شعبہ تخصص فی الحدیث
اسلامی علوم وفنون میں علم حدیث کو جو اہمیت حاصل ہے اس سے ہر مسلمان بخوبی واقف ہے
۔ قرآن وسنت یہ دوایسے سرچشمے ہیں جن سے وابستگی اور جن کی تعلیم امت مسلمہ کے لیے
ہمیشہ ہدایت کا سبب قرار دی گئی ہے۔
نبی علیہ السلام نے اپنے ارشادات کے ذریعے امت مسلمہ کوقرآن و سنت کی اتباع اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ علم حدیث کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہمارے یہاں احادیث کی مشہور کتب صحاح ستہ کو نہایت اہتمام کے ساتھ پڑھانے کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے نصاب کا ایک اہم جز مختلف تعلیمی درجات میں کتب حدیث کو پڑھانا بھی ہے لیکن اس میدان میں مزید رسوخ، مہارت حاصل کرنے کے لیے جامعہ میں تخصص فی الحدیث کا یہ مبارک شعبہ قائم کیا گیا۔
شوال المکرم1425ھ سے جامعہ فاروقیہ کراچی میں قائم شعبہ تخصص فی علوم الحدیث الشریف کا اپناجداگانہ نصاب و نظام تعلیم ہے، جس میں ممتاز صلاحیتیں رکھنے والے فضلاء کو اصول حدیث،جرح وتعدیل اور اسماء الرجال میں مہارت حاصل کرنے کے لیے تدریجی انداز سے تعلیم دی جاتی ہے،مذکورہ فنون سے متعلق اردو اور عربی زبانوں میں موجود قدیم وجدید ذخیرہ سے شناسائی حاصل کی جاتی ہے۔
نیز تخریج حدیث، تحقیق راویان، مخطوطات پر تحقیقی کام ، حدیث اور علوم حدیث کے حوالے سے نئی ضروریات ومسائل سے آگہی اور ان کا حل پیش کرنے کی تربیت کے ساتھ ساتھ اردو اور عربی زبانوں میں مقالہ نویسی کی عملی مشق بھی کرائی جاتی ہے۔
تخصص فی الحدیث کا دوسالہ نصاب جامعہ کے نصاب تعلیم کے لیے نامزد مجلس شوری نے باہمی مشاورت سے طے کیا ہے او رہمیں یقین ہے کہ یہ نصاب عزیز طلبا، کے لیے ان کی تعلیم سے وابستگی میں اضافہ کا باعث اور علمی رسوخ میں ترقی کا سبب ہو گا۔
تخصص فی الادب العربی
جامعہ میں معہد اللغة العربیہ کا قیام ایک عرصہ پہلے عمل میں آیا تھا جس کے نتیجہ میں عربی زبان میں مہارت کو مقصد قرار دیا گیا تھا،الحمدلله طویل عرصہ سے جاری عربی زبان کے احیاء کی یہ کوشش اب پورے ملک میں ایک نمایاں پیش رفت قرار دی جارہی ہے جس میں عربی زبان میں اسباق پڑھائے جاتے ہیں، طلباء کو عربی زبان کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور مسلسل چھ سال تک طلبا عربی زبان کی مہارت کے حصول میں مصروف رہتے ہیں۔
اسی اہم نکتہ کے پیش نظر عربی زبان کی ترقی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے تخصص فی الادب العربی کو شروع کیاگیا ہے، چناں چہ تخصص فی الادب العربی کے لیے ایک جامع مفید نصاب کا تعین کبار اساتذہ جامعہ کی مجلس میں کیا گیا جس میں دوسال کے لیے ایک تعلیمی نصاب کی منظوری دی گئی ۔
واضح رہے کہ عربی زبان کی واقفیت ومہارت قرآن وسنت کی تفہیم وتشریح کے لیے ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے جو لوگ عربی زبان سے واقف نہیں وہ قرآن وسنت کی تفہیم وتشریح سے نابلد شمار ہوتے ہیں، شعبہ تخصص فی الادب العربی کا جامعہ میں قیام عربی زبان کے احیاء کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو گا۔ ان شاء الله۔
