جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

رب کی اطاعت وعبادت

استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب زید مجدہ

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب زید مجدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے او رحضرت کا سایہ تادیر ہم پر قائم رکھے۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ﴾․(البقرة:21)

ربطِ آیات
گزشتہ آیات میں مؤمنین ، کافرین اور منافقین کے اوصاف اور ان کی جزا وسزا علیحدہ علیحدہ بیان کرنے کے بعد یہاں سے تمام بنی نوع انسان کو مجموعی طور پر مخاطب کرکے ان کے سامنے دعوت توحید بیان کی ہے ۔

اسلام کے اجزائے ترکیبی دو ہیں ایک توحید، دوسری رسالت، پہلے توحید اور عبادت کو بیان کیا ہے ، جو تقوی اور پرہیز گاری کی جڑ ہے ، توحید کی دعوت ایسے انداز سے دی گئی ہے کہ اس میں دعوی کے ساتھ ساتھ اس کے واضح دلائل بھی آگئے ہیں۔

اے لوگو! بندگی کرو اپنے رب کی ، جس نے پیدا کیا تم کو اور ان کو جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

لفظ عبادت کی تشریح
مفسرین نے عبادت کی تشریح انتہائی درجے کی تواضع اور بعض نے انتہائی درجے کی تعظیم سے کی ہے۔ ( روح المعانی:86/1، امدادیہ ملتان، تفسیر ابن کثیر:26/1، دار الفکر، الکشاف:12/1، ادب الحوذة)

اگرچہ یہ معنی صحیح ہیں ، مگر تشریح کے محتاج ہیں ، کیوں کہ والدین اور اساتذہ کی تعظیم او ران کے لیے تواضع عبادت نہیں کہلاتی۔

شیخ الہند رحمة الله علیہ نے ترجمہ میں عبادت کا معنی بندگی سے کیا ہے، یعنی بندہ ہونا۔ یہ اسی ذات کے لیے ہو سکتا ہے جس کی طرف بندہ ہر وقت ہر چیز میں محتاج ہو۔

عبادت کی بہترین تشریح علامہ ابن قیم رحمة الله علیہ نے مدارج السالکین40/1 میں فرمائی ہے:”عبادت، معبود کے لیے اسباب سے ماورا غیبی قوت ( علم اور تصرف) تسلیم کرنے کا نام ہے، جس قوت کے ذریعے وہ نفع اور نقصان پہنچانے پر قادر ہو۔ لہٰذا ہر وہ دعا، پکار، تعریف وتعظیم جو اس اعتقاد کی بناپر پیدا ہو عبادت ہے۔“

اگر یہ اعتقاد خدا تعالیٰ کے حق میں ہو کہ ہمارے حالات جاننے اور ان میں متصرف ہونے میں الله جل شانہ کا مافوق الاسباب غیبی قبضہ ہے اور اسی اعتقاد کے ماتحت الله جل شانہ کو پکارا جائے یا کوئی صفت وثنا بیان کی جائے یا کوئی نذر ونیاز دی جائے، یا کسی اور فعل سے تعظیم کی جائے تو یہ سب الله کی عبادت او رموجب ثواب کہلائے گی۔

او راگر معاذ الله یہ اعتقاد کسی پیر وپیغمبر کے متعلق ہو کہ ہمارے حالات جاننے او ر ان میں متصرف ہونے میں مافوق الاسباب غیبی قبضہ رکھتے ہیں او راسی اعتقاد کے تحت وہاں جاکر دوزانو بیٹھے، اس پر کپڑا ڈالے، وہاں کچھ شیرینی تقسیم کرے اس کی قبر کو بوسہ دے، یا گھر ہی میں بیٹھ کر اس کے نام پر صدقہ وخیرات دے او راسی عقیدہ کے تحت زندہ پیر کے ہاتھوں کو بوسہ دے ، یا اس کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھے، تو یہ سب افعال اس پیر کی عبادت ہوں گے اور الله کے نزدیک موجب لعنت ہوں گے۔

لفظ رب کا انتخاب
پھر یہاں الله جل شانہ نے یوں نہیں فرمایا کہ میری عبادت کرو، یا الله کی عبادت کرو ، بلکہ یوں فرمایا کہ اپنے رب کی عبادت کر و، یعنی ہر وقت اور ہر حال میں پرورش کرنے والے کی عبادت کرو ۔ اور نکتہ اس اس میں یہ ہے کہ جب بندہ اپنے خالق اور رازق اور آقا ومولا کے انعامات واحسانات او راس کی بخشش وعنایات کو خیال کرے گا تو از خود اپنے خالق ورازق کی اطاعت اوعبادت کو دل چاہے گا، پھر یہاں لفظ”رب“ کا انتخاب کرنے میں حکمت یہ بھی ہے کہ اس میں دعوی کے ساتھ دلیل بھی آگئی۔

