جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

درسی بہشتی زیور ( مردوں کے لیے)
تالیف : حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
صفحات:664 سائز:20x30=8
ناشر: مکتبہ بیت العلم، ST-9E، بلاک نمبر8، گلشن اقبال، کراچی

”بہشتی زیور“ حضرت تھانوی کی مشہور ومعروف او رمقبول عام تالیف ہے ، جو اصلاً اگرچہ خواتین کی دینی مسائل میں راہ نمائی کے لیے لکھی گئی تھی، لیکن زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے آدمی کی دینی ضرورت کو پورا کرتی ہے اور اس میں فقہ کے تقریباً تمام مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ ہمارے سامنے یہ اس کی جدید ترتیبی کاوش ہے جو مردوں کے لیے مرتب کی گئی ہے اوراسے مرتب کرنے کا فریضہ مفتی محمد تواب ٹکروی، مولانا محمد عثمان نووی والا اور مولانا محمد حنیف بن عبدالمجید نے سر انجام دیا ہے او راس کا نام انہوں نے ”درسی بہشتی زیور“ رکھا ہے ۔ اس نئی ترتیب میں درج ذیل امور کا خیال رکھا گیا ہے :

٭…  چوں کہ یہ کتاب مرد حضرات کے لیے مرتب کی گئی ہے ، اس لیے اس میں مؤنث کے تمام صیغوں کو مذکر کے صیغوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
٭…’بہشتی زیور“ کا انداز قدیم ہونے کی وجہ سے بعض عبارات کا سمجھنا آج کل کے لوگوں کے لیے دشوار تھا ، اس لیے تسہیل کی غرض سے اس کو آسان کیا گیا ہے لیکن”بہشتی زیور“ کی عبارت کو یکسر تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ حتی الامکان یہ کوشش کی گئی ہے کہ ” بہشتی زیور“ کی عبارت برقرار رہے۔
٭…”بہشتی زیور“ چوں کہ عورتوں کے لیے لکھی گئی تھی اور ”درسی بہشتی زیور“ مرد حضرات کے لیے مرتب کی گئی ہے ، اس لیے بعض وہ مسائل جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں، حذف کر دیے گئے ہیں او روہ مسائل جومرد حضرات اور عورتوں میں مختلف ہیں انہیں خالصتاً مرد حضرات کے لیے بنانے میں عبارت میں تبدیلی کرنی پڑی ۔ اس لیے جہاں کوئی غلطی ہو گی تو اس کا ذمہ ادارہ ہو گا نہ کہ ” بہشتی زیور“ کے مصنف حضرت تھانوی۔
٭… کتاب کو ”بہشتی زیور“ کی ترتیب پر حصہ وار نہیں رکھا گیا ، بلکہ فقہی ابواب کی ترتیب پرر کھا گیا ہے ، تاکہ آئندہ دوسری کتب فقہ کے پڑھنے میں آسانی ہو۔ اس کام کے لیے کتاب کی نئے سرے سے کمپوزنگ کرائی گئی اوربڑی محنت سے ڈیڑھ سال کے عرصے میں کتاب پر کام مکمل ہوا۔
٭… بہشتی زیور وگوہر دونوں کے مسائل یک جاکر دیے گئے ہیں ۔ البتہ بعض وہ مسائل جومبتدی کے لیے مناسب نہیں تھے ، حذف کر دیے گئے ہیں۔
٭… مشکل الفاظ کی لغات اور دشوار مسائل کی وضاحت حاشیہ میں کر دی گئی ہے۔
٭… تقریباً ہر باب کے ختم پر تمرین دی گئی ہے تاکہ استاذ پڑھانے کے بعد طلبہ کی سمجھ کا امتحان لے سکے کہ وہ اس باب کو کس حد تک سمجھے ہیں۔
٭… ہر باب میں مسائل کی وضاحت کے لیے جگہ جگہ نئے عنوانات قائم کیے گئے ہیں۔
٭… اس کتاب میں صرف مسائل دیے گئے ہیں، البتہ بعض اعمال کی اہمیت کے پیش نظر ان کے کچھ فضائل بھی درج کر دیے گئے ہیں۔
٭… بہشتی زیور مدلل میں چوں کہ تمام مسائل کے حوالہ جات موجود ہیں، لہٰذا اس کتاب میں حوالہ جات کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ اہل علم ضرورت کے وقت مدلل نسخے کی طرف رجوع فرماسکتے ہیں۔
٭…نیز اصل کتاب میں کھانے پکانے کی ترکیبیں، خطوط لکھنے کے طریقے، دوائیں بنانے کے طریقے او رجو حصہ وعظ واصلاح سے متعلق تھا وہ بھی اس جدید ترتیب میں حذف کر دیا گیا ہے۔مقصد فقط یہ ہے کہ بنین کے مدارس میں اس سے استفادہ کیا جائے او رکتاب کی ضخامت بھی کم ہو۔

