جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حیاء اورآپ صلی الله علیہ وسلم کامقام حیاء

مفتی محمدعمران حقانی

کائنات کی سب سے زیادہ بہترین ذات کے متعلق کچھ لکھنے کی جسارت کررہاہوں جس کاحق اداکرنے سے کل کائنات قاصر ہے ،پشتو کاایک شاعر کیاخوب کہتاہے:
        بانڑہ درتہ لوگے کم کہ چشمان درتہ لوگے کم
        دازہٴ تنہا پورہ یم کہ جہان درتہ لوگے کم
ترجمہ:یعنی پلکیں آپ پر قربان کروں یاکہ آنکھیںآ پ پرفداکروں ،میں اکیلاتنہاکافی ہوں یاکہ پوراجہان آپ پرقربان کروں۔

زبانیں ان کی مدح کرنے سے عاجز ہیں ،قلم اس کی تعریف کرتے کرتے ٹوٹ گئے ہیں ،مگر حق پھر بھی ادانہ ہوااور حق کیسے ادا ہو،جب خود حق تعالیٰ ہی نے فرمایا ہے :﴿ورفعنا لک ذکرک ﴾؟یعنی ہم نے آپ کاذکر بلند کیاہے ،چناں چہ ان کایہ ذکر بلند ہوا، زمینوں سے بلند ہوا ،پہاڑوں سے بلند ہوا ،ہواوٴں سے بلند ہوا، آسمانوں سے بلند ہوا، فرشتوں سے بلند ہوا ،تمام انبیا سے بلند ہوا،بلند ہوتے ہوتے ،یہاں تک بلند ہوا کہ سدرة المنتہیٰ پر افضل الملائکہ نے پیچھے رہ کر اپنی عاجزی کااظہار کیا ؛لیکن اس کا مقام پھر بھی بہت بلند ہوا،اور فرمان رب ادن منی ادن منی سے اس اونچے مقام پر فائز ہوئے،جس کو شاعر نے یوں بیان کیاہے :․
        یاصاحب الجمال ویاسید البشر
        من وجہک المنیر لقد نور القمر
        لایمکن الثناء کما کان حقہ
        بعد از خدا بزرگ تو، ایں قصہ مختصر
یعنی قصہ مختصریہ کہ خدا کے بعدآپ کامقام ہے،جس کامقام اتنابلند وبالا،اعلیٰ وارفع ہو، اس کی توصیف وثنایہ ذرہ ٴناچیز کیسے کرسکتاہے؟! تاہم شاعر کے اس قول کو مد نظر رکھتے ہوئے :
        ما ان مدحت محمدا (صلی الله علیہ وسلم) بمقالتی
        لکن مدحت مقالتی بمحمد (صلی الله علیہ وسلم)
(یعنی میں تواپنے اس مقالے اورمضمون سے محمد ( صلی الله علیہ وسلم )کی تعریف نہیں کرسکتا ؛لیکن محمد( صلی الله علیہ وسلم )کے ذریعے سے اپنے مقالے اورمضمون کی تعریف کرلوں گا ۔)

نوک قلم سے کچھ نقوش قرطاس کے سپرد کرنے کی کوشش کرتاہوں ،اس ذات کے اوصا ف تو بحر بے کنار کے مماثل ہیں،ایک ایک وصف پر صفحات کے صفحات ،اوراق کے اوراق اور جلدوں کی جلدیں بھر جائیں (بلکہ بھر بھی چکی ہیں)لیکن اس کے اوصاف پھربھی مکمل نہیں ہوسکیں گے ،اس لیے یہ چندصفحات اس عظیم ذات کی صفات کو اپنے اندر سمونے کے لیے تنگئی دامن کی شکایت کررہے ہیں،تاہم یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ روز محشر یہ چندصفحات ہاتھ میں لے کر مدح سراہوں کی صف میں جگہ ملنے کے لیے ان شااللہ کام آجائیں گے۔

چناں چہ ان عالی صفات میں سے ایک صفت ”حیاء “ہے ،چوں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی ہرصفت کامل واکمل اعلیٰ وارفع ہے ،اس لیے آپ کی صفت حیاء اورمقام حیاء بھی سب سے کامل واکمل اعلیٰ وارفع ہوگا، جس کی طرف مسلم کی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اشارہ ہوچکاہے :
کان رسول صلی الله علیہ وسلم اشد حیاء من العذراء فی خدرہا، وکان اذا کرہ شیئأ عرفناہ فی وجہہ (مسلم :4/1809)
ترجمہ :آپ صلی الله علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے ،کسی چیز کو ناپسند فرمالیتے تو اس کے آثارہم چہرہ ٴانور پر محسوس کرتے تھے ۔