دعوی توحید کو دو قسم کے دلائل سے مزین فرمایا:”ان الله تعالیٰ ذکر ھنا خمسة أنواع من الدلائل، إثنین من الأنفس وثلاثة من الآفاق، فبدأ أولاً، بقولہ:(خلقکم) الخ․“ (التفسیر الکبیر:101/1، مکتب الأعلام الاسلامیة)

ایک انفسی دلائل، یعنی وہ دلائل جوانسان کی ذات سے متعلق ہیں دوسرے آفاقی دلائل یعنی وہ دلائل جو انسان کے گردوپیش کی چیزوں سے متعلق ہیں۔

یہاں تک تو انفسی دلائل کا بیان تھا کہ اے انسان! تم کو پردہٴ عدم سے نکالا اور وجود کی عجیب وغریب خلعت تم کو پہنائی۔

﴿لعلکم﴾

میں لفظ”لعل“ امید کے لیے آتا ہے: ”ولعل للترجی أو الاشفاق، تقول: لعل زیداً یکرمنی، ولعلہ یھیننی“․ (الکشاف:91/1، أدب الحوزہ) ”وذکر بعض المفسرین: أن لعل من الله واجب“․ (معجم مفردات الفاظ القرآن:505، دارالکتب العلمیة)

مگر جب الله کی طرف سے ہو تو یقین کے معنوں میں ہوتا ہے۔ توحید کے نتیجہ میں نجات یقینی ہے ، مگر اس امر یقینی کو اُمید کے عنوان سے ذکر کرنے میں حکمت یہ ہے ، کہ جب تک فضل خدا وندی نہ ہو ، انسان کا کوئی عمل بذات خود ذریعہ نجات نہیں بن سکتا۔

﴿الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الأَرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَاء بِنَاء وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّہِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُون﴾․(البقرة:22)
ترجمہ:”جس نے بنایا واسطے تمہارے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اُتارا آسمان سے پانی، پھر نکالے اس سے میوے، تمہارے کھانے کے واسطے۔“

ربط آیات
گزشتہ آیت میں انفسی دلائل کا بیان تھا، اب یہاں سے آفاقی دلائل کا بیان ہے۔

تفسیر
گویا کہ سارا عالم بمنزلہ ایک مکان کے ہے ، زمین اس کا فرش اور آسمان اس کی چھت ہے ، چاند وسورج، چمکتے ستارے اس مکان کی روشن شمعیں ہیں، انواع واقسام کے پھل ، میوے اس مکان میں رہنے والوں کے لیے سامان زندگی ہے۔

یہاں دونوں قسم انفسی اور آفاقی دلائل الله تعالیٰ کو معبود ماننے اور اس کی ہی عبادت کرنے کے لیے دیے گئے ، تاکہ ہر انسان غور کرے کہ اس کو عدم سے وجود میں لانے والا او رایک قطرہٴ ناچیز سے حسین وجمیل انسان پیدا کرنے والا اور پھر انسانوں کی تربیت اور پرورش کے سارے سامان مہیا کرنے والا بجز حق تعالیٰ کے کوئی نہیں، تو عبادت وبندگی کا حق دار بھی اس کے سوا کوئی او رنہیں ہو سکتا۔

اس آیت سے ثابت ہوا کہ عبادت میں توحید باری تعالیٰ کا پورا خیال رکھنا ضروری ہے۔

فراش
کرہٴ ارض باوجود گول ہونے کے چوں کہ ضخامت کی وجہ سے ہموار نظر آتا ہے ، اس لیے فراش بچھونے سے تعبیر فرمایا:

اور قرآن مجید کا طرز خطاب بھی یہی ہے کہ ہر دیکھنے والا عالم ہو یا جاہل سمجھ سکے۔(الکشاف:94/1 ، أدب الحوزہ)

”سو نہ ٹھہراؤ کسی کو الله کے مقابل او رتم تو جانتے ہو“ دلیل کا نتیجہ ہے، یعنی جب تم جانتے ہو کہ یہ سارے کام کرنے والا الله ہے ، تو پھر کسی کو عبادت میں اس کا شریک نہ بناؤ۔

