جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مطالعے کے اہداف اور حل عبارت کا طریقہ

مولانا شاکرالله، ٹنڈوالہ یار

یوں تو مختلف النوع شعبہائے زندگی میں سے کسی بھی شعبے میں قدم رکھنے والے کے ذہن میں یہ خواب اور دل میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ وہ اس شعبے میں مکمل مہارت نہ سہی، کم ازکم واجبی استعداد اور اہلیت ضرور پیداکر لے، بعینہ اسی طرح طلب علم دین کے مبارک سفر پر چل نکلنے والا نیک بخت اور سعادت مند انسان بھی کم وبیش یہی آرزو اپنے من میں پالتا ہے، مگر بایں ہمہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ زندگی کے دیگرشعبوں کی طرح اس شعبے میں بھی وہ جواں مرد باہمت بکثرت نہیں ہوتے جو اپنی ہمت اور جہد مسلسل کے بل بوتے اس سنہرے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکیں اور اس عظیم آرزو کو بے پناہ عزم اور سعئی پیہم کی بدولت حقیقت کا جامہ پہناسکیں، مگر ہاں! سطح زمین ایسے جواں مردوں سے خالی بھی نہیں رہی ہے، بلکہ ہر دورمیں ایک معتدبہ تعداد میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو شروع شروع میں جوش و ولولہ لے کر اٹھتے ہیں، مگر مناسب راہ نمائی نہ ملنے کے سبب پھر ہار بیٹھتے ہیں، یعنی کسی مالی کی نگاہ التفات سے محروم پھول کی طرح بن کھلے مرجھاجاتے ہیں، مجھے ایسے نونہالوں سے حددرجہ ہم دردی ہے مگر کیا کروں؟خود بھی اس قابل نہیں کہ آگے بڑھ کر ہاتھ ان گرتوں کا تھام لوں، نہیں تو کم ازکم راہ نمائی کرسکوں، ہا ں! البتہ حضرت حکیم الامت تھانوی کا فرماں ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے، حضرت نے فرمایا”جو طالب علم دوران تعلیم تین باتوں کی پابندی کرے گا تو وہ ان شاء اللہ پختہ استعداد والا عالم بن جائے گا درس سے پہلے سبق کا مطالعہ ،درس کو غور سے سننا اور پھر اس کا تکرار “حضرت کایہ فرمان صداقت کے لیے محتاج دلیل نہیں کہ”آز مودہ کار کی بات ہے“اور تین باتوں میں سے آخری دو محتاج بیان نہیں کہ ”عیاں راچہ بیاں“البتہ مطالعہ والی بات کچھ ایسی ہے کہ اس پر کچھ کہا اور لکھاجا سکتا ہے، وہ اس لیے کہ بہت سے طالب علم ایسے پائے گئے ہیں کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ مطالعہ کے اہداف کیا ہیں؟اور ان اہداف کے حصول کے لیے کون کون سی چیزیں ضروری اور کون کون سی باتیں ممد اور مددگار ہیں؟اور ان معاون وسائل کو مناسب طریقے سے کس طرح استعمال کیاجائے؟اور ان اہداف کو منظّم ترتیب اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ حاصل کرنے کا طریقہ کیاہو؟تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام یابی ملے؟

چناں چہ بعض مرتبہ دیکھا گیا کہ طالب علم مطالعہ کے لیے کتب لغت کو وسیلہ وحید سمجھتے ہیں اور پھر ناکامی پر ہمیشہ ہمیشہ مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں، بنا بریں آئندہ سطور میں مطالعہ کے اہداف،معاون وسائل اور منظّم ومرتب طریقہ کار کسی حد تک سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اہداف پانچ ہیں:
1...کلمات کی تعیین بذریعہ صرف ونحو
2...انفرادی معانی کا علم بذریعہ لغت
3...ترکیب بذریعہ نحو
4...عبارت بذریعہ صرف ونحو
5...ترجمہ حل عبارت کاطریقہ کار:سب سے پہلا کام کلمات کی تعیین ہے، یعنی یہ دیکھنا ہے کہ یہ کلمہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف ہے؟اس کے لیے سب سے پہلے حرف والے احتمال کو لیں گے کہ یہ حرف ہے یا نہیں؟کیوں کہ اس کی تعیین آسان ہے۔

اب حرف ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے؟ تو عرض ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ عاملہ ہے یا غیر عاملہ؟

غیر عاملہ ہے تو اکثر میں معنی کا علم کا فی ہے، بعض کلمات جیسے ”لو“وغیرہ میں ترکیب بھی دیکھیں گے ۔

عاملہ ہے تو دیکھیں گے کہ جازمہ ،ناصبہ ،جارہ ،رافعہ وغیرہ میں سے کون سا ہے ؟

اگر جازمہ ہے تو اوّلا معنی اور ثانیا عمل کا علم ہونا چاہیے باقی ترکیب میں اکثر اس کی مستقل حیثیت نہیں ہوتی، اس لیے اب اگلے کلمے کی طرف بڑھ جائیں گے، بعض مرتبہ حیثیت ہوتی بھی ہے، جیسے ”ان“شرطیہ وغیرہ، پھر اس صورت اس حساب سے متعلقات دیکھ کر کارروائی ہوگی۔