الله تعالیٰ ہمیں عربی زبان کو قرآن وسنت کی ترویج کے لیے اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
سہ سالہ دراسات دینیہ کورس
دراسات دینیہ کا کورس چند سالوں سے شروع ہوا ہے، اس کا اصل مقصد ان لوگوں کے لیے دینی تعلیم کا انتظام کرنا ہے جو اپنی مصروفیات کی وجہ سے عام انداز کی تعلیمی سرگرمیاں اختیار نہیں کرسکتے ہیں۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے مختلف طرح کی مصروفیات میں مشغول افراد کے لیے یہ مختصر کورس متعارف کرایا ہے، اس میں تفسیر، حدیث ، فقہ ودیگر ضروری علوم کو شامل کیا گیا ہے اور تین سالہ نصاب کے ذریعہ لوگ ضروری دینی علم حاصل کر لیتے ہیں، یہ کورس خواتین وحضرات دونوں کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
جامعہ فاروقیہ کراچی میں گزشتہ چند سالوں سے یہ کورس نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے، بے شمار لوگ اسے مکمل کرکے سندات لے چکے ہیں۔
نبی علیہ السلام نے اپنے ارشادات کے ذریعے امت مسلمہ کوقرآن و سنت کی اتباع اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ علم حدیث کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہمارے یہاں احادیث کی مشہور کتب صحاح ستہ کو نہایت اہتمام کے ساتھ پڑھانے کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے نصاب کا ایک اہم جز مختلف تعلیمی درجات میں کتب حدیث کو پڑھانا بھی ہے لیکن اس میدان میں مزید رسوخ، مہارت حاصل کرنے کے لیے جامعہ میں تخصص فی الحدیث کا یہ مبارک شعبہ قائم کیا گیا۔
شوال المکرم1425ھ سے جامعہ فاروقیہ کراچی میں قائم شعبہ تخصص فی علوم الحدیث الشریف کا اپناجداگانہ نصاب و نظام تعلیم ہے، جس میں ممتاز صلاحیتیں رکھنے والے فضلاء کو اصول حدیث،جرح وتعدیل اور اسماء الرجال میں مہارت حاصل کرنے کے لیے تدریجی انداز سے تعلیم دی جاتی ہے،مذکورہ فنون سے متعلق اردو اور عربی زبانوں میں موجود قدیم وجدید ذخیرہ سے شناسائی حاصل کی جاتی ہے۔
نیز تخریج حدیث، تحقیق راویان، مخطوطات پر تحقیقی کام ، حدیث اور علوم حدیث کے حوالے سے نئی ضروریات ومسائل سے آگہی اور ان کا حل پیش کرنے کی تربیت کے ساتھ ساتھ اردو اور عربی زبانوں میں مقالہ نویسی کی عملی مشق بھی کرائی جاتی ہے۔
تخصص فی الحدیث کا دوسالہ نصاب جامعہ کے نصاب تعلیم کے لیے نامزد مجلس شوری نے باہمی مشاورت سے طے کیا ہے او رہمیں یقین ہے کہ یہ نصاب عزیز طلبا، کے لیے ان کی تعلیم سے وابستگی میں اضافہ کا باعث اور علمی رسوخ میں ترقی کا سبب ہو گا۔
| 17نصاب تخصص في الحدیث الشریف السنة الأولی، الفترة الأولی |
||||
| اسم الکتاب | اسم المؤلف | مباحث محددة | تدریس/مراجعة | |
| 1 | معرفة أنواع علم الحدیث | الإمام ابن الصلاح | من البدایة إلی النوع الخامس والثلانین | تدریس |
| 2 | نزہة النظر في شرح نخبة الفکر | الحافظ ابن حجر العسقلاني | من البدایة إلی أقسام المردود | تدریس |
