جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

استاذ الکل چل بسےانالله وانا الیہ راجعون

مولانا عبدالرشید ربّانی
جمعیت علماء برطانیہ

میرے مشفق استاذ، شیخ الکل، حضرت اقدس، صدر وفاق، استاذ المحدثین، حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب قدس سرہ العزیز ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور ہمیں یتیم کر گئے إنا لله وإناإلیہ راجعون ان لله ما اخذ، ولہ ما أعطیٰ وکل شیء عندہ بإجل مسمی، فلتصبر ولتحتسب․

میں اپنی طرف سے اور جمعیة علماء برطانیہ کی طرف سے حضرت کے اہل خانہ خصوصاً ڈاکٹر محمد عادل خان اور مولانا عبیدالله خالد سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں #
        آ عندلیب گلشن کریں آہ وزاریاں
        تو ہائے گل پکار میں پکاروں ہائے دل
اس قحط الرجال کے دور میں حضرت اقدس کا ہمیں چھوڑ کر خُلدکا سفر اختیار کرنا علمی دنیا کا سانحہٴ عظیم ہے۔
        وما کان قیس ھلکہ ھلک واحد
        ولکنہ بنیان قوم تھدما

سن1956ء میں پنجاب سے موقوف علیہ تک کتب پڑھ کر آیا تو دارالعلوم کراچی کورنگی میں دورہ حدیث کے لیے داخلہ لیا، اس وقت جامعہ دارالعلوم کراچی شہر سے باہر شرافی گوٹھ کورنگی کراچی میں منتقل ہوا تھا، جہاں پرریت اڑتی تھی، درس گاہیں پختہ تھیں، باقی مسجد اساتذہ کی رہائش گاہیں کوارٹرز کی شکل میں تھیں ،پانی کھارا تھا ،میٹھے پانی کا ٹینک باہر سے آتا تھا، ان مشکلات کے باوجود حضرت مفتی اعظم مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ العزیز کی زیر نگرانی اس دارالعلوم میں حضرت مفتی رشید احمد رحمة الله علیہ بخاری شریف ،حضرت استاذ الشیخ سلیم الله خان رحمةالله علیہ ترمذی شریف، مولانا اکبر علی صاحب مسلم شریف، حضرت قاری رعایت الله  ابوداؤد شریف، حضرت مولانا محمد ادریس نسائی شریف اور مؤطا دونوں حضرت مفتی اعظم مفتی محمد شفیع رحمہ الله پڑھاتے تھے۔ ظاہری اسباب ابتر تھے، مگر تعلیم وروحانیت کے لحاظ سے دارالعلوم بہت بڑا مرکز تھا۔

حضرت مفتی اعظم مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ العالی،حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ موقوف علیہ میں تھے، لیکن رہائشی کمرے ہمارے ساتھ ساتھ تھے اور اب تک دونوں سے مخلصانہ تعلقات ہیں، مجھ پر بڑی مہربانی فرماتے ہیں، حضرت الاستاذ اس وقت عالم شباب میں تھے، اس لیے دورہ حدیث کے طلبہ سے بے تکلف تھے، ان کی ترمذی شریف کے اسباق اتنے گراں قدر تھے کہ پھر ایسے نہ پہلے استاد ملے نہ بعد میں دیکھے، ہم نے موقوف علیہ میں تو جو مذاہب اربعہ کے مباحث پڑھے تھے وہ حضرت رحمة الله علیہ نے ترمذی شریف کے اسباق میں اس قدر تفصیل سے بیان کیے کہ اس کے بعدہمیں کوئی کتاب دیکھنے کی ضرورت زندگی بھر نہ پڑی، جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ چوں کہ دارالعلوم نانک واڑہ کراچی سے پہلی بار دارالعلوم شرافی گوٹھ کورنگی، لانڈھی منتقل ہوا تھا ، اس لیے دورہ میں 18/17 طلبہ تھے، اس میں تمام کتب میں عبارت پڑھنے والوں میں چار طلبہ تھے، احقر اور مولانا اشرف علی کراچی، مولانا عزیز الله ہزاروی اور رفیق الحسن مظفرآبادی، صحاح ستہ میں چوں کہ تلاوت حدیث زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا پڑھنے والے کی اونچی اورصاف آواز اور صحیح پڑھنے کو پسند کیا جاتا ہے، لہٰذا آپ درس گاہ میں جب تشریف لاتے تو سلام کے بعد بیٹھتے اور پھر فرماتے چلو مولوی صاحب، ہم نے آپس میں طے کیا ہوا ہوتا تھا کہ کون پڑھے گا۔ ایک مسئلہ میں جب اختلاف بین الائمہ بیان فرماتے تو12/10 توجیہات ذکر کرکے آخر میں احناف کے مسلک کو مدّلل ترجیح دیتے، چوں کہ بے تکلفی تھی، ہم بھی خوب سوالوں کا سلسلہ جاری رکھتے، بعض طلبہ سوال وجواب کے طویل سلسلہ کو پسند نہ کرتے، جس پر حضرت فرماتے کہ مولوی صاحب یہی تو موقع ہے، آپ دورہ حدیث پڑھیں اور سمجھیں، یونہی برکت کے لیے نہ گزر جائیں ۔اس وقت بڑے اجلہ اساتذہ تھے اور ہر کتاب کے لیے مستقل استاذ، ہم نے خوب خوب اپنی ہمت کے مطابق علوم سے جھولیاں بھریں، الله تعالیٰ ہمارے اساتذہ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ میرے حدیث کے اساتذہ میں حضرت باقی تھے اور پاکستان سے بھی تعلق تھا، انگلینڈ آنے کے بعد جب یہاں تشریف لاتے یا میرا پاکستان جانا ہوتا شفقت فرماتے اور دارالعلوم کے زمانے کی باتیں یاد دلا دلا کر ہم سبق ساتھیوں کے احوال پوچھتے۔ ایک میرے محترم ساتھی جوبڑے بھائی تھے، صرف میرسے لے کر دورہ حدیث تک اور زندگی کے آخری سانسوں تک ساتھ رہے ،الله تعالیٰ غریق رحمت کرے حضرت مولانا حکیم محمد حسین صاحب راجوروی رحمة الله علیہ مقیم دینہ، کچھ عرصہ یو کے میں رہے، بانی جامعہ امینیہ دینہ ضلع جہلم، چوں کہ عمر میں حضرت کے قریب تھے ان کے بارے میں بہت پوچھتے رہتے تھے، یہ بڑی بات ہے کہ ساٹھ سال کا عرصہ گزرنے پر بھی اپنے شاگردوں کو یاد رکھیں #
        الہٰی وہ ہستیاں کہاں بستیاں ہیں
        جنہیں دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

