جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

جامعہ کی تاسیس

بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله رب العالمین والصلاة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد وعلی الہ واصحابہ اجمعین وبعد․

تاریخ اسلام میں پہلی اسلامی درس گاہ دارارقم کے نام سے مکة المکرمة میں شروع ہوئی، پھر ہجرت کے بعد صفہ کے نام سے مدنی درس گاہ کا آغاز ہوا، حضرات صحابہ نبی علیہ الصلاة والسلام سے تعلیم حاصل کیا کرتے تھے، خود آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ انما بعثت معلّما، مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے، تعلیم کا یہ مبارک سلسلہ نبوی دور کا وہ سنھری زمانہ ہے جس میں صحابہ رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے چشمہ فیض سے علم کی سیرابی حاصل کرتے رہے۔
اسلامی تاریخ میں مدارس اسلامیہ کا تذکرہ ہمیشہ بڑے وقیع ونمایاں انداز میں ہوتا رہا ہے، خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے دور حکومت میں ہر مسجد کے ساتھ ایک ایک مدرسہ کے قیام کو لازمی قرار دیا تھا، مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے مختلف ادوار میں مکہ ومدینہ کے علاوہ بغداد، کوفہ، بصرہ، قاہرہ، طلیطہ، قرطبہ، اندلس، مراکش ہندوستان اور سندھ میں جگہ جگہ بڑے بڑے مدارس، علمی تحقیقاتی مراکز، رصد خانے اور عظیم الشان کتب خانے قائم کیے۔
یوں مسلمانوں کی یہ علمی میراث ایک نسل کے بعد دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتی رہی چناں چہ ہند اور سندھ کا شمار بھی اسلامی تاریخ کے ان نمایاں مقامات میں رہا ہے جہاں یہ علمی خدمات ہمیشہ معتبر قرار پائی ہیں، الله تبارک وتعالیٰ ہمارے ان حضرات اکابر رحمہم الله تعالیٰ کو اجر عظیم عطا فرمائیں جو ان خدمات کا سبب اور ذریعہ بنے اور مدارس اسلامیہ کا یہ تسلسل اس طرح آج کے زمانے تک پہنچا۔ آمین

 
پاک وہند میں اسلام کی آمد
 

پاک وہند اپنے مثالی وتاریخی محل وقوع کے اعتبار سے ہمیشہ نہایت اہمیت کے حامل خطہ رہے ہیں، ان کے تجارتی اور ثقافتی روابط ہمیشہ جزیرة العرب کے ساتھ رہے ہیں۔
چنانچہ جب اسلام اپنی تمام تر تابانیوں کے ساتھ عرب سے نمودار ہوا اور اس کی شعائیں پاک وہند کے خطہٴ ارضی پر پڑنے لگیں تو یہاں پر آہستہ آہستہ اسلامی تہذیب وتمدن رواج پانے لگے اور اسلامی تشخص اجتماعی وانفرادی زندگیوں میں نمایاں ہونے لگا۔ اس سلسلہ میں جو کوششیں عرب تجار اور علمائے ربانی رحمہم الله نے کیں وہ یہاں پر اسلامی شوکت وقوت میں اضافہ کا باعث ہوئیں، ہمارے یہاں سندھ میں اسلام کی دعوت وتبلیغ کا ذریعہ الله تبارک وتعالیٰ نے عالم اسلام کے عظیم سپوت، مجاہد اسلام محمدبن قاسم رحمة الله علیہ کو بنایا، آپ سند ھ میں اسلام پھیلانے کا ذریعہ قرار پائے الله تبارک وتعالیٰ آپ کو اس عظیم خدمت کی بہترین جزاء عطا فرمائیں ( آمین)، اسی کے نتیجہ میں یہاں عظیم الشان اسلامی حکومتوں کا وہ دور شروع ہوا جو مسلسل آٹھ سو سال تک جاری رہا پھر انگریز یہاں حکمران بنے، اسلام کی مخالفت کی جانے لگی، عیسائیت کی تبلیغ کی گئی اور اس انگریزی استعمار پر کا اختتام سن1947ء میں ہوا۔ مسلمانوں نے اپنے اس طویل دور حکومت میں اس خطہ پر کیا اثرات ڈالے یہ خود ایک مستقل تفصیل طلب موضوع ہے جس پر بحث کی یہ جگہ نہیں ہے۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ علمی خدمات اور ثقافتی اطوار کا جو معیار یہاں پر مسلمانوں کے ذریعہ قائم ہوا تھا اس کی مثال پہلے کبھی موجود نہیں تھی۔
اسی کے ساتھ ساتھ انگریزی استعمار کے دور میں یہاں کے مسلمانوں خاص کر ہمارے اکابر رحمہم الله نے اپنی اسلامی تہذیب وتمدن کو باقی رکھنے کے لیے جو ناقابل فراموش خدمات انجام دیں ہیں وہ بہادری، دینی غیرت وحمیت، قربانی اور شرافت کے اعتبار سے تاریخ کے نہایت اہم ابواب میں شمار کی گئی ہیں۔