| 3 | أصول التخریج ودراسة الأسانید | الدکتور محمود الطحان | تمام | تدریس |
| 4 | الرفع والتکمیل في الجرح والتعدیل | الشیخ عبدالحي اللکنوي | النصف الأول | تدریس |
| 5 | لمحات من تاریخ السنة وعلوم الحدیث | الأستاذ عبدالفتاح أبوغدة | أیض | مطالعة ومراجعة |
| 6 | مفتاح السنة | الشیخ عبدالعزیز الخولي | أیض | أیض |
| 7 | الرسالة المستطرفة | محمد بن جعفر الکتاني | أیض | أیض |
| 8 | فقہ أہل العراق وحدیثہم | الإمام محمد زاہد الکوثري | أیض | أیض |
| 9 | الأجوبة الفاضلة للأسئلة العشرة الکاملة | االشیخ عبد الحي اللکنوي | أیض | أیض |
| 10 | دراسة بین یدي کتاب تقریب التہذیب | الأستاذ محمد عوامة | أیض | أیض |
| 11 | مقدمة کتاب الجرح والتعدیل | عبدالرحمن ابن أبيحاتم | أیض | أیض |
| 12 | فتح المغیث بشرح ألفیة الحدیث | محمد بن عبدالرحمن السخاوي | النصف الأول | أیض |
| 13 | النکت علی کتاب ابن الصلاح | الحافظ ابن حجر العسقلاني | أیض | أیض |
| 14 | توضیح الأفکار لمعاني تنقیح الأنظار | محمد بن إسماعیل الأمیر الصنعاني | النصف الأول | أیض |
| 15 | توجیہ النظر إلی أصول الأثر | الشیخ طاہر الجزائری | أیض | أیض |
| 16 | إمعان النظر في توضیح شرح نخبة الفکر | محمد أکرم بن عبدالرحمن النصربوري | أیض | أیض |
| السنة الأولی، الفترة الثانیة | ||||
| اسم الکتاب | اسم المؤلف | مباحث محددة | تدریس/مراجعة | |
| 1 | معرفة أنواع علم الحدیث | الإمام ابن الصلاح | من النوع الخامس والثلانین إلی نہایة الکتاب | تدریس |
| 2 | نزہة النظر في شرح نخبة الفکر | الحافظ ابن حجر العسقلاني | من أقسام المردود إلی نہایة الکتاب | أیض |
| 3 | الرفع والتکمیل في الجرح والتعدیل | الشیخ عبدالحي اللکنوي | النصف الأخیر | أیض |
| 4 | فتح المغیث بشرح ألفیة الحدیث | محمد بن عبدالرحمن السخاوي | النصف الأخیر | مطالعة ومراجعة |
| 5 | توضیح الأفکار لمعاني تنقیح الأنظار | محمد بن إسماعیل الأمیر الصنعاني | أیض | أیض |
| 6 | إمعان النظر في توضیح شرح نخبة الفکر | محمد أکرم بن عبدالرحمن النصربوري | أیض | أیض |
| 7 | دراسات بین یدي کتاب الکاشف للذہبي | الأستاذ محمد عوامة | أیض | |
| 8 | قواعد في علوم الحدیث | العلامة ظفر أحمد العثماني | أیض | |
| 9 | قاعدة في الجرح والتعدیل | تاج الدین السبکي | أیض | |
| 10 | قاعدة في المؤرخین | لہ أیض | أیض | |
| 11 | السنةقبل التدوین | محمد عجاج الخطیب | أیض | |
| 12 | الإمام ابن ماجة وکتابہ السنن | محمد عبدالرشید النعماني | أیض | |
| 13 | السنة ومکانتہا في التشریع الإسلامي | الدکتور مصطفی السباعي | أیض | |
| السنة الثانیة الفترة الأولی | ||||
| اسم الکتاب | اسم المؤلف | مباحث محددة | تدریس/مراجعة | |
| 1 | کشف الأسرار شرح أصول البزدوی | الإمام عبدالعزیز البخاري | النصف الأول من بحث السنة | تدریساً |
| 2 | شروط الأئمة الستة | الشیخ عبدالغني المقدسی | تماماً | أیضاً |
| 3 | شروط الأئمة الخمسة | الإمام أبوبکر الحازمي | تماماً | أیضاً |