کتاب کی طباعت واشاعت معیاری ہے او رمکتبہ بیت العلم ٹرسٹ کراچی کی انتظامیہ دینی کتابوں کی طباعت میں معیار کا خیال رکھنے پر تحسین کی مستحق ہے۔

درسی بہشتی زیور ( خواتین کے لیے)
تالیف : حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
صفحات:592 سائز:20x30=8
ناشر: مکتبہ بیت العلم ٹرسٹ، گلشن اقبال، کراچی

جیساکہ ابھی مردوں کے درسی بہشتی زیور کے تعارف میں گزرا ہے کہ ”بہشتی زیور“ اصل کتاب خواتین کی دینی راہ نمائی کے لیے لکھی گئی تھی تو اسے جدید اسلوب اور درسی انداز میں ڈھالنے کے لیے جس طرح مردوں کے لیے بہشتی زیور کی ترتیب نو کی گئی اسی طرح عورتوں کے لیے بھی اسے نئے انداز واسلوب میں مرتب کیا گیا ہے ، اس میں مذکورہ بالا تمام خصوصیات کی رعایت رکھی گئی ہے لیکن یہ کتاب چوں کہ خواتین کے لیے ہے،   لہٰذا اس میں مؤنث کے صیغوں کو برقرار رکھا گیا او ران میں تبدیلی نہیں کی گئی ۔ اس کے مرتب کرنے والے بھی وہ ہی حضرات ہیں جنہوں نے مردوں کے درسی بہشتی زیور کو ترتیب دیا ہے اور ان دونوں کتابوں کی افادیت کا انداز، ان کی خصوصیات سے لگایا جاسکتا ہے۔

اس کتاب کی طباعت میں بھی معیار کا خیال رکھا گیا ہے۔

الفتاوی السراجیہ
تالیف: سراج الدین ابو محمد علی بن عثمان بن محمد تیمی دوشی حنفی
تحقیق وتعلیق: مولانا محمد عثمان بستوی
صفحات:694 سائز:20x26=8
ناشر: زمزم پبلشرز، اردو بازار، کراچی

”فتاوی سراجیہ“ فقہ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب ہے او را س کی اہمیت وافادیت اور مقبول ومتداول ہونے کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ فقہ حنفی کی معرف کتابوں مثلاً ” البحرالرائق“، ”فتاوی عالمگیریہ“، ” درمختار“ ، ” رد المحتار“ اور ”حاشیہ الطحطاوی“ کے سینکڑوں مسائل میں اس سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ اس کے مؤلف کے بارے میں اختلاف ہے او راس سلسلے میں تین نام ذکر کیے گئے ہیں ،سراج الدین علی بن عثمان بن محمد التیمی ، سراج الدین قاریٴ الہدایہ، اور سراج الدین عمر بن اسحاق ہندی غزنوی اور اول الذکر کو ترجیح دی گئی ہے کہ کتاب کے مؤلف وہی ہیں او رکئی قرائن سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے ۔ یہ کتاب کئی کتب خانوں سے شائع کی گئی تھی لیکن اس پر تحقیقی کام نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اسے معیاری طباعت کے ساتھ شائع کیا گیا تھا، چناں چہ زیرنظر ایڈیشن نہایت خوب صورت،جاذب نظر اور تحقیق وتعلیق سے آراستہ ہے اور اس میں تحقیق وتعلیق کا کام مولانا محمد عثمان بستوی نے کیا ہے ، جو جامعہ دارالعلوم زکریا جنوبی افریقا کے ناظم مکتبہ اور شعبہٴ تصنیف وتالیف سے وابستہ ہیں جب کہ اس کام کا اشراف ونگرانی مفتی رضاء الحق صاحب نے کی ہے۔ اس میں”فتاوی سراجیہ“ کے پانچ نسخوں کو سامنے رکھ کر تقابل کیا گیا ہے ، جن میں سے تین مطبوعہ اور دو غیر مطبوعہ نسخے ہیں جب کہ میر محمد کتب خانہ کراچی کے متداول نسخے کو اصل قرار دیا گیا ہے، کتاب کی تحقیق وتخریج میں درج ذیل امور کا اہتمام کیا گیا ہے:

