جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

علمائے کرام کی بصیرت پر اعتماد، وقت کی ضرورت

محترم عبدالله جان

انسانی تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جب بھی کسی قوم نے کسی مسئلہ کے درپیش ہونے سے قبل ایک پائیدار ،معقول اور سوچ سمجھ کر پالیسی ترتیب دی تو اس قوم نے اس در پیش مسئلے کو نہایت آسانی سے حل کیا ہے۔ لیکن جو قوم کسی درپیش مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس اور مستقل پالیسی نہیں اپنا تی وہ مسائل کے گرداب میں مزید ڈوبتی چلی جاتی ہے ۔بعض ایسی قومیں ہوتی ہیں جنھوں نے پہلے سے کوئی منصوبہ بند ی ترتیب نہیں دی ہوتی، لیکن سابقہ حالات کے مشاہدات اور تجربات یا تاریخ سے سبق سیکھ جاتی ہیں، اس طریقے سے بھی یہ قوم مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرسکتی ہے۔ لیکن امت مسلمہ کو آج کل یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ہمیں جب بھی مسئلہ درپیش ہو تو ہم چاہتے تو ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے، لیکن حل کے لیے جو اصول اور ضوابط ہوتے ہیں اس بارے میں ہم مجموعی طور پر بہت ہی مختلف اور متضاد انداز سے سوچتے رہے ہیں ۔ہماری سوچ اور انداز سوچ میں یکسانیت نہیں ہوتی ،اس پر بھی بس نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لیے جو مختلف قسم کی تجاویز ہوتی ہیں ان میں جذبات نے ایک ایسا مسئلہ بھی کھڑا کردیا ہے کہ اب یکسانیت اور بھی مشکل ہوگئی ہے ۔یہ جذبات صرف اور فکر کے ہی نہیں، بلکہ لسانیت ، قومیت، علاقائیت اور دیگر لادین قسم کے نظریات پر مشتمل ہوتے ہیں ۔یعنی اس امت کے اگر دو افرادکسی طرح ایک جگہ بیٹھ جائیں اور ان کی فکر ایک نہیں تو ان کا سمجھنا مشکل، اس طرح اگر ان کا تعلق ایک صوبے سے توہے، لیکن زبان مختلف ہے تو بھی ان کا سمجھنا مشکل ہوتا ہے لیکن یہ ایک ہی امت کے لوگ ہیں، بعض مرتبہ دیکھنے اور سننے میں آتا رہتا ہے کہ ایک شخص کسی دوسری پوری نسل سے نفرت اور تعصب کا اظہار کررہا ہے اور بعض اوقات زبان یا صوبے و غیرہ کی بنیاد پر اسی امت کے کلمہ گو مسلمانوں سے نفرت اور تعصب دیکھنے میں آتاہے۔حالاں کہ دین اسلام کی تعلیمات ہمیں یہ سکھا رہی ہیں کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔

جب ہمارے سمجھنے سمجھانے میں اس قسم کی فضول باتیں رکاوٹ ہوں تو اندازہ لگائیں تمام مسائل سے بڑامسئلہ یہی ہے یا نہیں ؟کیا اس طریقے سے ہم دوسری قوموں کاکسی بھی شعبے میں مقابلے کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں ؟کیا کسی کلمہ گو مسلمان سے زبان ،رنگ ،نسل ،علاقے یا صوبے کی بنیاد پر نفرت کرنا گناہ ہے یا نہیں؟ کیا ایسی حالت میں ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرنے کے مرتکب نہیں ہورہے ؟اور کیا ایسی حالت میں ہم شیطان اور شیطانی قوتو ں کی خوشیوں کو دوبالا نہیں کررہے ؟

