جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کرسی پر نماز کا جواز وعدمِ جواز ۔۔۔ ایک مطالعہ وتجزیہ

مفتی محمد جعفر ملی رحمانی

شیخ محمد سعید رمضان البوطی فرماتے ہیں:
”کرسی پر نمازکے جواز کا دار ومدار ماہر، حاذق ومعتمد طبیب کے قول پر ہے،اگر وہ مریض کوزمین پر گھٹنے موڑ کر بیٹھنے سے منع کرتا ہے ، تو کرسی پر اس کی نماز تمام مذاہب کے مطابق درست ہے اور اگر وہ اسے کسی سبب قیام سے منع کردے، مگر زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ یا اشارہ کے ساتھ نماز سے منع نہ کرے ، تو اس پر اسی حالت میں نماز پڑھنا واجب ہے، کرسی پر اس کی نماز درست نہیں “۔ (علی شبکة نیت)

کرسی پر بیٹھنے کی صورت میں سجدہ کی صورت کیا ہوگی؟
خلاصہٴ فتویٰ دار العلوم دیوبند:
”کرسی استعمال کرنے کی صورت میں بھی عام سادہ کرسی پر نماز ادا کی جائے، ٹیبل والی کرسی پر نماز ادا کرنے سے احتراز کیا جائے“۔

زمین یا کرسی پر نماز ادا کرنے سے متعلق دو امر قابلِ لحاظ ہیں:
کرسی پر اشارہ کرنے کی صورت میں بعض لوگ رکوع میں ہاتھ کو ران پر رکھتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں فضا میں معلق رکھ کر اشارہ سے سجدہ کرتے ہیں، ایسا کرنا ثابت نہیں، رکوع وسجدہ دونوں میں ہاتھ کو ران پر رکھنا چاہیے۔

معذوری کی حالت میں زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنے کی صورت میں رکوع میں سرین کا زمین سے اٹھنا ضروری نہیں، بلکہ پیشانی کا گھٹنے کے مقابل ہونا ضروری ہے، جیسا کہ ” امداد الاحکام“ میں ہے: ” بحالتِ جلوس رکوع کرتے ہوئے صرف اتنا ضروری ہے کہ پیشانی کوگھٹنے کے مقابل کردیا جائے، اس سے زیادہ جھکنے کی ضرورت نہیں، نہ سرین اٹھانے کی ضرورت ہے“۔ (امداد الاحکام:1/609)

اب کرسیوں پر نماز ادا کرنے والے حضرات اپنے احوال پر غور فرمائیں کہ - کیا واقعتا وہ اس درجہ معذور ہیں کہ شرعاً ان کے لیے کرسی پر نماز ادا کرنا جائز ہو؟ اگر وہ اس درجہ معذور نہیں تو پھر کرسیوں پر نماز پڑھنے سے احتراز کریں، تاکہ مساجد میں بے ضرورت کرسیوں کی کثرت نہ ہو، بوقتِ ضرورت کرسی اختیار کرنے کی صورت میں ٹیبل والی کرسی اختیار نہ کی جائے “۔ (ماہ نامہ دار العلوم دیوبند، جلد 95، شمارہ: 6، رجب 1432ھ مطابق جون2011ء)

”احسن الفتاویٰ“ میں ہے:
” اگر ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری کرسی پر سجدہ کیا تو نماز صحیح ہوجائے گی، بشرطیکہ سجدہ کے وقت گھٹنے بھی کرسی پررکھے، مع ہذا ایسا کرنا گناہ ہے، زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا چاہیے اور اگر بوقتِ سجدہ گھٹنے کرسی پر نہ رکھے تو یہ نماز واجب الاعادہ ہے، معلوم ہوا کہ بعض لوگ کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کی بجائے اشارہ سے نماز پڑھتے ہیں، اگر زمین پر بیٹھ کر سجدہ کی قدرت ہو تو کرسی پر اشارہ سے نماز نہ ہوگی “ ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم (4/51)