| 4 | شرح کتاب العلل | ابن رجب الحنبلي | النصف الأول | أیضاً |
| 5 | تدریب الراوي في شرح تقریب النواوي | جلال الدین عبدالرحمن السیوطی | مطالعة ومراجعة | |
| 6 | التقریر والتحبیر | الإمام ابن أمیر الحاج | أیضاً | |
| 7 | مقدمة فتح الملہم | العلامة شبیر أحمد العثماني | أیضاً | |
| 8 | مقدمة التمہید | ابن عبدالبر المالکي | أیضاً | |
| 9 | جامع التحصیل في أحکام المراسیل | أبو سعید العلائي | أیضاً | |
| 10 | نصب الرایة في تخریج أحادیث الہدایة | جمال الدین أبومحمد الزیلعي | النصف الأول | أیضاً |
| 11 | التلخیص الحبیر في تخریج أحادیث شرح الوجیز الکبیر | الحافظ ابن حجر العسقلاني | النصف الأول | أیضاً |
| 12 | ہدي الساري مقدمة فتح الباري | لہ أیضاً | الفصل الثامن والتاسع | أیضاً |
| 13 | ||||
| السنة الثانیة، الفترة الثانیة | ||||
| اسم الکتاب | اسم المؤلف | مباحث محددة | تدریس/مراجعة | |
| 1 | کشف الأسرار شرح أصول البزدوی | الإمام عبدالعزیز البخاري | النصف الأخیر من بحث السنة | تدریساً |
| 2 | حجة الله البالغة | الإمام ولي الله الدہلوي | مبحث تلقي الأمة الشرع وطبقات کتب الحدیث | أیضاً |
| 3 | شرح کتاب العلل | ابن رجب الحنبلي | النصف الأخیر | أیضاً |
| 4 | إعلاء السنن | العلامة ظفر أحمد العثماني | مطالعة ومراجعة | |
| 5 | نصب الرایة في تخریج أحادیث الہدایة | جمال الدین أبومحمد الزیلعي | النصف الأخیر | أیضاً |
| 6 | التلخیص الحبیر في تخریج أحادیث شرح الوجیز الکبیر | الحافظ ابن حجر العسقلاني | أیضاً | أیضاً |
| 7 | فتح الملہم بشرح صحیح الإمام مسلم | العلامة شبیرأحمد العثماني | أیضاً | |
| 8 | مشکل الآثار | الإمام أبوجعفر الطحاوي | أیضاً | |
| 9 | ||||
| 10 | ||||
تخصص فی الادب العربی
جامعہ میں معہد اللغة العربیہ کا قیام ایک عرصہ پہلے عمل میں آیا تھا جس کے نتیجہ میں عربی زبان میں مہارت کو مقصد قرار دیا گیا تھا،الحمدلله طویل عرصہ سے جاری عربی زبان کے احیاء کی یہ کوشش اب پورے ملک میں ایک نمایاں پیش رفت قرار دی جارہی ہے جس میں عربی زبان میں اسباق پڑھائے جاتے ہیں، طلباء کو عربی زبان کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور مسلسل چھ سال تک طلبا عربی زبان کی مہارت کے حصول میں مصروف رہتے ہیں۔
اسی اہم نکتہ کے پیش نظر عربی زبان کی ترقی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے تخصص فی الادب العربی کو شروع کیاگیا ہے، چناں چہ تخصص فی الادب العربی کے لیے ایک جامع مفید نصاب کا تعین کبار اساتذہ جامعہ کی مجلس میں کیا گیا جس میں دوسال کے لیے ایک تعلیمی نصاب کی منظوری دی گئی ۔
واضح رہے کہ عربی زبان کی واقفیت ومہارت قرآن وسنت کی تفہیم وتشریح کے لیے ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے جو لوگ عربی زبان سے واقف نہیں وہ قرآن وسنت کی تفہیم وتشریح سے نابلد شمار ہوتے ہیں، شعبہ تخصص فی الادب العربی کا جامعہ میں قیام عربی زبان کے احیاء کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو گا۔ ان شاء الله۔