قیام دارالعلوم دیوبند
 

ہر وہ شخص جسے تاریخ سے تھوڑا سا بھی تعلق ہے اچھی طرح اس بات سے واقف ہے کہ برصغیر پاک وہند میں دوران استعمار یہاں کے مسلمانوں کی جمعیت کو برقرار رکھنے کے لیے اوران کے اسلامی تشخص کے استحکام کے لیے جو خدمات دارالعلوم دیوبند اور ابنائے دارالعلوم نے انجام دی تھیں وہ نہ صرف مثالی اور مفید تھیں بلکہ ہر اعتبار سے قابل تقلید بھی تھیں۔
چناں چہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے بعد پورے برصغیر میں مدارس دینیہ کا جال بچھتا چلا گیا، چناں چہ جگہ جگہ مدرسے، مکاتب قائم ہوئے اور حفاظت قرآن وسنت کا اہتمام ہونے لگا، ہمارے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی آج جو مدارس کی محنت کا ایک عظیم الشان سلسلہ جاری ہے اور سالانہ تقریباً سترہ لاکھ طلباء دینی علوم کو حاصل کر رہے ہیں۔(۱)
یہ سب اسی مبارک سلسلہ کا تسلسل ہے۔آج مدارس اسلامیہ کی خدمات اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب قرار پاچکی ہیں، اور بعد میں آنے والے واقعات نے یہ بات ثابت کر دی کہ یہ مدارس نہ صرف استعماری اثرات کو روکنے کا باعث بنے بلکہ ان کے ذریعہ اسلامی علوم کی جو بے مثال خدمت پائی ہے وہ تمام عالم کے لیے ناقابل تصور تھی۔

پاکستان میں اسلامی خدمات کا آغاز
 

مملکت خداداد پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد مدارس اور دینی مراکز کی ایک بڑی تعداد ہندوستان میں ہی رہ گئی تھی او رپاکستان میں ان کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی۔ لیکن پاکستان میں موجود علمائے کرام اپنے فرض منصبی سے غافل نہیں تھے۔
چناں چہ ان مخلص اکابر علماء کی کوششوں سے اس نئی مملکت میں جلد ہی مدارس، مساجد اور دیگر مختلف النوع دینی ادارے وجود میں آنے لگے جن کی تعداد اب ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔(۲)
یہ مدارس انتہائی منظم انداز میں ملک کے ہر گوشے میں قائم کیے گئے ہیں جن میں کراچی ، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ، لاہور، راولپنڈی، مانسہرہ، آزادکشمیر، فیصل آباد، ملتان، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، پشاور، کوہاٹ، مردان، گلگت، اسکردو، چترال، کوئٹہ، مستونگ، پشین، چمن تک، مکران، تربت، پنجگور اور قلات، خضدار کے تمام علاقے شامل ہیں۔ یہ محض الله تبارک وتعالیٰ کا فضل واحسان ہے کہ یہ مدارس بغیر کسی حکومتی مدد وفنڈ کے بحسن وخوبی اپنی دینی وتعلیمی خدمات کو انجام دے رہے ہیں۔
ان اداروں کا یہ انداز کہ یہ تمام ادارے جن کے سالانہ مصارف کروڑوں روپے تک پہنچتے ہیں اپنے وسائل اور آمد وخرچ کی تمام رقوم خود مہیا کرتے ہیں اور اہل خیر حضرات ان اداروں کے ساتھ اپنے تعاون کو اپنے لیے باعث خیر وبرکت سمجھتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ قابل تقلید ہے بلکہ انتہائی طور پر قابل تعریف بھی ہے ۔
چناں چہقرآن وحدیث کے علوم کو عام کرنے کے لیے، ملک میں اسلامی معاشرے کے قیام کو وجود دینے کے لیے1967ء میں شاہ فیصل ٹاؤن کراچی کے علاقے میں ایک دینی علوم کا رفاہی ادارہ جامعہ فاروقیہ کراچی کے نام سے قائم کیا گیا۔

 

جامعہ فاروقیہ کا سنگ تاسیس

 

جامعہ فاروقیہ شیخ الحدیث استاذ العلماء حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب مدظلہم کی بے انتہا محنتوں اور کوششوں کے نتیجہ میں 23 جنوری 1967ء مطابق 1387ھ ہجری کو معرض وجود میں آیا، اس کی ابتداء علمائے دین کے مخلصانہ مشوروں کے بعد کی گئی جن میں محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب اور خطیب اسلام حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی نورالله مرقدہم شامل تھے۔

 

جب کہ اس کی تاسیس میں محترم ابومعاویہ غزنوی صاحب اور دیگر معزز اراکین سیرت کمیٹی کی انتہائی مخلصانہ معاونت بھی شامل ہے جن کا تعاون ہی دراصل اس ادارے کے قیام کی بنیاد بنا۔ ہم اس تعاون پر ان سب افراد کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے دعاء گو ہیں کہ الله رب العزت ان تمام حضرات کو بہترین جزاء عطا فرمائیں او ران میں سے جو لوگ دنیا سے جاچکے ہیں ان کی مغفرت کاملہ فرمائیں۔ آمین



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.