جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

آزاد دینی مکاتب ومدارس۔۔۔ضرورت،افادیت اور نئے چیلنجز

مولانا ابوالحسن علی ندویؒ

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ علم و تعلیم کی اشاعت وعمومیت کی تحریک اور اس کی سعی وجدوجہد تقریباًہر ملک میں اور تاریخ کے ہر دور میں،کسی نہ کسی درجہ میں خلوص وایثار،سادگی اور جفاکشی اور علمی نمونہ وکردار کے ساتھ متصف ومربوط رہی ہے اور اسی میں ناسازگار حالات،سلطنت ومعاشرہ کے انقلابات، جابر حکومتوں کی موجودگی،طبعی مرغوبات،معاشی ضروریات اور ہر زمانہ میں”معیارزندگی“بے رحم فرماں روائی کے باوجودتعلیم وثقافت (کلچر) کا ہر دور میں کام ہوتا رہا، نوشت و خواندکا دائرہ وسعت اور ترقی اختیار کرتارہا اور زندگی اور مذہب کی بہت سے حقیقتیں اور صداقتیں ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہیں،اس تاریخی حقیقت کے امتحان وتصدیق کے لیے کہ تعلیمی خدمت کا ہرملک اورہردور میں کسی نہ کسی درجہ میں خلوص وایثار اور سادگی اور جفاکشی سے ربط وتعلق اور باہمی رفاقت رہی ہے، روایتی وعربی (Traditional)تاریخوں کے بجائے، جو سرکار، دربار، جنگوں اور انقلابات سلطنت اور (سیاسی، انتظامی طور پر) سر برآوردہ اشخاص سے تعلق رکھتی اور انہیں کے گرد گھومتی ہیں،ماہر علم وفن اور سماجی خدمت گاروں اور مذہبی پیشواؤں کی سوانح حیات اور تذکرے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہزاروں برس سے انسانی نسلوں میں (زبان وتہذیب اور مذہب عقائد کے اختلاف کے باوجود)جواحساسات وتاثرات نسل درنسل منتقل ہوتے رہے ہیں، ان میں ایک”پیشہ ور“(Proffessional ) اور ”غیرپیشہ ور“(Non-Proffessional)میں فرق کا تاثر اور تقلیدواتباع کا(خواہ اس پرعمل نہ ہوسکے) جذبہ اور شوق وابستہ رہاہے، فطرت انسانی کے اسی دائمی تاثر ورد عمل اور مسلمہ حقیقت کے پیش نظر،ہر دور اورہر امت میں مبعوث کیے جانے والے پیغمبر نے اپنی قوم میں ہدایت وتبلیغ کاکام شروع کرتے وقت اس کی وضاحت ضروری سمجھی کہ وہ کسی دنیاوی منفعت، مال ودولت او رمعاوضہ واجرت کا طالب نہیں، قرآن مجید کی سورہٴ شعراء میں حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام میں سے کسی کے تذکرہ میں بھی ان کے اس بیان اور اطمینان دہانی کو نظر انداز نہیں کیا گیا کہ ” میں تم سے کسی دنیاوی منفعت کا امید وار نہیں“ ہرایک کے تذکرہ میں اس کا بیان واعلان نقل کیا گیا ہے کہ:﴿ وَمَا اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العالمین﴾․

ترجمہ:”میں تم سے (اس دعوت ونصیحت اورمحنت وسعی پر) کسی معاوضہ ومنفعت کا طالب نہیں، میرا معاوضہ وانعام رب العالمین کے ذمہ ہے۔“