الله تعالیٰ ہمیں عربی زبان کو قرآن وسنت کی ترویج کے لیے اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
| منہج التخصص في الأدب العربي | |||
| السنة الأولی | |||
| الزمن | مواد التدریس والدراسة | مواد القراء ة والمطالعة والمراجعة والمذاکرة | الواجب المنزلي |
| ۱۔ تاریخ الأدب العربي (النصف الأول) ۲۔الإملاء والترقیم واستخراج المطالب من المعاجم والقوامیس مع تمرین العروض والقوافي․ ۳۔المحادثة والحوار وإجادة الخط ۴۔محاضرات في الصرف والنحو ۵۔الإنکلیزیة (حوار) ۶۔النثر الجدید (ترجمة وتعریب من الأردو إلی العربیة وبالعکس) |
۱۔عبرات۲۔ نظرات (منفلوطي)۱۔ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین؟ ۲۔في مسیرة الحیاة (ندوي)،صور من حیاة الصحابة (رأفت باشا)، ضحی الإسلام۲۔ فجر الإسلام۔۳ حیاتي (أحمد أمین)،حیاة الصحابة (کاندہلوي)، فقہ السیرة (محمد الغزالي)،وحي القلم (رافعي)، معالم علی الطریق (محمد قطب)،مقدمة القاموس الوحید (وحید الزمان)، فقہ السنة (سید سابق) مغني اللبیب (أبي ہشام الأنصاري)، الصحف الیومیة والجرائد والمجلات (العربیة والأردیة والإنکلیزیة) | ||
| ۱۔ تاریخ الأدب العربي (النصف الأخیر) ۲۔ الإنکلیزیة (قواعد) ۳۔ حفظ الأشعار(۲۰۰) وضرب الأمثال والتعبیرات (۲۰۰) والأحادیث (۱۰۰) ۴۔ النثر الجدید………… ۵۔ تدریب کمبیوتر |
الأصمعیات (أصمعي)،معجم الأدباء (حموي)، محاضرات الأدباء ومحاورات الشعراء (أصبہاني)،رجال من التاریخ (طنطاوي)، الشوقیات (أحمد شوقي)، قرط أمي (المیداني بن صالح)، نفحة العنبر (بنوري)، کتاب البخلاء (جاحظ)، ۱۔ أخبار الحمقی والمغفلین، ۲۔کتاب الأذکیاء (ابن الجوزي)،نہج البلاغة ( سیدنا علي)، الأغاني (أصبہاني)، الفاضل( للمبرد)، زادالمعاد (ابن القیم)، الأیام ( طہ حسین) إظہار الحق (کیرانوي) | ||
| السنة الثانیة | |||
| الزمن | مواد التدریس والدراسة | مواد القراء ة والمطالعة والمراجعة والمذاکرة | الواجب المنزلي |
| ۱۔ تمرین المحاضرات والبحوث (تحریراً وتقریراً وإلقاءً) ۲۔البیان والتبیین، أدب الکاتب، الکامل من عشر صفحات إلی خمسین صفحة لکل کتاب ۳۔ المکالمة والمحادثة والخطابة (بالعربیة والإنجلیزیة) ۴۔ النظم الجدید |
دیوان لبید،… شافعي،… کعب بن زہیر، …جمیل…مجنون لیلی، البحتري قصیدة البردة، تحت رأیة القرآن (رافعي)، حاضر العالم الإسلامي (شکیب أرسلان) المزہر في علوم اللغة وأنواعہا (سیوطي)، الرسول المعلم (أبوغدة)، الشعر والشعراء (ابن قتیبة)، کیف تکون معلماً نا جحاً ( أحمد عبدالرحمن الشمیمري) الأدب العربي بین عرض ونقد (رابع ندوي)، روائع البیان في تفسیر القرآن (الصابوني)، الخطب المنبریة (السدیس) | ||
| ۱۔ الأمالي، لیلة وألف لیلة، کلیلة ودمنة، حسب الترتیب في الفترة الأولی ۲۔کتابة المقالة ۱۵۰ صفحة من فلسکاب علی الأقل ۳۔ اللقاء ات بکبار الأدباء والعاملین في المیدان وکتابتہا في مذکرات |
