جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

گھریلو ماحول کو درست کرنے کی ضرورت واہمیت

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم بسم الله الرحمٰن الرحیم﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیکُمْ نَارًا﴾ صدق الله مولٰنا العظیم․

میرے محترم بھائیو! بزرگو اور دوستو! قرآن کریم میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے اے ایمان والو!﴿قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیکُمْ نَارًا﴾ اپنے آپ کو اوراپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔قُوا بچاؤ أَنفُسَکُمْ اپنے آپ کووَأَہْلِیکُمْ او راپنے گھر والوں کو نَارًا جہنم کی آگ سے۔

الله رب العزت نے یہ کائنات بنائی ہے، مجھے، آپ کو، تمام انسانوں کو پیدا کیا اور یہ بات بار بار تکرار کے ساتھ آپ کے سامنے عرض کی گئی ہے کہ ہمارا یہاں کا قیام بہت لمبا نہیں ہے اور اسی طرح ہمارا یہاں کا قیام بے مقصد نہیں ہے، الله تعالیٰ نے ایک خاص مقصد سے ہمیں اس دنیا میں بھیجا اور پیدا فرمایا او روہ مقصد ہے۔

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ﴾ ․ ترجمہ:” میں نے انسانوں او رجنات کو پیدا نہیں کیا، مگر اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی، میری عبدیت اختیار کریں۔

چناں چہ یہ جو مقصد ہے اس مقصد سے ہم غافل ہیں، عمومی طور پر آپ دیکھیں گے لوگ بھاگ رہے ہیں ،دوڑرہے ہیں، محنت کرر ہے ہیں، یہ جتنی بھاگ دوڑ ہے ساری دنیا کی غرض سے ہے۔

ہماری اس بھاگ دوڑ ، ہماری اس محنت اور کوشش سے محسوس نہیں ہوتا کہ اس آدمی کو یہاں سے جانا ہے، جو جانے والے لوگ ہوتے ہیں ان کا انداز الگ ہوتا ہے، ان کا طرز عمل الگ ہوتا ہے، چناں چہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم اس سے بالکل غافل ہیں کہ ہمارے ساتھ قبر میں کیا ہو گا، میری بیوی کے ساتھ قبر میں کیا ہو گا؟ میرے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ قبر میں کیاہو گا کسی کو اس کی فکر نہیں، کوئی اس بارے میں کسی غم میں مبتلا نہیں، میں نے پہلے کئی مرتبہ عرض کیا کہ ہم اپنی ذات اور اپنی اولاد کے حوالے سے دنیا کے معاملات میں کتنے حساس ہیں، ایک آدمی کراچی کا رہنے والا ہے، کسی کام سے لاہور گیا، کسی کام سے راولپنڈی گیا، کسی کام سے پشاور گیا اور کچھ ایسے بھی ہیں، جو دبئی، لندن چلے جاتے ہیں، وہ وہاں سے اپنے گھرو الوں سے مسلسل رابطے میں ہیں کہ بچے سکول جارہے ہیں؟ نہیں جارہے ؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟ اگر گھر کی گاڑی ہے او رگھر کا ڈرائیور ہے، تو ڈرائیور وقت پر آرہا ہے؟ بچوں کو وقت پہ سکول لے جارہا ہے؟ کبھی آپ نے یہ بھی سنا کہ کوئی لندن جاکے، دبئی جاکے، لاہور جاکے، راولپنڈی جاکے گھر فون کرتا ہو کہ بیگم بچے نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے آج فجر کی نماز پڑھی ؟رات کو سونے سے پہلے آپ نے عشاء کی نماز پڑھ لی تھی؟ کیوں بھائی! ہمارے ماحول میں ایسا ہے؟

ہاں! بجلی کی فکر ہے، لائٹ آرہی ہے؟ گیس آرہی ہے؟ گھر میں کھانے پینے کی تنگی تو نہیں ہے؟ یہ پتہ کرتے ہیں، لیکن دین کی کوئی فکر نہیں، ذرا برابر اس کی فکر نہیں کہ بیوی نماز پڑھتی ہے یا نہیں پڑھتی؟ بیٹے نماز پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے؟ بیٹیاں نماز پڑھتی ہیں یانہیں پڑھتیں، گھر میں حیاء کا ماحول ہے یا بے حیائی کا ماحول ہے ؟ گھر میں کوئی قرآن پڑھنے والا ہے یا نہیں ہے؟

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ﴾ اے ایمان والو! اپنے آپ کو بچاؤ او راپنے گھر والوں کو بچاؤ، کس سے بچاؤ، نارا جہنم کی آگ سے۔