جس کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں :
1..آپ کی محبوب زوجہ، صدیقہ ٴکائنات، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ میں اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک برتن سے غسل فرمایاکرتے تھے ،مگر نہ میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو دیکھاہے اور نہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے مجھے دیکھاہے ۔اس سے بڑھ کر شرم وحیاء کااعلیٰ مقام اور کیاہوسکتاہے؟
2..ابھی تک نبوت بھی نہیں ملی تھی کہ تعمیر خانہ خدامیں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بھی مشرکین کے ساتھ برابرکے شریک تھے اور پتھر جمع کرنے میں مصروف تھے ،آپ کے چچا حضرت عباس نے آپ کو زبر دستی برہنہ کیا،تو فوراً بیہوش ہوگئے ،اس کے بعد آپ کبھی برہنہ نہیں دیکھے گئے ․․․․ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ ابو طالب نے آپ سے پوچھا کہ یہ کیاماجراتھا؟آپ نے فرمایاکہ ایک سفید پوش آدمی دکھلائی دیا،جس نے یہ کہااے محمد! اپنے ستر کو چھپاوٴ۔(سیرت مصطفی صلی الله علیہ وسلم:1/128) حیا کایہ عالم تھا۔قربان جاوٴں اس حیاکے پیکرپر !!
3..آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیاداری کاتیسراواقعہ یوں ہے کہ جب بحکم خداوندی حضرت زینب رضی اللہ عنہاسے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کانکاح ہوگیاتوآپ نے اس کاولیمہ کیااور خاص اہتمام فرمایااور گوشت روٹی پکوائی اور تقریباًتین سو آدمیوں کو مدعو کیا،اکثر لوگ کھانا کھاکر چلے گئے، بعض لوگ کھانا کھانے کے بعد گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو یہ حرکت ناگوار گزری، مگر آپ صلی الله علیہ وسلم نے شرم کے مارے کچھ نہ کہا۔(معارف ادریسی :6/199)

جب کہ مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :
آیت میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو اگرچہ مہمانوں کے اس طرز عمل سے تکلیف پہنچتی ہے، مگرچوں کہ خود گھر کے مہمان ہیں اس حالت میں ان کوادب سکھانے سے حیاء مانع ہوتی ہے۔ (معارف مفتی شفیع:7/199)

یہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے مقام حیاء کاعالم ہے کہ اپنے شاگرد اور اپنے ہی ایسے جانثاراوروفادار ساتھی کہ اگر ان کو نبی کریم  ڈانٹ بھی پلاتے تو ناراض نہ ہوتے،بلکہ خوش ہوجاتے اورعمر بھر یاد رکھتے، مگر اس کے باوجود آپ نے زبان مبارک سے کچھ نہ فرمایا،کتنی حیاء ہے ؟میرے رب نے ویسے نہیں فرمایاہے ﴿وانک لعلی خلق عظیم﴾یعنی آپ اخلاق کے بہت اعلیٰ مقام پر فائز ہیں ۔

اسلام میں حیاء کامقامِ
اسلام کی دیگر خصوصیات وامتیازات کے علاوہ ایک خصوصیت وامتیاز یہ بھی ہے کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ حیاء وپاک دامنی کی تعلیمات سے لبریز ہے اورحیاء وپاک دامنی کوحیاء کے پیکراور عظیم علم بر دار (نبی صلی الله علیہ وسلم)کی زبا ن مبارک سے ”الحیاء شعبة من الایمان“ یعنی حیاء ایمان کاایک مستقل شعبہ وشاخ قرار دے کر ،وہ بلند وبالا مقام دیاجس سے دنیاکے دیگر مذاہب یکسر عاری ہیں ،اگر عاری نہیں توان مذاہب میں اتنابلند وبالا مقام بھی حاصل نہیں ،اس کے بالمقابل نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نہ صرف حیاء کا بلند وبالامقام بیان کیا،بلکہ خود حیاء کاپیکر بن کر امت کے لیے ”اسوة حسنة“ بھی پیش فرمایا،جیساکہ ماقبل میں حضرت ابوسعیدخدری کی روایت سے معلوم ہوا۔

”الحیاء شعبة من الایمان“کے فردپر اثرات
جب اسلامی تعلیمات میں حیاء کو اتنابلند وبالامقام حاصل ہے تو فرد کی معاشرتی زندگی پر اس کے کیااثرات ہوں گے ؟آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اس کے اثرات کیاکیاہیں ،چناں چہ یہ توایک بدیہی بات ہے کہ انسدادفواحش میں حیاء کاکردارسب سے نمایاں ہے اس لیے کہ حیا کی تعریف ہی یہی ہے کہ:حیاء وہ باطنی خوبی وخصلت ہے جو آدمی کو قبیح (اور فحش )افعال سے اجتناب کرنے پر مجبور کرتی ہے اورکسی بھی صاحب ِحق کو حق میں کوتاہی کرنے سے روکتی ہے ،یہ بات ابن حجر نے فتح الباری ،ج:1ص:68میں ذکر کی ہے،نیز صحیحین میں عمران بن حصین کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں :”الحیاء لایأتی الابخیر“یعنی حیاء خیر ہی خیر لاتاہے ،علامہ ابن حجر اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ حیاء جب کسی کی عادت بن جاتی ہے ،اور حیا والاخلق حسن کسی انسان میں آجاتاہے تواس کی طرف ہر خیر کوکھینچ لاتاہے اوربالذات (بلاواسطہ )اوربالسبب(بالواسطہ )اس سے خیر ہی خیر صادر ہوتی ہے۔ (فتح الباری :10/139)گویاحیاء ہر خیر کی جڑہے ،ہر خیر کی کنجی ہے ، تمام اخلاق حمیدہ کی مالک ہے ،حیاء کو ایمان میں سے ایک شعبہ قرار دینے کامقصدبھی یہی ہے کہ حیاء ہر اطاعت کے کرنے پر باعث ہے اورہرگناہ سے روکنے والی ہے۔ نیز ایمان کے باقی شعبوں کی تکمیل کے لیے داعی بھی ہے ،اس لیے اس کو اہتمامِ شا ن کے ساتھ علیحدہ ذکر فرمایا۔(فتح الباری :1/68)