پھر جب خدا کا آخری دین اسلام دنیا میں آیا تو اس نے صحیح تعلیم کے کام کو اعلیٰ درجہ کی عبادت اور تقرب الی الله کا ذریعہ او راس کو انبیا کی نیابت کا منصب قرار دیا، اس کے نتیجہ میں پورے عالم میں آزاد دینی تعلیم کا نظام جاری ہوا اور آزاد دینی مدارس ومکاتب کی شکل میں مدرسے او رمکاتب قائم ہوئے اور بالعموم مسجدیں قرآن مجید اور ابتدائی دینیات کی تعلیم کا مرکز بن گئیں، سلاطین وقت کی علمی قدردانی و سرپرستی اور شوق وکوشش کے باوجود اکثر یہ مدارس اور تعلیمی مراکز آزادر ہے اور ان کا براہ راست عوام سے ربط وتعلق رہا اورعوام سے ربط وتعلق، گہرا نفسیاتی اثر اور فائدہ ظہور میں آیا، جو بالکل قدرتی ومنطقی ہے،انسان کی ایک فطرت ہے کہ جب وہ کسی ادارہ یا تحریک کی امداد میں براہ راست حصہ لیتا ہے (خواہ وہ کتنا ہی حقیر ہو)تو اس کو اس سے نفسیاتی اور جذباتی تعلق اور لگاؤ پیدا ہوجاتا ہے،اسی کا نتیجہ تھا کہ مستحکم اور طویل المیعاد اسلامی سلطنتوں کی موجودگی اور شاہان وقت کی فیاضی اور بعض اوقات دین داری کے باوجود،اس تحتی براعظم کے مسلمانوں کی اسلام سے ارادی وشعوری وابستگی،بقدر ضرورت دینی معلومات اور دینی احکام پر عمل کرنے کا جذبہ،اس آزاد دینی نظام،تعلیم اور انہیں آزاد مدارس کے ایثار پیشہ اور مخلص فضلاء کی سعی وجہد کا نتیجہ ہے،جس میں مسلم سلطنتوں اور فرماں رواؤں کا تقریباًکچھ حصہ نہیں، تاریخ وحقائق کی روشنی میں بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت تک نہ صرف اس برصغیر کے مسلمانوں کا بلکہ بیشتر یا تمام، حتیٰ کہ عرب ممالک تک کے مسلمانوں کا دین وشریعت سے ربط وتعلق اور ان کی دینی باخبری اور اسلامی ثقافت وتہذیب سے نہ صرف واقف ہونا،بلکہ اس کا حامل اور پر جوش حامی ہونا، انہیں ایثار پیشہ، رضا کار اور کسی حد تک زاہد ومتوکل فضلائے مدارس اور ناشرین علم دین کار ہین منت ہے۔

ان مدارس کے اساتذہ وفضلا میں سے متعدد اگر چہ اپنے فن کے ماہر اور یگانہ روزگار عالم ہوتے تھے۔لیکن وہ پورے افتخارواعتماد کے ساتھ یہ کہنے کے اہل تھے کہ #
        کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں میں
        غلام طغرل وسنجر نہیں میں
        جہاں بینی مری فطرت ہے لیکن
        کسی جمشید کا ساغر نہیں میں

اس آزاد دینی تعلیم کا ایک فائدہ یہ تھا کہ سلاطین وقت کے غلط اور بعض اوقات مخالف اسلام اور ماحی دین رجحانات،بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دین کی بیخ کنی اور استیصال کی باعزم اور منظم کوششوں کا اثر مسلم معاشرہ پر بالکل نہیں پڑسکااور درباریوں اور خوش آمدیوں کے ایک مختصر حلقہ میں محدود ہوکر رہ گیا،اس کا ایک روشن ثبوت یہ ہے کہ شہنشاہ اکبرکی(جو سلطان ترکی کے بعد اپنے وقت میں دنیائے اسلام کاسب سے طاقتوراور وسیع المملکت بادشاہ تھا) تحریک وحدت ادیان،تعطیل شریعت اسلامی،بلکہ تنسیخ دین محمدصلی الله علیہ وسلم کی منظم اور منصوبہ بند کوشش، جس میں اس عہد کے بعض ذکی ترین، بلکہ عبقری(Genius)افراد شریک تھے،مسلم معاشرہ پر قطعاًکوئی اثر نہیں ڈال سکی اور جیسا کہ بعض یورپین مورخین نے اعتراف کیا ہے،وہ چند درباری اشخاص تک محدود رہی اور مسلمان عوام اس سے کلی طورپرغیرمتاثررہے اوریہ نتیجہ ان حقانی،ربانی علماء ومصلحین اور داعیان دین کا فیض تھا،جس کا اثر عامة المسلین پر نہ صرف سرکاری درباری علماء سے زیادہ، بلکہ سلاطین وحکام سے بھی زیادہ تھا اور جن کے بعض افراد کے متعلق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ #
        جہانے را دگرگوں کردیک مردِ خود آگا ہے

