جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رحمت ،عصر حاضر کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد جاوید اشرف

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے حبیب کا متعدد مقامات پر صفت رحمت سے ذکر فرمایا ہے، رحمة کا لفظ اپنے اندر اہم ترین صفات ومعانی کو شامل ہے،چناں چہ عربی زبان کے اس لفظ کے مفہوم کو بیان کرنے کے لیے ہمیں اردو میں شفقت ،نرمی، حنان رافت وغیرہ الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے،اس کی نقیض و ضد حدت ،شدت اور سختی وغیرہ ہے۔

رحمت یہ ایک ایسا عاطفہ اور جذبہ ہے جس کے وجود سے بندہ میں برواحسان اور خیر و بھلائی کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ نے اپنے اندر اس صفت مبارکہ کے وجود کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا ہے:﴿ھو الرحمن الرحیم﴾وہ بہت رحمت والا،نہایت ہی مہربان ہے ۔اسی مبارک صفت سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے متصف ہونے کو ان الفاظ سے بیان فرمایا:﴿لَقَدْ جَاء کُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْْکُم بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوفٌ رَّحِیْم﴾․(التوبة:128)

تمہارے پاس ایک ایسے رسول تشریف لائے ہیں جوتم ہی میں سے ہیں،جن کو تمہاری مشقت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے،جو تمہارے خیر خواہ ہیں اور مومنین کے ساتھ بڑے ہی شفیق ومہربان ہیں۔نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّہِ لِنتَ لَہُم﴾․(آل عمران:159)اللہ کی رحمت سے آپ ان(موٴمنین)کے لیے نرم مزاج ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”لا یر حم اللہ من لا یر حم الناس․“(بخاری و مسلم)اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتے جو لوگوں پر رحم نہ کرے۔الغرض رحم کی صفت ایسی عظیم ہے کہ جس کے اندر سے یہ صفت جاتی رہی وہ بہت ساری خیر سے محروم ہو گیا، بلکہ ایسے شخص کی زندگی شقاوت ومحرومیت کا شکار ہو جاتی ہے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صادق ومصدوق، اس حجرہ شریفہ کے مکین، ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:رحمت کسی بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے”لا تنزع الرحمة الا من شقی․“(ابو داوٴد والترمذی)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت وشفقت کا پیکرِ بے مثال،بلکہ رحمت ورافت کا محور و مرکز تھے، آپ کی اس صفت عظیم کا قرآن کریم نے ان الفاظ میں نقشہ کھینچاہے:﴿وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ ﴾․ (الانبیاء:107) (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات جہاں موٴمنین کے لیے رحمت ہے وہیں کفار، بلکہ تمام بنی نوع انسان، حتیٰ کہ حیوان تک کے لیے بھی آپ صلی اللہ رحمت و شفقت کا پیکر جمیل ہیں، اس سے بھی آگے بڑھ کر تمام مخلوق کے لیے آپ کی رحمت عامہ کا اعلان کر دیا گیا،کون ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صفت رحمت میں شریک وسہیم ہو؟آپ کی لائی ہوئی شریعت آپ کا پیش کردہ دین اسلام ،اس کا پیغام سب کچھ ہی سراپا رحمت وخیر ہے،جس میں ساری ہی انسانیت کی بھلائی وخیر خواہی اور تمام دنیائے انسانیت کے لیے پیغام رحمت ورافت ہے،وہ دین رحمت جس کا پیغام ہی سلامتی کا ضامن، جس کا رسول ہی رحمت کا مظہر اور سلامتی کا علم بردار،جس کانبی رحمت ساری دنیا میں پیغام محبت عام کرنے کا داعی،جس کا تحیہ اور سلام بھی سلامتی کی دعا پر مشتمل اور اہل جنت کے سلام کے مشابہ ہو،تو کیا اس جیسی رحمت والفت ومحبت ورافت کی چھایا رکھنے والا کوئی دین وملت یا پیغمبر وپیشوا اس زمین کے اوپر یا آسمان کے نیچے پیش کیا جا سکتا ہے؟ہر گز نہیں،اس لیے جو شخص بھی انصاف پسندی اورمنصف مزاجی سے سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا جائزہ لے، آپ کے اخلاق شریفانہ اور محامد کریمانہ پر نظر ڈالے تو اس کو یقینا اس کا اندازہ ہوجائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں سارے فضائل جمع کر دیے گئے ہیں۔اور سب ہی فضائل ومحاسن آپ کی طبیعت وسرشت میں ایسے طور پر ودیعت کردییگئے تھے کہ اس میں آپ کو ذرا بھی تکلف کا سہارا نہ لینا پڑتا، بلکہ یہ محامدو کریمانہ اخلاق گویا آپ کی فطرت کے ساتھ لازم وملزوم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول وفعل میں رحمت کا پہلو نمایاں تھا۔