٭… پانچ نسخوں میں تقابل کرکے اقرب الی الصواب عبارت پر اعتماد کیا گیا ہے اور نسخوں میں تعارض کی صورت میں حاشیہ میں وضاحت کی گئی ہے ، اگر تمام نسخوں میں عبارت صحیح نہ ہو تو متن میں درست عبارت کو رکھا گیا ہے او رنسخوں کی غلطی وتحریف پر تنبیہ کی گئی ہے۔
٭… شہروں او ر مقامات کے ناموں ، اسمائے اعلام اور دیگرمشکل وضروری جگہوں پر اعراب لگانے کا اہتمام کیا گیا ہے بلکہ اعراب کے سلسلے میں وسعت سے کام لیا گیا ہے تاکہ متوسط استعداد والے حضرات بھی بسہولت وآسانی استفادہ کر سکیں اور عبارت کے حل کرنے میں ان کا وقت ضائع نہ ہو۔
٭… کتاب کے غیر مفتی بہ اقوال کی حاشیہ میں نشان دہی کر دی گئی ہے او رجہاں مصنف نے مختلف اقوال ذکر کیے ہیں یا اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے تو وہاں صحیح او رمفتیٰ بہ قول کی تعیین کی گئی ہے۔
٭… موقع ومحل کی مناسبت سے حواشی میں جدید مسائل کا اضافہ کیا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ مختار ومفتی بہ اقوال کو مسئلے کی ابتداء میں حواشی میں ذکر کر دیا جائے۔
٭… اگر صاحب فتاوی نے کوئی قول کسی عالم کی طرف منسوب کیا ہے او رمراجع کی تعیین نہیں کی تو وہاں مرجع کی تعیین بھی کی گئی ہے ، اس طرح آیات واحادیث کی تخریج کا اہتمام بھی کیا گیا ہے اور صحاح ستہ سے تخریج کی صورت میں برصغیر پاک وہند کے مطبوعہ نسخوں پر اعتماد کیا گیا ہے۔
٭… فقہی اصطلاحات او رمشکل الفاظ کی توضیح وتشریح بھی گئی ہے۔
٭… کتاب میں جن شخصیات اور مصادر ومراجع کا تذکرہ آیا ہے کتاب کے آخر میں ان کا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔

کتاب کے اس نسخے کی تحقیق وتعلیق او رطباعت میں نہایت محنت وکوشش کی گئی ہے اور اسے خوب صورت انداز میں معیاری کمپوزنگ، اعلیٰ کاغذ اور دیدہ زیب گیٹ اپ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ، اس پر ناشر ومحقق دونوں تحسین کے مستحق ہیں او راہل علم سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس محنت وکاوش کی قدردانی کریں گے۔

ذکر اجتماعی وجہری شریعت کے آئینے میں
اس کتاب میں ذکر جہر ی اجتماعی کو شرعی دلائل کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے اور اس موضوع سے متعلق فقہی عبارتیں، اکابر علماء دیوبند کے فتاوی اور دیگر تحریر یں جمع کی گئی ہیں۔ یہ کتاب جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے سابق استاد مفتی رضا ء الحق صاحب کے افادات کا مجموعہ ہے اوراسے مفتی محمد الیاس نے مرتب کیا ہے ۔ جمادی الثانیہ1432ھ کے شمارے میں اس پر تبصرہ آچکا ہے۔ یہ اس کا تیسرا ایڈیشن ہے ، جو زمزم پبلشرز کراچی سے شائع ہوا ہے او را سمیں اصلاحات واضافے بھی کیے گئے ہیں، سابقہ ایڈیشن کی طرح کا یہ ایڈیشن بھی کارڈ ٹائٹل کے ساتھ عمدہ کاغذ پر چھپا ہے۔