حکومت سے اسی بے نیازی،عامة المسلمین سے ربط وتعلق، وایثار و جذبہ قربانی کا نتیجہ تھا کہ جب1857ء میں مغلیہ سلطنت کا چراغ گل ہوااور مسلمان اقتدار اور اس کے منافع ومواقع سے محروم ہو گئے تو اس دینی تعلیم کے نظام و مراکز پر کوئی گہرا انقلاب انگیز اثر نہیں پڑا،بلکہ ان مدارس کے قیام کا ایک نیا جوش وولولہ پیدا ہو گیا،جو نہ صرف مسلمانوں کو دینی،ذہنی وتہذیبی ارتداد سے محفوظ رکھ سکیں ، بلکہ (نظم مملکت کو چھوڑکر)ہر طرح سے اسلامی سلطنت کی قائم مقامی کر سکیں۔

انگریز حکومت نے اپنے اقتداروتسلط اور سوچے سمجھے منصوبہ کے ذریعے مسلمانوں کے تعلیمی مراکز کی بقاوحیات کے سر چشموں کو خشک کرنے کی ایسی منظم کوشش کی جس کے بعد مدارس اور اس دینی تعلیم کے نظام کا باقی رہ جانا ایک معجزے سے کم نہیں اور وہ(تاریخی تجزیہ نگار اور فلسفئہ حیات کی روسے)محض مسلمانوں کے عزم وقوت ایمانی اور شروع سے دینی تعلیم کے آزاد رہنے کا نتیجہ تھا،انگریز حکومت کے ان انتظامات اور اقدامات کی بعض کڑیاں پیش کی جاتی ہیں جو ایک طویل اور آ ہنی زنجیر کا جز ہیں، جو کسی نظام تعلیم کے ختم کرنے کے لیے بھی کافی ہے۔

آنریبل مسٹر النفسٹن اورایف وارڈن نے مسئلہ تعلیم پر ایک یادداشت مرتب کی، جس میں حسب ذیل اعتراف موجود ہیں:

”ہم نے ہندوستانیوں کی ذہانت کے چشمے خشک کردیے اور ہماری فتوحات کی نوعیت ایسی ہے کہ اس سے نہ صرف یہ کہ تعلیمی ترغیب نہیں ہوتی، بلکہ اس سے قوم کا علم سلب ہوا جاتا ہے اور علم کے پچھلے ذخیرے نسیاً منسیاً ہوئے جاتے ہیں“ (حکومت خود اختیاری،از مولوی سید طفیل احمد صاحب منگلوری علیگ ایم۔ایل سی، ص95)

ڈبلیو۔ڈبلیوہنٹر(W.W.Hunter)نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”ہمارے ہندوستانی مسلمان“(The Indian Musalmans) میں ہندوستانی مسلمانوں کی جائز شکایتوں کاذکر کرتے ہوئے لکھا ہے اور ان کو بجاقرار دیاہے:

”ان( مسلمانوں کو)شکایت ہے کہ ہم نے مسلمانوں سے مذہبی فرائض کو پورا کرنے کے ذرائع چھین لیے اور اس طرح روحانی اعتبار سے ان کے ایمان کو خطرہ میں ڈال دیا ، ہمارا بڑاجرم ان کے نزدیک یہ ہے کہ ہم نے مسلمانوں کے مذہبی اوقاف میں بددیانتی سے کام لیتے ہوئے،ان کے سب سے بڑے تعلیمی سرمایہ کا غلط استعمال کیا“۔(ہمارے ہندوستانی مسلمان، مترجمہ: ڈاکٹر صادق حسین،مطبوعہ اقبال اکیڈمی لاہور،ص219)۔