دوسری جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی ہر طرح کے نقص وعیوب سے پاک و صاف تھی اور آخر کیوں نہ ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق میں سے منتخب فرمایا تھا اور قدرت خداوندی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی تربیت فرمائی، ایسے اخلاق وآداب سے آپ کو آراستہ وپیراستہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کا آخری پیغام(جس پیغام کو تاقیامت باقی رہنا تھا)دے کر مبعوث فرمایااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو ساری انسانیت کے لیے نمونہ وآئیڈیل بنادیا،حتیٰ کہ قرآن مجید میں جو فضائل ومحاسن حسن اخلاق وکریمانہ صفات بیان کیے گئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے حامل تھے، بلکہ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آنے کا مقصد ہی حسن اخلاق کی تکمیل فرمایا:”إنما بعثت لاتمم مکارم الأخلاق․“ (البزار:8949/السنن للبیھقی)

ایک روایت ہے کہ:”أدبنی ربی فأحسن تأدیي“مجھے میرے رب نے حسن ادب سے سجایا سنوارا ہے۔یہ روایت عموماً حدیث کی متداول کتابوں میں نہیں ملتی ،تاہم اس کے معنی صحیح اور واقعہ کے عین مطابق ہیں،بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل تربیت وحی الہٰی کی روشنی ہی میں ہوئی ہے،اور یہ معنی ہی مشہور حدیث سے اخذ ہوتے ہیں، جس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا۔

جس دین ومذہب کے پیشوا کی بعثت کا مقصد ہی حسن اخلاق وکریمانہ صفات کی تکمیل بتائی گئی تھی آج اس مذہب کو متہم ومطعون کیا جارہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ یہ مذہب اسلام ظلم وزیادتی کا دین ہے، جس میں دوسروں کے حقوق محفوظ نہیں۔جہاں دوسروں پرظلم وزیادتی ہے یہ اور اس طرح کے متعدد اشکالات دشمنان اسلام کی جانب سے تسلسل کے ساتھ بہت تیزی سے پھیلائے جارہے ہیں،جن کے جواب کی ضرورت ہے،اسی طرح جہاد کے سلسلہ میں بے ہودہ الزام تراشیاں ہورہی ہیں،جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رحمت ایسی ہو کہ وہ اپنے دشمنوں کے لیے بددعا کرنے کے بجائے ان کو دعاوٴں سے نوازتا ہو وہ کس طرح دوسروں کی جان کا نعوذباللہ دشمن ہو سکتا ہے؟بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:یا رسول اللہ!قریش کے لیے بددعا فرمادیجیے،جی ہاں وہی قریش ،جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار اصحاب واحباب کا جینا دو بھر کردیا تھا،مگر لسان نبوت کے الفاظ بجائے بددعا کے دعائے رحمت ہوتے ہیں ،فرمایا:”أللّٰھم اھد قومي فانھم لا یعلمون“ اے اللہ میری قوم کو ہدایت عطا فرما،بلاشبہ یہ جانتے نہیں۔

طائف کے لوگوں نے کیا کچھ کم ستایا تھا!! آج اہل طائف کے محاصرے کا وقت ہے چاہتے تو ان کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے،ان کی نسلوں کو ختم کر دیتے، بعض صحابہ کے کہنے کے باوجود کہ قبیلہ ثقیف(طائف کا مشہور ومعروف قبیلہ)کے لیے بددعا فرمادیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے محبت وشفقت سے لبریز یہ الفاظ جاری ہوتے ہیں:اللّٰھم اھد ثقیفا وائت بھم(مسلم)اے اللہ!قبیلہ ثقیف کے لوگوں کو ہدایت عطا فرما کر میرے پاس بھیج دے۔