یہاں نتیجہ اس پر صراحت سے دلالت کر رہا ہے کہ دعوی میں حصر ہے ، تو دعوی کا مقصد یہ نہیں کہ الله کو معبود مانو․ بلکہ مقصد یہ ہے کہ صرف الله ہی کو معبود مانو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ کیوں کہ نزول قرآن سے پہلے مشرکین مکہ اور یہود ونصاری سب خدا کو اپنا معبود مانتے تھے ، لیکن وہ اس کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے ، اس لیے شرک سے منع فرمایا اور صرف الله ہی کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔

الأنداد ندکی جمع ہے ”الأنداد جمع ندّ، وھو المثل المناوی… وقیل: الأنداد: نظراء، وقیل: أضداد، قالہ أبوعبیدة“․ (عمدة الحفاظ، باب النون:155/4 العلمیة) اور ند عربی زبان میں مثل کو بھی کہتے ہیں اور مد مقابل کو بھی ، چناں چہ انداد کے معنی اشباہ اور اضداد دونوں لیے گئے ہیں۔ لفظ کی جامعیت میں حکمت یہ ہے کہ دنیا میں شرک دونوں قسم کا مروج رہا ہے ، بہت سی قوموں نے اپنے دیوتاؤں کو محض الله کے مشابہہ اور مثل تسلیم کیا اور بعضوں نے الله کے مقابل کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔

﴿وَإِن کُنتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِہِ وَادْعُواْ شُہَدَاءَ کُم مِّن دُونِ اللّہِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ وَلَن تَفْعَلُواْ فَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْن﴾․ (البقرة:24,23)
ترجمہ:” او راگر تم شک میں ہو اس کلام سے جواتارا ہم نے اپنے بندے پر تو لے آؤ ایک سورت اس جیسی او ربلاؤ اس کو جو تمہارا مدد گار ہو، الله کے سوا،ا گر تم سچے ہو۔“

ربط آیات
اسلام کے اجزائے ترکیبی دو ہیں، ایک توحید، دوسری رسالت۔ گذشتہ آیات میں توحید عقلی دلائل سے ثابت کی گئی، اب ان آیات میں دلائل نبوت بیان کرتے ہیں ، نبوت کی واضح دلیل چوں کہ معجزہ ہوتا ہے، اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کو بہت سے معجزات عطا ہوئے ، ان تمام معجزات میں سب سے اعلیٰ اور افضل معجزہ قرآن ہے ، جو آپ کی نبوت کی سب سے بڑی اور روشن دلیل ہے ،اس کے معجزہ ہونے میں مخالفین کو شبہ تھا کہ شاید اس کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم خود گھڑتے رہتے ہیں اور لوگوں کو کلام الہٰی بتا کر سناتے ہیں ، تو اس صورت میں دلیل نبوت مشتبہ ہو تی، اس لیے الله تعالیٰ اس اشتباہ کو اگلی آیت میں رفع فرماتے ہیں، تاکہ اس کا معجزہ ہونا ثابت ہو جائے۔

قرآن کریم کا نزول ایک ساتھ کیوں نہیں ہوا
﴿نزلنا﴾ کی تفسیر میں علامہ زمحشری رحمہ الله تفسیر کشاف میں لکھتے ہیں(الکشاف:96/1، أدب الحوزہ ایران، کذا فی التفسیر الکبیر:116/1، مکتب الاعلام الاسلامیہ):

اگر کوئی معترض ہو کہ قرآن کریم ایک ساتھ ہی کیوں نازل نہیں ہوا؟ تھوڑا تھوڑا ہو کر کیوں اترا؟ تو ہم اسے جواب میں کہیں گے یہ انسانوں کو چیلنج دینے کے لیے تھوڑا تھوڑا اتارا گیا، کیوں کہ منکرین کہتے تھے کہ جس طرح اور شعراء اور خطباء سوچ سوچ کر اشعار اور خطبات لکھتے ہیں، یہ رسول بھی وقفوں کے ساتھ اسے گھڑتے رہتے ہیں، کلام الہٰی ہوتا تو تورات وانجیل کی طرح یک بارگی کیوں نازل نہیں کیا گیا؟ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے :﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ﴾․ (الفرقان:32)
ترجمہ:” او رکہنے لگے وہ لوگ جو منکر ہیں کیوں نہ اترا اس پر قرآن سارا (اکھٹا) ایک جگہ ہو کر ( ایک بار))

