جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

ایمانیات چند بنیادی باتیں

مفتی صابر محمود

ایمان کا افضل درجہ کیا ہے؟
حضر ت معا ذ بن جبل رضي الله عنه سے روا یت ہے:میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے افضل ایما ن کے متعلق سوا ل کیا ،تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا:”یہ کہ بس اللہ ہی کے لیے کسی سے تمہا ری محبت ہو اور اللہ ہی کے واسطے بغض و عداوت ہو اور یہ کہ اپنی زبا ن کو تم اللہ کی یا د میں لگا ئے رکھو“۔ حضر ت معا ذرضي الله عنه نے عر ض کیا:اور کیایا رسو ل اللہ؟ !آپ صلی الله علیہ وسلم نے فر ما یا:” اور یہ کہ دوسر ے لو گو ں کے لیے بھی وہی چاہو اور وہی پسند کر و جو اپنے لیے پسند کرتے اور چاہتے ہو اور ان کے لیے بھی ان چیزو ں کو نا پسند کرو جو اپنے لیے نا پسند کر تے ہو“۔(مسند احمد)

تشر یح:رسو ل اللہ صلی الله علیہ وسلمنے اس حدیث میں بتلا یا ہے کہ کامل ایما ن جب نصیب ہو گا جب کہ مذکورہ تین با تیں پیدا ہو جا ئیں:
1…ایک اللہ ہی کے لیے دو ستی و ددشمنی ۔2…دوسرا زبا ن کا یا د الٰہی میں مشغول رکھنا ۔3…تیسر ے بندگان خداکی ایسی خیر خوا ہی کہ جو اپنے لئے چاہو وہی ان کے لیے چاہو اور جو اپنے لیے نہ چا ہو وہ کسی کے لیے نہ چا ہو ۔

حضر ت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه سے روا یت ہے کہ رسو ل اللہ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر غفا ری رضي الله عنه سے فر ما یا:” بتلا وٴایمان کی کو ن سی دست آویز زیادہ مضبوط ہے ؟“(یعنی ایما ن کے شعبو ں میں سے کو ن سا شعبہ زیا دہ پا ئیدا ر ہے؟)حضرت ابو ذر رضي الله عنه نے عرض کیا کہ:اللہ و رسو ل ہی کو زیا دہ علم ہے۔“(لہٰذاحضور صلی الله علیہ وسلم ہی ارشا د فر ما ئیں )آپ صلی الله علیہ وسلم نے فر ما یا: ” اللہ کے لیے باہم تعلق تعا ون اور اللہ کے وا سطے کسی سے محبت اور اللہ ہی کے واسطے کسی سے بغض وعداوت ۔“(شعب الا یما ن للبیہقی)

تشر یح :مطلب یہ کہ ایما نی اعما ل و احوا ل میں سب سے زیا دہ جاں دار اور پائیدا ر عمل اور حا ل یہ ہے کہ بندے کا دنیا میں جس کے سا تھ جو بر تا وٴ ہو، خواہ موالا ت ہو یا تر ک مو ا لا ت،محبت ہو یا عدا وت،وہ اپنے نفس کے تقاضے سے اور کسی نفسا نی جذبہ سے نہ ہو، بلکہ صر ف اللہ کے لیے اور اسی کے حکم کے ما تحت ہو ۔

ایمان میں خرابی ڈالنے والے اخلاق و اعمال
غصّہ :بہز بن حکیم اپنے والد حکیم کے واسطے سے، اپنے دادا معاویہ بن حیدہ قشیری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا،” غصّہ ایمان کو ایسا خراب کردیتا ہے جیسے ایلوا (کڑوی چیز)شہد کو خراب کر دیتا ہے۔“ (شعب الایمان للبیہقی)

تشریح: درحقیقت غصہ ایسی ہی ایمان سوز چیز ہے، جب آدمی پر غصہ سوار ہوتا ہے تو اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے وہ تجاوز کرجاتا ہے اور اس سے وہ باتیں اور وہ حرکتیں سرزد ہوتی ہیں جو اس کے دین کو برباد کردیتی ہیں اور اللہ کی نظر سے اس کو گرادیتی ہیں۔

ظلم : اوس بن شُرَحْبِیْل سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے کہ :”جو شخص کسی ظالم کی مددکے لیے ، اور اس کا ساتھ دینے کے لیے چلا اس حال میں کہ اس کو اس بات کا علم تھا کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔“(بیہقی)

تشریح: جب ظالم کا ساتھ دینا اور ظالم کو ظالم جانتے ہوئے اس کی کسی قسم کی مدد کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسے شخص کو اسلام سے نکل جانے والا قرار دیا، تو سمجھا جاسکتا ہے کہ خود ظلم اسلام و ایمان کے کس قدر منافی ہے اور اللہ اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے نزدیک ظالموں کا کیا درجہ ہے۔

لعن و طعن :حضرت عبد اللہ بن مسعود  سے روایت ہے کہ رسول صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ” مومن لعن وطعن کرنے والا نہیں ہوتا اور نہ فحش گو اور بدکلام ہوتا ہے۔“(ترمذی)

تشریح: مطلب یہ ہے کہ بدکلامی اور فحش گوئی اور دوسروں کے خلاف زبان درازی کرنا، یہ عادتیں ایمان کے منافی ہیں اور مسلمان کو ان سے پاک ہونا چاہیے۔

ایمان مکمل کرنے والے تین اعمال
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”تین خوبیاں جس شخص میں پائی جائیں اس کاثواب اور بدلہ الله تعالیٰ کے ہاں واجب ہوگیا اور اس کاایمان بھی مکمل ہو گیا۔“
1..اچھے اخلاق، جن کے ساتھ لوگوں میں زندگی گذارے۔2.. ایسا تقویٰ جو اس کوگناہوں سے بچا سکے۔3.. ایسی بردباری ، تحمل مزاجی اور صبرجو اس کونادان آدمی کے ساتھ نادانی سے پیش آنے سے روک سکے۔(البزار)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.