سے نکا ل دیا تھا اور ہم نے آپ کو پناہ دی، تم کہہ سکتے ہو کہ آپ بے سروسامانی کی حالت میں تھے اور ہم نے آپ پر اپنے مال نثار کیے، اگر تم ایسا کہو گے تو سچ کہو گے، لیکن اے گروہ انصار! تم متاع دنیا کے لیے رنجیدہ اور ملول خاطر ہو، میں نے کچھ نو مسلموں کو اسلام پر ثابت قدم رہنے کے لیے ان کے ساتھ دل داری کی ہے او رتم کو تمہارے ایمان کے حوالے کر دیا، کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ لوگ اونٹ، بکریاں اور چوپائے لے کر جائیں اور تم اپنے ساتھ الله کے رسول کو لے جاؤ؟ خدا کی قسم! جو تم لے کر اپنے گھر جاؤگے ، وہ اس سے بہتر ہے، جسے وہ لے جائیں گے، اس ذات کی قسم! جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، اگر ہجرت کا درجہ بڑا نہیں ہوتا، تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اگر تمام لوگ ایک راستہ چلیں اور انصار ایک گھاٹی کو اختیارکریں، تو میں انصارکے ساتھ چلنا پسند کروں گا، انصار میرا شعار، یعنی” جسم سے لگا ہوا کپڑا“ ہیں اور دوسرے لوگ ”دثار“ یعنی ”کپڑے کا بیرونی حصہ“ ہیں ، آپ صلی الله علیہ وسلم کا یہ خطاب اتنا مؤثر اور دل گداز تھا، کہ کوئی آنکھ نہ تھی، جو اشک بار نہ ہو اور کوئی داڑھی نہ تھی، جس نے آنسوؤں سے وضو نہکیا ہو، حاضرین کی ہچکیاں بندھ گئیں اور وہ پکار اٹھے، کہ ہمیں رسول عربی چاہیے اور کچھ نہیں چاہیے۔

غزوہٴ حنین وطائف کے اس واقعہ میں عبرت وموعظت کے کئی پہلو ہیں
٭…اسباب ووسائل کا استعمال کرنا ایمان وتوکل کے خلاف نہیں، اس لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے غزوہٴ حنین کے لیے بھرپور تیاری کی اور محاصرہٴ طائف میں منجنیق بھی استعمال کی اور واقعہ کی تفصیلات کے مطابق چمڑے کی بکتر بند گاڑیاں بھی استعمال کی گئیں۔
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان اپنی کسی مہم میں غیر مسلموں سے بھی مدد لے سکتے ہیں، آپ نے مشرکین مکہ سے قرض لیا، صفوان بن امیہ سے ہتھیار لیا اور غیر مسلم سپاہیوں کو بھی اپنے ساتھ شریک فرمایا۔
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ اسباب ووسائل اختیار تو کرنا چاہیے؛ لیکن کبھی بھی ان پر ناز نہ ہو او رعجب وپندار پیدا نہ ہو جائے، ہمیشہ اپنے پروردگار پر نظر رہے، حنین کے موقع سے بعض لوگوں کو اپنی عددی کثرت پر بھروسہ ہو گیا تو الله تعالیٰ نے باضابطہ تنبیہ فرمائی۔
٭…جو لوگ ہدایت سے محروم ہیں، ان کے تئیں مسلمان کے دل میں ہم دردی ، بہی خواہی اور محبت کا جذبہ ہونا چاہیے کہ انہیں ایمان کی نعمت میسر ہو جائے ، چناں چہ دیکھیے کہ صحابہ رضی الله عنہم نے بنو ثقیف کے لیے بد دُعا کی خواہش کی، لیکن آپ ا نے ان کے حق میں ایمان اور ہدایت کی دعا فرمائی۔
٭…مسلمانوں کو میدان جنگ میں جس قدر بہادر ہونا چاہیے، صلح کی میز پر اسی قدر فراخ دل اور فیاض بھی ہونا چاہیے، قبیلہ ٴ بنی ہوازن کا مقابلہ بھی بے جگری سے کیا گیا اور جب ان کا وفد مدینہ آیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے پوری فیاضی سے کام لیتے ہوئے، ان کے قیدی ان کو واپس بھی کر دیے۔
٭… اسلام کی اشاعت، فتنہ سے حفاظت اور حق پر استقامت کے لیے تعاون کرنا بھی سنت نبوی ہے، جیسا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مکہ کے نو مسلموں کے ساتھ معاملہ فرمایا، آج مسلمانوں کو اس طریقہ کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور یہ مزاجِ شریعت کے عین مطابق ہے۔
٭…اسلام رشتہ وپیوند کا اسیر نہیں، یہ آفاقی مذہب ہے، اسلامی اُخوت کا رشتہ تمام رشتوں سے بڑھ کر ہے اور خدا اور اس کے رسول کی خوش نودی اصل مقصود ہے، اس کے مقابلہ متاعِ دنیا کی کوئی اہمیت نہیں، یہی وہ حقیقت ہے، جس نے چند فقروں میں انصار کے شکوہ کو دور کر دیا۔
٭…رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انصار کی تمام قربانیوں کا صاف طور پر ذکر فرمایا اور واضح طور پر اس کا اعتراف کیا، اس سے اقرار واعتراف کا سبق ملتا ہے، اُمت کے جس شخص اور جس گروہ نے جو خدمت انجام دی ہو، اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے اور اس کے اظہار میں کوئی تکلف نہ ہونا چاہیے اور اس سلسلہ میں ذہنی تحفظ سے کام نہ لینا چاہیے، اعتراف سے حوصلہ بڑھتا ہے، محبت میں اضافہ ہوتا ہے او راتحاد واتفاق کو تقویت پہنچتی ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.