چناں ارشاد فرمایا کہ اگر تم اس زعم فاسد اور خیال باطل کی وجہ سے اس کلام کے کلام الہٰی ہونے میں شک اور تردد میں ہو تو تم بھی اسی طرح اس جیسی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بنالاؤ، جو فصاحت وبلاغت او رمعنوی علوم وفنون کے لحاظ سے قرآن کا نمونہ ہو۔

عبدنا میں اضافت کون سی ہے
﴿علی عبدنا﴾
یہاں اضافت تشریف او رتخصیص کے لیے ہے۔ ”الإضافة علی ”عبدنا“ للتشریف والتخصیص، وھذا أشرف وصف لرسول الله صلی الله علیہ وسلم“ ( صفوة التفاسیر:41/1، دارالقرآن)

یعنی اپنے خاص او رمقرب بندے محمد صلی الله علیہ وسلم پر ، آپ صلی الله علیہ وسلم کا سب سے افضل وصف یہی عبد ہونا ہے، جیسے کسی شاعر نے کہا ہے #
        لاتدعنی إلا بیاعبدھا
        فانہ أشرف أسمائی
مت پکارو مجھے، مگر ان کا غلام کہہ کر، کہ میرا یہی نام سب ناموں سے افضل ہے #
        اگر یک بار گوید بندہ من
        از عرش بگذر دخندہٴ من
او را س میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے مطیع وفرماں بردار ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے۔ ”وفي ذکرہ صلی الله علیہ وسلم بعنوان العبودیة مع الاضافة إلی ضمیر الجلالة من التشریف والتنویہ والتنبیہ علی اختصاصہ بہ عزوجل وانقیادہ لأوامرہ تعالیٰ مالا یخفی“․ ( تفسیر أبي السعود:87/11، دارالکتب العلمیہ)

(مثل سے کیا مراد ہے ؟ اور سرسید کا موقف)
﴿فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِہِ﴾
ترجمہ:” تولے آؤ ایک سورت اس جیسی۔“

تمام مفسرین سلفاً خلفاً اس پر متفق ہیں کہ مثل سے مراد مثل فی البلاغت والفصاحت ہے ، مگر سرسید احمد خاں صاحب کہتے ہیں کہ مثل سے مراد مثل فی الہدایت ہے ، چناں چہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں (تفسیر القرآن، سرسید احمد خان:37/1، دوست ایسوسی ایٹس):

” مگر میری سمجھ میں ان آیتوں کا یہ مطلب نہیں ہے، اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ قرآن مجید نہایت اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ فصاحت وبلاغت پر واقع ہے او رجو کہ وہ ایسی وحی ہے جو پیغمبر کے قلب نبوت پر، نہ بطور معنی ومضمون کے بلکہ بلفظ ڈالی گئی تھی، جس کے سبب سے ہم اس کو وحی متلو یا قرآن یا کلام خدا کہتے او ریقین کرتے ہیں ،اس لیے ضرور تھا کہ وہ ایسے اعلیٰ درجہ فصاحت پر ہو ، جو بے مثل وبے نظیر ہو ، مگر یہ بات کہ اس کی مثال کوئی نہیں کہہ سکا یا کہہ سکتا، اس کے من الله ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی ، کسی کلام کا نظیر نہ ہونا اس بات کی تو بلاشبہ دلیل ہے کہ اس کی مانند کوئی دوسرا کلام موجود نہیں ہے ، مگر اس کی دلیل نہیں ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے ، بہت سے کلام انسانوں کے دنیا میں ایسے موجود ہیں کہ ان کے مثل فصاحت وبلاغت میں آج تک دوسرا کلام نہیں ہوا ، مگر وہ من الله تسلیم نہیں ہوتے ، نہ ان آیتوں میں کوئی ایسا اشارہ ہے، جس سے فصاحت وبلاغت میں معارضہ چاہا گیا ہو ، بلکہ صاف پایا جاتا ہے کہ جو ہدایت قرآن سے ہوتی ہے اس میں معارضہ چاہا گیا ہے ، اگر قرآن کے خدا سے ہونے میں شبہ ہو تو کوئی ایک سورہ یا دس سورتیں یا کوئی کتاب مثل قرآن کے بنالاؤ جو ایسی ہادی ہو ، سورة قصص میں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کو صاف حکم دیا گیا ہے کہ تو کافروں سے کہہ دے کہ کوئی کتاب جو توریت وقرآن سے زیادہ ہدایت کرنے والی ہو اسے لاؤ۔“