حدیث شریف کے تناظر میں معلوم ہوا کہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ:اپنے نبی رحمت کی اتباع میں وہ کفار تک کے لیے بددعا نہیں، بلکہ اس کی ہدایت کی دعا کرتا ہے،نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ! مشرکین کے لیے بددعا فرما دیجیے(ادع علی المشرکین والعنھم)لسانِ نبوت سے نکلے ہوئے الفاظ تھے:”انما بعثت رحمة، ولم أبعث لعانا“(مسلم) میں تو صرف پیغمبرِ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں، نہ کہ لعنت کرنے والا۔

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف یہ کہ صفت رحمت سے خود متصف تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صفات کریمانہ اپنے اصحاب واحباب کے اندر بھی پیدا فرمائی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے زریں صفحات شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات استوار رہے، باہمی تعاون اوررواداری کی مثالیں قائم ہوئیں ،عدل وانصاف کے نقوش روشن ہوئے، حتی کہ اہل کتاب سے ازدواجی رشتے ومصاہراتی تعلقات ہوئے اور اس کی اجازت دی گئی۔

جہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور سرایا کا تعلق ہے تو ان کا مقصد بھی دعوت رحمت کے انتشار اور دنیائے انسانیت کو دین رحمت سے روشناس کرانے، بھٹکتی اور سسکتی انسانیت کو اس کے خالق ومالک سے ملانا تھا کہ یہ دین اسلام دینِ رحمت ہے، جس میں محبت ورافت، شفقت والفت کی چھاپ نمایاں ہے، جہاں امن ہی امن اور سلامتی ہی سلامتی سایہ فگن ہے،اسلام کی اساس ہی سلامتی پر ہے، اس مذہب کا سلام جس کو نماز جیسی عبادت کے اختتام پر روزانہ متعدد بار دہرایا جاتا ہے ،اس کے الفاظ دیکھیے تو سلامتی کی دعا کے سوا کچھ نہیں:السلام علیکم ورحمة اللہ،جس دین نے اپنے متبعین کو قدم قدم پر سلامتی کا سبق دیا ہو، جہاں صبح وشام سلامتی کی دعائیں زبان زد خاص وعام ہوں،جس مذہب کے رب کانام بھی السلامہو کہ جس کا ذکر کرنا ہرنماز کے بعد مسنون ہو:”أللّٰھم أنت السلام ومنک السلام“کیا وہ مذہب سلامتی سے عاری ،ظلم ودہشت اور حقد وبغض وعداوت سے پُر ہو سکتا ہے؟

ہر گز نہیں! اس دینِ رحمت نے قدم قدم پرا پنے متبعین کو سلامتی قائم کرنے کا سبق سکھایاہے کہ تمام مخلوق کے لیے اس کے دل میں رحمت کے جذبات ہمیشہ موج زن رہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں افراد سے جنگ کی جنہوں نے آپ سے اعلان جنگ کیا،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:﴿وَقَاتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْن﴾․(البقرة :190)اور اللہ کے راستے میں ایسے لوگوں سے قتال کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی پر نظر ڈالیے تو ہمیشہ آپ نے صلح وسلامتی کے ہر موقع پر سبقت وپہل فرمائی ہے، قرآنی حکم بھی یہی ہے کہ:﴿وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا﴾․(الأنفال:61)اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو صلح قبول کر لینا۔

چناچہ اٹھائیس غزوات ہیں جن کی قیادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس فرمائی:
غزوئہ ابواء، غزوئہ ذوالعشیرہ،غزوئہ بدراولی،غزوئہ بدرالکبریٰ، غزوئہ بنو قینقاع، غزوئہ سویق، غزوئہ ذی امر، غزوئہ نجران، غزوئہ احد، غزوئہ حمراء الاسد، غزوئہ بنو نضیر، غزوئہ ذات الرقاع، غزوئہ بدر آخرة،دومةالجندل،بنی المصطلق،خندق،بنوقریظہ،بنولحیان، ذی قرد، غزوئہ حدیبیہ، خیبر،وادی القری،فتح مکہ،حنین ،حصارِ طائف، تبوک ۔

