شعبہ تصنیف وتالیف
جامعہ میں الحمدلله جہاں اور بہت سی مختلف النوع خدمات
انجام دی جارہی ہیں وہاں تصنیف وتالیف کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دی
جارہی ہیں، یقینا اس میدان میں بھی وقیع انداز سے خدمات انجام دینا اہل جامعہ کی
ذمہ داری ہے۔
چناں چہ کئی سال سے حضرت شیخ الحدیث صاحب مدظلہم کی نگرانی میں یہ شعبہ تصنیف وتالیف قائم کیا گیا ہے اور حضرت کی تقریر صحیح بخاری پر کشف الباری کے نام سے اور ، تقریر مشکوٰة المصابیح پر نفحات التنقیح کے نام کام شروع کیا گیا جواب نہایت بہتر انداز میں جاری ہے اور حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ کی نگرانی میں اس شعبہ کو روز بروز ترقی ہو رہی ہے۔ اب اس شعبہ کو مزید منظم بہتر کرتے ہوئے او راس کے کام کو تیز کرنے کے لیے اس میں بطور نگران مولانا عبیدالله خالد صاحب کا تقرر کیا گیا ہے، اس اہم کام میں ان کی کی معاونت کے لیے اور بھی متعدد حضرات اساتذہ کو مقرر کیا گیا ہے ۔
اہل علم خوب واقف ہیں کہ حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ کی تألیف کشف الباری صحیح البخاری کی ایک اہم شرح ہے اور اس وقت اردو کی دستیاب شروح میں ایک ممتاز مقام کی حامل ہے، کشف الباری کی اس شرح کو یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ اس میں صحیح بخاری شریف کی دونوں جلدوں (اول وثانی) کی شرح موجود ہے جب کہ دیگر بعض شریح میں فقط جلد اول کو موضوع بنایا گیا ہے اور جلد ثانی کی ابحاث بغیر شرح کے رہ گئی ہیں، کشف الباری کی اب(2007ء) تک بارہ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں اور مزید کام جاری ہے۔
اسی طرح تقریر مشکوٰة پر بھی کام جاری ہے۔ تقریر مشکوٰة کی تین جلدیں اب تک طبع ہو چکی ہیں بقیہ پرکام ہو رہا ہے ۔ ان شا ء الله جلد ہی یہ کتب بھی اہل علم کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔
فتاوی محمودیہ کی اشاعت کا عظیم الشان کام
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی میں گزشتہ سالوں کے دوران مختلف اہم کتابوں کی تحقیق، ترتیب ومراجعت کا عظیم الشان کام انجام پاتا رہا ہے۔ مثلاً فتاوی کی مشہور کتاب ” درمختار“ کی الف بائی ترتیب کے ساتھ تفصیلی فہرست کا اہم کام ” فتح الغفار“ مولّفہ حضرت مفتی شاہ منصور صاحب کے نام سے سامنے آچکا ہے۔ پھر حضرت تھانوی رحمة الله علیہ کی شہرہٴ آفاق کتاب ”بہشتی زیور“ کی ترتیب مسائل کی قابل ذکر خدمت بھی جامعہ میں انجام پائی ہے، حضرت مفتی کفایت الله رحمة الله علیہ کی مشہور تصنیف ”کفایت المفتی“ کی تحقیق ومراجعت کا عظیم الشان کام بھی جامعہ کے دارالافتاء میں انجام دیا گیا ہے۔ اب اس سلسلہ کا اہم کام فتاوی محمودیہ کی اشاعت ہے۔
فتاوی محمودیہ اس وقت مفتیان کرام میں معروف مقام کا حامل فتاوی ہے جو ولی کامل مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند حضرت مفتی محمود گنگوہی رحمة الله علیہ کے فتاوی کا مجموعہ ہے۔ جس میں ہزاروں قدیم وجدید فتاوی کو جمع کیا گیا ہے اس مشہور کتاب پر کام کرنے کا تقاضا حضرات اہل علم میں ایک عرصہ سے پایا جارہا تھا البتہ کتاب کی اہمیت وطوالت کے پیش نظر کام کی ہمت لوگوں کے لیے مشکل ہورہی تھی۔ الحمدلله دارالافتاء جامعہ نے اس سلسلے میں پیش قدمی اختیار کرتے ہوئے اس عظیم کام کو کرنے کا بیڑا اٹھایا او رجامعہ کے دارالافتاء میں موجود مفتیان کرام نے تقریباً دو سال تک اس پر نہایت شان دار انداز سے کام کرتے ہوئے اس پورے مجموعہ فتاوی کو اکیس ضخیم جلدوں میں پوری تحقیق، ترتیب اور مراجعت کے ساتھ شائع کردیا ہے۔
ملک میں موجود علمی حلقوں میں اس خدمت کو ایک بڑی علمی خدمت قرار دیا جارہا ہے۔دارالافتاء جامعہ کے ذمہ داران اور مولانا عبیدالله خالد صاحب اس مبارک خدمت کی انجام دہی او راس کی باسعادت تکمیل پر مبارک باد کے بلاشبہ مستحق ہیں۔منتظمین جامعہ دست بدعا ہیں کہ الله رب العزت اس خدمت کو قبول فرمائیں اور اورجامعہ سے خدمت دین کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری وساری رہے۔