سر ولیم ہنٹر نے اپنی اس کتاب میں مسلمانوں کے نظام تعلیم ومدارس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
”انگریزوں کے ہندوستان پر قابض ہونے سے پہلے وہ ملک کی سیاسی ہی نہیں،بلکہ دماغی قوت بھی تسلیم کیے جاتے تھے،اس ہندوستانی مدبر کے الفاظ میں، جو ان سے بخوبی واقف تھا،اس کا تعلیمی نظام اگرچہ اس نظام کے مقابلہ میں کم درجہ پر ہے، جسے ہم نے رائج کیا ہے، لیکن پھر بھی اس کو حقارت کی نظر سے دیکھنا غلطی ہے ، کیوں کہ وہ اعلیٰ دماغی تعلیم و تربیت کااہل تھا ،اس کی بنیادیں بالکل ہی ناقص اصولوں پر نہ تھیں، گو ان کے پڑھانے کا طریقہ بہت پرانا تھا ،لیکن یقینی طور پر وہ ہر اس طریقہ سے برتر رہا جو اس وقت ہندوستان میں رائج تھا،مسلمان اس طریق تعلیم سے اعلیٰ قابلیت اور دنیاوی برتری حاصل کرتے“۔(ایضا!ص259)

ڈاکٹر ہنٹر کی اس کتاب سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد اور غیر سرکاری تعلیم گاہوں کا ذریعہ آمدنی کیا تھا اور وہ کیوں ہر طرح کے ناسازگار حالات کے باوجود نہ صرف زندہ بلکہ مفید اور کار آمد رہے وہ لکھتا ہے:

”ہم نے ان کے(مسلمانوں کے)طریقہ تعلیم کو بھی سرمایہ سے محروم کردیا،جس میں اس کی بقا کا دارومدار تھا،مسلمانان بنگال کا ہراعلیٰ خاندان ایسے اسکول کا خرچ بھی برداشت کرتاتھا جس میں خود اس کے اور غریب ہمسایوں کے بچے مفت تعلیم حاصل کر سکتے تھے،جوں جوں صوبہ کے مسلما ن خاندانوں پر ادبار چھاتاگیا، یہ خاندانی اسکول کم ہوتے گئے اور ان کے اثرات بھی کم ہوتے گئے، زمانہ قدیم سے ہندوستانی شہزادوں کا دستور چلا آتا تھا کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم او ر خدا کی رضا جوئی کے لیے زمین کے قطعات وقف کر دیتے“۔(ایضاًص267)۔

حکومت برطانیہ کی اس منظم ومسلح معنوی وثقافتی نسل کشی (Genocide Cultural) ، اوقاف کی ضبطی، سرکاری ملازمتوں کے لیے فضلائے مدارس کی نااہلی کے قانون اور اس سب سے بڑھ کر قدیم دینی تعلیم کے متوازی پرائمری اور ہائی اسکولوں کی سطح سے لے کر کالجوں اوریونیورسٹیوں کے ملک گیر نظام کے قائم کرنے اور ان میں ہر طرح کی کشش اور ترغیب کے پہلو کے موجود ہونے کے باوجود ، مسلمان اپنے دین اور اس کی ثقافت ( کلچر) اور تہذیب ومعاشرہ سے وابستہ رہے اور وہ کسی بڑے پیمانہ پر بلکہ قابل ذکر سطح پر بھی دینی، تہذیبی وثقافتی ارتداد کا اس طرح شکار نہیں ہوئے، جس طرح اسپین کے مسلمان زوال حکومت اسلامی کے بعد شکار ہوئے ، یہ تنہا آزاد دینی تعلیم اور آزاد مدارس ومکاتب اور ان کے فضلاء، وہاں سے تعلیم پاکر نکلنے والے مفتیوں،قاضیوں، واعظوں او رائمہ مساجد کا فیض تھا اور انہی کی وجہ سے نہ صرف علوم دینیہ، بلکہ قرآن مجید پڑھنے اور یاد کرنے کی صلاحیت ، اردو میں نوشت وخواند کی قابلیت اس نسل تک باقی رہی، اس بنا پر عہد جدید کے نامور ترین مفکر او رترجمان حقیقت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے مدارس دینیہ پر تنقید کرنے والے ایک مسلمان صاحب قلم کی تنقید پر یہ فرمایا کہ ” ان دینی مدارس کو کچھ نہ کہو، اگر یہ باقی نہیں رہے تو ہندوستان بھی اسپین بن جائے گا۔“

