جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

فطرتِ اِسلام ۔۔۔ الله تعالیٰ کا انعام

محترم منیر گل

شہد کی مکھی پھولوں پر بیٹھتی ہے، اُس کا رس چوستی ہے، جس سے شہد بنتا ہے، جس میں لوگوں کے لیے بیماریوں سے شفا ہے ۔ دوسری مکھی غلاظت پر بیٹھتی ہے اور یہ غلاظت لوگوں کے کھانے پینے کی چیزوں میں منتقل کرتی ہے، جس سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔ شہد کی مکھی گندگی کے قریب جانا بھی اپنی موت سمجھتی ہے او راس سے دور بھاگتی ہے، جب کہ دوسری مکھی گندگی کو دیکھ کر شاداں وفرحاں اس پر گرتی ہے ۔ غلاظت کو پاکر اپنی برادری والوں کو بھی اپنے ساتھ شرکت کی دعوت دیتی ہے۔ اُس کی وہ فطرت ہے، اس کی یہ فطرت ہے، بھینس کا نوزائیدہ بچہ(کٹا) ماں کا دودھ پیتا ہے ۔

حالاں کہ عقل نہیں رکھتا، جب کہ کوّا ،جو پرندوں میں عقل مند شمار ہوتا ہے، غلاظت سے پیٹ بھرتا ہے، اُس کی یہ فطرت ہے ۔ ایک شخص نے شیر پال رکھا ہے، لوہے کے مضبوط سلاخوں والے پنجرے میں وہ بند رہتا ہے او راس کے ہاں ایک بیل بھی ہے، یہ شخص بازار جاکر ایک من تازہ گوشت لاتا ہے، پھر اپنے کھیت سے تروتازہ گھاس کاٹ کر لاتا ہے گھاس شیر کے آگے رکھتا ہے اور گوشت بیل کے سامنے! شیر گھاس کو منھ ڈالتا ہے، نہ ہی بیل گوشت کو منھ لگاتا ہے ۔ ہر ایک کی اپنی اپنی فطرت ہے، ہر مخلوق اپنی فطرت سے مجبور ہو کر طوعاً وکرھاً اس پر چلتی ہے، اس سے گریز نہیں کرتی۔

ایک بزرگ واقعہ بیان فرما رہے تھے ، احباب کے ہمراہ کہیں جانا تھا، گاڑی کو فلنگ اسٹیشن لے جایا گیا۔ٹینکی تیل سے بھر دی، اب جو گاڑی سٹارٹ کرتے ہیں تو سٹارٹ نہیں ہوتی، حالاں کہ فلنگ اسٹیشن تک گاڑی صحیح آئی تھی ، تمام کل پرزے چیک کیے، سب ٹھیک ٹھاک ! مگر گاڑی ہے کہ سٹارٹ ہونے کا نام ہی نہیں لیتی بڑی پریشانی ہوئی ۔ کافی مشقت اٹھانے کے بعد جو غور کیا تو پتہ چلا کہ غلطی سے ٹینکی میں ڈیزل کے بجائے پیٹرول ڈالا گیا ۔ گاڑی کے انجن کی ساخت ڈیزل کے لیے تھی، پیٹرول سے کیسے چلتی ؟ #
        ہر کسے رابہر کارے ساختند

انسان بھی ایک مخلوق ہے ، حیوان ناطق! الله تعالیٰ جل وعلاشانہ نے اسے فطرتِ اسلام پر پیدا کیا ہوا ہے ۔ یہودی، نصرانی، مجوسی، ہندو ہر غیر مسلم کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ فطرتاً مسلمان ہوتا ہے ۔ لامحالا اس نے اس فطرت پر چلنا ہے اور ساری زندگی اس پر گزارنی ہے، ایسا نہیں کریے گا تو یہ اپنی فطرت سے بغاوت کا مجرم ہو گا، اس کی زندگی کا رُخ غلط سمت کو ہو گا، نتیجتاً یہ اپنی ذات کے اعتبار سے بڑے خسارے میں ہو گا:﴿وَمَن یَبْتَغِ غَیْْرَ الإِسْلاَمِ دِیْناً فَلَن یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِیْن﴾․ (آل عمران:85)