االفکر الإسلامي الحدیث وصلتہ بالاستعمار الغربي (دکتور بہي)، المنہج الحرکي للسیرة النبویة (منیر غضبان)، العبقریات (محمود عقاد)، الأدب المفرد (بخاري)، الموجّہ الفني في طرق التدریس (د/إبراہیم)، فقہ اللغة وسر العربیة (ثعالبي)، الفروق اللغویة (أبوہلال العسکري)، القصائد البنوریة (بنوري)، العقد الفرید․ |
||
سہ سالہ دراسات دینیہ کورس
دراسات دینیہ کا کورس چند سالوں سے شروع ہوا ہے، اس کا اصل مقصد ان لوگوں کے لیے دینی تعلیم کا انتظام کرنا ہے جو اپنی مصروفیات کی وجہ سے عام انداز کی تعلیمی سرگرمیاں اختیار نہیں کرسکتے ہیں۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے مختلف طرح کی مصروفیات میں مشغول افراد کے لیے یہ مختصر کورس متعارف کرایا ہے، اس میں تفسیر، حدیث ، فقہ ودیگر ضروری علوم کو شامل کیا گیا ہے اور تین سالہ نصاب کے ذریعہ لوگ ضروری دینی علم حاصل کر لیتے ہیں، یہ کورس خواتین وحضرات دونوں کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
جامعہ فاروقیہ کراچی میں گزشتہ چند سالوں سے یہ کورس نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے، بے شمار لوگ اسے مکمل کرکے سندات لے چکے ہیں۔
| نصاب دراسات دینیہ (بنین وبنات) | |||
| نمبرشمار | موضوع | ورقہ | سال اول |
| 1 | تجوید وحدر | تقریری | جمال القرآن، حدر نصف آخر جزء عم، وحفظ ربع آخر جزء عم |
| 2 | ترجمہ وتفسیر | تحریری | از سورہ یونس تا عنکبوت |
| 3 | حدیث | تحریری | معارف الحدیث اول ودوم |
| 4 | عقائد واخلاق، تاریخ وسیرت | ان دونوں موضوعات کا ایک ہی تحریری ورقہ ہو گا | حیات المسلمین، تعلیم الدین، قصص النبیین اول ودوم |
| 5 | نحو وصرف | تحریری | علم الصرف اولین، علم النحو |
| 6 | فقہ | تحریری | بہشتی زیور اول ودوم |
| 7 | اللغة والادب | تحریری | عربی کا معلم اول ودوم |
| نمبرشمار | موضوع | ورقہ | سال دوم |
| 1 | تجوید وحدر | تقریری | سورہ واقعہ وسورہ ملک حفظ حدر |
| 2 | ترجمہ وتفسیر | تحریری | از عنکبوت تا ختم قرآن |
| 3 | حدیث | تحریری | معارف الحدیث سوم وچہارم |
| 4 | عقائد واخلاق، تاریخ وسیرت | ان دونوں موضوعات کا ایک ہی تحریری ورقہ ہو گا | آداب المعاشرت (جدید) تعلیم العقائد،قصص النبیین سوم وچہارم |
| 5 | نحو وصرف | تحریری | علم الصرف حصہ سوم، عوامل النحو |
| 6 | فقہ | تحریری | بہشتی زیور سوم وچہارم، نماز مدلل ( مولانا فیض احمد) |
| 7 | اللغة والادب | تحریری | عربی کا معلم سوم |
| نمبرشمار | موضوع | ورقہ | سال سوم |
| تجوید وحدر | تقریری | از سورہ یسٰین حفظ وحدر | |
| ترجمہ وتفسیر | تحریری | از فاتحہ ختم سورہ توبہ | |
| حدیث | تحریری | معارف الحدیث پنجم، ششم، ہتفم | |
| عقائد واخلاق، تاریخ وسیرت | ان دونوں موضوعات کا ایک ہی تحریری ورقہ ہو گا | عقائد علمائے دیوبند ( مولانا عبدالشکور ترمذی) قصص النبیین پنجم، سیرت الرسول (وفاق) | |
| نحو وصرف | تحریری | ترکیب شرح مائة عامل | |
| فقہ | تحریری | بہشتی زیور پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم | |
| اللغة والادب | تحریری | عربی کا معلم چہارم | |