”کفایت المفتی“ میں ہے:(سوال کا ماحصل حسبِ ذیل ہے:)
”سوال: پیٹ میں بے چینی سی معلوم ہوتی ہے اور زمین پر نماز پڑھنا بہت دشوار معلوم ہورہا ہے ، تو کیا کرسی پربیٹھ کر سامنے ٹیبل پر سجدہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟“
الجواب: کرسی پر پاوٴں نیچے لٹکا کر بیٹھنا اور ٹیبل پر سجدہ کے لیے سرجھکانا جائز نہیں، الا اس صورت میں کہ زمین پر بیٹھنا اور زمین پر سجدہ کرنا طاقت سے باہر ہوجائے، زمین پر بیٹھ کر کسی اونچی چیز پر، جو زمین سے ایک بالشت سے زیادہ اونچی نہ ہو، سجدہ کرلیا جائے، تو عذر کی حالت میں جائز ہے“۔ (3/422 ، ط: دار الاشاعت)

”فتاویٰ دار العلوم زکریا“ میں ہے:(میز سامنے رکھ کر سجدہ کرنے کا حکم)
” سوال : جو شخص معذور ہو کرسی پر نماز پڑھتا ہو، اگر وہ سامنے میز رکھ کر اس پر سجدہ کرے تو کیا حکم ہے؟
الجواب: جو شخص ایسا مریض یا معذور ہوکہ بیٹھنا بھی مشکل ہے اور کرسی پر نماز پڑھتا ہے تو میز وغیرہ پر سجدہ کرے تو درست ہے، لیکن سامنے تختہ رکھنا ضروری نہیں ہے، سجدہ کے لیے اشارہ کافی ہے اور میز پر سجدہ کرے، وہ بھی اشارہ میں شمار ہوتا ہے“ ۔ (2/489 ، کتاب الصلاة)

اور ایک جگہ یوں مذکور ہے:
” معذور آدمی جب کرسی پر نماز پڑھتا ہو تو سامنے میز رکھنا ضروری نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ سجدہ کی تحقیق کے لیے پیشانی ، دونوں ہاتھوں میں سے ایک ، دونوں گھٹنوں میں سے ایک اور پاوٴں کی انگلیوں میں سے ایک انگلی زمین پر رکھنا ضروری ہے، اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے ہو، اس کے بغیر سجدہ محقق نہ ہوگا اور کرسی میز پر سجدہ کرنے میں یہ چیزیں نہیں ہوسکتی، لہٰذا معذور آدمی رکوع سجدہ اشارہ سے کرے، میز رکھنا ضروری نہیں ہے“ ۔ (2/490)

” فتاویٰ بینات“ میں مذکور دار العلوم کراچی کے ایک فتوے کی تصویب کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں:” جب قیام پر قدرت نہ ہو توزمین پر بیٹھ کر بھی نمازجائز ہے اور گاڑی پر بیٹھ کر بھی، لیکن دونوں صورتوں میں اگر سجدے پر قدرت ہو تو سجدہ کرنا ضروری ہوگا ، خواہ زمین پر کرے یا گاڑی کے سامنے کوئی تختہ یا میز رکھ کر، جب اس طرح سجدہ پر قدرت نہ ہو تب اشارہ جائز ہوگا ، ورنہ نہیں“۔ واللہ سبحانہ اعلم (2/390)

”احسن الفتاویٰ “میں ہے:
” اگر سر اتنا جھکایا جاسکتا ہو کہ زمین تک ایک بالشت یا اس سے کم فاصلہ رہ جائے ، تو کسی اینٹ یا تپائی وغیرہ پر سجدہ کرنا لازم ہے، اشارہ سے نماز نہ ہوگی“۔ (4/55)

”زبدة الفتاویٰ “ میں ہے:
” سوال: عذر کی بناپر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا سر کے اشارہ سے سجدہ کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: حامداو مصلیا:جو مصلی کھڑے ہوکر اور زمین پر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکنے کی وجہ سے اگر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تو ایسے مصلی کے لیے بشرطیکہ وہ اپنے آگے سجدہ گاہ میں کوئی ٹیبل وغیرہ رکھ اس پر پیشانی رکھ کر سجدہ کرسکتا ہو اور ٹیبل اونچائی میں کرسی کے برابر یا کرسی سے نو انچ اونچا ہو، اس سے زائد اونچا نہ ہو ، تو اس کو اپنے آگے ٹیبل وغیرہ رکھ اس پر سجدہ کرنا فرض ہے، کرسی پربیٹھ کر اس طرح سجدہ کرسکنے کی صورت میں صرف سر کے اشارہ سے یا تھوڑا جھک کر سجدہ کرنے سے نماز صحیح نہ ہوگی۔