ایک اُستاد نے کلاس میں اپنے چند طالب علم شاگردوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کاغذ تقسیم کیا۔ سب کاغذوں پر دُنیا کا نقشہ بنا ہوا تھا کہ اسے غورسے دیکھ لیں، پھر ہر ایک سے کاغذ واپس لے کر ہر کاغذ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے او رپھر وہی ٹکڑے کیا ہوا کاغذ ہر ایک کو واپس کیا او ران سے کہا کہ کاغذ کے ان پُرزوں کو ایسا جوڑنا جیسا کہ یہ پہلے تھا، تاکہ دنیا کا نقشہ پھر اپنی پہلی حالت میں سامنے آئے ۔“ سب شاگروں نے کافی کوشش کی مگر سوائے ایک شاگرد کے اور کسی سے دنیا کا نقشہ اپنی پہلی حالت میں نہ بن سکا۔ اُستاد نے اُس شاگرد سے پوچھا ” تم نے یہ کیسے کر لیا؟“ اس نے کہا ” سَر! نقشے کی پشت پر ایک انسان کی تصویر تھی، جس کے بھی ٹکڑے ہو چکے تھے۔ میں نے کان کا ٹکڑا کان کے دوسرے ٹکڑے کے ساتھ جوڑا۔ ناک کا ٹکڑا ناک کے دوسرے ٹکڑے کے ساتھ ، بازو کا ٹکڑا بازو کے دوسرے ٹکڑے کے ساتھ ، ٹانگ کا ٹکڑا ٹانگ کے دوسرے ٹکڑے کے ساتھ جوڑا۔ جب تمام اعضا کے ٹکڑے آپس میں جڑ گئے تو انسان کی تصویر مکمل ہو گئی ، اب تصویر کی پشت پر دُنیا کا نقشہ دیکھا تو وہ بھی مکمل ہو کر اپنی پہلی حالت پر سامنے آگیا۔ اُستاد نے شاگرد طالب علم کی تحسین کی اور فرمایا اسی انسان کی اپنی فطرت سے بغاوت کی وجہ سے زمین پر شورش ہے ، دنگا فساد برپا ہے، اگر یہ اپنی صحیح فطرت پر چلے جو اسے اس کے خالق نے بطور انعام عطا کی ہوئی ہے تو دنیا کا نظام خود بخودد ُرست ہو گا اور دنیا امن، چین وسکون اور صلح وآشتی کا گہوارہ بنی رہے گی:﴿ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْ النَّاس﴾(روم:41)

حیرت ہے کہ چوپایہ جو انسان کے مقابلہ میں ایک کمتر مخلوق ہے وہ تو اپنی فطرت نہیں بدلتا، تاحیات اِس پر قائم رہتا ہے، مگر انسان، جسے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے، اپنی فطرت سے راہِ فرار اختیار کرتا ہے اور بد فطرت اور بد طینت بن کر معاشرے کے لیے ناسور بنتا ہے ۔ اپنے ہم جنس انسانوں میں رہتے ہوئے انہیں زک پہنچاتا ہے ۔ یہ اپنی فطرت (فطرت اسلام) پر چلے جو الله تعالیٰ نے اسے انعام کے طور تفویض کی ہوئی ہے تو انسانیت کی معراج کو چھولے، اس کا وجود بنی نوع انسان کے لیے باعثِ رحمت ہو اور اسے ترک کر دے تو اسفل السافلین میں اپنے آپ کو گرائے ۔ غلط ڈگر پر چلنے والا، اپنی مرضیات وناجائز خواہشات کا دیوانہ ، الله تعالیٰ شانہ کی عطا کردہ اعلیٰ وارفع فطرت کی ناقدری کرنے والا یہ باغی شخص جب اپنی اس فانی زندگی کی سفر کی آخری منزل پر پہنچے گا تو سوائے ناکامی ونامرادی کے اور کچھ نہ پائے گا او رزبانِ حال وقال سے پکارے گا #
        جو سحر ہوئی تو خبر ہوئی میرا راستہ کوئی اور تھا



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.