پہلے ہم آیات تحدی (چیلنج )جن میں کفار سے معارضہ چاہا گیا ہے کوئی ایسا قرینہ تلاش کرتے ہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ کس چیز میں معارضہ چاہا گیا ہے ، ہدایت میں یا فصاحت وبلاغت میں۔

وہ تمام آیات جن میں کفار کو چیلنج دیا گیا ہے او ران سے معارضہ چاہا گیا ہے ، ان کو محض عاجز کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس چیلنج میں ان کے تمام اعوان وانصار کو بھی دعوت دی گئی ہے کہ تم سب مل کر اس جیسی کتاب بنالاؤ۔

او ریہ بات بھی ظاہر ہے کہ مقابلہ میں ایسی باتوں کو پیش کیا جاتا ہے ، جس سے فریق مخالف کو بھی اتفاق ہو۔

اس تمہید کے بعد، اگر مثل سے مراد ہدایت میں مثل ہے اور ہدایت میں کفار سے معارضہ چاہا گیا ہے ، جیسا کہ سر سید صاحب کہتے ہیں، تو کلام بالکل بے معنی اور بے مطلب ہو جائے گا، اس لیے کہ کفار اس بات سے متفق ہی نہیں تھے کہ اس جیسی ہادی انام کتاب بنالیں، بلکہ ان کو تو قرآن کی ہدایت سے سخت نفرت تھی ، بار بار یہی کہتے تھے کہ اس قرآن کو بدل ڈالو، کوئی اورکتاب ہمارے پاس لاؤ، یہ تو ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے ، اس کی تکذیب کی معقول وجہ ان کے نزدیک یہی تھی کہ:﴿أَجَعَلَ الْآلِہَةَ إِلٰہاً وَاحِداً إِنَّ ہَذَا لَشَیْْء ٌ عُجَابٌ﴾․ (ص:5)
ترجمہ:” کیا اس نے کردی اتنوں کی بندگی کے بدلے ایک ہی کی بندگی یہ بھی ہے بڑے تعجب کی بات۔“

پس ایسے لوگوں کے سامنے، جو اس کتاب کی ہدایت سے سخت متنفر ہوں اور یہی وجہ ان کی نفرت کی ہو ، ایسے لوگوں کو یہ کہنا کہ تم سب کے سب مل کر اس جیسی کوئی ہادی انام کتاب بناؤ، بالکل ایسا ہے جیسے کوئی ہندوبت پرست یا عیسائی تثلیث پرست کسی مسلمان کو یہ کہے کہ تو ہماری کتاب جس میں بت پرستی یا تثلیث پرستی کی دعوت دی ہے ، نہیں مانتاتو اس جیسی کتاب بنالاؤ، ظاہر ہے یہ بالکل بے معنی چیلنج ہے ، کیوں کہ جو وجہ مسلمانوں کو اس کتاب کی تسلیم سے مانع ہے ، اسی قسم کی کتاب کا اس سے مطالبہ کرنا گویا ایک تکلیف بالمحال ہے ، اسی قاعدہ پر کفار کا جواب پر آمادہ ہونا اور﴿وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْْہِمْ آیَاتُنَا قَالُواْ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہَذَا إِنْ ہَذَا إِلاَّ أَسَاطِیْرُ الأوَّلِیْن﴾․( الأنفال:31)
ترجمہ: ”او رجب کوئی پڑھے ان پر ہماری آیتیں تو کہیں ہم سن چکے اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ لیں ایسا یہ تو کچھ بھی نہیں مگر احوال ہیں اگلوں کے۔“

کہنا صاف بتلاتا ہے کہ وہ اس کے طرز بیان کی نسبت معارضہ سمجھتے تھے ، ورنہ یہ نہ کہتے اور ساتھ اس کے اس آمادگی کی وجہ بھی بتلانا کہ :﴿إِنْ ہَذَا إِلاَّ أَسَاطِیْرُ الأوَّلِیْن﴾ بالکل واضح کر رہا ہے کہ مثل سے مراد مثل فی الہدایت نہیں، ورنہ ایسی مستعدی نہ جتلاتے ، بلکہ بجائے اس کے یہ کہتے کہ ہم تو اس قرآن کو اور اس کے مثل ہادی بنانے کو ہی برا سمجھتے ہیں۔