ان مدارس او ران کے فضلاء کی اس خصوصیت او راس ملک میں اسلام سے واقفیت اور وابستگی کے تسلسل وبقا میں ان کے عظیم کارنامہ کا بقدر ضرورت اور اضطرار اً تذکرہ کرنے کے بعدہم ایک دوسرے پہلو کی طرف بھی قارئین وقائدین اور حقیقت پسند او رمنصف مزاج محبان وطن کی توجہ منعطف کرانا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا حصہ اس قدیم نظام تعلیم کے ساختہ پرداختہ فضلا اور علمائے دین کا تھا ، آزاد مسلم مفکرین وقائدین میں سرفہرست علمائے دین ہی تھے ، جو سیاسی اور قومی تحریکات میں حصہ لینے کے نہ صرف قائل بلکہ داعی تھے اور سیاست کو مسلمانوں کے لیے ( بعض جدید تعلیم یافتہ قائدین کی طرح ) ”شجرہٴ ممنوعہ“ نہیں سمجھتے تھے ، انہیں علماء نے برطانوی حکومت کی مخالفت او راس کے خلاف جدوجہدمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، اس کے نتیجہ میں مولانا یحییٰ علی ، مولانا حمد الله عظیم آبادی، مولوی عبدالرحیم صادق پوری اور مولوی محمد جعفر تھانیسری کو پورٹ انڈمان روانہ کر دیا گیا، مولانا یحییٰ علی اور مولانا حمد الله صاحب کا انڈمان میں انتقال ہو گیا او رمولی محمد جعفر اٹھارہ سال کی قیدبامشقت اور جلا وطنی کے بعد اپنے وطن واپس ہوئے، ان کے علاوہ دوسرے ممتاز او رجلیل القدر علماء کو بھی انڈمان میں جلا وطنی کی سزا دی گئی ، جن میں مولانا فضل حق خیر آبادی ، مفتی عنایت احمد کاکوروی اور مفتی اظہر کریم دریا بادی کے نام قابل ذکر ہیں، مولانا فضل حق خیر آبادی کا وہیں انتقال ہوا اور بقیہ دو عالم طویل عرصہ کے بعدوطن واپس ہوئے۔

پھر جب ہندوستان میں تحریک خلافت اور اس کے ساتھ آزادی ہند کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں بھی علماء ہی پیش پیش تھے، اس طویل ونورانی فہرست میں یہاں صرف شیخ الہند مولانا محمود حسن ، قیام الدین ، مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، مولانا معین الدین اجمیری، مولانا ابوالکلام آزاد، مفتی کفایت الله دہلوی، مولانا احمد سعید، ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد بہاری ، مولانا سید سلیما ن ندوی، مولانا مسعود علی ندوی ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ، مولانا سید محمد داؤد غزنوی ، مولانا عطاء الله شاہ بخاری اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کا نام لینا کافی ہے ، ان میں شیخ الہند مولانا محمود حسن ، مولانا سیدحسین احمد مدنی ، مولانا عزیز گل ، مولانا حکیم نصرت حسین اور مولوی سید وحیداحمد کو 1917ء میں مالٹا جلا وطن کر دیا گیا، یہ جماعت 1920 ء تک وہیں رہی۔

انگریزوں سے نفرت او رحکومت انگریزی کی مخالفت میں ہر طرح کی سختیاں اورمصائب کے برداشت کرنے کی جس صلاحیت اور ہمت کا ثبوت جماعت علماء نے دیا ، اس سے یہ نتیجہ اخذ کر نا ہر طرح سے حق بجانب ہو گا کہ دینی تعلیم اور آزاد مدارس میں قربانی وایثار کا جذبہ، عزیمت وعالی ہمتی اوربلندنگاہی پیدا کرنے کی زیادہ صلاحیت ہے او رملک وقوم کو درپیش مصائب وخطرات کے موقع پر یہی جماعت ( جو مادی ترقیات، معاشی آسودگی اور عزت واقتدار کے حصول سے زیادہ آسانی کے ساتھ صرف نظر کر سکتی ہے ) زیادہ کام آنے والی ہے۔

اس کے ساتھ ضمناً اس حقیقت کااظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ علم وتحقیق کی آبرو، ذوق مطالعہ اور علم وتصنیف کی راہ میں خود فراموشی اورمحنت کوشی انہیں عربی ودینی مدارس سے قائم ہے ، ان میں سے ایک ایک آدمی نے اکیڈمی کا کام کیا ہے، اس سلسلہ میں ان مصنفین کے تصنیفی کارناموں کا ذکر موجب طوالت وملال طبع کا باعث ہو گا۔