1956ء میں جب دارالعلوم سے فراغت ہوئی تو میرا رادہ تھا کہ میں دارالعلوم میں ہی کوئی خدمت سرانجام دوں گا، بحمدالله تمام اساتذہ کا اعتماد حاصل تھا اور الحمدلله اچھے نمبر لے کر پاس ہوا او رجلسہ دستاربندی میں عربی میں میرا مقالہ حجیت حدیث پر تھا، جو میں نے وہاں پڑھا، میری سندمیں خصوصی الفاظ لکھے گئے، جن پر تمام اساتذہ نے دستخط فرمائے، لیکن ایک دن اچانک حضرت مفتی صاحب رحمة الله علیہ، جو میرے استاذ بھی اور مرشد بھی تھے، بلایا وہ مجھے مولوی عبدالرشید پنجابی مولوی کے نام سے یاد فرماتے تھے، فرمایا کہ شاہ فیصل کالونی کے ہمارے احباب نے امام وخطیب کا تقاضا کیا ہے اور میں نے ابومعاویہ غزنوی متولی جامع مسجد فاروقی شاہ فیصل کالونی سے کہہ دیا ہے کہ ہم تمہیں امام دیں گے اور وہ تم ہو ،وہاں جاؤ، جمعہ پڑھاؤ اور امامت یا مکتب وغیرہ تنخواہ کی تفصیل طے کر لو، میں نے ڈرتے ہوئے حضرت سے عرض کیا کہ حضرت میرا تو دارالعلوم میں خدمت سرانجام دینے کا ارادہ تھا، اس پر حضرت نے فرمایا کہ یہاں بھی آتے جاتے رہو، لیکن وہاں پر اس وقت ضرورت ہے، وہاں کام شروع کر دو، میں نے اس موقع پر اپنے ہم سبق احباب کے علاوہ حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمة الله علیہ اور حضرت رحمة الله علیہ دونوں سے ذکر کیا، دونوں نے فرمایا کہ جب حضرت مفتی صاحب نے فرمایا دیا ہے تو جاؤ ،اس میں بہتری ہو گی، 1956ء سے 1959ء تک بندہ شاہ فیصل کالونی جامع مسجد فاروقی میں خطیب وامام رہا اور دارالعلوم اپنے اساتذہ خصوصاً حضرت رحمة الله علیہ او رمفتی اعظم رحمة الله علیہ سے رابطہ رہا ،جس کی وجہ سے جب پنجاب اپنے شہر دینہ میں امام وخطیب ہوا تو بھی رابطہ رہا او رجب جامعہ فاروقیہ کا قیام عمل میں آیا تو مجھے بے حد خوشی ہوئی، حضرت رحمة الله علیہ کی محنت وجد وجہد سے آج جامعہ فاروقیہ کی پرشکوہ عمارت کسی زمانہ میں ٹین کی چھت کی جامع مسجد فاروقی تھی، جب تک پاکستان تھا کراچی آتا تو حضرت  سے ضرور ملاقات کرتا اور حضرت جامعہ فاروقیہ کے قصے سناتے، یہاں کیا مشکلات تھیں کس طرح مناظرے اور مجادلے ہوتے رہے؟ حضرت سے بغور سنتے اور ابو معاویہ غزنوی  اور ان کے دوستوں سے فرماتے آؤ…! بھائی تمہارے امام آئے ہیں، حضرت  اس بات پر بہت خوش تھے کہ مقامی لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور کوئی شکایت نہیں ہے، انگلینڈ آنے کے بعد برابر رابطہ رہا، الحمدلله ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب اورمولانا عبیدالله خالد صاحب مجھ سے اچھی طرح متعارف ہیں، الله پاک حضرت  کے باغ کوآپ حضرات کی محنت سے قائم ودائم رکھے اور حضرت  کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین ثم آمین۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.