البتہ جو مصلی عذر کی بنا پر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور حسبِ تفصیل بالا ٹیبل وغیرہ کوئی سخت چیز سامنے رکھ کر اس کے اوپر سجدہ نہ کرسکتا ہو، اور اس طرح سجدہ کرنے سے ناقابلِ برداشت درد ہوتا ہو ، تو ایسا مصلی اشارہ سے سجدہ کرسکتا ہے، لیکن اس کو سجدہ کے لیے رکوع سے نسبتاً زیادہ جھکنا ضروری ہے“۔ (1/490، 491)

” کرسی پر اور مریض کی نماز کے احکام“ نامی کتابچہ میں ہے:
” اگر کوئی شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں اور وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے، تو پھر اس کو کرسی پر بیٹھ کر اپنی نشست کے برابر یا اس سے زیادہ سے زیادہ بارہ انگل اونچی چیز پر پیشانی ٹکا کر سجدہ کرنا چاہیے“ ۔ (ص/35،موٴلفہ مفتی محمد رضوان)

” آپ کے مسائل اور ان کا حل“ میں ایک سوال وجواب اس طرح ہے:
” سوال: ایک ضعیف عورت ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری چھوٹی میز پر سجدہ کرتی ہے ، تو کیا نماز ہوجائے گی؟
جواب: جو شخص سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو، وہ سر کے اشارہ سے سجدہ کرے اور رکوع کے اشارہ سے ذرا زیادہ سر جھکائے، چھوٹی میز پر سجدہ کرنا فضول ہے“۔ (3/349، اضافہ شدہ جدید ایڈیشن)

تجزیہٴ فتاویٰ بر جزئیہ اُولیٰ
دار العلوم دیوبند کے فتوی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو انسان کسی بھی ہیئت میں زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے، تو اس کو زمین ہی پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نماز ادا کرنا ضروری ہے، کرسی پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے اشارہ سے نماز ادا کرنا جائز نہیں، نماز نہیں ہوگی، البتہ اگر زمین پر کسی بھی ہیئت میں بیٹھنا دشوار ہو تو کرسی پر نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

فتاویٰ دار العلوم زکریا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو حضرات قیام وسجود پر قادر نہیں وہ زمین پر بیٹھ کر اشارہ کے ساتھ نماز پڑھیں، کرسی پر نماز پڑھنا درست نہیں، لیکن اگر قیام پر قدرت ہو اور سجود پر قدرت نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیے افضل یہی ہے کہ زمین پر بیٹھ کر اشارہ کے ساتھ نماز پڑھے، کرسی پر نہیں، کیوں کہ قعود مشابہ بالسجود اور اقرب الی الارض ہے ، البتہ اگر زمین پر بیٹھنا انتہائی تکلیف دہ ہو اور سجدہ سے بھی عاجز ہو تو پھر بحالتِ مجبوری اشارہ سے نماز پڑھ سکتا ہے(اس سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال میں کرسی پر اشارہ سے نماز کی گنجائش ہے)۔

احسن الفتاویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے اس کے لیے کرسی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔

فتاویٰ بینات میں ” گاڑی اور کرسی پر بیٹھ کر نمازپڑھنے کا حکم“ کے عنوان کے تحت مذکور ہے کہ قیام پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں مریض کے لیے بنائی گئی گاڑی میں نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ رکوع وسجدہ پر قدرت نہ ہو ، اگر قیام پر قدرت نہیں، مگر رکوع سجدہ پر قدرت ہے تو رکوع سجدہ کرنا فرض ہے، ایسی صورت میں مذکورہ گاڑی میں سامنے ٹیبل وغیرہ رکھ کر سجدہ ادا ہوسکتا ہو، تو اس میں نماز جائز ہے ، ورنہ نہیں۔