یہ زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے، بہت مختصر ہے اور سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”ألا کلکم راع“ آگاہ ہو ، خبردار !تم میں سے ہر شخص نگران، نگہبان، ذمہ دار ہے” وکلکم مسئول عن رعیتہ“(الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الأحکام، باب قول الله تعالیٰ:وأطیعوا الله وأطیعوا الرسول، رقم:7138) اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

شوہر سے پوچھا جائے گا، باب سے پوچھا جائے گا، بھائی سے پوچھا جائے گا، برسوں سے نماز پڑھ رہا ہے، جماعت کے ساتھ پڑھ رہا ہے، لیکن انہوں نے اپنی بیوی سے کبھی نہیں پوچھا نماز کا، نہ انہوں نے بیٹوں سے کہا کہ میں مسجدنماز کے لیے جارہا ہوں، بیٹے اگر بڑے ہیں تو چلو بھئی نماز کے لیے، پیار سے، محبت سے، ترغیب دے کر۔

میں نے عرض کیا کہ ہماری تمام تر کوشش دنیا، دنیا، جب کہ یہ دنیا بے وفا ہے، یہ ساتھ نہیں دیتی، یہ بیوی ساتھ نہیں رہے گی، یہ بیٹے، بیٹیاں ساتھ نہیں رہیں گے، یہ مال دولت یہیں رہ جائے گا۔

موت کسی بھی وقت آسکتی ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اتنے برس موت سے بچا رہوں گا، ہوسکتا ہے کہ آج کی رات ہماری اپنے بستر کے بجائے قبر میں ہو، کیوں بھئی! ایسا ہے یا نہیں ہے؟ اور موت جو ہر وقت ہمارا پیچھا کر رہی ہے، اس کے لیے نہ بوڑھا ہونا ضروری ہے ،اس کے لیے نہ بیمار ہونا ضروری ہے، صحت مند، بہترین صحت مند وہ مر جاتے ہیں، ہر آدمی اپنے اپنے دوستوں، رشتہ داروں میں دیکھے، صبح شام کے واقعات ہیں کہ فلاں آدمی بالکل صحت مند، رات کو سویا اور صبح نہیں اٹھا ۔

موت کا عبرت ناک واقعہ
ہمارے ایک دوست تھے کراچی کے ، انہوں نے اپنے بیٹے کو امریکا بھیجنے کے بجائے دبئی میں ،ایک امریکی یونی ورسٹی میں داخل کردیا کہ امریکا تو بہت دور ہے، یہ قریب ہے، آتا جاتا رہے گا، ہم بھی آتے جاتے رہیں گے، یونی ورسٹی امریکا ہی کی ہے، کہا کہ بیٹے کا فون آیا کہ دو دن کی چھٹی ہے، میں آپ حضرات سے ملنے گھر آرہا ہوں، انہوں نے کہا ضرور آؤ، ٹکٹ کٹوا دیا، ایئرپورٹ پہنچے، بیٹے نے ایئرپورٹ پہنچ کر فون کیا کہ میں ایئرپورٹ آگیا ہوں، اتنی دیر بعد فلائٹ ہے، ایئرپورٹ پر امیگریشن سے گزرنے کے بعد انتظار گاہ آیا، وہاں سے پھر فون کیا کہ میں سارے مراحل سے گزر گیا ہوں، انتظارگاہ میں ہوں، اس کے بعدجہاز کے اندر آئے، سیٹ پر آئے، ابھی جہاز روانہ نہیں ہوا، وہاں سے فون کیا، آج کل تو ہر آدمی کے پاس موبائل فون ہے، وہاں سے فون کیا کہ میں جہاز کے اندر آگیا ہوں اور بس اب جہاز اڑنے والا ہے۔

تھوڑی دیر بعد ماں باپ ایئرپورٹ آئے کہ اتنی دیر کی فلائٹ ہے ایئرپورٹ پہنچ جائیں، وقت ہوا جہاز اترنے کا، مسافر نکل رہے ہیں، ایک دو تین، ماں باپ دیکھ رہے ہیں بیٹا آئے گا، اب آئے گا ،اب آئے گا، بیٹا نہیں آیا، پریشان، رابطہ کیا کہ بھئی! ہمارا بیٹا امارات ایئرلائن میں آرہا تھا، وہ نہیں آیا، انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جب بات سنجیدہ ہو گئی تو انہوں نے شور مچایا کہ میرے بیٹے نے جہاز کے اندر سوار ہو کر مجھے فون کیا، وہ کہاں ہے؟ تو پھر بڑے افسران آئے او رانہوں نے بتایا کہ دوران پرواز آپ کا بیٹا انتقال کر گیا۔

یہ کیا ہے؟ موت ، صحت مند، ٹھیک ٹھاک، کوئی مسئلہ نہیں تو میرے دوستو!موت ہر وقت سر پر کھڑی ہوئی ہے اور موت کے بعد پہلی منزل قبر ہے، اور قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے:”قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا القَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِیَاضِ الجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ“․(سنن الترمذی، ابواب صفة القیامة، رقم الحدیث:2460)

اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس جہنم کے گڑھے سے بچاؤ، اس کی فکر آپ کریں گے۔ اگر آگ لگ جائے، تو سب لوگ دوڑتے ہیں بچاؤ، جتنی مدد کرسکتے ہیں، مدد کرتے ہیں۔

میرے دوستو! یہ دنیا کی آگ ہے اور جو آخرت او رجہنم کی آگ ہے، وہ تو بہت خوف ناک ہے۔

حضرت عثمان رضی الله عنہ …جب ان کے سامنے قبر کا ذکر آتا تو وہ بہت روتے، اتنا روتے، اتنا روتے کی داڑھی تر ہو جاتی ۔ کسی نے پوچھا کہ آپ کے سامنے آخرت کے او رمناظر کا ذکر کیا جاتا ہے، ان پر آپ اتنا نہیں روتے، قبر کے تذکرے پر آپ بہت روتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ یہ سب سے پہلی منزل ہے، اگر اس منزل میں کام یاب ہو گئے تو ساری منزلیں آسان، اور اگر اس میں ناکام ہو گئے تو پھر ساری منزلیں ناکام۔

”عَنْ ہَانیٍٴ، مَوْلَی عُثْمَانَ، قَالَ: کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِذَا وَقَفَ عَلَی قَبْرٍ یَبْکِی حَتَّی یَبُلَّ لِحْیَتَہُ، فَقِیلَ لَہُ: تَذْکُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَلَا تَبْکِی، وَتَبْکِی مِنْ ہَذَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْہُ، فَمَا بَعْدَہُ أَیْسَرُ مِنْہُ، وَإِنْ لَمْ یَنْجُ مِنْہُ، فَمَا بَعْدَہُ أَشَدُّ مِنْہُ․ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَیْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْہُ“․ (سنن ابن ماجہ، ابواب الزھد، باب ذکر القبر، رقم:4267)

میں عرض کر رہاہوں کہ یہ جو صورت حال ہے یہ بہت خوف ناک ہے ، پہلے زمانوں میں کسی نہ کسی درجے میں احساس ہوتا تھا، اب تو بالکل ختم ہو گیا ہے اور اس کا جو حل ہے وہ یہ ہے کہ دین کا تذکرہ ہو، دین کی بات ہو۔

گھر کا ماحول درست کرنے کا طریقہ
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے کسی سائل کے جواب میں اس نے سوال کیا کہ میرے گھر کا ماحول اچھا نہیں ہے کیا کروں؟

تو حضرت نے فرمایا کہ کوئی دینی کتاب لے کے بیٹھ جایا کرو اور اس کو تھوڑی سی آواز سے پڑھنا شروع کرو، اس نے کہا کہ سننے نہیں آئیں گے۔ حضرت نے فرمایا کہ ایک دفعہ، دو دفعہ، تین دفعہ نہیں آئیں گے، دین کی بات میں اثر ہے، وہ ضرور آئیں گے۔

میرے دوستو! جب دین کی بات نہیں ہوگی تو پھر کیا ہو گا؟ دین کی بات ہو، نماز کا تذکرہ ہو، دین کے تمام امور کا تذکرہ ہو۔

گھر میں بے حیائی آگئی ہے، ایک زمانہ تھا جب لوگ ہمیں بتاتے تھے کہ ہمیں ٹیلی ویژن کے سامنے بہوؤں، بیٹیوں کے ساتھ بیٹھنے میں شرم آتی ہے، اب ختم ہو گیا، اب بہوؤں، بیٹیوں کے سامنے وہ بے حیا مناظر دیکھتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی۔

باپ دیکھ رہا ہے، بیوی بھی بیٹھی ہے، جوان بیٹیاں بھی بیٹھی ہیں، بہوئیں بھی بیٹھی ہیں، بیٹے بھی بیٹھے ہیں، وہ اندر کا مبارک جذبہ جو آدمی کو روکتا ہے وہ ختم ہو گیا ہے۔

تو میرے دوستو! ایسی صورت میں کیسے الله کی مدد آئے گی؟ اس کی شدید ضرورت ہے، جو حضرات یہاں بیٹھے ہیں وہ دین کا کسی نہ کسی درجے میں گھر میں تذکرہ ضرور کریں، یہی مطلوب ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس حوالے سے ارشاد فرمایا کہ ہم جیسے فجر کی سنتیں پڑھتے ہیں، افضل یہ ہے کہ یہ سنتیں ہم گھر میں پڑھیں:”أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ الْمَرْء ِ فِی بَیْتِہِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِہِ فِی مَسْجِدِی ہَذَا، إِلَّا الْمَکْتُوبَةَ“․(سنن أبی داؤد، کتاب الصلوٰة، باب صلوٰة الرجل النظوع فی بیتہ، رقم:1044)