چناں چہ کئی سال سے حضرت شیخ الحدیث صاحب مدظلہم کی نگرانی میں یہ شعبہ تصنیف وتالیف قائم کیا گیا ہے اور حضرت کی تقریر صحیح بخاری پر کشف الباری کے نام سے اور ، تقریر مشکوٰة المصابیح پر نفحات التنقیح کے نام کام شروع کیا گیا جواب نہایت بہتر انداز میں جاری ہے اور حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ کی نگرانی میں اس شعبہ کو روز بروز ترقی ہو رہی ہے۔ اب اس شعبہ کو مزید منظم بہتر کرتے ہوئے او راس کے کام کو تیز کرنے کے لیے اس میں بطور نگران مولانا عبیدالله خالد صاحب کا تقرر کیا گیا ہے، اس اہم کام میں ان کی کی معاونت کے لیے اور بھی متعدد حضرات اساتذہ کو مقرر کیا گیا ہے ۔
اہل علم خوب واقف ہیں کہ حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ کی تألیف کشف الباری صحیح البخاری کی ایک اہم شرح ہے اور اس وقت اردو کی دستیاب شروح میں ایک ممتاز مقام کی حامل ہے، کشف الباری کی اس شرح کو یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ اس میں صحیح بخاری شریف کی دونوں جلدوں (اول وثانی) کی شرح موجود ہے جب کہ دیگر بعض شریح میں فقط جلد اول کو موضوع بنایا گیا ہے اور جلد ثانی کی ابحاث بغیر شرح کے رہ گئی ہیں، کشف الباری کی اب(2007ء) تک بارہ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں اور مزید کام جاری ہے۔
اسی طرح تقریر مشکوٰة پر بھی کام جاری ہے۔ تقریر مشکوٰة کی تین جلدیں اب تک طبع ہو چکی ہیں بقیہ پرکام ہو رہا ہے ۔ ان شا ء الله جلد ہی یہ کتب بھی اہل علم کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔
فتاوی محمودیہ کی اشاعت کا عظیم الشان کام
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی میں گزشتہ سالوں کے دوران مختلف اہم کتابوں کی تحقیق، ترتیب ومراجعت کا عظیم الشان کام انجام پاتا رہا ہے۔ مثلاً فتاوی کی مشہور کتاب ” درمختار“ کی الف بائی ترتیب کے ساتھ تفصیلی فہرست کا اہم کام ” فتح الغفار“ مولّفہ حضرت مفتی شاہ منصور صاحب کے نام سے سامنے آچکا ہے۔ پھر حضرت تھانوی رحمة الله علیہ کی شہرہٴ آفاق کتاب ”بہشتی زیور“ کی ترتیب مسائل کی قابل ذکر خدمت بھی جامعہ میں انجام پائی ہے، حضرت مفتی کفایت الله رحمة الله علیہ کی مشہور تصنیف ”کفایت المفتی“ کی تحقیق ومراجعت کا عظیم الشان کام بھی جامعہ کے دارالافتاء میں انجام دیا گیا ہے۔ اب اس سلسلہ کا اہم کام فتاوی محمودیہ کی اشاعت ہے۔
فتاوی محمودیہ اس وقت مفتیان کرام میں معروف مقام کا حامل فتاوی ہے جو ولی کامل مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند حضرت مفتی محمود گنگوہی رحمة الله علیہ کے فتاوی کا مجموعہ ہے۔ جس میں ہزاروں قدیم وجدید فتاوی کو جمع کیا گیا ہے اس مشہور کتاب پر کام کرنے کا تقاضا حضرات اہل علم میں ایک عرصہ سے پایا جارہا تھا البتہ کتاب کی اہمیت وطوالت کے پیش نظر کام کی ہمت لوگوں کے لیے مشکل ہورہی تھی۔ الحمدلله دارالافتاء جامعہ نے اس سلسلے میں پیش قدمی اختیار کرتے ہوئے اس عظیم کام کو کرنے کا بیڑا اٹھایا او رجامعہ کے دارالافتاء میں موجود مفتیان کرام نے تقریباً دو سال تک اس پر نہایت شان دار انداز سے کام کرتے ہوئے اس پورے مجموعہ فتاوی کو اکیس ضخیم جلدوں میں پوری تحقیق، ترتیب اور مراجعت کے ساتھ شائع کردیا ہے۔
ملک میں موجود علمی حلقوں میں اس خدمت کو ایک بڑی علمی خدمت قرار دیا جارہا ہے۔دارالافتاء جامعہ کے ذمہ داران اور مولانا عبیدالله خالد صاحب اس مبارک خدمت کی انجام دہی او راس کی باسعادت تکمیل پر مبارک باد کے بلاشبہ مستحق ہیں۔منتظمین جامعہ دست بدعا ہیں کہ الله رب العزت اس خدمت کو قبول فرمائیں اور اورجامعہ سے خدمت دین کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری وساری رہے۔