اس فتوی کی تصویب حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی نے ان الفاظ میں فرمائی:
” جواب صحیح ہے اور خلاصہ یہ ہے کہ جب قیام پر قدرت نہ ہو تو زمین پر بیٹھ کر بھی نماز جائز ہے اور گاڑی پر بیٹھ کر بھی، لیکن دونوں صورتوں میں اگر سجدے پر قدرت ہو تو سجدہ کرنا ضروری ہوگا، خواہ زمین پر کرے یا گاڑی کے سامنے کوئی تختہ یا میز رکھ کر، جب اس طرح سجدے پر قدرت نہ ہو تب اشارہ جائز ہوگا، ورنہ نہیں“۔ (2/389 ،390)

حضرت مفتی صاحب کی تحریر سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جو شخص سجدہ پر قادر ہے اور گاڑی اور کرسی پر بیٹھ کر وہ سجدہ نہیں کرپاتا، تو گاڑی اور کرسی پر اس کی نماز جائز نہیں ہوگی اور اگر سجدہ پر قادر نہیں تو گاڑی یاکرسی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنا جائز ہے۔

مفتی شعیب اللہ خان صاحب کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا عذرِ معقول کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا ناجائز ہے اور اس صورت میں کرسی پر نماز پڑھنے والوں کی نماز بالکل بھی نہیں ہوگی اور اُن کی یہ نمازیں اُن کے ذمہ علیٰ حالہ باقی رہیں گی، البتہ معقول اعذار کی صورت میں کرسی پر نماز کی اجازت ہے۔

مفتی محمد سلمان منصورپوری صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی وجہ سے سجدہ کرنے پر قادر نہ ہواس سے قیام کا فریضہ ساقط ہے، اس کے لیے بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنا افضل اور کھڑے کھڑے اشارہ سے نماز پڑھنا خلافِ اولیٰ ہے اور اس کے لیے کرسی یا اسٹول پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنے کی بھی گنجائش ہے۔

کتابچہ ” کرسی پر اور مریض کی نماز کے احکام“ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص قیام، رکوع اور سجدہ تینوں ارکان پر قادر ہے، فقط گھٹنوں میں درد وغیرہ کی وجہ سے وہ زمین پر دو زانو ، چار زانو - خواتین کے بیٹھنے کی طرح - غرضیکہ کسی بھی طرح مسنون وغیر مسنون قعدہ کرنے پر قادر نہیں، تو اس کے لیے کرسی پر نماز پڑھنا اس طریقے سے جائز ہے کہ قیام کی حالت میں باقاعدہ کھڑا ہو، قیام سے فارغ ہوکر کمر جھکا کر رکوع کرے اور اپنی کرسی کی نشست کے برابر یا اس سے زیادہ سے زیادہ بارہ انگل اونچی چیز پر پیشانی ٹکاکر سجدہ کرے۔

شیخ خاشع حقی العلوانی کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مصلی قیام ، رکوع اور سجود پر قادر ہے، وہ اسی کے ساتھ نماز پڑھنے کا مکلف وپابند ہے اور جو قیام پر قادر نہیں وہ بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ اور جو اس پر بھی قادر نہیں وہ بیٹھ کر اشارہ کے ساتھ اور جو اس پر بھی قادر نہیں وہ پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھے گا، یہ تمام طریقے حدیثِ پاک سے ثابت ومنصوص ہیں،رہا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا تو وہ دین میں بدعتِ ظاہرہ اور شریعت کے بتائے ہوئے طریقہ کے مقابل ایک نئے طریقہ کی ایجاد ہے، جو کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔

شیخ احمد الحجی الکردی کے فتوی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص زمین پر سجدہ کی قدرت نہ رکھے (قطع نظر اس کے کہ قیام ورکوع پر قادر ہو یا نہ ہو) تو اس کے لیے کرسی پر نماز پڑھنا جائز ہے۔

