معہداللغة العربیہ والدراسات الاسلامیہ
عربی زبان کی اہمیت علوم اسلامیہ کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے جامعہ میں تقریباً بیس سال سے معہد اللغة العربیہ کاشعبہ قائم ہے، جہاں دنیا کی مشہور جامعات کے مختلف نصابوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے عربی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا ہے۔
ایک عجمی ملک میں عربی زبان کا یہ احیاء ابتداء میں بہت سے لوگوں کے لیے باعث تعجب تھا، بعض لوگوں کو خیال تھا کہ جلد ہی یہ کوشش مایوسی کا شکار ہو کر ناکام ہو جائے گی، لیکن آج الحمدلله بیس سال ہو نے کے بعد یہ کوشش مزید بہتری وترقی کی طرف رواں دواں ہے۔ چناں اس میں جو مضامین شامل درس کیے گئے ہیں ان میں جدت بھی ہے تنوع بھی اور اصل مقصد کہ اس سے ہمارے عزیز طلباء میں علمی رسوخ اور تعمق فی النظر پیدا ہو ،بھی حاصل ہو رہا ہے ۔
اس نظام تعلیم میں تمام مضامین کی تدریس عربی زبان میں ہوتی ہے اور درس گاہ میں عربی زبان کے علاوہ کوئی اور زبان بولنا جرم شمار کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ تمام تمرنیات کی مشق، ان کی لکھائی وغیرہ بھی عربی میں کرائی جاتی ہے۔