وفی البحرالرائق، والأفضل فی السنن أداء ھا فی المنزل إلا التراویح․ (البحرالرائق، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل:2/53)

تاکہ بیوی کو بھی نظر آئے، بیٹوں کو بیٹیوں کو نظر آئے، آپ مسجد میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، اچھی بات ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آپ وہ تلاوت اپنے گھر میں کریں، تھوڑی سی ہلکی سی آواز میں، اس کی اپنی برکات ہیں، بیوی بھی دیکھے گی، بیٹیاں بھی دیکھیں گی، بہوئیں بھی دیکھیں گی، گھر میں دین کا چرچا ہو، گھر میں دین کی باتیں ہوں، گھر میں دین کا تذکرہ ہو، تو بھائی جیسے دنیا، دنیا کرتے آج ہمارا گھر خالص دنیا والا گھر بن گیا ہے، ایسے ہی ہم تھوڑی تھوڑی محنت کریں گے ، تو امید ہے الله تعالیٰ کی ذات سے کہ اس گھر میں دین کی برکات آئیں گی۔

لیکن ہم کچھ بھی نہ کریں، ہم بالکل غافل ہو جائیں، بیٹی پردہ نہیں کرتی، ہمیں کوئی پروا نہیں، بیوی پردہ نہیں کرتی، کوئی پروا نہیں، بیوی بیٹیاں کوئی او رگناہ کر رہی ہیں کوئی پروا نہیں۔

تو میرے دوستو! اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ ان گناہوں پر اصرار کرکے اس میں سخت اور مضبوط ہوجاتی ہیں اور پھر آدمی کے کہنے کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔

اس لیے درخواست اور گزارش ہے کہ اپنے گھروں کے ماحول کو درست کریں ،ہم بے فکر نہ ہو جائیں،جیسے دنیا کیمعاملات میں باتیں کرتے ہیں، تذکرے کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں، اسی طرح اس کی بھی کوشش ہونی چاہیے اور یہ کوشش آہستہ آہستہ رہے گی تو اس کے مبارک اثرات آئیں گے، میں نے ابھی عرض کیا کہ قرآن کریم کی تلاوت گھر میں کریں، نوافل گھر میں پڑھیں، کوئی دینی تعلیم کا نظم گھر کے اندر رکھیں، فضائل اعمال ہے، نماز کے فضائل ہیں، تلاوت کے فضائل ہیں، ذکر کے فضائل ہیں تھوڑی دیر، پانچ منٹ، دس منٹ ہم پڑھیں، اس کے اثرات آئیں گے اور ہمارا گھر آفات سے، بلیات سے اور نامعلوم کیسے کیسے خوف ناک فتنے ہمارے گھروں کے اندر پیداہوگئے ہیں ان سے ہمارا گھر محفوظ ہو گا۔

آج صبح شام لوگ کہتے ہیں کہ کسی نے ہم پہ کچھ کر دیا ہے، میں ان سے کہتا ہوں کہ کسی نے آپ پہ کچھ نہیں کیا، آپ نے خود کیا ہے، آپ کے گھر کی عورتیں پاک ہیں؟ گھر کی عورتیں عمومی طور پر ناپاک ہوتی ہیں، طہارت کا اہتمام نہیں ، ان کے ماہواری کے معاملات ہیں، بچہ ہے، پیشاب کر دیا، بچی نے پیشاب کر دیا، فکر ہی نہیں، تو جب ناپاکی ہوگی، گھر ناپاک ہو گا، جسم ناپاک ہو گا، کپڑے ناپاک ہوں گے، بستر ناپاک ہو گا، تو فرشتے آئیں گے یا شیاطین آئیں گے؟!!

کسی نے کچھ نہیں کیا، آپ نے خود اپنے اوپر کیا ہوا ہے، اپنے آپ کو پاک رکھو، اپنے بچوں کو پاک رکھو، اپنی بیوی سے پاک رہنے کا اہتمام کرواؤ، اپنے گھر کو پاک رکھو، اپنے بستروں کو پاک رکھو، قرآن کریم کی تلاوت کرو، نماز کا اہتمام کرو، نوافل کا اہتمام کرو۔

اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ فرشتے آئیں گے، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ برکات آئیں گی، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آپس میں اتحاد واتفاق پیدا ہو گا؟

او رجب یہ نہیں ہو گا، تو پھر اس کا الٹ ہو گا او رجب اس کا الٹ ہو گا، تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی نے کچھ کر دیا، کسی نے کچھ نہیں کیا آپ نے خود کیا ہے۔

الله تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ﴾



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.