آج کل ملک میں لسانیت کی بنیاد پر نئے صوبوں کے مطالبے ہورہے ہیں ۔ایک ایسے ملک میں جو پہلے سے لسانیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اسلام کے نام پر حاصل کیاگیاتھا، چھ عشروں سے زائد کا عرصہ گذرنے کے باوجود ہم یہ سمجھنے کی کو شش نہیں کررہے ہیں کہ اسلام میں کیا ہر قسم کے نظام،نظرئیے ،لسانیت ،قوم پرستی اور دیگرلادینیت کی گنجائش ،ضرورت یا اجازت ہے یا نہیں ۔ہم اس بات کو زبانی تسلیم کررہے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، لیکن کیسے ضابطہ حیات ہے اس کو ابھی تک نہ تو سمجھ پائے اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔حالاں کہ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق اسلام میں نہ صرف یہ کہ احکامات موجود ہیں، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں متعلقہ مسائل کا حل بھی موجود ہے۔

بات جب احکام کی ہو تو پھر اس کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق جو احکام ہیں ان کو مان کر اور ان پر عمل کرکے ہم آخرت میں نجات پائیں گے، بصورت دیگر ہم جواب دہ ہوں گے ۔اب ایک کام بلکہ اگر مانیں تو سب سے بڑی کام یابی تویہ ہوگی کہ ہم آخرت میں سرخ رو ہوں گے اور ساتھ ہی دنیاوی مسائل سے بھی چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اور دوسری طرف اگر نہ مانیں اور حکم کے مطابق عمل بھی نہ کریں تو خدا نخواستہ دنیا و آخرت میں معاملہ بالکل اس کے برعکس ہوگا۔

اب یہ تو طے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مان کر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے میں کام یابی اور تمام مسائل کا حل موجود ہے تو اس بارے میں ہماری راہ نمائی کون کرے گا؟کون اسلام، اسلامی تعلیمات ،اللہ کے حکم ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں اور اسلامی احکام کی روح کو بہتر جانتا ہوگا؟جواب ظاہر ہے، بلکہ اظہر من الشمس ہے کہ علما۔ وہ علما جن کی باقاعدہ درس و تدریس ۔باقاعدہ مدرسہ میں تعلیم ہوئی ہو۔تربیت بھی مدارس ہی میں ہوئی ہو۔

وہ علما جن کے اعمال ان کے اقوال کا مظہر ہوتے ہوں ۔جن کی علمی کڑیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہوں ۔لیکن ایسے پروفیسر وں سے بچنا ہی ہوگا جو چند مذہبی کتب کا مطالعہ کرکے خود کو علمائے کرام سے زیادہ سمجھ دار باور کراتے ہوں۔مطالعے سے اگر کوئی سمجھتا یا عالم دین بنتا تو پھر مطالعے سے کوئی ڈاکٹر ،انجینئر ،سائنس دان وغیرہ بھی بن جاتا لیکن جیسے عصری علوم کے لیے باقاعدہ استاد کی ضرورت ہوتی ہے اور مطالعے سے کام نہیں چلتا ،اسی طرح دین اسلام کی تعلیمات حاصل کرنے اور ان میں مہارت پیداکرنے کے لیے بھی استاد ہی کی ضرورت ہوتی ہے ۔

لہٰذا ہمیں ان تمام مسائل کے حل کے لیے ،دنیا میں سرخ ر وئی کے لیے ،آخرت میں نجات کے لیے اور اپنے ہی دین سے متعلق آگاہی اور راہ نمائی کے لیے ایسے ہی علما کی جماعت کی ضرورت ہے۔جوکہ الحمدللہ وطن عزیز میں موجود ہے، بلکہ اپنے بہترین کردار ،تاریخ ،شان دار ماضی بے شمار قربانیوں اور انتہائی معقول پالیسیوں کے ساتھ موجود ہے ۔ان علمائے کرام کی موجودگی میں جو الحمدللہ ایک لمبے عرصے سے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ،ہمیں یہ منتشر اور کمزور دماغ کھانے اور سوچ کے گھوڑے نامعلوم سمت دوڑانے کی ضرور ت ہی نہیں ۔انہی علمائے کرام کی بصیرت پر اعتماد کے سوا ہمارا کوئی چارہ ہی نہیں۔اللہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائیں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.