تسہیل تربیت السالک
تالیف: حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی
تسہیل: مولاناارشاد احمد فاروقی
صفحات ، جلد اول:444، جلد دوم:506
جلد سوم:524، جلد چہارم:458 سائز:23x36=16
ناشر: زمزم پبلشرز، اردو بازار، کراچی

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سے الله تعالیٰ نے دین کی خدمت کا جو کام لیا ہے امت میں اس کی مثالیں خال خال ملتی ہیں ، ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی، تفسیر، حدیث ، فقہ ، کلام، تصوف غرض ہر علم وفن کے وہ امام تھے او رتعلیم وتربیت دونوں میں ان کی شخصیت ممتاز ومسلم تھی، ان کے مریدوں او رمتوسلین میں علماء ومشائخ اور اصحاب علم وفضل کا بڑا حلقہ ہوتا تھا، وہ واقعی اس امت کے باطنی امراض کی تشخیص اور ان کے صحیح علاج ومعالجے کے حکیم وطبیب حاذق تھے۔ حضرت کے ملفوظات ، مواعظ وخطبات اور دیگر تصنیفات وتالیفات سے بخوبی اس کا اندازہ لگا جاسکتا ہے کہ انہوں نے امت کے باطنی امراض اور کمزوریوں کو کس طرح پرکھا او رکس دِقّت نظر سے مریضوں کے احوال وظروف کو مدّ رکھتے ہوئے ان کے امراض کی دوا تجویز کی۔ زیر نظر کتاب”تربیت السالک“ بھی حضرت کے علمی و اصلاحی فیضان کا مظہر ہے اوراس میں مریدین ومتوسلین کی طرف سے اپنی اصلاح وتربیت کے لیے بھیجے گئے خطوط کے جوابات کو حال اور تحقیق کے عنوان سے جمع کیا گیا ہے کہ حال کے عنوان سے سالک اپنی باطنی کیفیت وحالت کو بیان کرتا ہے اور پھر تحقیق کے عنوان سے حضرت کی طرف سے اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کتاب تمہید، خطبے، مقدمے اور درج ذیل نو ابواب پر مشتمل ہے:

”پہلا باب: بیعت اور شیخ کی صحبت کے بیان میں ۔ دوسرا باب: اخلاق حمیدہ کے بیان میں ۔ تیسرا باب: اخلاق رذیلہ کے بیان میں۔ چوتھا باب: اعمال کے بیان میں۔ پانچواں باب: احوال کے بیان میں۔ چھٹا باب: ذکر وشغل کے بیان میں۔ ساتواں باب: خواب اور کشف کے بیان میں۔ آٹھواں باب: وساوس کے بیان میں۔ نواں باب: متفرق چیزوں کے بیان میں۔

کتاب کا زیر نظر ایڈیشن تسہیل شدہ ہے اور اس کی تسہیل کا کام مدرسہ باب الاسلام مسجد ،برنس روڈ کراچی کے استاد مولانا ارشاد احمد فاروقی نے کیا ہے او رانہوں نے تسہیل کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :

٭… تمام عبارتوں کے قدیم طرز کو عام فہم اور آسان بنانے کے لیے سلیس اور آسان زبان میں نقل کیا گیا لیکن اس میں مفہوم کی پوری حفاظت کی گئی ۔ اس سلسلے میں اپنے ساتھیوں کو عبارات دکھا کر ان سے مشورہ بھی ہوتارہا ہے۔
٭… وہ مشکل الفاظ جو فن تصوف کی اصطلاحات سے متعلق تھے ان کو بدلا نہیں گیا بلکہ ان کے آگے قوسین میں ان کی مختصر وضاحت کر دی گئی ہے۔ اور اس کے علاوہ مشکل الفاظ کی جگہ ان کے ہم معنی متبادل الفاظ ذکر کیے گئے۔
٭… عربی فارسی عبارات کا ترجمہ کیا گیا نیز تمام عربی اور فارسی اشعار کا ترجمہ بھی کیا گیا ،اشعار کے ترجمے میں اردو کے محاورہ کا خیال رکھاگیا ترجمہ لفظ بلفظ نہیں کیا گیا ہے بلکہ عبارت سے جو مفہوم ہوتا تھا اس کو لکھا گیا ہے کہیں اشعار کا ترجمہ اشعار میں ہی کیا گیا ہے، اشعار کیمفہوم کی وضاحت کے لیے مفتاح العلوم شرح مثنوی ، خطبات حکیم الامت اور دیوان حافظ مترجم سے مدد لی گئی ہے او رکہیں کہیں سیاق سباق کے مطابق وضاحت بھی کی گئی ہے۔
٭… کسی مغلق عبارت کی وضاحت بھی مختصراً کر دی گئی ہے ۔
٭… حضرت تھانوی  نے جو مقدمہ تحریر فرمایا تھا اس کو تبرکاً یوں ہی رہنے دیا گیا اور اس کی تسہیل نہیں کی گئی۔
٭… ابتداء میں فن تصوف کی اصطلاحات او رمشکل الفاظ کے معانی کی فہرست بھی لکھی گئی ہے تاکہ اگر موقع پر کوئی بات سمجھ میں نہ آسکے تو فہرست کی طرف رجوع کیا جاسکے۔
٭… عنوانات میں بھی تسہیل کرکے ان کو عام فہم بنایا گیا۔
٭… جو حالات لکھے گئے تھے ان کو جس عنوان کے تھے اس عنوان کے تحت جمع کر دیا گیا تھا او ران میں خط کے ذریعے فصل کر دیا گیا تھا تاکہ ایک ہی صاحب کا حال نہ لگے بلکہ مختلف اصحاب کے احوال سمجھ میں آئیں۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی خط میں بہت سے عنوانات کے احوال تھے ان کو مستقل عنوان سے الگ کر دیا گیا تھا۔ تسہیل میں بھی اس بات کا لحاظ رکھا گیا اور خوب صورت خط کے ذریعے اس فصل کو باقی رکھا گیا تاکہ مقصود مفقود نہ ہو۔
٭… تسہیل کی وجہ سے کتاب ناگزیر طوالت اختیار کی گئی تھی اس لیے پہلی جلد کو دوحصوں میں تقسیم کرنا پڑا جسکی نشان دہی کے لیے حصہ نمبر ہر جلد کے ساتھ لکھ دیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ پہلی جلد ہی کے دو حصے ہیں مکمل دو جلدوں کا مغالطہ نہ ہو۔ چناں چہ ” جلد اوّل پہلاحصہ“ اور ”جلد اوّل دوسرا حصہ“ کا عنوان اختیار کیا گیا ہے ۔ باقی دوسری اور تیسری جلد الگ الگ ہی رکھی گئی ہیں۔“

مولانا ارشاد احمد فاروقی نے کتاب کی تسہیل میں محنت وعرق ریزی سے کام لیا ہے اور معمولی مقامات میں بھی”آپ“ ،”مجھے“،” بھی“، ”ہے“ ،”کہ“ وغیرہ الفاظ کے اضافے کا اہتمام کیا ہے۔ امید ہے کہ ان کی یہ محنت وکاوش کتاب کی تفہیم اور استفاد ے میں سہولت وآسانی پیدا کرے گی او ربار آور ثابت ہو گی ۔ کتاب کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمپوزنگ کے حوالے سے اس میں مزید نظرثانی کی گنجائش موجود ہے ، خصوصاً قرآنی آیات میں اکثر جگہ لفظی غلطیاں موجود ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ ان کی تصحیح ہی سرے سے نہیں کی گئی اور کئی جگہ آیت کا معنی ومفہوم بھی تبدیل ہو جاتا ہے جب کہ کئی جگہ قرآنی آیت کے علامتی بریکٹ کو غیر قرآنی الفاظ پر لگایا گیا ہے جس سے آیت اور غیر آیت میں اختلاط ہو جاتا ہے ، حالاں کہ قرآنی آیات کی تصحیح کے اہتمام کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، مثال کے طور پر کتاب کے درج ذیل مقامات:200/1،201،161/2، 273،285،270/3، 520 اور138/4،225،256 کو دیکھا جاسکتا ہے۔

”تربیت السالک“ کا یہ ایڈیشن زمزم پبلشرز کراچی نے شائع کیا ہے ۔ کتاب کا ٹائٹل خوب صورت اور طباعت درمیانے درجے کی ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.