نیز کفار کا یہ کہنا کہ قرآن بنانا کیا مشکل ہے ، یہ تو پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں، قابل غور ہے ، اس لیے کہ ہدایت کی وجہ سے تو اس کو بالکل نیا سمجھتے تھے﴿مَا سَمِعْنَا بِہَذَا فِیْ الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ ہَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ﴾․( ص:7)

صاف ظاہر ہے کہ قرآن باعتبار ہادی ہونے کے ایک نئی چیز جانتے تھے بلکہ باعتبار ہادی ہونے کے موجب نفرت کہتے تھے۔

پس ان دونوں آیتوں کے ملانے سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ کفار خود اس معارضہ کو باعتبار ہدایت نہیں بلکہ با عتبار طرز بیان سمجھتے تھے۔

سر سید کی دلیل اور اس کا جواب
سرسید صاحب نے اپنے مدعا پر سورہ قصص کی اس آیت کوپیش کیا ہے ﴿قُلْ فَأْتُوا بِکِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّہِ ہُوَ أَہْدَی مِنْہُمَا أَتَّبِعْہُ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ﴾․ (قصص:49)
ترجمہ:”توکہہ اب تم لاؤ کوئی کتاب الله کے پاس کی جوان دونوں سے بہتر ہو کہ میں اس پر چلوں اگر تم سچے ہو۔“

یعنی آپ فرما دیجیے کہ تم الله کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ، جو ان دونوں کتابوں یعنی قرآن اور تورات سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو ، میں اس کا اتباع کر لوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو۔

دیکھو اس آیت میں واضح طور پر ہدایت میں معارضہ چاہا گیاہے، لہٰذا یہ آیت ان تمام آیات تحدی کی تفسیر ہو گی ۔

لیکن اس آیت کو ان آیات کی تفسیر بنانا بوجوہ صحیح نہیں ہے :
آیات تحدی میں دعوی مثلیت کا ہے ، جب کہ اس آیت میں مثلیت کا نہیں، بلکہ اھدی کتاب یعنی قرآن سے بڑھ کر ہدایت والی کتاب لانے کا مطالبہ ہے ، لہٰذا دعوی اور دلیل میں مطابقت باقی نہیں رہی، حالاں کہ دعوی اور دلیل میں مطابقت ضروری ہے۔

یہ آیت ان آیات کی تفسیر ہوتی تو اس میں من عندا لله یعنی الله کے پاس سے لانے کا مطالبہ کیوں ہوتا؟ حالاں کہ ان آیات میں کفار کی بنائی ہوئی کتاب کا مطالبہ ہے۔

آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تم نہ تورات کو مانتے ہو ، نہ قرآن کو مانتے ہو ، چلو تم او رکتاب لے آؤ، جو الله کی طرف سے ہو ، اگر تم بالفرض اسے الله کی کتاب ثابت کر دو تو میں اس کی پیروی کر لوں گا، اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میری لائی ہوئی کتاب کو مانو، میں نے اس کا حق ہونا ثابت کر دیا ہے ۔

اس مضمون کا آیات تحدی سے کوئی تعلق نہیں، اس میں کفار کو صرف اس بات پر الزام دیا گیا ہے کہ باوجود کہ تمہارے پاس کوئی سماوی کتاب بھی نہیں، پھر بھی اتنی سخت مخالفت کر رہے ہو۔

سرسید صاحب کا نظریہ
سرسید صاحب کا یہ کہنا ” بہت سے کلام انسانوں کے دنیا میں ایسے موجود ہیں کہ ان کے مثل فصاحت وبلاغت میں آج تک دوسرا کلام نہیں ہوا، مگر وہ من الله تسلیم نہیں ہوتے۔“ محض دعوی بلا دلیل ہے ورنہ کوئی کلام یا متکلم ایسا بتلا دیں جس نے اہل زبان کے سامنے دعوی کیا ہو، نہ صرف دعوی بلکہ ”ولن تفعلوا“ کے اعلان سے تمام منکروں کو ہمیشہ کے لیے عاجزودرماندہ کر دیا ہو ، سوائے الله جل شانہ کے۔ پس ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید بے مثل بلیغ کلام ہے ، اس جیسا کلام نہ کسی نے بنایا ہے او رنہ ہی قیامت تک بنا سکے گا اور یہی اس کی من الله ہونے کی دلیل ہے #
        نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں غور کر دیکھا
        بھلا کیوں کر نہ ہو! یکتا کلام پاک رحماں ہے
            (جاری)



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.