شیخ عبد العزیز الحداد کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص قیام پر قادر ہو وہ قیام کے ساتھ نماز کا مکلف وپابند ہے، اگروہ اس کی استطاعت نہ رکھے تو بیٹھ کر یا چت لیٹ کر نماز پڑھے گا، شیخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر امام اس قدر لمبی قرأت کرے کہ مقتدی اس کا متحمل نہ ہواور قیام سے عاجز آجائے ، تو وہ کرسی یا زمین پر بیٹھ سکتا ہے اور ان دونوں صورتوں میں اپنی استطاعت کے مطابق رکوع وسجود کرے گا۔

(11)شیخ محمد سعید رمضان البوطی کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مریض کو ڈاکٹر قیام سے منع کردے، مگر زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود یا اشارہ کے ساتھ نماز سے منع نہ کرے، تو اس پر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا واجب ہے، کرسی پر اس کی نماز درست نہیں، لیکن اگر وہ مریض کو زمین پر گھٹنے موڑ کر بیٹھنے سے منع کرتا ہے تو ایسا مریض کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اور اس کی نماز درست ہے۔ (علی شبکة نیت)

تجزیہٴ فتاویٰ بر جزئیہ ثانیہ
فتاویٰ دار العلوم د یوبند سے معلوم ہوتا ہے کہ جس صورت میں کرسی پر نماز کی ادائیگی کی اجازت ہے، اس میں سادہ کرسی پر نماز ادا کی جائے، ٹیبل والی کرسی کا استعمال نہ کیا جائے۔(یعنی کرسی پر نماز پڑھنے والا شخص سجدہ کا مکلف وپابند نہیں، بلکہ وہ اشارہ سے نماز پڑھے گا اور رکوع وسجدہ دونوں میں ہاتھ کو ران پر رکھے گا)۔

احسن الفتاویٰ کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص اگر سجدہ پر قادر ہو اور بوقتِ سجدہ ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری کرسی پر سجدہ کرے اور بوقتِ سجدہ دونوں گھٹنے بھی کرسی پر رکھے، تو اس کی نماز ادا ہوگی ، ورنہ واجب الاعادہ ، مع ہذا ایسا کرنا گناہ ہے۔(یعنی کرسی پر نماز کا مروجہ طریقہ جس میں کرسی پر بیٹھنے والا شخص سجدہ پر قادر ہوتا ہے اور وہ مذکورہ بالا طریقہ پر سجدہ نہیں کرتا، تو اس کی نماز درست نہیں)۔

کفایت المفتی کے فتوے سے معلوم ہورہا ہے کہ جو شخص زمین پر بیٹھ کر سجدہ کی طاقت نہیں رکھتا، اس کے لیے کرسی پر پاوٴں نیچے لٹکاکر بیٹھنا اور ٹیبل پر سجدہ کے لیے سرجھکاناجائز ہے۔(یعنی جو شخص زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرسکتا ہے، اس کے لیے کرسی پربیٹھ کر سامنے رکھے ٹیبل پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے)۔

فتاویٰ دار العلوم زکریا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا مریض یا معذور جس کے لیے زمین پر بیٹھنا مشکل ہو اور وہ کرسی پر نماز پڑھے، تو سامنے رکھی میز یا ٹیبل پر سجدہ کرنا درست ہے، ضروری نہیں، سجدہ کے لیے اشارہ کافی ہے۔

فتاویٰ بینات کے فتوے سے معلوم ہورہا ہے کہ قیام پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں زمین پر بیٹھ کر بھی نماز جائز ہے اور گاڑی پر بھی، لیکن دونوں صورتوں میں سجدہ پر قدرت ہوتو سجدہ کرنا ضروری ہوگا، خواہ زمین پر کرے یا گاڑی کے سامنے کوئی تختہ یا میز رکھ کر، جب اس طرح سجدہ پر قدرت نہ ہوتب اشارہ جائز ہوگا ، ورنہ نہیں۔(یعنی کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا اگر سامنے تختہ یا میز رکھ کر سجدہ پر قادر ہے، تو وہ اس پر سجدہ کا مکلف وپابند ہے)۔