یہ تو تھی تفصیل غزوات کی۔ رہے سرایا تو ان کی تعداد(60) کے قریب ہے، واضح رہے کہ سریہ اس کو کہتے ہیں جس میں لشکر کی قیادت کسی صحابی نے کی ہو، جب کہ غزوہ سے مراد وہ جنگ ہے جس کی قیادت سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس فرمائی ہو،ان تمام غزوات وسرایا میں طرفین کی جانب سے جو لوگ مارے گئے ہیں وہ صرف ایک ہزار اٹھارہ ہیں،یہ تعداد خود بتلا رہی ہے کہ مسلمانوں کا مقصود قتل وقتال نہ تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ انسانی جان کے محافظ اور ارواح کی کرامت کے علم بردار رہے،جنگ کے موقع پر قید میں آجانے والے قیدیوں تک سے نہایت عمدہ سلوک فرماتے اور اس کی تلقین بھی فرماتے۔

اس کے برخلاف جب ہم ماضی قریب کی جنگوں کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو حیرت انگیز نتائج سامنے آتے ہیں،چناں چہ پہلی عالمی جنگ کے موقع پر صرف چند سالوں 1914ء سے1918ء ہی میں چونسٹھ لاکھ جانوں کا قتل عام ہوتا نظر آتا ہے۔اسی طرح دوسری عالمی جنگ میں انسانی تباہ کاری کی یہ تعداد1939ء سے1945تک پینتیس ملین سے لے کر ساٹھ ملین تک جا پہنچتی ہے اور یہ بھی تقریبی اندازہ ہے ،صحیح تعداد اس سے متجاوز ہی ہے۔اسی پر دوسری بعض جنگوں کو قیاس کیا جاسکتا ہے، مثلاً: چین میں مار کسی نظام کو ملک میں نافذ کرنے کے لیے1965کے مختصر زمانہ میں اکسٹھ ملین لوگوں کو برباد کیا گیا اسی طرح ہیرو شیما اورناگا ساکی میں بم برسا کر ذرا سی دیر میں ساری آبادی جو تقریباً ستر ہزار تھی تباہ کردی گئی، کچھ لوگوں کی جان بچی بھی تو مرنے والوں سے بری حالت میں تھے۔1975 سے1979ء تک کمبوڈیا کی ایک تہائی آبادی کو صرف نظریاتی اختلاف کی وجہ سے تباہ وبرباد کر دیا گیا، اسی طرح بوسینیا کے دس ہزار افراد، جس میں بچے بھی شامل تھے، صرف تین دن میں دنیا سے نیست ونابود کردیے گئے۔

یہ حالات تباہی تو کچھ پہلے کے تھے، اب اسی نئی ٹیکنا لوجی کے دورِ عروج میں، جس میں پوری دنیا کو انٹرنیٹ وغیرہ میڈیا نے ایک گاوٴں کے مثل کر دیا ہے، ساری دنیا کی آنکھوں کے سامنے لاکھوں لوگوں کو زندگی سے محروم کیا جارہا ہے،عراق کے احوال کس سے پوشیدہ ہیں؟ جہاں 2003 سے لے کر اب تک ہزاروں گھروں کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا ، لاکھوں افراد زندگی سے محروم ہو گئے ہیں اور بلا توقف یہ تباہی کا سلسلہ جاری ہے،اس سے قبل افغانستان،ایران عراق ،جنگ اور وقت حاضر میں ملک شام،پڑوسی ملک برما،مصروفلسطین اور کشمیر وغیرہ متعدد ممالک میں جو جانی نقصان ہو رہا ہے وہ لرزا دینے والا ہے۔

اسلام کی سماحت کا روشن ثبوت یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے مخالفین یا غیروں کے ساتھ ہمیشہ تعلقات صحیح اصول وضوابط اور عدل وانصاف کی بنیادوں پر قائم کیے ہیں،جس میں خیر خواہی اور احسان وحسن سلوک کی تابندہ مثالیں قائم کی ہیں، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر باہمی معاونت، حتی کہ ازدواجی تعلقات اور شادی بیاہ جیسے گہرے رشتے کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.