حیاء کاایک پہلوتویہ ہے کہ یہ ہر خیر کی کنجی ہے ،جب کہ دوسراپہلو یہ ہے کہ یہ ہر شر کے لیے سدباب بھی ہے ،چناں چہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ نبوت کی زبان سے لوگوں کوسب سے پہلے سننے والاکلام یہ تھا:”اذالم تستحی فاصنع ماشئت“ یعنی جب تجھ سے حیاء نکل جائے توجوچاہے کرگزر،علامہ خطابی  اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں خبر کے بجائے امر سے تعبیر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ شر کے مواقع سے انسان کو بچانے والی چیز ،حیاء ہی ہے ،پس جب انسان حیاء کوچھوڑتاہے گویاوہ ہر شر کے کرنے پر مامور ہوتاہے ۔(فتح الباری :10/540)

ابن القیم فرماتے ہیں کہ جس کے اندر حیاء نہیں ہے ،درحقیقت اس میں انسانیت میں سے صرف خون وگوشت ہے، گویااس کے پاس ذرہ برابرخیر نہیں ہے۔ (مفتاح دارالسعادة،227)حیاء کے دونوں پہلووٴں کوملاحظہ کرنے بعد یہ بات روزروشن کی طرح آشکارا ہوجاتی ہے کہ حیاء ہی وہ صفت ہے جو فردکے سامنے فواحش کی تمام راہوں کوبند کردیتی ہے اورخیر کے تمام راستوں کوفردکے لیے سہل کردیتی ہے ۔

لہٰذااس بات میں تودورائے ہوہی نہیں سکتی کہ معاشرے میں جتنی برائیاں ہیں ،زنا،لواطت ،بد نظری ،عشق مجازی ،فحش گوئی ،کسی کی آبروریزی، گالم گلوچ،ڈاکہ زنی ،چوری ،غیبت ،بہتان اوراس کے علاوہ دیگر جتنے فواحش ہیں ،اگر فرد اس صفت سے موصوف ہوتویقینا اس صفت کی وجہ سے ان فواحش کے انسدادمیں اس فردکاکردار سب سے اعلی ہوگااورجب معاشرہ ایسے افرادسے بناہو،توبدیہی طورپراس کے نتیجے میں اجتماعی معاشرہ تمام فواحش اوربرائیوں سے پاک ہوگا،ا س لیے کہ معاشرہ توبنتاہی فرد سے ہے، انفرادی انسان کااجتماعی معاشرے سے علیحدہ کوئی معنی ہی نہیں ہوتا اور اجتماعیت، انفرادیت کی دشمن ہونے کے بجائے اس کاایک حصہ ہوتی ہے،کیوں کہ اجتماعیت کاوجود فرد پر منحصر ہوتاہے ،اسلام کی نگاہ میں اصل اہمیت فردکی ہے، ہر فرد کواللہ تعالی نے شعور عطا کیاہے ،خودی کااحساس دیاہے ،انفرادی خصوصیات بخشی ہیں ،اپنی ملکیت میں سے چیزیں امانتاًاس کے سپرد کرکے ان پر تصرف کے اختیارات اسے عطا کیے ہیں ،اسی بناپر انسان منفرداًاللہ تعالی کانائب اورخلیفہ ہے اوراس حیثیت سے وہ اپنے اعمال کاذمہ دار اورجواب دہ ہے ۔

اوراگر بالفرض خدانخواستہ کوئی فرد اس وصف سے عاری ہو تو انسداد فواحش میں اچھااوراعلٰی کردار اداکرنے کے بجائے وہ ارتکاب فواحش میں مبتلا ہوگا،معاشرے کے تمام فسادات کے لیے بالواسطہ یابلاواسطہ بنیاد اور جڑہوگا۔

اللہ تعالی سے دعاہے کہ حیاء جیسی عظیم صفت سے مجھے اورتمام مسلمانوں کومالامال کردے اوربے حیائی سے مجھ سمیت تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائیں ۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.