زبدة الفتاویٰ سے معلوم ہورہا ہے کہ جو شخص کھڑے ہوکر اور زمین پر بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا، اگر وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنے آگے کوئی ٹیبل وغیرہ رکھ کر ، اس پر پیشانی وغیرہ رکھ کر سجدہ کرسکتاہے اور ٹیبل اونچائی میں کرسی کے برابر یا کرسی سے نو انچ اونچا ہو، اس سے زائد اونچا نہ ہو، تو اس کو اپنے آگے ٹیبل وغیرہ رکھ کر اس پر سجدہ کرنا فرض ہے، اگر ایسا نہیں کرتا تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔

کتابچہ ” کرسی پر اور مریض کی نماز کے احکام“ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں اور وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے، تو اس کو کرسی پر بیٹھ کر اپنی نشست کے برابر یا اس سے زیادہ سے زیادہ بارہ انگل اونچی چیز پر پیشانی ٹکاکر سجدہ کرنا چاہیے۔

” آپ کے مسائل اور ان کا حل“ سے معلوم ہورہاہے کہ جو شخص سجدہ پر قادر نہ ہو اور وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو، تو وہ اشارہ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرے، سجدہ کے لیے اپنے سامنے میز ٹیبل وغیرہ رکھنا فضول ہے۔ (یعنی سامنے ٹیبل رکھ کر اس پر سجدہ کرنا نہ فرض ، نہ اولیٰ ، بلکہ فضول ہے)۔

کتاب المسائل سے معلوم ہورہا ہے کہ جو شخص رکوع سجدہ پر قادر نہ ہو،وہ بیٹھ کر رکوع سجدہ کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھے ، یہی اس کے لیے افضل ہے، لیکن اگر وہ کرسی یا اسٹول پر بیٹھ کر بھی رکوع اور سجدہ کے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز درست ہے ، (یعنی زمین پر سجدہ کی قدرت نہ ہونے کی صورت میں سامنے ٹیبل وغیرہ رکھ کر سجدہ کرنا ضروری نہیں)۔

خلاصہٴ بحث
کرسی پر نماز کے جواز وعدمِ جواز کی یہ پوری بحث آپ قارئین کے سامنے ہے،ہمیں اپنے اِن بزرگ مفتیانِ کرام کے فتاویٰ پر کسی نقد وتبصرہ کے بغیر ،اتنا عرض کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ - جب شریعت نے معذوروں اور مریضوں کی نماز کی تمام حالتیں بیان کردی - کہ:

جو شخص قیام پر قادر نہیں وہ زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نمازپڑھ سکتا ہے۔

جو شخص زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود پرقادر نہیں تو وہ زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔

جو شخص زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتاوہ پہلو کے بل یا چت لیٹ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔

عن عمران بن حصین - رضي اللہ عنہ - قال : کانت بي بواسیرُ، فسألتُ النبي - صلی الله علیہ وسلم - عن الصلاة، فقال : ” صلّ قائمًا ، فإن لم تستطع فقاعدًا ، فإن لم تستطع فعلی جنبٍ“۔ (بخاری :4/377 ، باب إذا لم یطق قاعدا صلی علی جنب ، عمدة القاري :11/230)

اور اگر کوئی شخص مذکورہ تینوں حالتوں میں سے کسی بھی حالت پر نماز نہیں پڑھ سکتا اور اس کی یہ حالت ایک دن رات یعنی پانچ نمازوں سے زیادہ رہتی ہے، تو اس سے فریضہٴ نماز ساقط ہے۔(در مختار:2/570، عمدة الفقہ)

تو پھر کیوں نماز جیسی عظیم الشان عبادت میں ایک نئی صورت کی اجازت دے کر اُن مفاسد کا دروازہ کھولا جارہا ہے، جن کا بعض فتاویٰ میں اندیشہ کیا جارہا ہے، حالاں کہ یہ مفاسد اندیشوں کے مقام سے نکل کر مشاہدات کا درجہ اختیار کیے جارہے ہیں، مزید برآں جو حضرات بعض مخصوص صورتوں میں کرسی پر نماز کی اجازت دے رہے ہیں، اُن میں سے بعض کرسی پر نماز پڑھنے والے شخص کے سجدے کے سلسلے میں مختلف باتیں لکھ رہے ہیں، مثلاً:”جو شخص اپنے سامنے میز ٹیبل وغیرہ رکھ کر سجدے پر قادر ہے“…