اور اگر ناصبہ ہے تو اوّلا معنی کا علم ثانیا عمل کا علم پھر ”لن“اور ”لم“کی ترکیب میں حیثیت نہیں ہوتی ہے، اس لیے آگے بڑھ جائیں گے اور جن کی حیثیت ہوتی ہے تو ترکیب کا بھی پتہ چلایا جائے، مثلا”ان “ناصبہ کے بعد فعل مضارع بتاویل مصدر ہو کر فاعل ،مفعول اور کبھی خبر وغیرہ بنتی ہے ۔اور اگر جارہ ہے تو اولا معنی کا علم ثانیا عمل تو معلوم ہی ہے، بعد والے اسم مجرور کے اعراب کا علم اور پھر ترکیب کی جائے کہ بعض مرتبہ فعل سے متعلق ہوتا ہے اور کبھی اسم ظاہر مقدر سے اورخبر بنتی ہے، پھر اس حساب سے ترجمہ ہو ۔

اور اگر رافعہ ہے جیسے یا زید تو معنی اور عمل کا علم، پھر ترکیب اور ترجمہ ہو۔

اور اگر دونوں کا م کرتا ہے جیسے مشبہ بالفعل ،مشبہ بلیس اور لائے نفی جنس تو ان میں اولا معنی کا علم، ثانیا عمل کا علم، پھر بقیہ کارر وائی یعنی ترکیب، عبارت اور ترجمہ ہو ۔

اور اگر حرف نہیں ہے تو پھر فعل والے احتمال کو لیں گے کہ اس کی تعیین بھی اسم سے سہل تر ہے ۔

اب اگر وہ کلمہ فعل ہے تو ہمیں کیا کرنا ہے ؟تو سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ یہ امر ہے ،نہی ہے ،ماضی ہے ،مضارع ہے اور یا پھر فعل ناقص؟اب اگرامریا نہی ہے تو معاملہ دونوں میں آسان ہے، مبنی ہے اعراب کا مسئلہ نہیں، فاعل ضمیر ہے، ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، مبنی دیکھنا ہے، ثانیا دوسرے متعلقات یعنی مفعول وغیرہ دیکھ کر بقیہ کارروائی (ترکیب،عبارت ،ترجمہ) کرنی ہے ۔

اور اگر فعل ماضی ہے تو بھی مبنی ہے، اب اولا معنی کا علم، ثانیا دو صیغوں میں فاعل تلاش کرکے (باقی میں ضمائر فاعل ہیں )،ثالثا متعلقات دیکھ کر بقیہ کارروائی (ترکیب،عبارت،ترجمہ)کرنی ہے۔

اگر فعل مضارع ہے تو اولا معنی کا علم، ثانیا اعراب دیکھناہے، ثالثا دو صیغوں میں فاعل تلاش کر کے اوررابعا دیگر متعلقات دیکھ کر بقیہ کارروائی کرنی ہے ۔

اگر فعل ناقص ہے تو اولا معنی کا علم، پھر اسم اور خبر کا پتہ چلا کر ترکیب عبارت اور ترجمہ کریں گے ۔

پہلے دو احتمالات نہ ہونے کی صورت میں اب اسم والا احتمال متعین ہوگیا، اب اولا معنی، ثانیا ترکیب، ثالثا اعراب و عبارت اور رابعا ترجمہ ہے۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ یہ تو معلوم ہے کہ جملے کا ابتدائی جز اسم ہے تو جملہ اسمیہ ہوتاہے اور عموما مبتداہی ہوگا، پھر اسم اشارہ یا ضمیر ہے تو مبنی ہے، معنی بھی تقریبا معلوم ہے، اب (عموما)صرف خبر ڈھونڈ کر بقیہ کارروائی کرنی ہے ۔

اور اگر اسم ظاہر جیسے زیدوغیرہ تو پھر معنی معلوم نہ ہونے کی صورت میں وہ دیکھیں گے، پھر ترکیب میں یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ یہ اسم مبتداہے، اب اعراب کا بھی علم ہے کہ مرفوع ہے، صرف یہ دیکھیں گے کہ سولہ اقسام میں سے کون سا ہے ؟پھر تعیین کے بعد معلوم ہوگا کہ اس کا رفع حرکت لفظی یا تقدیری اور یا پھر حرف لفظی وغیرہ کس کے ساتھ ہے ؟

اب اس کے بعد خبر کی تلاش میں دوسرے کلمے کی طرف جائیں گے، اس دوسرے کلمے میں بھی مذکورہ بالا تین احتمالات ہی ہوں گے، یعنی اسم، فعل یا حرف۔ اب اگر اسم ہے تو مذکورہ بالا طریقہ نمبر کے مطابق تحقیق کے بعد خبر بنے گی، اب عبارت اور پھر ترجمہ کریں گے ۔

اب اولا کلمات کی تعیین، ثانیا معانی کا علم، ثالثا تر کیبی احتمالا ت کی تعیین رابعا اس اعتبار سے صحیح عبارت خوانی اور پھر خامسا ان سب کلمات کو ملاکرترجمہ کرلیاہے اوراسی کے ساتھ آپ بفضل خداوند، مطالعہ کے اہداف پورا پورا حاصل کرتے ہوئے منزل سے کام یابی کے ساتھ ہم کنار ہوگئے۔

آخرمیں یہ بتاتا چلوں کہ یہاں پر تمام تر احتمالات کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے، بہت سے احتمالات رہ بھی گئے ہیں، یوں بھی سب کو حیطہ تحریر میں لانا اس مختصر تحریر میں ممکن نہیں ہے ،ہاں! البتہ اس سے مطالعہ کی راہیں ضرور کھل جائیں گی تھوڑی بہت رکاوٹوں کو دست یاب کتب سے استفادہ اور اساتذہ کرام سے استفسار کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے، بس تان پھر بھی اسی پہ آکے ٹوٹتی ہے کہ تجربہ شرط اور ہمت کام یابی کی کسوٹی ہے ۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.