ان آزاد دینی مدارس ومکاتب کا یہ احسان او رکارنامہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے کہ اس دو رمیں زبان اردو انہیں کے ذریعہ نئی نسل کی طرف منتقل ہو رہی ہے اوراس نسل میں اردو نوشت وخواند اور قدیم دینی وعلمی ذخیرہ سے ربط وتعلق واستفادہ کی صلاحیت انہیں مدارس ومکاتب کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے، ورنہ جدید تعلیم گاہوں میں تعلیم پانے والا ( اسکولوں سے لے کریونی ورسٹیوں کے طلبہ تک) اردو میں تحریر وتصنیف کا کیا ذکر؟ اردو میں پڑھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے جارہے ہیں او راپنے والدین اور سرپرستوں سے ہندی یاانگریزی میں خط وکتابت کرنے پر مجبور ہیں۔

حضرات! گذشتہ بیان او رمعروضات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ کسی ملک میں دین سے وابستگی او رملت کے تشخص کی بقا حکومت کی ان پابندیوں سے آزاد رہنے اوران قوانین سے مستثنیٰ ہونے میں مضمر ہے، جو ملک کی مادی ضرورتوں کی تکمیل او رعام نظم ونسق کے شعبوں کے لیے ضروری یا مفیدہو سکتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ اگر ذمہ داران حکومت صحیح معنی میں حقیقت پسند او رمحب وطن ہوں توان کو ہر ایسی کوشش اور ہر ایسے ادارے کو نہ صرف باقی رہنے کی اجازت دینی چاہیے بلکہ اس کی ہمت افزائی اور قدردانی کرنی چاہیے، جو ملک میں علم وخواندگی اور ثقافت وتہذیب کی اشاعت وترقی اور ان کی توسیع میں مدددے کہ اس وسیع ، طویل و عریض اور کثیر آبادی کے ملک میں اگر کوئی شخص درخت کے نیچے بیٹھ کر جسم وجان کارشتہ قائم رکھنے والی خوراک او ربقدر ستر پوشی پوشاک پر قناعت کرتے ہوئے تعلیم وتربیت کا کام کرے تو ہر محب وطن انسان او رعلم کے ہر قدردان کو اس کا نہ صرف خیر مقدم کرنا چاہیے، بلکہ اس کا شکر گزار ہونا اورا س پر فخر کرنا چاہیے کہ تمام تر سرکاری وسائل اورزیادہ سے زیادہ تعلیم گاہوں کے قیام او ران کے لیے اساتذہ کی فراہمی کے باوجود ملک کی آزادی کے بڑے حصہ کو خواندہ تعلیم یافتہ نہیں بنایا جاسکتا، چہ جائیکہ اخلاق وسیرت کی تعمیر ہواورباکردار شہری پیدا ہوں۔

اسی بنا پر ہم حکومت کے ان قوانین وضوابط کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبورہیں، جو آزاددینی مدارس ومکاتب کے قیام اوران کے آزادی سے تعلیمی خدمت اور علم وثقافت کی اشاعت اور مسلمانوں کو اپنے دین سے اس درجہ واقف کرانے کے کام میں خلل انداز ہوں، جو ان کے لیے مذہبی طور پر ضروری ہے اور وہ تعلیم گاہیں یا تو قائم نہ ہو سکیں،یا اگر قائم ہیں تو باقی نہ رہ سکیں، مثلاًکم سے کم تنخواہ ومعاوضہ(Minimum Wage)کا قانون یا مدارس و مکاتب کے لیے قیام وجواز کے لیے لائسنس لینے کی پابندی، جو حکومت کے دوسرے شعبوں، جن کا نظم و نسق(Administration)یا (Labour) سے تعلق ہے،کے لیے موزوں ہیں، لیکن دینی مدارس و مکاتب کے لیے، جن کا شعار اور طاقت وخصوصیات ،زمانہ قدیم سے لے کر اس وقت تک ایثارو قناعت رہی اورہمیشہ رہنا چاہیے،ناموزوں اور سخت ضرر رساں ہیں۔ہم اپنا جمہوری،مذہبی،اخلاقی اور شہری حق سمجھتے ہیں کہ اس کے خلاف آواز بلند کریں کہ ملک کے دستور نے ہر اقلیت اور ہر اکائی کو اس کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنی پسند کے مدارس قائم کرے اور اپنی پسند اور صواب دید کے مطابق ان کو چلائے۔ہم خالص حبُ الوطنی اور ہندوستا ن کے لیے اس کو باعث فخر سمجھنے کی بناپر بھی یہ کہتے ہیں کہ تعلیم وتربیت اور ثقافت وتہذیب کے پھیلانے میں ایثار وقربانی کی اس روایت کو جو ہندوستان کی قدیم تاریخ کا بھی طرئہ امتیاز رہا ہے،باقی رہنا چاہیے۔