اُس کے لیے اُس پر سجدہ کرنا فرض ہے۔

اُس کے لیے اُس پر سجدہ کرنا اولیٰ ہے۔

اُس کے لیے اُس پر سجدہ کرنا فضول ہے۔

حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ جب یہ شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر ہی نہیں، تووہ سجدہ کے لیے اشارہ ہی کا مکلف ہے، خواہ وہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہویاکرسی پر اور یہ حقیقت بھی کسی پر پوشیدہ نہیں کہ کرسی پر بیٹھنے کی ہیئت زمین پر بیٹھنے کی طرح نہیں ہے کہ وہ اپنی نشست کے برابر یا اُس سے زیادہ 12 انگل اونچی چیز پر سجدے کی قدرت رکھنے کی صورت میں اُس پر سجدے کامکلف ہوگا، اسی لیے دار العلوم دیوبند کے مفتیانِ کرام نے جس صورت میں کرسی پر نماز کی اجازت دی، اُس میں یہی تحریر فرمایا کہ - سادہ کرسی پر نماز ادا کی جائے، ٹیبل والی کرسی استعمال نہ کی جائے، یعنی ایسا شخص رکوع وسجود کے لیے اشارہ کرے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے فتاویٰ میں معذوروں اور مریضوں کو نماز کی وہی حالتیں بتلائیں، جو حدیثِ پاک سے منصوص وثابت ہیں، کرسی پر نماز کے جواز کو رواج نہ دیں، کیوں کہ یہ طریقہ صحیح ثابت سنت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ نماز کی اصلِ روح کمالِ تواضع وعاجزی کے مخالف ہے، نیز بہت سے اُن مفاسد اور خرابیوں کا داعی ہے، جن کی وجہ سے جماعت العلماء تامل ناڈو کے تقریبا 350علمائے کرام نے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کو قطعاً ناجائز قرار دیا اور جو حضرات مفتیانِ کرام حدیث وآثار اور مختلف فقہی عبارتوں کوبنیاد بناکر ، معقول اعذار کی صورت میں ، کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دے رہے ہیں، وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں کو رکوع وسجود کے لیے اشارہ کامامور کریں، اپنے سامنے میز یا ٹیبل پر سجدہ کا حکم دے کر اجتہاد در اجتہاد نہ کریں،کیوں کہ عبادات امرِ تعبدی ہیں اور اُن میں اِس طرح قیاس واجتہاد کی گنجائش نہیں۔

تجزیہ وتجویز
معذور ومریض حدیث پاک سے منصوص وثابت طریقہ پر ہی نماز ادا کرے، کرسی پر نہیں، کیوں کہ کرسی پر نماز صحیح ثابت سنت کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ نماز کی روح کے منافی اور بہت سے مفاسد اور خرابیوں کاداعی ہے۔

اگر کوئی مریض سجدہ پر قادر ہے ، پورے قیام پر قادر نہیں، تو جتنی دیر قیام کرسکتا ہے، اُتنا قیام اُس پر فرض ہے، خواہ ایک آیت یا تکبیرِ تحریمہ کے بقدر ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے، تو اُس کی نماز نہیں ہوگی۔ (در مختار مع شامیہ:2/267)

اگر کوئی مریض کھڑے ہونے پر قادرہے، رکوع سجدہ، یا صرف سجدہ پر قادر نہیں، تو اُس کے حق میں قیام ساقط ہے اور اس کے لیے زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔ (ایضاً:2/567)

اگر کوئی مریض بعض مفتیانِ کرام کے فتاویٰ پر عمل کرتے ہوئے ، بعض مخصوص صورتوں میں کرسی پر نماز پڑھتا ہے، تو وہ رکوع وسجود کے لیے اشارہ ہی کرے گا، اپنے سامنے میز یا ٹیبل رکھ کر اُس پر سجدے کا مکلف وپابند نہ ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب، وعلمہ اتم واحکم



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.