آخر میں بڑی معذرت کے ساتھ ایک تلخ حقیقت کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتاہوں کہ ان مدارس و مکاتب کے سرکاری امداد قبول کرلینے کے بعدیہ اندیشہ ہے( جو واقعہ بن کر سامنے آگیا ہے)کہ ان مدارس کا عوام سے رابطہ بھی ٹوٹ جائے اور وہ مقصد بھی حاصل نہ ہو جس کے لیے سرکاری امداد اور ایڈ قبول کی گئی ہے۔کچھ عرصہ پہلے پٹنہ کے ایک جلسہ میں شرکت کے موقع پر، جو امارت شرعیہ بہارکے قائم کردہ مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحبکی یادگار میں ہسپتال کے افتتاح کے لیے منعقد کیا گیا تھا اور جس میں بہار کے چیف منسٹر بھی شریک تھے،ایک عربی مدرسہ کے ذمہ دارنے تقریر میں کہا کہ چھ مہینے سے ہم کو سرکاری امدادی رقم نہیں ملی،ہمارے بچے فاقہ کررہے ہیں،یہ بہار کا حال ہے، جہاں اکثرمدارس عربیہ سرکاری امداد قبول کرچکے ہیں،ابھی چند ہی دن پہلے”قومی آواز“(لکھنو)میں جھانسی کے ایک دینی مدرسہ کے صدر مدرس یا مہتمم صاحب کا مراسلہ شائع ہوا ہے،اس میں صاف لکھا گیا ہے کہ پانچ مہینے سے ہم کو سرکاری امداد نہیں ملی اور ہمارے بچے فاقہ کررہے ہیں،ایسی حالت میں بڑے گھاٹے کا سودا ہوگا کہ ہمارا رشتہ عوام سے بھی ٹوٹ جائے اور ہم ان کی ہم دردی اور اعانت سے بھی محروم ہو جائیں اور حکومت کے تغافل یا اس کے نظم ونسق کی طوالت کا بھی شکار ہوں،اس طرح(بہت معذرت کے ساتھ) صرف اس مصرعہ پر اکتفاکروں گاکہ #

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
میں ایثار وقربانی کی اس دعوت کے ساتھ ،جو کسی نہ کسی درجہ میں دینی تعلیم کی بقاوملت کے تشخص کی حفاظت کے لیے ضروری ہے،حقائق اور زندگی کی طبعی وفطری، بلکہ شرعی ضروریات سے چشم پوشی نہیں کر سکتا، مدارس ومکاتب کے اساتذہ ومنتطمین کے لیے بقدر ضرورت وباعزت معاشی انتظام کی بے شک ضرورت ہے ادراس کے ذمہ داروں کواس پر ہم دردانہ غور کرنا اور اس تقاضے کو اپنے وسائل اور دائرہ اختیار میں رہ کر پورا کرنا ضروری ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور مدارس ومکاتب کے کارکنوں اور خدمت گزاروں کو کسی نہ کسی درجہ میں ایثار وقناعت کے اجروثواب کی امید میں کام کرنے کے ساتھ اس چراغ کو روشن رکھنے اور اس کی روشنی دور دور اور دیر تک پہنچاتے رہنے کی کوشش وجاں فشانی بھی جاری رکھنی چاہیے کہ اس دین کا ماضی ،حال او رمستقبل ایمان ویقین،ایثار وتوکل اور عزم حالات اور تیز وتند آندھیوں میں بھی اس چراغ کو گل ہونے سے بچاتارہاہے اور بچاتا رہے گا #
        ہوا ہے گو تند وتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
        وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِ خسروانہ
        میں اقبال کے اس شعر پر گزارش کا اختتام کرتا ہوں کہ #
        دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامانِ موت
        فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.